امریکہ میں دعوت اسلامی

آج اگر ایک طرف وہ ۵۶ آزاد مسلمان ملک ہیں جن میں تقریباً ۹۲ کروڑ مسلمان بستے ہیں اور وہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی اسلامی خطوط پر تشکیل نو کے لیے کوشاں ہیں۔ دوسری طرف ۸۵ غیر مسلم ممالک میں مسلمان آبادیاں ہیں، جن کی مجموعی آبادی ۴۰ کروڑ سے زیادہ ہے۔ وہ اس ملک میں خواہ اقلیت میں ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ بھی اپنے اپنے طور پر اسلامی زندگی کی تشکیل و تعمیر کے لیے مسلسل جدوجہد میں مصروف ہیں — اس مضمون میں امریکہ کے حالات پر گفتگو دراصل اُمت مسلمہ کے ایک بڑے حصے کے حالات اور مسائل کو سمجھنے اور مستقبل کی راہیں تلاش کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔
امریکہ، تاریخی اور عالمی تناظر میں
امریکہ کی خصوصی اہمیت کئی وجوہ سے ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز تک امریکہ ایک علاقائی طاقت تھا اور اس کی دل چسپی کا اصل دائرہ براعظم امریکہ یعنی شمال میں کینیڈا وسطی اور جنوبی امریکہ کے ممالک اور جزائر تک محدود تھا۔ اس فکر کا عکاس وہ نظر یہ تھا’ جسے نظریه منرو (Monroe Doctrine) کہتے ہیں یا اس نظریے کا مطلب یہ تھا کہ:” شمالی جنوبی اور وسطی امریکہ پر ریاست ہائے متحدہ امریکہ (USA) کو بالا دستی حاصل ہے یہاں کوئی دراندازی نہ کرے اور دنیا کے باقی علاقوں سے امریکہ کو چنداں دل چسپی نہیں “— تا ہم ۱۸۹۸ء میں امریکہ اور اسپین کے درمیان جنگ Spanish – American (War) اس حصار کو توڑنے اور امریکہ کے عالمی کردار کا آغاز کرنے کا باعث ہوئی۔ جزیرہ ہوائی (Hawai) امریکہ کا حصہ بن گیا اور فلپائن آزاد ہو کر بھی دام اسیری میں گرفتار رہا۔ البتہ اس کے بعد یورپ اور پھر ایشیا آہستہ آہستہ امریکہ کی جولاں گاہ بن گئے۔
پہلی عالمی جنگ [۱۸-۱۹۱۴ء] کا فیصلہ امریکہ کے ساڑھے تین لاکھ فوجیوں کی جنگ میں عملی شرکت سے ہوا اور یورپ کی سیاست پر امریکہ کی قوت کے بادل چھا گئے۔ پھر دوسری جنگ [۴۵-۱۹۳۹ء] میں پرل ہاربر پر جاپانی حملے نے امریکہ کو جنگ میں عملاً شریک بنا دیا۔ اس نے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرانے [۱۹۴۵ء] کا انسانیت کش ”کارنامہ “ انجام دیا۔ اس طرح دوسری جنگ کے اختتام تک دنیا کا سیاسی نقشہ تبدیل ہو گیا۔ یورپی اقوام جو پچھلے پانچ سو سال تک یورپ اور باقی دنیا پر حکمران تھیں، جو علاقائی اور عالمی قوتوں کا رول ادا کر رہی تھیں، منقار زیر پر ہو گئیں۔ چین اور جاپان جو ایشیائی قوتوں کی حیثیت سے اُبھر رہی تھیں، محکوم اور مغلوب ہو گئیں۔ دونئی عالمی طاقتیں دُنیا پر چھا گئیں، یعنی امریکہ اور اشتراکی روس۔ پچاس سالہ سرد جنگ کے بعد اور جہاد افغانستان کی آخری ضرب کے نتیجے میں دسمبر ۱۹۹۱ء میں اشترا کی روس کی سلطنت منتشر ہو گئی۔ مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا اس کے چنگل سے آزاد ہو گئے اور امریکہ دنیا کی واحد سوپر پاور بن کر سامنے آیا۔
معاشی اور سیاسی کردار
امریکہ کے عالمی رول کا اگر گہری نظر سے جائزہ لیا جائے تو اس میں دو چیزیں نمایاں طور پر نظر آتی ہیں:
- ایک سیاسی اور معاشی غلبہ و استیلا جو تمام ہی سامراجی قوتوں کا خاصہ رہا ہے۔
- دوسرے ایک نظریے اور پیغام کی علم برداری جس میں تمام سامراجی طاقتوں کا کردار ایک سا نہیں رہا۔
پہلی عالمی جنگ کے بعد امریکہ نے جمہوریت کی ترویج قوموں کے حق خود ارادیت کی تائید اور ایسے عالمی اداروں کے قیام کی آواز اٹھائی جو عالمی امن کی ضامن ہوں اور بین الاقوامی قانون کے احترام کا ذریعہ بن سکیں۔
امریکہ کے ۲۸ ویں صدر ووڈرو ولسن [ ۲۱-۱۹۱۳ء] کے چودہ نکات اور لیگ آف نیشنز کا تصور اسی امریکی پیغام کے عکاس تھے۔ لیکن بہت جلد خود امریکہ میں ووڈرو ولسن کی تائید کمزور پڑگئی لیگ آف نیشنز کا سب سے بڑا علم بردار اور موید ہونے کے باوجود امریکہ اس کا ممبر نہ بنا۔ مشرقی یورپ میں جمہوریت نہیں بلکہ آمریت کی فتح کے دور کا آغاز ہوا اور کمیونزم اور فاشزم کی شکل میں بدترین آمرانہ نظام وجود میں آئے۔
امریکہ ایک بہت بڑی معاشی قوت تھا۔ پہلی جنگ کے بعد دُنیا کی کل پیداواری دولت (GDP) کا ۳۳ فی صد صرف امریکہ میں تھا جبکہ امریکہ کی آبادی کبھی بھی دُنیا کی آبادی کے 4 فی صد سے زیادہ نہ تھی۔ امریکہ کے سیاسی اثرات کی بنیاد اس کی معاشی قوت لیکن بڑی جنگوں کے درمیان بڑے شان دار آغاز کے باوجود امریکہ کا سیاسی کردار محدود رہا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد صورت حال مختلف تھی۔ یورپ کی تمام روایتی طاقتیں پڑ مردہ اور مضمحل تھیں۔ امریکہ نے دونوں جنگوں میں فیصلہ کن شرکت تو ضرور کی مگر خود میدان جنگ کبھی نہیں بنا۔ اس لیے اس تباہی سے محفوظ رہا جو جنگ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ قصہ مختصر یورپ اور ایشیا میدان جنگ تھے اور تباہ حال۔ اشتراکی روس بھی فتح کے با وجود زخم خوردہ تھا، مگر امریکہ بہت زیادہ تازہ دم رہا۔ اس لیے دوسری جنگ عظیم کے بعد اس کا عالمی کردار برابر بڑھتا گیا۔ اس دور میں بھی اس نے ایک نظریاتی پوزیشن اختیار کی۔ جس میں امریکہ اور روس کی سرد جنگ، نظریاتی سطح پر سرمایہ دارانہ جمہوریت اور اشترا کی آمریت کی جنگ بن گئی۔
معاشی گرفت، استعماری عزائم
سرمایہ داری، منڈی کی معیشت کی بالادستی(superiority) ، انسانی حقوق، آزادی اور جمہوری اداروں کی خوبیاں جیسے موضوع زیر بحث رہے۔ اس طرح سیاسی بالا دستی کی لڑائی کا ایک نظریاتی آہنگ بھی رہا۔ افغانستان میں روس کی شکست منتشر اور غیر موثر ہو جانے کے بعد امریکہ کے اہل علم اور حکمت عملی ساز اداروں نے دنیا کو یہی نعرہ دیا کہ”:اب لبرل ڈیموکریسی کو آخری بالادستی حاصل ہو گئی ہے۔ مارکیٹوں کی معیشت ہر مسئلے کا حل ہے اور امریکہ کو دنیا کے دوسرے نظاموں پر نظریاتی فتح حاصل ہوئی ہے۔ امریکہ کی حکومت نے جارج بش ہی کی صدارت میں اپنے” نۓعالمی نظام (New World Order) “کو شہ تاج کی حیثیت دے ڈالی اور بیسویں اور اکیسویں صدی کو امریکہ کی صدی قرار دینے کا نعرہ بلند کیا۔
مارٹی میرزوکر مین (Mortimir Zuckerman) چیف ایڈیٹریوایس نیوز اینڈ ورلڈ رپورٹ اور دی نیویارک ڈیلی نیوز کے ناشر اور چیئر مین ہیں، وہ مشہور رسالہ فارن افیرز میں A Second American Century کے عنوان سے رقم طراز ہیں اور ہمیں اس نتیجے پر پہنچانا چاہتے ہیں:
ساتویں صدی فرانس کی تھی، انیسویں برطانیہ کی، اور بیسویں امریکہ کی اور اب ۲۱ صدی بھی امریکہ کی ہوگی-
اس وقت دُنیا کی کل پیداوار میں امریکہ کا حصہ ۲۵ فی صد ہے جو گلے ۱۲ سال (۲۰۱۰ء) میں ایک اندازے کے مطابق کم ہو کر ۲۰ فی صد رہ جائے گا۔ لیکن پھر بھی کل دنیا کی پیداوار کے پانچویں حصے پر قابض ہونے کے باعث امریکہ توقع رکھتا ہے کہ اگلی صدی میں بھی اس کی سب سے بڑی معاشی قوت کی حیثیت برقرار رہے گی۔ معیشت کے ساتھ ساتھ ثقافت اور تہذیب و تمدن کے میدان میں بھی وہ دُنیا پر چھایا ہوا ہے۔ لباس میں جینیز کھانوں میں میکڈونلڈ‘پیزا ہٹ ‘(pizzahut) مشروبات میں کوکا کولا اور پیپسی اور فلمی دنیا میں ہالی ووڈ اور والٹ ڈزنی اسی عالمی غلبے کی علامتیں ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایٹمی اور خلائی استعداد پر اجارہ داری حقوق کے باب میں چودھراہٹ اور ایک تازہ امریکی قانون کے تحت مذہبی تفریق کے الزام پر دنیا کے دوسرے ممالک پر معاشی پابندیاں لگانے کا اختیار اس کے مقام کو وسعت دیتا ہے۔ اسی طرح منشیات اور تشدد یا دہشت گردی کے نام پر دُنیا کے دوسرے ممالک پر امریکی قوانین زبردستی نافذ کرنے کا زعم اور منصوبہ — یہ سب چیزیں پوری دنیا پر ایک عالمی طاقت کی بالا دستی کو بدستور قائم رکھنے کے منصوبوں کا حصہ ہیں۔
بلاشبہ امریکہ کے حکمرانوں کا ہدف امریکہ کو واحد اور نا قابل چینج عالمی قوت کے طور پر برقرار رکھتا ہے۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے سابق مشیر اور جان ہاپکن یونی ورسٹی کے پروفیسر ز گینو بریز نسکی نے اپنی کتاب میں اسے بڑے کھلے لفظوں میں بیان کیا ہے:
مختصر یہ کہ امریکہ کی پالیسی کا ہدف کسی معذرت کے بغیر دو طرفہ ہونا چاہیئے ‘اول: امریکہ کی غالب حیثیت کو کم سے کم ایک نسل اور ترجیحاً اس سے بھی زیادہ کے لیے برقرار رکھنا۔ دوم: ایک ایسی جغرافیائی سیاسی صورت حال پیدا کرنا جو سیاسی و اجتماعی تبدیلیوں کے دھچکوں اور تناؤ کو جذب کرے اور ساتھ ہی دُنیا کے پر امن انتظام کے لیے مشترکہ ذمہ داری کی جغرافیائی سیاسی بنیاد بن جائے-
اس سلسلے میں پروفیسر بریز نسکی، عسکری اور معاشی قوت کے ساتھ مخصوص نظریاتی اہداف کی حامل این جی اوز اور ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کے عالمی حال اور ہالی ووڈ کلچر کی عالمی یلغار کو بے حد ضروری سمجھتے ہیں۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری قرار دیتے ہیں کہ یورپ اور ایشیا سے کوئی مقابلے کی قوت نہ اُبھرنے پائے، یعنی:
یہ لازمی ہے کہ یورپ اور ایشیا سے اب کوئی چیلنج سامنے نہ آئے جو یورپ اور ایشیا پر غلبہ حاصل کرنے اور اس طرح امریکہ کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو-
تب ہی اس ہدف کا حصول ممکن ہو سکے گا جسے اس ساری تگ و دو کا حاصل اور اس کتاب میں ٹیپ کا بند کہا جا سکتا ہے:
اس لحاظ سے مکمل کامیابی واحد اور اول و آخر حقیقی عالمی قوت ہونے کی حیثیت سے امریکہ کے کردار کا قرار واقعی اظہار ہوگا۔ ہے
یہ تو ہیں امریکی قیادت کے عزائم!
لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس وقت دنیا کو جو چیلنج درپیش ہیں، کیا فی الحقیقت اس حکمت عملی سے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے؟
گذشتہ بارہ برسوں میں منڈی کی معیشت کی ایسی کمزوریاں ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہیں، جو سوچنے سمجھنے والے دماغوں کو مضطرب کیسے ہوئے ہیں۔ وہ کسی ایسے نظام کی تلاش میں سرگرداں ہیں’ جو منڈی کی معیشت کے مثبت پہلوؤں کی حفاظت کرتے ہوئے اس کے نتیجے میں رونما ہونے والے مسائل یعنی بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریوں علاقائی اور عالمی امیروں کا امیر تر اور غریبوں کا غریب تر ہوتے چلے جانے اور مالیاتی عدم استحکام کے تدارک کی راہیں بجھا سکے۔
معاشی تزلزل
دُنیا کے مالیاتی نظام عدم استقرار (unstability) کا شکار ہیں۔ یہ عمل دنیا کے بڑے بڑے ملکوں کی معیشت کو تہ و بالا کر رہا ہے۔ میکسیکو چار برس پہلے فرانس اور برطانیہ میں دو برس پہلے اور جاپان، کوریا انڈونیشیا، فلپائن، تھائی لینڈ ملایشیا ایک برس سے اس تجربے سے گزر رہے ہیں۔ ان معیشتوں کو سنبھالا دینے کے لیے آئی ایم ایف کا حل غیر موثر ہو گیا ہے۔ قرضوں کا بار بڑھ رہا ہے۔ خود امریکہ ۵ ہزار بلین ڈالر سے زیادہ کا مقروض ہے۔ ترقی پذیر ملکوں کا قرضہ ۲ ہزار ۲ سو بلین ڈالر سے بڑھ گیا ہے۔ وہ ہر سال صرف سود کی شکل میں ۲۶۰ بلین ڈالر ادا کر رہے ہیں، جو ان کو ملنے والی معاشی امداد اور سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا کی معیشت بلبلے کی شکل اختیار کر گئی ہے، جو اچانک کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے۔
آج صرف مبادلہ خارجہ کی سندات (derivatives) کی یومیہ تجارت ایک ہزار بلین ڈالر سے زیادہ ہے، جو اصل اشیا کی یومیہ عالمی تجارت سے ۳۰ گنا بڑھ کر ہے۔ اس طرح محض کاغذی اثاثے (assets) اور سٹے کی تجارت (speculation) کے ذریعے دنیا کے مالیاتی نظام پر چند بنک اور سرمایہ کار چھا گئے ہیں اور وہ جسے چاہیں چشم زدن دیوالیہ بنا سکتے ہیں۔ بات یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مشہور سٹہ باز جارج سورس (George Soros) بھی پکار اُٹھا ہے:
بین الاقوامی مالیاتی نظام منظم توڑ پھوڑ کا شکار ہے۔ صورت حال کو سنبھالنے کے لیے آئی ایم ایف کے پروگرام نتیجہ خیز نہیں ہوئے-
دوسرے الفاظ میں آج سرمایہ داری اور معاشی لبرلزم نئے عالمی پیغام کا عنوان بننے کی اہلیت کھو چکے ہیں۔
امریکہ کے اندرونی محاذ پر بھی غیر معمولی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اگر چہ کساد بازاری کے بعد اب معیشت رو بہ ترقی ہے لیکن یہ لہر ابھی وقتی اور غیر مستحکم ہے اور جاپان اور مشرقی ایشیا کے حالات نے اسے متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ بجٹ کا خسارہ ختم ہو رہا ہے مگر قرضوں پر سود کی شکل میں سالانہ ۲۸۰ بلین ڈالر کا بوجھ ہے۔ حکومت اور عام شہری قرض کے جال میں حسب سابق پھنسا ہوا ہے۔ یہ قرضے اب قومی دولت کا ۹۱ فی صد ہو گئے ہیں۔ اس سے بڑھ کر سماجی اور معاشرتی انتشار ہے۔
آبادی کی ترکیب (composition)مسلسل بدل رہی ہے۔ افریقی نسل کے امریکی کل آبادی کا ۱۲ فی صد ہیں ۶ فی صد ایشیائی ہیں، میکسیکو اور لاطینی امریکہ سے اتنے لوگ آگئے ہیں کہ بستیوں کی بستیاں ہسپانوی زبان اور کلچر کا گہوارا بن گئی ہیں۔ ملک کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا کہ کھل کر ایک کثیر لسانی بکیر نسلی کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک کی حیثیت سے سوچے اور ترقی کرے۔ ساری قانونی اور اداراتی اصلاحات کے باوجود نسلی تفریق ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کے نتیجے میں مزاحمتی اور تصادم آمیز کیفیت رونما ہو رہی ہے۔
بڑی طاقتیں جس سماجی ارتباط اور اتصال (cohesion) کی بنا پر اندرونی تناؤ اور ٹکراؤ سے محفوظ رہی ہیں، وہ اب باقی نہیں۔ جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور خاندان کا شیرازہ منتشر ہو رہا ہے۔ جذباتی ہیجان، ذہنی امراض اور جنسی بیماریاں معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔ جذباتی اور روحانی خلا ایمان کی کمی مشترک عزائم کا فقدان تہذیب تمون کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ فوج کیل کانٹے سے لیس ہے مگر لڑنے کے جذبے اور قربانی کی دولت سے محروم ہے۔ جس کا تجربہ دیت نام ہی نہیں البتان اور صومالیہ میں ہو چکا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ انسان کے بجائے مشینی جنگ پر انحصار بڑھ رہا ہے کے یہ پیلو متعلقہ حالات کا دوسرا رخ پیش کرتے ہیں، جن کی روشنی میں امریکی معاشرے میں اسلامی دعوت کے کام کی اہمیت بالکل ایک دوسری نوعیت اختیار کر لیتی ہے۔
امریکہ میں مسلمان
تاریخی اعتبار سے مسلمان کئی ادوار میں براعظم امریکہ میں آئے۔ پہلی اہم ترین لہرا چین سے اُبھری اور جنوبی وسطی امریکہ تک پہنچی۔ پھر انیسویں صدی میں یورپ، شرق اوسط اور وسطی ایشیا سے مسلمان اس سرزمین پر آئے لیکن ان دونوں لہروں کے اثرات بہت جلد کمزور بلکہ معدوم ہو گئے۔ پھر ایک لہر وہ تھی جس میں افریقہ کے مسلمانوں کو غلام بنا کر لایا گیا ۔ ان سے ان کی آزادی کے ساتھ ان کا دین ان کی زبان ان کی تہذیب ہر چیز چھین لی گئی۔ آج کے افریقی امریکی (Afro- Americans) اس دور کی پیداوار ہیں اور اب اپنی اصل (roots) کی تلاش میں ہیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد اور خصوصیت سے گذشتہ میں برسوں کے دوران بڑی تعداد میں مسلمان دُنیا کے گوشے گوشے سے امکانات کی اس سرزمین پر آئے۔ اس طرح تقریباً ۷۰ لاکھ مسلمان شمالی امریکہ میں مکین ہیں، جو آبادی کا سو فی صد بنتے ہیں۔ اسلام اور مورمون مذہب دو تیزی سے پھیلنے والے مذاہب شمار کیے جاتے ہیں۔ ایک ہزار سے زیادہ مساجد آباد ہیں اور ہر علاقے میں مسلمانوں کے دینی تعلیمی، رفاہی ادارے قائم ہو رہے ہیں ۔ ملک میں بنیادی آزادیاں سب شہریوں کو حاصل ہیں۔ باہر سے آنے والے مسلمان بالعموم تعلیم یافتہ اور ہنرمند ہیں، اس لیے سوسائٹی میں وہ ایک مقام حاصل کر رہے ہیں اور ان شاء اللہ آہستہ آہستہ ایک موثر قوت کی شکل اختیار کر لیں گے۔
شروع میں باہر سے آنے والے مسلمانوں کا خیال تھا کہ ان کا قیام عارضی ہے اور تعلیم یا ملازمت کی ایک مدت پوری کرنے کے بعد اپنے اپنے وطن کو لوٹ جائیں گے۔ لیکن ان میں برسوں میں جو جو ہری فرق واقع ہوا ہے وہ یہ ہے کہ مہاجرت” کی ذہنیت تقریباً ختم ہو گئی ہے۔ ان میں یہاں آباد ہونے اور اس زمین کا حصہ بن کر اپنا کردار ادا کرنے کا تصور جڑ پکڑ گیا ہے۔ باہر سے آئے ہوئے مسلمان اور مقامی مسلمان دونوں مل کر ایک مضبوط مسلم کمیونٹی بننے کا داعیہ رکھتے ہیں۔
علیجاہ محمد کی بلیک مسلم تحریک کا ایک حصہ اب بھی کچھ تبدیلیوں کے ساتھ نیشن آف اسلام کے طور پر فرحان کی قیادت میں کام کر رہا ہے۔ لیکن ان کے بڑے بڑے گروہ یا افراد اپنے طور پر حقیقی اسلامی تعلیمات کا سراغ پا کر مسلمانوں کی سی زندگی بسر کرنے اور ایک الگ برادری وجود میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں یا بقیہ مسلم آبادی میں ضم ہو رہے ہیں۔ اس طرح اپنی شناخت رکھنے والی ایک مسلم برادری وجود میں آرہی ہے۔ اب اسلام امریکہ کی سرزمین پر کوئی باہر سے درآمد قوت نہیں، بلکہ اس ملک کا ایک حصہ ہے۔
یہ بڑی اہم تبدیلی ہے جسے میں نے اپنے سفیر امریکہ میں محسوس کیا ہے۔
اسلام‘عمل اور امن کا نام ہے
’اسلام ‘اور’مسلمان ‘کا رشتہ بڑا نازک ہے۔ بلاشبہ مسلمان وہ ہے جو اسلام کو قبول کرنے اپنی زندگی اللہ کی بندگی میں دے۔ وہ اپنی زندگی ان مقاصد کے لیے وقف کر دے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی زندگی کے مقاصد مقرر کیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان اسلام کے تابع ہے اسلام مسلمانوں کے تابع نہیں۔ جن مغربی مفکرین نے اسلام کی یہ تعریف کی ہے کہ اسلام وہ ہے جو کچھ مسلمان کریں” جیسے الفریڈ کینٹ دل اسمتھ) انھوں نے بڑی ٹھو کر کھائی ہے۔
مسلمانوں کو اسلام کا نمونہ ہونا چاہیے اور معیاری اور مطلوبہ مسلمان وہی ہے جس کی زندگی اسلام کی عکاس اور آئینہ دار ہو ۔ اسلام تو ایک معیار اور کسوٹی ہے۔ یہ اللہ کی ہدایت کا نام ہے۔ یہ وہ دین ہے جو تمام انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالی نے اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے اور اپنی مکمل شکل میں اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بھیجا اور جو اپنی اصل شکل میں قرآن وسنت میں محفوظ ہے۔ مسلمان رہ ہیں جن کو یہ امانت سونپی گئی ہے۔ انھیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خود بھی اس دین پر چلیں اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں اسے قائم کرنے کی جدوجہد کریں اسے پوری انسانیت تک پہنچا میں اور شہادت حق کا فریضہ انجام دیں۔ اسلام کوئی نسلی مذہب نہیں ہے اور نہ اس پر مسلمانوں کی اجارہ داری ہے۔
خود قرآن نے کہا ہے کہ اگر تم اس دین کا حق ادا نہیں کرو گے تو ہم دوسروں کو یہ ذمہ داری ادا کرنے کے لیے مامور کر دیں گے۔ کتنے ہی سرفراز ہیں جو پس پردہ چلے جائیں اور کتنے ہی پیچھے ہیں جو قیادت سے سرفراز کیے جائیں گے ۔ بنی اسرائیل کو امانت مم خیانت کے جرم میں امامت سے معزول کیا گیا اور اُمت مسلمہ کو اس منصب پر فائز کیا گیا۔ خود مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح مختلف علاقوں، قوموں اور نسلوں کو بلند و پست کیا جاتا رہا اور؎
پاسباں مل گئے کہے کو صنم خانوں سے
جس طرح اللہ رب المشرقين ورب المغربين ہے رب العالمین ہے اور ہمارے قائد در ہنما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمام انسانوں کے لیے اللناس اجمعین) مبعوث کیے گئے اور تمام عالموں کے لیے رحمت ہیں، اسی طرح یہ امت بھی کسی ایک علاقے اور جغرافیائی حصے کی اسیر نہیں ۔ ساری زمین اللہ کی ملک اور حضور اکرم کے ارشاد کے مطابق مسجد کے مانند ہے۔ مسلمان کا یہ حق ہی نہیں بلکہ اس پر فرض ہے کہ وہ زمین کے ہر ہر چے تک اسلام کے پیغام کو پہنچائے اور وہاں اسلامی زندگی کے قیام کی کوشش کرے۔ اسلام کے اس پیغام اور اس تصور کو دور حاضر کی اسلامی تحریکات نے بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کیا ہے اور الحمد للہ! آج پوری دنیا میں مسلمان بڑی حد تک اس تصور کی علم برداری کر رہے ہیں۔
پوری دنیا دار الدعوت
فقہا نے اپنے دور میں دارالاسلام، دار الحرب، دارالکفر اور دارالامن کی جو اصطلاحات وضع کی تھیں وہ مینی بر حق تھیں۔ لیکن آج کے حالات میں دُنیا کے تمام ہی ممالک کے اقوام متحدہ کی رکنیت اختیار کرنے ایک دوسرے کو قبول کرنے اور باہم سفارتی تعلقات اور تجارتی معاملات استوار کرنے، نقل و حرکت کے ضوابط میں اشتراک اور قانون کی بالا دستی اور حقوق کی ضمانت کے باب میں خاص روایات قائم ہو جانے سے جو صورت پیدا ہوئی ہے۔ اس کو سامنے رکھ کر دعوت اسلامی کے مقاصد کے حصول کے لیے مناسب حکمت عملی کی تشکیل ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مشہور عالم اور دائی علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے پوری دنیا كو دار الدعوۃ قرار دیا ہے۔ دور رسالت مآب میں حبشہ کے بارے میں جو رویہ اختیار کیا گیا وہ ہمارے لیے مثال ہے۔ بعد میں صحابہ کرام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے مسلمان تاجر داعی اور مبلغ دنیا کے گوشے گوشے میں گئے۔ انھوں نے وہاں پر اسلام کا پیغام پہنچایا، مسلمان بستیاں قائم کیں جو فروغ اسلام کی تحریک کا بیج بن گئیں۔ گجرات موپلہ اور سری لنکا سے لے کر کینٹن اور شنگھائی تک مسلمان بستیاں وجود میں آئیں ۔ اس اریخی روایت کی روشنی میں امریکہ یورپ اور دوسرے ممالک میں دعوت اسلامی کو منظم داز میں پیش کرنے اورمسلم آبادیوں کومنظم اور مضبوط کرنے کے مسائل پرغور ہونا چاہیے۔
مغرب اور اسلام کے تعلقات
ایک اور نازک مسئلہ اُمت مسلمہ اور مغربی اقوام کے تعلق کا ہے۔ مغرب اور خود امریکہ کے ہاتھوں مسلم دنیا پر جو قیامت ٹوٹی ہے اور جو کچھ گزر رہا ہے وہ ایک حقیقت ہے۔ اس صورت حال کا سامنا کر کے راستہ نکالنا مسلم عوام مسلم ائی قیادت مسلم دانش اور مسلم حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔
اس سلسلے میں سب سے پہلی اور بنیادی احتیاط یہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی حکومتوں اور وہاں کے عوام میں فرق کو کھوظ رکھا جائے۔ ہماری تنقید کا رف ان ممالک کی قیادتیں اور ان کی سامراجی اور ظالمانہ پالیسیاں ہیں۔ جس طرح اللہ کے رسولوں نے گمراہ قوموں سے برسر جنگ ہونے کے باوجود ان قوموں کے عوام الناس تک دعوت پہنچائی ان کو جہنم اور کفر کی آگ سے بچانے کی خدمت پوری دل سوزی اور ہمدردی سے انجام دی۔ بالکل اسی طرح ایک صاحب دعوت اُمت کی حیثیت سے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھی وہاں کے عام انسانوں کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نہ بجھیں بلکہ ان ت اسلام کا پیغام پہنچانے اور اصلاح کی کوشش کریں۔
یہ بڑا نازک کام ہے مگر یہ دونوں کام اپنے اپنے طور پر صحیح خطوط پر انجام پانے چائیں اور کسی ایک کو دوسرے پر قربان کر دینا صحیح نہیں ہوگا۔ دعوت دین تو ہمیں ظالم اور جابر حکمرانوں تک بھی پہنچانی ہے، لیکن حکمرانوں کے قلم کی وجہ سے عوام سے کٹ جانے یا ان کو متاثر کرنے اور اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش نہ کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی۔ یہ کام تو مسلمانوں کو ہر حال میں کرنا چاہیے۔ ایک جمہوری معاشرے میں اس کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
اس لیے کہ اس طرح ہم عوام میں اپنے ہم نوا پیدا کر سکتے ہیں اور خود حکومتی پالیسیوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمان انصاف کے علم بردار بنیں، معاشرے کے مظلوم انسانوں کا سہارا بنیں، ظلم و عدوان جہاں بھی ہو اور جس شکل میں ہوا ہم اس کے خلاف نبرد آزما ہوں۔ سوسائٹی کے اصل اخلاقی، معاشی، سیاسی، تہذیبی مسائل کو سمجھیں اور لے کر اُٹھیں۔ لوگ ہمیں صرف واعظ ہی کی صورت میں نہ دیکھیں بلکہ ہم مظلوم کی زبان بن جائیں، کمزوروں کے لیے سہارا بنیں اور ان کو تقویت دینے کا باعث ہوں تا کہ سب مل کر نیکی اور انصاف کو پروان چڑھا سکیں۔
اگر ہم دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا معاملہ کرنے والے بن جائیں تو دشمن بہت جلد ہمارا حلقہ بگوش ہو سکتا ہے۔ ہم صرف مسلمانوں کے حقوق کے علم بردار نہ بنیں، بلکہ ہمیں تو تمام انسانوں کے لیے حق و انصاف کی علامت ہونا چاہیے۔ اسی وقت وہ تبدیلی آسکے گی جو ایک طرف تعصب اور جہالت کے پردوں کو چاک کر دے تو دوسری طرف مخالف کے دلوں کو مسخر کر لے۔
مکی دور کا یہ واقعہ ہمارے لیے ایک راہ نما مثال کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کہ ابو جہل نے اس سے دو قیمتی اونٹ خریدے ہیں مگر ہر طرح کوشش کے باوجود اس کو رقم ادا نہیں کر رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے ساتھ ابو جبل نے گھر پر آئے دروازہ کھٹکھٹایا اور جب ابو جہل باہر نکلا اور آپ کو دروازے پر دیکھا تو ہکا بکا رہ گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا:” کیا تم نے اس سے اُونٹ خریدے ہیں؟ “اور جب جواب اثبات میں ملا تو آپ نے فرمایا کہ:” پھر اس کے پیسے کیوں ادا نہیں کرتے۔ اسے اس کا حق ادا کر دو! “ابو جہل خاموشی سے گھر میں گیا اور قیمت ادا کر دی۔
امریکہ ہی نہیں، ساری دُنیا کے مسلمانوں کو اسوہ رسول کے اس پہلو سے لامتناہی مور ابدی روشنی حاصل کرنا چاہیے۔
مسلم عالم گیریت
امت مسلمہ کی وحدت اسلام کا عظیم عطیہ ہے۔
قومی ریاست کے اس دور میں قومی اور جغرافیائی حد بندیوں کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن ان کا اسیر بن جانا بھی بہت بڑا سانحہ ہوگا۔ مسلمانوں کو اعتدال کی راہ اختیار کرنا ہے۔ وہ جہاں بھی ہوں ان کے لیے ضروری ہے کہ ایک طرف وہ اس ملک اس قوم اور وہاں کے مسلمانوں اور تمام انسانوں کے حقوق ادا کریں اور دعوت اسلامی کو اپنی زندگیوں کا مرکز و محور بنا ئیں۔ دوسری طرف اُمت مسلمہ سے اپنا رشتہ اور تعلق استوار رکھیں۔ وہ اپنی تہذیبی جڑوں کو نہ بھولیں۔ اُمت کے مسائل اور مشکلات کو اپنے سائل اور مشکلات سمجھیں اور ان مسائل کے حل اور مشکلات کو رفع کرنے کے لیے مقدور بھر کوشش کریں۔
ان دونوں پہلوؤں کے اور اک اور مناسب اقدام کے ذریعے ہی ہم اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتے ہیں۔
شہادت حق کے چار نکات
ہر جگہ کے مسلمانوں کو سمجھنا چاہیے کہ وہ جہاں ہیں ان کے لیے اولیس میدان کار دی علاقہ ہے۔ وہاں ان کو شہادت حق اور اقامت دین کی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے موثر کوشش کرنی اور مضبوط ادارے تشکیل دینے کی فکر کرنی چاہیے۔ اس سلسلے میں چار امور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں:
اول: اپنی اصلاح: اپنے اخلاقی دینی اور تہذیبی تشخص کی حفاظت اور اپنی اصلاح کی فکر کرنا۔ اسلامی عمارت کا سب سے بنیادی پتھر فرد ہے۔ مسلمان مرد ہو یا عورت بچہ ہو یا بوڑھا وہ اگر اچھے انسان اور اسلام کا اچھا نمونہ بن سکیں تو اسلامی دعوت اور ہماری دوسری تمام دینی و اجتمای سرگرمیاں بارآور ہوں گی۔ اس لیے دعوت کے اہداف میں سب سے پہلا ہدف اچھا انسان اور اچھا مسلمان بنٹا اور بناتا ہے۔
دوم: مسلم خاندان: خاندان کے نظام کو آج ساری دنیا ہی میں شدید چیلنج در پیش ہیں، لیکن امریکہ اور یورپ میں تو بڑی منظم اجتماعی تحریکیں خاندان کے ادارے کو تباہ کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ اس جنگ کو بڑے سائنسی انداز میں، غیر محدود وسائل کے بل بوتے پر لڑ رہی ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ تہذیب و تمدن کا مستقبل آج داؤ پر لگا ہوا ہے۔
اگر کسی قوم میں خاندان کا نظام تباہ ہو جاتا ہے تو پھر کوئی چیز اس قوم کو تباہی سے نہیں بچا سکتی۔ مسلم خاندان کی حفاظت اور اس کی ترقی امریکہ میں خاص طور پر بڑا اہم ہدف ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خاندان کے نظام کو ان اصولوں پر منظم و مرتب کیا جائے جو قرآن و سنت میں مرقوم ہیں۔ رواج اور عرف“ میں بہت سی چیزیں صحیح اور ضروری ہیں، لیکن بہت سی چیز میں علاقائی یا تاریخی اثرات کے تحت ایسی بھی داخل ہو گئی ہیں جو حق پر مبنی نہیں۔
اسلام نے خاندان کے نظام کو مرکزی اہمیت دی ہے اور اسے جس عمومی تقسیم کار پر قائم کیا ہے۔ اسے افراط و تفریط سے بچتے ہوئے اسلامی احکام اور ان کی روح کے مطابق ترقی دینے کی ضرورت ہے۔ اس نظام کو شورٹی کے اسلامی اصولوں کے مطابق چلنا چاہیے۔ حقوق وفرائض میں جو توازن اسلام نے قائم کیا ہے، اسے پورے طور پر ٹوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایمان، اخلاق، تعلیم اور اچھی مثال وہ ستون ہیں جن پر یہ نظام قائم ہوتا ہے۔ اپنے اور اپنے اہل اولاد کو جہنم کے عذاب سے بچانا ہماری ذمہ داری ہے قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (التحريم ۶:۲۶) گھر کو اہمیت دینا اہل خاندان کو وقت دینا اور صرف نان و نفقہ ہی نہیں، ان کی تعلیم و تربیت کی فکر کرنا چاہیے۔ پھر مل جل کر ایک ایسا گھرانا تشکیل دینا چاہیئے جہاں معاملات قرآن و سنت کی ہدایات کے مطابق انجام دیے جا میں۔ جس کا ہدف اسلامی نمونے کے مطابق اور ہر ہر ملک کے حالات کے مطابق اپنا کردار ادا کرتا ہو۔ بلاشبہ اس میں ماں کا کردار بڑا کلیدی ہے ۔ تاہم اس ضمن میں باپ بزرگ اور جوان ہر ایک کو اپنا رول صحیح صحیح ادا کرنا چاہیے۔ ورنہ ہم بھی ان تباہیوں سے نہ بچ سکیں گے جو فطرت سے انحراف کا لازمی نتیجہ ہیں۔
سوم: مسلم کمیونٹی کا قیام: اسلام جہاں انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ انفرادی جدو جہد کی تلقین کرتا ہے وہیں جماعت کے قیام اور اجتماعی اور منظم جد وجہد کو بھی اسلامی زندگی کا لازمی حصہ بلکہ امتیازی تشخص قرار دیتا ہے۔ اسلام پر مبنی اجتماعی زندگی کے بغیر مسلمان امت کا کوئی وجود نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے اجتماعی جدوجہد ہو۔ اس کے لیے ایسے ادارے قائم کیے جائیں جن کے ذریعے سوسائٹی مستحکم ہوتی ہے۔ مسجد مدرسہ وقف خدمت خلق کے ادارے دعوت و تبلیغ کا نظام اجتماعی کفالت کے ادارے تعلیم ہنرمندی (skills) اور تحقیق کا اہتمام ثالثی اور قضاء قانون کی بالا دستی اور آخر کار ایسا انتظام کہ ریاست کی قوت قاہرہ اسلام کے تابع ہو سکے۔ ان میں سے جو ادارے جہاں کہیں قائم ہو سکتے ہیں، ان کی فکر کرنا۔ شوریٰ کی بنیاد پر مسلم معاشرے کو مربوط و متحد کرنا اسلامی زندگی کے فروغ کے لیے ضروری اور مطلوب ہے۔
چهارم: اُمت مسلمہ سے ربط و تعلق: مختلف کمیونٹیز میں تعاون، مختلف علاقوں اور ممالک میں رابطہ عالمی اداروں کا قیام اور ان سے تعاون اُمت کے مسائل اور معاملات کا فہم و ادراک اور ان کے حل کے لیے مناسب تعاون’ عالمی سطح پر اسلامی احیا اور قیام دین کی جو جد و جہد ہو رہی ہے اس کو تقویت پہنچانے کی کوشش کرنا ۔ مسلمان دنیا میں جہاں بھی ہوں، انھیں اس فریم ورک میں اپنے اہداف اور ترجیحات متعین کرنی چاہیں ۔ جو کچھ قابل حصول ہو اس کے لیے کوشاں اور سر گرم عمل ہونا چاہیے۔ جو ابھی قابل حصول محسوس نہ ہو اس کے لیے متفکر اور سرگرداں رہنا چاہیے۔
امریکہ میں مسلم تنظیموں کا لائحہ عمل
امریکہ کے مسلمانوں اور ان کی تنظیموں کی قیادت کو ہم خاص طور پر اس طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں، کہ انھیں اسلام کی ابدی تعلیم اور مسلمانوں کی شان دار روایات کی روشنی میں اپنے حالات کے مطابق لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے۔ جو چیزیں منصوص ہیں ان کے بارے میں کسی سمجھوتے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ ان پر ہماری دنیا اور آخرت کا انحصار ہے اور ان کے ذریعے ہمارا جدا گانہ تشخص قائم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ چند باتوں کا اہتمام ضروری ہے:
ا- تعاون اور احترام: ایسی آبادیوں میں جہاں مسلمان دُنیا کے مختلف علاقوں سے آئے ہیں وہ اپنے ساتھ یقینا اپنے اپنے علاقے کی روایات اور رسوم اور مسائل اور اُلجھنیں بھی لائے ہیں۔ اس ذیل میں اصولی اور اہم فروعی اور جزوی میں فرق بہت ضروری ہے۔ اسی طرح محمل بردباری اور ایک دوسرے کے لیے دل ہی میں نہیں، تنظیم اور معاشرت میں بھی جگہ بنانا بہت ضروری ہے-
امریکہ میں مقامی مسلمانوں اور خصوصیت سے افریقی امریکی مسلمانوں کی قابل ذکر موجودگی کی وجہ سے ان کو ساتھ لے کر چلنے انھیں عزت اور محبت کا مقام دینے ان کی روایات اور مشکلات کا احساس کرنے، ہمدردی اور حکمت کے ساتھ مل جل کر رہنے اور نئے ادارے فروغ دینے کا کام اشد ضروری ہے۔
مسلمانوں کو چھوٹے چھوٹے جزیزوں میں نہیں بٹ جانا چاہیے۔ الگ جزیرے ہوں تو ان میں باہمی ربط و ارتباط کے ذریعے رشتے استوار کرنا اور اس طرح اتحاد اور وسعت التیار کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم ایک ہم مزاج (homogenous) برادری کی تصویر نہیں بن سکتے تو اسلام کے عالمی پیغام کو کیسے پیش کر سکیں گے؟ دین اور رسم و رواج کا فرق اور مسلم معاشرے کے تنوع کے درمیان وحدت اور یکسانی کی تلاش اور قیام ہے اہم چیلنج ہیں ۔
۲ – خواتین کا مسئله : خواتین کا رول بھی معاشرے کا اہم مسئلہ ہے۔ آج کی دُنیا میں محض یہ مثالیں دینا کافی نہیں کہ اسلام نے عورتوں کو زندہ دفن کرنے جیسے قبیح فعل کو حرام قرار دیا اور انھیں عزت کا مقام دیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شریعت کی حدود کا احترام کرتے ہوئے مسلمان مرد اور عورت دونوں خاندان کے ادارے کے تحفظ اور معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری ادا کرنے کا کام انجام دیں۔ گھروں میں مشاورت کا نظام قائم کیا جائے ۔ عورتوں کی اسلامی ہی نہیں عمومی تعلیم کا اہتمام ہو ۔ حجاب کی حدود میں رہتے ہوئے دُنیا میں ایک مثالی معاشرے کی تصویر پیش کی جائے تا کہ بعضهم اولیاء بعض (المائدہ ۵۱:۵) کو عملی شکل میں دیکھا جاسکے۔
۳- نئی نسل کے لیے فکرمندی: بچوں کی تعلیم و تربیت خصوصی توجہ چاہتی ہے۔ اس کا آغاز بالکل فطری طور پر گھر اور خاندان کے ماحول میں ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اسلامی اسکولوں اور کالجوں کا قیام اور اسلامی خطوط پر مسلمان بچوں اور بچیوں اور نوجوانوں کے لیے مناسب اور موثر تنظیموں کا قیام ضروری ہے۔ جو دینی تعلیم و تربیت کا کام بھی انجام دیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی عمر ذوق اور ضرورت کے مطابق انھیں مختلف النوع سرگرمیوں کے بھر پور مواقع فراہم کریں۔ الحمد للہ نو جوانوں کی تنظیموں کی تو فکر کی جا رہی ہے لیکن چھوٹے بچوں خصوصیت سے ۸-۹ سال سے لے کر ۱۲-۱۳ سال تک کے بچوں اور بچیوں کے لیے مناسب ادارے موجود نہیں۔ ان کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
۴ – دعوت، تعلیم اور تحقیق: مسلمانوں کو تعلیم و تحقیق کے میدان میں دوسروں سے بڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ کل کی مسلم برادری بہترین صلاحیتوں سے آراستہ ہو اور ایک جان دار قیادت وجود میں آ سکے۔ اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ مسلمانوں کی مستقبل کی مذہبی قیادت امریکہ اور اسی طرح یورپ اور دوسرے ممالک میں وہیں کے لوگوں میں سے رونما ہو۔ اس کے لیے ٹھوس دینی تعلیم اور جدید ذرائع ابلاغ و دعوت کی تعلیم ضروری ہے۔ علاقائی یا ملکی سطح پر ایسے اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔
۵ ـ اسلامی لٹریچر: امریکہ میں دیدہ زیب مدلل اور موثر اسلامی لٹریچر کی تیاری اور اس کے لیے کام کرنے والے اداروں اور افراد کار کی تیاری اہم کام ہے۔ الحمد للہ اس مرتبہ بچوں کے لیے نیا لٹریچر میرے علم میں آیا۔ نیز اس معاشرے سے متعلق موضوعات پر بھی نئی کتب اور نئے سمعی و بصری لوازمات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن ابھی یہ ضرورت کا دس فی صد بھی پورا نہیں کر رہے۔ امریکہ اور یورپ کے لیے دوسرے علاقوں میں تیار کردہ لٹریچر کی افادیت ہے، مگر صرف ایک حد تک ۔ اس کی بھی ضرورت ہے کہ موجودہ لٹریچر کو از سرنو مدون کر کے پیش کیا جائے۔ اصل ضرورت نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی اور نئے لٹریچر اور جدید ٹکنالوجی پر مبنی لوازمے کی فراہمی ہے۔ ان سب کاموں کے لیے سب تخظیموں کو مل کر منصوبے بنانے چاہئیں اور کام کو باہم تقسیم کر کے وقت کی ضرورت کو پورا کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ امریکہ جیسی بڑی مارکیٹ کے لیے مناسب مارکیٹنگ اداروں کا قیام از بس ضروری ہے۔
۶ ـ معاشی خود انحصاری: مسلم برادری کو حرام سے بچانے حلال کو فروغ دینے اور معاشی خود انحصاری پیدا کرنے کے لیے نئے اداروں کا قیام اور باہمی تعاون سے مسلمانوں کے تجارتی نیٹ ورک کا قیام ضروری ہے۔ اس سلسلے میں افریقی امریکی مسلمانوں کے مسائل بہت کمھیر ہیں۔ جیلوں میں قبول اسلام کی تحریک الحمدللہ بہت قوی ہے لیکن جیلوں سے باہر آنے کے بعد ان نو مسلموں کو معاشرے میں سمونے اور معاشی اعتبار سے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے مناسب انتظامات کی شدید کمی ہے۔ اس طرف فوری توجہ درکار ہے۔
۷ – مسلم میڈیا: مسلم میڈیا کی ترقی وقت کی آواز ہے۔ اس کے لیے مسلمانوں کا اپنا میڈیا بھی ضروری ہے اور امریکہ کے قومی میڈیا میں مسلمانوں کا نفوذ بھی ۔ امریکہ میں انٹرنیٹ پر چلنے والے اسلامی پروگرام میں نے دیکھئے اس سے بے حد مسرت ہوئی۔ لیکن ضرورت تو ہر میدان میں مسلمانوں کے موثر وجود تشخص اور اعلیٰ فنی مہارت کی ہے اور یہ ممکن بھی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ منظم انداز میں اس کی نظر کی جائے۔ نو جوانوں کو کیریر پلاننگ میں مدد دی جائے تاکہ وہ مسلم برادری کی ضرورت کے مطابق اپنی ترجیحات مقرر کریں۔
۸- دعوت و عمل کی لگن: مقامی آبادی میں کام کرنے سوسائٹی کے ہر فیقے سے روابط رکھنے اور انھیں صرف تبلیغ ہی نہیں، بلکہ اپنی مثال اور مسلم اداروں اور تنظیموں کے کاموں میں شریک کر کے اسلام اور مسلمانوں کے قریب لانے کی ضرورت ہے۔ اسلام میں کوئی مشنری طبقہ نہیں اور نہ عیسائیت کی طرح کوئی مذہبی انٹیلشمنٹ ہے۔ یہ تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے محلے دفتر اور فیکٹری میں اپنے اسکول، کالج اور یونی ورسٹی میں، غرض وہ جہاں بھی کام کر رہا ہے اپنے قول و عمل سے دعوت دین کا کام کرے۔ دوسروں میں دلچسپی لئے ان کی ہمدردی حاصل کرئے ان کی مشکلات میں مدد کرے اور مشترک مفاد کو بنیاد بنا کر انھیں اپنے اور اپنے دین سے قریب لائے۔ سوسائٹی کے مشترک اجتماعی مسائل کو اٹھائے اور بتائے کہ اسلام کے ذریعے کس طرح فرد کی روحانی اور اخلاقی زندگی اور معاشرے کی اجتماعی زندگی بلکہ پوری دنیا کا نظام بہتر بن سکتا ہے۔ آج امریکی معاشرے کے پاس خود اپنے افراد کو یا عالمی سطح پر عام انسانوں کو دینے کے لیے کوئی پیغام کوئی مثال کوئی نمونہ نہیں ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم اسلام کو وہ پیغام دہ مثال اور وہ نمونہ بنانے کی کوشش کریں۔
۹ – جمہوری عمل میں حصہ: امریکہ کی اجتماعی زندگی، قومی اور بین الاقوامی معاملات پر ملک اور اس کی قیادت کی پالیسیاں بھی ہماری دلچسپی کا مرکز ہونا چاہیں ۔ جمہوری معاشرے میں ان کو متاثر کرنے کے واضح طریقے ہیں۔ ان طریقوں اور راستوں کو دوسرے کے لیے چھوڑ دینا کوئی عقل مندی نہیں ۔ مسلم امت کے مسائل کے بارے میں بھی ہمدردانہ رویہ پیدا کرنا اور اصل حقائق کو دلائل کے ساتھ پیش کرنا پڑا اہم میدان کار ہے۔ امریکہ اور اس کے عوام اور ملت اسلامیہ کے درمیان بہت سے معاملات پر اشتراک مفاد ہے۔ اگر ایک چھوٹا سا مخصوص گروہ امریکہ کو ناک سے پکڑ کر اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکتا ہے تو کیا دُنیا بھر کے مسلہ انوار سے دوستی امریکہ کے مفاد میں نہیں؟
امریکہ میں ہی نہیں، تمام مغربی ممالک میں رہنے والے مسلمان ان ممالک اور مسلم اُمت کے درمیان پل کا کام دے سکتے ہیں۔ وہ دنیا سے تصادم اور ظلم کو کم کرنے اور تعاون اور مل جل کر رہنے کی راہیں ہموار کرنے میں ایک موثر اور اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، یہ قول علامہ اقبالؒ ؎
وقت فرصت ہے کہاں، کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے



