اسلام اور تبدیلئ زمانہ

ہر دور کے کچھ مخصوص نعرے ہوتے ہیں جو رفتہ رفتہ ہر شخص کی زبان پر جاری ہو جاتے ہیں اور ہر ایک بغیر سوچے سمجھے ان کو رٹنے اور دھرانے لگتا ہے۔ ان نعروں کا رواج عام عقل وسمجھ کی موت کے برابر ہے۔ جب یہ ذہنوں پر چھا جاتے ہیں توسوچنے کی آزادی باقی نہیں رہتی۔ ایک عام شخص اور اعلی تعلیم یافتہ، ان پڑھ اور پڑے لکھے، سب ہی ان کا سہار لینے لگتے ہیں اور سمجھ بوجھ کی صلاحیتوں کو یہ آکاس بیل اختم کر ڈالتی ہے۔
ہمارے دور میں بھی کچھ نعرے ہیں جو عام رواج بنتے جارہے ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں نعرہ ہے۔ ”بازمانہ بساز“ (زمانے کا ساتھ دو) ۔ آئے دن یہ بات بڑے زور شور سے دہرائی جارہی ہے کہ ”چلو تم اُدھر کو، ہوا ہو جدھر کی“۔ کہا یہ جاتا ہے کہ:
زمانہ بدل چکا ہے۔ مذہب کو زمانے کی تبدیلیوں کا ساتھ دیتے ہوئے نئے حالات کے مطابق بدلنا چاہیے۔ اگر مذہب کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ کیا گیا تو اس کے خلاف بغاوت ہو گی اور وہ زندگی سے لا تعلق ہو جائے گا۔ اگر ہم مذہب کے پرانے تصورات ہی سے وابستہ رہے تو دنیا ہم پر ہنسے گی اور ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔” روشن خیالی اور لبرل ازم “کو اپنائے بغیر ہم دنیا کا ساتھ کیسے دے پائیں گے۔ ٹھہرے رہنے کا نتیجہ موت ہے۔ ہم کو زمانے کی تبدیلی کے ساتھ بدلنا ہو گا ورنہ موت کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔
آج جسے دیکھو وہ کسی نہ کسی عنوان سے یہی سبق دیتا نظر آتا ہے۔ ضرورت ہے کہ اس نعرے پر آنکھیں بند کر کے ایمان لانے کے بجائے اس کے تمام پہلوؤں پر عقل وتجربے کی روشنی میں غور کیا جائے اور صرف اس لیے کسی بات کو قبول کرنے کی غلطی نہ کی جائے کہ اس کا اظہار بار بار ہو رہا ہے۔
ٹھہراؤ اور تبدیلئ
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ زمانہ ہمیشہ رنگ بدلتا رہا ہے، بہت کچھ بدل چکا ہے اور مزید بدلے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جمود یا ٹھہر اؤ ایک مصیبت ہے جو قوم کی تخلیقی قوتوں (Creative Powers) کو ختم کر دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر تبدیلی صحت مند ہے؟ کیا ہر تغیر یا تبدیلی بھلائی کا ذریعہ ہے؟ کیا تاریخ کا ہر قدم عروج ہی کی طرف اٹھتا ہے؟ اور کیا ہر حرکت بلندی ہی کی سمت جاتی ہے؟
ان سوالات پر جب آپ تاریخ کی روشنی میں غور کریں گے تو لاز ما اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ان کا جواب نفی میں ہے۔ ہر حرکت کا مطلب ترقی نہیں۔ ایک قسم کی حرکت اگر آپ کو آسمان کی بلندیوں تک لے جاسکتی ہے۔ تو ایک دوسری قسم کی حرکت گہری پستیوں تک لے اترتی ہے۔ لہذا اصل مقصد صرف حرکت نہیں بلکہ صحیح سمت میں حرکت ہے۔
ترقی ایک اضافی اصطلاح (Relative Term) ہے۔ ترقی اور تنزل کا فیصلہ منزل کے لحاظ ہی سے ہو سکتا ہے۔ ہم صرف اسی حرکت کو ترقی کہہ سکتے ہیں جو صحیح راستے سے ہمیں اپنی منزل کی طرف لے جارہی ہو ۔ جو حرکت منزل کی الٹی سمت میں لے جائے وہ ترقی نہیں بلکہ تنزل ہے۔ اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ حرکت سے پہلے حرکت کی سمت اور منزل مقصود طے ہونی چاہیے ورنہ صرف جمود کو توڑنے کے شوق میں کوئی حرکت کر کے آپ اپنی منزل سے اور دور بھی ہٹ سکتے ہیں۔ تمدنی اور تہذیبی زندگی میں اصل معیار وہ مقصد ہوتا ہے جو آپ حاصل کرنا چاہیں۔ اگر آپ کا مقصد اور آپ کی منزل اسلام ہے تو پھر وہ حرکت جو اس کی مخالف سمت میں لے جائے، خواہ وہ کتنی ہی تیز رفتار کیوں نہ ہو ، الٹی ترقی ہو گی بلکہ یہ حرکت جتنی تیز ہو گی، تنزل اتنا ہی تیز رفتار ہو گا۔
اسی طرح بے سوچی سمجھی پیروی صرف ماضی ہی کی نہیں ہوتی، حال کے رائج طریقوں کی بھی ہو سکتی ہے، اور کسی فرد یا قوم کی خودی اور اس کے صحت مندانہ ارتقاء کے لیے جتنی خطرناک ماضی کے بتوں کی اندھی پرستش ہے اتنی ہی نقصان دہ نئے بتوں کی پوجا بھی ہے بلکہ اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو نقالی دراصل جمود ہی کی ایک شکل ہے۔ اگر چہ ہے بڑی پر فریب! عقل وفکر کو دونوں ہی صورتوں میں ایک طرف رکھ دیا جاتا ہے ۔ جمود میں آپ ماضی کی پرستش کرتے ہیں اور لکیر کے فقیر بنے رہتے ہیں تو نقالی میں آپ ماضی کے بجائے کسی نئے سورج کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ آپکی اپنی خودی (Ego) کے لیے دونوں تباہ کن ہیں۔
جو لوگ زمانے کے چلن اور رواج کی طرف دعوت دیتے ہیں وہ بھول جاتے ہیں کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ دراصل دوسروں کی پیروی ہی کی دعوت دے رہے ہیں، اور تقلید اگر جدید کی کی جائے تو وہ کوئی فخر کے قابل چیز نہیں بن جاتی۔ اس کے نقصانات اسی طرح قائم رہتے ہیں جن کی بنیاد پر قوم کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں بھی ابھرنے نہیں پاتیں اس کی وجہ سے انسان کی روح میں جمود اور احساس کمتری گھس جاتا ہے۔ پوری قوم زمانے کو بدلنے کے بجائے بس خود اپنے ہی آپ کو بدلنے میں لگی رہتی ہے اور دوسروں کی شاگردی کے مقام سے آگے بڑھنا کبھی اسے نصیب نہیں ہوتا۔
پھر زمانے کی تبدیلی کا شور مچانے والے اس امر کو بھی سامنے نہیں رکھتے کہ زمانہ تو بدلنے ہی کے لیے بنا ہے۔ آج وہ ایک خاص سمت میں تبدیل ہوتا ہے تو کل کسی دوسری سمت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے ہمیشہ اپنے ہی دور کی غالب تہذیب کو ترقی کی معراج سمجھتے رہے ہیں لیکن تاریخ نے یہ منظر کئی بار دیکھا ہے کہ بڑی سے بڑی طاقتور تہذیب بھی ایک دن زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ یونانی تہذیب کے غلبے کے زمانے میں یونانیت زدہ لوگ اس کو تہذیب انسانی کا حرف آخر سمجھتے تھے اور اس سے انحراف واختلاف کو دیوانگی، پریشان خیالی اور کفر خیال کرتے تھے۔ لیکن ایک دن اس تہذیب کا خاتمہ ہو گیا اور اب اس کی حیثیت آثار قدیمہ کی سی ہے۔ روم کے دور عروج میں یہی مقام رومی تہذیب کو حاصل ہوا، لیکن بالآخر اس تہذیب کے بھی پر نچے اڑ گئے، اور آج اس کے آثار زمین کے اوپر نہیں بلکہ زیر زمین ڈھونڈے جارہے ہیں! ایرانی تہذیب کی قسمت بھی اس سے مختلف نہ ہوئی اور یہی کچھ ان 32 تہذیوں کے ساتھ ہوا جو اپنے اپنے زمانے میں غالب اور ناقابل تسخیر سمجھی جاتی تھیں۔ اگر ماضی کی تمام غالب تہذیبیں قابل تسخیر ثابت ہوئیں اور ایک دن کامیاب وہی لوگ ہوئے جو ان کی نقالی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کی جگہ ایک دوسرا نظام پیش کرتے تھے تو مستقبل کے متعلق یہ کیوں تصور کر لیا جائے کہ جدید مغربی تہذیب کو ۔ باوجود اس کے موجودہ غلبے کے ۔ مسخر نہیں کیا جا سکتا؟
محض یہ چیز کہ آج ایک خاص تہذیب کو غلبہ حاصل ہے اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ یہی تہذیب مبنی بر حق ہے۔ نہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اسی کو ہمیشہ قائم رہنا ہے اور انسان کے لیے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اپنے آپ کو اسی کے مطابق ڈھال لے۔ طاقت اور غلبہ حق کے معیارات کو تبدیل نہیں کر دیتا اور اقتدار کسی چیز کو خوبیوں کا پیکر اور اچھائی کا نشان نہیں بنادیتا۔ نہ ہر رائج شدہ چیز نا قابل تغیر اور ناقابل تسخیر ہوتی ہے۔ یہ کمزوروں کی عادت رہی ہے کہ وہ طاقت کی پوجا کرتے ہیں اور ہر چڑھتے سورج کے آگے جھک جاتے ہیں۔ یہ کم نظروں کا طریقہ ہے کہ وہ محض اس بنا پر کسی مسلک کو اختیار کر لیتے ہیں کہ اسے اقتدار اور غلبہ حاصل ہے اور یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کہاں تک صحیح ہے اور کہاں تک غلط۔ حالانکہ دیکھنے کی اصل چیز غلبہ اور طاقت نہیں بلکہ کسی چیز کا حق یا باطل ہونا ہے۔ اگر زمانہ بدل رہا ہے تو اس کو مزید بھی بدلا جاسکتا ہے۔ لیکن محض وقت تبدیل ہو جانے کی وجہ سے زندگی کے اصول، حق وباطل کے معیار، اور خیر وشر کے پیمانے نہیں بدلے جاسکتے۔
ناگزیر ترقی کا نظریہ
جدید ذہن کی تعمیر جن عوامل نے کی ہے ان میں وہ فکر وفلسفہ بھی شامل ہے جو ہر نئی چیز کو خوب تر اور قابل احترام اور لائق اختیار سمجھتا ہے۔ مغرب کے ذہن کو ہیومنزم (Humanism) کے فلسفے نے بہت متاثر کیا ہے اور اس فلسفے کی اساس تاریخ میں ‘ناگزیر ترقی کا اصول (Inevitability of Progress) ہے۔ اس کی رو سے ہر آنے والا دن گزرے ہوئے دن سے بہتر ہے۔ انسان کا ورثہ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ حال ماضی سے اچھا ہے اور مستقبل حال سے بہتر ہو گا۔ ہمارے قدم لاز ما ترقی اور عروج کی طرف اٹھ رہے ہیں اور اب پیچھے ہٹنے کا کوئی امکان نہیں۔ اس اصول کو ھیگل کے فلسفہ تاریخ اور مارکس کی معاشی تعبیر تاریخ نے بڑی تقویت پہنچائی۔ یه ای انداز فکر کا نتیجہ ہے کہ ماضی کی ہر چیز کو کم مایہ اور حقیر اور حال کی ہر شے کو قابل قدر سمجھا جارہا ہے اور ترقی کا لازمی تقاضا یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ تغیر زمانہ کے نام پر ہر قدیم چیز کو بدل ڈالا جائے۔
یہ نظریہ واضح طور پر غلط ہے۔ ہمیں انسانی تاریخ میں ارتقاء کی کوئی سیدھی لکیر نظر نہیں آتی، یہ تاریخ بڑی ٹیڑھی واقع ہوئی ہے۔ اس میں ترقی بھی ہے اور تنزل بھی، عروج بھی اور زوال بھی، چڑھاؤ بھی ہے اور اتار بھی، بلندی بھی ہے اور پستی بھی۔ ہر بعد کے دور کو پچھلے دور سے بہتر سمجھنا تاریخی لحاظ سے ایک بالکل غلط خیال ہے جسے ہر گز صحیح ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ جدید فلاسفہ تاریخ میں سے کوئی ایک بھی ھیگل اور مارکس کی اس توجیہ کو صحیح نہیں سمجھتا اور تاریخی حقائق اس کو سچا ثابت نہیں کرتے۔ مسلسل ارتقاء کا نظریہ آج علمی حیثیت سے ایک متروک اور مسترد کردہ نظریہ ہے۔ لیکن اس کے بطن سے جس غلط تصور نے جنم لیا ہے وہ عام پڑھے لکھے لوگوں کے دماغ پر سوار ہے اور وہ اپنی ترقی پسندی کا ڈھول پیٹنے کے لیے محض فیشن کے طور پر ہر قدیم چیز پر ناگواری ظاہر کرتے اور ہر نئی چیز کی طرف بے سوچے سمجھے لپک پڑتے ہیں۔ حالانکہ قدیم کو لاز م برا اور جدید کو لازماً اچھا سمجھنا اور تمام قدیم چیزوں کی تبدیلی کو ضروری قرار دینا ایک غلط طریقہ ہے جس کے لیے کوئی دلیل موجود نہیں۔
پھر سوال یہ بھی ہے کہ زمانے کی تبدیلی کسی قسم کی ہے اور یہ تبدیلی زندگی کے کس دائرے میں واقع ہو رہی ہے؟
کائنات کا وہ دور جو زمین پر انسان کی آمد سے شروع ہوا ہے، اب تک جاری ہے۔ ارتقائے کائنات کے نقطہ نظر سے اگر غور کیا جائے تو یہ بات صاف ظاہر ہے کہ یہ دور اپنی چند طے شدہ خصوصیات رکھتا ہے جو انسانی تہذیب کے سارے ہی مرحلوں میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ ان خصوصیات میں کوئی بنیادی تبدیلی اسی وقت واقع ہو گی جب یہ دور ختم ہو جائے گا اور کوئی دوسرا دور شروع ہو گا (مثلاً دور آخرت) ۔ اس پورے زمانے میں انسان کی فطرت، کائنات کے فطری قوانین، انسانی زندگی کے بنیادی اصول، پیدائش، زندگی اور موت کا عمل، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں، ہدایت وگمراہی کے قواعد، یہ تمام ایک ہی رہے ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔ افراد پیدا ہوتے ہیں اور مرتے ہیں۔ تہذ یہیں ابھرتی ہیں اور ختم ہو جاتی ہیں۔ سلطنتیں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ لیکن فطرت کے قوانین نہیں بدلتے۔ زندگی کی اصل میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی، اور اجتماع و تمدن کے بنیادی ضابطے قائم و مستحکم ہیں۔ ایک ہی اصول ہیں جو کام کر رہے ہیں، ایک ہی حقیقت ہے جو نمایاں ہے۔ تغیر اور تبدیلی صرف ظاہری اور سلمی چیزوں میں ہے ۔ بنیادی اور اساسی چیزوں میں نہیں۔ اس لیے یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ زندگی کے موجودہ دور میں جو تبدیلیاں بھی واقع ہورہی ہیں وہ ایک محدود دائرے میں ہیں۔ بنیادوں میں نہیں صرف شاخوں میں ہیں، اور ان کی بنا پر قدیم وجدید کا جھگڑ اسوائے کم نظری کے اور کچھ نہیں۔ بقول اقبال
زمانہ ایک حیات ایک کائنات بھی ایک
دلیل کم نظری، قصه قدیم وجدید!
ہم تبدیلی کے واقع ہونے سے انکار نہیں کرتے ۔ یہ تو ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انکار ممکن ہی نہیں۔ لیکن جس چیز کا سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس تغیر اور تبدیلی کی نوعیت کیا ہے؟ اس لیے کہ اس کی نوعیت کو سمجھے بغیر کوئی صحت مند اجتماعی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی۔
انسان کی اجتماعی زندگی میں جو تبدیلی بھی آرہی ہے وہ ذرائع اور وسائل کی دنیا میں ہے۔ مقاصد اور اصول واخلاق کی دنیا میں نہیں۔ فنی ایجادات اور تکنیکی انکشافات انسان کے وسائل اور فطری قوتوں پر اس کے اختیار کو مسلسل بڑھارہے ہیں۔ لیکن یہ ساری تبدیلی ذرائع ووسائل ہی کی تک اور ہی ہے۔ اس تبدیلی کا یہ تقاضا ہر گز نہیں کہ زندگی کے مقاصد، اخلاق کے اصولوں اور زندگی کی اقدار کو بھی تبدیل کر دیا جائے۔ اگر ہوائی جہاز، جیٹ اور راکٹ کے استعمال سے زمین کوٹ کر رہ گئی ہے تو اس کے یہ معنی کب ہیں کہ زنا جو کل تک حرام تھا آج ملال ہو جائے؟ اگر برقی (Electronic) قوت اور انفارمیشن سیکنالوجی کے ذریعے سے انسان کے پاس وہ طاقتیں آئیں ہیں: پہلے صرف جنوں اور فرشتوں کو حاصل تھیں تو خیر و شر کے اصولوں کی صداقت پر اس کا آخر کیا اثر پڑتا ہے میزائل اور راکٹ کے استعمال کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ جھوٹ، سود، جوا، شراب اور دوسری برائیوں کو جائز قرار دے دیا جائے ؟ صنعتی ترقی کا آخر یہ تقاضا کب ہے کہ انصاف کے اصولوں کو بھی بدل دیا جائے۔
جو حضرات کی نظر رکھتے ہیں وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں اصولوں میں تبدیلی کا تقاضا کرتی ہیں۔ در حقیقت تمام ایجادات اور نئی چیزیں انسان کے لیے ہیں، انسان ان کے لیے نہیں۔ تمام ترمادی ترقی اسی وقت مفید ہو سکتی ہے جب وہ انسان کی بھلائی کے لیے استعمال ہو، خود بھلائی اور برائی کے اصول ان کی خاطر نہ بدل جائیں۔ یہ قوتیں جو انسان کو حاصل ہوئی ہیں اس وقت فائدہ مند ہیں جب وہ اعلیٰ مقاصد حیات کے تحت ہوں، اپنے ریلے میں انہیں بہا کر نہ لے جائیں۔ مقاصد واصول کو ان کے مطابق نہیں بلکہ ان کو مقاصد واصول کے مطابق بدلنا چاہیے۔ مقاصد اور اصولوں کی حیثیت تو ان معیارات کی ہے جن سے تکنیکی ترقی کے اچھے یا برے ہونے کو ناپا جائے گا۔ اگر ان ترقیوں کے باوجود انسان ہی پریشان وبے چین رہتا ہے تو پھر ساری مادی ترقی ہے کار ہے۔
نہ کلی ہے وجہ نظر کشی نہ کنول کے پھول میں تاز کی
فقط ایک دل کی خانگی سبب نشاط بہار ہے
ثبات اور تغییر
انسانی زندگی میں تبدیلی کا انداز کچھ ایسا ہے کہ تبدیلی کے ساتھ ساتھ ثبات اور بیشکی کا بھی ایک پہلو موجود ہے۔ تبدیلی ہر لمحہ آتی ہے لیکن بنیادی حقیقت کو متاثر کیے بغیر اپنا ظہور کرتی رہتی ہے۔ مثلاً انسان کے جسم اور اس کی ذات کو لیجیے۔ سائنس کے مشاہدات ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان کے جسمانی نظام میں ہر لمحہ تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ ایک بچے کے جسم کا ایک ایک ریشہ جوان ہونے تک بدل جاتا ہے۔ اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ حتی کہ ایک خاص مدت میں ہر مرتبہ انسان کا جسم اپنے کو بالکل تبدیل کر کے ایک نیا جسم بن جاتا ہے۔ لیکن اس تبدیلی میں بنیادی نظام وہی رہتا ہے اور ہر شخص کی بنیادی شخصیت، اس کی ”انا“ وہی رہتی ہے۔ اسی کیفیت کو نکولائی بردائیف (Nicoli Berdyve) ان الفاظ سے تعبیر کرتا ہے کہ ”انسانی ذات، تبدیلیوں کے پردے میں تبدیلی نہ ہونے کا نام ہے“۔ اور برگساں (Bergson) نے اس بات کو یوں ادا کیا ہے کہ ”ہم میں تغیر تو آتا ہے لیکن ہماری بنیادی حقیقت بدلنے نہیں پاتی۔“
اسی طرح درختوں کو دیکھیے۔ ایک درخت ایک خاص مدت میں اپنے پھول پتے بالکل تبدیل کر لیتا ہے۔ اس کی زندگی میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ تبدیلی اس کی اصل کو نہیں بدلتی بلکہ اس سے ہم آہنگ رہتی ہے۔ ایک بنیادی رنگ ہے جو ہر صورت میں غالب رہتا ہے اور یہی اس کی انفرادیت ہے۔
صبح بہار آئی ہے لے کر، رت بھی نئی شاخیں بھی نئی
غنچہ وگل کے رسا پر لیکن رنگ قدامت آج بھی ہے
یہ فطرت کا قانون ہے جو ہر شعبہ زندگی میں جاری وساری ہے۔ انسان کی اجتماعی اور ازاد ہی زندگی میں بھی اہمیں یہی کام کرتا نظر آتا ہے۔ اسی بنیاد پر علامہ اقبال نے کہا تھا کہ
“ہمیں نہیں ہو نا چا ہیے کہ زند کی محض تغیر ہی نہیں، اس میں حفظ وثبات کا ایک عصر بھی موجود ہے۔ لہذا اس پر الہ آگے ہی آگے بڑھنے والی حرکت میں انسان اپنے ماضی کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی بات کو ہم دوسرے لفلوں میں یوں ادا کریں گے کہ زندگی چونکہ ماضی کا بوجھ اٹھائے آگے بڑھتی ہے اس لیے ہمیں چاہیے کہ جماعت میں تغیر وجہول کا جو لاشہ بھی ہم نے قائم کیا ہو اس میں قدامت پسندانہ قوتوں کی قدر وقیمت اور وظائف کو فراموش نہ کریں۔ “
مندرجہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ
(۱) ہر تبدیلی نیر ہی کا باعث نہیں ہوتی ۔ جو چیز مطلوب ہے وہ صرف تبدیلی نہیں بلکہ صحیح سمت میں تبدیلی ہے۔
(۲) صرف زمانے کے طریقے کی پیروی کسی فرد یا قوم کے لیے ترقی کا ذریعہ نہیں ہو سکتی۔
(۳) کسی چیز کے غالب ہونے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ لاز ما انھی اور صحیح بھی ہے، یا یہ کہ وہ نا قابل تسخیر ہے۔
(۴) ناگزیر ترقی کا اصول ایک نامہ اصول ہے جس کی تائید تاریخ سے نہیں ہوتی۔
(۵) زمانے کے تغیر کی نوعیت بڑی غور طلب ہے تبدیلی کا دائرہ بڑا محدود ہے۔ تبدیلی بنیادوں میں نہیں، صرف شاخوں اور ظاہری چیزوں میں ہوتی ہے۔ انسانی فطرت، کائنات کے بنیادی قوانین اور ہدایت وگمراہی کے طریقہ کار میں کسی تبدیلی کا سوال نہیں۔
(۶) زندگی صرف تغیر کا نام نہیں بلکہ وہ تغیر اور شبہات دونوں کے اذان سے قائم ہے اور صحت مند نظام وہی ہو سکتا ہے جو دونوں پہلوؤں میں مکمل تو ان قائم کرے –
ان امور کے واضح ہو جانے کے بعد اب مسئلے کی مزید تشریح ہمارے لیے بہت آسان ہو جاتی ہے-
اسلام اور تغیر
اسلام خدا کی اس ہدایت کا نام ہے جو اس نے اپنے منتخب نہیوں کے ار لینے سے انسان کی نہ رہنمائی کے لیے وقتاً فوقع بھیجی ہے اور جو اپنی آخری اور مکمل شکل میں ہم کو محمد رسول اللہ صلی کے ذریعے سے پہنچی ہے۔ یہ وہ ضابطہ حیات ہے جو پوری طرح فطرت کے اصولوں پر قائم ہے اور انسان اس کے ذریعہ سے دنیاوی اور اخروی دونوں کا میابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ یہ زندگی کا مکمل قانون ہے۔ اس قانون کو انسان نے نہیں خدا نے بنایا ہے۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔
لا تَبْدِيلَ لِكَلِمَاتِ اللهِ
“اللہ کی باتوں میں تبدیلی نہیں ہوتی ۔” (یونس: ۱۴)
وَلا مُبَيّلَ لِكَلِمَاتِ الله
“اور اللہ کی باتوں کو بدلنے والا کوئی نہیں ۔” (الانعام: ۳۴)
لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ: ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيْمُ وَلَكِنَّ أَكثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
” اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ یہی سید عادین ہے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں۔” (الروم: ۳۰)
فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا
“پس تم اللہ کے طریقے میں تبدیلی نہ پاؤ گے ۔” (فاطر: ۴۳)
قرآن پاک کی یہ آیات بالکل صاف اور واضح ہیں اور اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ خدا کا دین، اس کے احکام اور قوانین ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہیں اور صرف زمانے کی تبدیلی کی وجہ سے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ تبدیلی زمانے میں کرنی ہوگی، خدا کے قانون میں نہیں۔ مردود وہ ہیں جو
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ دنیا میں بدعت (ایسی نئی چیز شروع کرنا جس کی بنیاد قرآن وسنت میں موجود نہ ہو) شروع کرنے والے اور بدعتی کی تعریف کرنے والے پر خد ا کی لعنت ہو۔
اگر اس مسئلے پر اچھی طرح سے غور کیا جائے تو فکر ونظر کا ہر گوشہ اس بات پر گواہی دیتا ہے کہ خدا کے قانون میں کسی تبدیلی کی نہ ضرورت ہے اور نہ گنجائش ۔ اور اس کی وجہ بھی بہت واضح ہے۔ زمانے کی تبدیلی کا اثر اس قانون پر پڑتا ہے جسے انسان نے بنایا ہو۔ انسانی فکر وقت اور جگہ کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کے تمام حقائق کو نہیں جانتی۔ وہ ایک محدود علم کے ساتھ آج ایک چیز کو صحیح سمجھ کر پیش کرتی ہے مگر کل جب وہ حالات سامنے آتے ہیں جن کا کوئی تصور پہلے موجود نہ تھا، تو وہ غلط ثابت ہو جاتی ہے۔ لیکن خدا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اس کا علم ہر شے پر محیط ہے۔ زماں ومکاں کی قید اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ جو قانون ایسے خدا کی طرف سے ہو اس کا کسی ایک مخصوص زمانے کے ساتھ محدود ہو جانا کیسے ممکن ہے۔ خدا کے علم اور خدا کے دیے ہوئے قانون کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ کبھی پرانا اور غیر متعلق ہو جائے۔ وہ تو ہمیشہ اتناہی تازہ اور متعلق رہے گا جتنی ہر نئی صبح!
دوم، خدا کا یہ قانون بنیادی طور پر ہدایت وگمراہی کی حقیقت کو واضح کرتا ہے اور ان اصولوں اور ان اقدار کو بیان کرتا ہے جن پر وقت کی تبدیلیوں، تہذیبوں کے عروج وزوال اور ماہ وسال کے آنے جانے کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ فطرت کے اصولوں کو بیان کرتا ہے اور فطرت کا قانون قائم ومستقام ہے۔
سوم، قرآن وسنت اصولی رہنمائی دیتے ہیں، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی بنیادیں فراہم کرتے ہیں اور ان بنیادی اداروں کو قائم کرتے ہیں جنہیں ہر زمانے میں قائم رہنا چاہیے۔ ان چیزوں پر زماں ومکاں کے تغیر کا کوئی اثر نہیں پڑتا۔ یہ اصول غیر متبدل ہیں اور ان میں تبدیلی فطرت کے قانون کے خلاف ہو گی۔
ان وجوہ کی بنا پر زمانے کی تبدیلی کے مطابق اسلام کے تبدیل کیے جانے کا ہر گز کوئی امکان نہیں –
یہی چیز ہے جو انبیاء وصالحین کی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے۔ ہر نبی ایسے حالات میں بھیجا گیا جب زمانے کا بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور زندگی کا دریا بالکل غلط رخ پر رواں دواں تھا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی نے زمانے کے رواج کے مطابق اسلام کو تبدیل کرنے کی کوششیں نہیں کی۔ وہ زمانے کے رنگ سے متاثر نہ ہوئے بلکہ زمانے کو اپنے رنگ میں رنگنے کی کوشش میں مصروف ہو گئے اور بالآخر اس پر صبغت اللہ (اللہ کا رنگ) کو غالب کر دیا۔ قرآن میں اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ یوں بیان فرماتا ہے۔
هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِهِ وَلَوْ كَرِةَ الْمُشْرِكُونَ
“وہی (پاک ذات) تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ اسے تمام دیگر ادیان پر غلبہ عطا کرے خواہ یہ مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ گزرے ۔” (الصف :۹(
ہدایت اور دین حق ہیں ہی اس لیے کہ انبیاء ان کو دنیا کے باقی تمام نظاموں اور طریقوں پر غالب کریں۔ خدا کا دین اس لیے نہیں ہے کہ اسے زمانے کے رواج کے مطابق بدلا جائے بلکہ اس لیے ہے کہ زمانے کو اس کے مطابق بدلا جائے اور اس کو غابہ واختیار کا مقام حاصل ہو ۔ مشرکوں، کافروں اور منافقوں کی تو دلی خواہش ہی یہ ہوتی ہے کہ دین کو ان کی مرضی کے مطابق بدلا جائے، لیکن خدا اس بات کو صاف بیان کر دیتا ہے کہ ان کی ناراضگی کا ہر گز کوئی خیال نہیں کیا جا سکتا۔ سربلندی دین کو حاصل ہونی چاہیے اور زمانے پر اس کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔
انبیاء کی سیرت اس حقیقت کی گواہ ہے۔ حضرت نوح کی قوم انکار اور بغاوت پر اڑی رہی۔ آپ نے ساڑھے نو سو سال تک دین حق کی دعوت دی لیکن ایک دن کے لیے بھی وہ وقت کے تقاضوں کے مطابق دین کو تبدیل کرنے پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی دعوت وہی رہی کہ
يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَالَكُم مِنْ اللَّهِ غَيْرُهُ
“اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔” (اعراف: ۷۳)
ابوالانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے زمانے کی تہذیب کے کئی بڑے مراکز پر دعوت حق دی لیکن کہیں بھی زمانے کے تقاضوں کے مطابق دین کو نہیں ڈھالا۔ انہوں نے آگ اور جلاوطنی کے مصائب کو برداشت کیا لیکن دین کو نقصان نہ پہنچنے دیا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم شدید قسم کی اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھی مگر آپ نے زمانے کے رواج کو دیکھ کر دین میں تبدیلی نہیں کی بلکہ زمانے کے خلاف بغاوت کی۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کے طور طریقوں کو اختیار کرنے کے بجائے اسے خدا کے تبدیل نہ ہونے والے قانون کی پیروی کے لیے پکارا۔ حضرت صالح علیہ السلام نے اپنی قوم کی سرکشی کے لیے کوئی رعایت نہ دی اور انہیں خوش کرنے کے لیے دین میں کسی کمی بیشی کو برداشت نہ کیا۔ حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کی معاشی ترقی کی خاطر ان کے ظالمانہ معاشی نظام کو قبول کر کے دین میں تبدیلیاں نہ کیں بلکہ ان کو مکمل فرمانبرداری کی دعوت دی۔ تمام انبیاء کا طریقہ کار یہی رہا ہے۔ نبی اکرم علی ایم کے زمانے میں مشرق سے مغرب تک جو نظام چل رہا تھا اسے قبول کرنے اور اس کے مطابق اپنے آپ کو اور اپنے دین کو بدلنے کے بجائے آپ نے اسے ایک فاسد نظام قرار دیا۔
ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ
“خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ہے” (الروم: ۴۱)
لیکن خدا کے نبی نے زمانے کے تقاضوں سے سمجھوتہ اور اس کے ساتھ مصالحت کرنے کے بجائے اس کی ہر ہر خرابی کے خلاف جنگ لڑی۔ زمانے کے آگے جھکنے کا مشورہ دینے والوں کو آپ کا صاف جواب یہ تھا:
“خدا کی قسم اگر یہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند رکھ کر کہیں کہ سورج و چاند کے بدلے میں اس دعوت چھوڑ دوں تو میں ہر گزا سے نہ چھوڑوں گا، یہاں تک کہ یا تو اللہ اس دعوت کو کامیاب فرما دے یا میں اس راہ میں جان دے دوں”-
انبیاء کا طریقہ یہ نہیں رہا کہ وہ زمانے کے آگے جھکیں اور لوگوں کو راضی کرنے کے لیے خدا کے دین کو بدلیں۔ وہ حق کے پیغامبر ہوتے ہیں اور زمانے کے چلن کے خلاف اپنی دعوت پیش کر کے اسے تبدیل کرنے کی جدوجہد کرتے ہے ـ اگر وہی زمانے سے مطابقت اختیار کرلیں تو پھر انسانیت کی فلاح واسلاح کا کوئی امکان باقی نہ رہے ـ
انبیاء کے اس طریقہ کار کی پیروی کی بہترین مثال ہمیں آپ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابہ کی زندگی میں نظر آتی ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے دنیا سے پردہ فرمانے کے بعد یکا یک عرب کا نقشہ پلٹ گیا۔ ہر طرف سے بغاوتوں نے سر اٹھالیا نئے نئے نبی اٹھ کھڑے ہوئے۔ بہت سے قبائل نے زکوۃ ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ چند بڑے بڑے صحابہ تک اس صورت حال پر پریشان ہو گئے اور لوگ یہ رائے پیش کرنے لگے کہ مصلحت وقت کی خاطر قبائل کے ساتھ نرمی برتی جائے اور وقت کے تقاضوں کا لحاظ کیا جائے۔ مگر جو نبی اکرم ﷺ کے مزاج کو سب سے اچھی طرح جانئے والا تھا یعنی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ، اس کا جواب یہ تھا کہ:
” اللہ کی قسم مجھ پر یہ فرض ہے کہ جو کام میں رسول اللہ کو کرتے دیکھ چکا ہوں خود بھی وہی کروں اور اس سے ذرہ بھر بھی نہ ہٹوں ۔ اگر جنگل کے کتنے اور بھیڑیے مدینے میں داخل ہو کر مجھے اٹھا لے جائیں تو بھی میں وہ کام کرنے سے باز نہ آوں گا جسے رسول اللہ ﷺ نے کرنے کا حکم دیا ہے۔”
” اللہ کی قسم اگر زکوۃ دینے سے انکار کرنے والے اونٹ باندھنے کی ایک رسی دینے سے بھی انکار کریں گے جسے وہ رسول اللہ کے زمانے میں ادا کرتے تھے، تو بھی میں ان سے جنگ کروں گا! خدا کی قسم میں زکوۃ اور نماز میں فرق کرنے والے لوگوں سے ضرور لڑوں گا۔”
نبی کی سنت کی پیروی ہی اسلام کی شان ہے اگر زمانے کا طریقہ نبی کے طریقہ سے ٹکراتا ہے تو وہ شخص اپنے ایمان کے دعوے میں جھوٹا ہے جو نبی کے طریقے کو چھوڑ کر زمانے کے طریقے کی پیروی کرے ۔
تجدید اور تجدد
یہ ایک حقیقت ہے کہ خدا کا دین مکمل اور قائم رہنے والا ہے اور محض زمانے کے انداز دیکھ کر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن یہ خیال کرنا بھی غلط ہو گا کہ زمانے کی تبدیلیوں کو دین اسلام مکمل طور پر نظر انداز کرتا ہے۔ اسلام کا طریقہ کار یہ ہے کے وہ ہدایت وضلالت کے بنیادی اصول بتا دیتا ہے اور انفرادی و اجتماعی زندگی کے لیے وہ حدود واضح کر دیتا ہے جو انسان کو سیدھی راہ پر قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔ رہے جزوی اور وقتی امور تو ان کو شریعت کے دیے ہوئے بنیادی اصولوں کی روشنی میں اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے اندر ہر وقت اور ہر زمانے میں طے کرنے کی اجازت ہے۔ یہ کام اجتہاد کے ذریعے سے انجام پاتا ہے اور اسی کے ذریعے سے نظام دین میں حرکت اور نشو ونما کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے۔
زمانے کی تبدیلیوں پر دو قسم کے رد عمل اسلامی تاریخ میں نظر آتے ہیں۔ ایک کا نام تجدید ہے اور دوسرے کا” تجدد- “
’تجدید ‘ یہ ہے کہ زمانے کے تغیرات کو سامنے رکھتے ہوئے اصل دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ اسی طرح پیش کیا جائے اور اپنے دور اور اپنے زمانے کی زبان میں مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا جائے۔ نیز دانائی، حکمت اور اجتہاد کے ذریعے سے دین کو اپنے دور کے حالات پر نافذ کرنے کی عملی جدوجہد کی جائے۔ ان تمام ذرائع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جائے جو قدرت نے انسان کو فراہم کیے ہیں اور اسلامی بصیرت اور شعور کے ساتھ نئے پیش آنے والے مسائل کو قرآن وسنت کی روشنی میں طے کیا جائے۔ تجدید کے ذریعے سے ہر زمانے میں دین کی تعلیمات اور زندگی کے سفر کے درمیان تعلق اور رابطہ گہرا ہوتا جاتا ہے اور زندگی کا دریا اسلام کی شاہراہ سے ہٹ کر چلنے نہیں پاتا۔ یہاں مخلصانہ اجتہاد کے ذریعے سے نئے مسائل اور نئی مشکلات کو حل کیا جاتا ہے اور دین اپنے رنگ پر قائم رہتا ہے۔
“تجدد” اس کے مقابلے میں وہ کوشش ہے جو زمانے کے تقاضوں کے نام پر خود دین کو بدل ڈالنے کے لیے کی جاتی ہے۔ زندگی اور زمانے کے درمیان رابطہ اس طریقے سے بھی قائم ہو جاتا ہے لیکن یہ تعلق اسلام کی سرزمین پر نہیں غیر اسلام کی سر زمین پر قائم ہوتا ہے۔ اس میں اسلام کو اصل قرار دے کر حالات کو اس کے مطابق ڈھالنے کے بجائے زمانے کی چلتی ہوئی تہذیب کو اصل مان کر اس کے پیدا کیے ہوئے حالات پر اسلام کو ڈھال دیا جاتا ہے۔ اس طریق کار کو اگر مسلمان ہر زمانے میں اختیار کرتے چلے جائیں تو اسلام کی کوئی چیز بھی اپنی جگہ پر باقی نہیں رہ سکتی، بلکہ اسلام سرے سے کسی متعین مذہب ومسلک اور نظر یے وانظام کا نام ہی نہیں رہتا۔
اسلام میں تجدید کے دروازے ہمیشہ کھلے رہے ہیں اور پوری تاریخ میں اسلام کے سچے خادم یہ کارنامہ انجام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن تجدد کی اس میں کوئی گنجائش نہیں ماضی میں جب بھی تجدد نے سر اٹھایا ہے مسلمانوں نے سختی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا ہے اور ہر ایسی تخریبی کوشش عام مسلمانوں کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے ناکام ہوئی ہے۔
آج بھی بنیادی کشمکش تجدید اور تجد دہی کے درمیان ہے۔ اور ہماری پوری تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ دین کو متجددین کی خاطر نہ کبھی ماضی میں بدلا گیا ہے اور نہ آج بدلا جاسکتا ہے۔ کسی صاحب اثر شخصیت کی یہ طاقت نہیں ہے کہ زمانے کے تقاضوں کا نام لے کر اسلام کو بدل سکے۔ اس معاملے میں جو انجام اکبر بادشاہ کی کوششوں کا ہو چکا ہے’وہی انجام ان نئے متجددین کے لیے بھی لکھا ہوا ہے۔ دین کی شکل بگاڑنے اور بدل دینے کی کوئی چال اگر طاقت کے بل پر زبر دستی نافذ کر بھی دی جائے تو اسے مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے نہ ماضی میں کبھی قبول کیا ہے اور نہ آج قبول کر سکتا ہے۔ اس دین کی حفاظت کی ذمہ داری خدانے لی ہے اور اس نے ایسے ذرائع بھی پیدا کر دیے ہیں کہ اس کی حفاظت ہوتی رہے۔
إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكُرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
“ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔” (الحجر:۹)
آخر میں ایک بات کی طرف ہم اور اشارہ کرناچاہتے ہیں۔ پوری انسانی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ عظیم کارنامے ہمیشہ ان ہی لوگوں نے انجام دیے ہیں جو حالات کی رو پر بہنے کے بجائے ان کا مقابلہ کرنے اٹھے ہیں۔ زندگی پر نہ مٹنے والے نقوش انہوں نے نہیں چھوڑے جو ہوا کے رخ کے ساتھ اپنا رخ تبدیل کر لینے والے پرندے کی طرح اڑتے اور دوسروں کی نقالی کرتے رہے بلکہ ان لوگوں نے چھوڑے ہیں جو ہوا کے رخ سے لڑے ہیں اور زندگی کے دھارے کو موڑ کر رکھ دیا ہے۔ پیروی کرنے کے قابل وہ نہیں ہے جو گرگٹ کی طرح صبح و شام رنگ بدلتا ہے بلکہ وہ ہے جو خود اپنا کوئی رنگ رکھتا ہے اور دنیا کو اپنے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ مسلمان دنیا میں زمانے کے پیچھے چلنے کے لیے پیدا نہیں کیے گئے ہیں۔ وہ تو پوری انسانیت کی طرف اس لیے بھیجے گئے ہیں کہ جسے خدا نیکی کہتا ہے اس کا حکم دیں، جسے خدا بدی کہتا ہے اسے مٹائیں اور دنیا میں خدا کی اطاعت کے طرزِ عمل کو عام کر دیں۔ وہ دوسروں کے رنگ میں رنگے جانے کے لیے نہیں ہیں۔ دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے ہیں۔
كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِوَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ
“جتنی امتیں (یعنی قو میں) لوگوں میں پیدا ہو ئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام
کرنے کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔” (آل عمران: ۱۱۰)
یہ ہے مسلمانوں کا اصل مقام مگر انہیں ڈالا کس راہ پر جارہاہے؟ بقول اقبال:
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ، اپنے زمانے کے ہیں پیرو
در حقیقت مسلمان کے لیے اس سے بڑی ذلت کوئی نہیں ہو سکتی کہ وہ خدا کے پیغام کا امین ہونے کے باوجود زمانے کو اپنے دین کے مطابق بدلنے کے بجائے خود زمانے کی رو پر بنے لگے اور اس کے ساتھ اپنے دین کا بھی حلیہ بدل ڈالنے کی کوشش کرے۔ یہ بزدلوں اور کم نظر لوگوں کا طریقہ ہے۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جنہیں ہوائیں تنکوں کی طرح اڑائے لیے پھرتی ہیں، جن کی اپنی جڑ نہیں ہے کہ وہ اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہو سکیں۔ یہ مسلمان کا طرز عمل نہیں۔ مسلمان کا طریقہ تو یہ ہے کہ
زمانہ باتونہ سازد تو بازمانہ ستیز
(زمانہ اگر تمہارا ساتھ نہ دے تو تم زمانے کو اپنے ساتھ چلنے پر مجبور کر دو)



