ArticleIslamIslamic ThoughtMedia Article

ایک کتاب انقلاب

تفہیم القرآن سے میرا تعلق اسی نوعیت کا ہے جس نوعیت کا تعلق ایک شاگرد اور استاد اور راہی اور راہبر کے درمیان ہوتا ہے۔ میں نے اس کی سطر سطر کا بغور مطالعہ کیا ہے اس نے انگلی پکڑ کر میرے فکر وعمل کی قدم بہ قدم راہبری کی ہے۔ ایک ایسی کتاب کے بارے میں ایک ایسا شخص جو کچھ بھی عرض ومعروض کرے گا اسے اصطلاحی معروضیت سے کوئی نسبت نہیں ہو سکتی۔ جس طرح ایک شخص اپنی آپ بیتی معروضی ہو کر نہیں لکھ سکتا، اسی طرح میں بھی اس کتاب کے بارے میں معروضی نہیں ہو سکتا جس کی مدد سے میں نے سوچنے کے طریقے سیکھتے ہیں اور جس نے میری زندگی کے رخ کو بدلنے اور نیا رخ متعین کرنے میں فیصلہ کن کردارادا کیا ہے۔

 لیکن اس اعتراف کے ساتھ ساتھ میں یہ کہنے کی جسارت بھی کروں گا کہ جس طرح ایک استاد کا صحیح نقاد اور قدردان ایک شاگرد ہی ہو سکتا ہے اسی طرح شاید میں بھی اگر ان بے شمار افراد کی طرح جن کی زندگیوں میں یہ کتاب انقلاب برپا کرنے کا ذریعہ بنی اس کی قدر وقیمت کو ایک حد تک متعین کرنے کی سعی کروں تو یہ سعی رائیگاں نہ ہوگی۔ اور پھر اگر شاگرد کو کسی نہ کسی درجے میں بہت سے دوسرے اساتذہ سے بھی سابقہ پڑا ہو اور ایمان داری کے ساتھ موازنہ ومقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو اس کی شہادت استاد کے مقام اور رتبے کو سمجھنے میں کچھ نہ کچھ مدد ضرور دے سکتی ہے۔ آج ایسا ہی ایک شاگرد خود استاد کے بارے میں کلام کرنے کی جرات کر رہا ہے اور بے اختیار یہ کچھ کہنے پر اپنے کو مجبور پاتا ہے۔

تفسیر قرآن …. اسلامی فکر کا آئینہ

ملت اسلامیہ کی زندگی قرآن پاک سے وابستہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جس نے اس ملت کو وجود بخشا ہے اور جو ہر لحظہ اس کو سنبھالے ہوئے ہے۔ یہ اس کشتی کو چلانے والی قوت بھی ہے اور اس کو تھامنے والا لنگر بھی۔ اسی نے اس کے مخصوص مزاج کی صورت گری کی ہے اور یہی اس کو ہر دور میں نئے مسائل اور نئی پیچیدگیوں سے عہدہ برآ ہونے کے طریقے سکھاتی ہے۔ قرآن اس ملت کے لئے محض ایک کتاب نہیں، اس کی قوت حیات ہے۔ اس کی حیثیت ملت کے قلب کی سی ہے۔ جب تک یہ حرکت میں ہے ملت زندہ ہے۔ اس کے بغیر ملت کی زندگی کا کوئی امکان نہیں۔

قرآن پاک کی یہ اساسی اہمیت اس بات کو بھی واضح کر دیتی ہے کہ ہر دور میں مسلمانوں کی بہترین دینی صلاحیتیں اس کتاب کو سمجھنے اور اس کے تقاضوں کو بیان کرنے میں کیوں صرف ہوئی ہیں۔ مسلمان اہل علم کی کاوشوں کا اہم ترین میدان قرآن پاک کی تفہیم وتغییر رہا ہے۔ اس پہلو سے تفسیر قرآن در اصل مسلمانوں کی فکر کا آئینہ ہے جس میں ہر دور اور ہر علاقے کے اہل علم کی کوششوں کی پوری تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں جتنی کوششیں اس میدان میں ہوئی ہیں بلاشبہ کسی دوسرے میدان میں نہیں ہوئیں۔ قرآن پاک کا تعلق زندگی کے تمام ہی امور سے ہے اس لئے قرآن کی تفاسیر پوری اسلامی فکر کی عکاس ہیں، ان میں فکر کی گہرائی اور وسعت کے ہمہ گیر مناظر موجود ہیں۔ یہ مسلمانوں کا ایک ایسا علمی کارنامہ ہے جس کی نظیر دوسرے تمدنوں کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ عربی زبان میں بارہ سو سے زیادہ تفاسیر مطبوعہ موجود ہیں اور نہ معلوم کتنی ہیں جو ابھی تک صرف قلمی نسخوں کی شکل میں ہیں۔ اردو میں ڈھائی سو سے زیادہ مکمل تراجم وتفاسیر موجود ہیں اورساڑھے تین سو سے زیادہ نامکمل تراجم وتفاسیر۔ دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں ہے جس کے بولنے والوں میں مسلمان ہوں اور قرآن کے ترجمہ وتفسیر سے ان کا ادب خالی ہو۔ یہ علامت ہے اس بات کی کہ امت مسلمہ کے دل و دماغ اپنا وظیفہ انجام دے رہے ہیں اور کاروان ملت مصروف سفر ہے۔ مسلمانوں کی فکر کا بہترین منظم تفسیر ہی ہے۔ افسوس کی مسلمانوں کی کوئی جامع فکری تاریخ ابھی تک نہیں لکھی گئی۔ لیکن جب بھی یہ تاریخ لکھی جائے گی اس کا اولین ماخذ ہمارا تفسیری ادب ہی ہوگا۔

تفسیر قرآن کا آغاز تنزیل قرآن کے ساتھ ہی ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت کے لیے جو طریقہ اختیار فرمایا وہ دو اجزا پر مشتمل ہے۔ ایک کتاب اور دوسرے رسول ﷺ جن پر یہ کتاب نازل ہوئی۔ ہدایت ورہنمائی کا یہ سلسلہ حضرت آدم عليه السلام سے لے کر آخری نبی حضرت محمد ﷺ تک جاری رہا۔ اس خدائی طریقہ کے مطابق نبی اکرم ﷺ نے انسانوں کی رہنمائی جس طرح فرمائی وہ یہ تھی۔

ا ۔ تلاوت آیات یعنی قرآن پاک جیسا کہ وہ آپ پر وحی کیا گیا خدا کے بندوں کو سنانا اور اس طرح وحی کو اس کی اصل شکل میں انسانیت کی طرح منتقل کرنا۔

ب ۔ تعمیل احکام بیعنی اللہ تعالی کی ہدایت پر خود عمل کرنا اور اس طرح انسانوں کے سامنے وہ نمونہ رکھنا جس کا اتباع کر کے وہ اللہ کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں۔

ج  ۔تعلیم وتوضیح آیات: یعنی قرآن کی آیات کی تشریح وتوضیح۔ اللہ کے بندوں کو اس کے مفہوم ومدعا سے روشناس کرانا ان غلط فہمیوں اور الجھنوں کو دور کرنا ان کی ذہنی اور عملی مشکلات کو رفع کرنا ان کے اطمینان قلب کا سامان بہم پہنچانا اور ان کو اس کتاب کا اس کے مقاصد اور مطالبات کا اس کے پروگرام اور انداز اصلاح کا اس کے بتائے ہوئے تصور حیات اور قانون زندگی کا رمز شناس بنانا۔

نبی ﷺ اکرم نے کہ ہم نے یہ تینوں کام سرانجام دیئے ۔ آپ نے قرآن کی دعوت کو پھیلایا اور اس انقلابی تحریک کو برپا کیا جو یہ کتاب برپا کرنا چاہتی ہے۔ اس کی رہنمائی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے نقشے کو تبدیل کیا۔ اسلامی معاشرہ اور اسلامی ریاست قائم کی اور تاریخ میں اس دور کا آغاز کر دیا جس کے لیے غار حرا میں نور کی یہ بارش شروع ہوئی تھی۔ تعمیل وتوضیح کے سلسلے میں حضور ﷺ نے جو کچھ کیا اس کا نام قرآن کی تفسیر ہے۔

بعد کے ادوار میں تفسیر قرآن کے ذیل میں جو کام بھی ہوا وہ تعمیل وتوضیح کی اسی سنت کی روشنی میں انجام دیا گیا۔ بنیادی طور پر تمام تفسیری مساعی کے تین پہلو ہیں۔

اول: یہ امر واضح کرنے کی کوشش کی گئی کہ حضور سے تم اور آپ کے مخاطب اولیس صحابہ کرام میں ہی میں نے قرآن کی مختلف آیات اور اس کے مختلف احکام کا کیا مفہوم سمجھنا۔

دوم: قرآن پاک کی لغوی تفاسیر اور ماثور تفاسیر اس سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ ہر دور میں جو نئے مسائل اور تمدنی پیچیدگیاں ابھریں ان کو قرآن پاک کی ہدایت کے مطابق حل کرنے کی سعی کی گئی۔ مسائل اور الجھنوں کو نگاہ میں رکھ کر اہل علم نے قرآن پاک سے رجوع کیا اور غور و فکر اور توفیق سے یہ متعین کرنے کی کوشش کی کہ قرآن ان مسائل کے بارے میں کیا رہنمائی کرتا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تفصیلات اخذ کی گئیں اور ہر دور کے انسانوں کے سامنے قرآن کی بتائی ہوئی شاہراہِ حیات کے خدوخال واضح کئے گئے۔ قرآن پاک کی فقہی تفاسیر اسی پہلو سے لکھی گئی ہیں۔ ]ہم یہاں فقہ کے لفظ کو اس کے وسیع معنی میں استعمال کر رہے ہیں جس میں وہ احکام و مسائل اور ان قلیمی کیفیات و احساسات کا جامع ہے جن کے ساتھ احکام کا اتباع مطلوب ہے۔ یوں عارفانہ تفاسیر بھی دراصل اسی سلسلے کا حصہ ہیں کہ ان کے ذریعے یہ بتایا گیا ہے کہ کن جذبات وکیفیات کے ساتھ تعمیل ارشاد کی جائے۔ [

سوم : ہر دور میں اس امر کی کوشش ہوئی کہ لوگوں کی ذہنی سطح اور اس دور کے مخصوص نظریات اور اشکالات کو سامنے رکھتے ہوئے قرآن کی تعلیم کی حکمتوں کو واضح کیا جائے شکوک وشبہات کو دور کیا جائے مخالفین کے اعتراضات اور کم علم یا نادان دوستوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کو رفع کیا جائے وقت کے فتنوں کا قرآن کی روشنی میں استیصال کیا جائے اور مختلف علوم کی فراہم کردہ تائیدی اور توضیحی معلومات کی مدد سے طالبان علم کی تشفی کا سامان فراہم کیا جائے۔ اعجاز قرآن سے متعلق تفاسیر اور کلامی اور مناظرانہ تفاسیر اسی ضرورت کو پورا کرنے کی کوششیں ہیں۔

یہ تینوں پہلو ہر دور میں اہل علم کی توجہ کو تفسیر وتشریح کے اہم اور نازک کام کی طرف مبذول کراتے رہے ۔ ان کوششوں کے زیر اثر بے شمار علوم ترویج وترقی کی منازل سے گذرے۔ لغت اور فصاحت وبلاغت [ادبی تنقید کے فنون قرآن کے الفاظ ترکیبوں اور محاوروں کو سمجھنے کی غرض سے مرتب کئے گئے ۔ قرآت اور تجوید کے فنون قرآن کی آیات کی صحیح تلاوت کے لئے وضع کئے گئے۔ فن خطاطی قرآن کی صحیح املا کا فریضہ انجام دیتا رہا۔ تاریخ جعفریہ اور تقابل ادیان کے علوم قرآن کے قصص کی بہتر تفہیم کیلئے ترقی دیئے گئے۔ اصولِ فقہ ‘فقہ اور تصوف قرآن سے احکام کے استخراج ‘احکام کی تعیین و تعلیم اور ان کی روح اور معرفت کے حصول کی کوششوں میں رونما ہوئے۔ فن حدیث‘ اسماء الرجال اور اصول جرح وتعدیل تفسیر نبوی ﷺ کو جاننے اور اس بارے میں اطمینان حاصل کرنے کے لیے مدون ہوئے کہ قرآن پر آپ ﷺ نے کیسے عمل کیا اور اس کا کیا مفہوم بیان فرمایا۔ علم الفرائض قرآن کے قانون وراثت کی تحفیظ کیلئے وجود میں آیا۔ علم الکلام قرآن کے دفاع کیلئے ظہور میں آیا۔ حتی کہ قرآن کے اشارات کی روشنی میں طبیعیات حیوانیات، کیمیا طب استخراجی اور استقرائی منطق اور دوسرے بے شمار علوم کی ترقی عمل میں آئی۔ یہ تمام علوم وفنون جس حد تک بھی قرآن کے زیر اثر آگے بڑھئے آنے والوں کیلئے تفسیر میں معاون علوم بن گئے ۔ تفسیر کی مرکزی رو میں تو یہ قرآن کے خادم ہی رہے لیکن محیط پر ایک ایسی ایزاد [outgrowth] بھی رونما ہو گئی جس میں ان علوم سے شغف اتنا غالب رہا کہ بعض صورتوں میں قرآن کے الفاظ و معانی پوری طرح پیش نظر نہ رہے۔ ان حالات میں تجدید دین کی خدمت انجام دینے والی سعید روحوں نے اس بات کی کوشش کی کہ قرآن کی شاہراہ حیات کو پھر واضح اور نمایاں کریں اور فکر وعمل کے ہر میدان میں جو گمراہی بھی رونما ہوگئی ہو قرآن کی روشنی میں اس کی اصلاح کریں۔

اسلامی فکر میں تفسیر قرآن کی یہی مرکزی اہمیت ہے جس کی بنا پر ہم یہ مجھتے ہیں کہ تفسیری ادب مسلمانوں کی فکر کا بہترین مظہر ہے اور اس ملت کی پوری تاریخ تفسیر کے آئینے میں دیکھی جاسکتی ہے۔

برعظیم پاک وہند میں تفسیری روایات

 برعظیم پاک وہند میں درس قرآن اور تغیر نویسی کی روایت ہزار سال پرانی ہے۔ غالباً اس سلسلے کی پہلی کوشش سرزمین سندھ پر ہوئی جہاں ۲۷۰ ھ میں عبداللہ بن عمر بن عبد العزیز صاحب منصورہ نے ایک عراقی الاصل سندھی عالم سے جس کی تعلیم اور نشو ونما اسی علاقے میں ہوئی تھی تفسیر لکھوائی۔ دور غزنوی میں سندھ راجپوتانہ اور پنجاب اسلامی دعوت وتبلیغ کے مراکز تھے۔ اس زمانہ کے علمائے تفسیر میں لاہور کے سید محمد اسماعیل بخاریؒ ]متوفی ۴۴۸ھ] قابل ذکر ہیں۔ پہلی مکمل تفسیر جو مطبوعہ شکل میں موجود ہے دکن کے ایک عالم نظام الدین حسن بن محمد بن حسین شافعی معرف به نظام نظام نیشا پوری ؒ دولت آبادی کی ہے جو ۷٢۸ھ -۷۳۰ھ میں دکن میں مکمل ہوئی اور ایران سے شائع ہوئی ہے ]غرائب القرآن ۔ تہران ۱۲۸۰ھ [۔ اس کے بعد سے آج تک بے شمار تفاسیر عربی فارسی، انگریزی اردو سندھی، پشتو اور دوسری زبانوں میں لکھی گئی ہیں۔ یہ تمام تفاسیر بالعموم انہی بنیادی خطوط پر مرتب کی گئی ہیں جن پر دوسرے بلاد اسلامیہ میں تفسیریں لکھی جارہی تھیں۔ ایک بڑی تعداد اثری تفاسیر کی ہے جن میں کوشش کی گئی ہے کہ قرآن کی آیات کی تشریح وتوضیح احادیث نبوی ﷺ سے ہم اور آثار صحابہ کی روشنی میں کی جائے۔ لغت اعجاز قرآن اور قرآن کے ادبی محاسن کے نقطۂ نظر سے بھی متعدد تفاسیر لکھی گئی ہیں۔ بالعموم اعجاز ہی کی ایک نوع کی حیثیت سے نظم قرآن کا مطالعہ بھی کیا گیا ہے اور اس باب میں بھی برصغیر کے علما نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ [امام ابن قیمؒ اور امام فخر الدینؒ رازی نے اس پہلو کی طرف خصوصی توجہ دی ہے۔ برصغیر میں شائع ہونے والی تفاسیر میں تفسیر رحمانی (تبصیر الرحمن) از شیخ زین الدین علی بن احمد بن علی الھامی ہندی[ کی تفسیر الحمدی ]از محمد بن احمد میانجی[ اور مولانا حمید الدین فراہی کی نظام القرآن و تاويل الفرقان بالفرقان ]مجموعه تفاسیر فراہی[ خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ۔[ تفسیر کی ایک اور اہم قسم کلامی تفسیر ہے جس میں عصری مسائل سے خصوصی تعرض کیا جاتا ہے اور عقلی استدلال کے ذریعے قرآنی تعلیمات کی حکمت بیان کی جاتی ہے اعتراضات کا جواب دیا جاتا ہے اور مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اسی طرح فقہی سائل کو بیان کرنے کے لیے اور صوفیانہ تفاسیر بھی لکھی گئی ہیں۔ برعظیم میں تفسیر کی ان تمام روایات کا تتبع کیا گیا ہے۔

اردو میں تفسیر قرآن کا سلسلہ غالباً خانوادہ شاہ ولی اللہ ؒ سے شروع ہوتا ہے۔ آپ کے دو صاحبزادوں نے قرآن پاک کا اردو میں ترجمہ کیا۔ ترجمہ تفسیر کی اولین کوشش ہی ہوتا ہے۔ شاہ عبد القادرؒ بن شاہ ولی اللہ کا ترجمہ اور حواشی موضح القرآن کے نام سے شائع ہوئے اور آج تک اہل علم اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ ان کے بھائی شاہ رفیع الدینؒ کا ترجمہ بھی تفسیر کے میدان میں راہ کشا کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی زمانے میں حکیم محمد شریف خاںؒ ]متوفی ۱۲۲۲ھ[ کا تشریحی ترجمہ بھی منصہ شہود پر آیا۔ [پروفیسر حامد حسین قادری کا خیال ہے کہ یہ ترجمہ اردو کا پہلا ترجمہ ہے۔ ملاحظہ ہو داستان تاریخ ارد و طبع دوم ۱۹۵۷ء صحه ۱۴۴] ۔

یہ اولین مساعی تھیں جن کے بعد ترجمہ وتفسیر کا سلسلہ چل پڑا اور سینکڑوں بندگانِ خدا نے اپنی اپنی صلاحیت اور ذوق کے مطابق قرآن کی خدمت اور اس کے پیغام کی تشریح کی کوشش کی۔ اردو کی بیشتر تفاسیر عام تفسیری روایات کے مطابق ہیں۔ کچھ میں کسی خاص پہلو سے قرآن کی تفسیر کی گئی ہے اور کچھ جامع نوعیت کی ہیں جن میں مختلف پہلوؤں کو ]یعنی لغوی‘ اثری‘ تاریخی‘ کلامی‘ فقہی‘ عارفانہ[ یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس پورے سرمایے پر نگاہ ڈالتے ہوئے ہم تفہیم القرآن تک پہنچتے ہیں۔ الحمد للہ کہ یہ غیر مکمل ہوگئی ہے۔ اس میں پورے قرآن کی تشریح کی گئی ہے اور اس طرح فہم قرآن کی جو راہ اس نے دکھائی ہے اس میں یہ قرآن پاک کے مطالعے میں کسی مقام پر بھی قاری کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔

ہماری ملتی زندگی کا تاریخی موڑ اور تفہیم القرآن

مولانا مودودی نے اپنے اصلاحی اور تجدیدی کام کا آغاز ۱۹۲۵ء۔ ۱۹۲۶ء میں کیا۔ تحریک خلافت کی ظاہری ناکامی اور اس کے بعد رونما ہونے والے دینی، معاشرتی اخلاقی اور سیاسی انتشار نے ان کو اس کام کیلئے آمادہ کیا جس کی ضرورت تو بہت سے لوگ محسوس کرتے تھے مگر جس کی مشکلات اور آزمائشیں کم لوگوں کی ہی اس سمت میں قدم کیا نظر اٹھانے کی بھی ہمت کرنے دیتی ہیں بلکہ کچھ نے تو قوم کو اس طرف پکارنے اور آگے بڑھ کر اس راہ کی صلیب کو اٹھا لینے کے بعد بس اسے چوم کر واپس رکھ دیا۔ ان حالات میں ایک باہمت اور مقصد کے دیوانے نوجوان نے اس راستے کو منتخب کیا ۔ الجہاد فی الاسلام کیلئے تحقیق، مطالعہ اور غور وفکر نے اسے اس راہ سے آشنا کیا۔ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۲ء کا زمانہ نجس، تنظر اضطراب اور فیصلے کا زمانہ ہے جس میں ان کی کیفیت یہ تھی کہ:

اسی کشمکش میں گذریں مری زندگی کی راتیں

کبھی سوز سازی رومی کبھی پیچ وتاب رازی

بالآخر ۱۹۳۲ء میں انہوں نے یکسو ہو کر اپنی منزل متین کر لی اور ۱۹۳۳ء سے ترجمان القرآن کے ذریعے قرآن کی دعوت انقلاب پیش کرنی شروع کی ۔ ان کی دعوت کا نقطہ آغاز اور منتہائے مقصود قرآن تھا۔ مولانا مودودی کی ادارت میں ترجمان القرآن کا جو پہلا شمارہ شائع ہوا اس میں وہ لکھتے ہیں:

یہ رسالہ آج جس مرحلے میں قدم رکھ رہا ہے وہ بہت کٹھن اور دشوار ہے۔ کٹھن اور دشوار صرف اس معنی میں نہیں کہ اس کے پیش نظر اب پہلے سے زیادہ مشکل کام ہے بلکہ اس معنی میں بھی کہ جن ہاتھوں میں وہ منتقل ہو رہا ہے پہلے کام کرنے والے ہاتھوں سے زیادہ کمزور ہیں۔ ایک طرف یہ ضعف و ناتوانی ہے دوسری طرف پیش نظر کام یہ ہے کہ اسلام کو اس اصلی روشنی میں پیش کیا جائے جس میں قرآن حکیم نے اس کو پیش کیا ہے۔ کہنے کو یہ کام بہت آسان ہے مگر حقیقت یہ ہے مشکوۃ نبوت سے بعد علم صحیح کی کمی سلامت قلب واستعداد نظر کے فقدان یونانی تفلسف، عجمی موشگافی، مغربی تشکیک اور سب سے بڑھ کر خود پرستی اور ہوائے نفس کے اتباع نے ہمارے اور معارف قرآنی کے درمیان ایک سے زیادہ پردے ڈال دیئے ہیں کہ جو قرآن آسان کیا گیا تھا وہ اب سب سے زیادہ مشکل ہے۔ ان حالات میں قرآن مجید کو اس کی اصلی صورت میں پیش کرنا ایک بڑا مشکل کام ہے۔“

اور اسی مشکل کام کا آغاز قرآن کے اس شیدائی نے کیا۔ مولانا مودودی کے قلم سے تقریباً اسی] ۸۰[ کتابیں قرآن کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں نکل چکی ہیں، لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پہلے آٹھ دس سال میں مولانا مودودی نے یہ محسوس کر لیا کہ گو وہ اپنی کتب اور مضامین کے ذریعے قرآن کے انقلابی تصور کو اپنی حد تک بہترین انداز میں پیش کر رہے ہیں لیکن ملت اسلامیہ کو قرآن کے اصل تصویر دین کی طرف لانے اور اس تصور کے مطابق اسے اپنے تاریخی مشن دعوت الی الخیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر … پر سر گرم کرنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کا رشتہ خود قرآن سے از سر نو استوار کیا جائے اور اس طرح کیا جائے کہ قرآن اس کا دستور حیات اور اس کی عالمگیر دعوت کا منشور بن جائے ۔ اس مقصد کیلئے خود قرآن کو بنیاد بنانا ہوگی اور اُمت میں بحیثیت مجموعی قرآن کا صحیح فہم پیدا کرنا ہوگا یہ غالباً اسی قسم کا احساس تھا جیسا شاہ ولی اللہؒ کو اس وقت ہوا تھا جب انہوں نے قرآن پاک کے فارسی ترجمے کا انقلابی اقدام کیا تھا اور جس نے بالآخر برصغیر کی ملت اسلامیہ کی زندگی کے رخ کو تبدیل کر دیا۔ شاہ صاحب نے قرآن سے تعلق کو استوار کرنے کے ساتھ ساتھ زندگی کے جامع اسلامی تصور کو حجتہ اللہ البالغہ میں نہ بش کیا جو دراصل قرآنی حکمت کی روشنی میں حدیث نبوی ﷺ کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو اسلامی فکر وعمل کے تمام اہم گوشوں کو بیک نظر پیش کر دیتا ہے۔ تاریخ کے ایک طالب علم کی حیثیت سے راقم کا یہ احساس ہے کہ شاہ ولی اللہ کی تجدیدی حکمت عملی میں جو مقام فارسی ترجمہ قرآن اور حجتہ اللہ البالغہ کا ہے کم وبیش وہی مقام مولانا مودودی کی اصلاحی حکمت عملی میں تفہیم القرآن کا ہے جس میں ترجمے کا ایک نیا اسلوب بھی اختیار کیا گیا ہے اور قرآن کی دعوت کو قرآن ہی کے ذریعے بیان بھی کیا گیا ہے۔ اس حیثیت سے تفہیم القرآن صرف مولانا مودودی کی عمر بھر کی جستجو کا نچوڑ ہی نہیں ہے بلکہ ملت اسلامیہ کے حال اور مستقبل کی تعمیر وتشکیل نو کی تدبیر بھی ہے۔

تفہیم القرآن کا بڑا گہرا تعلق اسلامی تحریک سے بھی ہے۔ ایک ایسے گروہ کی تیاری اور تنظیم کا کام جو اسلامی انقلاب کیلئے سرگرم عمل ہو مولانائے محترم نے ۱۹۳۸ ء ہی میں شروع کر دیا تھا ۔ میں سمجھتا ہوں کہ تحریک دارالاسلام کے زمانے میں مولانا مودودی نے اس بات کو شدت سے محسوس کیا اور اپنے آپ ذہنا اس کیلئے تیار کیا کہ اس گروہ کی تربیت کیلئے اصل کورس قرآن پاک ہوگا۔ اسی زمانے میں انہوں نے ذہنا تفہیم القرآن کا کام شروع کر دیا۔ جب یہ گروہ منظم ہونا شروع ہوا تو پہلے ہی دن سے درس قرآن کا اہتمام کیا گیا۔ یہی وہ درس قرآن ہے جس نے بالآخر فروری ۱۹۴۲ء سے تفہیم القرآن کی شکل اختیار کرلی … اس طرح اس درس میں صرف مرکزی رفقا یا کارکنان جماعت ہی شریک نہ ہوئے بلکہ پوری قوم شریک ہو گئی۔

اوپر کی گذارشات کی روشنی میں غور کیا جائے تو تفہیم القرآن کی تاریخی اہمیت سامنے آتی ہے۔ سیہ وہ کتاب ہے جس نے ملت کی زندگی کے ایک کٹھن اور فیصلہ کن دور میں قرآن کے زیر سایہ: ایک خاموش انقلاب برپا کیا ہے۔……اور یہ انقلابی دور ابھی جاری ہے۔

تفہیم القرآن کی دو بنیادی خصوصیات

بلاشبہ جو خدمت تفہیم القرآن نے انجام دی ہے اور دے رہی ہے وہ بڑی اہم اور تاریخی میل یکن محض اس وظیفے کی بنا پر نہیں، خالص علمی نقطہ نظر سے بھی تفہیم القرآن کا مقام بہت بلند ہے۔ یہ ان کتابوں میں سے ہے جو صدیوں تک زندہ رہتی ہیں ۔ جو صرف تاریخ کا جزو نہیں، تاریخ ساز ہوتی ہیں۔ ہم نہایت اختصار سے ان خصوصیات کا ذکر کرتے ہیں جو تفہیم القرآن میں پائی جاتی ہیں۔

سب سے پہلے ہم دو بنیادی خصوصیات کو بیان کریں گے جو تفہیم القرآن کے مزاج اسلوب انداز تفسیر موضوعات ومباحث ادب، غرض ہر چیز کو متاثر کرتی ہیں اور دراصل اس تاریخی کتاب کے رنگ وآہنگ کو متعین کرتی ہیں۔

پہلی بنیادی بات یہ ہے کہ تفہیم القرآن میں جس نقطۂ نظر سے قرآن پاک کا مطالعہ کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ یہ کتاب صحیفہ ہدایت ہے۔ کتاب ہدایت کی حیثیت سے قرآن پاک ہر فرد میں اور پوری امت میں غور وفکر اور مطالعہ و نظر کا ایک خاص انداز پیدا کرنا چاہتا ہے۔ وہ انسان میں ایک نیا شعور شعور عبدیت پیدا کرتا ہے اور شخصیت کی قلب ماہیت کا نقطہ آغاز نظر کی اس تبدیلی کو قرار دیتا ہے۔ زاویہ نگاہ اور اسلوب نظر کو تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ کتاب ہدایت انفرادی اور اجتماعی زندگی کا مکمل ضابطہ پیش کرتی ہے۔ یہ صراط مستقیم کا ایک واضح تصور انسان کو دیتی ہے اور زندگی کے ہر میدان میں اصولی طور پر اور اہم ترین گوشوں میں تفصیلی طور پر ضرروری رہنمائی دیتی ہے جس کا تعلق قانون اقدار اصول وضوابط آداب جذبات وکیفیات اور محرکات عمل سے ہے۔ یہ رہنمائی صرف اخلاقی دائرے ہی میں نہیں بلکہ ہر شعبہ حیات کے لیے ہے خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے سیاسی امور سے ہو یا معاشی سے عدالتی سے ہو یا تجارتی سے عائلی زندگی سے ہو یا تمدنی سے، قومی معاملات سے ہو یا بین الاقوامی سے۔ اس طرح یہ کتاب ہدایت قرآن پاک تغیر زماں کے تقاضوں کا پور لحاظ رکھتے ہوئے ایک مکمل ضابطہ حیات فراہم کرتی ہے۔ اس کتاب کو انسان اسی وقت سمجھ سکتا ہے اور اس کے تقاضوں کو پورا کر سکتا ہے جب زندگی کے اس مجموعی نقشے پر اس کی نگاہ ہوا ور قرآن کے مطابق زندگی کے پورے دھارے کا رخ موڑنے کا داعیہ رکھتا ہو۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ بات اس سے پہلے کسی نے نہیں کہی۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب ہدایت ہونے کا تصور ہر تفسیر میں موجود ہے۔ اسی طرح مکمل نظام حیات کا تصور ماضی میں بھی موجود تھا اور دور جدید کی چند تفسیروں میں تو اسے اولین اہمیت دی گئی ہے۔ مثلا تفسیر المنار اور مولانا آزاد کی ترجمان القرآن [بد قسمتی ہے یہ دونوں تفاسیر نامکمل رہ گئیں] البتہ جو بات قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ بالعموم مخصوص اور محدود نقطہ نظر اتنا غالب رہا کہ مکمل نظام حیات کا واضح نقشہ نہ ابھر سکا۔ کلامی تفاسیر میں اعتقادی بخشیں چھائی رہیں، اثری تفاسیر میں اسر عملیات نے فضا کو ابر آلود کر دیا لغوی اور ادبی تفاسیر میں عام طور پر الفاظ کے حسن اور ادبی اعجاز کو اتنی اہمیت دی گئی کہ معانی کی جگہ اصل اہمیت الفاظ کو حاصل ہو گئی۔ فقہی تفاسیر کے ایک حصے میں جزئیات اور اختلاف مذاہب اس طرح توجہ کا مرکز بن گئے کہ پھول اور پودے تو پیش نظر رہے مگر باغ آنکھوں سے اوجھل ہو گیا۔ عارفانہ تفاسیر میں سے بھی بیشتر میں روحانی پہلوؤں اور تزکیہ وتزئین جذبات سے اتنا انہاک پیدا ہو گیا کہ نظام زندگی کی ہیئت اور اس کے عملی خاکے پس پردہ چلے گئے اور ایک قسم کی دینی رومانویت رونما ہو گئی۔ بعض جامع تفاسیر میں یہ سب پہلو جمع کئے گئے مگر قاری کیلئے تفصیل کے اس انبوہ اور تنوع کے اس تناظر میں نگاہیں ضابطہ حیات کے بنیادی خدو خال پر مرکوز کرنا مشکل ہو گیا۔ گو یا عملاً تفاسیر میں وہ سب کچھ موجود ہے جو تعلم زندگی که نقش ونگار واضح کرنے والا ہے مگر بہت سی چیزیں اس طرح ملی جلی ہیں کہ ایک کو دوسرے سے جدا کرنے کیلئے انسان کا جوہری ہونا ضروری ہے۔ تفہیم القرآن نے عالم اور عامی دونوں کیلئے یہیں خدمت انجام دی ہے۔

تفہیم القرآن کے اساسی نقطہ نظر کو متعین کرنے ولالی دوسری بنیادی بات یہ ہے کہ قرآن پاک محض ایک کتاب ایک الہامی کتاب ایک تاریخی کتاب یا ایک عظیم کتاب ہی نہیں اس کا بنیادی دعوئی یہ ہے کہ یہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ابدی ہدایت ہے جو ایک دعوت کی طرف بلانے والی اور ایک جدو جہد کو بر پا کرنے والی ہے. یہ ایک دعوت اور تحریک کی کتاب ہے قرآن ایک پیغام کا علمبردار اور ایک دعوت اور تحریک کا داعی ہے۔ یہ ایک نظریاتی ملت کی تعمیر کرتا ہے اور پھر اسے ایک مشن سونپ دیتا ہے۔ اس دعوت اور اس جدو جہد

کے لئے مقصد اصول اقدار اور ضابطے فراہم کرتا ہے۔ اس کے لئے کام کرنے والے انسانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا نقشہ متعین کرتا ہے۔ اس کام کو کرنے کیلئے جن صفات، حرکات جذبات اور احساسات کی ضرورت ہے وہ پیدا کرتا ہے۔ یہ کتاب فرد کی زندگی میں بھی اور معاشرے اور آخر کار پوری دنیا میں بھی ایک کش مکش کو جنم دیتی ہے: حق وباطل کے در میان کش مکش! تا کہ زندگی کا نظام حق کے مطابق چل سکے اور باطل کو بالآخر ہتھیار ڈالنے پڑیں۔ یہ کتاب کائنات انسان اور زندگی کا ایک خاص تصور پیش کرتی ہے۔ جولوگ اس تصور حیات کو قبول کرلیں، ان کی زندگی کی تعمیر ایک خاص نقشے کے مطابق کرتی ہے۔ جو اسے قبول نہ کریں ان سے مسلسل جہد ومقابلہ اور دعوت وتبلیغ کا معاملہ کرتی ہے۔ قرآن کے ایک دعوت کی کتاب ہونے کا تصور وہ شاہ کلید ہے جس سے فہم قرآن کی راہ کی تمام مشکلات دور ہو جاتی ہیں۔ پھر قرآن کا اسلوب اور اسٹائل، اس کا طریق استدلال، اس کا نظم، اس کا ادب اس کے موضوعات کا تنوع اس کے مضامین کی تکرار اس کی اخلاقی تعلیمات اس کے قانونی احکام اس کے تاریخی مواعظ غرض اس کی ہر بات سمجھ میں آجاتی ہے اور کارزار حیات میں مشعل راہ بن جاتی ہے۔ اگر ایک شخص اس تصور کے ساتھ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی ہدایت کے مطابق اپنی اور دوسرے انسانوں کی زندگی بدلنے کی جدو جہد کرتا ہے تو پھر قرآن کی آیات اس کے لیے محض کتاب میں لکھی ہوئی آیات نہیں رہیں گی بلکہ زندگی کی آیات بن جائیں گی اور اسے محسوس ہوگا کہ قرآن زندگی کے ہر قدم پر اس کی رہنمائی کر رہا ہے۔ اقبال نے اسی نکتے کو مومن کی کیفیت بیان کرتے ہوئے یوں ادا کیا تھا:

قاری نظر آتا ہے، حقیقت میں ہے قرآں

علامہ اپنے خطبات میں، ایک جگہ فرماتے ہیں کہ قرآن کو اس طرح پڑھو گویا یہ تمہارے قلب پر نازل ہو رہا ہے۔ اس طرح قرآن معرفت الہی کا سرچشمہ دعوت اسلامی کا منبع اسلامی تحریک کا منشور اور اسلامی انقلاب کا محضر بن جاتا ہے اور زندگی کے دھارے کو خیر کی سمت موڑ دیتا ہے۔

تفہیم القرآن قرآن کے اسی انقلابی مشن پر توجہ کو مرکوز کرتی ہے۔ یہ بھی کوئی نئی یا اچھوتی بات نہیں ہے جو مولانا مودودی نے پہلی بار کہی ہو اور جسے متقدمین یا متاخرین نے اپنی تفاسیر یا دوسری تحریروں میں بیان نہ کیا ہو۔ البتہ جو بات تفہیم القرآن میں نمایاں ہے وہ یہ ہے کہ پورے قرآن کے مطالعے میں یہی نقطہ نظر غالب رہتا ہے اور کسی اصولی یا جزوی مقام پر بھی یہ نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے پاتا۔ تفسیر قاری اور قرآن کے مقصد نزول کے درمیان پردہ نہیں بنتی بلکہ ہر پردے کو اٹھاتی چلی جاتی ہے اور دل ودماغ ہر لحظہ اس مقصد کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔

اس پہلو سے تفہیم القرآن میں شان نزول کے لوازمے کو بڑے اچھوتے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ صاحب تفہیم نے یہ کوشش کی ہے کہ قاری کے سامنے اس صورت حال اور اس کیفیت کو ایک حد تک تازہ کر دیں جس میں ایک سورت یا اس کے کچھ خاص حصے نازل ہوئے ہیں اور وہ یہ جان سکے کہ اسلامی دعوت وتحریک اس وقت کن حالات سے دو چار تھی، کن مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی تھی کس قسم کے وسائل اسے حاصل تھے اور کس نوع کی مشکلات سے سابقہ در پیش تھا۔ ان حالات میں قرآن نے کیا رہنمائی دی اور اس رہنمائی کی ہر دور اور خصوصیت سے ہمارے دور میں کیا اہمیت اور مناسبت ہے۔ تفہیم القرآن صرف قرآن کے تصور حیات ہی کی مفسر نہیں بلکہ اس میں تاریخ انبیاء اور بالخصوص نبی اکرم ﷺ کی داعیانہ سیرت اور آپ ﷺ کی قیادت وامامت میں کام کرنے والی اسلامی تحریک کی پوری تاریخ بھی آگئی ہے۔ اور یہ تقسیم کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔

اوپر ہم نے تفہیم القرآن کی جن دو خصوصیات کا ذکر کیا ہے یہ دونوں فردا فردا بھی تفہیم میں بالکل نئے انداز اور نئے زور احساس کے ساتھ موجود ہیں اور پھر دونوں کا ایک تفسیر میں ایسا حسین اجتماع تو یقیناً با کل منفرد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں تفہیم القرآن ہمارے تفسیری ادب کے زریں سلسلے کی ایک خوبصورت کڑی ہے اور ماضی کی روایات سے پیوستہ اور ان کی بہترین امین ہے وہیں ایک انفرادی رنگ کی حامل بھی ہے۔ گویا: سب کے درمیاں سب سے الگ ۔

تفہیم القرآن کی یہ دونوں خصوصیات سب سے بنیا دی اور اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب بطور تفسیر تو جو اہمیت رکھتی ہے وہ اپنی جگہ ہے لیکن ہماری نگاہ میں اس کی اصل اہمیت اس نقطہ نظر کو واضح کرنے میں ہے جس سے قرآن پر غور مطاوب ہے اور جس کی روشنی میں انسان کو کتاب اللہ سے تعلق استوار کرنا چاہیے۔ یہ تفسیر سے زیادہ فہم قرآن کی ایک راہ کی نشان دہی کرتی ہے اور بعید نہیں کہ اس بنا پر رب القرآن نے مولف کے دل میں یہ بات ڈالی ہو کہ اس کا عنوان تفہیم القرآن رکھیں ۔ اسی بنا پر ہم یہ احساس بھی رکھتے ہیں کہ تفہیم القرآن ہماری اہم اور مہتم بالشان تفاسیر سے قاری کو مستغنی نہیں کرتی بلکہ ان تک پہنچنے کے لیے اسے تیار کرتی ہے۔ اس سے دراصل قرآن کے طالب علم کو ایک بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد وہ تفہیم کے ساتھ ساتھ پورے تعمیری ادب سے پورا پورا فائدہ اٹھا سکتا ہے اور ماضی کے ذخیرے سے بھر پور طور پر مستفید ہو سکتا ہے۔

اب ہم تفہیم القرآن کی دیگر خصوصیات کا ذکر کرتے ہیں جواب بنیادی خصوصیات سے اس طرح نکلتی ہیں جس طرح جڑ سے شاخیں، پتیاں اور پھول۔

ا۔ براہ رأست تعلق: اس تفسیر میں کوشش کی گئی ہے کہ قاری کا قرآن سے براہ راست تعلق استوار ہو۔ دیپا چہ، ترجمہ اور حواشی اس کا ذریعہ ہیں ۔ دیپاچے میں سورت کے مضامین کا خلاصہ بھی سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ ترجمے کے ذریعے قرآن کے مفہوم کو ادا کیا گیا ہے۔ حواشی کو بالعموم آیت کے مفہوم کی وضاحت، تاریخی معلومات کی فراہمی قرآن کے ان دوسرے مقامات کی نشاندہی جہاں اس موضوع پر مزید رہنمائی موجود ہے، اخلاقی تمدنی، معاشی، سیاسی، قانونی اور بین الاقوامی تعلیمات کی تشریح وتوضیح اور ان کی ہمارے اپنے دور کے مسائل سے مناسبت دعوتی اعتبار سے اہم مقامات کی طرف توجہ کو منعطف کرانے اور شکوک وشبہات کو دور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ بالعموم یہ حواشی مختصر مگر جامع ہیں اور ہر موقع پر قرآن کی مرکزی اور محوری کیفیت کو برقرار رکھتے ہیں۔

تفہیم میں روایتی مباحث نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ کتاب اسرائیلیات سے بالکل پاک ہے۔ وہ تمام کلامی بخشیں بھی جو ماضی کے ادوار سے تعلق رکھتی ہیں ان کا کوئی حصہ اس میں نہیں ہے۔ فقہی بحثیں بھی محدود ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ گروہی عصبیت سے آزاد ہو کر قرآن. کے احکام وقواعد کی نشان دہی کر دی جائے اور یہ تبھی خصوصیات کی بنا پر ہے جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ تفہیم القرآن کے مقدمے میں اصول تفسیر کی روایتی بحثوں کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ صرف شان نزول کا ذکر ہے مگر ایک مختلف انداز میں۔ نہ تاریخ ومنسوخ کی بحث ہے نہ محکم ومتشابہ کی نہ اعجاز القرآن۔ کی روایتی بحث نہ امثال اقسام اور قصص قرآن کی۔ یہ نہیں ہے کہ تفہیم میں یہ چیزیں نہیں ہیں۔ اپنے اپنے مقام پر تمام ضروری باتیں بیان کر دی گئی ہیں لیکن تفسیر کے بنیادی نقطہ نظر کو انداز نہیں ہونے دیا گیا۔ ان کی جگہ اصل توجہ اس پر صرف کی گئی ہے کہ قرآن کا موضوع اس کا مرکزی مضمون اور اس کا مقصد و مدعا واضح کیا جائے۔ اس کی دعوت اور تصور حیات کو دل ونگاہ پر غالب کیا جائے اور اس “قرآنی سلوک” سے قاری کو روشناس کیا جائے جس کے ذریعہ قرآن ایک نیا انسان اور ایک نیا معاشرہ تیار کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب تفہیم القرآن نے مختلف بحثوں میں الجھنے کے بجائے توجہ قرآن کی بنیادی اصطلاحوں کے مفہوم کو متعین کرنے پر صرف کی ہے تا کہ نقطہ نظر کی اصلاح ہو جائے اور پھر یہ کیفیت ہو کہ:

جان چو دیگر شود جہاں دیگر شود

۲۔تعظیم قرآن تفہیم کی دوسری خصوصیت تعلیم قرآن کا ایک نیا تصور ہے۔ تعلیم قرآن تفسیر کا ایک مہتم بالشان موضوع رہا ہے۔ مفسرین نے بالعموم سورتوں کے باہمی رابطے پر توجہ دی ہے۔ قرآن کے چند خادموں نے آیات کے باہمی رابطے کو متعین کرنے کی سعی کی ہے۔ کچھ اور اہل علم نے پوری سورت کو ایک وحدت تصور کر کے اس کا عمود متعین کر نیکی سعی کی ہے اور آیات کے اس عمود سے سورت کے تمام مضامین کے رابطے کو ظاہر کیا ہے۔ تفہیم القرآن میں ان سب کی جھلک نظر آتی ہے لیکن اس میں جس تصور نظم پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن کے موضوع مرکزی مضمون اور مدعا سے ہر سورت اور ہر آیت کا رابطہ کیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ “یہ کتاب کہیں اپنے موضوع اور اپنے مدعا اور مرکزی مضمون سے بال برابر بھی نہیں ہٹی ہے۔ اول سے لے کر آخر تک اس کے مختلف النوع مضامین اس کے مرکزی مضمون کے ساتھ اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک ہار کے چھوٹے بڑے رنگ برنگ جواہر ہار کے رشتے میں مربوط و مسلک ہوتے ہیں…اس کا سارا بیان انتہائی یکسانی کے ساتھ “دعوت” کے محور پر گھومتا ہے” [ج اول ص ۲۰]

یہ تفہیم کا ایک نہایت اہم کارنامہ ہے اور یہ عظیم قرآن کے سلسلے کی خدمات میں سے ایک عظیم خدمت ہے۔ سید مودودی نے اپنی بحث کو اصطلاحات کے استعمال سے بوجھل نہیں کیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ تفہیم القرآن نظم قرآن کے ایک نئے پہلو کو اجاگر کرتی ہے۔ اس میں ہر سورت اور اس کے مضامین اور آیات کا ربط قرآن کے مقصد اور اس کی دعوت سے تلاش کیا گیا ہے اور یہ وہ ربط ہے جو دور از کار تاویلات کے بغیر قرآن سے خود بخود متبادر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور یہ تفہیم القرآن کا ایک کارنامہ ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ صحیح نقطہ نظر کی طرف توجہ مبذول کرائی بلکہ قرآن کے اس نظم اور ربط کو ہر سورت اور اس کے ہراہم مقام پر متعین کرنے کی کوشش کی۔ تفہیم القرآن میں سورتوں کے دیباچے اس سلسلے میں بڑے راہ کشا ہیں اور حواشی میں بھی اس کام کے ہر پہلو کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔

۳۔ ترجمہ قرآن: تیسری چیز جو توجہ کو جذب کرتی ہے وہ تفہیم القرآن کا ترجمہ قرآن ہے۔ یہ ترجمہ کئی حیثیتوں سے منفرد ہے۔ اس میں لفظی ترجمے سے ہٹ کر تر جمانی کی راہ اختیار کی گئی ہے لیکن خوبی یہ ہے کہ کسی مقام پر بھی ترجمے کی حدود سے تجاوز نہیں کیا گیا۔ یہ با محاورہ ترجموں سے بھی مختلف ہے ۔ بامحاورہ ترجموں میں بھی بنیادی اکائی آیت کو بنایا جاتا ہے اور آیات کے در میان معنوی تسلسل کا کوئی اہتمام نہیں ہوتا۔ تقسیم میں میرے علم کی حد تک پہلی مرتبہ کوشش کی گئی ہے کہ ترجمہ مسلسل ہو اور صرف ترجمہ کے پڑھنے سے بھی وہ تاثر پیدا ہو سکے جو قرآن کا مقصود ہے۔

تفہیم کے ترجمے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں تقریر کی زبان کا ترجمہ تحریر کی زبان میں کیا گیا ہے اور اس طرح صرف ترجمانی ہی کا حق ادا نہیں ہوا بلکہ فہم قرآن کی بھی ایک نئی راہ کھل گئی ہے۔ تفہیم القرآن کے ترجمے میں تقریر کی زبان کو تحریر کی زبان میں تبدیل کرتے ہوئے مولانا مودودی نے ترجمے میں معنوی ضرورتوں کو سامنے رکھ کر پیرا گراف بندی کی ہے۔ اس طرح صرف بیان کا تسلسل ہی باقی نہیں رکھا گیا بلکہ ایک بات سے دوسری بات کی طرف مراجعت کی نشان دہی بھی کر دی ہے۔ ترجمے میں یہ پیرا گراف بندی ایک بڑا تاریخی کام اور انقلابی اقدام ہے۔ اس کی مدد سے قرآن کے مطالب کی تفہیم آسان ہو گئی ہے۔ تقریر میں جو کام وقوف سانس کے لینے اور آواز اور لہجہ کی تبدیلی سے کیا جاتا ہے، تحریر میں وہی کام قوسین کی وضاحتوں اور پیرا گراف بندی سے لیا گیا ہے۔ یہ کام تفہیم القرآن میں پہلی بار ہو ہے۔ غالباً تفہیم سے پہلے دنیا کی کسی اور زبان میں بھی یہ خدمت انجام نہیں دی گئی ۔ اس حیثیت سے سے پہلے دنیا او یہ ۔ سے اسے تفہیم القرآن کی اولیات میں شمار کیا جاسکتا ہے۔

۴۔ سورتوں کے دیباچے تفہیم القرآن کی اولیات میں سورتوں کے دیباچوں کا بھی شمار ہے۔ ہر سورت کے تاریخی پس منظر کے ساتھ اس کے مرکزی مضمون اور موضوعات کا تعین کیا گیا ہے اور اس مرکزی مضمون اور ان موضوعات کا نظم وتعلق قرآن کے مجموعی مدعا اور مرکزی مضمون اور قرآن کی دعوت سے بیان کیا گیا ہے۔ اسباب نزول پر عام طور پر بڑی قیمتی بحثیں کی گئی ہیں اور بڑے لطیف نکات بیان کئے گئے ہیں۔ ہمارے علم میں نہیں کہ اس سے پہلے خارجی اور داخلی شہادت کی روشنی میں سوتوں کے دیباچوں کے ذریعے مطالب قرآن کا ایسا مربوط سلسلہ کسی نے مرتب کیا ہو اور یہ خدمت پورے قرآن کے بارے میں انجام دی ہو۔

۵۔ احکام القرآن تفہیم القرآن کی ایک اور خصوصیت اس میں بیان کردہ فقہی احکام ہیں۔ کوشش کی گئی ہے کہ قرآن پاک کی جس آیت سے کوئی حکم مستنبط ہے اسے اسی مقام پر بیان کر دیا جائے۔ نیز جن دوسرے مقامات پر اس سلسلے کے احکام پائے جاتے ہیں ان کی نشان دہی بھی کر دی جائے۔ اس طرح تفہیم القرآن میں قرآن کی تفسیر قرآن ہی سے کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ نیز اس امر کا خاص خیال رکھا گیا ہے کہ ہر موضوع پر قرآن کی مجموعی تعلیمات اور قرآن کے بتائے ہوئے نظام اخلاق و تمدن کے مجموعی خاکے کی روشنی میں احکام کی وضاحت کی اور پھر جائے اور زندگی کے پورے نقشے میں ان کے مقام کو متعین کیا جائے۔ پھر تفہیم القرآن میں یہ کوشش بھی کی گئی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ نے کسی آیت یا حکم کو جو تعبیر و تشریح کی ہے اسے بیان کر دیا جائے ۔ جہاں صحابہ کے درمیان یا بعد کے علما کے درمیان اختلاف ہے اس کی بھی نشان دہی کر دی جائے اور جس بنیاد پر اختلاف ہے اس کی طرف بھی اشارہ کر دیا جائے۔ بالعموم کسی تشریح میں حنفی نقطہ نظر کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے البتہ دوسرے مکاتب کا نقطہ نظر بھی بیان کر دیا گیا ہے۔ اس لحاظ سے تفہیم القرآن میں فقہی مذاہب کے تقابلی مطالعے کی ایک مفید کوشش کی گئی ہے جو آئندہ تحقیق کرنے والوں کے لیے بڑی مددگار ہوسکتی ہے اور امت میں بحیثیت مجموعی توسع اور تعاون کی راہیں کھول سکتی ہے۔

۶ ۔ مذاہب کا تقابلی مطالعہ تفہیم القرآن میں ، یہودیت، عیسائیت اور قرآن کا تقابلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ ان مباحث میں مناظرے کا رنگ نہیں پایا جا تا۔ ان میں کوشش کی گئی ہے کہ ایک طرف ان اعتراضات کا کافی وشافی جواب دے دیا جائے جو مسیحی اہل قلم اور مغربی مستشرقین نے قرآن پر کیے ہیں اور دوسری طرف قرآن کے انداز اور موجودہ بائکمیل کے انداز کا فرق واضح کر دیا جائے تا کہ بے میل وحی اور وحی محترف ایک دوسرے سے ممیز و ممتاز ہو جا ئیں۔ مولانا مودودی قرآن کو اپنی دلیل کی بنیاد بناتے ہیں، پھر دوسرے مذاہب نے جس شکل میں موضوع زیر بحث کو پیش کیا ہے اس پر تنقیدی نظر ڈالتے ہیں اور دونوں کے فرق کو نمایاں کرتے ہیں۔ اپنے موقف کی تائید میں وہ تاریخی تحقیق ، جدید انتقاد بائیل اور دوسرے علوم کی تازہ ترین تحقیقات کو سامنے لاتے ہیں۔ اسی انداز میں وہ جدید نظریات اور تحریکات کا مطالعہ بھی کرتے ہیں اور ان نظریات و تحریکات کے زیر اثر افراد نے قرآن کی جو غلط تعبیر کرنے کی کوشش کی ہے اس پر محاکمہ کرتے ہیں۔ ان کی تفسیر میں طبیعیات حیوانیات حیاتیات، فلکیات، علم الانسان اور جغرافیہ سے لے کر معاشیات سیاسیات، عمرانیات، نفسیات فلسفہ ومنطق تاریخ اور تقابل ادیان کے بے شمار مباحث بکھرے ہوئے ہیں۔ وہ ان سب علوم سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن قرآن کو ہر جگہ حکم بنا کر۔ یہ علوم کہیں بھی ان کو اپنی رو میں بہا کر نہیں لے جاتے ۔ اس نقطے سے تفہیم القرآن میں تقابل ادیان ونظریات کے مطالعے کی ایک نئی مجتہدانہ نسج قائم کی گئی ہے۔ یہ چیز ان کی تفسیر کو ایک عصری تفسیر بناتی ہے۔ وہ عصری مسائل اور علوم سے بھر پور تعرض کرتے ہیں لیکن کہیں بھی عصری نعرے اور مروجہ خیالات ان پر مسلط نہیں ہو جاتے ۔ ان کے باب میں ان کا طریقہ یہ ہے کہ

رنگ نہ بحر ساحل آشنارہٹ

لب ساحل دامن کھینچتا جا

۷۔ تجدید کی روایت: اوپر جو بات عرض کی گئی ہے اس سے تفہیم کی ساتویں خصوصیت ہمارے سامنے آتی ہے یعنی قدامت اور مجتہد کے درمیان تجدید کی درمیانی اور حیات افروز روایت کا قیام اور اس کا استحکام ۔ مولانا مودودی کے قلم نے انتہاؤں سے اجتناب کیا ہے۔ انہوں نے اس روایتی تصور کے خلاف بھی بغاوت کی جس میں خدا کے دین کو انفرادی زندگی اور مسجد اور مسکن کی دنیا میں عملاً محدود کر دیا گیا تھا اور اس مجتہد کے خلاف بھی جہاد کیا جس نے اسلام کا نام تو ضرور لیا مگر زمانے کے ہر نظریے اور طور طریقے کو جز ودین بنانے کی کوشش کی اور اس کوشش میں قرآن کو بازیچہ اطفال بنا دیا۔ صاحب تفہیم القرآن نے اپنے دور کے تقاضوں کو خوب اچھی طرح سمجھا لیکن وہ اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوئے کہ زمین وآسمان کے خالق نے غالي … العیاذ باللہ غلطی سے اپنی کتاب میں یہ اور یہ باتیں درج کر دی ہیں جن کے معنی کی اب یوں اور یوں صحیح کرنی ہوگی۔ جن اہل مجد د نے یہ کام کیا ہے مولانا مودودی نے اس کا سخت ترین محاسبہ کیا ہے اور کوشش کی ہے کہ قرآن کو اس طرح بیان کیا جائے جیسا کہ وہ ہے۔ نیز یہ جذبہ اور احساس پیدا کیا جائے کہ ضرورت قرآن کو بدلنے کی نہیں، قرآن کے مطابق خود اپنے کو بدلنے کی ہے۔ یہ اسلام کی روشن تجدیدی روایت ہے جسے دور نبوت سے آج تک صلحائے امت نے پیش کہ ہے اور تفہیم القرآن نے اسی راہ کی پیش کرنے اور روشن تر کرنے کی کوشش کی ہے۔

۸۔ نیا علم الکلام : تفہیم القرآن کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس نے ایک نئے علم الکلام کی بنیا د رکھی ہے۔ ہر دور کے مسائل اور بخشیں مختلف ہوتی ہیں۔ ہر دور کی اپنی علمی سطح ہوتی ہے اور وہ علوم بھی جدا جدا ہوتے ہیں جن کا مختلف زمانوں میں چلن اور غلبہ ہو۔ مسیحی پادریوں نے جو سوالات اٹھائے نیز سرسید اسکول کی طرف سے جو باتیں پیش کی گئیں ان کا محاکمہ کرنے کی کوشش ہمارے ہاں ضرور کی گئی لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مغرب کے اس فکری اسیتلا کو ہدف نہیں بنایا گیا جس کے زیر اثر یہاں یہ اعتراضات اٹھائے جارہے تھے۔ اگر یونانی فکر کے حملے کے وقت اور فلسفے اور اعتزال کے چینج کے جواب میں ایک نئے علم الکلام کی ضرورت پیدا ہوئی تھی تو آج مغربی علوم وفنون اور مغربی تہذیب کے غلبے سے پیدا ہونے والے دور میں اس کی ضرورت شدید تر تھی۔ علامہ شبلی اور مولانا ابو الکلام آزاد نے اس سلسلے میں مفید کوششیں کیں لیکن وہ ابتدائی مراحل سے آگے نہ بڑھ سکے۔ علامہ اقبال نے بھی بڑی قیمتی اور نتیجہ خیز کوشش کی اور فکر جدید کا مقابلہ کرنے کے خطوط واضح کئے ۔ البتہ اس نے علم الکلام کی زیادہ مفصل، گہری اور جامع مثال مولانا مودودی کی تحریروں میں ملتی ہے۔ تنقیحات پردہ سوڈ اسلام اور ضبط ولادت میمات تعلیمات سنت کی آئینی حیثیت اس نقطہ نظر سے مولانائے محترم کی بڑی گراں قدر تصانیف ہیں لیکن اس علم الکلام کی سب سے نمایندہ کتاب تفہیم القرآن ہے۔ یہ اس نئےعلم الکلام کی بہترین مثال ہی نہیں، مستقبل کے لئے اس کا ماخذ بھی ہوگی۔ ابھی تک اس جدید علم الکلام کے اصول کسی نے علیحدہ مرتب نہیں کئے اور یہ کام ہوتا بھی بعد والوں کا ہے کہ وہ ان کا استخراج کریں۔ اگر اس سلسلے میں ایک ابتدائی کوشش کی جائے تو تفہیم القرآن کے علم الکلام کی بنیادی باتیں یہ نظر آتی ہیں۔

الف ۔ دلیل کو قرآن پاک کی مجموعی تعلیمات پر مرتب کیا جائے۔ ایک ایک آیت کو سیاق وسباق سے کاٹ کر نہیں سمجھا جا سکتا اور نہ کسی ایک آیت کا حقیقی مفہوم اس پوری رہنمائی سے صرف نظر کر کے سمجھا جا سکتا ہے جو خود اس موضوع پر قرآن پاک میں دوسرے مقامات پر دی گئی ہے۔ نیز ایک ایک مسئلے اور بحث کو اسی وقت سمجھا جاسکتا ہے جب زندگی کے اس مکمل نقشے میں اس کا صحیح مقام متعین ہو جائے جو قرآن پیش کرتا ہے] اس طرح اس علم الکلام میں قرآن کی پوری رہنمائی کو بنیاد بنایا گیا ہے اور یہ بھی ثابت کیا گیا ہے کہ مذہب کے نام پر جو غلط فہمیاں اور غلط تعبیرات اس زمانے میں رائج ہوئی ہیں، ان کی ایک بنیادی وجہ پورے قرآن اس کی تمام تعلیمات اور اس کی عملی تصویر…… سنّتِ رسول اللہ ﷺ…… پر انحصار کرنے کے بجائے محض اجزا سے انہاک ہے] ۔

ب ۔ اس علم کلام کے دروبست کو مرتب کرنے میں یہ بات ملحوظ رہی ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی اصل بیماریاں جہالت وقت کے نظریات سے مرعوبیت، تناقض اور ایک مخصوص گروہ میں کھلی علمی بددیانتی ہیں۔ ان کا تدارک اس طرح کیا جائے کہ ایک طرف اسلام کی تعلیمات کو عام فہم انداز میں بیان کیا جائے تاکہ دین کے باب میں جہالت دور ہو۔ مغربی فکر کی بنیادوں اس کے اہم نظریات اور تحریکات پر جارحانہ [aggressive] حملہ ہوا ور بھر پور تنقید کے ذریعے دکھایا جائے کہ ان میں سے کیا صحیح اور موجب خیر ہے اور کیا باطل اور موجب فساد۔ یہ حملہ مغرب کے اخلاقی موقف [ امپیریلزم اور قوموں پر ظلم و زیادتی کی بنیاد پر بھی ہو اور اس کے فکری نظام تمدنی اقدار معاشی نظام سیاسی تحریکات اور معاشرتی اخلاق پر بھی۔ اس طرح مرعوبیت کا طلسم ٹوٹے احساس کمتری دور ہو اور اپنے تہذیب تمدن پر اعتماد پیدا ہو ۔ پھر تناقض کو خصوصی ہدف بنایا جائے تا کہ جو مسلمان بن کر رہنا چاہتا ہو وہ پورا مسلمان ہو اور جو دوسرے نظاموں کا حامی بنا پسند کرے اس پر بھی دھو کہ یا غلط فہمی کا کوئی نقاب باقی نہ رہے۔ اسی طرح جو لوگ دین کے معاملے میں کھلی کھلی بدیانتی کر رہے ہیں ان کے علمی بودے پن اور اخلاقی کمزوری کو کھول بیان کیا جائے اور وہ اپنے صحیح رنگ میں سب کے سامنے آجائیں۔ [اس تنقیدی اور علمی کوشش میں ایک طرف ان علمی اور اخلاقی کمزوریوں کو سامنے رکھا گیا جو کئی سوسالوں کی غلامی اور جمود کی وجہ سے خود مسلمانوں میں پیدا ہو گئی تھیں اور دوسری طرف دور جدید میں فتنہ وفساد کے اصل سرچشمے یورپ کی غالب مادہ پرستانہ تہذیب اور اس کی تحریکوں کو ہدف بنایا گیا تا کہ ضرب اصل منبع پر لگائی جائے محض ان آواز ہائے بازگشت کا تعاقب نہ کیا جائے جو مسلم معاشرے میں سنائی دے رہی ہیں –

ج ۔ اس علم الکلام میں فطری طور پر علم کے مآخذ سے بحث کو ایک اہم حیثیت حاصل ہے۔ یورپ کا اصل دھوٹی ہی یہ ہے کہ وحی غیر ضروری ہے۔ انسانی عقل اور تجربہ تہذیب وتمدن کی صورت گری کیلئے کافی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام کا دعوئی یہ ہے کہ عقل اور تجربہ اس وقت مفید ہیں جب وحی کی روشنی میں اپنا وظیفہ انجام دیں ورنہ یہ اسی طرح حقیقت کو دیکھنے میں ناکام رہتے ہیں جس طرح روشنی کی عدم موجودگی میں انسانی آنکھ دیکھنے سے قاصر ہے۔ اور وحی کی روشنی قرآن پاک ہے۔ [اس نئے علم الکلام میں وحی، عقل اور تجربے کے صحیح مقام کو متعین کی کوشش کی گئی ہے نیز اس کو واضح کیا گیا ہے کہ جدید علوم کی فرا ہم کو وہ معلومات میں کیا پہلو افادیت کے ہیں اور بحیثیت ذریعہ ان کی دقتیں اور حدود کیا ہیں[-

 د۔ اس علم الکلام نے جو طرز استدلال اختیار کیا ہے اس میں عقل سلیم کو ایک مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ یہ عقل کی نفی کرتا ہے اور نہ مجر وعقل پر کامل انحصار تفہیم القرآن میں قدم قدم پر عقل سلیم ہی کو اپیل کیا گیا ہے اور یہ کوشش کی گئی ہے کہ عقل سلامتی ور اسی سے زیادہ سے زیادہ بہرہ مند ہو۔ یہی قرآن کا طرز استدلال ہے۔ اس میں منطقی ربط اور اندرونی توافق اور مطابقت کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حقیقت نفس الامری کا شعور اور اس سے مطابقت بھی پیدا کی جاتی ہے۔ نیز نتائج کی روشنی میں بھی ایک خاص روپے کی افادیت یا معضرت ثابت کی جاتی ہے۔ یہ استدلال محض عنیٰ نہیں ہوتا گو اس میں منقل کیلئے پوری پوری اپیل ہوتی ہے۔ یہ عقل کے ساتھ ساتھ انسان کی پوری شخصیت کو اس کے تاریخی اور اخلاقی وجود کو اس کے جذبات اور احساسات کو اس کے موازنہ وتقابل کی جس کو اپیل کرتا ہے اور اس طرح جس دل کو مطمئن کرتا ہے اس کو ایک نئی شخصیت میں ڈھال دیتا ہے۔ یہ صرف قائل ہی نہیں کرتا تبدیل بھی کرتا ہے۔ اس میں محسوس ومعلوم سے دلیل کا صغری اور کبری تیار ہوتا ہے اور جانی پہچانی حقیقتوں پر تفکر کے ذریعے حقیقت کی معرفت پیدا کی جاتی ہے۔ جدید علمالکلام میں اسی طرز استدلال کو اختیار کیا کیا گیا ہے۔

 ہ۔قرآن کے طرز استدلال کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مخالف کو اس کے اپنے تسلیم شدہ اصولوں یا علوم سے لاجواب کرتا ہے۔ [مثلاً حضرت ابراہیم علینڈ کا قوم کو اس طرف متوجہ کرنا کہ جس بت کو تم معبود اور کار ساز سمجھتے ہو اس کے بارے میں یہ مانے کو تیار نہیں ہوتے کہ اس نے دوسرے چھوٹے بتوں کو توڑ دیا ہوگا۔ جدید علم الکلام میں مغرب پر تنقید کے سلسلے میں اسی اسلوب کو بھر پور انداز میں استعمال کیا گیا ہے۔ تفہیم القرآن میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں ملتی ہیں۔

و۔تفہیم القرآن نے جو علم الکلام پیدا کیا ہے اس میں اسلامی احکام کی حکمت اور اس دور کے مسائل اور ادارات سے اس کی مناسبت کو بھی ایک اہم مقام حاصل ہے۔ یہ چیز ایک طرف قرآن کی تعلیمات پر اعتماد اور یقین کو بڑھاتی ہے تو دوسری طرف قرآن کے کلام الہی ہونے کی دلیل ہے کہ اس کی تعلیمات پر زمانے کے تغیرات کا کوئی اثر نہیں پڑتا اور وہ بیسویں صدی میں بھی اتنی ہی تازہ اور بر وقت ہیں جتنی ساتویں صدی عیسوی میں تھیں۔

ز۔قرآن کے طرز استدلال کا ایک اور نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں قلب ونظر کے اطمینان کے ساتھ ساتھ ہر قدم پر تزکیہ نفس کی کوشش بھی کی جاتی ہے تا کہ پوری شخصیت مطلوبہ سمت میں ترقی کر سکے ۔ تفہیم القرآن میں اسی طریقے کو اختیار کیا گیا ہے۔ اس میں تفہیم اور تزکیہ ہر جگہ شانہ بشانہ رہتے ہیں۔ یعنی اس علم الکلام میں اصل گو ہر مطلوب محض ایمان اور نیک عمل ہے۔ ان دونوں کو ہر قدم پر مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ جو شے رگوں میں دوڑے پھرے وہی آنکھ سے بھی سکے۔

یہ ہیں تفہیم القرآن میں جلوہ گر ہونے والے علم الکلام کے چند خدو خال!

۹۔ اشاریہ: تفہیم القرآن کی ایک اور منفر د خصوصیت اس کا اشاریہ ہے۔ قرآن پاک کے متعدد بڑے عمدہ اور قیمتی اشاریے دنیا کی مختلف زبانوں میں موجود ہیں لیکن تفہیم القرآن میں جو اشاریہ بنایا گیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ قرآن اور تفہیم القرآن کے تمام اہم مباحث کا ایک آئینہ ہے۔ کسی بھی اصولی یا جزوی مسئلے پر قرآن پاک میں جہاں جہاں بھی کوئی بات کہی گئی ہے اس کا احاطہ اس میں کر لیا گیا ہے۔ موضوعات کی کثرت، تنوع اور تفصیل کی بدولت قرآن پر تحقیقی کام کرنے والوں کیلئے یہ اشاریہ ایک نعمت غیر مترقبہ ہے۔ اگر تفہیم القرآن علوم کا ایک انسائیکلو پیڈیا ہے تو یہ اشاریہ اس انسائیکلو پیڈیا تک لے جانے والا زینہ ہے۔ میں اس اشاریے کو بھی تفہیم القرآن کی اولیات میں شمار کرتا ہوں۔ اس لئے کہ تفسیر قرآن کیسا تھ قرآن کے موضوعات پر ایسا اشاریہ اس سے پہلے کبھی مرتب نہیں کیا گیا۔

تفہیم القرآن اور دور جدید کا چیلنج

دور حاضر کے چیلنج کو مختلف طریقوں سے سمجھا اور بیان کیا جا سکتا ہے۔ قرآن کے ایک ماننے والے اور تفہیم القرآن کے ایک طالب علم کی حثیت سے میں اس پر غور کرتا ہوں تو اس چیلنج کے تین پہلو نمایاں محسوس ہوتے ہیں۔

الف ۔ دور جدید میں تقریبا عالمگیر پیمانے پر وحی کا انکار یا اس سے صرف نظر کر کے زندگی کا پورا نقشہ ذاتی اور قومی تعصبات یا لادینی نظریات کی روشنی میں تعمیر کیا گیا ہے۔ پوری اشترا کی دنیا اور مغرب کی لادینی اقوام کے تصورات اسی ذیل میں آتے ہیں۔ ہندومت، بدھ مذہب اور دوسرے غیر الہامی مذہب کے پیر د بھی ایک حد تک اسی گروہ میں شامل ہیں۔

ب ۔ جو وحی کے قائل ہیں وہ بھی اس کے سلسلے کو نبی اکرم ﷺ تک تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس وحی کو آخری سمجھتے ہیں جو ان کے نبی پر نازل ہوئی۔ اسلام کو وہ چینی بر وحی مذہب تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہودیت اور عیسائیت کے پیرو اس گروہ سے متعلق ہیں۔

ج ۔ مسلمان جو نبی اکرم ﷺ کو بنی بر حق سمجھتے ہیں ان کا ایک بڑا حصہ عملا دین و دنیا کی تقسیم و تفریق کا قائل اور اس پر عامل ہو گیا ہے۔ اس تفریقی دین ودنیا کی ایک مذہبی روایت ہے جس میں دین کو انفرادی زندگی کے چند خاص دائروں اور اجتماعی زندگی کے چند مظاہر تک محدود کر لیا گیا ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے یہ ایک دنیاوی سلسلہ ہے جس میں گو اجتماعی اور ایک حد تک انفرادی زندگی کیلئے دین کو ترک تو نہیں کیا گیا مگر اس کی اصل تعلیمات کے حقیقی مفہوم کو تبدیل کر دیا گیا ہے یا کیا جارہا ہے۔ یہ گروہ اسلام کا پیوند دوسرے نظاموں اور نظریات سے لگاتا ہے اور اسلام کے احکام کی ایسی تاویلات کرتا ہے جو دراصل تحریف کے مترادف ہیں۔

جس چیز کو ہم دور جدید کا چیلنج کہتے ہیں وہ در اصل ان تین بلکہ چار چیلنجوں پر مشتمل ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ اس چیلنج کے یہ چار پہلو ہیں۔ تفہیم القرآن نے ان چاروں کا جواب اپنے انداز میں دیا ہے۔

اول الذکر کے مقابلے میں تفہیم القرآن نے وحی کے اثبات کا رویہ اختیار کی ہے اور محکم دلائل سے یہ دکھایا ہے کہ انسان خدا کی رہنمائی کا محتاج ہے اور اس رہنمائی کے ماننے اور اس پرعمل کرنے پر اس کی نجات اور فلاح وکامیابی کا انحصار ہے۔

ثانی الذکر کے مقابلے میں تفہیم القرآن نے یہ دکھایا ہے کہ جو اپنے آپ کو وحی کا اجارہ دار سمجھ رہے ہیں وہ کتمان حق اور التباس حق کے مجرم ہیں۔ بائیل نے اپنی اصل شکل میں مجموعی طور پر اسی دعوت کو پیش کیا تھا جو قرآن پاک نے پیش کی ہے لیکن بائیل کے ماننے والوں نے اس کی شکل ایسی بگاڑ دی ہے کہ آج اس میں وحی الہی کی مکمل تصور دیکھی نہیں جاسکتی۔ آج اگر کسی مقام پر وحی کی رہنمائی بلا میل اور بلا کم و کاست مل سکتی ہے تو وہ صرف قرآن پاک ہے۔

آخرالڈ کر دونوں گروہوں کو مخاطب کر کے تفہیم القرآن ان کی غلطیوں کو قرآن اور عقل کی روشنی میں بیان کرتی ہے اور قرآن کی تعلیمات کو دو اور دو چار کی طرح واضح کر دیتی ہے۔ مذہب کے محدود اور جامد تصور کو وہ بیخ وبن سے اکھاڑ دیتی ہے، قرآن کے انقلابی پیغام کی وضاحت کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ قرآن کس طرح زندگی کے ایک ایک گوشے کی تعمیر وتشکیل نو کرتا ہے۔ نیز یہ بتاتی ہے کہ نجات اور کامیابی کے لئے راہ مختصر [short cut] نہیں ہے۔ زندگی کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ پوری زندگی خدا کی بندگی میں گذرے اور خدا کی زمین پر خدا کا قانون جاری وساری ہو۔ نماز اور عبادت کا حق بھی اسی وقت ادا ہوتا ہے جب ان کے ساتھ زندگی اور نظام زندگی کو گناہ اور طاغوت کی بندگی سے آزاد کرانے کی جدوجہد کی جائے۔ تفهیم القرآن متجددین کی غلط فہمیوں یا یہ الفاظ صحیح تر ان غلط فہمیوں کو جن میں وہ دوسروں کو جتلا کرتے ہیں، دور کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ اطاعت یا بغاوت کے راستے تو قابل فہم ہیں لیکن مان کر نہ ماننے کا یہ رویہ عقل، قرآن اور بنیادی اخلاق ہر چیز کے خلاف ہے۔

اس طرح تفہیم القرآن نے دور جدید کے چیلنج کے ہر پہلو کا مثبت جواب دیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک نئے علم کلام کے ذریعہ قرآن کے تصور دین اور زندگی کے پروگرام کو مثبت طور پر پیش کیا ہے۔ اس طرح اس کتاب نے وہ کام کیا ہے جس کو انجام دینے کیلئے لائبریریاں درکار ہوتی ہیں۔ یہ اس دور کا بہترین لٹریچر ہی نہیں، لٹریچر ساز اور انسان گر ہے … اس سے وہ انسان بھی تیار ہورہے ہیں اور ہوں گے جو دور جدید کے چیلنج کا جواب دے سکیں اور اس جھیل سے وہ دریا بھی نکلیں گے جو فکر ونظر اور علم وادب کی نئی نئی وادیوں کو سیراب کریں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »