بائیکاٹ کیوں؟

دور جدید کی سیاسی تاریخ اور تجربات کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے تو جمہوریت اور آمریت کا بنیادی فرق سمجھنے میں ذرا بھی مشکل پیش نہیں آتی۔ تاہم اصطلاحات، الفاظ اور اداروں کی ظاہری شکل وصورت قدم قدم پر دھو کے اور الجھاؤ میں جکڑ لیتی ہے۔ اس کے باوصف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آمریت، بار بار جمہوری لبادے میں خود کو قابل قبول بنانے کے لیے طرح طرح کے کرتب دکھاتی رہتی ہے۔
اس سلسلے کی ایک اہم مثال تو خود انتخابات کا ادارہ ہے۔ بظاہر انتخاب کا عمل جمہوریت اور آمریت دونوں میں مشترک نظر آتا ہے۔ ہٹلر کے دور کا جرمنی ہو، یا مسولینی کی گرفت میں پھڑ پھڑاتا اٹلی، اسٹالن کا روس ہو یا مارشل ٹیٹو کا یوگوسلاویہ، فرانکو کا اسپین ہو یا پنوشے کا چلی، حسنی مبارک کا مصر ہو یا موگابے کا زمبابوے انتخابات تو ان سب ممالک میں ہوتے رہے ہیں اور بڑے بلند بانگ دعووں اور زور و شور کے ساتھ ہوتے رہے ہیں، بلکہ ان ممالک میں رائے دہی کا اوسط [turn-out] مغرب کے بہت سے جمہوری ممالک بشمول امریکا اور برطانیہ سے کہیں زیادہ رہا ہے مگر اس کے باوجود، ان انتخابات نے ان ممالک کو نہ جمہوری بنایا اور نہ ایسے انتخابات کو کسی نے بھی عوام کی آزادانہ مرضی کے اظہار کا ذریعہ تسلیم کیا۔
جمہوری نظام میں انتخابات کی امتیازی حیثیت یہ ہے کہ:
ا – دستور اور قانون کو بالا دستی حاصل ہوتی ہے اور کوئی بھی فرد نہ دستور اور قانون سے بالا ہوتا ہے، اور نہ اسے دستور اور قانون میں دراندازی اور ترمیم وتبدیلی یا تحریف کا کسی درجے میں بھی کوئی اختیار یا موقع حاصل ہوتا ہے۔
ب – ملک میں اظہار رائے تنظیم سازی، اجتماع اور بحث واختلاف کی آزادی ہوتی ہے، سیاسی جماعتیں برابری کی بنیاد پر سیاسی عمل میں حصہ لیتی ہیں اور عوام کے سامنے اپنا پروگرام اور اپنی کارکردگی کا میزانیہ پیش کرتی ہیں۔ ذرائع ابلاغ آزادی کے ساتھ تمام نقطہ ہائے نظر کا اظہار کرتے ہیں اور قوم کے ضمیر کی حیثیت سے معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ محتسب کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
ج – عدلیہ آزاد اور دستوری اختیارات سے مسلح ہوتی ہے، جو پوری مستعدی اور غیر جانب داری سے دستور کی حفاظت اور نفاذ کے ساتھ بنیادی حقوق کے باب میں ہر شہری اور ہر مظلوم انسان کی داد رسی کی ذمہ داری ادا کرتی ہے، جس کے نتیجے میں کسی کے لیے بھی فرعون بننے کا خطرہ باقی نہیں رہتا۔
د – الیکشن کمیشن، انتظامیہ کی گرفت سے آزاد ہوتا ہے اور دستور کے تحت پوری آزادی اور غیر جانب داری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ الیکشن کے قواعد وضوابط اور انتظام کار بھی شفاف اور ہر شک وشبہے سے بالا ہوتے ہیں اور یہ ادارہ اور اس کا پورا عمل برسر اقتدار جماعت اور حزب اختلاف دونوں کی نگاہ میں معتبر ہوتا ہے۔
ہ – جہاں اس بات کا خطرہ ہو کہ حکومت انتخابی عمل میں مداخلت کر سکتی ہے، وہاں انتخاب کے دوران غیر جانب دار عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔
اس پانچ نکاتی نقطہ کار میں منعقد ہونے والے انتخابات کو ملک اور بیرون ملک اعتماد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے، سب اسے قابل بھروسا اور قانونی واخلاقی اعتبار سے درست تسلیم کرتے ہیں۔ اگر یہ نقشہ کار موجود نہ ہو تو پھر انتخابات ایک ڈھونگ اور تماشے سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور اس کے نتیجے میں حکومتوں کے بننے اور بدلنے کے اس عمل میں عوام کا کردار محض ایک تماشائی کا سابن کر رہ جاتا ہے اور خود پیلٹ بکس کا تقدس ختم اور سیاسی تبدیلی کے لیے اس کا کردار دم تو ڑ دیتا ہے۔
بلاشبہہ جمہوری نظام میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور پورا سیاسی عمل اسی محور کے گرد گھومتا ہے۔ نیز یہی وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے انتقال اقتدار ہوتا ہے، اور عوام کی آزاد مرضی سے قیادت کا چناؤ عمل میں آتا ہے۔ متعین وقفوں پر ایسے ہی آزاد اور شفاف انتخابات جمہوری نظام کی پہچان ہیں۔
جماعت اسلامی پاکستان نے مارچ ۱۹۴۹ء میں دستور ساز اسمبلی میں قرار داد مقاصد کے منظور کیے جانے کے بعد سے سیاسی تبدیلی کے لیے جمہوری ذرائع اور انتخابی راستے کو اختیار کیا ہے اور وہ اس پر سختی سے قائم ہے لیکن جماعت اسلامی نے پہلے ہی دن سے انتخابی عمل کے دستور اور قانون کے مطابق اور اس پورے عمل کو قواعد وضوابط اور انتظام کار کے اعتبار سے غیر جانب دار اور شفاف ہونے کو ضروری قرار دیا ہے۔ پنجاب میں ۱۹۵۱ء کے صوبائی انتخابات سے لے کر آج تک انتخابات کی ضرورت بلکہ ان کے ناگزیر ہونے کے ساتھ ان کے صحیح ماحول میں اور صحیح طریقے سے انعقاد کو بھی لازمی قرار دیا ہے اور انتخابات کے یہ دونوں پہلو باہم مربوط اور نا قابل تفریق ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں میں فرق وامتیاز اور ایک دوسرے سے بھی کاٹ دینے [de-link] کی بھر پور مزاحمت کی ہے۔
آج بھی قوم کو جو امتحان در پیش ہے، اس کا تعلق نفس انتخاب سے نہیں، انتخاب کے پورے نظام اور انتظام کار سے ہے، جس کی اصلاح کے بغیر انتخابات بے معنی ہو جاتے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت کا آمر اور اس کے حواری انتخابی ڈھونگ رچا کر ایک فسطائی نظام کے لیے سند جواز [legitimacy] حاصل کر لیتے ہیں، جو دستور کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی اور بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے پیغام موت کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایسا عمل ملک اور قوم کو شخصی آمریت، سیاسی غلامی اور جنگی استبداد کے نظام کی جہنم میں جھونکنے کے مترادف ہوتا ہے۔ اس نظام کو چیلنج کیے بغیر اور دستوری، قانونی وانتظامی نقعۂ کار کی اصلاح کے بغیر انتخابات میں شرکت کا منطقی نتیجہ نہ صرف جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے اصول کی نفی ہے، بلکہ خود اپنے ہاتھوں سے آمریت کی زنجیروں کو مستحکم کرنا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس ناپاک اور خطر ناک کھیل کا پردہ چاک کرنے کے لیے موثر احتجاج کی ضرورت ہے اور موجودہ حالات میں اس کا بہترین ذریعہ انتخابات میں شرکت نہیں بلکہ ان کا بائیکاٹ ہے۔ واضح رہے کہ بائیکاٹ خود مطلوب نہیں، وہ احتجاج کا ایک ذریعہ ہے، تا کہ اقتدار پر قابض عناصر کے اصل عزائم کو بے نقاب کیا جاسکے اور قابل قبول انتخابات کا اہتمام ہو سکے۔
• بائیکاٹ، پس منظر اور جمهوری روایت:
بائیکاٹ کی ایک نوعیت ووٹ کا منفی استعمال ہے، جس کا مقصد ووٹ کے تقدس کی حفاظت اور پیلٹ بکس کو آمریت کی خدمت کے لیے استعمال کیے جانے سے روکنا ہے۔ انتخابی بائیکاٹ کوئی جذباتی یا منفی عمل نہیں، بلکہ احتجاج اور سیاسی مقاصد کو جمہوری طریقے سے حاصل کرنے کا ایک معروف اور جانا پہچانا طریقہ ہے۔ جو لوگ بائیکاٹ کو ایک جذباتی منفی اور غیر مؤثر حربے کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ اس طرح ووٹ کے ضائع ہونے کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا، ہم ان کو غور وفکر کی دعوت دیتے ہیں۔ وہ ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ ووٹ کو ضائع کرنے بلکہ اس کے استحصالی استعمال کا راستہ انجینیرڈ الیکشن دھاندلی زدہ انتخابات میں شرکت ہے یا بائیکاٹ کے ذریعے نظام انتخاب کو جمہوری ضوابط کا پابند بنا کر انتقال اقتدار کے لیے صحیح فریم ورک کو وجود میں لانے کے لیے جدو جہد کرنا، مؤثر ذریعہ ہے؟
قانون کی مستند کتاب Black’s Law Dictionary میں اصطلاح ‘بائیکاٹ’ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے ہے:
کسی خاص فرد یا کاروبار سے اتفاق راے سے معاملہ یا تجارت کرنے سے انکار تاکہ رعایتیں حاصل کی جائیں یا آن اقدامات یا طرز عمل سے اظہار نا پسندیدگی کیا جائے جو معاملات میں مستعمل ہوں ۔ [ص ۱۸۹]
پینگوین کی شائع کردہ Dictionary of International Relations میں ‘بائیکاٹ’ کی تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے: “اس سے کسی ریاست یا ریاستوں کا سماجی، اقتصادی، سیاسی اور عسکری تعلقات سے منظم انکار ہے، تا کہ انھیں سزا دی جا سکے یا رویے کو مطلوبہ صورت کی طرف لایا جاسکے”، جب کہ اوکسفرڈ لغت براے علم سیاست اسے یوں بیان کرتی ہے “نا پسندیدگی کے اظہار کے لیے وضع کردہ ایک طریقہ ، مثلاً کسی اجلاس میں شریک نہ ہوتا، یا کسی ملک یا کمپنی کی مصنوعات نہ خریدنا، تا کہ اُسے سزا دی جاسکے یا اس پر پالیسی، موقف یا رویہ تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے”] ١٩٩٦ء، ص ۴۲[
تجارت ہو یا سیاست، بین الاقوامی تعلقات ہوں یا سماجی روابط ومعاملات بائیکاٹ اظہار احتجاج اور مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے پُر امن ذرائع سے سیاسی قوت کے استعمال کا ایک معتبر راستہ ہے۔ نیز شدید نکتہ چینی [strictures]، پابندیاں اور بائیکاٹ سب ہی اس ترکش کے مختلف تیر ہیں۔ اسرائیل اور شمالی افریقہ کی نسل پرست اور غاصب حکومتوں کے خلاف برسوں اسے استعمال کیا گیا ہے اور اس کے قرار واقعی اثرات رونما ہوئے ہیں۔ ایران اور عراق کے خلاف بھی یہ ہتھیار استعمال ہوا ہے اور ہم بھی اس کا نشانہ بنے ہیں۔ خود برعظیم کی سیاسی جدوجہد میں برطانوی اقتدار کے خلاف بائیکاٹ کے ہتھیار کو بار بار استعمال کیا گیا ہے اور مکمل بائیکاٹ یا جزوی بائیکاٹ کی بحثوں میں پڑے بغیر دونوں ہی شکلوں میں اس کا استعمال کیا گیا ہے، جس نے بالآخر سامراجی اقتدار کی چولیں ہلا دیں۔ اس عمل کا آغاز ۱۹۲۰ء میں ناگ پور کانگریس سے ہوا، اور اس حکمت عملی کے چار ستون تھے:
• قانون ساز اداروں کا بائیکاٹ •
عدالتوں کا بائیکاٹ •
تعلیمی اداروں کا بائیکاٹ
• مناصب اور اعزازات واپس کرنے کا اعلان ۔
وکلا اور سیاسی جماعتیں، آج کے حالات میں ان سیاسی ہتھیاروں کو استعمال کر رہی ہیں، عدالتوں کے میدان میں بھی اور اب انتخابات کے میدان میں بھی۔ انھیں کسی اعتبار سے بھی جذباتی یا منفی اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تاریخ شاہد ہے کہ یہ اور دوسرے پر امن سیاسی ہتھیار جب بھی ٹھیک طرح اور استقلال کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں، ان کے اثرات لازماً نکلے ہیں۔
البتہ جو بات اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے، وہ یہ ہے کہ بائیکاٹ فی نفسہ نہ کوئی سیاسی مقصد اور ہدف ہے اور نہ اسے مستقل حکمت عملی ہی کہا جاسکتا ہے۔ یہ تو موجودہ آمرانہ نظام اور ایک غاصب گروہ کے ہاتھوں قوم کو بے دست وپا کرنے جیسے اقدامات کو قانونی تحفظ دلانے کے مذموم منصوبوں کے خلاف احتجاج کا ایک در بیعہ اور سیاسی دباؤ کا وہ مربہ ہے، جس سے اس نظام کی خباثت اور اس کے ناقابل قبول ہونے کو ظاہر و باہر کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح ملک کو لاقانونیت، فرد واحد کی حکمرانی اور من مانی سے نجات دلانے اور اس کے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے آلہ کار بننے کے بجائے، اس ایجنڈے کو تبدیل کر کے ایک حقیقی جمہوری اور دستوری نظام کی طرف ملک کو لانے کی کوشش ہے، تا کہ بالآ خر صیح معنوں میں آزاد، غیر جانب دار، منصفانہ اور شفاف انتخابات منعقد ہو سکیں اور ملک اور قوم جمہوریت کی طرف صحیح معنوں میں پیش قدمی کر سکیں۔
• موجودہ حالات کی نزاکت:
مسئلے کی اصل نوعیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ آج کے انتخابات عام حالات میں منعقد نہیں ہو رہے۔ پرویزی آمریت کے آٹھ سال، ان کا اصل پس منظر ہیں اور اس سے بھی زیادہ اہم وہ پیش منظر ہے جس کا تانا بانا ۹ مارچ ۲۰۰۷ ء سے بنا جا رہا ہے، اور جسے آخری شکل ۳ نومبر کی ایمر جنسی در اصل جنرل مشرف کے مارشل لا نمبر ۲ عبوری دستور اور ۱۵ دسمبر کو ایمر جنسی اور پرویزی دستور کو مستقل شکل دے کر انتخابات کا جال پھیلایا گیا ہے۔ جس کے بعد اپنی من پسند عدلیہ اور اپنی تابع مہمل عبوری حکومت اور الیکشن کمیشن کے ذریعے قوم کے حق حکمرانی کو اغوا کرنے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا آنکھوں دیکھے اس جال میں قدم رکھا جائے، یا اس جال کو تار تار کرنے کے لیے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا جائے، اور دستوری وعوامی نظام کو بحال کرا کر ایک غیر جانب دار حکومت اور ایک آزاد اور معتمد علیہ الیکشن کمیشن کے تحت انتخابات کے انعقاد کویقینی بنایا جائے ۔ انتخابات تبدیلی کا راستہ ہیں اور ان سے فرار کا تصور بھی کوئی جمہوری قوت نہیں کر سکتی، لیکن انتخابات کو صحیح معنوں میں انتخابات ہونا چاہیے، ور نہ وہ ایک ایسا جال بن جاتے ہیں جس میں گرفتار ہو کر انسان آمریت کے تسلسل کے لیے آلہ کار بن کر رہ جاتا ہے۔
ایک طرف ملک کے پورے نظام حکومت، دستوری انتظام، بنیادی قانون اور اداروں کو پامال کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف ستم یہ ہے کہ جمہوریت کے بڑے بڑے علم بردار اور جمہوریت کی دعوے دار سیاسی جماعتیں صرف میدان دوسروں کے لیے نہ چھوڑنے کا سہارا لے کر ایسے انتخابات میں شرکت کر رہی ہیں۔ یہ سب اسی نظریہ ضرورت کا ایک نیا اڈیشن ہے جس کی تباہ کاریاں ملک اور قوم ۱۹۵۴ء سے دیکھ رہے ہیں۔ سیاسی دروبست کا حلیہ بگاڑنے کے اس عمل کا آغاز ۱۹۵۴ء میں پہلی دستور ساز اسمبلی کی تحلیل اور پھر پہلے قومی انتخابات سے چند ماہ قبل اکتوبر ۱۹۵۸ء میں مارشل لا کے نفاذ سے ہوا۔ یہ سب اس لیے ہوا کہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے نظریہ ضرورت کے نام پر دستور کے توڑنے اور لاقانونیت کو قابل قبول قرار دے کر انھیں قانونی سند جواز دینے کے جرم کا ارتکاب کیا، اور سیاسی جماعتوں نے کمزوری دکھا کر مزاحمت کے بجائے مصالحت کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وہ پہلی ٹیڑھی اینٹ تھی جس نے پورے قومی وقانونی ڈھانچے کو اس کی بنیادوں سے ہلا کر رکھ دیا اور پھر سیاسی نظام کی دیوار ٹیڑھی ہی اٹھتی چلی گئی۔
اس نظریہ ضرورت کی نئی شکل کو، پرویزی آمریت کے ایک نا قابل اعتبار الیکشن کمیشن اور ایک نا قابل قبول عبوری حکومت کے ذریعے انتخابات میں شرکت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک قوم اس نظریہ ضرورت سے نجات نہیں پاتی، نہ وہ اپنی آزادی کی حفاظت کر سکتی ہے اور نہ جمہوریت کی روشن صبح یہاں کبھی طلوع ہو سکے گی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کے اکھاڑے میں اترنے والے بڑے بڑے پہلوان ان انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہونے کا واویلا بھی کر رہے ہیں اور اس نظام کو چیلنج کرنے کے بجاے اس میں شریک بھی ہو رہے ہیں۔ آج ہم سب امتحان کی کسوٹی پر پرکھے جا رہے ہیں۔ وقتی، ذاتی اور جماعتی مصلحتیں ایک طرف ہیں۔ دوسری طرف اصول، دستور اور نظام کی اصلاح اور خرابی کے اس عمل کو ہمیشہ کے لیے روک دینے کی خواہش اور کوشش ہے۔
پرویزی آمریت کے آٹھ سال اور مستقبل کا ایجنڈا
فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات دراصل پرویزی آمریت کے آٹھ سالہ دور کو ایک نئی شکل میں، آئیندہ پانچ سالوں کے لیے وسعت دینے کا ایک منصوبہ ہیں۔ آگے بڑھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس نظام کے خدو خال کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے، تاکہ قوم اور تمام سوچنے سمجھنے والے اچھی طرح جان لیں کہ اس وقت ملک وقوم کے سامنے اصل ایشو کیا ہیں؟
۱ -شخصی حکومت کو دوام:
اس نظام کا سب سے نمایاں پہلوعملا ایک فرد کی شخصی حکومت کو دوام بخشا ہے، خواہ اس پر کیسا ہی لبادہ کیوں نہ اوڑھایا جائے اور وردی زیب تن ہو یا شیروانی!
پرویز مشرف کے پورے دور حکومت کا مرکزی نکتہ صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ قومی مفاد وہ ہے جسے پرویز مشرف ‘قومی مفاد’ کہیں۔ انھوں نے بار بار کہا ہے کہ نہ دستور اہم ہے اور نہ جمہوریت۔ جسے وہ ‘پاکستان’ اور ‘سب سے پہلے پاکستان’ کہتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ ‘سب سے پہلے میں— یعنی صرف پرویز مشرف ‘!
جمہریت میں قومی مفاد کا سب سے بڑا تر جمان قومی دستور ہوتا ہے جس پر پوری قوم کا اجماع [consensus] ہوتا ہے اور جسے بنیادی قانون کہا جاتا ہے۔ اس دستور کے فریم ورک میں قومی مفاد وہ ہے، جس کا اظہار خود قوم اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے کرے اور اس قومی مفاد کی کچھ لہریں عوامی جلسوں، سیاسی جماعتوں کے اظہارِ خیال، میڈیا کے ذریعے عوام کی ترجمانی اور پبلک کی رائے عامہ کے دوسرے معتبر مظاہر ہیں۔ لیکن پرویز مشرف کا فلسفہ یہ ہے کہ قومی مفاد کا تعین کرنا صرف ان کا استحقاق [prerogative] ہے۔ ان کی راے اور ان کی ذات ہی دستور، قانون، ملک، جمہوریت، عدلیہ ہر چیز پر حاوی ہے۔ یہ وہی مطعون ومذموم فلسفہ ہے جس کا دعویٰ فرانس کے بادشاہ لوئی ہفتم نے کیا تھا:” میں قانون ہوں“۔ ہٹلر، مسولینی، اسٹالین، شاہ ایران، حسنی مبارک، صدام حسین سب کی ذہنیت یہی تھی۔ اور آج پرویز مشرف انھی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں جس کا ثبوت وہ کچھ ہے جو پرویز مشرف نے پہلے ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء میں کیا اور پھر نومبر ۲۰۰۷ء کو جو اقدام کیا اور جس کا تازہ ترین اظہار ۱۵ دسمبر کے روز فرد واحد کے ہاتھوں دستور کا حلیہ بگاڑنے کے سارے عمل کو نہ صرف دستور کا حصہ قرار دے کر کیا گیا بلکہ اپنے ہی قسم سے اپنے ان تمام اقدامات کو نام نہاد قانونی تحفظ وجواز بھی دے دیا جنھیں بین الاقوامی میڈیا کے سامنے غیر قانونی [illegal] اور ماوراے دستور [extra-constitutional] ہونے کا خود ہی اعتراف کیا تھا۔
• عوامی ردعمل: پاکستان میں عوامی راے کے جتنے بھی جائزے لیے گئے ہیں، وہ سب یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پرویز مشرف کی کسی بات پر قوم کو اعتبار نہیں اور آج وہ سب سے زیادہ نا پسندیدہ سیاسی حکمران ہیں۔ وہ در مدح خود خواہ کچھ بھی کہیں لیکن دنیا بھر میں آج کوئی ان کے ایسے شیخی پرمبنی دعوں کو کوئی وزن نہیں دیتا اس لیے کہ یہ سارا کھیل ان کی اپنی ذات کے گرد گھومتا ہے۔ پاکستان، جمہوریت یا قومی مفاد سے اس کا دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔
گیلپ پاکستان نے ۵ اور ۶ نومبر ۲۰۰۷ ء ]ایمر جنسی کے لبادے میں مارشل لا[ کے دو اور تین دن بعد جو سروے کیا، وہ قوم کے جذبات کا حقیقی ترجمان ہے:
• ایمر جنسی کی مخالفت ۶۷ فی صد…… تائید ۹ فی صد
• کیا ایمر جنسی پاکستان کے مفاد میں ہے؟ ۲۸ فی صدر نہیں…… ۱۸ فی صد ہاں
• کیا چیف جسٹس کی برطرفی صحیح تھی؟ ۷۰ فی صد نہیں…… ۴۰ فی صد ہاں ۔ .
• ایک نقطہ نظر یہ ہے کہ ایمر جنسی کا نفاذ پاکستان کے مفاد میں تھا، جب کہ دوسرا نقطہ نظریہ ہے کہ یہ مشرف کے اپنے مفاد میں تھا — آپ کیا کہتے ہیں؟ پاکستان کے مفاد میں ۱۸ فی صد…… مشرف کے مفاد میں ۲۸ فی صد
انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزے کے مطابق، جو ۱۹ سے ۲۸ نومبر ۲۰۰۷ء کے درمیان ہوا، یہ بتایا گیا ہے کہ بحیثیت مجموعی، ۲۶ فی صد سے لے کر ۷۵ فی صد تک آبادی مشرف، ان کی پالیسیوں اور اقدامات کے مخالف ہے، جب کہ ان کی تائید آبادی کے صرف ایک چوتھائی تک سکڑ گئی ہے۔ ایمر جنسی کے نفاذ کے لیے مشرف کے موقف کو آبادی کے ۶۶ فی صد نے رد کیا ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ سارا اقدام عدلیہ کو اس خدشہ سے میدان سے ہٹانے کے لیے کیا گیا تھا کہ وہ پرویز مشرف کو صدارت کے لیے نا اہل قرار دے دے گی۔ ہوا کے رخ کا اندازہ عوام کی اس رائے سے کیا جاسکتا ہے جس میں انھوں نے نہاں میں جواب دیا ہے:
- دستور کی معطلی غلط تھی فی صد ۷۷
- سپریم کورٹ کے جھوں کی حراست غلط تھی فی صد ۷۱
- ٹی وی نیوز چینلوں پر پابندی غلط تھی فی صد ۷۶
- سپریم کورٹ کے جوں کا نیا حلف غلط تھا فی صد ۷۳
- سیاسی جلسوں اور جلوس پر پابندی غلط تھی فی صد ۷۰
- وکلا، سول سوسائٹی، سیاسی قائدین کی نظر بندی غلہ تھی فی صد ۷۶
• بين الاقوامی ردعمل:
صاف ظاہر ہے کہ ملک کی عظیم اکثریت، پرویز مشرف کے اقدامات کو غلط اور قومی مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ ان کا اپنا دعویٰ یہ ہے کہ انھوں نے فیاضی کا ثبوت دیتے ہوئے ملک کو جمہوریت کا تحفہ دیا ہے اور پریس اور الیکٹرانک میڈیا کو آزادی سے نوازا ہے۔ لیکن ان کے دعووں کو نہ ملک کی تعظیم اکثریت تسلیم کرتی ہے اور نہ ان کے بیرونی سرپرست، جن کی بیساکھیوں پر انھوں نے اپنی بساط بچھائی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ لکھتا ہے: “گذشتہ دو ہفتوں میں جنرل پرویز مشرف نے جو بھی اقدام اٹھایا ہے اُس کا ایک ہی مقصد ہے کہ اقتدار پر اپنے کنٹرول کو استحکام بخشا جائے” ۔ [دی نیشن ،۳ دسمبر ۲۰۰۷ء]
واشنگٹن پوسٹ ہی نے اپنے ۱۹ دسمبر کے اداریے میں ان کے اس دور کے کارناموں کایوں احاطہ کیا ہے:
اگر چہ اُنھوں نے باضابطہ طور پر اُس حالت کو ختم کر دیا ہے جو اُنھوں نے چھے ہفتے قبل نافذ کی تھی، مگر اس کے باوجود پرویز مشرف پر تنقید کرنے کا مطلب جیل جانا ہے۔ عدالتی نظام وکلا کے بائیکاٹ کی وجہ سے مفلوج ہو چکا ہے کیونکہ مشرف نے سپریم کورٹ کے اُن بچوں کو بحال کرنے سے انکار کر دیا ہے جن کو انھوں نے غیر قانونی طور پر برطرف کر دیا تھا۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہ بارہا انتباہ کر چکے ہیں کہ صدر کا منصوبہ ہے کہ اگلے ماہ پارلیمانی انتخابات میں جعل سازی کی جائے تاکہ اُن کی اپنی پارٹی، جو بے انتہا غیر مقبول ہو چکی ہے، بر سر اقتدار رہے۔
حقیقت میں اُن کی واحد کامیابی یہ ہے کہ اُنھوں نے سپریم کورٹ کے ہاتھوں اپنی برخاستگی سے اپنے آپ کو بچایا ہے۔ اس کی قیمت یہ ادا کی گئی ہے کہ ملک کو مزید غیر مستحکم کر دیا گیا ہے۔
کلدیپ نیر، مشرف صاحب کے مداح رہے ہیں، وہ اپنے مضمون میں واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کی روشنی میں موصوف کی خود پسندی اور خود آرائی پر یوں اظہار کرتے ہیں: بدقسمتی سے مارشل لا انتظامیہ کی طرف سے دستور میں بار بار ترامیم کی گئی ہیں، لیکن جس انداز سے مشرف نے اسے مستحلیا ہے وہ سب پر بازی لے گئے ہیں۔ انھوں نے ایسے وقت میں عدلیہ کو برباد کر دیا کہ جب اس کی آزادی کی طرف جمہوری ممالک بشمول بھارت میں رشک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ عدلیہ کے علاوہ مشرف نے میڈیا کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے باوجود بھی مشرف نڈر بنے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کو دیے گئے ایک انٹرویو سے اُن کے مستقبل کے عزائم کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جب اُن سے سوال کیا گیا کہ وہ وردی اُتار دینے کے بعد فرق محسوس کریں گے تو مشرف نے جواب دیا: ‘فوج کا انتظام چیف آف اسٹاف کے حوالے ہے جو اپنے کام سے انہماک رکھتا ہے اور میں پاکستان کا صدر بن جاؤں گا۔ اگر دونوں ہم آہنگ رہیں تو صورت حال بہتر رہے گی۔ پھر ایک اور سوال کے جواب میں اُنھوں نے کہا کہ میں چیف آف اسٹاف کو مقرر کروں گا۔ اس میں وزیر اعظم کا کوئی ذکر نہیں جو عوام کا منتخب نمایندہ ہے۔ ایمر جنسی کا نفاذ اس لیے کیا گیا ہے تا کہ سپریم کورٹ سے اپنے آپ کو بچایا جا سکے۔ [ہندستان ایکسپریس ،۱۳ نومبر ۲۰۰۷ء]
لندن کا ہفت روزہ دی اکانومسٹ لکھتا ہے:
پاکستان میں نہ جمہوریت ہے اور نہ استحکام۔ جنرل پرویز مشرف کی یہ الٹی منطق ہے کہ آرمی ڈکٹیٹر نے پاکستان کو جمہوریت عطا کی ہے اور مارشل لا کا سایہ بھی موجود ہے تا کہ دستور کی حفاظت کی جائے۔ عدلیہ پر اُنھوں نے جو تازہ ترین حملہ کیا ہے، وہ اُن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ کے انتہائی مؤثرے میں سے ۱۲ جوں کو یک قلم برخاست کرتا ہے۔ ان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری گرفتار ہیں۔ ان کی جگہ فوج کے منتخب کردہ خوشامدی لگا دیے گئے ہیں۔ اسی وجہ سے جنرل مشرف نے اقتدار پر قبضہ جمایا۔
یہ ہے شخصی حکمرانی کا وہ آہنگ، جو پرویز مشرف کے آٹھ سالہ دور حکومت کا حاصل ہے۔ دستور مملکت جس کی پابندی کا حلف اس نے اٹھایا ہے، اس کو بار بار تار تار کرنے کا یہ انداز! مشرف صاحب جب چاہیں تلوار کی نوک سے دستور کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالیں، جس ادارے کو چاہیں تباہ وبرباد کر ڈالیں، جس کی آزادی چاہیں سلب کرلیں، بیرونی حکومتوں سے جو چاہیں عہد وپیماں کرلیں، اپنی ملازمت میں جب چاہیں اور جن مراعات کے ساتھ چاہیں توسیع کرلیں، عدالت عالیہ کے جس حج کو چاہیں گردن دبوچ کر باہر نکال دیں، میڈیا پر جب چاہیں من پسند
قدغنیں عائد کردیں اور دستور کا حلیہ بگاڑ کر اپنے اقدامات کو خود ہی تحفظ بھی دے ڈالیں۔ یہ ہے اس شخص کا طرز حکمرانی۔ کیا اس طرز حکمرانی میں جمہوریت، قانون کی بالا دستی اور اداروں کے استحکام اور انتخابات کے ذریعے سیاسی قیادت کی تبدیلی کا کوئی تصور کیا جا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بالغ نظر سیاسی رہنما ہوں یا بار اور بنچ (Bar & Bench) کے سوچنے سمجھنے والے عناصر سب یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ پرویز مشرف کسی بھی صورت میں منظور نہیں، خواہ وردی میں ہو یا ور دی کے بغیر۔ اور عدالت عالیہ کو اسی فیصلہ سے روکنے اور اپنی ذات کو ملک پر مسلط کرنے کے لیے ایمر جنسی اور عبوری دستور جو دراصل پرویزی دستوری آرڈر [PCO] تھا، اس کا راستہ اختیار کیا گیا۔ اسی پی سی او کو اب پوری عیاری سے دستور کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور انتخابات کا ڈراما اسی کے تحت اسٹیج کیا جا رہا ہے۔
۲ – ملکی آزادی اور خودمختاری پرزد:
پرویزی تلوار کی دوسری زد ملک کی آزادی، حاکمیت اور خود مختاری پر پڑی ہے۔ دوسرے ممالک ، خصوصیت سے امریکا اور اس کے زیر اثر ممالک، جس درجے میں اور جس نوعیت کی مداخلت کا نشانہ آج پاکستان کو بنا رہے ہیں اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ قائد اعظم نے تو لارڈ ماؤنٹ بیٹن تک کو عارضی طور پر گورنر جنرل ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ جب اس وقت کی پاکستانی فوج کے برطانوی کمانڈر نے سربراہ مملکت کے احکام ماننے میں تردد کا راستہ اختیار کیا تو ان سے بھی خلاصی حاصل کرلی گئی ، لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ امریکا کے سفارت کار وائسراے کا سا مقام حاصل کر چکے ہیں۔ ان کے تیسرے درجے کا افسر بھی صدر مملکت ، فوج کے سربراہ ، آئی ایس آئی کے چیف اور جس سطح کے حکام سے چاہیں ملاقات کرتے ہیں اور احکام جاری کرتے ہیں۔ صدر بش سے لے کر جارج گیس پیک کھلے الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ: ہم جب ضرورت سمجھیں گے پاکستان کی سرزمین پر اپنے اہداف کے حصول کے لیے بلا واسطہ فوجی کارروائی کریں گے اور وہ صرف یہ دعویٰ ہی نہیں کر رہے، بلکہ عملاً متعدد بار افغانستان سے امریکی اور نانو افواج پاکستان کی حدود میں کارروائیاں کر چکی ہیں اور پرویز مشرف کی حکومت کو احتجاج کی توفیق بھی نہیں ہوئی بلکہ چند مواقع پر تو غیرت وحمیت کو دفن کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا گیا : ” وہ کارروائی امریکا نے نہیں خود ہم نے کی تھی”۔
بات صرف دہشت گردی کے خلاف امریکا کی نام نہاد جنگ اور اس میں پاکستان کے کردار تک محدود نہیں، معاشی پالیسیوں سے لے کر تعلیمی پالیسی تک اور اس سے بھی بڑھ کر اب پاکستان کے لیے مستقبل کی قیادت کا اصل انتخاب اور ان کی نرم تاج پوشی تک واشنگٹن کے دست شفقت کے ذریعے ہو رہی ہے۔ پرویز مشرف کو کن کن کے ساتھ اشتراک اقتدار کرنا چاہیے اور امریکا کے چہیتوں کو ملک میں لانے اور اقتدار کے منصب تک پہنچانے کے لیے ان کے کن کن جرائم کو معاف کرنا اور قومی مصالحت کے نام پر کرپشن کے کن کن داغوں کو دھونے اور ملک اور ملک سے باہر مقدمات کو واپس لینا ہے؟ یہ بھی امریکا اور اس کے گماشتوں کے اشاروں پر طے ہو رہا ہے۔ امریکا ہی نہیں اب تو یورپ اور شرق اوسط کے سفر بھی ملکی سیاست کے دروبست کو اپنے ڈھب میں ڈھالنے میں مصروف ہیں۔ امریکا نے ۲۰۰۷ء میں ایک نہیں بلکہ دو ایسے قوانین دونوں ایوانوں سے پاس کرالیے ہیں، جن کے تحت پاکستان کو دی جانے والی امداد کو صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی نہیں، بلکہ ملک کی اندرونی سیاست تعلیم اور سب سے بڑھ کر ملک میں سیکولرزم اور امریکا کی دل پسند روشن خیالی کے فروغ سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ پرویز مشرف اور ان کے حواریوں کی غیرت نے اس ظلم یا بہ الفاظ صحیح تر غلامی کو بھی گوارا کر لیا ہے اور اس لیے کر لیا ہے تا کہ ہر سال چند سو ملین ڈالر حاصل ہوتے رہیں۔ افسوس کا مقام ہے کہ بڑے ہی اہم امور پر اب ہماری خارجہ سیاست کی صورت گری امریکا اور بیرونی قرضے اور امداد دینے والے ادارے کر رہے ہیں۔ بھارت سے دوستی، کشمیر کے مسئلے پر یوٹرن اور کشمیر کی تحریک مزاحمت سے بے وفائی، اسرائیل سے پینگیں بڑھانے کا خطر ناک اور شرمناک کھیل بھی اسی قوم فروشی کے مظاہر اور اس میں پرویز مشرف اور خورشید محمود قصوری کے ساتھ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی اپنے اپنے انداز میں اور حسب توفیق امریکا اور اسرائیل کی خوش نودی حاصل کرنے کے لیے شریک ہیں۔
یہ صرف پرویز مشرف کے دور میں ہوا ہے کہ پاکستان کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کے وزیر خارجہ سے ملاقات کی ہے۔ پرویز مشرف نے امریکن جیوش کانگرس سے نہ صرف خطاب کیا ہے، بلکہ اسرائیل سے سلسلہ کلام شروع کرنے اور اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان کردار ادا کرنے کی باتیں کی ہیں۔ پاکستان نے ۶۰ سال میں پہلی بار اقوام متحدہ میں اسرائیل کے پیش کردہ ریزولیوشن کے حق میں ووٹ دیا ہے، جب کہ ان عرب ممالک نے بھی، جو ضمیر کا سودا کر کے اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں، اس رائے شماری کے دوران غیر حاضر رہنے کو ترجیح دی ہے۔ پاکستانی اخبارات میں یہ خبر شائع ہونے نہیں دی گئی کہ نومبر ۲۰۰۷ء میں جان نیگرو پونٹے کے دورہ پاکستان اور پرویز مشرف سے ملاقات سے چند دن پہلے امریکی جیوش کانگرس کی ورلڈ جیوری کے چیئر مین جیک روزن نے خاموشی اور رازداری سے پاکستان کا سفر کیا اور وہ پرویز مشرف صاحب کے علاوہ اس وقت کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف جنرل کیانی اور کئی مرکزی وزرا اور اعلیٰ سرکاری حکام سے ملا۔ اس نے امریکا جا کر امریکی لابی کو پرویز مشرف کے حق میں متحرک کرنے کی کوشش کی۔ اس کی تفصیلی رپورٹ یہودی روزنامے Foreward میں شائع ہوئی ہے، جو ۲۱ نومبر ۲۰۰۷ء کے شمارے میں دیکھی جاسکتی ہے[www.foreward.com/articles/12080] –
پرویز مشرف اور ان کے حالیہ اور مستقبل کے شریک اقتدار کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور امریکا کی خوش نودی کے لیے ملک کی آزادی، حاکمیت اور خود مختاری پر سمجھوتوں کو کہاں تک لے گئے ہیں، اس کا پورا اندازہ شاید ان کے اقتدار سے رخصت ہو جانے کے بعد ہی ہو سکے! – نظریاتی اور دینی تشخص کا مجروح هونا: پرویزی دور کا تیسرا تحفہ ملک کے نظریاتی ، دینی اور اخلاقی تشخص کا بری طرح مجروح ہوتا ہے۔ مغربی تہذیب و تمدن سے شیفتگی، تعلیم میں سیکولر ازم کا فروغ اور پوری اجتماعی زندگی میں عریانی اور فحاشی کی کھلی چھوٹ کی جو کیفیت آج ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔ زندگی کے ہر شعبے کی سیکولر بنیادوں پر تشکیل کی جارہی ہے۔ رواداری اور معروضیت کے نام پر دینی تعلیمات، تہذیبی اقدار، اُمت کے جدا گانہ تشخص، اپنے اخلاقی نظام اور رسم و رواج سب کو پامال کیا جا رہا ہے۔ جس قوم کی نئی نسلیں اپنے دین ، اپنی تہذیب اور اپنی تاریخ سے واقف نہیں ہوں گی اور ان پر فخر نہیں کریں گی، وہ اپنی آزادی کو کیسے برقرار رکھ سکیں گی اور دنیا پر اپنا نقش کیسے قائم کر سکیں گی !
بات صرف اس تہذیبی انتشار تک محدود نہیں۔ قوم جو پہلے ہی فرقوں میں بٹی ہوئی تھی، اس میں فرقہ واریت بلکہ فرقہ وارانہ تصادم کو فروغ دینے کا کھیل بھی کھیلا جا رہا ہے۔ اس میں بیرونی ممالک اور ان کے گماشتے [افراد اور این جی اوز] اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تو قوم کی دینی بصیرت اور دینی جماعتوں اور خصوصیت سے متحدہ مجلس عمل کا کارنامہ ہے کہ فرقہ واریت کی آگ نہ پھیل سکی، ور نہ امریکی پالیسی سازوں اور ملکی ایجنسیوں نے اس آگ کو بھڑکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
پرویز مشرف نے قوم کو انتہا پسندوں اور روشن خیالوں میں تقسیم کر کے اور ان کو ایک بائیکاٹ کیوں؟ دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے کی بھی بہت کوشش کی ہے، اور اس طرح ملک میں نظریاتی کش مکش کو فروغ دینے کی امریکی حکمت عملی کو آگے بڑھانے میں بڑا خطرناک کردار ادا کیا ہے۔ اختلاف راے خواہ سیاسی ہو یا مذہبی اور نظریاتی، ہر معاشرے کا حصہ ہے اور افہام وتفہیم اور بحث و مذاکرے کے ذریعے ہی فکر انسانی کی ترویج ہوتی ہے۔ مہذب معاشرے کی بنیاد فکر و نظر کے تنوع پر ہے اور اسی سے زندگی میں حُسن اور ترقی کے راستے پھوٹتے ہیں ؎
گل ہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوق، اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
ہاں یہ ضروری ہے کہ اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش نہ ہو، تشدد اور قوت کا استعمال نہ کیا جائے لا اکراہ فی الدین ۔ لیکن حدود کے اندر اختلاف اور تنوع کو انتہا پسندی اور روشن خیالی کا نام دے کر لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنا تباہی کا راستہ ہے۔ کسی کی نگاہ میں کیا انتہا پسندی ہے اور کیا روشن خیالی یہ حکمران طے نہیں کریں گے، قوم کا ضمیر ہی اس کا فیصلہ کرے گا۔ رواداری ضروری ہے مگر امریکا کے ایجنڈے کے مطابق مسلمان معاشرے اور قوم کو انتہا پسندی اور روشن خیالی کے نام پر تقسیم کرنا اور تصادم کی فضا بنانا، اپنی قوم کے ساتھ ظلم ہے اور یہ بھی پرویزی دور کا ایک تباہ کن تحفہ ہے اور خود انتہا پسندی اور جبر کی قوت سے اپنی بات دوسروں پر مسلط کرنے کی بدترین مثال ہے۔
۳ – اداروں کو کمزور کرنے کی کوشش :
چوتھا کارنامہ اس دور کا یہ ہے کہ ایک ایک کر کے ملک کے تمام اداروں کو کمزور، مضمحل بلکہ تباہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اور صرف اپنی ذات کو استحکام کا ذریعہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے پہلا نشانہ دستور بنا، پھر سیاسی جماعتوں کی باری آئی۔ الیکشن کے نظام کو صدارتی ریفرنڈم اور پھر ۲۰۰۲ء کے قومی اور صوبائی انتخابات کے موقع پر من مانی اور ایجنسیوں کی دراندازی کی آماج گاہ بنا دیا گیا۔
• دستور کی پامالی:
۲۰۰۲ء میں پارلیمنٹ وجود میں آئی، مگر اس طرح کہ پہلے سال تو صرف احتجاج ہوتا رہا۔ باقی چار برسوں کی کارکردگی بھی مایوس کن رہی ہے۔ صدر نے پارلیمنٹ کو خطاب کرنے کی دستوری ذمہ داری چار سال تک پوری نہیں کی اور پارلیمنٹ کو غیر مہذب’ کہہ کر نظر انداز کر دیا۔ قانون سازی کے لیے صدارتی فرمان کا راستہ اختیار کیا اور ۷۵ فی صد قانون سازی آرڈی ننس کے ذریعے ہوئی۔ سیاسی جماعتوں کو توڑ پھوڑ اور ضمیروں کی کھلی خرید وفروخت کے ذریعے اپنی گرفت میں رکھا گیا۔ قومی اسمبلی کے پانچ سال پورے کرنے کو ایک کارنامے کے طور پر تو پیش کیا جا رہا ہے لیکن اس کا کوئی ذکر نہیں کیا جارہا کہ اسمبلی نے کتنے دن کام کیا؟ کتنے گھنٹے اپنے فرائض منصبی پورے کرنے کے لیے صرف کیے، کتنی بار کورم ٹوٹا گل ارکان میں سے کتنے ایسے ہیں جنھوں نے پانچ سال میں کوئی ایک تقریر بھی نہیں کی، ایک سوال نہیں پوچھا، ایک تحریک نہیں پیش کی؟ اور پھر اسمبلی نے آخری ایام میں ایک نااہل شخص کو صدر منتخب کر کے اور ایمر جنسی اور دستور کی معطلی کی تائید کر کے اپنے منہ پر کتنی کالک ملی؟ پارلیمنٹ کے ادارے کو نیم جان کرنے کے ساتھ ریاست کے دوسرے بنیادی ستون عدلیہ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، وہ عبرت ناک ہے۔ اپنی مرضی کے لوگوں کو عدالت میں مقرر کرنے ، چیف جسٹس کو دوبار اور دوسرے۵۴ بجوں کی برطرفی [جو گل اعلیٰ عدالتی ججوں کا ۶۰ فی صد ہیں[ ایک ایسا مجرمانہ فعل ہے جو تاریخ میں سیاہ ترین باب کی حیثیت رکھے گا، اور جس کی مذمت پوری دنیا میں ہوئی ہے۔
• انتظامیہ کی بے توقیری:
انتظامیہ کو اپنی ذاتی پسند اور ناپسند کا تابع بنانا، سرکاری ملازمین کے تبادلے، برطرفی اور ان سے وہ کام لینا جو ان کے منصب سے مطابقت نہیں رکھتا، انتظامیہ کو تباہ کرنے کا نسخہ ہے۔ پھر پبلک سروس کمیشن کو اس زمانے میں عضو معطل بنا دیا گیا۔ اس کے دائرہ کار کو محدود، اس کے ارکان کی مدت کی تخفیف، اس کو نظر انداز کر کے بلکہ اس کی سفارشات کے برعکس تقرریاں، فوج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افراد کا تقرر کس کس بات کا رونا رویا جائے۔
• آزادی اظهار پر قدغن:
میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور اس کی آزادی اور چینلوں کی ترویج کو اپنے بڑے کارناموں میں پیش کیا جاتا ہے، مگر جس طرح میڈیا کو لگام دی گئی، ویج بورڈ کے ساتھ جو کچھ کیا گیا، پیر نے کس طرح اخبارات اور ٹی وی چینلوں کو اپنے شکنجے میں کسا، پولیس نے کس طرح آزاد میڈیا پر یورش کی ضمیر خریدنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے گئے، براہ رأست ٹیلی کاسٹنگ کا کس طرح گلا گھونٹا گیا، صحافیوں پر قید وبند اور ظلم وتشدد کے کون کون سے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس دور میں ایک دو نہیں ۲۴ صحافیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔ یہ ہے میڈیا کی آزادی کی حقیقت جسے پرویزی دور کا کارنامہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔
• فوج کی بحیثیت اداره چیره دستی:
مسلح افواج کا محترم ادارہ جس نے اس دور کے حکمران کو اصل قوت فراہم کی، وہ بھی اس دور کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہ رہا۔ جو فوج دفاع وطن کے لیے تیار کی گئی تھی اسے ان دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جن کے لیے وہ بنائی ہی نہیں گئی تھی اور نہ اس کی اہلیت رکھتی تھی۔ نائن الیون کے بعد فوج کو آنکھیں بند کر کے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں جھونک دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں فوج کے اقدامات اور قوم کے احساسات کے درمیان دوری رونما ہوئی۔ بلوچستان، وفاقی قبائلی علاقوں اور دوسرے مقامات پر فوج کے استعمال کی قوم ہی نے نہیں خود فوج نے بھی بھاری قیمت ادا کی ہے۔ ایک ہزار ” سے زیادہ فوجی جوانوں اور افسروں اور اس سے دو گنا یا اس سے بھی زیادہ سویلین افراد بشمول خواتین اور بچوں کی ہلاکت ایک قومی سانحہ ہے۔ اس سے کچھ کم سانحہ یہ نہیں کہ فوج کا جو وقار، اس سے جو محبت قوم کو تھی، اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کی رو سے ۱۹۹۹ء میں ۸۰ فی صد آبادی فوج کو سب سے محترم اور قابل اعتماد ادارہ قرار دیتی تھی جو ۲۰۰۷ ء میں گر کر ۵۴ فی صد پر آگئی ہے یعنی فوج کے وقار میں ۴۰ فی صد کمی واقع ہوئی ہے، جو بڑا قومی خسارہ ہے۔ بے اعتمادی اب یہاں تک بڑھ گئی ہے کہ وزارت داخلہ کو چند ماہ قبل با قاعدہ یہ تحریری ہدایت جاری کرنی پڑی کہ فوجی عام پبلک مقامات پر تنہا فوجی وردی میں نہ جائیں، انا للہ وانا اليه راجعون!
ہم نے دل کڑا کر کے یہ صورت حال بیان کی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ پرویزی دور میں ریاست کے تمام ہی ادارے مجروح اور متزلزل ہو چکے ہیں، گویا ؎
ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں
۴ – وفاق کا کمزور ھونا اس دور کا پانچواں تحفہ فیڈریشن کی کمزوری ہے۔ اولین دو مارشل لا، وہ تاریک ادوار ہیں، جب مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان میں بے اعتمادی اور مغائرت واقع ہوئی اور بالآخر بھارت نے اپنی پاکستان دشمنی میں اس کا فائدہ اٹھایا اور قائد اعظم کا پاکستان دولخت ہو گیا۔ مشرف کے مارشل لا میں مرکز اور صوبوں کے درمیان بے اعتمادی اور ڈوری کی نئی لہر اُبھری ہے اور خصوصیت سے بلوچستان اور سرحد کے صوبوں میں مرکز گریز رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ اکبر بھٹی جو اپنی قوم کا سردار ہی نہیں تھا بلکہ بلوچستان میں فیڈریشن کا نمائیندہ بھی تھا، فوج کے ہاتھوں قتل ہو کر مرکز کے خلاف نفرت کا عنوان بن گیا ہے۔ اصلاح احوال کی ہر کوشش کو حکمران ٹولے نے سبوتاثر کیا اور بلوچستان اور صوبائی مفاہمت کے لیے پارلیمانی کمیٹی نے جو محنت کی، وہ سب رائیگاں گئی۔ صوبوں کو ان کے وسائل پر اختیار حاصل نہیں ہے اور دستور کے مطابق رائلٹی اور ملازمتوں میں جو حصہ انھیں ملنا چاہیے، وہ نہیں مل رہا، اور سارے دعووں کے باوجود حالات میں سر مو فرق واقع نہیں ہو رہا۔ مرکز کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ وزیر اعظم اور صوبائی حکومت کے با ہم اتفاق راے سے بجلی کے نفع میں صوبہ سرحد کے حق کے تعین کے لیے جو ٹالٹی ٹربیونل بنا تھا اور جس کا متفقہ اوارڈ آیا، اس تک پر عمل نہیں کیا گیا۔
فیڈریشن آج جتنی کمزور ہے اتنی کبھی نہ تھی۔ یہ ہے اس دور کا حاصل!
۵ – حقیقی معاشی ترقی سے محرومی:
اس دور کا چھٹا تحفہ یہ ہے کہ معاشی اور مالیاتی وسائل کا جو سیلاب آیا اور کسی محنت اور پالیسی کے بغیر ۶۵ ارب ڈالر کی جو مالی کشادگی حاصل ہوئی، اسے حقیقی معاشی ترقی اور عوام کی خوش حالی کے حصول کے لیے استعمال نہیں کیا گیا۔ معاشی ترقی کا سارا رخ آبادی کے ۱۰ سے ۱۲ فی صد طبقات کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔ باقی ملک کی عظیم اکثریت کے حصہ میں جو کچھ آیا ہے وہ بے روزگاری، افراط زر، اشیائے ضرورت کی کمیابی تعلیم اور صحت کی سہولتوں کا فقدان، زراعت کی ضرورتوں سے اغماض، تجارتی اور ادایگیوں کے عدم توازن میں نا قابل برداشت اضافہ، بیرونی دنیا پر انحصار کی محتاجی، ملکی اور بیرونی قرضوں میں بڑھوتری اور معیشت اور زندگی کی ہر سطح پر کرپشن میں محیر العقول اضافہ عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے اور ۸۰ فی صد آبادی کے لیے حالات میں کوئی تغیر نہیں ہوا یا مزید خراب ہو گئے۔
پلاننگ کمیشن کا وہ سروے جس کی بنیاد پر دعوی کیا جا رہا ہے کہ غربت میں کمی ہوئی ہے اس میں یہ صورت حال سامنے آئی ہے کہ آبادی کے ۵۰ فی صد کا دعویٰ ہے کہ اس کے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ۲۸ فی صد آبادی کہتی ہے کہ ہمارے حالات بدتر ہو گئے ہیں اور جن کی حالت کسی درجے میں بہتر ہوئی ہے، وہ بمشکل ۲۰ سے ۲۳ فی صد ہے۔ اس میں بھی اوپر کے وا فی صد ہی اصل فائدہ اٹھانے والے ہیں۔ یہی بات عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کے سروے سے معلوم ہوتی ہے۔ گویا معاشی ترقی کے سارے دعووں کے باوجود اس دور کا اصل تحفہ غریبوں کا غریب تر ہونا اور امیروں کا امیر ترین جاتا ہے۔
۶ –فوجی مداخلت کا دائرہ اثر بڑھانا: پرویزی دور کا ساتواں تحفہ سیاست میں فوج کی مداخلت اور فوج کو سیاست، معیشت، انتظامیہ غرض ہر اہم شعبے میں ایک باقاعدہ رول فراہم کرنے کی کوشش ہے، جس نے دستور میں طے کردہ نظام کار کو درہم برہم کر دیا ہے، اور فوج کے بارے میں جو تاثر عام ہے وہ سابق خارجہ سیکرٹری ڈاکٹر تنویر احمد خان کے ایک حالیہ مضمون میں کچھ اس طرح بیان کیا گیا ہے:
مسلح افواج پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ ۲۰ ارب ڈالر کے برابر اثاثوں اور ایک کروڑ ۲۰ لاکھ ایکڑ اراضی کی مالک بن چکی ہے۔ چنانچہ وہ بدعنوانی کے معاملات میں سب سے زیادہ نمایاں ہو چکی ہے۔
اس جلتی پر تیل کا کام پرویز مشرف کے اس فلسفے نے کیا ہے کہ ملک میں اقتدار کے تین سرچشمے ہیں: صدارت، فوج کا سربراہ اور وزیر اعظم جسے وہ Troika [تکونی حکمرانی] کہتے ہیں۔ وہ ان کے درمیان یک رنگی کو استحکام کی شرط قرار دیتے ہیں۔ اپنے اس فلسفے کا اظہار وہ بار بار کرتے رہے ہیں، لیکن اس کا تازہ ترین اعلان واشنگٹن پوسٹ اور بی بی سی کو انٹرویو میں کیا ہے۔ حالانکہ پارلیمانی جمہوریت میں اقتدار کا مرکز اور محور پارلیمنٹ اور ان کا منتخب کردہ وزیر اعظم ہوتا ہے۔ دستور کے تحت صدر کو غیر متنازع شخصیت کا حامل ہونا چاہیے اور وہ فیڈریشن کی علامت ہے کسی حکمرانی کی تکون کا حصہ نہیں۔
رہی فوج تو دستور کے تحت وہ سول حکومت کے ماتحت ہے، خود مرکز اقتدار نہیں۔ بلاشیہ نگرانی اور توازن [checks and balances] کا نظام دستوری حکومت کا خاصہ ہے، لیکن نگرانی اور توازن کا یہ نظام مقتنہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے اختیارات کے ذریعے کار فرما ہوتا ہے۔ اس میں صدر اور فوج کا کوئی آزاد کردار نہیں۔ پرویز مشرف کے تکونی حکمرانی کے تصور نے دستور کے طے کردہ نظام کو جس پر قوم کا اتفاق رائے ہے اور جو ایک معاہدہ عمرانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ درہم برہم کر دیا ہے اور دراصل انتشار کی یہی اصل وجہ ہے۔ پرویز مشرف کی موجودگی میں دستور اپنی اصل شان میں کارفرما ہو ہی نہیں سکتا۔ اس لیے اصل مسئلہ دستور کی بحالی، عدلیہ کی ۲ نومبر ۲۰۰۷ ء کی حیثیت میں بحالی اور فوج کو دفاع تک محدود کرنا ہے جس کے لیے پرویز مشرف کے تصور حکمرانی کو مکمل طور پر رد کرتا اور جو بھی اس کا داعی ہو اس کو اقتدار سے فارغ کرنا ضروری ہے۔
• سیاسی جماعتوں کے بدلتے موقف: ایمرجنسی کے نفاذ، دستور معطل کرنے، عبوری دستور نافذ کرنے، عبوری دستور کے نام پر اصل دستور میں ایسی بنیادی تبدیلیاں کرنے سے اس دستور کا حلیہ خراب ہو گیا ہے اور اس پر ایک سکون کو مسلط کر دیا گیا ہے اس مسخ شدہ دستور [vandalized constitution] کے تحت اپنی پسند کی عبوری حکومت اور انگوٹھے تلے کام کرنے والے الیکشن کمیشن کے ذریعے انتخابات کا ناٹک رچا کر اپنے نظام کو چلانے والے لوگوں کو منتخب کرانا ان کا ایجنڈا ہے۔ پرویز مشرف کی اصل ضرورت ایک ایسی تابع مہمل پارلیمنٹ اور ایسی تابع فرمان مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں ہیں، ان مذموم آمرانہ، غیر جمہوری اور غیر قانونی مقاصد کو پورا کر سکیں۔ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر وہ اپنے اصطبل میں کچھ اور گھوڑوں کا اضافہ تو کرنے کو تیار ہیں اور اس کے لیے امریکا کے اشارے یا حکم پر، کچھ دوسری لبرل اور سیکولر قوتوں کو اپنی شرائط پر شریک اقتدار کرنے کو بھی تیار ہیں، مگر وہ اپنے اندر دستور کی پاس داری کا کوئی داعیہ نہیں پاتے اور نہ عوام کے حقیقی نمائندوں کے اقتدار سنبھالنے کی ان کے نظام میں کوئی گنجایش ہے۔ اس لیے انھوں نے تین کام کیسے ہیں:
ا – دستور میں ایسی تبدیلیاں، جن کے نتیجے میں یہ دستور پارلیمانی جمہوریت کے بجاے صدارتی اور شخصی حکمرانی کی راہ ہموار کر سکے اور کوئی ان پر گرفت کرنے والا نہ ہو۔ خصوصیت سے آزاد عدلیہ کوتباہ کر کے اپنے نامزد چوں پر مشتمل ایسی عدلیہ کو وجود میں لانا، جو موم کی ناک ہو اور انکے ہر اقدام پر مہر تصدیق ثبت کرنے والی ہو۔
ب -عبوری حکومت اور تابع فرمان الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کے ذریعے ایسی قومی اور بائیکاٹ کیوں؟ صوبائی اسمبلیوں کا انتخاب جو ان کے احکام کے مطابق خدمت انجام دے سکیں۔ آج خود پرویز مشرف کے اپنے سیاسی وجود کا انحصار ان کی مفید مطلب پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے وجود میں آنے پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن گئی ہے۔
ج – امریکا اور مغربی اقوام سے اپنے لیے نئی زندگی اور ہنگامی غذا کا حصول۔ اس سلسلے میں صدر بش اور کونڈ ولیز ار اس نے بالکل کھل کر تائید کردی ہے۔ بش نے ایک بار پھر پرویز مشرف کو جمہوریت پسندی کا سرٹیفیکیٹ جاری کیا ہے۔ امریکی نائب وزیر خارجہ باؤچر نے صاف کہا کہ انتخابات بے عیب نہیں ہوں گے، لیکن اس کے باوجود امریکا کے لیے قابل قبول ہوں گے [flawed but acceptable] – بر برطانوی ہائی کمشنر نے صراحت سے کہہ دیا ہے کہ عدلیہ کا مسئلہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور گویا عدلیہ کی آزادی اور عدلیہ کی ۲ نومبر کی پوزیشن میں بحالی دو الگ الگ چیزیں ہیں۔
در اصل مشرف صاحب کی شخصی آمریت کے جاری رہنے کی راہ میں سب سے بڑا خطرہ ایک تو عوامی غیظ و غضب ہے اور اس کے بعد عدلیہ کی اس شکل میں بحالی ہے جو ۲ نومبر ۲۰۰۷ء کو موجود تھی اور جس عدلیہ نے دستور سے ماورا اقدامات پر احتساب کا عمل شروع کر دیا تھا۔ نیز انتخابات میں دھاندلی [رگنگ[ کے ذریعے من پسند [ انجینیر ڈ] نتائج حاصل کرنے کی راہ میں بھی سب سے بڑا خطرہ وہی عدلیہ تھی، جس نے اپنی آزادی کے مقام کو پہچان لیا تھا شخصی حاکمیت کے لیے دستور کی ایک محافظ عدلیہ نا قابل برداشت تھی، اور ہے۔ اس کا بڑا تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ جمہوریت کا دعوی کرنے والے امریکا اور مغرب کے حکمران محض اپنے اپنے مفادات کے کھیل میں عدلیہ کی بحالی کے باب میں خاموش ہیں، اور ملک کی وہ تمام سیاسی قوتیں جو یا پرویز مشرف کے ساتھ شریک اقتدار رہی ہیں یا شرکت کی توقع رکھتی ہیں وہ بھی خاموش ہیں، یا کہہ مکرنیوں سے کام لے رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا معاملہ اس سلسلے میں سب سے زیادہ مخدوش ہے ۔ ایک طرف بے نظیر صاحبہ سے ۷ نومبر کو جب مشرف کی اہلیت اور نئے آرڈی ننس جیسے اہم مسائل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ “میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ گرفتار شدہ عدلیہ اس مسئلے کا فیصلہ کرے اور جو فیصلہ بھی وہ کرے وہ اسے قبول کر لیں گی”۔
پھر ا انو مبر کو بے نظیر صاحبہ، سپریم کورٹ کے جوں کے رہائشی علاقے میں گئیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے نہ مل سکیں، مگر بر ملا کہا :
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری اور وہ تمام حج حضرات جنھوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا ہے، ان کو بحال کر دیا جائے اور اُن کی نظر بندی کے احکامات واپس لیے جائیں۔
مگر پانچ چھے روز بعد ۱۶ نومبر ۲۰۰۷ء کو ایک سیاسی زلزلہ آیا۔ جان نیگرو پونٹے پاکستان پر نازل ہوئے۔ ۱۷ نومبر کو انھوں نے پیپلز پارٹی کی قیادت سے ٹیلی فون پر بات کی اور پھر عدلیہ کی بحالی پر ان کا موقف تبدیل ہو گیا، بلکہ چارٹر آف ڈیمانڈ کے لیے بھی سب سے اہم اختلافی نکتہ یہی بن گیا کہ پیپلز پارٹی عدلیہ کی آزادی کی بات تو کرتی ہے مگر بحالی کو قبول نہیں کر سکتی۔
یہ ہے وہ دل خراش داستان، جسے سمجھے بغیر انتخابات میں شرکت اور بائیکاٹ کے درمیان انتخاب کے فیصلہ کن رویے کے بہت سے پہلو واضح نہیں ہوتے۔ پرویز مشرف کا ایجنڈا اور سیاسی جماعتوں میں سے کچھ کے بدلتے ہوئے موقف، اپنے اندر غور وفکر کے بہت سے گوشے رکھتے ہیں۔
موجودہ حالات کا تقاضا
پرویز مشرف کے اقتدار کے بچاؤ اور تسلسل کے عزائم کی تکمیل کا انحصار صرف ان تمیمنچیزوں پر ہے، جس کا ہم بار بار ذکر کر رہے ہیں:
ا– عدلیہ ان کی تابع مہمل رہے، جو اسی وقت ممکن ہے جب ۲ نومبر کی عدلیہ بحال نہ ہو اور پرویز مشرف کے بنائے ہوئے دستوری عفریت [constitional monstrosity] کو تحفظ حاصل رہے۔
۲ – انتخابات کی منصوبہ بند دھاندلی [ انجینیرڈ رگنگ[ کے ذریعے ان کے مفید مطلپارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیاں وجود میں آجائیں۔
۳ – امریکا اور مغربی اقوام کی تائید انھیں حاصل رہے۔
اس تجزیے کا نا قابل انکار منطقی تقاضا یہ ہے کہ ایسے انتخابات کے جال میں نہ پھنسا جائے، جو اس ایجنڈے کی تکمیل میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور ساری توجہ اس پر مرکوز کی جائے کہ:
○ عدلیہ اپنی اصل شکل میں بحال ہو اور پرویز مشرف کا بنایا ہوا یہ گھروندا زمین بوس ہو جائے تا کہ دستور کی اس شکل میں بحالی ہو سکے جو ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو اس کی تھی۔ خصوصیت سے جو اقدامات ۳ نومبر ۲۰۰۷ء سے ۱۵ دسمبر تک کیے گئے ہیں وہ کالعدم ہوں اور کسی شکل میں بھی ان کو
تحفظ نہ دیا جائے، اس کے بغیر دستور کے تحت سیاسی نظام بحال نہیں ہو سکتا۔
○ انتخابات کا انعقاد دستور کے مطابق ہو اور اس صورت میں ہو کہ انھیں آزاد، منصفانہ اور شفاف قرار دیا جا سکے۔ اس کے لیے غیر جانب دار عبوری حکومت کی تشکیل، آزاد، با اختیار اور اعتماد کا حامل الیکشن کمیشن بشمول چیف الیکشن کمشنر اور اس کے ماتحت کام کرنے والی پوری انتخابی مشینری کا شکوک و شبہات سے بالاتر ہوتا ہے۔ نیز فہرستوں سے لے کر پولنگ اسٹیشنوں کی درستی، پولنگ کے انتظامات، بوگس ووٹ اور بوگس اسٹیشنوں کا سد باب اور صحیح گنتی وغیرہ تمام امور کا صحیح مخطوط پر طے ہونا اور شفاف انداز میں ان پر عمل درآمد اور انتخابات کے موقع پر امن وامان اور قوت کا استعمال کرنے والے عناصر خصوصیت سے ایم کیو ایم اور وڈیروں اور چودھریوں کی پرائیویٹ افواج کے مقابلے کا انتظام شامل ہے۔
○ تیسری چیز انتخابی عمل میں بیرونی قوتوں اور ایجنسیوں کی دراندازی کا مکمل خاتمہ اور خصوصیت سے امریکا کے پاکستان کے اندرونی معاملات میں کردار کی نفی امریکا اپنی نام نہاد جنگ کی خاطر پاکستان سے اپنی کالونی کے طور پر معاملہ کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام جن کی ۹۴ فی صد آبادی امریکی کھیل پر سخت برہم ہے، اسے لگام دینا چاہتی ہے اور اپنی قسمت کے فیصلے اپنے ہاتھوں کرنا چاہتے اور ان افراد سے نجات کے لیے کوشاں ہیں جو واشنگٹن سے احکامات لے رہے ہیں پا لینے کے لیے تیار ہیں۔
۱۸ فروری ۲۰۰۸ء کے انتخابات کے بارے میں ملک کی ہر جماعت ماسواے مشرف حکومت کے سابقہ شہر کا بر ملا اظہار کر رہی ہے کہ انتخابات کے آزاد اور منصفانہ ہونے کا کوئی امکان دُور دُور تک نہیں۔ حد یہ ہے کہ پرویزی جماعتوں میں سے بھی کچھ چیخ اٹھی ہیں، جیسا کہ مسلم لیگ فنکشنل پنجاب کے صوبائی صدر احم محمود کا بیان ہے جس میں انھوں نے دعوی کیا ہے کہ چودھری پرویز الہی اس وقت بھی عملاً وزیراعلیٰ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور پوری انتظامی مشینری ان کے زیر تصرف ہے۔ اس پر دی نیشن نے اپنے ادارتی کالم میں یوں اظہار کیا ہے: “احمد محمود کے بیان کا خصوصی وزن ہے کیونکہ اُن کی پارٹی صدر مشرف کی حمایت کر رہی ہے۔
تقریباً تمام عوامی سروے یہی صورت حال پیش کرتے ہیں، انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہو سکتے، اور بائیکاٹ ہی وہ راستہ ہے جس سے بالآخر انتخابات کو آزاد اور شفاف بنانے کا کوئی امکان ہو سکتا ہے۔
آئی آر آئی کے سروے کے مطابق ۶۶ فی صد عوام کی راے میں ایمر جنسی کے نظام تلے انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہو سکتے ۔ گیلپ پول کے مطابق ۵۶ فی صد لوگ [۱۸ فروری[ کے انتخابات کے بائیکات کے حق میں ہیں، جب کہ ام فی صد کا خیال ہے کہ ایکشن میں حصہ لینا چاہیے۔ آئی آر آئی کے سروے کے مطابق ۶۲ فی صد افراد نے بائیکاٹ کے حق میں رائے دی جب کہ ۳۷ فی صد نے اس کے خلاف رائے دی ۔ لطف کی بات ہے کہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن دونوں کے حامیوں میں بائیکاٹ کے حق میں رائے دینے والوں کی تعداد مے فی صد تھی۔ آئی آر آئی کے سروے میں ۲ فی صد نے پرویز مشرف کے خلاف ووٹ دینے کا عندیہ ظاہر کیا ہے اور ان میں سے بھی ۶۱ فی صد بہت سختی سے پرویز مشرف کے دوبارہ منتخب ہونے کے مخالف ہیں جب کہ ۶۷ فی صد کی خواہش ہے کہ مشرف فوری طور پر مستعفی ہوجائیں۔ عوام پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے اشتراک اقتدار کے بھی خلاف ہیں اور اس سروے میں ۹۰ فی صد نے پیپلز پارٹی کی اس مفاہمت کی مخالفت کی ہے۔
ملک اور ملک کے باہر تجزیہ نگاروں کی بڑی اکثریت بھی کھلے بندوں اس رائے کا اظہار کر رہی ہے کہ انتخابات دھاندلی زدہ اور نا قابل اعتماد ہوں گے، اور نیت بتا سیاسی صورت حال کے حل کے لیے غیر موثر ثابت ہوں گے۔ صرف چند آرا ملاحظہ فرمائیں:
جوں جوں ]۱۸ فروری[ قریب آ رہی ہے دھاندلی کے الزامات میں قوت آتی جارہی ہے۔ بدھ کے روز نیو یارک میں قائم حقوق گروپ نے کہا کہ آزاد اور شفاف انتخابات ممکن نہیں ہوں گے، کیونکہ حکومت نے بچوں اور وکیلوں پر کریک ڈاؤن کیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچی کا کہنا ہے کہ ایمر جنسی کے اُٹھا لیے جانے کے بعد کئی بیج اور وکیل ابھی تک گرفتار ہیں۔ یہ تو ایک غیر ملکی گروپ کے خیالات ہیں لیکن سیاسی جماعتیں بھی ہر روز اس خوف کا اظہار کر رہی ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہوگی۔ (روزنامہ ڈان، ادار یہ ۲۱ دسمبر ۲۰۰۷ء]
سیاسیات کے پروفیسر محمد وسیم نے لکھا: ” اس پر کم وبیش اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں [۱۸ فروری] ۲۰۰۸ء کو ہونے والے انتخابات اپنی نوعیت کے لحاظ سے ‘مذاق’ ہوں گئے”۔ ]روزنامہ ڈان، ۱۲ دسمبر ۲۰۰۷ء]
واشنگٹن پوسٹ ۱۲ دسمبر ۲۰۰۷ء میں گریفے ودھ [Griffe Withe] نے لکھا ہے کہ: آزاد ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے بہت کم امکانات ہیں کہ انتخابات آزادانہ یا منصفانہ ہوں، نیز یہ کہ انتخابی نتائج کو تبدیل بھی کیا جاسکے گا اور ان کو عدالتوں میں چیلنج بھی نہ کیا جا سکے گا۔
تمام اہم اخبارات ورسائل بشمول وال اسٹریٹ جرنل، دی گارڈین، بوسٹن گلوب، دی اکانومسٹ، فارن پالیسی بیک زبان انتخابات کے دھاندلی زدہ اور نا قابل اعتماد ہونے کی بات کر رہے ہیں اور یہی بات بے نظیر بھٹو اور محمد نواز شریف نے بھی بار بار کہی ہے۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی واضح بات کے باوجود انھوں نے اپنی ہی قائم کردہ کمیٹی کے مرتب کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ کو کیوں نظر انداز کر دیا جو انتخابات کو منصفانہ اور شفاف بنانے کے لیے تقریباً متفقہ طور پر تیار کیا گیا تھا، اور آنکھیں بند کر کے انتخابات میں کود پڑے، اور اس تاریخی موقع کو ضائع کر دیا جو بائیکاٹ کی شکل میں پرویز مشرف کے پورے کھیل کا پردہ چاک کرنے کا ان کو حاصل تھا۔
ملکی مستقبل پر نظر رکھنے کی ضرورت
ہماری بحث کا حاصل یہ ہے کہ غلط نظام کے تحت دھاندلی زدہ انتخابات میں شرکت سے یا اس کے بعد بننے والی اسمبلی کے ذریعے نظام کار کی درستی کا کوئی امکان نہیں، انتخابات کے بعد تبدیلی کا خیال محض ایک واہمہ ہے، کہ بار بار کے تجربوں کے بعد بھی ہماری سیاسی جماعتوں کی آنکھیں ابھی تک نہیں کھلیں، اور ایک ہی سوراخ سے بار بارڈ سے جانے کے لیے وہ بے چین ہیں۔ معیاری صورت صرف بائیکاٹ کی ہے، لیکن اس زریں موقع کو بیش تر سیاسی جماعتوں نے اقتدار میں شرکت کے خواب، یا اپنے جوشیلے کارکنوں کے دباؤ میں ضائع کر دیا۔ حالانکہ اے پی ڈی ایم، ججوں کی بڑی تعداد، پوری لیگل کمیونٹی اور سول سوسائٹی کے ذمہ داروں کے علاوہ آزاد سیاسی تجزیہ نگاروں نے بھی ہر وقت متنبہ کر دیا تھا کہ یہ الیکشن دھوکا ہوں گے اور صرف تماشے [fair] کے معنی میں فیئر ہو سکتے ہیں! اس لیے کہ اب آزاد عدلیہ کے بغیر آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے منعقد ہونے یا انتخابی بے ضابطگیوں اور غلط کاریوں کے سدباب کی کوئی سبیل نہیں ہو سکتی۔
ہمیں اعتراف ہے کہ یہ بڑا نازک اور مشکل مرحلہ تھا اور بلاشبہہ دونوں طرف کچھ نہ کچھ دلائل اور سیاسی مصالح موجود ہیں۔ لیکن اس تاریخی لمحے میں اصل انتخاب تو اصول اور مصلحت کے درمیان ہے۔ قوم کے سامنے مسئلہ ان دونوں میں سے کسی ایک راستے کو منتخب کرنے کا ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ اے پی ڈی ایم کی بیش تر جماعتوں نے اصول کی سیاست کو، مفاد کی سیاست پر ترجیح دے کر قوم کے سامنے ایک ایسی متبادل سیاست کی راہ کو روشن کر دیا ہے، جس کی تمنا تو ۶۰ سال سے کی جارہی تھی، مگر اس طرف مؤثر اور قابل لحاظ قوت کے ساتھ پیش قدمی نہیں ہو پارہی تھی۔ نظر پر ضرورت کی گرفت سے لکھنا آسان نہیں تھا اور انتخابی حلقے کے دباؤ [pressure]سے بالا ہو کر ملک اور قوم کی قسمت اور مستقبل کے ایک اصولی نقشے کے مطابق تعمیر کے جاں مسل راستے کی طرف پیش رفت کا فیصلہ بھی آسان نہیں تھا لیکن وقت کی اصل ضرورت یہی تھی کہ وقتی فوائد کے مقابلے میں قوم کو اس کام اور جدو جہد کے لیے تیار کیا جائے جس کے بغیر اصول، انصاف اور حق پرستی پر مبنی نظام سیاست وجود میں نہیں آسکتا۔ یہ فیصلہ ان شاء اللہ ملکی سیاست میں ایک بالکل نئے باب کے اضافے کا موجب ہوگا۔
جن جماعتوں نے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا ہے، ان کے عوام میں اثرات ہیں اور انھیں علم ہے کہ ان کے لیے ایک معتد بہ تعداد میں مرکزی اور صوبائی نشستیں جیتنا ممکن تھا، لیکن ان کی نظر صرف موجودہ انتخابات پر نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل کے نظام اور عوام کے حقیقی مسائل اور ان کو حل کرنے والی قیادت اور جدوجہد پر ہے، فوری اقتدار یا اقتدار میں شرکت پر نہیں محض اقتدار مطلوب نہیں، اقتدار وہی مطلوب ہے اور وہی ذریعہ خیر بن سکتا ہے جو ایک حقیقی اسلامی، جمہوری، وفاقی اور فلاحی معاشرے اور ریاست کے قیام کو آسان اور ممکن بنائے۔ اس کے لیے صحیح ایشوز کا تعین، صحیح موقف کا اختیار صحیح خطوط پر عوام کی تنظیم اور ان مقاصد کے حصول کے لیے موثر سیاسی جدوجہد بر پا کرنا ضروری ہے۔ کسی کو یہ غلط نہیں نہیں ہونی چاہیے کہ جو لوگ نظریاتی کارکن ہیں اور برسوں سے دعوتی اور سیاسی میدان میں کام کر رہے ہیں اور جو بائیکاٹ کے باوجود عوام میں ہیں اور عوام کو اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہیں، انھیں وقتی اور ہنگامی قوتیں میدان سے باہر کر سکتی ہیں۔ ایسی قوتیں خودرو پودوں کی طرح اُبھرتی ہیں اور مرجھا جاتی ہیں، لیکن نظریاتی بنیادوں پر کام کرنے والوں کے کام کو الحمد للہ دوام حاصل ہے، اور بالآخر وہی کامیاب ہوں گے۔
•بائیکاٹ، میدان چھوڑنا نھیں: بائیکاٹ کے معنی میدان چھوڑنا نہیں، بلکہ میدان میں اور زیادہ سرگرمی کے ساتھ مصروف کار ہوتا ہے۔ جیسا ہم نے عرض کیا یہ احتجاج کا ایک ذریعہ اور اصل مقاصد کی طرف لوگوں کو دعوت دینے کا اسلوب اور پروگرام ہے۔ اس کے ذریعے عوامی رابطے کی مہم اور زیادہ مؤثر بنائی جاسکتی ہے۔ ان نام ونہاد انتخابات کے بعد جو حالات رونما ہونے والے ہیں اور جو فیصلہ کن دور اس کے بعد شروع ہوگا، اس میں بھر پور کردار ادا کرنے کا آغاز اس بائیکاٹ کی مہم کا حصہ ہے۔ اس امر میں شمبے کی کوئی گنجایش نہیں کہ یہ کے انتخابات ایک دھوکا ہوں گے اور جو آج بڑے شوق سے ان میں حصہ لے رہے ہیں، وہ بھی اس ڈرامے کے بعد اپنی غلطی کو محسوس کر رہے ہوں گے۔ ان کے نتیجے میں جو پارلیمنٹ بنے گی وہ نہ قانونی طور پر جائز ہوگی اور نہ ملک کو قابل اعتماد رہنمائی ہی دے سکے گی۔ جن سات چیلینجوں کی ہم نے نشان دہی کی ہے وہ اور بھی زیادہ گھمبیر شکل اختیار کر لیں گے۔ حالات اشارہ کر رہے ہیں کہ دھاندلی کے باوجود اسمبلی میں غالباً کسی کو بھی واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکے گی جس کے بعد ایک طرف حکومت سازی کے لیے سیاسی انجینئیر نگ کا نیا دور شروع ہوگا تو دوسری طرف شخصی آمریت کے خلاف اور حقیقی جمہوریت کے قیام، عدلیہ کی بحالی اور حقوق کے تحفظ اور سماجی انصاف کے حصول کی جدو جہد نئی قوت سے اُبھرے گی۔
•سیاسی قیادت کا امتحان اس وقت ملک کی تمام سیاسی قوتیں اور جماعتیں چار گروپوں میں قوم کے سامنے آچکی ہیں۔ ایک گروپ وہ ہے جو پرویز مشرف کی اصل سیاسی فوج ہے اور جس میں مسلم لیگ ق، پیپلز پارٹی شیر پاؤ اور ایم کیو ایم شامل ہیں۔ یہ مشرف کے اصل ساتھی ہیں اور مشرف کے ساتھ ہی ان کا بھی زوال مقدر ہے۔
دوسری قوت پی پی پی، اے این پی، جمعیت علمائے اسلام [ف] وغیر ہم ہیں جو اپنے نظریاتی، سیاسی اور علاقائی اختلافات کے باوجود اشتراک اقتداری کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ ایک طرح پرویز مشرف کے ساتھ بھی ہیں اور اس کی مخالفت کا بھی دم بھر رہے ہیں۔ مشرف کے دام سیاست میں داخل بھی ہو گئے ہیں اور اس کو توڑنے کی بھڑک کا بھی سہارا لے رہے ہیں۔ نیتوں کا حال تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن عملی سیاست کے نقطہ نظر سے یہ مشرف ہی کے ایجنڈے پر اپنے اپنے انداز میں کام کر رہے ہیں اور اسی کے دیے ہوئے نقشے میں اپنا مقام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان میں سے کچھ وہ بھی ہیں جو اپنی قیمت بڑھا کر اقتدار میں اپنا حصہ حاصل کرنے ہی کو اپنا اصل ہدف بنائے ہوئے ہیں۔ یہ سارے تضادات ان کا اوڑھنا بچھونا ہیں۔ یہ بظاہر اینٹی مشرف ہیں لیکن فی الحقیقت پرو مشرف کردار ادا کر رہے ہیں کل یہ مشرف کی ٹیم کا حصہ بھی بن سکتے ہیں اور اس سے الگ بھی راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ گویا ؏
بعجناب شیخ کا نقش قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی
تیسرا گروہ وہ ہے جس کا مرکزی کردار مسلم لیگ [ن] ہے۔ اس نے اپنا اینٹی مشرف موقف برقرار رکھا ہے اور عدلیہ کی بحالی کو بھی اپنے ایجنڈے میں سرفہرست رکھا ہے۔ لیکن نظام باطل سے مزاحمت کے بجائے اس کے اندر جا کر تبدیلی کا راستہ چنا ہے، جس نے ان کو بھی تضادات کی دلدل میں جھونک دیا ہے اور ان کے لیے امکانات کی دنیا کو بھی محدود کر دیا ہے۔ ان کا یہ رویہ فکری اور عملی یکسوئی سے بھی محرومی کا باعث ہے۔ لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ فروری کے بعد یا شاید اس سے بھی پہلے یہ اپنے لیے ایک دوسرے کردار کی تلاش پر مجبور ہو جائیں۔
رہا چوتھا گروہ تو وہ پوری یکسوئی کے ساتھ مشرف کے بنائے ہوئے نظام کو چیلنج کر رہا ہے اور دستور کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور ۲ نومبر کی حیثیت میں عدلیہ کی بحالی اور غیر جانب دار قومی حکومت کے ذریعے نئے انتخابات اور سیاسی دروبست کے لیے جد وجہد کر رہا ہے۔ کل جماعتی جمہوری تحریک [اے پی ڈی ایم] اس سیاسی جدوجہد کی مرکزی قوت ہے، لیکن اس تحریک کی روح رواں طبقہ وکلا، حج، طلبا، صحافی اور سول سوسائٹی کے وہ تمام عناصر بھی ہیں جو 9 مارچ سے سرگرم عمل ہیں اور سب مل کر دستور کی بحالی اور حقیقی جمہوریت کے قیام کے لیے ایک اصولی اور تاریخی جنگ لڑرہے ہیں۔ یہ سب ایک ہی کارواں کا حصہ ہیں اور مشترکہ مقاصد کے لیے انھیں پوری ہمت اور حکمت سے اس جدو جہد کو اس وقت تک جاری رکھنا ہے، جب تک یہ مقاصد حاصل نہ ہو جائیں۔ مجھے یقین ہے کہ کامیابی ان شاء اللہ اسی گروہ کا مقدر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم میں صحیح شعور اور بیداری پیدا کی جائے اور مسلسل جدوجہد کا اہتمام کیا جائے تاکہ عوام کو وقتی سیاسی مصالح اور مفادات کے مقابلے میں ملک کے اصل ایشوز کا ادراک حاصل ہو۔
اس کام کو انجام دینے کے لیے فوری جدوجہد کے ساتھ لمبے عرصے کی منصوبہ بندی تنظیم اور ہمہ گیر تحریک کا لائحہ عمل تیار کرنے اور اپنی صفوں کو مضبوط رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ لوگوں، جماعتوں اور گروہوں کو شریک جدو جہد کرنا ضروری ہے۔ پرویز مشرف نے ۹ مارچ کو اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے جو اقدام کیا تھا، اللہ تعالیٰ کی مشیت نے اسی اقدام کو اس کے تنزل اور پسپائی کا نقش اول بنا دیا۔ پھر ۱۳ نومبر کو جو کچھ کیا گیا، اس نے عالمی سطح پر پرویز مشرف کے پاؤں تلے سے زمین کھسکا دی۔ اب ۱۸ فروری اور اس کے بعد جاری رہنے والی تحریک، مشرف سے نجات کے ساتھ ساتھ مفاد پرست سیاست سے کسی ملک اور قوم کی نجات کا ذریعہ بنے گی اور اصول پر مینی سیاست کے دور کا آغاز ہو گا اور یہی وہ جو ہری فرق ہے جو اشتراک اقتدار کے لیے کام کرنے والوں اور اصول اور نظامِ حیات کی اصلاح کے لیے جدو جہد کرنے اور قربانیاں دینے والوں میں ہے۔ بائیکاٹ اس منزل کی طرف لے جانے والا پہلا قدم ہے اور ہماری دعا ہے کہ جو قدم اس حیات بخش منزل کے حصول کے لیے اٹھ گیا ہے، اب اپنی اسی منزل کی طرف اس کی پیش قدمی پوری مستعدی کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔ اس لیے کہ جدو جہد اور قربانی کے ذریعے ہی قومیں عزت کا مقام حاصل کرتی ہیں۔ آج کا پیغام صرف ایک ہے۔ رفتار تیز کرو اور مزید تیز کرو کہ منزل ڈور نہیں! ؏
تیز ترک گام زن منزل ما دور نیست



