امریکہ کے عالمی کردار سے بے زاری

اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن (یو این ہیومن رائٹس کمیشن) میں نصف صدی یک کلیدی کردار ادا کرنے کے بعد [۲۰۰۱ء کے وسط میں] امریکہ کا بہ یک بینی و دو گوش فارغ کیا جانا محض ایک اتفاقی حادثہ یا صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں ہے۔
یہ امریکہ کے عالمی کردار کے بارے میں دُنیا کے دوسرے ممالک میں پائے جانے والے احساسات کا ایک مظہر عالمی سیاست کے ابھرنے والے رجحانات کی ایک واضح علامت اور طاقت ور ملکوں کے لیے ایک غیر مبہم اختباہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کوئی تنها (isolated) واقعہ نہیں، بلکہ ایک رخ اور رجحان کا پتہ دیتا ہے جس کا اظہار اقوام متحدہ ہی کے ایک دوسرے اہم ادارے انٹرنیشنل نارکوٹکس کمیشن عالمی اداره تحدید منشیات سے بھی امریکہ کی فراغت کی صورت میں بھی ہوا ہے۔
اضطراب کی لہریں
صدر امریکہ جارج بش پہلے ہی بیرونی دورے پر نکلے تو انھیں موثر عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑا ۔ کیوبک (کینیڈا) میں تمام امریکی ممالک کے سربراہوں کی کانفرنس اور گوڈن برگ (سویڈن) میں ۱۵ یورپی ممالک کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونے والے عوامی مظاہرے اور ان میں اٹھائے جانے والے ایشوز امریکہ پر بے اعتمادی اور اس کے سنگ دلانہ رویے اور پالیسیوں سے بے زاری کے منہ بولتے مظاہر تھے۔
صاف نظر آ رہا ہے کہ جو لاوا ایک مدت سے اندر ہی اندر پک رہا تھا، وہ اب اپنے اظہار کے لیے مختلف راستے اختیار کر رہا ہے۔ جو جذبات و احساسات ایک عرصے تک خلش، کسک انقباض اور اضطراب کے مرحلے میں تھے وہ اب اظہار اختلاف تنقید اور اس سے بھی بڑھ کر غصے اور بغاوت کی شکلیں اختیار کر رہے ہیں۔ یہ جذبات کسی ایک ملک یا گروہ کے نہیں، بلکہ بڑی حد تک دُنیا کے بیش تر ممالک و اقوام اور سب سے بڑھ کر عام انسانوں کے احتجاج کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ان جذبات اور ان کے پیچھے کار فرما محرکات کا جائزہ نہ لینا ایک ایسی عظیم غلطی ہے، جس کے صرف وہی لوگ مرتکب ہوتے ہیں جو تاریخ سے سبق لینے کو تیار نہیں ہوتے اور نوشتہ دیوار پڑھنے کی زحمت گوارا کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔
۱
امریکہ اور اس کے عالمی کردار کے بارے میں اس احتجاجی لہر کی بڑی وجہ ان لوگوں اور قوموں کے مزاجوں میں کوئی رچی بسی امریکہ دشمنی یا مخاصمت نہیں ہے۔ یہ وہی ملک اور لوگ ہیں جو امریکہ کی طرف بڑی امیدوں سے دیکھتے تھے اور اسے ایک ایسی طاقت سمجھتے تھے، جو خود عالمی سامراج کے خلاف لڑ کر معرض وجود میں آئی ہے۔ جو عصر حاضر میں جمہوری دستوری ریاست کے دور کا آغاز کرنے والی ہے۔ جس کی فوجوں نے تو عالمی جنگوں میں حصہ لیا ہے مگر خود جس کی سرزمین کسی عالمی جنگ کے خون سے داغ دار نہیں ہوئی۔ جو بین الاقوامی سیاسی افق پر جمہوریت، حقوق انسانی اور قوموں کے حق خود ارادیت کی علم بردار بن کر جلوہ گر ہوئی۔
ایک ایسی عالمی طاقت سے اتنی مایوسی اور بے زاری اور اتنی تیزی اور شدت سے اس کا ہمہ گیر اظہار نہ کوئی اتفاقی حادثہ ہو سکتا ہے اور نہ محض کسی سازش کا شاخسانہ۔ اس کے ٹھوس اسباب اور عوامل ہونے چاہیں اور ہیں۔ ان کا سمجھنا امریکہ کی قیادت کے لیے بھی ضروری ہے اور ان اقوام کے لیے بھی، جو احتجاج میں تو شریک ہیں لیکن ان کا مقصد حالات کی اصلاح اور عالمی تصادم کے اسباب و عوامل کا تدارک ہے تاکہ دنیا جنگ و جدال اور خون خرابے سے محفوظ رہ سکے۔
بالا دستی کا زعم
انسانوں اور قوموں میں طاقت کا عدم توازن اور وسائل کا غیر متناسب وجود ایک حقیقت ہے ۔ محض اس کی وجہ سے اضطراب اور تصادم ایک غیر منصفانہ اور غیر فطری عمل ہوگا ۔ لیکن فرق جب ایک قوت کی دوسروں پر بالادستی، استیلا اور ان کے استحصال (exploitation) کی شکل اختیار کرنے لگتا ہے تو بے زاری اضطراب اور تصادم کے دروازے کھلنے لگتے ہیں جو آخر کار ٹکراؤ اور خون خرابے پر منتج ہوتے ہیں۔ یہی وہ عمل ہے جو امریکہ اور دنیا کی دوسری اقوام کے درمیان شروع ہو چکا ہے ۔ یہ عمل ۱۹۸۹ء میں اشتراکی روس کے ایک سوپر پاور کی حیثیت سے میدان سے نکل جانے کے بعد اور بھی واضح اور تیز ہو گیا ہے۔
امریکہ کے پاس مادی اور قدرتی وسائل کی اتنی بہتات ہے کہ اپنے باشندوں کے لیے وہ زندگی کی تمام سہولتیں یہ افراط فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن عالمی بالا دستی کا خواب دنیا کی دوسری اقوام کے وسائل حیات کو اپنی گرفت میں لینے کے عزائم دُنیا کو اپنے تصورات کے مطابق ڈھالنے اور دوسروں پر اپنی اقدار اور نظریے کو یہ زور مسلط کرنے کے منصوبے ہی در اصل تصادم اور ٹکراؤ کی جڑ ہیں۔ یہ خواہشات دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکہ کی عالمی حکمت عملی کے اجزافتی جا رہی ہیں ۔ سرد جنگ کے دور میں آزاد دنیا کے تحفظ اور اشتراکیت دشمنی کے نام پر ان اہداف کو حاصل کرنے کی بھی کی گئی لیکن سرد جنگ کے بظاہر خاتمے کے بعد سے یہ نے اور بھی تیز ہوگئی ہے۔
عالم گیریت استعماری جبر
اکیسویں صدی کو امریکہ کی صدی اور ساری دنیا کو امریکہ کے رنگ میں رنگنے کی مہم جس کا نام” عالم گیریت(globalization) “ رکھا گیا ہے ان حدود میں داخل ہو گئی ہے جہاں ایک طاقت ور ملک انا ولا غیری کے زعم میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر طاقت ور ہونا کافی نہیں رہتا، بلکہ دوسروں پر اپنی طاقت کا رعب جمانا اس کا مقصد بن جاتا ہے اور قوت کا نشہ کسی دوسرے کو خاطر میں نہیں لانے دیتا ۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں دوسری اقوام بھی مجبور ہوتی ہیں کہ اپنی آزادی اپنی عزت اور اپنی اقدار کے تحفظ کے لیے سینہ سپر ہوں اور کنجشک فرومایہ بھی شاہین نما فرعونیت سے ٹکر لینے پر آمادہ ہو جاتی ہے۔
آج عالمی سیاست ایک ایسے ہی نازک مرحلے کی طرف رواں دواں ہے۔
امریکہ کا واحد عالمی قوت ہونا ظاہر بین نگاہوں میں چاہے ایک حقیقت ہوا لیکن اس واحد سوپر پاور کا دوسروں پر غلبہ حاصل کر لیتا اور ان کو اپنا تابع مہمل بنا لینے کی کوشش وہ خطر ناک کھیل ہے، جس نے عالمی بساط کو تہ و بالا کر دیا ہے۔ غلبہ اور جہانگیری کے یہی وہ عزائم ہیں، جن کے حصول کے لیے خارجہ سیاست کے ساتھ فوجی حکمت عملی اور معاشی اثر اندازی کا ایک عالم گیر جال اور جاسوسی اور تخریب کاری کا ایک ہمہ پہلو نظام پوری دنیا کے لیے قائم کیا گیا ہے اور اسے روز بروز زیادہ موثر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
دنیا کے چالیس ممالک میں امریکی فوجیوں کی موجودگی (تقریبا دو لاکھ سپاہی جو اعلیٰ ترین بحری اور فضائی فوجی ٹکنالوجی اور آلات حرب و ضرب سے آراستہ ہیں)، فوجی معاہدات معاشی زنجیروں کا جال جو ریاستی اور عالمی مالیاتی و تجارتی اداروں کے ذریعے پوری دنیا کو اپنے دام میں گرفتار کیے ہوئے ہے استعماری ایجنڈے کو آگے بڑھانے والے غیر سرکاری اداروں (NGOs) کی فوج ظفر موج جو اس عالم گیر استیلا کا ہر اول دستہ ہے اور جاسوسی کا نظام جو صرف سی آئی اے ہی نہیں متعدد بلاواسطہ اور بالواسطہ ایجنسیوں کے ذریعے کام کر رہا ہے۔۔۔ اس نظام کے دست و بازو ہیں ۔
مصنوعی مد مقابل
مقابلے کے لیے کبھی اشتراکیت اور روس کا ہوا تھا تو کبھی بین الاقوامی دہشت گردی اور سرکش ریاستوں (rogue states) کا ڈراؤنا خواب۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے سی آئی اے کو جو مینڈیٹ سرد جنگ کے زمانے میں دیا گیا تھا وہی آج بھی کار فرما ہے۔ ۱۹۵۴ء میں دہائٹ ہاؤس کی ایک خفیہ رپورٹ میں کہا گیا تھا:
اس کھیل کے کوئی قواعد نہیں ۔ قواعد کے مطابق کھیلنے کے دیر پا امریکی تصورات پر امریکہ کی بقا کی خاطر از سر نو غور ہونا چاہیے۔ ہمارے دشمن ہمارے خلاف جو طر یقے استعمال کرتے ہیں ہمیں ان سے زیادہ موثر سوچے سمجھے طریقوں کو ہوشیاری سے استعمال کر کے دشمن کو سبوتاثر کرنا مٹانا اور تباہ کرنا سیکھنا چاہیے؎
امریکہ کی موجودہ سیاسی قیادت اور چند دوسری مغربی اقوام کے کارفرما عناصر نے عوامی جمہوریہ چین، شمالی کوریا اور چند مسلمان ملکوں— ایران، لیبیا، سوڈان، حتی کہ چند افراد مثلاً اسامہ بن لادن کو امریکہ اور مغربی دُنیا کے لیے اصل خطرہ بنا کر پیش کرنا شروع کیا اور اس نام نہاد خطرے کے مقابلے کے لیے تباہ کن میزائلوں سے لیس فضائی ڈھال” محفوظ علاقوں (safe zones) “اور بچاؤ کے لیے حملوں تک ہر چیز کے لیے نہ صرف جواز کی فضا بنا رہے ہیں، بلکہ اربوں ڈالر خرچ کر کے ہر قیمت پر یہ سب کچھ کر گزرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
” سپر پاور “کا انداز گفتگو
صدر جمی کارٹر [۸۱-۱۹۷۷ء] کے قومی سلامتی کے مشیر پرو فیسر ز بگید بپر بزنسکی نے اپنی کتاب The Grand Chessboard میں صاف لفظوں میں لکھا ہے کہ امریکہ کی خارجہ سیاست کا اصل ہدف ہونا ہی یہ چاہیے کہ اکیسویں صدی میں امریکہ دنیا کی واحد سوپر پاور رہے اور اس کا کوئی مدمقابل اٹھنے نہ پائے۔۔۔ کم از کم پہلی ربع صدی میں تو میدان صرف امریکہ ہی کے ہاتھ میں رہنا چاہیے۔ ان کے الفاظ ہیں:
یورپ اور ایشیا دُنیا کو کنٹرول کرتے ہیں۔ یہاں امریکہ کی برتری برقرار رہنی چاہیے۔ یہ ناگزیر اور لازم ہے کہ یورپ اور ایشیا میں کوئی ایسی طاقت نہ اُبھرے جو امریکہ کو چیلنج کر سکے۔
یہی وہ ذہنیت ہے جو امریکہ کے پالیسی سازوں اور سیاسی قیادت میں ایک قسم کی رعونت پیدا کر رہی ہے اور فطری طور پر اس رعونت سے باقی دنیا میں مایوسی اور بے زاری کی لہریں اٹھ رہی ہیں ۔ صدر کلنٹن کے دور حکومت میں امریکی وزیر خارجہ میڈیلین البرائٹ نے کسی تکلف اور تردد کے بغیر امریکہ کی اس ذہنیت اور اس کے عزائم کا ان الفاظ میں اعلان کیا تھا:
ہمیں طاقت استعمال کرنا پڑتی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم امریکہ ہیں۔ ہم نوع انسانی کے لیے ایک ناگزیر قوم ہیں۔ ہم بلند ہیں، ہم مستقبل میں دُور تک دیکھتے ہیں ہے ۔
واحد عالمی قوت ہونے کا زعم باطل ہی وہ چیز ہے جس نے امریکی قیادت میں اس رعونت اور فرعونیت کو جنم دیا ہے۔ اس کی ایک چشم کشا مثال وہ الفاظ ہیں جن میں اپنی حیثیت کا اظہار امریکی صدر لنڈن بی جانسن [۶۹-۱۹۶۳ء] نے قبرص کے تنازع کے موقع پر یونان کے سفیر سے کیا۔ یونان امریکہ کا ایک دوست ملک اور نیٹو میں اس کا رفیق کار ہے۔ جب یونان کے سفیر گیرا نیوز کیگ نیٹس (Geraninos Gigantes) نے امریکہ کا حکم نہ ماننے کے لیے اپنی مجبوری کا اظہار کرتے ہوئے اپنی پارلیمنٹ اور اپنے دستور کے حوالے سے التجا کے لہجے میں بات کی تو صدر امریکہ جانسن طیش میں آگئے اور انھوں نے گالی دے کر یونانی سفیر سے کہا:
بھاڑ میں جائے تمھاری پارلیمنٹ اور جہنم رسید ہو تمھارا دستور— امریکہ ایک ہاتھی ہے اور قبرص ایک چھوٹا سا پتو ۔ اگر یہ پتو ہاتھی کو تنگ کریں گے تو ہاتھی کی سونڈھ انھیں کچل دے گی۔ مسٹر سفیر! ہم بہت سارے امریکی ڈالر یونان کو دیتے ہیں۔ اگر تمھارے وزیر اعظم مجھ سے جمہوریت’ پارلیمنٹ اور دستور کی بات کرتے ہیں تو یاد رکھو وہ ان کی پارلیمنٹ اور ان کا دستور زیادہ دیر باقی نہیں رہیں گے۔
ذرا مختلف پس منظر میں، لیکن اسی ذہنیت کا مظاہرہ امریکہ کے چیف آف اسٹاف جنرل کولن پاول (اور اب اس کے وزیر خارجہ) نے بار بار کیا ہے، جن دنوں امریکہ نے بین الاقوامی قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے پانامہ پر جو ایک آزاد ملک ہے، فوج کشی کی اس کے صدر کو اغوا کیا اور سزا دی تو اعتراض کرنے والوں کے جواب میں جنرل پاول نے کہا تھا:
ہمیں کنکر کو اپنے دروازے سے یہ کہہ کر باہر پھینکنا ہے کہ یہاں سوپر پاور رہتی ہے۔
پاکستان کے دو چار جوہری بموں پر اپنی برہمی کا اظہار بھی امریکہ اس ذہنیت سے کرتا رہا ہے۔ پاکستان کی سفیر سیدہ عابدہ حسین سے جو گفتگو جنرل پاول نے کی تھی وہ نوٹ کرنے کے لائق ہے۔ امریکہ سے حال ہی میں شائع ہونے والی جوائس ڈیوس کی کتاب Between Jihad and Salam میں ان کا انٹرویو شامل ہے جس میں انھوں نے بتایا ہے:
جنرل پاول نے مجھ سے پوچھا: “پاکستان امریکی اعتراضات اور مالی امداد ختم کر دینے کے باوجود اپنے جوہری پروگرام پر اتنا مصر کیوں ہے؟ آپ جانتی ہیں کہ یہ بم نا قابل استعمال ہیں تو آپ انھیں کیوں رکھنا چاہتی ہیں“۔
میں نے کہا:” جنرل آپ کیوں ایٹم بم رکھتے ہیں؟ “
جنرل پاول نے کہا:” ہم کم کر رہے ہیں“۔
میں نے پوچھا:” کتنے سے کتنے جنرل؟ “
پاول نے جواب دیا:” چھ ہزار سے دو ہزار“۔
میں نے کہا:” جنرل آپ دو ہزار ہم رکھیں گے اور چاہتے ہیں کہ ہمارے جو چند برے بھلے زمین میں دفن ہیں ہم ان سے بھی فارغ ہو جا ئیں ۔ آپ تو ہم سے خود کشی کرنے کو کہہ رہے ہیں۔ ہم ایک جوہری ریاست کے پڑوس عالم میں ہیں۔ کیا اگر کینیڈا اور میکسیکو کے پاس بم ہوں تو آپ اپنے ہم ختم کر دی گے؟ کیا آپ ایسا کریں گے؟ “
جنرل پاول نے میری طرف دیکھا اور کہا:” دیکھیے سفیر صاحبہ میں اخلاقیات کی بات نہیں کر رہا ہوں، میں آپ سے صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ ہم ریاست ہائے متحدہ امریکہ ہیں اور آپ پاکستان ہیں۔“
میں نے کہا:” جنرل آپ کا شکریہ کہ آپ نے ایمان داری سے بات کی۔“
اپنے اقتدار کے نشے میں بدمست ہونا، دوسروں کو خاطر میں نہ لانا ہر کسی کو اپنے مقابلے میں حقیر سمجھنا اور خود پسندی، تکبر اور زعم میں مبتلا ہو کر دوسروں کی تضحیک کرنے کا عمل انسان کے وقار کو بڑھاتا نہیں، کم کرتا ہے؎
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
نہ اعتدال گوارا نہ اخلاق قبول
صدر جارج بش نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایک امید افزا بات کی تھی جسے ساری دُنیا میں سراہا گیا تھا یعنی:
اگر ہم ایک مغرور قوم ہوں گے تو دُنیا کے لوگ ہم سے ناراض ہوں گے، لیکن اگر ہم ایک منکسر المزاج لیکن مضبوط قوم ہوں گے تو وہ ہمیں خوش آمدید کہیں گے۔
لیکن صدارت کے تخت پر براجمان ہوتے ہی ان کا رویہ تبدیل ہو گیا۔ امریکی بر اعظم کے ممالک ہوں یا یورپ اور ترقی پذیر ممالک۔۔۔ پھر وہی حکمرانی کی زبان استعمال کی جارہی ہے۔ تنہا پرواز کا شوق اور دنیا کو اپنے مفادات اور تصورات کے مطابق ڈھالنے کے عزائم کا بر ملا اظہار کیا جا رہا ہے۔ جن کثیر قومی کارپوریشنوں کی تائید سے وہ برسر اقتدار آئے انھی کے ایجنڈے کو پورا کرنے کو اولیت دی جارہی ہے۔ بین الاقوامی معاہدوں کی یک طرفہ تنسیخ یا ان کی پابندیوں سے اپنے آپ کو بلا جواز آزاد کر لینے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ ABM (اینٹی بیلسٹک میزائل ٹریٹی) جو ایک بین الاقوامی قانون کے تحت ایک عالمی معاہدہ ہے اور جس کے نتیجے میں ۱۹۷۲ ء سے اب تک دنیا ایٹمی ہتھیاروں اور میزائل کے خطرات سے بچی رہی ہے۔ اس سے یک طرفہ گلو خلاصی کی راہ اختیار کی جارہی ہے۔ ماحولیات کے حوالے سے عالمی سطح حرارت کے بارے میں کویوٹا معاہدے سے برأت کا اعلان کر دیا گیا ہے۔
اسلحہ کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے نام نہاد سرکش ریاستوں کے ہاتھوں میں ایٹمی ہتھیار آجانے اور ان کے امریکہ کے خلاف استعمال کو ایک خیالی خطرہ باور کرایا جا رہا ہے۔ اس کے سدباب کے لیے روس، چین اور یورپی ممالک تک کو ناراض کر کے 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے صرفے سے ایک ناقابل اعتبار” میزائلوں کی ڈھال“(missile sheild) بنانے کا پروگرام اختیار کیا جا رہا ہے ۔ اس طرح دُنیا کو یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ اصل فیصلہ کرنے والی قوت صرف امریکہ ہے باقی ممالک کا کام فقط اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس نے ماضی میں بھی امریکہ کے خلاف بے اعتمادی اور بے زاری کے جذبات پیدا کیے ہیں اور آج بھی عالمی رائے عامہ میں جو امریکہ مخالف رجحان بڑھ رہا ہے اس کے پیدا کرنے میں اس کا بڑا دخل ہے۔ یہ چیز امریکی بیت مقتدرہ کی ذہنیت کا ایک حصہ بن گئی ہے۔
امریکہ اپنے آپ کو ہر قانون دستور معاہدے اور بین الاقوامی کنونشن سے بالا سمجھتا ہے۔ قانون صرف دوسروں کے لیے ہے سوپر پاور کے لیے نہیں۔ جارج آرول نے روس کے آمرانہ نظام پر جو طنز یہ ناول جانوروں کا باڑہ (Animal Farm) لکھا تھا اس کا یہ تاریخی جملہ جس طرح روی کمیونسٹ آمر جوزف اسٹالن [م: ۱۹۵۳ء) اور لیونڈ بریز نیف [م: ۱۹۸۱ء] کے نظام پر صادق آتا تھا، اسی طرح وہ آج امریکہ کے طرز عمل کا بھی غماز ہے:
All animals are equal, but some animals are more equal
سب جانور برابر ہیں لیکن کچھ جانور زیادہ ہی برابر ہیں!
امریکی ذہنیت، گھر کی گواہی
امریکہ کے ایک سابق اٹارنی جنرل رمزے کلارک نے اس ذہنیت کا پردہ متعدد مثالیں دے کر چاک کیا ہے۔ ان کی کتاب The Fire This Time: کا اصل موضوع:” خلیج کی جنگ “اور اس علاقے کے بارے میں امریکی جرائم ہیں (مطبوعہ نیو یارک ۱۹۹۴ء)، لیکن اس کتاب میں امریکہ کی وہ ذہنیت کھل کر سامنے آتی ہے جس نے عالمی سطح پر بے زاری کو فروغ دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ امریکہ جب چاہتا ہے اپنی مرضی سے بین الاقوامی قانون کی کھلی کھلی خلاف ورزی کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اس کا ہاتھ روک سکے یا احتساب کر سکے:
امریکہ نے گریناڈا پر حملہ کیا دیہاتوں پر بم باری کی اور افریقہ ایشیا اور وسطی امریکہ کے اقوام متحدہ کے ممبروں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت کی۔ جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل نے احتجاج تو کیسے مگر کوئی عملی کارروائی نہ کی۔ ۲۰ دسمبر ۱۹۸۹ء کو امریکہ نے پانامہ پر حملہ کیا۔ سیکڑوں غالباً ہزاروں افراد مارے گئے۔ یہ حملہ کویت پر عراق کے حملے سے آٹھ ماہ سے بھی پہلے ہوا تھا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس کی خدمت کی۔ کوئی عملی اقدام نہ کیا گیا حالانکہ امریکہ نے ان تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی جن کی عراق نے کویت پر حملہ کرتے ہوئے کی تھی بلکہ مغربی نصف کرے اور پانامہ نہر کے متعدد معاہدات کی بھی خلاف ورزی کی۔
امریکہ نے اس برس جب فلسطینی نسبتا مساوی حیثیت میں معاملہ کر سکتے تھے، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کانفرنس نہیں ہونے دی۔ پھر اقوام متحدہ سے بے نیاز ہو کر معاہدے کو اچانک بالجبر تھوپنا چاہا۔ یہ بنیادی طور پر غیر منصفانہ مذاکرات امن کے لیے کوئی امید فراہم نہیں کرتے ۔ فلسطینی اپنے مذاکرات کار کا انتخاب تک نہیں کر سکتے، کیونکہ اسرائیل ان کے کسی منتخب فرد کو ویٹو کر سکتا ہے۔ مذاکرات کے ہر دن اسرائیلی فلسطینیوں کی نئی زمین پر قبضہ کرتے ہیں، ان کے مکانات طاقت کے زور پر خالی کراتے ہیں اور ان کے علاقوں میں اپنے مکانات تعمیر کرتے ہیں۔ امریکہ نے جینوا میں حقوق انسانی کمیشن سے اپیل کی کہ فلسطین کے خلاف اسرائیل کی حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کر دے۔ ]یہ وہی کمیشن ہے جس سے متی ۲۰۰۱ء میں امریکہ خارج ہو گیا ہے[-
قانون شکنی کا ذوق
رمزے کلارک نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ کس طرح امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۲۴ اور دفعہ ۳۳ کو بالائے طاق رکھ کر محض دھونس اور دھاندلی بلکہ کھلی کھلی رشوت کے ذریعے قرار داد ۶۷۸ منظور کرائی اور چارٹر کے واضح احکام (کہ اقوام متحدہ کے تحت مشترک فوج کی کمان اقوام متحدہ کے نمایندے کے پاس ہوگی) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کمان سنبھال لی۔ پھر امریکہ اور برطانیہ نے گٹھ جوڑ کر کے مسلسل من مانیاں کیں اور کر رہے ہیں۔ اس وقت کے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے احتجاج کے باوجود کوئی بھی ان کا بال بر کا نہیں کر سکا ۔ اس پورے عرصے میں امریکہ نے چارٹر کے مطابق سلامتی کونسل کو کبھی رپورٹ تک نہیں دی۔ اس پورے عمل میں صرف اقوام متحدہ کے چارٹر کی نہیں بلکہ خود امریکہ کے قومی قومی دستور کی بھی کھلی خلاف ورزی کی گئی جس کے تحت کانگرس جنگ کا اعلان کر سکتی ہے لیکن ایک قرارداد کے ذریعے صد ر ا مریکہ نے اس سے یہ اختیار لے لیا اور پھر کانگرس کو اعتماد میں لیے بغیر اعلان جنگ کر دیا۔
عین اس دن [۱۶ جنوری ۱۹۹۱ء[ جب امریکی فوجیں عراق پر حملہ کر رہی تھیں ٹیکساس سے امریکی کانگرس کے رکن ہنری گونز الیز نے صدر جارج بش کے خلاف دستور کی اس خلاف ورزی پر تحریک مواخذہ پیش کر دی تھی، مگر جنگ کے جنون میں وہ آگے نہ بڑھ سکی۔
امریکہ اس بات کا بھی مدعی ہے کہ امریکہ کی کامرس کسی بھی بین الاقوامی قانون یا معاہدے کو منسوخ کر سکتی ہے یا اس میں ترمیم کر سکتی ہے۔ اس کے قانون کو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا لیکن وہ جس قانون یا معاہد ے میں جو ترمیم چاہئے تبدیلی یا تحفظات کا اضافہ کر سکتی ہے۔ رمزے کلارک نے اس کے بارے میں لکھا ہے:
امریکہ کے پالیسی ساز یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ کانگرس کسی بھی بین الاقوامی قانون کو نظر انداز کر سکتی ہے منسوخ کر سکتی ہے تبدیل کر سکتی ہے یا اس میں ترمیم کر سکتی ہے۔ یہ عالمی برادری سے ایک طرح کا اعلان آزادی ہے اور ایک تنبیہ ہے کہ وہ کسی ایسے بین الاقومی ضابطے کا پابند نہیں ہوگا جو کانگرس کو پسند نہیں ہے۔
اس طرح عالمی عدالت کے بارے میں بھی امریکہ کا رویہ خود پسندی اور اپنی بالا دستی کا ہے۔ رمزے کلارک نے بتایا ہے:
جب کہ اقوام متحدہ کے ممبر ممالک چارٹر کے تحت قائم شدہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کی پابندی کرتے ہیں، طاقت ور اقوام کے لیے یہ پابندی بیش تر ان کی مرضی کا معاملہ ہوتی ہے۔ اس کی ایک واضح مثال وہ تھی جب نکاراگوا کی حکومت نے امریکی جارحیت کے نقصانات کے ازالے کا دعوی کیا امریکہ نے عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ امریکہ نے نکاراگوا کو براہ راست حملوں اور جنگی کارروائیوں کا نشانہ بنایا اور سخت اقتصادی پابندیاں عائد کیں ۔ ایک مصنوعی حزب اختلاف کھڑی کرنے اور جمہوری اصول و ضوابط کی تحقیر کرتے ہوئے انتخابات کو سرقہ کرنے پر تقریباً ۴۸ ملین ڈالر خرچ کیے۔
امریکی صدر کے بارے میں رمزے کلارک نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ ہے:
ایسا شاہی صدر جو جمہوری قوانین اور رائے عامہ کا پابند نہ ہو بین الاقوامی قوانین کی جیسی چاہے تعبیر کرئے اعلان جنگ کرنے کے اس کے من مانے فیصلوں پر کوئی قدغن نہ ہو اور کسی دشمن کو تباہ کرنے کے لیے فوجی طاقت کا من مانا استعمال کرے۔
ان حالات میں عالمی امن اور بین الاقوامی قانون کا حشر کیا ہوگا اس کا اندازہ مشکل نہیں۔ رمزی کلارک کے بقول:
امریکہ کے خارجہ پالیسی ساز جس بین الاقوامی قانون پر عمل کرتے ہیں وہ اصول وضوابط کا کوئی مربوط مجموعہ نہیں ہے۔ اس میں وہی ہوتا ہے جو ان کے لیے پسندیدہ ہو۔ ایسے اصول جو مکمل طور پر سیاست زدہ ہوں اور امتیازی اقدامات پر مشتمل ہوں ۔۔۔ امریکی حکومت کا موقف ایسی طاقت کے عزم کا عکاس ہے جو کسی کے سامنے جواب دہ نہ ہو ۔
رمزے کلارک نے لیبیا اور عراق کے سربراہان مملکت کو قتل کرانے کے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون (بیگ ریگولیشن آرٹیکل (۲۳) اور خود امریکی قانون (صدارتی حکم نامہ ۱۲۳۳۳) کی کھلی اور مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا ہے کیونکہ یہ دونوں کسی بھی ملک کے سربراہ کے قتل کو خواہ یہ اقدام عالم جنگ میں کیا گیا ہو قانونی جرم قرار دیتے ہیں-
۲
یہ اسی ذہنیت کا مظہر ہے کہ امریکہ نے عالمی فوج داری عدالت کے معاہدے کو ابھی تک قبول نہیں کیا، کیونکہ اس کے تحت کسی بھی ملک کے مجرم پر بین الاقوامی قانون کے تحت مقدمہ بھی چلایا جا سکتا ہے اور انسانیت کے خلاف جرائم پر گرفت ہو سکتی ہے۔ جب کہ امریکہ کا دعوی ہے کہ یہ عدالت صرف ان مجرموں پر مقدمہ چلانے کی مجاز ہوگی جنھیں امریکہ یا اس کی کانگرس مجرم قرار دے۔ نیز یہ بھی ایک امریکی دعویٰ ہے کہ اقوام متحدہ کے تحت کوئی بھی مشترک فوج بنے تو اس کی سربراہی ہمیشہ امریکیوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ امریکہ کی ایک سرکاری دستاوی pp-25 میں جو کلنٹن دور میں جاری کی گئی صاف لفظوں میں کہا گیا ہے:
صدر امریکی افواج پر پوری کمانڈ رکھتا ہے اور کبھی اس سے دست بردار نہیں ہوگا ۔ ہر صورت حال پیش آنے پر صدر سلامتی کونسل کے فیصلے کے تحت اقوام متحدہ کی کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کے باضابطہ کنٹرول میں امریکی فوج دینے پر غور کرے گا۔ جتنا امریکہ کا فوجی کردار زیادہ ہوگا اتنا ہی اس کا امکان کم ہوگا کہ امریکہ امریکی افواج پر اقوام متحدہ کی کمان پر رضامند ہو۔ ایسے امن مشن جن میں لڑائی کا امکان بھی ہو ان میں امریکی افواج کی شرکت بالعموم امریکہ کی کمان اور نگرانی میں ہونا چاہیے۔
یعنی متحدہ فوج ہو یا اقوام متحدہ کی مرتب کردہ مشترکہ فوج کمان امریکہ کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ جنرل ڈیوٹ ڈیوڈ آئزن ہو اور بعد ازاں صدر امریکہ: ۶۱-۱۹۵۳] اور جنرل میک آرتھر [م: ۱۹۶۴ء سے لے کر کو سودا اور بوسنیا امن فورس تک ہر جگہ امریکہ کا اصرار رہا ہے کہ کمانڈ اس کے پاس ہو اور دوسروں نے مجبوراً امریکہ کی اس ضد کے آگے سر تسلیم خم کیا ہے۔
من مانی پر اصرار کیوں؟
اس ذہن ان عزائم اور ان مطالبات کے ساتھ امریکہ دنیا میں جمہوریت کا علم بردار حقوق انسانی کا محافظ قانون کی مساوات اور پاس داری کا داعی اور انصاف کا پر چارک بنتا ہے۔۔۔ اور اسٹریجی کا ہدف یہ ہے کہ پوری دنیا کو امریکہ کے وژن اور اقدار کو قبول کر لینا چاہیے۔ لیکن یہی تو وہ اصل وجہ ہے جس کی بنا پر امریکہ اور باقی دنیا میں مغائرت پیدا ہو رہی ہے اور جو دراصل سامراجیت کی روح ہے۔
امریکہ کی ٹفٹس یونی ورسٹی میں علم سیاسیات کے پروفیسر ٹونی اسمتھ نے ایتھکس اینڈ انٹرنیشنل افیرز کے شمارے (مئی ۲۰۰۱ ء) میں اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ نہ امریکہ کی طاقت غیر محدود ہے اور نہ اسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے نظام اور اقدار کو دوسروں پر مسلط کرے۔ کیونکہ یہ لبرل امپریلزم کی ایک شکل ہے جس کا کوئی جواز نہیں:
دوسرے لوگوں میں امریکی اقدار کی ترویج پر دوسرا اعتراض بھی شدید ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو ثقافت ادارے اور بیچیں رائج ہوتی ہیں وہ شمالی امریکہ اور مغربی یورپ میں رائج انسانی حقوق اور لبرل ڈیموکریسی کی راہ میں خود مضبوط رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو امریکی طرز حیات اقدار اور اداروں کو رو بہ عمل لانے کی کوشش میں ناکامی کا اندیشہ ہے۔ اس لیے نہیں کہ امریکی طاقت محدود ہے بلکہ اس لیے کہ بڑے پیانے پر اس کا استعمال بھی ان عقائد اور طریقوں میں اصلاح نہ کر سکے گا جو بنیادی طور پر امریکی طریقہ کار کے مخالف ہیں ۔ چین، مسلم دنیا یا روس کا امریکی مطالبوں کے آگے سپر ڈالنے کے لیے آمادہ ہونے کا کیا امکان ہے۔
معروف امریکی مفکر والٹرپ مین نے بڑی پتے کی بات کہی ہے:
جب ایک قوم ساری دُنیا کے نظام کو یکساں شکل دینے کی ذمہ داری خود سنبھال لے تو یہ دوسروں کو اپنے خلاف متحد ہونے کی دعوت ہے۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں اس کا امکان ہے کہ جوہری اسلحہ صدی کے اختتام سے پہلے وسیع پیمانے پر تقسیم ہو یہ امریکی عوام کی قومی سلامتی کے لیے کوئی خوش کن راستہ نہیں ہے۔
رچرڈ بارنیٹ نے اپنی کتاب اس جملے پر ختم کی ہے:
امریکہ اپنی موجودہ عظیم طاقت کو دُنیا میں ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کے لیے استعمال کر سکتا ہے جس میں غریب اقوام ترقی کے من پسند راستے اختیار کرسکیں ۔ مگر جب تک امریکی یہ خام خیالی نہ چھوڑ دیں کہ دُنیا بھر میں تبدیلی لانا ان کا حق اور فرض ہے، خود امریکیوں کو بھی امن نصیب نہیں ہو سکتا۔
جمہوریت کا نام، شہنشاہیت پر اصرار
ہماری نگاہ میں امریکہ پر بے اعتمادی اور اس کی مخالفت کا پہلا اور سب سے اہم سبب دُنیا کے ممالک میں کوئی خرابی یا مرض نہیں، امریکہ کا یہ زعم ہے کہ وہ واحد سوپر پاور ہے اور ہمیشہ سوپر پاور ہی رہے گا۔ اس کا حق ہے کہ دُنیا اس کے سامنے جھکے اور اس کی بالا دستی قبول کرے۔
دنیا اسے ایک بڑی طاقت اس کے زمینی حقائق کے مطابق ضرور تسلیم کرے گی مگر اس کے آگے سجدہ ریز ہونے کے لیے کبھی تیار نہ ہوگی۔ وہ اس سے دوستی کا تعلق بہ خوشی رکھے گی، مگر غلامی اور چاکری کا مقام کبھی قبول نہیں کرے گی۔ اگر امریکہ تھوڑی سی حقیقت پسندی قبول کر لے اور بالا دستی اور شہنشاہی کی حکمت عملی کو ترک کر دے تو اس کی عزت و وقار میں اضافہ ہوگا۔ اگر حقوق انسانی کے کمیشن کے انتخابی نتائج سے سبق سیکھتے ہوئے وہ تکبر اور رعونت کے راستے کو ترک کر دے تو دُنیا اس کے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی ایک بہتر جگہ بن سکتی ہے ہے۔
امریکہ سے دُنیا کی بیزاری کے اسباب کو سمجھنے کے لیے امریکہ کو خود اپنے رویے اور اپنے وعدوں اور عمل کے فرق پر غور کرنا ہوگا۔ اس سلسلے میں ایک بڑی چشم کشا کتابBlowback: The Costs and Consequences of American Empire۲۰۰۰ء شائع ہوئی ہے (بلوبیک سی آئی اے کی اصطلاح ہے، جس کا مفہوم امریکی عوام کی لاعلمی میں کیے جانے والے اقدامات کا رد عمل ہے۔ اس کا ترجمہ مکافات کیا جا سکتا ہے) ۔ اس کے مصنف کا میر جانسن یونی ورسٹی آف کیلی فورنیا، سان ڈیاگو (امریکہ) کے پروفیسر اور جاپان پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ ہیں۔ یہ کتاب امریکہ اور برطانیہ سے بہ یک وقت مئی ۲۰۰۰ء میں شائع ہوئی۔ مصنف نے امریکہ کو اپنے رویے پر غور کرنے کی دعوت دی ہے اور تقریبا وہی بات کہی ہے جو باق دنیا کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کی زبان پر ہے:
مجھے یقین ہے کہ غیر متعلق اسلحے کے مسلم پر ہمارے وسائل کا غیر معمولی ضیاع،” عسکری “حادثوں کا مسلسل جاری رہنا اور امریکی سفارت خانوں اور چوکیوں پر دہشت گرد حملے اکیسویں صدی میں امریکہ کی غیر رسمی سلطنت کے لیے بحران پیدا کرنے والے عناصر ہیں۔ ایسی سلطنت جو دنیا کے ہر حصے پر فوجی طاقت کے دباؤ اور اپنی شرائط مگر دوسروں کی قیمت پر امریکی سرمائے اور منڈی کو استعمال کر کے عالمی اقتصادی اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے۔ ہم نے اپنے آپ کو ضمیر کی کسی خلش سے بھی آزاد کر لیا ہے کہ ہم اس دنیا کے دوسرے ادگوں کو کتنے برے نظر آ رہے ہیں۔ بیش تر امریکی غالباًا جانتے ہی نہیں کہ واشنگٹن کس طرح اپنی بالا دستی استعمال کرتا ہے کیونکہ اس سرگرمی کا کافی حصہ خفیہ طور پر یا دوسرے بہانوں کے پردے میں انجام پاتا ہے۔ بہت سوں کو یہ یقین کرنے میں دقت پیش آئے گی کہ دُنیا میں ہماری حیثیت ایک سلطنت کی سی ہو گئی ہے۔ لیکن جب ہم کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا ملک خود اپنی بنائی ہوئی سلطنت کا اسیر ہو گیا ہے تو ہمارے لیے دنیا کے بہت سے واقعات کی تشریح کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ جاپان میں سرکاری رہنمائی اور سر پرستی میں نصف صدی تک ہونے والی ترقی کے بعد سب کچھ غلط کیوں ہو گیا ہے؟ ایک مضبوط چین کے ظہور سے کسی کو کیا نقصان ہے؟ حقوق انسانی جوہری پھیلاؤ دہشت گردی اور ماحول کے بارے میں غیر ملکیوں کو امریکی پالیسیاں تضاد اور ژولیدگی کا شکار کیوں نظر آتی ہیں؟
شاہانہ”سچ “کا نتیجہ
کالمیر جانسن نے امریکہ کی پچاس سالہ سیاست کا مکمل دستاویزی نظائر اور حوالوں کے ساتھ پوسٹ مارٹم کیا ہے ۔ وسطی اور جنوبی امریکہ کی ریاستوں سے لے کر ویت نام، چین، جاپان تک ایک ایک دور اور ایک ایک واقعے سے پردہ اٹھایا ہے۔ کس طرح فوج سی آئی اے کثیر قومی کمپنیاں اور عالمی مالیاتی ادارے دنیا کے ہر کونے میں امریکی حکومت کے ایما پر اور اس کے مفاد میں دوسروں کے معاملات میں دراندازیاں کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں۔
کس طرح بین الاقوامی قانون اور ضابطوں کو پامال کیا گیا ہے، پوری پوری قوموں کو تباہ کیا گیا ہے۔ کن کن طریقوں ۔ ڈکٹیٹروں کی سر پرستی کی گئی ہے کس طرح کرپشن کے آلہ کار کو استعمال کیا گیا ہے اور مخالفوں کو میدان سے ہٹایا گیا ہے۔ کن ہتھکنڈوں سے جمہوریتوں کا خون کیا گیا ہے اور من پسند فوجی اور سول کاسہ لیسوں کو مسند اقتدار پر براجمان کیا گیا ہے۔ یہ سب سیاہ داستانیں اب ان سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتی ہیں، جو رازداری کے قانون کی مدت ختم ہو جانے سے شائع کی جا رہی ہیں اور ان میں بھی ۱۳.۵ فی صد دستاویزات ایسی ہیں جو اب بھی قومی سلامتی کے نام پر روک لی گئی ہیں ۔ اس ساری تفصیل کو بیان کرنے کے بعد مصنف نے بتایا ہے:
ان حالات میں انسانی حقوق یا دہشت گردی کے بارے میں بظاہر بہت اچھے نظر آنے والے بیانات کو بھی امریکہ کے گندے ہاتھ ریا کارانہ بنا دیتے ہیں۔ مکافات (blow back) دوسری اقوام پر اثر انداز ہوتا ہے لیکن اس کے گھن لگنے کے اثرات امریکہ پر سیاسی مباحث کو بے قدر کرنے اور شہریوں کو بے وقوف بنانے کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، اگر وہ شہری اپنے سیاسی لیڈروں کے بیانات کو سنجیدگی سے لیں۔ یہ ناگزیر نتیجہ صرف مکافات کا نہیں بلکہ خود سلطنت کا ہے۔
کالمیر جانسن نے پوری امریکی قوم کو متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے:
اپنی تعریف کی زد سے دہشت گردی بے گناہوں کو ہدف بناتی ہے تا کہ جو حملوں سے محفوظ بیٹھے ہیں ان کی غلط کاریوں کی طرف توجہ دلائی جاسکے۔ حالیہ عشروں میں جو استعماری مہم جوئیاں ہو رہی ہیں، اس کی فصل اکیسویں صدی کے بے گناہ غیر متوقع تباہیوں کی صورت میں کاٹیں گے۔ اگر چہ بیشتر امریکی بڑی حد تک ناواقف ہیں کہ ان کے نام پر کیا کچھ کیا گیا تھا اور کیا جا رہا ہے وہ اس کی انفرادی اور اجتماعی طور پر ان کوششوں کی گراں قیمت ادا کریں گے جو ان کی قوم نے عالمی منظر پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے کی ہیں۔ اس سے پہلے کہ بے مہار فاتحانہ اقدامات اور پرو پیگنڈے سے نقصان قابو سے باہر ہو جائے ہمیں سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد اپنے عالمی کردار پر نئے مباحثے کو اہمیت دینا چاہیے۔
امریکہ کو خود احتسابی کی دعوت دیتے ہوئے کالمیر جانسن نے یاد دلایا ہے:
امریکی افسران اور میڈیا عراق اور شمالی کوریا جیسی سرکش ریاستوں کے بارے میں بہت کچھ کہتے ہیں لیکن ہمیں خود اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ کہیں امریکہ خود تو ایک سرکش سپر پاور نہیں بن گئی ہے ۔
مصنف نے لاس اینجلز ٹائمز کے کالم نگار ٹام پلیٹ کا ایک جملہ دہرایا ہے کہ امریکہ ایک ایسی سوپر پاور بن گئی ہے جس کا حال یہ ہے کہ دماغ کی جگہ کروز میزائل بھرے ہیں۔
کالمیر نے امریکہ کے عوام اور قیادت کو جھنجھوڑنے کی کوشش کے دوران تنبیہ کی ہے:
ہم امریکی گہرا یقین رکھتے ہیں کہ دنیا میں ہمارا کردار نیک ہے اور ہمارے تمام اقدامات بلا امتیاز دوسروں کی اور ہماری بھلائی کے لیے ہیں۔ جب ہمارے اقدامات کے نتیجے میں تباہی رونما ہوتی ہے تو ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ ان کے محرکات بہت اچھے تھے ۔ لیکن واقعات بتا رہے ہیں کہ سرد جنگ کے بعد کے عشروں میں امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کے نفاذ میں سفارت کاری اقتصادی امداد بین الاقوامی قانون اور کثیر جہتی اداروں پر انحصار ترک کر دیا۔ اور ساری توجہ زیادہ فوجی طاقت اور مالی ہیر پھیر میں لگا دی ہے۔
ان حالات کے نتیجے میں دُنیا کے مظلوم اور مجبور انسان اور قومیں ہی مصائب کا شکار نہیں، خود امریکہ بھی ایک فوجی اقتصادی عفریت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ معاشرے میں تشدد کے رجحانات جنم لے رہے ہیں، معیشت کی بنیادیں کھوکھلی ہو رہی ہیں اور ملک وقوم بالآخر تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔ جانسن کا میر نے لکھا ہے:
بین الاقوامی سیاسیات کے پروفیسر ڈیو ڈلیکو نے لکھا ہے:” عالمی نظام محض غیر متوازن اور جارح طاقتوں کے عمل کی وجہ سے جو اپنے پڑوسیوں پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، نہیں ٹوٹتا بلکہ اس لیے بھی ٹوٹتا ہے کہ یہ طاقتیں مطابقت پیدا کرنے کے بجائے استحصالی بالا دستی قائم کرتی ہیں۔Beyond American) Hegemony ، ص۱۴۲ (میں سمجھتا ہوں کہ بیسویں صدی کے اختتام پر امریکہ پر یہ بیان ٹھیک ٹھیک منطبق ہو رہا ہے۔ اس استحصالی بالا دستی کی علامات نظر آ رہی ہیں۔ عوام اور حکومتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی اجنبیت اخلاقی جواز کھو دینے کے باوجود اشرافیہ کا اقتدار سے چپکے رہنا، عسکریت کا اظہار اور فوج کا سوسائٹی سے بعد جس کی خدمت اس کا فریضہ ہے خطرناک جبر و استبداد اور ایک اقتصادی بحران جو عالمی ہے۔ تاریخ میں ایسی کم ہی مثالیں ہیں جب بالا دست طاقتوں نے اپنے زوال کو عروج سے بدل دیا ہویا اقتدار کو پر امن طور پر چھوڑ دیا ہو ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مکافات (blowback) سے بالآخر ایک بحران پیدا ہوگا جو اچانک امریکہ کے بالا دست اثرات کو ختم کر دے گا یا بے وزن کر دے گا“۔
جیو اور جینے دو!
کالمیر جانسن کا خیال ہے کہ اس انجام سے اب بھی بیچا جا سکتا ہے بشرطیکہ امریکہ کی قیادت استحصالی بالا دستی کا راستہ ترک کر کے جائز اخلاقی اور سیاسی حدود کی پاس داری کا راستہ اختیار کرے اور“” جیو اور جینے دو “کے اصول پر عمل کرے۔ موصوف اپنی کتاب اس پیغام پر ختم کرتے ہیں:
امریکہ کو فوجی طاقت اور اقتصادی دباؤ کے بجائے سفارت کاری کے ذریعے نمونہ پیش کر کے رہنمائی دینے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ایسی بات نہ غیر حقیقت پسندانہ ہے نہ انقلابی۔ سرد جنگ کے بعد کی دُنیا کے لیے امریکہ کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی بہبود کو اپنی استعماریت کے دعووں پر مقدم رکھے۔ بہت سے امریکی قائدین سمجھتے ہیں کہ اگر بیرون ملک امریکی اڈے بند کر دیے جائیں یا ایک چھوٹے ملک کو اپنی معیشت خود چلانے کی اجازت دی جائے تو دُنیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گی۔ انھیں سوچنا چاہیے کہ اگر امریکہ اپنی دم گھونٹے والی گرفت ڈھیلی کر دے تو ترقی اور بہتری کے کتنے چشمے دنیا میں پھوٹ پڑیں گے۔ انھیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ استعماری بالا دستی قائم رکھنے کی ان کی کوششیں لامحالہ مکافات کی لہریں پیدا کریں گی۔ یہ کہنا ناممکن ہے کہ کھیل کب ختم ہوگا لیکن اس بارے میں کم ہی شبہ ہے کہ یہ کیسے ختم ہوگا۔
اکیسویں صدی میں عالمی سیاست بیسویں صدی کے آخری نصف کے بعد کے اثرات کے تحت ہو گی یعنی سرد جنگ کے غیر ارادی نتائج اور یہ اہم امریکی فیصلہ کہ وہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں بھی اپنا سرد جنگ کا رویہ برقرار رکھے گا۔ امریکہ اپنے آپ کو سرد جنگ کا فاتح قرار دینا پسند کرتا ہے۔ آج سے ایک صدی بعد جب لوگ پچھلی صدی پر نظر ڈالیں گے تو زیادہ امکان ہے کہ کوئی بھی فریق فاتح نظر نہ آئے گا خصوصاً اگر امریکہ اپنے موجودہ استعماری طریقوں کو اختیار کیے رکھتا ہے۔
امریکہ کی قیادت کو سمجھ لینا چاہیے کہ عالمی بالا دستی اور سامراجی استیلا عالمی برادری اور رفاقت دونوں ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ اگر آپ قوت کے نشے میں بدمست رہیں گئے غلبہ اور استیلا کا کھیل کھیلیں گئے رعونت اور غرور کا رویہ اختیار کریں گئے اگر آپ دوسروں کی آزادی عزت نفس اور مفادات کا خیال نہیں رکھیں گئے اور دوسری اقوام کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عسکری اور معاشی شکنجوں میں گرفتار رکھنے کی کوشش کریں گے تو آخر کار اس کا شدید رد عمل ہوگا۔ نہ صرف یہ کہ امن دوستی محبت تعاون سے دُنیا محروم رہے گی بلکہ بے اعتمادی بے زاری اور بالآخر نفرت اور تصادم کی فصل رونما ہوگی— اور تاریخ گواہ ہے کہ یہ تصادم ہمیشہ طاقت ور کی فتح ہی پر منتج نہیں ہوتا۔ ہاتھی اپنی قوت کے گھمنڈ پر چیونٹی کو کچلنے کے درپے رہتا ہے لیکن جب
چیونٹی ہاتھی کی سونڈ کے اندر رسائی پالیتی ہے تو یہ نھی سی بستی) صدر لنڈن بی جانسن کے الفاظ میں (flea :ہاتھی کو بے بس کر دیتی ہے ۔ اس طرح بھی انسانوں اور قوموں کی قیمتیں بدل جاتی ہیں: تلك[AK1] الايام نداولها بين الناس!
۳
خدا کی لاٹھی بے آواز ہے۔ کائنات کے مالک و خالق کو انسان کا جو رویہ سب سے زیادہ ناپسند ہے وہ ضرور تکبیر اور نخوت ہے۔ یہی وہ مرض ہے جس نے ابلیس کو شیطان بنایا۔ یہ بات بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں ہر شیطانی کھیل میں انھی صفات بد کا کلیدی کردار رہا ہے۔
معالمہ افراد کا ہو یا قوموں کا اگر عجز و انکسار اور حقیقت پسندی ترقی کا زینہ ہیں تو غرور و تکبر بالآخر تصادم اور تباہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔ اللہ کی سنت ہے کہ جلد یا بدیر غرور کا سر ضرور نیچا ہوتا ہے۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ: جن میں خیر اور صلاح موجود ہو وہ چوٹ پڑنے پر اصلاح اور سدھار کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جن کی سرشت میں بدی غالب ہو اور جن کے مقدر میں ہزیمت اور بالآخر تباہی لکھی ہو وہ ہر انتباہ پر مزید سرکش ہو جاتے ہیں۔ ان کا معاملہ قوم نوح علیہ السلام سے مختلف نہیں ہوتا کہ اللہ کی طرف سے ان کو تنبیہ پر تنبیہ کی جاتی ہے مگر ہر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافے کا ذریعہ بن جاتی ہے: وَنُخَوِّفُهُمُ لا فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَانًا كَبِيرًا ○ بنی اسرائیل
۶۰:۱۷-
امریکہ کے لیے دو انتباہ
مئی ۲۰۰۱ء کے پہلے ہفتے میں اقوام متحدہ کے ایوانوں میں مغرب اور مشرق کے سبھی ممالک کی طرف سے امریکہ کو ایسی ہی دو تنبیہات کا مخاطب بنایا گیا۔ یہ عالمی رائے عامہ کے حقیقی رجحان کی مظہر ہیں اور امریکہ کے لیے ہوش میں آجانے کی دعوت کی حیثیت رکھتی ہیں، بشرطیکہ وہ ہوا کے رخ کو سمجھنے کی کوشش کرے اور تاریخ سے کوئی سبق لینے کو تیار ہو۔
امریکہ اپنی طاقت کے گھمنڈ میں تو دوسری عالمی جنگ کے بعد ہی سے مبتلا ہے اور اس رجحان میں برابر اضافہ ہوتا رہا ہے لیکن افغانستان سے روس کی پسپائی اشتراکیت کے زوال اور دیوار برلن کے انہدام کے بعد سے اس کا غرور اور غزہ آسمان سے باتیں کرنے لگا۔ ان ۱۲ ۱۳ برسوں میں نئے عالمی نظام کی گھن گرج کچھ زیادہ ہی بلند ہوئی ہے اور امریکی صدی کے آغاز کے دعوے عالمی فضا کو بوجھل کرنے لگے ہیں۔ امریکہ کی قیادت کو یہ زعم ہو گیا کہ اب وہ نا قابل تسخیر ہے اسے عقل کل کا مقام حاصل ہے اور وہ شہنشاہ عالم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔
امریکی صدر جارج بش جو نیر اور ان کی ٹیم نے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد تنہا پرواز کے اشارے دینا شروع کر دیے اور گلوبلائزیشن پر امریکیت کی چھاپ لگانے میں مصروف ہو گئے ۔ امریکی بالا دستی کی نگی جارحیت پر اقوام متحدہ عالمی اداروں اور دوست ممالک سے مشاورت کا جو پردہ موجود تھا، وہ اس سے بھی نجات پانے میں لگ گئے ۔
معاملہ میزائل کے مقابلے کے لیے قومی دفاعی ڈھال کا ہو یا ماحول کے تحفظ (global warming) کا۔ مسئلہ کروڑوں کی تعداد میں بارودی سرنگوں سے درپیش خطرات کا ہو یا ایڈز اور دوسرے مہلک وبائی امراض کے خلاف انسانیت کی مشترک جنگ کا۔ نیوکلیر پالیسی کے مسائل ہوں یا توانائی پالیسی اور اس کے اثرات ۔ سابقہ عالمی معاہدات کی پاسداری کا مسئلہ ہو یا نئے معاہدات کے لیے عالمی برادری میں مفاہمت اور اتفاق رائے پیدا کرنے کا معاملہ تجارتی پابندیوں کا ہو یا دوسرے ممالک کی حدود میں دخل اندازی اور جاسوسی کا پرانے دوستوں سے وفاداری کی بات ہو یا نئے دوستوں امریکہ کے عالمی کردار سے بے زاری کی تلاش کی۔ سب ہی معاملات میں بش حکومت نے اپنے اقتدار کے پہلے ہی چار مینوں میں اپنی خود پسندی اور یک طرفہ کارروائی کا ایسا آہنگ اختیار کیا کہ مشرق و مغرب ہر طرف اقوام و ممالک میں اضطراب کی لہریں اٹھنے لگیں۔ احساس کی اسی نئی جہت کا اظہار نیو یارک میں اقوام متحدہ کے دو اہم کمیشنوں کے انتخاب کے موقع پر ہوا۔ اس طرح مئی ۲۰۰۱ ء کا پہلا ہفتہ تاریخ کی نئی کروٹ کا عنوان بن گیا۔
اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا کمیشن ایک متحرک اور باوقارادارہ ہے جو ۱۹۴۷ء میں امریکہ کی تحریک پر سابق صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ [۲۵-۱۹۳۳ء] کی اہلیہ کی قیادت میں قائم ہوا تھا۔ یہ ادارہ نہ صرف حقوق انسانی کا اہم ترین پلیٹ فارم ہے بلکہ اقوام متحدہ کے ان چند اداروں میں سے ہے جن کا کام صرف قرار دادیں پاس کرنا نہیں بلکہ عملاً شکایات کی تحقیق کرنا اور پالیسی اقدام تجویز کرنا بھی ہے۔ یہ ۵۳ ممالک کے نمایندوں پر مشتمل ہے۔ امریکہ گذشته ۵۴ سال سے اس میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس پر امریکہ ہی چھایا رہا ہے۔ اسے America used to call shots کہا جا سکتا ہے۔
ایسے ادارے میں بالکل غیر متوقع طور پر نئے انتخاب کے دوران (جس میں ۱۴ ارکان کا نیا انتخاب ہوا۔ جن میں تین عمومی نشستیں بھی تھیں، جو مغربی ممالک کے لیے مخصوص ہیں ۔ یہ انتخاب خفیہ رائے دہی کی بنیاد پر ہوئے) امریکہ کو نصف صدی میں پہلی مرتبہ شکست ہوئی۔ انتخابی ادارہ اقوام متحدہ کی سوشل اینڈ اکنا مک کونسل تھی ۔ اس مقابلے میں فرانس سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہوا (۵۴میں سے ۵۲ ووٹ ) آسٹریا دوسرے نمبر پر (۴۱) ووٹ اور سویڈن تیسرے نمبر پر (۳۲ ووٹ )۔ ان کامیاب ممالک کے مقابلے میں امریکہ کو صرف ۲۹ ووٹ ملے اور وہ یہ انتخاب ہار گیا۔ اقوام متحدہ کے ان اداروں میں نصف صدی کے دوران یہ امریکہ کی پہلی شکست ہے، جس نے امریکہ سمیت سب کو متحیر کر دیا۔
مئی ۲۰۰۱ ء کی اس چوٹ سے ابھی امریکہ سنبھلے بھی نہیں پایا تھا کہ تین ہی دن کے بعد ایک اور شکست کا زخم لگ گیا۔ اسی طرح اقوام متحدہ کے دوسرے اہم ادارے International Narcotics Control Board (عالمی ادارہ تحدید منشیات) میں بھی امریکہ اپنی نشست سے محروم ہو گیا۔ اقوام عالم کی طرف سے ایسے دو عالمی اداروں سے جو بظاہر امریکہ کی خارجہ پالیسی کے سب سے اہم ستونوں یعنی حقوق انسانی اور منشیات کی روک تھام کے لیے سب سے کلیدی ادارے تھے اس کا بیک بینی و دو گوش اس طرح رخصت ہو جانا امریکہ کی عالمی ساکھ کے لیے بڑی شرم ناک شکست اور خود امریکی قیادت کے لیے بڑا چشم کشا انتباہ ہے۔
امریکہ کا ردّعمل
ان واقعات پر امریکہ کی قیادت، پریس اور کار فرما عناصر کا ردّعمل وہ آئینہ ہے جس میں بحیثیت سوپر پاور امریکہ کی مختلف تصویریں دیکھی جاسکتی ہیں۔
فطری طور پر سب سے پہلا ردّعمل صدمہ، تعجب، حیرانی اور تحیر کا تھا۔ امریکی قیادت ششدر تھی کہ یہ ناقابل یقین واقعہ کیسے رونما ہو گیا۔ صدے کے بعد شکوہ و شکایت اور غصہ بلکہ غیظ و غضب کا اظہار شروع ہوا۔ سب سے زیادہ غم و غصہ اس بات پر تھا کہ خود مغربی ممالک نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور جن پہ تکیہ تھا انھی کے ووٹوں سے یوم شکست دیکھنے کی نوبت آئی!
سویڈن اور آسٹریا پر بہت دباؤ ڈالا گیا، مگر وہ میدان سے نہ ہٹے۔ ۲۳ ممالک نے ووٹ کا وعدہ کیا تھا اس لیے فتح کا یقین تھا، لیکن خفیہ رائے میں صرف ۲۹ ووٹ لے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اپنے اپنے علاقائی حلقوں سے جو ممالک اس انتخاب میں کامیاب ہو کر کمیشن کے رکن بنے، ان میں سوڈان، بحرین، جنوبی کوریا، چلی، میکسیکوپاکستان اور یوگنڈا شامل ہیں۔ امریکہ کے ساتھ دوسرے ہارنے والوں میں سعودی
عرب اور ایران بھی شامل ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ جس کی شکست پر کہرام مچا ہے وہ صرف امریکہ ہے ۔
دنیا بھر کے اخبارات، رسائل اور الیکٹرانک میڈیا میں ایک طوفان سا برپا ہے کہ ایک انہونی بات کیسے حقیقت کا روپ اختیار کر گئی اور ایک ہی ہفتے میں امریکہ جیسی سوپر پاور جسے فرانس کے نمائندے نے فیاضی سے کام لیتے ہوئے hyper power کا لقب دیا ہے کس طرح دو سیاسی شکستوں کا نشانہ بن گئی۔ اس شکست کے آئینے میں امریکہ کے پورے سیاسی کردار اور عالمی رول پر بحث و گفتگو ہو رہی ہے اور تجزیہ نگار اس میں آنے والے دور کی تصویر تلاش کر رہے ہیں۔ ایک آزاد معاشرے کی یہ خوبی ہے کہ اس میں ایسے اہم معاملات پر کھل کر بحث و گفتگو ہوتی ہے اور محض ایک سرکاری نقطۂ نظر دینی افق پر مسلط نہیں ہو جاتا!
امریکی اور عالمی سیاسی اور صحافتی حلقوں میں ہونے والے مباحث کا تجزیہ کیا جائے تو اس شکست پر چار واضح رد عمل سامنے آتے ہیں:
ا – غم و غصه: پہلا اور فوری رد عمل استخفاف اور استہزا کا ہے۔ امریکہ کے کچھ با اثر حلقے، حکومت کے چند ذمہ دار افراد اور ان کے ہم نوا عناصر بظاہر بڑی بے اعتنائی اور یک گونہ رعونت کے ساتھ کہہ رہے ہیں: پھر کیا (So what) اقوام متحدہ کے ایک یا دو کمیشنوں کی اوقات ہی کیا ہے؟ خود اقوام متحدہ ہی کون سی اہم ہے؟ محض نشستند و گفتند کی ایک محفل ایک چوپال۔ اگر اس میں امریکہ جیسا اہم ملک نہ بھی آیا تو کون سا آسمان گر جائے گا۔ ان کے خیال میں اس سے اقوام متحدہ ہی بے وقار ہوگئی امریکہ کو تو کوئی ٹھیس نہیں پہنچے گی۔
اقوام متحدہ کی سوشل اینڈ اکنامک کونسل (انتخاب کرنے والے ادارے) میں امریکی نمائندے بیر کلنگم نے کہا: “بلا شبہ ہم بہت مایوس ہوئے ہیں” ۔ صدر امریکہ اور کانگریس کے ارکان کی جانب سے مایوسی کے ساتھ غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیا۔ کانگریس کے ترجمان نے کہا: “کانگریس کے خیال میں یہ اقوام متحدہ کے وقار اور اعتماد کو مجروح کرنے والی بات ہے”۔
صدر کی قومی سلامتی کی مشیر کون ڈولیزا رائس کی نگاہ میں: “یہ بخت توہین آمیز ہی نہیں بلکہ خود اقوام متحدہ کے مقام کو مجروح کرنے والا اقدام ہے”۔ ڈیفنس سیکرٹری ڈونالڈ رس فیلڈ نے اسے ایک “نہایت غیر دانش مندانہ اقدام” (notably unwise)قرار دیا۔ سرکاری ترجمانوں ہی نے نہیں، بلکہ بڑی تعداد میں اخبارات اور سیاسی تبصرہ نگاروں نے بھی اس پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ: “امریکہ کوتو کمیشن سے ۵۴ سال کے بعد نکال دیا گیا ہے، مگر چین، کیوبا لیبیا اور سوڈان جیسے وہاں موجود ہیں!”
امریکہ کے ایوان نمایندگان کے اکثریتی قائد ڈک آرمی نے اسے مضحکہ خیز قرار دیا ہے ۔ کانگریس بحیثیت مجموعی اس تاثر کا اظہار کر رہی ہے کہ خود اقوام متحدہ کو اب کون ایک سنجیدہ ادارہ سمجھے گا ؟ ارکان کانگریس نے اسے ایک ہتک (insult) قراردیا ہے۔
فلوریڈا سے ایوان نمایندگان کی رکن الیانا راس کا کہنا ہے: ”یہ ایک ایسی مضحکہ خیز بات ہے جو اقوام متحدہ کے نظام کی سالمیت اور جواز کی بنیاد ختم کر دیتی ہے۔
۲ – انتقامی ردعمل: مایوسی اور غم و غصے کے ساتھ دوسرا رد عمل انتقامی نوعیت کا ہے۔ اقوام متحدہ اور اتحادی ممالک سے صرف شکایت ہی کا اظہار نہیں کیا جا رہا بلکہ کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے اور اس کا طریقہ اقوام متحدہ کے مالی واجبات کی ادایگی کو روک دیتا ہے۔ پہلے ہی امریکہ اقوام متحدہ کے ایک ارب ۴۰ کروڑ ڈالر کا نادہندہ ہے۔ کئی برس سے جھگڑا چل رہا تھا بالآخر صدر کلنٹن کے دور میں بڑے رڈ وکر کے بعد طے ہو گیا تھا: اقوام متحدہ کے کل بجٹ کے ۲۵ فی صد کے بجائے)جو امریکہ کی اصل ذمہ داری اور وعدہ تھا) اسے ۲۲ فی صد کر دیا جائے۔ اس طرح امریکہ واجبات کی مد میں ۲ ارب نہیں صرف ایک ارب ۴۰ کروڑ ڈالر ادا کرے گا جس میں سے ۵۸ کروڑ ۲۰ لاکھ ڈالر اس سال ادا کرنا تھے ۔ لیکن اس شکست کے بعد امریکی کانگریس نے فوری طور پر انتقامی کارروائی کرتے ہوئے ۲۵ کروڑ ۱۴۰اکھ ڈالر کی وہ ادائیگی روک دی جو اسی مہینے اقوام متحدہ کو دینا طے تھی۔ کانگریس نے یہ بھی کہا کہ جب یک انسانی حقوق کے کمیشن پر امریکہ کی نشست بحال نہیں ہوتی (جس کا امکان نئے انتخاب کے دوران بھی ہو سکتا ہے) اس وقت تک اقوام متحدہ کو کوئی ادا ئیگی نہ کی جائے۔ امریکی انتظامیہ نے کانگریس کی بڑی خوشامد کی تھی کہ اس شکست کے باوجود یہ انتقامی کارروائی نہ کی جائے لیکن کانگریس نے ایک نہ سنی اور اپنے اس غضب ناک رد عمل کا اظہار ضروری سمجھا۔
٣ – الزامی رد عمل: تیر ا رد عمل الزامی تھا۔ اس میں امریکہ اور اسرائیل پیش پیش تھے۔ جنھوں نے کہا یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ: “امریکہ حقوق انسانی کے معاملات کو اٹھا رہا تھا اور دوسرے اس پر چیں بجبیں تھے” ۔ یہ اشارہ چین اور فرانس کی طرف تھا۔ سرکاری ترجمان اور امریکی اخبارات نے یہیں کے بلند کی اور اس طرح شکست پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی۔ وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ یہ سب حقوق انسانی کے بارے میں امریکی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اخبار فنانشل ٹائمز، لندن لکھتا ہے:
اس نتیجے کو واشنگٹن اور اقوام متحدہ میں انسانی حقوق خصوصا چین اور کیوبا کے بارے میں امریکہ کے سخت موقف کے جواب میں جھڑ کی کی حیثیت سے دیکھا جا رہا ہے۔ ہیئے یہ دھچکا اس لیے لگا کہ امریکی قیادت حقوق کے مسئلے پر بعض ممالک کے لیے کچھ زیادہ ہی سخت تھی۔ میری دانست میں یہ ان قوتوں کی طرف سے شدید رد عمل تھا جو نہیں چاہتی ہیں کہ ان پر تنقید کی جائے۔ شاید امریکہ انسانی حقوق کے کمیشن میں کچھ زیادہ ہی سرگرم تھا ۔
واشنگٹن پوسٹ نیویارک ٹائمز انٹرنیشنل میرالل ٹربیون کے مقالہ نگار دوسرے ممالک پر برستے رہے کہ وہ حقوق انسانی کے باب میں سمجھوتے کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں، جب کہ امریکہ ڈٹا رہتا ہے اور اسی لیے اسے کمیشن سے نکال دیا گیا ہے۔ فرانس پر تجارتی مفادات کے حصول کی چھیتی کئی گئی۔ چین، کیوبا اور دوسرے ممالک کو حقوق انسانی کے باب میں “مجرم” ثابت کرنے کے لیے اپنے سے دلائل کے انبار لگائے گئے۔ اسرائیلی لابی تلملا تلملا کر کہنے لگی: “چونکہ امریکہ نے ہمارا ساتھ دیا ہے اور اسرائیل کے خلاف تادیبی کارروائیاں روکنے کے لیے سد سکندری بن گیا ہے اس لیے اسے سزا دی گئی ہے”۔ حقیقت یہ ہے کہ سویڈن اور آسٹریا اس انتخاب میں امریکہ کے مقابلے میں کامیاب رہے جو حقوق انسانی کے بارے میں نہایت مضبوط موقف اختیار کرنے والوں میں سے ہیں۔ اگر مسئلہ حقوق انسانی کے بارے میں مضبوط موقف کا ہے تو سویڈن کا ریکارڈ امریکہ کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ لیکن وہ منتخب ہو گیا اور امریکہ رہ گیا!
الزامی رد عمل کا ہدف صرف تیسری دُنیا کے ممالک ہی کو نہیں بنایا گیا، بلکہ خود یورپ کے دوست ممالک پر بھی تیر ونشتر کی بارش کی گئی اور ایک اسرائیل نواز کالم نگاردلیم سافائز نے تو یہاں تک کہہ دیا:
کمیونسٹ چین اور کمیونسٹ کیوبا کی قیادت میں فرانسیسی سفارت کاروں کی حمایت سے جن کے پیچھے افریقی اور عرب آمر تھے اقوام متحدہ نے امریکہ کو نے امریکہ کوانسانی حقوق کمیشن سے نکال باہر کیا ۔
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کی شکست میں فیصلہ کن کردار خود یورپی ممالک کا تھا ۔ خود اسی کالم نگار نے اپنے مضمون میں اعتراف کیا: ۱۴ ممالک جنھوں نے امریکہ کو ووٹ دینے کا وعدہ کیا تھا وقت پر دغا دے گئے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ ”خفیہ رائے دہی کے سارے آداب کو خیر باد کہہ کر ان ممالک کا پتا چلایا جائے اور انھیں سامنے لایا جائے خواہ اس کے لیے سی آئی اے کی مدد لینی پڑے یا صحافتی آداب کو بالائے طاق رکھ کر تفتیشی (investigative) صحافت سے کام لیا جائے! ۴ گویا ایک ہی سانس میں حقوق انسانی کے بارے میں اصول پرستی کے سارے دعوے اور مسلمہ جمہوری آداب کو پارہ پارہ کرنے کی دعوت دے ڈالی گئی۔
۴ – خود احتسابی : روعمل کی ان تین جہتوں کے ساتھ ایک جہت وہ بھی ہے جس میں اس شکست کو ایک تازیانہ عبرت قرار دیا گیا اور امریکہ کو خود احتسابی کی اور ساری دنیا کو امریکہ کی پالیسیوں کے بے لاگ جائزے اور تجزیے کی دعوت دی گئی۔ اس شکست کو امریکہ کے بارے میں عالمی زاے عامہ کی بے اطمینانی کا مظہر قرار دیا گیا۔ امریکی سیٹیر جان کیری نے اپنے مئی کے خطاب میں کہا: “دنیا میں امریکہ سے بے زاری(anti- Americanism) کی یہ ایک لہر ہے جو امریکی حکومت میں احساس دیانت میں کمی کی غماز ہے۔
بیل یونی ورسٹی میں بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ہیرالڈ ہونگ جو کوہ نے اپنےمضمون America Gets a Wake-up Call on Human Rights میں معتدل اور مدلل انداز میں امریکہ کو اپنے احتساب اور جائزے کی دعوت دی:
گذشتہ ہفتے دنیا بھونچکا ہو کر رہ گئی جب پہلی دفعہ یہ ہوا کہ امریکہ کو اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کمیشن کے لیے ووٹ حاصل نہ ہو سکے۔ یہ ایک واضح کی بات ہے کہ دنیا امریکہ کو سبق سکھانا چاہ رہی ہے۔ لیکن کیا امریکی صحیح سبق سیکھ لیں گے ؟ آئیے سب سے پہلے ہم امریکہ کے دو متوقع رد عمل کا جائزہ لیں: پہلا یہ کہ یہ ذلت آمیز سفارتی شکست کوئی خاص معنی نہیں رکھتی۔ اس لیے کہ کمیشن ایک بے معنی گفت و شنید کی جگہ ہے۔ دوسرا زیادہ سنگین رد عمل یہ ہو سکتا ہے کہ امریکہ اپنے ذمے واجبات کی ادائیگی روک کر یا اقوام متحدہ کے خلاف دوسرے تعزیری اقدامات کر کے اسے سبق سکھائے۔۔۔ گذشتہ ہفتے کا ووٹ ایک بیدار کرنے والی آواز ہے کہ حقوق انسانی کے مسئلے پر امریکی قیادت کو جو عالمی احترام حاصل تھا، اس کا دور ختم ہو گیا ہے ۔
اس کے بعد پروفیسر ہیرالڈ نے بہت سے عالمی مسائل کا ذکر کیا ہے جن کے بارے میں ان کے خیال میں امریکہ نے عالمی برادری کے جذبات کا لحاظ نہیں کیا۔ جن میں خصوصیت سے ایڈز کے مریضوں کی مدد غریب ممالک کو خوراک کی فراہمی، بین الاقوامی معاہدات کی توثیق بین الاقوامی فوج داری عدالت کے بارے میں امریکہ کے تحفظات وغیرہ شامل ہیں۔ پروفیسر ہیرالڈ نے مشورہ دیا کہ امریکہ بے اعتنائی (indifference) یا غصہ و انتقام (anger) کا راستہ اختیار نہ کرئے بلکہ دوسرے ممالک سے تعاون اور اعتماد باہمی کا راستہ اختیار کرے۔ موصوف نے اپنے مضمون کا خاتمہ ان الفاظ پر کیا ہے:
گذشتہ ہفتے کی شکست کے باوجود دُنیا انسانی حقوق کے میدان میں امریکی قیادت کی خواہاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکی بھی یہ قیادت فراہم کرنے کا حوصلہ اور وژن رکھتے ہیں؟
فنانشل ٹائمز کا نمایندہ بھی واشنگٹن کے سیاسی اور سفارتی حلقوں کی بحث کا خلاصہ اور پیغام کچھ یوں بیان کرتا ہے:
یہ واقعہ بش انتظامیہ کو بیدار کرنے والی آواز ہے تا کہ وہ آج کی دنیا کے ساتھ زیادہ متعلق ہو جائے ۔
نیویارک ٹائمز کے ایک مضمون نگار لیونارڈ گارمنٹ نے جسے قانون اور سفارت کاری دونوں میدانوں کا تجربہ ہے لکھا ہے:
ہمیں نہیں معلوم کہ یہ ووٹ کس بڑے عمل کا عکاس ہے۔ کیا یہ صرف محض ایک انتخابی شکست ہے؟ کیا امریکہ کے خلیفوں نے حقوق انسانی پر غیر یقینی موقف کا اظہار کرتے ہوئے روسیوں کے بجائے چینیوں کو خوش کرنا پسند کیا؟ کیا یہ ورٹ عالم گیریت کے خلاف احتجاج تھا یا ایک اجتماعی نارضامندی کا اظہار؟ کیا ہم ایک ایسے رد عمل کا آغاز دیکھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں، چاہے یہ
مقصود نہ ہو امریکہ میں لا تعلقی کی سیاست کو فروغ ملے؟ ۳۰ اقوام متحدہ میں امریکہ کی سابق سفیر جین کرک پیٹرک نے مستقبل کے بارے میں چند اہم سوال اٹھائے:
انسانی حقوق کمیشن پر ووٹ سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جمہوری ممالک میں امریکہ کے قابل اعتماد دوست اور حلیف ہیں بھی؟ یہ طے ہے کہ گذشتہ عشرے میں امریکہ اور اس کے تنظیم معاهده شمالی اوقیانوس کے حلیفوں کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ یورپی پریس میں ناراضی کا اظہار ان تحریروں کے مستقل سلسلے سے ہوتا ہے جو امریکہ اور امریکی طریقوں پر سخت تنقید کرتے
نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں اعتراف کیا:
بغاوت کا آغاز ہوتے ہی پتا چلانے اور اسے فرد کرنے میں انتظامیہ کی ناکافی پریشان کن شکست کا ایک پہلو ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات اقوام متحدہ کے لیے امریکہ کے سر پرستانہ رویے کے خلاف بڑھتا ہوا غصہ ہے جو ماحولیات سے لے کر بارودی سرنگوں تک جیسے مسائل پر عالمی معاہدوں کے بارے میں واشنگٹن کی بے حسی کی دلیل ہیں
ایک اور کالم نگار ڈیوڈ اگنا ٹیس نے اپنے اضطراب کا اس طرح اظہار کیا:
۹۰ کے عشرے میں امریکہ عالمی معیشت کو اپنی مٹھی میں سمجھنے کا عادی ہو گیا۔ امریکہ کے پاس پیسہ بھی ہے اور نظریات بھی اور دوسری اقوام کو بس امریکہ کی ہدایات کے مطابق کھیلنا ہے۔ لیکن امریکی بالا دستی کے یہ آسان دن اب ختم ہو رہے ہیں۔ خارجہ پالیسی میں بھی یہ جوابی کارروائی کا وقت ہے۔ اس کی ایک واضح اور قابل ذکر مثال امریکہ کو حقوق انسانی کمیشن سے باہر نکالنے کا عمل تھا۔ بعض مبصرین نے کہا کہ یہ ووٹ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ دُنیا کے ممالک میزائل دفاع کے حق میں اور موسموں کی تبدیلی کے کو یوٹو معاہدے کے خلاف امریکہ کے یک طرفہ موقف سے تنگ آگئے ہیں۔ یہ دو واضح حالیہ مثالیں ہیں۔ … امریکہ کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ عالم گیریت دو طرفہ راستہ ہے اور جیسا کہ پرانا مقولہ ہے کہ آپ او پر جاتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کیجیے۔ اس لیے کہ واپسی میں بھی ان سے ملاقات ہو سکتی ہے۔
فرانس کے سفیر نے اپنی کامیابی کا سہرا اس بات کو قرار دیا کہ ہماری پالیسی کی بنیاد مکالمہ اور باہمی احترام ہے۔ برطانیہ کے سفیر سر جرمی گرین اسٹاک نے اپنے مخصوص انداز میں کہا: حالیہ ووٹ باقی دنیا کے ساتھ امریکہ کے تعلقات پر ایک تبصرہ تھا ۔ چین نے زیادہ ہی کھل کر کہا: اس ووٹ کے ذریعے امریکہ کی اس کوشش کو کہ نام نہاد انسانی حقوق کے مسائل کو اپنی طاقت کی سیاست اور دُنیا پر غلبے کے لیے دباؤ کے آلے کے طورپر استعمال کرئے سختی سے مسترد کر دیا گیا ہے۔
امریکہ کے عالمی کردار کا تقاضا
امریکہ اور دوسرے ممالک کے دانش وروں اور سفارت کاروں کے اس نوعیت کے رد عمل کی روشنی میں یہ کہنا درست ہوگا کہ اقوام متحدہ میں امریکہ کی ان شکستوں کو سرسری طور پر نہیں لینا چاہیے۔ خود پسندی اور محض دفاعی انداز میں بات کو ٹالا جا سکتا ہے مگر زمینی حقائق کو اس طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
امریکہ کا عالمی کردار صرف امریکہ ہی کے لیے اہم نہیں ہے یہ آج کی دنیا کے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ استخفاف استہزا انتقام اور الزام کا رد عمل قابل فہم ہے لیکن یہ خود امریکہ کے لیے ایک سانحہ ہوگا کہ وہ اپنا دفاع کرنے کا اسیر ہو جائے اور گہرائی میں جا کر عالمی برادری کے جذبات و احساسات کا تجزیہ کرنے سے گریز کرے۔ یہ خود فریبی کا راستہ ہوگا جس کا خمیازہ دوسروں کے ساتھ اسے بھی بھگتنا پڑے گا۔ اقوام متحدہ کے اہم اداروں کے یہ ووٹ صرف ہوا کے رخ ہی کا پتا نہیں دیتے بلکہ عالمی سطح پر پائی جانے والی خرابیوں اور چیلنجوں کی بھی نشان دہی کرتے ہیں۔ کمزور تو جیہات اور لیپاپوتی سے حالات صرف بگڑ سکتے ہیں، بناؤ کی کوئی صورت پیدا نہیں ہو سکتی ۔
کئی اعتبار سے اس موقع پر باقی دنیا کے اہل دانش کو آگے بڑھنا اور امریکہ اور روس کی قیادت کو صاف صاف بتانا چاہیے کہ اصل خرابی کیا ہے اور کہاں ہے؟ امریکہ محض امریکی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کا نام نہیں۔ امریکہ ایک اہم عالمی قوت اور ۳۰ کروڑ انسانوں کا ملک ہے جو مادی وسائل سے مالا مال اور سائنس اور ٹکنالوجی کی اعلیٰ ترین مہارتوں کی آماجگاہ ہے۔
بلاشبہ امریکہ میں اقتدار کی کنجیاں جن کے ہاتھ میں ہیں وہ ایک خاص ذہن کے مالک اور مخصوص مفادات کے محافظ ہیں۔ دُنیا بھر میں لوگوں کی شکایات کا اصل منبع یہی اسٹیبلشمنٹ ہے ۔ اس کی گرفت خود امریکہ کی آبادی پر بھی ہے اور جس نے پوری دنیا میں اپنے مفادات کے لیے تباہی مچا رکھی ہے۔ خود امریکہ کے عوام کی ایک بڑی تعداد بھی مظلوم ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ ایک دن دُنیا کے دوسرے مظلوموں کے ساتھ وہ بھی ہم آواز ہو کر ظلم کے خلاف نہ اٹھ کھڑی ہو۔ آخر ویت نام کی جنگ کے خلاف امریکی قوم کی خاموش اکثریت اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
اب امریکہ میں خود مسلمانوں کی تعداد روز افزوں ہے اور ۷۰ لاکھ سے زیادہ مسلمان قوم کے ضمیر کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آج میڈیا اتنا طاقت ور ہے کہ دنیا کے کسی بھی گوشے سے ساری انسانیت کو مخاطب کیا جا سکتا ہے۔ ان حالات میں یہ خود امریکہ کے مفاد میں ہے کہ وہ خود پسندی کے خول سے نکلے اور ان اسباب و عوامل کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لے جو امریکہ کو دنیا کے تمام لوگوں سے کاٹ رہے ہیں اور ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
اسی طرح پورے عالم انسانی کا مفاد بھی اس میں ہے کہ تلخی صف آرائی اور جنگ جوئی کے بجائے افہام و تفہیم اور مکالمے کا راستہ اختیار کرے اور دلیل اور شہادتوں کے ساتھ ان اسباب کی نشان دہی کرئے جو بگاڑ کا ذریعہ ہیں۔
امریکہ کا استعماری کردار
بلاشبہ امریکہ نے جمہوریت آزادی اور حقوق انسانی کے لیے آواز بلند کی ہے مگر کیا وجہ ہے کہ عالمی برادری کی اکثریت ان باتوں کو اخلاص، دیانت اور شفافیت کے رنگ و بو سے محروم پاتی ہے۔
امریکہ خود برطانوی اور فرانسیسی استعمار کا دور دیکھ چکا ہے۔ اس نے استعماری انجوں کو توڑ کر آزادی حاصل کی تھی اور اس وجہ سے دنیا کی مظلوم اقوام اسے اپنا ہم سفر سمجھنے لگی تھیں۔ آخر کیوں وہی اقوام اب خود امریکہ کو ایک استعماری قوت سمجھ کر اس سے فاصلہ پیدا کر رہی ہیں۔ امریکہ بھی قوموں کے حق خود ارادیت کا علم بردار سمجھا جاتا تھا اب اسے کیوں انسانی حقوق کی پاس داری کے بارے میں اعتماد سے محروم کیا جا رہا ہے؟
بات صرف بارودی سرنگوں (land mines) کے بارے میں سرد مہری ماحولیات کے خطرات کے باب میں تساہل اور بین الاقوامی معاہدات سے گلو خلاصی کی کوشش تک محدود نہیں۔ جن اہل علم نے مخالفت کے اسباب کی تان ان مسائل پر توڑی ہے انھوں نے بہت سہل انگاری کا مظاہرہ کیا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ عالم اسلام اور اس کی سیاسی اور فکری قیادتوں کو اس نازک تاریخی موقع پر کسی مداہنت سے کام نہیں لینا چاہیے اور حالات کا بے لاگ تجزیہ کر کے امریکہ کی قیادت کو اور پوری دنیا کے سوچنے سمجھنے والے لوگوں کو ان اسباب و عوامل کا احساس دلانا چاہیے جو عالمی سیاست میں بگاڑ کا باعث اور انسانی معاشرے میں ظلم و استحصال کا ذریعہ ہیں۔
بنیادی تبدیلی کی ضرورت
بلا شبہ امریکہ آج سیاسی، معاشی اور عسکری اعتبار سے دنیا کا سب سے طاقت ور ملک ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس قوت وسطوت کے باوجود امریکہ دنیا کا محبوب اور پسندیدہ ترین ملک نہیں۔ مادی خوش حالی میں اس کا درجہ کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو لیکن انسانیت کی میزان میں اس کا وزن بڑا ہلکا ہے۔
اچھے انسان دنیا کے ہر ملک اور ہر معاشرے میں پائے جاتے ہیں، لیکن بحیثیت مجموعی جو امیج امریکہ کا دنیا میں ہے وہ گندے امریکیوں (The ugly American) کی تصویر سے قریب تر ہے۔ جمہوریت آزادی اور حقوق انسانی کے تمام دھوے اپنی جگہ اور امریکہ کی سرزمین پر ان کے تجربات کے کچھ مثبت پہلوؤں کے اعتراف کے ساتھ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا کے جن جن ممالک پر امریکی اثرات پڑے ہیں یا پڑ رہے ہیں ان کے دامن میں پھول کم اور کانٹے زیادہ ہیں۔
ماضی کی سامراجی قو تیں جس نگی جارحیت جبر غلامی اور لوٹ کھسوٹ کی تھیں، آج وہی کھیل امریکہ خوش نما نظریات اور دل فریب وعدوں کے ساتھ کھیل رہا ہے۔ ظلم کی شکلیں بدل گئی ہیں، اس کی حقیقت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ حقائق کو بے نقاب کیا جائے اور امریکہ کے عالمی کردار کے اصل خدو خال کو بلا کم و کاست پیش کیا جائے تاکہ آج کے انسان کے اصل مسائل اور اس کی روح کے حقیقی اضطراب کو سمجھا جا سکے۔
امریکہ کو سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض انتقامی سیاست کے مظاہر نہیں ہیں بلکہ اس کی اپنی پالیسیوں اور کارکردگی کے خلاف اعلانِ بغاوت ہے۔ اگر وہ فی الحقیقت دنیا کے تمام انسانوں کے ساتھ دوستی اور تعاون کا رشتہ استوار کرنا چاہتا ہے تو اسے اپنی فکر اور اپنے نظام کار میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔
مسئلہ محض بڑے اور چھوٹے اور طاقت ور اور کمزور کانہیں بلکہ ان اصولوں قوموں اور ملکوں کے درمیان تعلق کی بنیادوں کا ہے جن کے نتیجے میں دُنیا میں حقیقی امن اور انصاف قائم ہو سکے اور دُنیا کے وسائل تمام انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہو سکیں۔ کوئی کسی کا محتاج نہ ہو سب عزت اور وقار سے زندگی گزاریں
؏ کس نه گردد در جہاں محتاج کس
یہی وہ کسوٹی ہے جس پر کامیاب اور ناکام نظام صحت مند اور مریض معاشرہصالح اور ظالم تہذیب کو پر کھا جا سکتا ہے۔
بے اعتمادی کیوں؟
امریکہ پر بے اعتمادی اور اس سے بے زاری کی پہلی اور سب سے اہم وجہ امریکہ کا عالمی بالا دستی کا عزم اور ہدف ہے۔ نظریات کی دُنیا میں آزاد مسابقت معیشت میں تجارت اور تعاون سیاسی معاملات میں اشتراک اور مشترک مقاصد کے لیے معاونت اور مفاہمت دنیا کے تمام انسانوں کے لیے مفید اور ضروری ہیں۔ لیکن اگر ایک قوم یا ملک محض اپنی قوت کے بل پر دوسروں کو اپنے قابو میں رکھنے کی کوشش کرے اور محض اپنے مفاد کے لیے دوسروں کو داؤ پر لگا دے تو یہ عالمی برادری کے لیے تم قاتل اور سامراج کی ایک مکروہ شکل ہے۔
امریکہ آج ایک سامراجی قوت ہے۔ اس کی تمام سیاسی، معاشی، ثقافتی اور عسکری پالیسیاں سامراجی مقاصد کا آلہ کار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت، آزادی انسانی حقوق اور معاشرتی ترقی کے نعرے نہ دلوں کو مسخر کر پاتے ہیں اور نہ قوموں کی زندگی میں کسی خیر اور فلاح کا پیغام لاتے ہیں۔ ایک قوم کی طرف سے دوسروں پر بالا دستی کے قیام کی کوشش تو تصادم اور کش مکش ہی کو جنم دے سکتی ہے اور دے رہی ہے۔ کاروبار حیات کو تو اور بدلے بغیر محض کردار بدلنے سے حالات کیسے بدل سکتے ہیں۔
ہسپانوی پرتگالی اور ولندیزی سامراج کا دور ہو یا برطانوی اور فرانسیسی سامراج کا روسی استعمار ہو یا امریکی استعمار جرمنی و جاپان بالا دستی کے قیام کے لیے برسر جنگ ہوں یا اسرائیل اور بھارت ملک گیری میں مصروف — اصل ایٹو ایک ہی ہے: دوسروں کو اپنا محکوم بنانا اور انسانوں پر قوت کے ذریعے حکمرانی اور بالا دستی کا قیام۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ آزادی اور حقوق انسانی کے تمام دعووں کے باوجود دُنیا کے
دوسرے ممالک اور اقوام پر اپنے مفادات کے تحفظ اور حصول کے لیے بالا دستی قائم کرنے کے لیے سرگرم ہے ۔ جب تک یہ صورت حال تبدیل نہیں ہوتی ، خوش نما الفاظ اور دل کش وعدوں سے غلامی کی زنجیریں پھولوں کی لڑیاں نہیں بن سکتیں۔ امریکی تہذیب اور سیاست جن تضادات کا شکار رہی ہے ان پر اس وقت گفتگو پیش نظر نہیں ۔ اس وقت ہمارا موضوع امریکہ کی سرزمین پر یورپی اقوام کا قبضہ وہاں کی اصل مقامی آبادی (ریڈ انڈین) سے سلوک افریقہ سے غلاموں کی تجارت اور نسل اور رنگ پر مبنی معاشرے کا قیام نہیں ہے۔ ہمارے زیر بحث ان کی جنگ آزادی، دستور پر جنی جمہوریت اور آزاد معیشت کا قیام یا منرو ڈاکٹرائن بھی نہیں ہے۔ ہم بات کا آغاز بیسویں صدی میں پہلی جنگ عظیم (۱۸-۱۹۱۴ء) کے بعد سے کر رہے ہیں۔
اس وقت امریکہ دنیا کے سامنے کچھ اصولوں کے علم بردار اور خصوصیت سے تنگوم اقوام کی آزادی اور عالمی برادری کے لیے بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی اداروں کے ذریعے آزادی اور امن کے داعی کی حیثیت سے آیا تھا۔ صدر ووڈرو ولسن [۱۹۱۳-۲۱] کے اصول سیاست اور لیگ آف نیشنز کا قیام ایک اچھا آغاز تھا۔ لیکن دوسری جنگ عظیم (۴۵-۱۹۳۹ء) کے بعد سے جو دور شروع ہوا وہ شفاف نہیں ۔
جمہوریت، آزادی، حقوق انسانی اور اقوام متحدہ کے ذریعے ایک عالمی سلامتی کے نظام کا قیام اس دور کے اعلان شدہ مقاصد رہے مگر عملا سرد جنگ کی سیاست نے دُنیا کو صرف نظریات ہی نہیں، سیاسی اور معاشی مفادات کا اکھاڑہ بنا دیا۔ امریکہ ایک کالونی کی تنگنائے سے نکل کر ایک عالمی طاقت بن گیا اور اس کے ساتھ اس کی سیاست نے بھی وہی سامراجی رنگ و روپ اختیار کر لیے جو ماضی کی استعماری قوتوں کا وطیرہ رہے ہیں۔ بظاہر یہ جنگ اشتراکیت کی ظلمتوں سے دُنیا کو بچانے اور آزادی کی روشنیوں سے روشناس کرانے کے لیے تھی، لیکن اس جمہوری قبا میں چنگیزیت ہی چھپی ہوئی تھی۔ گذشتہ ۶۰ سال کی سیاست جن تضادات تناقضات اور تباہ کاریوں سے عبارت ہے اس کی جڑیں سرد جنگ کے اس غیر میں پوست ہیں۔ گویا
؏ میری تعمیر میں مظہر ہے اک صورت خرابی کی
جنگ عظیم کے بعد حکمت عملی
دوسری جنگ کے بعد جو حکمت عملی نئے عالمی نظام کے لیے وضع کی گئی اس میں ایک طرف اقوام متحدہ کا قیام انسانی حقوق کے اعلان کا اجرا عالمی عدالت انصاف کا قیام نے عالمی مالیاتی اداروں کا قیام تھا تو دوسری طرف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جو اصل با اختیار ادارہ تھا، پانچ ملکوں کا ویٹو اور امریکہ اور روس کی عالمی بالا دستی کے لیے اپنی اپنی منصوبہ بندی اہم ہے۔ امریکہ کی خارجہ سیاست کی فکری بنیاد میں جارج کینان نے مرتب کیں، جس کے تین ستون تھے:
ا-عالمی قوت کی حیثیت: امریکہ کو اصل مسئلہ یہ در پیش ہے کہ وہ ایک متحارب دنیا میں ایک عالمی قوت کی حیثیت سے کس طرح اپنے کو متحکم کرے۔ کینان نے صاف الفاظ میں کہا کہ حقیقی خارجہ پالیسی کا تعلق سیدھے سیدھے قوت کے حصول و استحکام سے ہے۔ امریکہ کی سلامتی اس میں ہے کہ قوت کے حصول کو مرکزیت دے اور “حقوق انسانی، معیار زندگی کی بلندی اور فروغ جمہوریت کے غیر حقیقی اور غیر واضح تصورات کی بات چھوڑ دے”۔
۲ -معاشی اور سیاسی بالادستی : معاشی اور سیاسی طاقت میں عدم توازن ایک حقیقت ہے۔ دوسری جنگ کے بعد امریکہ میں دنیا کی آبادی کا صرف ۲۰۳ فی صد تھا جب کہ دُنیا کی دولت کے ۲۰ فی صد پر اسے قبضہ حاصل تھا۔ جارج کینان کے الفاظ میں: دُنیا کے نئے ابھرتے ہوئے نظام میں امریکہ کا اصل ہدف تعلقات کار کا ایک ایسا نظام وضع کرتا ہے جن کے نتیجے میں قوت کا یہ عدم توازن اس طرح برقرار اور محفوظ رکھا جا سکے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ اور رکاوٹ رونما نہ ہو۔
اس کے لیے امریکہ کو ان وسائل تک رسائی حاصل ہونی چاہیے جو اس کے معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہیں۔
کینان نے دنیا کا جو نیا سیاسی نقشہ تجویز کیا تھا اس میں اپنے وسائل کے تحفظ (the protection of our resources) کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ بین الاقوامی راستے محفوظ ہوں، تجارت اور فوجی نقل و حمل کی راہیں کھلی رہیں، جن ممالک سے خام مال اور انرجی درکار ہے وہاں ایسی حکومتیں ہوں جو تعاون کریں اور سپلائی لائن برقرار رہنے کی ضمانت حاصل ہو۔ اس سلسلے میں قومی تحریکوں سے خطرہ ہو سکتا ہے جو قومی اور ملکی مفاد کی بات کریں۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ ان ملکوں کو اشترا کی عناصر سے محفوظ رکھا جائے اور اگر ایسی حکومتیں ہمارے مفید مطلب ہوں جو چاہے سخت گیر ہوں مگر ہمارے مفادات محفوظ ہوں تو ہمیں ایسی ناخوش گوار صورت حال کو ضمیر کی کس خلش کے بغیر ترجیحاً قبول کرنا چاہیے۔ البتہ نجی سرمایہ کاری بیرونی سرمائے کی آمد ورفت اور منڈی کی معیشت کو فروغ دینا چاہیے ۔
٣-عسکری حصار: اشتراکی ممالک کے گرد ایسا سیاسی اور عسکری حصار تعمیر کر دیا جائے جس کے نتیجے میں اشترا کی انقلاب دوسرے ممالک تک نہ پہنچ سکے۔ یہ کام دفاعی اور معاشی معاہدات کے جال بچھا کر انجام دیا جا سکتا ہے۔ اسے حصار بندی کی حکمت عملی (strategy of containment) کہا جاتا ہے۔ جس کے تحت ناٹو (NATO)، سیٹو(SEATO)، سینٹو(CENTO) ، بغداد پیکٹ اور ایسے ہی دوسرے عسکری بلاک تشکیل دیے گئے-]ترجمان القرآن جون جولائی ۲۰۰۱ء[
نئی صلیبی جنگ کا آغاز؟
ا ا ستمبر۲۰۰۱، امریکہ کی تاریخ میں ایک سیاہ المناک اور نا قابل فراموش دن کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جس طرح ۷۲ برس پہلے ۱۹۲۹ء میں امریکہ کی حصص مارکیٹ کے بتاشے کی طرح بیٹھ جانے The Great Crash سے اور پھر ۶۰ برس پہلے چالیس کے عشرے میں پرل ہاربر پر اچانک جاپانی حملے سے (جس میں تقریباً ڈھائی ہزار امریکی ہلاک ہوئے تھے) امریکہ کی معیشت سیاست اور عالمی کردار کی قلب ماہیت ہوئی، بالکل اسی طرح 1 ستمبر کے اس سانحے نے امریکہ ہی نہیں پوری مغربی دنیا کوہلا کر رکھ دیا ہے۔
سرد جنگ کے بعد امریکہ اور سرمایہ داری کی عالمی اور بزعم خود ابدی بالا دستی کا ڈھول پیٹا جا رہا تھا اور تاریخ کے انتقام تک کی نوید سنائی جارہی تھی ۔ مگر وہ سارا قصہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر (WTC) کے دونوں میناروں کے انہدام کے ساتھ ہی زمین بوس ہوتا دکھائی دینے لگا۔ امریکی صدر بش نے اسے “اکیسویں صدی کی پہلی جنگ” کہا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر خطرہ ہے کہ وہ مغربی دنیا اور عالم اسلام کے درمیان نئی صلیبی جنگ کی ابتدا نہ ثابت ہو۔
۱۱۰ منزلہ یہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر ۲۳ سال پہلے ایک ارب ڈالر کی لاگت سے ۱۱۶ یکٹراراضی پر تعمیر ہوا تھا۔ اس مرکز تجارت نے نیو یارک کو نیا تشخص دیا تھا۔ جس میں پچاس ہزار لوگ کام کرتے تھے اور جس کا سالانہ کرایہ اب تین ارب ڈالر سے متجاوز تھا۔ وہ اس صدی کے لیے امریکہ کی معاشی اور مالیاتی قوت کا نشان اور عالمی سرمایہ داری کی شان و شوکت کی علامت ہی نہیں اس کا مالیاتی دارالحکومت بن گیا تھا۔ اس طرح داشنگٹن میں وزارت دفاع ( پیٹا گون) کی عمارت ایک قلعہ بند شہر کا منظر پیش کرتی تھی اس میں ۲۴ ہزار افراد کام کرتے تھے اور یہ امریکہ کی عالمی عسکری قوت کا مظہر تھی۔۔۔ یہ دونوں عمارتیں ایک گھنٹے کے دورانیے میں تین ہائی جیک شدہ امریکی ہوائی جہازوں کی زد میں آکر تہ و بالا ہوگئیں۔
ان دو عمارتوں کی تباہی اور ہزاروں افراد کی ہلاکت ہی کچھ کم سانحہ نہ تھے کہ اس کی زد آج کی واحد سوپر پاور جو صرف اپنے دفاع پر پوری دنیا کے مجموعی دفاعی اخراجات کا ۳۶ فی صد خرچ کر رہی تھی، اس کے وقار اور ساکھ پر کچھ اس انداز میں پڑی کہ اس کے نا قابل تسخیر (invincible) ہونے کا طلسم پاور ہوا ہو گیا۔ کچھ وقت کے لیے امریکہ کا پورا نظام دفاع و حکمرانی “ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم” کی تصویر بن گیا۔
یہ عالمی قوت جواب شیر کی طرح دھاڑ رہی ہے حادثے کے بعد ۲۴ گھنٹے تک عملاً کسی سربراہ مملکت کے بغیر تھی۔ صدر نائب صدر اور کانگریس کا اسپیکر سب کبھی ہوا کے دوش پر دنیا کے خطرات سے تحفظ کے متلاشی تھے کبھی زیر زمین پناہ گاہوں میں عافیت کے طالب تھے۔ اس حادثے کے بعد امریکہ کی قیادت جن کیفیات سے گزری اور اس کے چہروں اور اعلانات پر جو رنگ دیکھا گیا اسے صرف حیرت و صدمه(shock) ، استخفاف (humiliation)، غم و غصہ(anger) ، طیش و غضب نا کی (wrath and fury) اور پھر انتقام (retaliation and revenge) اور جنون کی کیفیات و واردات کی شکل میں بیان کیا جا سکتا ہے۔
تشویشناک رویے
اس حادثہ فاجعہ کے بعد امریکہ بلکہ پوری مغربی دنیا پر ایک ہیجانی کیفیت طاری رہی۔ غیر یقینی کے سایے منڈلاتے رہے اور اس جذباتی فضا میں کچھ کر گزرنے” کے آثار خطرے کی گھنٹی بجاتے رہے۔ بندر کی بلا طویلے کے سر کے مصداق عرب اور مسلم دنیا کو ہدف بنایا جا رہا ہے اسامہ بن لادن پر سارا نزلہ گر رہا ہے اور افغانستان پر فوج کشی کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ ہاتھی مچھر پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلا اور سارا ملبہ فرد واحد پر گرا کر اپنی ناکامیوں اور نفرت اور بے اعتمادی کے اصل اسباب و محرکات سے توجہ بنانے کی ناروا کوشش شروع کی گئی۔
یہ بڑی تشویش ناک صورت حال ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے حق و انصاف کے اصولوں کی روشنی میں حالات کا جائزہ اور تجزیہ نہ ہونے کے برابر ہے (چند کمزور آوازوں کے سوا) ۔ جن کے ہاتھوں میں قوت ہے اور جن پر عالمی قیادت کا بار ہے وہ ایک زخمی درندے کی طرح آپے سے باہر ہو گئے اور جس پر بھی شبہ ہوا سے نیست و نابود کرنے کے عزائم کا اظہار شروع کر دیا۔ صدر بش نے کہا: “یہ دہشت گردی نہیں اعلان جنگ ہے” لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس جنگ میں فریق ثانی کون ہے مقابلہ کس قوت سے ہے اور یہ جنگ کس کس سرزمین پر ہوگی؟ پرل ہاربر کے موقع پر حملہ آور بھی معلوم تھا اور اس کا ٹھکانہ بھی۔ آج نہ یہ ثابت ہے کہ کس نے اس دہشت گردی (terrorism) کا ارتکاب کیا اور نہ یہ پتہ ہے کہ خود کش حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی پشت پر دراصل کون ہے اوروہ کہاں ہے؟
بات کو مزید اشتعال انگیز بنانے کے لیے اس پورے عمل کو خود نفس تہذیب کے خلاف جنگ (War on civilization) کا نام دیا گیا۔ اس طرح دنیا کو دو حصوں میں بانٹنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ گو یا مغربی دنیا ہی مہذب دنیا ہے اور باقی سب وحشت کے دور میں زندگی گزار رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے: صرف دہشت گردوں ہی کا قلع قمع نہ کیا جائے گا بلکہ ان ریاستوں کو بھی نابود کر دیا جائے گا جہاں ان کو پناہ حاصل ہے
امریکی نائب صدر ڈک چینی اور وزیر دفاع رمس فیلڈ نے تو دو اور دو چار کی طرح کہہ دیا ہے: ”ہمارا ہدف ان ریاستوں ہی کو نیست و نابود کر دینا ہے جو دہشت گردی کو فروغ دیتی ہیں ۔ دانش ور اہل قلم اور میڈ یا پر تبصرہ کرنے والوں کی ایک فوج ہے جو انتقام اور ریاستی تشدد کا کھلم کھلا پر چار کر رہی ہے۔ اسی تسلسل میں سابق امریکی وزیر خارجہ لارنس ایگل برگر فرماتے ہیں: “اس طرح کے لوگوں سے نبٹنے کی ابتدا کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے: آپ کو ان میں سے کچھ کو ہلاک کر دینا ہوگا خواہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر براہ راست متعلق نہ ہوں“۔
امریکی خارجہ پالیسی کے گرو اور ویت نام کمبوڈیا چلی اور نہ معلوم کتنے ممالک میں لاکھوں انسانوں کی نسل کشی (genocide) کے ذمہ دار ڈاکٹر ہنری کسنجر کا ارشاد ہے:
اگر چہ اس کے بارے یقینی بات نہیں کہی جا سکتی کہ اس اقدام کے پیچھے فی الحقیقت بن لادن کا ہاتھ تھا یا نہیں، مگر فوری تادیبی اقدام ضروری ہے اور وہ بھی نا کافی ہے۔ اصل ہدف اس پورے نظام (network) اور ان ممالک کے خلاف کارروائی ہے جہاں اس نظام کے کچھ بھی کل پرزے پائے جاتے ہیں: حکومت کو ایک منظم رد عمل کی ذمہ داری لینا چاہیے۔ امید کرنا چاہیے کہ یہ اسی طرح اختتام کو پہنچے جس طرح پرل ہاربر کا حملہ اختتام کو پہنچا تھا یعنی اس نظام کی تباہی جو اس کا ذمہ دار ہے-
کسنجر نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ اگر دوسرے ممالک اس میں امریکہ کا ساتھ نہ دیں تو امریکہ کو یہ اقدام تن تجاری کر ڈالنا چا ہیے اور کسی اتفاق را ے (consensus) کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بڑے دانش ور اور ذمہ دار حضرات کا انداز بیان ہے۔
عمومی سطح پر جو انداز اختیار کیا جا رہا ہے اس کا انداز و صرف ان تین مثالوں سے کیا جا سکتا ہے:
ا- رچ لوری رقم طراز ہے: “اگر ہم دمشق یا تہران یا جو کچھ بھی ہو اس کا ایک حصہ ملیا میٹ کر دیں تو یہ بھی عمل کا ایک جزو ہے-“
۲-نیویارک پوسٹ میں اسٹیو ڈیلوری لکھتے ہیں: ۲۱ ویں صدی کے اس پرل ہاریہ کا جواب اتنا ہی سادہ ہونا چاہیے جتنا کہ تیز — بلا تاخیر حرامیوں کو قتل کر دو ۔ ان کی آنکھوں کے درمیان گولی مار دو ان کو ریزہ ریزہ کر دو ضرورت پڑے تو زہر دے دوں اور وہ شہر اور وہ ملک جو ان کیڑے مکوڑوں کی سر پرستی کرتے ہیں ان پر بم باری کر دو گے
۳-ایک خاتون این کملٹر تو یہاں تک ہدایت دی ہے “یہ اس کا وقت نہیں ہے کہ اس خاص دہشت گردی کے حملے میں براہ راست ملوث افراد کا پتہ چلایا جائے۔ ہمیں ان ممالک پر حملہ کر دینا چاہیے۔ ان کے لیڈروں کو قتل کر دینا چاہیے۔ ہم بطر اور اس کے اعلی افسروں کا پتہ چلانے اور سزا دینے کے بارے میں رسی ضوابط کے پابند نہیں تھے۔ جس طرح ہم نے جرمن شہروں پر کارپٹ بم باری کی اور ہم نے شہریوں کو ہلاک کیا۔ وہ جنگ تھی اور یہ بھی جنگ ہے”۔
اس فضا کا عام طور پر مسلمان اور خاص طور پر عرب ہدف ہیں۔ صدر بش نے اس “مہم” کو سر کرنے کے لیے “صلیبی جنگ” کا لفظ استعمال کر کے جلتی پر تیل ڈالنے کی خدمت انجام دی۔ اسلام کو ایک دہشت پسند مذہب اور مسلمانوں کو دہشت پسند گروہ کی حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس کا یہ نتیجہ نکلا کہ ان دنوں میں امریکہ آسٹریلیا، جرمنی اور برطانیہ میں ایسے بیسیوں واقعات رونما ہوئے جن میں مساجد مدارس، مسلمان مراکز گھرانے، حتی کہ راہ چلتی با پردہ خواتین نشانہ بنی ہیں۔ واقعے کے بعد پہلے دس دنوں میں صرف امریکہ میں ۳۰۰ انتقامی کارروائیاں ریکارڈ ہوئیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ مسلمان تو ایک طرف رہے بے چارے سکھ بھی محض اپنی وضع قطع کے باعث مارے جا رہے ہیں۔۔۔ کیا یہی وہ تہذیب اور اعلیٰ نظام زندگی ہے جس کے دہشت گردی سے معرض خطر میں ہونے کا واویلا ہے!
اسلامی تحریکوں کا موقف
امریکہ اور اہل مغرب کا رویہ خواہ کیسا بھی ہو اور اپنے جذبات کے اظہار کے لیے وہ کوئی بھی زبان استعمال کریں، بحیثیت مسلمان اور اُمت مسلمہ ہمارا رویہ حق انصاف اور اعتدال پر مبنی ہونا چاہیے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے بجائے ہمیں دلیل کی زبان اور حق پرستی کا مسلک اختیار کرنا چاہیے۔ اس لیے کہ قرآن کا ہمارے لیے یہی حکم ہے کہ جب بھی انسانوں کے درمیان کلام کریں انصاف کے مطابق کریں:
وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء ۵۸:۴)
اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔
ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا قف هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المانده ۸:۵)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو ۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کر دے کہ انصاف سے پھر جاؤ عدل کرو یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
انسانی جان کا تحفظ اور احترام اسلام کی بنیادی تعلیم ہے اور اس احترام آدمیت میں مسلمان اور غیر مسلم مرد اور عورت دوست اور دشمن میں کوئی تمیز نہیں۔ سب کی جان برابر ہے اور بااحق کسی کی بھی جان لیتا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے خلاف بغاوت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمُ، ہم نے تمام بنی آدم کو محترم و مکرم بنایا ہے محض مسلمانوں یا اہل کتاب کو نہیں۔ اسی طرح:
ولا تقتلوا النفس الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ط (بنی اسرائیل ۳۳:۱۷)
قتل نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے مگر حق کے ساتھ ۔
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّما أحيا النَّاسَ جَمِيعًا (المائده ۳۳:۵)
جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔
جس دین کی یہ تعلیم ہو وہ دہشت گردی کے ذریعے بے گناہ انسانوں کی مظلومانہ موت کو کیسے گوارا کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کے مسلمانوں ہی نے نہیں پوری دنیا کے مسلمانوں ان کی دینی تحریکوں اور تمام ہی مسلمان حکومتوں نے استمبر کی دہشت گردی اور اس کے نتیجے میں ہزاروں انسانوں کی موت پر خون کے آنسو بہائے ۔ اس غم کو اپنے دل کی گہرائیوں میں محسوس کیا۔ اس کی برملا مذمت کی ہے اور اصل مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہماری نگاہ میں یہ محض امریکہ کا نقصان نہیں پوری انسانیت کا نقصان ہے اور یہ غم تنہا کسی ایک قوم کے لوگوں کا غم نہیں پوری انسانی برادری کا غم ہے۔ اس نقصان اور اس غم کو ہمارے لیے جس چیز نے اور بھی اپنائیت کا روپ دے دیا ہے وہ یہ حقیقت بھی ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں ہلاک ہونے والے ۵ ہزار کے لگ بھگ افراد کا تعلق ۶۳ ملکوں سے ہے۔ جن میں سب مذاہب کے ماننے والے شامل ہیں۔ ان مقتولین میں ایک ہزار سے زائد مسلمان تھے یعنی ہر پانچ میں ایک مسلمان تھا۔
دنیا کی اسلامی تحریکوں کے سو سے زیادہ قائدین اور عالم اسلام کے چوٹی کے علما اور مفکرین نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ۱۲ ستمبر ۲۰۰ ء ہی کو اس قتل ناحق کی مذمت کی۔ پھر ۱۸ ستمبر کو ایک اور بیان کے ذریعے اسلام اور امت مسلمہ کے موقف کو دو ٹوک انداز میں بیان کیا۔ انھوں نے جہاں قتل ناحق کی مذمت کی وہیں انتقام اور جوابی قتل ناحق کے خلاف بھی متنبہ کیا اور کمال حکمت اور پوری جرات سے عدل و انصاف اور قانون کی حکمرانی کی بات کی۔
اسلامی تحریکوں کا یہ بیان پوری اُمت مسلمہ کے جذبات کا ترجمان ہے:
- ہم نیو یارک اور واشنگٹن میں بزدلانہ دہشت گرد حملوں کی پر زور مذمت کر چکے ہیں جن کا نشانہ بننے والے تمام ممالک سے اور دنیا کے بڑے مذاہب سے تعلق رکھتے ہیں۔
- اسلام انسانی جان کے تقدس کا علم بردار ہے۔ قرآن کے مطابق ایک بے گناہ کو ہلاک کرنا ساری انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان اس جارحیت کے نتیجے میں جانی نقصان پر غم زدہ ہیں کہ یہ امریکہ اور پوری دنیا کا مشترکہ نقصان ہے۔
- ہم یہ اعلان بھی کرتے ہیں کہ دنیا کے تمام حصوں میں دہشت گردی کا نشانہ بنے والے ایسی ہی ہمدردی اور تشویش کے مستحق ہیں۔ جو لوگ انسانوں کی مساوات کے علم بردار ہیں انھیں دنیا کے تمام حصوں میں دہشت گردی کی مذمت کرنا چاہیے اور اس کے خلاف لڑنا چاہیے۔
- ہم اس اصول کے حامی اور علم بردار ہیں کہ انسانوں کے خلاف دہشت گردی کے جو بھی ذمہ دار ہیں۔۔۔ افراد گروپ یا حکومتیں، ان کو کٹہرے میں لانا چاہیے اور کسی ہمدردی یا امتیاز کے بغیر اس جرم کی سزا دینا چاہیے۔
- ہم کھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر مشتبہ افراد کو کسی غیر جانب دار عدالتی طریقے سے ان کا جرم ثابت کیے بغیر یک طرفہ طور پر سزا دینے کی کوشش بھی دہشت گردی ہی قرار پائے گی جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور نہ گوارا کیا جاسکتا ہے۔
- عدل وانصاف اور فطری اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کا یہ کم سے کم تقاضا ہے کہ جرم کا غیر جانب دارانہ بنیادوں پر تعین اور واضح ثبوت ہو۔ اس لیے ہم دنیا کی تمام حکومتوں سے خصوصاً امریکہ کی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ صرف شمے کی بنیاد پر طاقت کا یک طرفہ من مانا استعمال نہ کریں اور مدعی وکیل، بیج اور جلا د سب کچھ خود ہی بنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور تمام عرب مسلمان اور یورپی ممالک کے لیڈروں سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ دنیا کو بے جا خوں ریزی اور تشدد میں اضافے سے بچا ئیں جس سے اقوام عالم اور ریاستوں میں مزید جھگڑے اور تنازعات پیدا ہوں گے۔
- دہشت گردی کا مقابلہ صرف ایسے ہی ذرائع سے کیا جاسکتا ہے جو منصفانہ اور عادلانہ ہوں، اور دنیا میں امن و سکون کا باعث بننے والے ہوں۔ ہمیں ایسے اقدامات میں فریق یا خاموش تماشائی نہیں بنا چاہیے جن سے انتقام رعونت اوربین الاقوامی دیوالیہ پن کی بو آتی ہو۔
- آئیے سب لوگ انصاف کے لیے کھڑے ہو جائیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اس کے کار پردازوں کو قانون کے مطابق سزا دینے کے لیے اجتماعی کوشش کریں اور دنیا میں دہشت گردی کی جڑ میں پائی جانے والی نا انصافیوں استحصالوں اور بالادستی کی پالیسیوں کو ختم کرنے کے لیے کوشش کریں!
یہ ہے اُمت مسلمہ کا اصولی اور حقیقی موقف ۔ تمام مسلمان حکومتوں اور تنظیموں کا فرض ہے کہ اس نازک لمحے میں حکمت، دیانت اور جرات کے ساتھ اپنے اس موقف پر ڈٹ جائیں، محض قوت، دھونس اور جبر کے آگے ہتھیار نہ ڈالیں اور نہ پرو پیگنڈے کی یورش سے مغلوب ہوں اور نہ کسی ایسے جوابی رد عمل کی راہ اختیار کریں جو حق وصواب سے دور ہو۔
امریکی نظام کی ناکامی
جو سوال اس وقت سب سے اہم ہے وہ یہ کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا اور اس کے اصل ذمہ دار کون ہیں؟ بات محض شبہ اور انتقام کی نہیں، بے لاگ جستجو، تحقیق و تفتیش نقد و احتساب اور حقیقت کی کھوج کی ہے۔ بدقسمتی سے اس سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے اور سارے معاملات ایک ہیجانی انداز میں نمٹانے کی خطرناک غلطی کی جارہی ہے۔ تعجب ہے کہ کوئی نہیں جو ہمت اور جرات سے کہے کہ بادشاہ کو پہلے اپنے جسم پر نگاہ ڈالنی چاہیے کہ کہیں وہ لباس سے عاری تو نہیں؟
یہ امرا بھی تحقیق طلب ہے کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کون تھے اور ان کے اصل مقاصد اور ان کے پشتی بان کون تھے؟ مگر اس سے پہلے جواب طلب سوال تو یہ ہے کہ امریکہ کے اپنے نظام حکومت اورخصوصیت سے اس کے قومی سلامتی جاسوسی اور پولیس کے نظاموں کی ناکامی اور اس ناکامی کے ذمہ داروں کے احتساب سے کلی اغماض کیوں برتا جا رہا ہے؟ ایک ریل کا بھی حادثہ ہوتا ہے تو فوری أسباب کی تحقیق و تفتیش سے پہلے ادارے کے ذمہ داروں کا محاسبہ ہوتا ہے اور ان کو جواب دہی کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا ہے۔ امریکہ کا جاسوسی کا نظام دنیا کا عظیم ترین اور مہنگا ترین نظام ہے:
صرف سی آئی اے (CIA) کا سالانہ بجٹ ۳۰ ارب ڈالر ہے اور دنیا میں اس کے ایک لاکھ ہمہ وقتی کارکن ہیں۔ ایف بی آئی (FBI) داخلی سلامتی کی ذمہ دار ہے، اس کا سالانہ بجٹ ۳ ارب ڈالر ہے۔ اس کے امریکہ میں ۵۵ مراکز اور ۲۷ ہزار ۸ سو کارکن ہیں۔ اس کے نظام کار میں کل بجٹ کا پانچواں حصہ صرف معلومات جمع کرنے کے لیے مختص ہے اور یہ نگرانی (surveillance) کی جدید ترین تکنالوجی استعمال کر رہے ہیں ان کے علاوہ ایک ادارہ National Reconnaissance Office ہے جو جاسوسی سیارچوں (Spy Satellites) کی مدد سے زندگی کے ہر پہلو کی ہمہ وقتی نگرانی کرتا ہے اور اس کا سالانہ بجٹ 4 ارب ۲۰ کروڑ ڈالر ہے۔ ایک اور ادارہ نیشنل سیکورٹی اتھارٹی (NSA) ہے جس میں ۲۱ ہزار افراد کام کرتے ہیں اور اس میں معلومات جمع کرنے کا دنیا کا اعلیٰ ترین انتظام ہے۔ اس کے کارکن دنیا کی ہر اہم زبان کے ماہر ہیں۔ ان کے علاوہ خفیہ معلومات حاصل کرنے والی نو مزید ایجنسیاں ہیں جو فوج وزارت خزانہ وزارت مواصلات اور وزارت کلی و پانی کے تحت کام کرتی ہیں اور ان میں سے ہر ایک کا بجٹ ایک ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ان سب کے علاوہ ایک نیشنل امیجری اینڈ میپنگ ایجنسی ہے جس کا سالانہ بجٹ ایک ارب ۲۰ کروڑ ڈالر سالانہ ہے۔ اس ایجنسی کا کام صرف یہ ہے کہ امریکہ کی زمین پر جو کچھ ہورہا ہے وہ اس کے نقشے محفوظ کرے۔ اس طرح صرف انٹیلی جنس اور عمرانی کے ادارے سالانہ ۵۰ ارب ڈالرکے بجٹ سے قومی سلامتی اور حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے علاوہ معلومات حاصل کرنے کی Non-Intelligence ایجنسیوں کا سالانہ بجٹ ۲۷ ارب ڈالر ہے۔ گویا صرف جاسوسی اور دوسری معلومات کے حصول کے لیے امریکہ سالانہ کے ارب ڈالر تک خرچ کر رہا ہے۔
اس کے باوجود اس پورے نظام کو ایک ایسے مربوط اور کثیر جہتی منصوبے کی کوئی سن گن تک نہیں لگی جس میں بقول امریکہ “۱۹ خودکش ہائی جیکر شامل تھے جنھوں نے دو مختلف ہوائی اڈوں سے کارروائی کا آغاز کیا”۔ جس میں ان کے علاوہ کم از کم ۳۰ مزید افراد کے شامل ہونے کا اندازہ ہے، جو کئی مہینے سے اس اقدام کی منصوبہ بندی کر رہے تھے بڑے شہروں میں رو رہے تھے کینیڈا اور جرمنی کے سفر کر رہے تھے ۔ جو مبینہ طور پر کلبوں میں شراب نوشی اور رقص و سرود کی محفلوں میں شریک تھے، جم خانوں میں تن سازی کر رہے تھے اور ہوائی پرواز کے اداروں کے باقاعدہ ممبر کی حیثیت سے ہوا پیمائی کی مشقیں کر رہے تھے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اتنی خطیر رقم خرچ کر کے اور اتنے جدید اور ترقی یافتہ نظام کی موجودگی میں امریکہ کی قیادت کو ایسی سازشوں اور خوف ناک منصوبوں کی ہوا بھی نہیں لگتی تو پھر اس نظام کا احتساب نہ کرنا کس طرح قابل فہم ہو سکتا ہے۔ نہ سی آئی اے کے سربراہ نے استعفا دیا ہے نہ ایف بی آئی کے سربراہ کو معطل کیا گیا ہے نہ اٹارنی جنرل جو اس پورے نظام کا سربراہ ہے اس پر کوئی آنچ آئی ہے۔ بلکہ اٹارنی جنرل صاحب نے پوری دیدہ دلیری سے فرمایا ہے: “اب سوال انصاف کا نہیں، جوابی کارروائی کا ہے!” اصل ناکامی امریکہ کے اپنے نظام کی ہے— محض اسامہ بن لادن اور افغانستان پر ملبہ گرانے سے امریکہ کے اپنے نظام کی ناکامی پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔
یہ ناکامی اور بھی شرمناک ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں، کہ اس سے قبل دہشت گردی کے امکانات اور خطرات کے بارے میں بحث و گفتگو کا سلسلہ برابر جاری تھا۔ مثال کے طور پر:
- فروری ۱۹۹۳ء میں اس ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں بم کا دھما کا ہو چکا تھا جس میں چھے افراد ہلاک ہوئے تھے ۔
- اپریل ۱۹۹۵ء میں اوکلاہاما کا واقعہ ہوا تھا جو ایک امریکی دہشت گردٹم میکوی (Tim McVeigh) کا “کارنامہ” تھا یہ دہشت گرد ویت نام میں لڑنے والا سفید فام سابق امریکی فوجی تھا اس حادثے میں ۱۶۸ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
- المیہ ستمبر سے دو ماہ پہلے غم میکوی کو جان بخشی کی ملکی اور عالمی اپیلوں کے باوجود پھانسی دی گئی تھی اور اس گروہ کی طرف سے انتقامی کارروائی کا خطرہ موجود تھا۔
- اگست ۱۹۹۸ء میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں میں ہونے والی دہشت گردی میں ۲۲۳ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کا مقدمہ چل رہا تھا۔
- اکتوبر ۲۰۰۰ ء میں امریکی بحری جہاز یوایس ایس کول کا واقعہ ہوا جس میں ۱۷ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کا مقدمہ بھی زیر سماعت تھا۔
- ای سال مارچ میں امریکی سینٹ کے انٹیلی جنس کمیشن نے متوقع دہشت گردی سے متنبہ کیا تھا اور یہ رپورٹ حال ہی میں شائع ہو چکی تھی۔
- حال ہی میں سی آئی اے نے ان دو افراد کے بارے میں تصویر شائع کر کے متوجہ کیا تھا ، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ استمبر کی ہائی جیکنگ میں شریک تھے۔
- ۷ تمبر کو ایک اور وارنگ موصول ہوئی تھی—
ان سب کی موجودگی میں تمام خفیہ اور برسرزمین ایجنسیوں کی ناکامی اصل لمحہ فکریہ ہے۔۔۔ لیکن اس کا کوئی ذکر نہ امریکی صدر کے بیانات میں ہے اور نہ میڈیا کی لفظی جنگ میں ۔
اسامه ملزم یا مجرم؟
سارا زور ایک فرد اسامہ بن لادن پر لگا دیا گیا، جو دس سال سے جلاوطنی اور خانہ بدوشی کی زندگی گزار رہا ہے ۔ جس کے پاس نہ ٹیلی فون ہے اور نہ باہر کی دنیا سے رابطے کا کوئی اور ذریعہ ہے۔ وہ ایک ایسے ملک میں ہے جس کی برسوں سے شدید ترین نگرانی ہو رہی ہے جس کے پاس نہ جدید ٹکنالوجی ہے اور نہ سفارتی یا ابلاغی سہولتیں، جس کے پاس کوئی عالمی میڈیا تو کیا انگریزی میں دنیا تک اپنی بات پہنچانے کی سہولت تک میسر نہیں۔ جس کے خلاف برسوں سے پابندیاں لگی ہوئی ہیں، مواصلات کا نظام غیر موثر ہے اور جس کے بنک بیرونی دنیا سے کوئی مالی معاملہ نہیں کر سکتے۔ پھر بھی تمام دنیا کو یہی یقین دلایا گیا کہ وہ افغانستان کے ایک غار سے یہ سب تماشے کر رہا ہے۔
اسامہ کی دولت کا بھی بڑا شور ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ جن ۳۰ کروڑ ڈالر کا ذکر کیا جاتا ہے (اگر درست بھی ہو تو خود امریکہ کے صرف جاسوسی کرنے کے لیے ۵۰ سے ارب ڈالر اور دفاعی بجٹ کے ۳۵۰ ارب ڈالر کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتے ہیں) ان کی بھی حقیقت یہ ہے کہ ۱۲ سال پہلے اسامہ بن لادن کو اپنے والد کی میراث میں ۳۰۰ کروڑ ڈالر ہیں’ 8 کروڑ ڈالر ملے تھے۔ ان میں سے جو کچھ اس کے پاس تھے انھیں ۱۹۹۶ء میں سعودی شہریت ختم ہونے پر ساری دنیا میں منجمد کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ نہ کوئی سرمایہ کاری کر سکتا ہے، نہ کسی بنک میں حساب رکھ سکتا ہے اور نہ اس کے لیے کسی کاروبار میں عملاً شرکت ممکن ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر چند کروڑ ڈالر اس کے پاس تھے بھی تو ان سے کیا کچھ اور کب تک کیا جا سکتا ہے۔ اکانومسٹ لندن نے اپنے ادارتی مضامین میں اعتراف کیا ہے کہ “بن لادن کی دولت کی بات میں بڑا مبالغہ ہے”۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بن لادن اور اس کے رفقا سخت مالی مشکلات میں مبتلا ہیں:
مشرقی افریقہ کے بم بازوں کے مقدمے میں ایک حالیہ گواہی سے بہر حال ایک شبہہ پیدا ہوتا ہے۔ بن لادن کے سابق رفقا نے بتایا ہے کہ وہ سرمائے کی کمی کا شکار ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے آدمی پریشانی کا شکار ہیں اور ان کے درمیان مسلسل جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے ایک سابق اکاؤنٹنٹ کو جو امریکہ کا سب سے بڑا گواہ ہے جب قرض دینے سے انکار کیا گیا تو وہ القاعدہ سے باہر آ گیا۔
اگر مالی وسائل کے بارے میں حقائق یہ ہیں تو پھر اسامہ کے خلاف ساری مہم سخن سازی نہیں تو اور کیا ہے۔ خود امریکی عدالت میں سفارت خانوں پر حملے کا جو مقدمہ چل رہا ہے اس میں اسامہ کے خلاف کوئی بات ثابت نہیں ہو سکی۔ اکانومسٹ اپنے اسی مضمون میں اعتراف کرتا ہے:
بہر حال سرکاری وکیل یہ ثابت نہیں کر سکے کہ مسٹر بن لادن نے حملوں کا حکم دیا۔
حملے کس نے کیے؟
اگر اسامہ بن لادن اور افغانستان کے لیے اس نوعیت کی منتظم ہمہ جہتی اور اعلیٰ منصوبہ بندی والی کارروائی ممکن نہیں اور نہ اس کی توقع کسی اور عرب تنظیم سے کی جاسکتی ہے اور بن لادن کے سوا کسی دوسرے گروہ کی طرف امریکی اور مغربی میڈیا اور حکومتیں کوئی اشارہ تک نہیں دے رہیں) تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس ہولناک کارروائی کا مرتکب کون ہو سکتا ہے۔ ہم صرف تاریخی شواہد اور حالیہ قرائن کی بنیاد پر چند مفروضوں کی طرف متوجہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔
پہلا امکان یہ ہے کہ یہ کارروائی کسی منتظم امریکی گروہ کی طرف سے ہوئی جو معاشرہ کا باغی اور نظام حکمرانی سے برگشتہ ہو۔ حالیہ تاریخ میں ایسی بہت سی مثالیں سامنے آئی ہیں جو ان خدشات کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ ملک میں جرائم کی تو کبھی کمی نہیں تھی لیکن پچھلے دنوں اسکول کے بچوں کو منظم انداز میں ہلاک کرنے کے کئی واقعات رونما ہوئے جن میں کیلی فورنیا میں ایک ہی ہلے میں اسکول کے ۱۲ طلبہ کی ہلاکت کی یادیں تازہ ہیں ۔ ٹم میگوی نے اوکلاهاما میں ۱۶۸ افراد کو ہلاک کیا اور اس سے زیادہ کو ہلاک کرنے کی خواہش کا عدالت میں اظہار کیا۔ یہ واقعہ ثم میکوی کو پھانسی دینے کے دو ماہ کے اندر واقع ہوا ہے اور یہ دہشت گردی بھی غم میکوی کے گروہ کا کارنامہ ہو سکتا ہے۔ ایک اور امریکی دہشت پرست گروہ صدر بش کی ریاست ٹیکساس کا Jaco نامی منظم گروہ ہے، جس نے ایک پورے قصبے کو آگ لگا کر تباہ کیا۔ ڈیوڈ کوریش اور اس کے پیروکار بھی ایک باغی گروہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی طرف سے تخریب کاری کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔
سوچنے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس سوال پر غور کیا جائے کہ اس کارروائی کا فائدہ کس کو ہو سکتا ہے۔ خود امریکہ میں ایسے عناصر ہیں جو ریاست کے اداروں پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتے ہیں اور جو آزادی اظہار وعمل پر مختلف قسم کی پابندیوں کے خواہاں ہیں۔ وہ ایسی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ جمہوری آزادیوں کو لگام دی جا سکے اور ان غالب اور مفاد پرست طبقات کی گرفت ملک پر مضبوط ہو سکے۔ وہ ادارے بھی ہیں جو مزید سرکاری وسائل کے طلب گار ہیں جن میں سیکورٹی ایجنسیاں بھی ہیں۔ امریکہ کی اسلحہ سازی کی صنعت اور عسکری صنعتی لابی کا بھی ایک کردار ہو سکتا ہے۔
اس خدشے کو ان معلومات سے بھی تقویت ملتی ہے جو حادثے سے قبل اسٹاک اییھنچ کی غیر معمولی سرگرمی کے بارے میں چونکا دینے والے اعداد و شمار سے حاصل ہوئی ہیں۔ لندن روز نامہ انڈی پنڈنٹ کے تجارتی نمائندہ نے لکھا: 4 ستمبر کو (واضح رہے کہ اور 9 ستمبر کو ہفتہ اور اتوار کی چھٹی تھی) امریکہ کی ان دونوں ہوائی کمپنیوں کے حصص کی فروخت میں غیر معمولی سرگرمی نظر آئی جن کے جہاز اس حادثے میں استعمال ہوئے ہیں اور جن کے حصص کی قیمت حادثے کے بعد ایک دم گر گئی ہے۔ اس وقت تو اسے نظر انداز کر دیا گیا، مگر اب یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا؟ ایک دن میں یونائیٹڈ ایرلائن کے دو ہزار معاہدے ہوئے جو اس سے پیش تر یومیہ کاروبار کے اوسط سے ۲۸۵ گنا زیادہ تھے ۔ اس دن ایک حصہ کی قیمت ۳۰ ڈالر تھی جو حادثے کے بعد گر کر ۱۸ ڈالر رہ گئی۔ اسی طرح امریکن ایئر لائن کے حصص کی فروخت حادثے سے قبل دو تین دن میں اوسط سے ۶۰ گنا زیادہ تھی۔ پھر ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں کام کرنے والی دو اہم بین الاقوامی مالیاتی کمپنیوں یعنی مورگن اسٹینلے اور مارش اینڈ میک لینن کے حصص ان دنوں اوسط کے مقابلے میں ۲۵ گنا اور ۱۰۰ گنا زیادہ فروخت ہوئے۔ سرمایہ کاری کے رجحانات کا ایک ماہر جون ناجارین (Jon Nagarian) ان غیر معمولی سودوں پر اپنے استعجاب کا اظہار یوں کرتا ہے:
جب ہم اتنے غیر معمولی سودے دیکھتے ہیں تو سمجھتے ہیں کہ کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے۔
صاف معلوم ہوتا ہے کہ بعض عناصر کو علم تھا کہ کچھ ہونے والا ہے اور انھوں نے اس سے کروڑوں ڈالر کمائے۔
لیکن اس ہولناک واقعے سے سب سے زیادہ فائدہ اسرائیل کو ہوا۔ جس نے اسے فلسطینیوں کو امریکہ کے غم و غصے کا نشانہ بنانے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور نام نہاد امن کے عمل کو سبو تا ثر کرنے کے لیے استعمال کیا۔ حادثے کے آدھے گھنٹے کے اندر ہنری کسنجر نے اسامہ بن لادن کا نام لیا اور پورے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی بات کی۔ اسرائیل کے وزیر اعظم شیرون نے حادثے کے فورا بعد کہا کہ: “عرفات ہمارا لادن ہے اور عرفات سے اپنی طے شدہ ملاقات منسوخ کر دی۔ روزنامہ دی انڈی پنڈنٹ کا نمائندہ یروشلم سے لکھتا ہے:
اسرائیل امریکہ کے اس المیے کو فلسطینیوں سے اپنے تنازعے میں سیاسی فائدے حاصل کرنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ شیرون اور ان کے ساتھی، عرفات کا اسامہ بن لادن سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ امریکہ میں ان حملوں نے فلسطینیوں کو تنہا کر دیا ہے اور مغرب میں ان کے لیے جو بچی کچھی ہمدردی تھی اسے بہائے گئے ہیں ۔
یہ بھی ایک معنی خیز پہلو ہے کہ انٹرنیشنل میر اللہ ٹربیون نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں جن ۲۶ ممالک کے لوگوں کی ہلاکت کی خبر دی ہے ان میں اسرائیل کا کوئی ایک بھی شہری شامل نہیں ہے۔ نیو یارک میں بہت زیادہ یہودیوں کی رہائیش ہے اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں آ ہزار سے زیادہ یہودی کام کرتے تھے، مگر مرنے والوں کے بارے میں جو معلومات اب تک شائع ہوئی ہیں ان میں یہودیوں کا کوئی ذکر نہیں۔ ایک اطلاع ۶۵ اسرائیلیوں کی گرفتاری اور تفتیش کی شائع ہوئی تھی مگر اسے فوراً دبا دیا گیا۔ کینیڈا سے سٹون انٹل (Stern Intel) نے خبر دی ہے کہ امریکہ کے فوجی جاسوسی ذرائع کے مطابق اس میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ ہے۔ ایران کے رہبر خامنائی نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ:
اس کا ثبوت موجود ہے کہ امریکہ کے بڑے شہروں میں حالیہ حملوں میں صیہونی ملوث تھے ۔
اگر اسرائیل اور صیہونی تحریک کی تاریخ پر نگاہ ڈالی جائے تو موساد کے کردار کےخدشے کو تقویت ملتی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران صیہونی دہشت گردوں نے خود یہودی تارکین وطن سے بھرے ہوئے ایک جہاز کو اس لیے ڈبو دیا تھا کہ برطانوی حکومت نے ان غیر قانونی یہودیوں کو فلسطین میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ اس طرح انھوں نے عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے کے لیے خونی ڈراما رچایا۔ بیت المقدس میں پرنس ایڈورڈ ہوٹل کی تباہی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ سے قبل خود امریکہ کی نیوی کے ایک جہاز یو ایس ایس لبرٹی کو اسرائیل نے میزائل مار کر ڈبو دیا تھا کیونکہ اس نے مصر پر اسرائیل کے اچانک حملے کی تیاریوں کو مانٹیر کر لیا تھا۔ اس پس منظر میں اور ان سیاسی فوائد کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے جو اسرائیل حاصل کر رہا ہے اور عربوں کو پوری مغربی دنیا میں نفرت اور انتقام کا نشانہ بنوا رہا ہے۔ یہ شبہ کافی تقویت حاصل کر لیتا ہے کہ اس حادثے کے پیچھے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی کا ہاتھ ہے جو اس نوعیت کے آپریشن کی صلاحیت اور مہارت رکھتی ہے۔
ایسا ہی ڈراما روس میں چیچنیا کے خلاف کارروائی سے پہلے ماسکو اور ولگا ڈونسک میں ( ۱۳ستمبر ۱۹۹۹ء) میں دو آٹھ منزلہ عمارتوں میں بم کے دھماکوں کی شکل میں کیا گیا تھا۔ جن میں ۳۰۰ افراد کی ہلاکت واقع ہوئی اور جسے بنیاد بنا کر روس نے چیچنیا پر نئی فوج کشی کی تھی۔
انڈی پنڈنٹ کا مضمون نگار پیٹرک کوک برن، نیو یارک اور واشنگٹن کی حالیہ دہشت گردی کے پس منظر میں ماسکو سے اس واقعے کے بارے میں وہاں کی رائے عامہ کے حالیہ احساس کو یوں بیان کرتا ہے:
دس میں سے صرف ایک کو یقین تھا کہ یہ قیچین کا کام ہے۔ صرف آغاز میں ہمارا یہ خیال رہا کہ یہ چیچن نے کیا ہے۔ اب ہم سمجھتے ہیں کہ کریملن کے لوگوں نے اقتدار میں رہنے کے لیے یہ کیا۔
یہ ہیں میکاولی سیاست کے طریق واردات۔ نیو یارک اور واشنگٹن میں جو کچھ ہوا اس راز کا پردہ بھی ایک دن ضرور ہے گا، لیکن آثار تو اب بھی نظر آ رہے ہیں کہ “کوئی معشوق ہے اس پردہ زنگاری میں!”
جن افراد پر ہوائی جہازوں کو اغوا کرنے کا الزام ہے ان کے بارے میں جو متضاد باتیں سامنے آ رہی ہیں وہ سارے معاملے کو مخدوش بنا دیتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کے مجاہد تھے اور ساتھ ہی ان کی شراب نوشی، رقص و سرود اور گرل فرینڈز کے ساتھ رنگ رلیوں کی داستانیں بیان کی جاتی ہیں۔۔۔ ایک طرف جہاد اور حوروں کی باتیں ہیں اور دوسری طرف یہ طرز زندگی ان میں کیا مطابقت ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ اس سخن سازی کے ذمہ داروں کو اسلامی آداب جہاد اور شہادت کی الف بے سے بھی واقفیت نہیں ۔ جن انہیں افراد کے نام سامنے لائے گئے ہیں ان میں کم از کم ایک عیسائی بھی ہے۔ کیا وہ عیسائی بھی جہاد اور شہادت کا طلب گار تھا۔ ان میں سے کم از کم پانچ افراد کے بارے میں تو یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ وہ زندہ ہیں، سعودی عرب اور مراکش میں موجود ہیں اور ان کا کوئی تعلق ہوائی جہازوں کے اغوا سے نہیں۔ بلکہ ان میں سے تین نے تو کہا ہے کہ وہ امریکہ کے ابلاغ عامہ کے اداروں کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کریں گے ۔ صاف ظاہر ہے کہ جو نام دیے گئے ہیں وہ جھوٹے ہیں اور اصل مجرموں کا کسی کو پتہ نہیں ۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اوکلا باما کے حادثے کے موقع پر بھی عربوں ہی پر الزام دھرا گیا تھا اور ان کے خلاف ملک گیر مہم شروع ہو گئی تھی۔ وہ تو اتفاقا ثم میکوی گرفت میں آگیا اور معلوم ہوا کہ یہ سب کچھ ایک امریکی دہشت گرد کا کیا دھرا تھا۔ مقدمے کے دوران یہ حقائق بھی سامنے آئے کہ اس کے گروہ میں ۵۰۰ تک افراد ہو سکتے ہیں۔ لیکن گروہ اتنا منظم ہے کہ تم میکوی کے ساتھ جو دو افراد گرفتار ہوئے تھے ان پر بھی تم میکوی نے کوئی حرف نہ آنے دیا اور تمام قرائن و شواہد (circumstantial evidence) کے باوجود ان کو بری کر دیا گیا۔
عدالت کے سامنے تم میکیوی کے بیانات بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس نے اس دہشت گردی کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اسے حق بجانب قرار دیا اور صاف الفاظ میں کہا : میں امریکہ کو متنبہ کرنا چاہتا تھا اور زیادہ سے زیادہ افراد کو ہلاک کرنا میرا مقصد تھا۔ اس نے آخری وقت تک معافی نہیں مانگی بلکہ اپنی موت کے وقت جو نظم پڑھی اس میں اپنے کارنامے پر فخر کا اظہار کیا گیا ہے۔ تم میگوی تنہا نہیں اس کے اپنے گروہ میں سیکڑوں افراد ہیں اور اس جیسے دسیوں دہشت پرست گروپ امریکہ میں سرگرم عمل ہیں۔
اا ستمبر کی تباہی جس منظم انداز میں، جس اعلیٰ صلاحیت کے ساتھ اور جتنے باہمی ربط و ارتباط (coordination) کے ساتھ کی گئی وہ کسی بیرونی گروہ کا کام ہوہی نہیں سکتا۔ یہ تو اسی وقت ممکن ہے کہ جب اس میں امریکہ کے بہت ہی تربیت یافتہ با صلاحیت well-connected اور پورے نظام کے راز آشنا شریک ہوں۔ انھوں نے عربوں کے ناموں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا، اور حکومت اور ذرائع ابلاغ، اسامہ اور افغانستان کو قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کر کے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے اور اصل مجرموں تک رسائی سے آنکھیں بند کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ مجرمانہ فعل، عالم اسلام کے خلاف کھلی جارحیت کے مترادف ہے۔
ایک اصولی مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی ملزم پر جرم ثابت ہونے سے پہلے محض شبہہ کی بنا پر کوئی کارروائی صریح ظلم اور فتنہ و فساد کی جڑ ثابت ہوتی ہے۔ آج امریکہ نے طاقت کے نشے میں مست ہو کر محض شیبہ کی بنیاد پر افراد ہی نہیں اقوام اور ملک کو تباہ کرنے انھیں پتھر کے دور کی طرف لوٹانے اور نیست و نابود کرنے کی بات کی ہے اور قانون کی حکمرانی عالمی انصاف اور ہوش و خرد کی بات کرنے والوں کو سب وشتم کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ فطرت کے خلاف اور انسانیت کے لیے قطعا نا قابل قبول ہے
؎ وہی قاتل وہی شاہد وہی منصف ٹھہرا
اقربا میرے کریں خون کا دعوی کس پر
دہشت گردی کے اسباب
امریکہ اور مغربی ممالک کی قیادت کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جسے وہ دہشت گردی کہہ رہے ہیں: اس کی حقیقت کیا ہے؟ اور اس نوعیت کے مسائل و معاملات سے کس طرح نمٹا جا سکتا ہے؟
دہشت گردی کا جو پہلو نا قابل دفاع اور لائق مذمت و مزاحمت ہے وہ سیاسی اور مبنی برحق مقاصد کے حصول کے لیے ایسے طریقے اور راستے اختیار کرنا ہے جس کے نتیجے میں معصوم انسانوں کی جانیں ضائع ہوں۔ یہ ناقابل معافی جرم ہے اور اس سے لوگوں کو باز رکھنا انسانیت کی خدمت اور خودان نادان انسانوں سے خیر خواہی ہے جو جان بوجھ کر یا محض حالات کی رو میں ایسے جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔
لیکن جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ اگر معاملات کی اصلاح کے جائز اور معقول راستے بند کر دیے جائیں، اگر محض قوت اور ہٹ دھرمی مفاد پرستی، تعصب، غرور، مادی اور عسکری برتری اور علاقائی یا عالمی بالا دستی کے مذموم مقاصد کے لیے دوسرے انسانوں کو ان کے حق سے محروم رکھا جائے اور اصلاح احوال کے امکانات کو معدوم کر دیا جائے گا تو اس کا فطری ردعمل رونما ہوتا ہے جو صیح کے ساتھ غلط راستے بھی اختیار کر لیتا ہے۔ اس لیے تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ظلم اور نا انصافی کی موجودگی میں اور ان کی سر پرستی کے ساتھ اور ان اسباب سے صرف نظر کر کے جو افراد گروہوں اور اقوام کو تشدد پر مبنی جدو جہد کی راہ پر ڈالتے ہیں اس سے حالات کی اصلاح ممکن نہیں۔
امریکہ اور عالمی سرمایہ داری کے خلاف جو نفرت اور بے زاری ہے وہ عالمی حقائق ہیں اور محض عسکری اقدامات سے دہشت گردی کا خاتمہ ناممکن ہے۔ برطانوی ممبر پارلیمنٹ جارج گیلرے نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں صحیح کہا تھا : “اگر آپ ایک بن لادن کو ماردیں گے تو ایک ہزار بن لادن پیدا ہو جائیں گے”۔
اصل مسئلہ ان اسباب کی کھوج اور ان کی اصلاح ہے جن کے نتیجے میں دنیا کے بیش تر علاقوں میں بشمول امریکہ اور یورپ بغاوت اور بے چینی کی لہریں اٹھ رہی ہیں اور مظلوم انسان اپنی جان پر کھیل جانے کے لیے مجبور ہورہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جموں، میزائلوں اور انسانی بستیوں پر آگ برسانے سے نہیں لڑی جا سکتی۔ یہ جنگ تو اس نوعیت کی جنگ ہے جو غربت، افلاس، بیماری اور جہالت جیسے فتنوں کے خلاف لڑی جاتی ہے۔ یہ غصہ اور طاقت سے نہیں، حکمت اور تدبیر سے لڑی جاسکتی ہے۔ انسانی مسائل کی گرہ کشائی کا راستہ ترک کر کے محض عسکری قوت سے جب بھی انسانوں کو دبانے کی کوشش ہوئی ہے وہ ناکام رہی ہے۔ تشدد کو بڑھانے اور ظلم میں اضافہ کرنے کا اس سے زیادہ موثر کوئی اور طریقہ نہیں کہ انتقام کی آگ میں جل کر عوامی تحریکوں کو قوت سے کچلنے کی کوشش کی جائے۔
عالمی استعمار نے دو سو سال یہ جنگ لڑی اور بالآخر آزادی کی تحریکات سے معاملہ کرنا پڑا اور کل کے دہشت گرد آج کے سیاسی قائد اور حکمران بن گئے ۔ امریکہ اس کا تجربہ ویت نام چلی اور کمبوڈیا میں کر چکا ہے۔ روس نے افغانستان میں یہی کھیل کھیلا اور پھر بھی سبق نہ سیکھا اور آج چیچنیا میں پھر اسی حماقت اور ظلم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ برطانیہ نے ساری دنیا میں شکست کھانے کے بعد بالآخر شمالی آئرلینڈ میں بیس سال کی عسکری جنگ کے بعد اسی شین فین سے معاملات طے کیے جس کا نام لینا اور جس کی قیادت کی آواز اور تصویر بھی ریڈیو اور ٹی وی پر ممنوع تھی۔
اسرائیل فلسطین میں یہی کھیل کھیل رہا ہے اور بھارت جموں و کشمیر اور سولہ دوسرے علاقوں میں سیاسی مسائل کے عسکری حل کی ناکام کوشش میں گرفتار ہے۔ مسئلے کے حل کا کوئی راستہ اس کے سوا نہیں کہ ٹھنڈے دل سے امن و آشتی کو تہ و بالا کرنے والے عناصر اور اسباب پر غور ہو اور دہشت گردی کی طرف لے جانے والے عوامل سے نجات پائی جائے۔
خود احتسابی کی ضرورت
مغرب میں بھی جن لوگوں کی نگاہ زندگی کے حقائق اور تاریخ کے دیے ہوئے سبق پر ہے وہ بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ روزنامہ انڈی پنڈنٹ کے مشہور سیاسی تبصرہ نگار رابرٹ فسک (Robert Fisk) نے اس سانحے پر شرق اوسط کے المیے کے تناظر میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ امریکی قیادت ہی نہیں، دنیا کے سب حکمرانوں کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے:
اب بات یہاں تک آگئی ہے کہ شرق اوسط کی مکمل جدید تاریخ، سلطنت عثمانیہ کا زوال، اعلان بالفور، لارنس آف عریبیہ کی دروغ گوئی، عرب بغاوت، ریاست اسرائیل کا قیام، عربوں اور اسرائیل کے درمیان چار جنگیں اور عربوں کی سرزمین چارجنگ پر اسرائیل کے وحشیانہ قبضے کے ۳۴ سال…..سب کچھ چند گھنٹوں میں مٹ گیا۔ جب لیے ہوئے اور ذلیل کیے گئے لوگوں کی نمائندگی کا دعوٹی کرنے والوں نے ایسی مرعوب کن بے رحمی اور چالاکی سے پلٹ کر حملہ کیا جو وہی لوگ کر سکتے ہیں جو یقینی تباہی سے دوچار ہوں۔ کیا یہ مناسب اور اخلاقی رویہ ہوگا کہ اس کے بارے میں اس قدر جلدی میں لکھ دیا جائے خصوصاً جب کہ کوئی ثبوت نہیں گواہی میں معمولی سی بات موجود نہیں، اور بر بریت کا آخری واقعہ جو اوکلاہاہا میں ہوا تھا وہ اپنے ہی گھر کے پروردہ امریکیوں کا کیا دھرا تھا؟ میرا خدشہ ہے کہ ایسا (اب بھی) ہے۔ امریکہ حالت جنگ میں ہے اور اگر میں فاش غلطی نہیں کر رہا تو شرق اوسط میں کئی ہزار لوگ مزید مارے جائیں گے اور شاید امریکہ میں بھی۔ ہم میں سے کچھ لوگ “آنے والی امکانی تباہ کاری” سے خبردار کرتے رہے لیکن ہم نے اس ڈراؤنے خواب کے بارے میں سوچنا بھی گوارا نہ کیا۔
یہ جمہوریت اور دہشت گردی کی جنگ نہیں ہے جس کا یقین آئندہ دنوں میں دنیا کو دلایا جائے گا۔ یہ ان امریکی میزائلوں کے بارے میں بھی ہے جو فلسطینیوں کے گھروں پر گرتے ہیں۔ ان واقعات کے بارے میں بھی ہے جب امریکی ہیلی کاپٹروں نے ۱۹۹۶ء میں لبنانی ایمبولینس پر میزائلوں سے حملہ کیا تھا اور اس کے چند دن بعد قانا’ نامی گاؤں میں امریکہ نے گولے دانے تھے امریکہ کے اتحادی اسرائیل کی پروردہ لبنانی ملیشیا نے مہاجر بستیوں میں قتل و غارت لوٹ مار اور عصمت دری کا بازار گرم کیا تھا۔ کوئی شبہ نہیں کہ امریکہ میں جو کچھ ہوا ہے وہ نا قابل بیان شر ہے۔ ۲۰ ہزار یا ۳۵ ہزار معصوم لوگوں کی ہلاکت کے سانحے پر فلسطینیوں کا اظہار مسرت صرف اُن کی مایوسی کا مظہر نہیں ہے بلکہ سیاسی عدم بلوغ کا بھی ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنے دشمن اسرائیل پر اسی قسم کے الزامات عائد کرتے رہتے ہیں یعنی غیر متناسب کارروائی۔
ہمیں متنبہ کر دیا گیا تھا: زور دار تقریروں امریکہ کے قلب پر حملے کرنے کے عہد اور امریکی سانپ کا سر کچلنے کے اعلان کے بارے میں۔ ہم انھیں خالی خولی دھمکیاں سمجھتے رہے۔ قدامت پسند غیر ترقی یافتہ غیر جمہوری اور بدعنوان حکمرانوں کے گروہ اور چھوٹی سی اشتعال انگیز تنظیمیں اسی طرح کے بے بنیاد دعوے کس طرح پورے کر سکتے ہیں! اب ہم جان چکے ہیں۔ گذشتہ روز کی تباہی و بربادی کے چند گھنٹوں کے بعد میں امریکہ اور اُس کے اتحادیوں پر ہونے والے اُن بڑے اور غیر معمولی حملوں کا سوچنے لگا جو گذشتہ روز کے واقعے کے بعد بہت ہی نیچ اور معمولی محسوس ہونے لگے ہیں ۔ ۱۲۳ اکتوبر ۱۹۸۳ء کو خودکش بم بازوں نے ۲۴۱ امریکی ملازمین اور ۱۰۰ فرانسیسی چھاتہ برداروں کو ہلاک کر دیا تھا اُس وقت تک ایسے حملوں کی کوئی نظیر موجود نہ تھی۔ بحریہ پر حملے اور فرانسیسیوں کی تباہی کے درمیان سات سیکنڈ کا وقفہ ہوا تھا۔ اس کے بعد سعودی عرب میں قائم امریکی اڈوں پر حملے ہوئے تھے اور پچھلے برس عدن میں امریکی بحری جہاز کو ڈبونے کی کوشش تقریباً کامیاب ہو گئی تھی۔ ہم شرق اوسط کے نئے ہتھیار: مایوس لیکن جان پر کھیل جانے والے خودکش بم باز کو پہچاننے میں بالکل ناکام رہے جس کی برابری امریکی یا دوسرے یورپی نہیں کر سکتے ۔ (انڈی پنڈنٹ)
رابرٹ فسک اپنے استدلال کو اس نتیجے پر پہنچاتے ہیں:
اب لازمی اور فطری طور پر بالکل غیر اخلاقی طرز اختیار کرتے ہوئے گذشتہ ایام کی تاریخی غلطیوں، نا انصافیوں اور خون ریزیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جائے گی جو کل کے اس ایسے کی پشت پر ہیں۔ ہمیں بتایا جائے گا کہ یہ بے مغز “دہشت گردی” ہے۔ اسے “بے مغز” قرار دینا بہت ضروری ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھنے کے قابل نہیں ہیں کہ تین عظیم مذاہب (اسلام مسیحیت یہودیت کی سرزمین میں امریکہ سے کس قدر نفرت کی جاتی ہے تو پھر بلا مبالغہ ہمیں بے مغز کہنا ضروری ہو جاتا ہے۔ ایک عرب سے معلوم کریں کہ وہ ۳۰٬۲۰ ہزار معصوم افراد کی موت کو کس نگاہ سے دیکھتا ہے۔ وہ عرب مرد یا عورت مہذب اور باشعور شہریوں کی طرح اسے ایک ناقابل برداشت جرم قرار دے گا لیکن وہ یہ ضرور جانا چاہے گا کہ آخر ہم نے یہ الفاظ اس وقت کیوں استعمال نہیں کیے جب پابندیوں کے باعث عراق میں ۵ لاکھ بچے ہلاک ہو گئے ۔ جب لبنان میں ۱۹۸۲ء میں اسرائیل نے ۱۷ ہزار ۵ سو شہری حملہ کر کے ہلاک کر دیے۔ ہم نے شرق اوسط میں ایک قوم کو یہ حق کیوں دیا کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو نظر انداز کر دے اور اُن تمام ممالک پر پابندیاں عائد کر دے جنھوں نے انھیں نظر انداز کیا۔
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ گذشتہ ستمبر [۲۰۰۰] میں مشرق وسطی میں جو شعلے بھڑک اُٹھے اُس کی کیا وجوہ تھیں ۔ عرب علاقوں پر اسرائیل کا تسلط فلسطینیوں کی علاقہ بدری اسرائیل کے ٹارچ ریاستی سرپرستی میں کرائے گئے قتل، ان سب معاملات کو چھپانا ہی چاہیے کیونکہ کوئی واقعہ بھی گذشتہ دن کی اجتماعی تباہ کاری کے لیے وجہ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ رویہ کہ اسرائیل پر کوئی الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔۔۔ ہم یقین کر سکتے ہیں کہ تاریخ کی میزان میں ہمارا کردار کٹہرے میں خودکش بم بازوں کے شانہ بشانہ ہی ہوگا۔ اپنے وعدوں سے ہمارا انحراف یہاں تک کہ سلطنت عثمانیہ کی تباہی اس ایسے پر منتج ہوئی۔ اسرائیل کے جنگی اخراجات اتنے طویل عرصے سے امریکہ کی جانب سے ادا ہو رہے ہیں کہ وہ اسے مفت ہی سمجھتا ہے۔ یہ اقدام غیر معمولی حوصلہ مندی اور دانش کا مظہر ہوگا کہ امریکہ ایک لمحے کے لیے ٹھیر کر دنیا میں اپنے کردار پر عربوں کی تکالیف پر امریکی حکومت کی بے حسی اور اپنے موجودہ صدر کی بے عملی پر غور کرے۔
بے شک امریکہ یہ چاہتا ہے کہ وہ “عالمی دہشت گردی” کے خلاف جوابی کارروائی کرئے اُنھیں کون الزام دے سکتا ہے؟ “دہشت گردی” کے اشتعال انگیز اور کبھی کبھار نسل پرستی والے لفظ کے استعمال پر کون ہے جو امریکہ پر انگلی اٹھا سکتا ہے۔ ایسے لوگ مل جائیں گے جو ہر اُس تجویز کو فورا رڈ کر دیں گئے جس میں عالم گیر پیمانے پر ہونے والی اس دہشت گردی کے عمل کی حقیقی تاریخی وجوہ تلاش کرنے پر زور دیا گیا ہو۔ لیکن اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو ہم ایسے زبردست بحران کا شکار ہو جائیں گے جو ہم نے ہٹلر کی موت اور جاپان کی شکست کے بعد نہیں دیکھا۔ کوریا اور ویت نام کی اہمیت تو اب مقابلتاً کچھ بھی نہیں رہی۔
آٹھ سال قبل میں نے ٹیلی وژن پر ایک سلسلے وار پروگرام میں یہ وضاحت کرنے کی کوشش کی تھی کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد مغرب سے نفرت کیوں کرتی ہے۔ گذشتہ رات مجھے وہ مسلمان یاد آئے جن کے حالات ریکارڈ کیے گئے تھے۔ جن کے گھر امریکہ کے بنائے ہوئے ہوں اور ہتھیاروں سے تباہ ہو گئے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ خدا کے سوا کوئی ہماری مدد کو نہ آئے گا۔ مازہب ٹکنالوجی کے مد مقابل ہے۔ خودکش بم باز جوہری طاقت سے نبرد آزما ہے۔
روزنامه واشنگٹن پوسٹ میں ایک امریکی تجزیہ نویس پروفیسر رابرٹ تھی کیویان (Robert G. Kavian) نے بھی بڑے واشگاف انداز میں خود احتسابی کی دعوت دی۔ یہ تبصرہ جسے ہفت روزہ گارڈین نے شائع کیا سب کے لیے محہ فکریہ ہے:
ہمارے سیاسی رہنماؤں میں سے کسی نے بھی ان اہم سوالات سے بحث نہیں کی ہے جو ہماری نئی حیثیت سے اٹھے ہیں۔ ملک اپنی خوش حالی میں مگن اور مطمئن ہے۔ باہر کی دنیا سے یا کہیں اور سے ناخوش گوار خبروں کو ہم نظر انداز کرتے رہے۔ مگر ہماری طاقت کی حد اور حیثیت کیا ہے؟ اس کا ادراک ہمیں 1 ستمبر کو ہوا اگر چہ خاصی تکلیف اٹھا کر۔۔۔ ہم دنیا کی رہنما عالمی طاقت ہیں لیکن ہم بہت کم دنیا کی رہنمائی کرتے ہیں۔ جب ہم کرتے ہیں تو یہ عسکری صورت حال میں ہوتا ہے جیسے خلیج کی جنگ یا کو سودا میں کیا گیا۔ حالیہ تاریخ میں کون سا سنگین مسئلہ ہے جو امریکہ کی پہل کاری کی وجہ سے حل ہوا ہو۔ دنیا کے مفلس ترین لوگوں کی مدد کے لیے ہم دوسرے صنعتی ملکوں کے مقابلے میں فی کس بہت کم دیتے ہیں۔ بہت سے ایسے مسائل جن پر دوسرے سمجھتے ہیں کہ اجتماعی اقدام ضروری ہے ہم الگ کھڑے ہوتے ہیں، مثلاً بارودی سرنگوں پر پابندی اور جوہری تجربات کی آزمایش سے لے کر ماحول میں گرین ہاؤس گیسوں کےاخراج تک-
—بڑی طاقتوں کو جس معاشرتی ماحول میں وہ کام کرتی ہیں اس کی بھی فکر کرنا چاہیے۔ ایک دشمن معاشرتی ماحول ایک باوسائل دشمن کی طرح کسی بڑی طاقت کے نیچے سے موثر انداز سے زمین سرکا سکتا ہے۔ امریکیوں کو نوٹس لینا چاہیے کہ ان کے لیے ماحول بگڑ رہا ہے۔ مثال کے طور پر ہمیں احساس ہے کہ غربت سے پیدا ہونے والی بیماریاں جو تقریبا ختم ہو گئی تھیں، مثلاپ دق خود ہمارے اپنےملک میں انتقامی انداز میں ایک دفعہ پھر حملہ آور ہو رہی ہیں۔ ایڈز کی وبا بھی ایک مصیبت کی علامت ہے۔ ہم اس سے بھی واقف ہیں کہ دنیا کے محروم لوگ مال دار ممالک میں دولت کمانے کے لیے غیر قانونی داخلے کے لیے کیا کچھ خطرات مول لیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ منشیات کی تجارت کو روکنے کے لیے ہم نے جو بھی رکاوٹیں عائد کیں انھیں عبور کر لیا گیا۔
نئے عالمی نظام کا ایک پہلو فاصلے کا ختم ہونا ہے۔ اب زمین پر کوئی بھی جگہ دُور نہیں رہ گئی ہے۔ عالمی گاؤں میں غریب جانتے ہیں کہ وہ کتنے غریب ہیں اور امیر کتنے بہتر حال میں ہیں۔ وسائل رکھنے والے غریب اپنی حیثیت کو خاموشی سے قبول نہیں کرتے بلکہ اسے تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے لاکھوں ان مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ میں گھس آئے ہیں، جیسا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ آور لوگ۔ یقینا یہ ایک مختلف زمرے سے تعلق رکھتے ہیں: ایسے مظلوم جو اپنے پر ظلم کو ہضم کرنے سے انکار کرتے ہیں
یہ دو طویل اقتباس خود مغربی دنیا کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کی فکر کی عکاسی کرتے ہیں-
حقائق کو تسلیم کرنا ہوگا
امریکی اور یورپی قیادت جب تک مندرجہ ذیل حقائق کو تسلیم نہیں کرتی، فساد اور تباہی سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں:
ا -دہشت گردی صرف ایک علامت اور مظہر ہے جب تک اس کے اسباب تک رسائی نہ حاصل کی جائے اور ان عوامل کا سد باب نہ کیا جائے جو اس کی طرف لے جانے والے ہیں، حالات درست نہیں ہو سکتے ۔
۲ – دہشت گردی محض ایک جگہ اور ایک واقعے سے عبارت نہیں۔ علم جہاں بھی ہو انسانیت کے لیے ایک خطرہ ہے۔ محض نیویارک اور واشنگٹن ہی میں مظلوموں کا خون نہیں بہا یہ خون ساری دنیا میں بہہ رہا ہے اور اس باب میں انسانوں کے درمیان تمیز و تفریق (discrimination) خود دہشت گردی کے فروغ کا ایک سبب ہے۔
۳ – دہشت گردی اپنی ہر شکل میں قابل مذمت ہے۔ خواہ اس کے مرتکب افراد ہوں یا گروہ اور حکومتیں ۔
۴۔ بڑی طاقتوں اور حکمرانوں کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ وہ دہشت گردی کا شکار نہیں، اس کے اصل مرتکب ہیں۔ جب تک وہ اپنا رویہ اور پالیسی تبدیل نہیں کرتے حالات کی اصلاح ممکن نہیں۔
۵ – تشدد کا جواب تشدد نہیں اور نہ دلیل کی جگہ جذباتی لفاظی (rhetoric) لے سکتی ہے۔ اصلاح کا راستہ مشکل بھی ہے اور جاں گسل بھی۔ مگر اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔
۶ – حالات کی اصلاح کے لیے سب کو تیار ہونا چاہیئے وہ بھی جو اصحاب اقتدار ہیں اور قوت وسطوت کے مالک ہیں اور وہ بھی جو مظلوم، مجبور اور محکوم ہیں مگر اپنے حق کے حاصل کرنے کے لیے سینہ سپر ہیں۔
لیکن اصلاح کا دارو مدار حکمران عناصر اور بڑی طاقتوں پر زیادہ ہے۔ ان کو سمجھنا چاہیے کہ
؏ جن کے رہتے ہیں سوا ان کو سوامشکل ہے
حوالہ جات
- وہ یہ بات دانستہ طور پر بھول جاتے ہیں کہ آج تک خود امریکہ میں آئرش ری پبلک آرمی (IRA) کے دہشت گردوں کو پناہ حاصل تھی اور کیوبا سے لے کر لاطینی امریکہ کے دسیوں ممالک اور عراق لیبیا اور ایران وغیرہ میں دہشت گردی کرنے والے کتنے بھی مسلح گروہوں کے لیے امریکہ نہ صرف گوشتہ راحت و عافیت تھا بلکہ سی آئی اے اور مخصوص لابیاں کھلے بندوں ان کی تربیت اور ان کو مسلح کرنے کا انتظام کرتی رہی ہیں۔
- یہ اسلامی تحریکات مسلمانوں کی روایتی فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ایسی تنظیموں پر مشتمل ہیں جو احیائے اسلام دعوت اسلامی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق تزکیہ نفس کی جدو جہد میں مصروف ہیں۔ تشدد یا خفیہ کاری کے بجائے کھلے عام اشاعت اسلام پر یقین رکھتی ہیں اور سیاسی تبدیلی کے لیے جمہوری طریقوں پر عامل ہیں۔ اخوان المسلمون اور جماعت اسلامی کی حکمت عملی سے قریب تر جماعتوں کو اسلامی تحریکات میں شمار کیا جاتا ہے۔



