ArticleEconomicsMedia ArticlePakistan Economy

پاکستان کا معاشی بحران

پیش لفز

بحران کے مفہوم میں عارضی ہونا مضمر ہے۔ سیاسی بحران ہوتے تھے حل ہو جاتے تھے۔ لیکن معاشی بحران ایسا چمٹا ہے کہ ملک مسلسل بحران کی کیفیت میں ہے اور بحران دور کرنے لیے جو عزم واراده اخلاص ونیست، فہم وفراست، دیانت وقیادت اور فکر مندی درکار ہے وہ اصحاب اقتدار میں دور دور نظر نہیں آتی ۔ عوام روتے چیختے رہیں دانش ور حل پیش کرتے رہیں، تدابیر بیان ہوتی رہیں بحران کا کچھ نہیں بگڑتا، کمزور ہونے کے بجائے تو انا ہوتا جاتا ہے۔

پروفیسر خورشید احمد کی یہ تحریر بجٹ کے حوالے سے ہے لیکن انھوں نے اس میں ملک کے معاشی مسائل کا جامعیت سے احاطہ کیا ہے نیز اقبال اور قائد اعظم کی تقاریر اور دستور کی متعلقہ دفعات سے ملک کا وہ وژن پیش کر دیا ہے جس کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانی دی گئی ۔ دستور دیکھا جائے تو حیرانی ہوتی ہے کہ ۱۹۷۳ء کے گئے گزرے دور میں یہ سب کچھ لکھا گیا لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ جیسے ریاست کی پالیسی دستور کی خلاف ورزی کرنا اور اس کا مذاق اڑانا ہے۔ دلدل سے نکلنے کے لیے ملک کی بہی خواہ اور مخلص قیادت بھی شرط ہے۔

ضروری ہے کہ قومی بیداری کے لئے یہ تحریر ہر پڑھے لکھے شخص، خاص طور پر اعلیٰ تعلیمی اداروں اور پروفیشنل تنظیموں کے ممبران تک ضرور پہنچے۔

مسلم سجاد

یہ ایک المیہ ہے کہ ایک مدت سے پاکستان میں سالانہ بجٹ عوام کے لیے خوشی کا کوئی پیغام لانے سے قاصر رہا ہے۔ بجٹ آنے سے پہلے خوف اور اس کے اعلان کے بعد مایوسی قوم کا مقدر بن گئے ہیں۔ بجٹ سازی کے عمل میں عوام، سول سوسائٹی کے اہم ادارے، حتی کہ معیشت کے ان عناصر کا، جن پر اسے اثر انداز ہونا ہے (stakeholders) کوئی کردار نظر نہیں آتا۔ اور اگر چند نمایشی مشاورتی نشستوں کا تکلف کیا بھی گیا، تب بھی بجٹ پر ان کے نقوش کہیں بھی نظر نہیں آتے ۔ اس سال کا بجٹ بھی غیر معمولی معاشی حالات کے باوجود، معمول کے مطابق روایتی کارروائی کی تصویر پیش کر رہا ہے۔

بجٹ سازی کی روایت یہ بات

اچھی طرح سمجھنے کی ہے کہ بحث محض حکومت کی آمد و خرچ کا ایک میزا نیہ نہیں ہوتا بلکہ وہ دستور کے دیے ہوئے معاشی، سیاسی اور معاشرتی پالیسیوں کے فریم ورک میں اور ارباب حکومت کے عوام سے کیسے ہوئے وعدوں اور ان کی ضروریات اور عزائم کی تکمیل کے لیے جامع پالیسیوں یا ان کے فقدان کا مظہر ہوتا ہے۔ بجٹ اعداد وشمار کا کھیل نہیں ہوتا اور اس کا کام جمع وتفریق کے ذریعے مالی بیلنس شیٹ کی خانہ پُری بھی نہیں ہوتی ۔ حکومت کے اخراجات کی ہر مد اور آمدنی کا ہر ذریعہ ایک معاشی پالیسی کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کے دوررس اثرات ملک کی معیشت اور عوام کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔ بجٹ یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ حکومت کی ایک پورے سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، اور اس کارکردگی کی روشنی میں اگلے سال بلکہ سالوں کے لیے صحیح منصوبہ بندی کی جائے ، مستقبل کے لیے مناسب پالیسیوں اور حکمت عملیوں کی تشکیل ہو اور ان پر عمل درآمد کے لیے جن مالیاتی وسائل کی ضرورت ہے ، ان کی فراہمی اور خرچ کی مدات اور مقدار کا حقیقت پسندانہ پروگرام قوم اور اس کے نمایندوں کے سامنے پیش کیا جائے اور ان کی تائید اور توثیق سے اگلے سال کا تفصیلی پروگرام مرتب کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے بیش تر ممالک میں بجٹ سازی کا عمل چار سے چھے مہینوں پر محیط ہوتا ہے۔ ایک ایک مد پر کھل کر بحث کی جاتی ہے اور جمہوری نقد واحتساب کے ذریعے آخری فیصلے کیے جاتے ہیں اور اس اصول پر سختی سے عمل ہوتا ہے کہ کوئی ٹیکس منتخب نمائندوں اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر عائد نہ کیا جائے اور تمام اخراجات ان حدود کے اندر ہوں جو پارلیمنٹ نے طے کی ہیں۔ ایک وزارت یا پروجیکٹ کے لیے طے شدہ رقوم کے اندر جزوی تبدل تو انتظامیہ کر سکتی ہے لیکن کوئی نئی تخصیص (appropriation) پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر نہیں کی جاسکتی ۔ اس کو no taxation without legislation (قانون سازی کے بغیر کوئی ٹیکس نہیں) کے مشہورِزمانہ اصول کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پاکستان میں بجٹ سازی کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں پارلیمنٹ میں بمشکل تین ہفتے. اور صوبائی اسمبلیوں میں تو ایک ہی ہفتے میں بجٹ پیش ہو کر منظور ہو جاتا ہے اور ارکان پارلیمنٹ الا ماشاء اللہ بجٹ کے موقعے پر فراہم کی جانے والی دستاویزات کی ورق گردانی کی زحمت بھی نہیں کرتے اور پارٹی کے حکم کے تحت بجٹ منظور کر دیتے ہیں ۔ عوام اور میڈیا کی آہ وبکا کا کوئی اثر نہ حکومت پر ہوتا ہے اور نہ عوام کے نمایندے ہی عوام کا مقدمہ لڑنے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔ یہ بڑی ہی مایوس کن صورت حال ہے جس سے عوام کا اعتماد سیاسی قیادت پر بُری طرح مجروح ہورہا ہے اور ملک وقوم کو معاشی بحران کے گرداب سے نکلنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا ہے۔

ملک کے دستور )دفعہ ۸۴( میں ایک اہم سقم یہ ہے کہ حکومت کو بجٹ کے باہر اخراجات کی آزادی بھی حاصل ہے جسے ضمنی گرانٹ کے نام پر ہر سال بجٹ کے موقعے پرسند جواز دے دی جاتی ہے اور اس طرح حکومت کو پارلیمنٹ اور بجٹ دونوں کا مذاق اُڑانے کی کھلی چھٹی حاصل ہے۔ اس سال )۲۰۱۱ – ۲۰۱۰ ء( بھی بجٹ میں کل حکومتی اخراجات کے لیے ۱۸۹۱ ارب روپے کی حد مقرر کی گئی تھی مگر حکومت نے اس سے ۱۳۸۷ ارب روپے زیادہ خرچ کیے جو بجٹ کا ۴ ۲۰۶ فی صد بن جاتا ہے۔ یہ اس وقت جب کہ آمدنی کی مد میں جو متوقع رقم رکھی گئی تھی اصل ٹیکس کی آمدنی اس سے ۱۰۰ار ارب روپے کم ہوئی ۔ یہ مالیاتی بے قاعدگی [fiscal indiscipline] کی بدترین مثال ہے اور پارلیمنٹ نے سینیٹ کے انتباہ کے باوجود چند منٹ میں اس اضافی گرانٹ کی منظوری دے دی اور حکومت کا کوئی احتساب نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی اور معاشی پالیسی

پیپلز پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت کو، اقتدار میں آئے ساڑھے تین سال ہو چکے ہیں ۔ حکومت نے اپنا چوتھا بجٹ پیش کیا ہے اور توقع تھی کہ اس وقت ملک جس معاشی بحران میں مبتلا ہے، اس بجٹ میں اس سے نکلنے کے لیے کوئی مؤثر اور حقیقت پسند پالیسی اور اس پر عمل کا مکمل نقشہ کار پیش کیا جائے گا مگر اے بسا آرزو کہ خاک شده!

پیپلز پارٹی کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ اسے اپنے اقتدار کے چاروں ادوار میں کوئی ایسا وزیر خزانہ پسند نہ آیا جو معاشیات پر گہری نظر رکھتا ہو اور ملک کی معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سیاسی نعرے بازی اور نظریاتی شور و غوغا تو بہت تھا مگر افسوس ہے کہ ان ساڑھے پانچ سالوں میں کوئی ٹھوس اور مربوط معاشی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی نہ ہو سکی۔ ڈاکٹر مبشر حسن نے نظریاتی اعتبار سے چند اقدام کیے لیکن معیشت پر ان کی گرفت نہیں تھی۔ سارا نظام بیوروکریسی کے ہاتھوں میں تھا اور غلام اسحاق خاں، وی اے جعفری اور ایم ایم احمد اصلی کرتا دھرتا تھے۔ محترمہ بے نظیر کے اقتدار کے دونوں ادوار میں وی اے جعفری حالات کے کرتا دھرتار ہے اور احسان الحق پراچہ اور نوید قمر کو مختصر مدت کے لیے وزارت خزانہ کی ذمہ داری ملی مگر دونوں کوئی ابتدا بھی نہ کر سکے۔ زرداری گیلانی کے تازہ دور اقتدار میں بھی پارتی درآمد شدہ وزارے خزانہ کی مرہونِ منت ہے اور پاکستان ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے دیے ہوئے خطوط پر چلنے پر اپنے کو مجبور پاتا ہے۔ رہی سہی کسر امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ اور مفاد پرست ارباب اقتدار کی نا اہلی، کرپشن اور بے تدبیری نے نکال دی ہے۔ یہ تین ساڑھے تین سال معاشی اعتبار سے بدترین سال رہے ہیں۔ اس عرصے میں چار بار وزیر خزانہ تبدیل ہوئے ، چار بار وزارت خزانہ کے سیکرٹری اور تین بار اسٹیٹ بنک کے گورنر بدلے ۔ معاشی منصوبہ بندی کمیشن میں بھی اُکھاڑ پچھاڑ ہوتی رہی اور معاشی امور سے متعلقہ نصف درجن وزارتوں میں کوئی ہم آہنگی موجود نہ تھی۔ ہر ایک اپنی چلانے کی کوشش کرتا رہا اور معیشت کا حال بد سے بدتر ہوتا گیا۔ حتی کہ جناب شوکت ترین نے ایک بار پھر آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دی اور ملک استحکام کے نام پر معاشی جمود اور اس کے ساتھ افراط زر اور بے روزگاری اور غربت میں اضافے کے بھنور میں گرفتار ہو گیا۔

پست ترین معاشی ترقی

پیپلز پارٹی کے اقتدار کے اس دور میں معاشی ترقی کی رفتار پاکستان کی تاریخ میں پست ترین رہی ہے۔ ۱۹۶۰ء کے عشرے میں ترقی کی رفتار چھے اور سات فی صد تک رہی۔ ۱۹۵۰ء سے ۲۰۰۶ ء تک کے معاشی حالات کا جائزہ لیا جائے تو نظر آتا ہے کہ سارے نشیب و فراز اور بار بار کی امریکی پابندیوں کے باوجود اوسط رفتار ترقی سالانہ پانچ فی صد رہی۔ یہ صورتِ حال پاکستان کی ۶۴ سالہ تاریخ میں پہلی بار رونما ہوئی ہے کہ گذشتہ چار برسوں میں اوسط رفتار ترقی ۲۰۵ فی صد رہی ہے جو آبادی میں ۲۶۱ فیصد اضافے کے بعد ترقی کے مفقود ہونے اور حقیقی جمود (stagnation) کی غماز ہے۔ اس پر مستزاد مہنگائی اور افراط زر ہے جس کی اوسط شرح ان چار برسوں میں ۵ فی صد رہی ہے اور اشیائے خوردونوش کی مہنگائی کا اوسط سالانہ ۱۸فی صد رہا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ ان چار برسوں میں غربت میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے۔ وہ افراد جن کی روزانہ آمدنی ۲۵ ، اڈالر )۱۰۰ روپے( یا اس سے کم ہے ، ۲۰۰۰ ء میں ۴ کروڑہ سے لاکھ تھی جو ۲۰۱۱ ء میں بڑھ کرے کروڑ ۱۲۰ کچھ ہوگئی ہے یعنی مطلق غربت میں ۲ کروڑ ۵۰ لاکھ کا اضافہ ہوا ہے۔ اگر غربت کی حد (poverty line) کو دو ڈالر یا ء کے ارو پے یومیہ رکھا جائے تو ۱۸ کروڑ کے اس ملک میں 1 کروڑ افراد اس کسمپرسی کے عالم میں مبتلا ہیں۔ ملک میں عدم مساوات میں دن دونا اور رات چوگنا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک طرف امیر طبقہ ہے جو امیر تر ہو رہا ہے۔ آبادی کا ایک فی صد ہر مہینہ اوسطاً پانچ لاکھ یا اس سے زیادہ کما رہا ہے۔ اوپر کا انی صد۵۰ ہزار ماہانہ یا اس سے زیادہ کما رہا ہے۔ دوسری طرف آبادی کا وہ افی صد ہے جو معیشت کے پست ترین درجے میں ہے۔ اس کی ماہانہ آمدنی ۲۰۰۷ روپے یا اس سے بھی کم ہے۔ ان چار برسوں میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اوسط اضافہ ہے فی صد ہوا ہے اور بے روزگاری میں بھی ۲۰ فی صد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ بجلی اور گیس کی قلت اور مہنگائی نے حالات کو اور بھی خراب کر دیا ہے۔ زراعت اور بڑی صنعت میں ترقی کی رفتار یا منفی رہی ہے یا براے نام اضافہ ہوا ہے۔

 Pewریسرچ سنٹر نے رائے عامہ کا جو جائزہ ۲۱ جون ۲۰۱۱ء کو شائع کیا ہے، اس کی رُو سے آبادی کے ۹۲ فی صد کا کہنا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے اور ۸۵ فی صد نے کہا ہے ملک کی معاشی حالت خراب اور ناقابل برداشت ہے۔ اس سے زیادہ پریشان کن یہ امر ہے کہ آبادی کا ۶۰ فی صد مستقبل میں بھی معاشی حالات میں کسی بہتری کی توقع نہیں رکھتا ۔ آبادی کا ۹۲ فی صد مہنگائی اور ۸۹ فی صد روزگار کے مواقع کے فقدان کو سب سے اہم مسئلہ قرار دیتا ہے۔ جرائم کے فروغ اور دہشت گردی کے اضافے میں دوسرے اسباب کے ساتھ ان معاشی حالات کا بھی اہم حصہ ہے۔ اس ملک کی تاریخ میں غربت اور افلاس تو ماضی میں بھی رہے ہیں، لیکن یہ کیفیت کبھی نہ ہوئی تھی کہ غربت کی وجہ سے اس بڑی تعداد میں لوگ خود کشی کے مرتکب ہوں، اپنی اولا دکو اپنے ہاتھوں ہلاک کر دیں یا سر عام ان کو بیچنے پر مجبور ہو جائیں ۔ ایک طرف حالات کی یہ سنگینی ہے اور دوسری طرف ارباب اقتدار کا یہ حال کہ ان کے عیش وعشرت میں کوئی کمی نہیں ۔ ان کی شاہ خرچیاں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ بدعنوانی، کرپشن اور قومی دولت کے غلط استعمال کا بازار گرم ہے۔ تعجب ہے کہ آبادی کے ۷۵ فی صد کی یومیہ آمدنی ۷۰ اردیے یا اس سے کم ہے لیکن صرف ایوان صدر اور ایوان وزیر اعظم کا روزانہ خرچ ۲۵ لاکھ روپے ہے۔ اور صرف صدر اور وزیر اعظم کے بیرونی دوروں پر خرچ ہونے والی رقم ۲ ارب روپے ہے۔ یعنی روزانہ ۵۵ لاکھ روپے۔

ایک طرف عوام کی یہ حالت زار ہے اور دوسری طرف قومی خزانے کو کس طرح لوٹا جارہا ہے اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ورلڈ بنک کے اندازوں کے مطابق ٹیکسوں کی چوری سالانه ۱۰۰۰ار ارب روپے سے ۱۲۰۰ / ارب روپے ہے۔ ایف بی آر کے حساب سے جو ٹیکس ادا ہورہا ہے اس کا 29 فی صد چوری ہو رہا ہے۔ ورلڈ بنک کے مطابق یہ تناسب 49 فی صد ہے۔ اگر صرف اس ٹیکس چوری کا ۵۰ فی صد وصول کر لیا جائے تو بجٹ کاخسارہ ختم ہو سکتا ہے۔

زندگی کے ہر شعبے میں کرپشن کا راج ہے۔ ورلڈ بنک اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اندازے کے مطابق سالانہ ۳۰۰ ارب روپے سے ۶۰۰ را رب روپے کرپشن کی نذر ہور ہے ہیں ۔ ناقص کارکردگی اور ضیاع [leakages] ان پر مستزاد ہیں ۔ حالات ابتری کی کس انتہا پر ہیں ، اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ اے جی پی آر کی سرکاری رپورٹ کے مطابق اس حکومت کے پہلے سال میں صرف کھلی کھلی بے قاعد گیوں کے نتیجے میں ۳۳۰ ارب روپے کے وہ اخراجات ہوئے ہیں جن کا کوئی جواز نہ تھا۔ سرکاری انتظام میں چلنے والے تقریباً سارے ادارے خسارے میں چل رہے ہیں۔ ان کی نا اہلی اور بدعنوانی کے نتیجے میں سرکاری خزانے سے ۴۰۰ سے ۶۰۰ ارب روپے عام آدمی کا پیٹ کاٹ کر ان کو دیے جارہے ہیں۔ وزارت قانون نے کسی قانونی استحقاق کے بغیر کروڑوں روپے اپنی من پسند بار ایسوسی ایشنوں کو بانٹ دیے، صرف ایک وزارت نے ۳ ارب روپے خفیہ فنڈ کے نام پر اڑا دیے۔ ترقیاتی منصوبوں میں ۳۰ فی صد ایسے ہیں جن کو مشکوک قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ بنک نالاں ہے کہ جس پروجیکٹ کو ۳۴ ماہ میں پورا ہونا چاہیے وہ ۶۸ مہینے لے رہا ہے۔ پروجیکٹ کی لاگت میں 100 فی صد اضافہ ہو جاتا ہے۔ پلاننگ کمیشن اور قومی معاشی کونسل کی معاشی کمیٹی [ECNEC] کی بے تدبیری کا یہ حال ہے کہ اس اعلیٰ ترین معاشی ادارے نے جو منصوبے منظور کیے ہیں ان میں سے ۲۷۰۸ فی صد ایسے ہیں جن کو منظور کر دیا گیا ہے مگر ان کی کوئی تفصیلی رپورٹ موجود نہیں ہے۔ بس خانہ پُری کے لیے اعلان کر دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیکڑوں منصوبے ایسے ہیں جن میں اربوں روپے صرف ہو گئے ہیں لیکن عملاً ان منصوبوں کے کبھی بھی پایہ تکمیل تک پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔

 بجٹ اور زمینی معاشی حقائق میں کوئی ربط وتعلق نہیں۔ حکومت کی گرفت نہ معاشی زمینی حقائق پر ہے اور نہ اس کے پاس معاشی تشکیل نو کا کوئی واضح اور مربوط وژن ہے ۔ المیہ یہ ہے کہ

رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھے

نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

سال گذشتہ کے بجٹ میں جو متعین اہداف بیان کیے گئے تھے، ان میں سے تقریبا ہر ایک کے بارے میں موجودہ بجٹ اور بجٹ کے ساتھ پیش کی جانے والی دستاویزات کے مطابق وہ پورے نہیں ہوئے ۔ معاشی ترقی کی رفتار، زرعی اور صنعتی پیداوار، روزگار کے مواقع، افراط زر کی شرح ٹیکسن کی آمدنی ، بجٹ خسارے کی مقدار کوئی ایک بھی ہدف پورا نہیں ہوا ہے۔ معاشی ترقی کی رفتار کا ہدف ۴۰۵ فی صد تھا جو صرف ۴ ۲ فی صد پر رک گئی ہے۔ آزاد معاشی ماہرین کی رائے میں عملا یہ ایک فی صد سے زیادہ نہیں۔ افراط زرکو9 فی صد پر لانے کا دعوی تھا مگر عملاً وہ ۴ فی صد سے زیادہ ہے، یعنی صارفین کا قیمتوں کا اشاریہ لیکن اگر تھوک قیمتوں کے اشاریے کولیا جائے تو وہ ۲۳:۲۹ فی صد تھا ۔ GDP تقلیل زر ۱۹ فی صد ہے جو افراط زر کو ناپنے کا ایک بہتر ذریعہ ہے۔ نتیجتا ملک اس معاشی بیماری میں شدت سے مبتلا ہے جسے stagflation کہا جاتا ہے، یعنی ایک طرف معیشت میں جمود ہے تو دوسری طرف اس کے ساتھ افراط زر بھی عروج پر ہے اوراس طرح ایک کریلا وہ بھی نیم چڑھا کی صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔

قرضوں کا بڑھتا ہو بوجھ

حکومت کے اخراجات بے قابو گئے ہیں ۔ ۹۹ – ۱۹۹۸ء میں حکومت کے کل غیر ترقیاتی اخراجات ۵۴۷ / ارب روپے تھے جو ا ۱ – ۲۰۱۰ء میں بڑھ کر ۱۸۹۱ار ارب روپے ہو گئے اور آئندہ سال یعنی ۱۲- ۲۰۱۱ء میں مزید بڑھ کر ۲۳۱۵ ارب روپے ہو جائیں گے ۔ صرف قرضوں پر سود اور ناگزیر قسطوں کی ادائیگی کے لیے سال رواں میں 291 ارب روپے صرف ہو جائیں گے۔ دفاع اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے اتنی ہی رقم مزید درکار ہوگی یعنی تقریباً ۸۰۰/ ارب ۔ حکومت کے انتظامی اخراجات کے لیے بجٹ کا بمشکل ۱۰ فی صد میسر ہوگا جس کا ایک بڑا حصہ تنخواہوں کی ادائیگی کے بعد شاہ خرچیوں کی نذر ہو گا۔ کاروبار مملکت چلانے کے لیے اندرونی اور بیرونی قرضوں پر انحصار ہوگا ۔ یہی وجہ ہے سارا نظام قرض کی مئے کے سہارے چل رہا ہے اور اس غریب قوم پر قرضوں کا بوجھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ گذشتہ ۶۰ برسوں میں اندرونی اور بیرونی قرضوں کا کل حجم ۴۷۰۰ را رب روپے تھا جو ان چار برسوں میں بڑھ کر ہ اہزار ارب روپے کی حدوں کو پھلانگ گیا ہے۔ یعنی صرف ان چار برسوں میں گذشتہ ۶۰ سال میں لیے جانے والے ۴۷۰۰ ارب روپے کے قرض میں ۵۰۰۰ ارب روپے سے زیادہ کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اگر یہی طور طریقے جاری رہے تو خطرہ ہے کہ اگلے سال اس میں مزید ایک سے ڈیڑھ ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اندازے کے مطابق اگلے مالی سال میں صرف بجٹ کا خسارہ ایک ہزار ارب روپے سے کم نہیں ہو گا۔ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کے لیے خسارے کی جور قم کم دکھائی گئی ہے خسارے کا اس کی حدود میں رہنا ناممکن ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے خسارے کو کم رکھنے کی وجہ یہ توقع ہے کہ صوبوں میں ۱۲۵ ارارب روپے زائد (surplus) ہوں گے لیکن اگلے سال کے لیے چاروں صوبوں کا بجٹ آ گیا ہے اور ان میں مجموعی بچت بمشکل ایک ارب روپے بنتی ہے ۔ باقی ۱۲۴ مارب روپے کہاں سے آئیں گے؟

مرکزی حکومت کو مرکزی بنک اور کمرشل بنکوں سے قرض لینا ہوگا۔ بہت سے مصارف کم اور بہت سی آمدنی رقوم کو قابل وصول حد سے زیادہ دکھایا گیا ہے۔ مثلاً اسٹیٹ بنک سے نفع کو ۱۲۰۰ ارب دکھایا گیا ہے جو ۱۶۰ ارب روپے سے زیادہ نہیں ہو سکتا ۔ فیس کے ہدف کے بارے میں بھی معاشی ماہرین کو خدشہ ہے کہ اس میں ۱۰۰ را رب زیادہ لگائے گئے ہیں۔ یہی صورت (G3) تھرڈ فزیشن کی موبائل سروس لائسنسوں کے سلسلے میں ہے جس سے ۷۵ ارب کی متوقع آمدنی رکھی گئی ہے لیکن اس کی وصول یابی مشتبہ ہے۔ اس کے بر عکس معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ بہت سے اخراجات کو کم لگایا گیا ہے اور خطرہ ہے کہ جس طرح ۱۱-۲۰۱۰ ء میں اضافی اخراجات ۳۸۷ ارب روپے کے ہوئے ، آئیندہ سال بھی بجٹ میں دکھائے ہوئے اخراجات سے ۲۵۰ سے ۳۵۰ ارب روپے کے اخراجات زیادہ ہوں گے ۔ جس راستے پر موجودہ حکومت گام زن ہے، وہ تباہی کا راستہ ہے۔ فارن پالیسی میگزین نے ناکام ریاستوں کا جو گوشوارہ اسی مہینے شائع کیا ہے، اس میں اس نے دنیا کے ۷۲ اممالک میں پاکستان کو نیچے سے ۱۲ ویں نمبر پر رکھا ہے۔ ملکوں کی درجہ بندی کے تمام ہی ادارے بدقسمتی سے پاکستان کی معیشت کی درجہ بندی برابر کم کر رہے ہیں۔ بیرونی سرمایے کی آمد رک گئی ہے بلکہ ملکی سرمایہ باہر جارہا ہے حتی کہ پاکستانی صنعت کار بنگلہ دیش اور دینی کا رخ کر رہے ہیں لیکن ارباب حکومت کو ان حالات کا کوئی اور اک نہیں۔

معاشی میدان کے نو بڑے چیلنج

اس وقت معاشی میدان میں جو سب سے بڑے چیلنج درپیش ہیں وہ یہ ہیں :

ا۔ غربت اور اس میں مسلسل اضافے کا رجحان

۲- معاشی ترقی کی رفتار کا ٹھٹھر جانا ، جس کا مظہر سرمایہ کاری میں کمی ، صنعت اور زراعت میں جمود، روزگار کے مواقع کا مسدود ہو جانا، اور بے روزگاری میں اضافہ ہے۔

۳۔ مہنگائی اور وہ بھی ہوش ربا مہنگائی۔

۴ –مالیاتی بے قاعد گی جس کے نتیجے میں اخراجات اور وہ بھی غیر ترقیاتی اخراجات میں بے پناہ اضافہ اور حکومت کے ترقیاتی مصارف میں کمی ۔ یہ مصارف ۱۰، ۱۵ سال پہلے قومی پیداوار کا فی صد ہوا کرتے تھے اور اب سو فی صد سے بھی کم ہو گئے ہیں۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافے کے ساتھ ، قرض کے بار میں اضافہ اور ٹیکس اور دوسری آمدنیوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کے نتیجے میں مالیاتی خسارہ بڑھ رہا ہے اور خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے ۔ ۲۰۰۵ء میں پارلیمنٹ نے ایک قانون منظور کیا تھا جسے Fiscal Responsibility Act کہتے ہیں، اس کی رُو سے نہ صرف حکومتی خسارے کو ایک حد میں رہنا تھا بلکہ ہر سال اس میں اڑھائی فی صد کمی کرنی تھی اور ۲۰۱۳ ء تک بجٹ کے خسارے کو ختم کرنا تھا۔ حکومت نے ان چار برسوں میںاس قانون کے الفاظ اور روح ، دونوں کی خلاف ورزی کی ہے اور آج مالیاتی خسارہ معیشت کےاستحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن گیا ہے۔

 ۵- بیرونی قرضوں میں اضافہ اور عالمی سطح پر ملک کو مریضانہ حد تک محتاجی سے دو چار کر دینا۔ اگلے سال سے آئی ایم ایف کے قرضوں کی ادائیگی بھی شروع ہونا ہے۔ اس وقت سے ۱۸ ارب ڈالر سالانہ قرض ادائیگی کی نذر کرنا پڑ رہے ہیں اور قرض کی یہ ادا ئیگی بھی نئے قرض سے کرنا پڑ رہی ہے۔ اگر بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر جو اب ۱۰ سے ۱۲ مارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی ہیں، نہ ہوتیں تو ہمارے زرمبادلہ کے محفوظ ذخائر ختم ہو چکے ہوتے اور ملک خدانخواستہ دیوالیہ ہو جاتا ۔ اس خطرناک صورت حال کا حکومت کو کوئی ادراک نہیں اور اس کے مقا بلے کے لیے کوئی حکمت عملی اس بجٹ میں موجود نہیں۔

۶ – ملکی معیشت میں ایک اور عدم توازن حقیقی پیداوار یعنی زراعت، صنعت ]بڑی ، وسطی اور چھوٹی[ اور توانائی سینٹر کا سکٹر جانا اور صارفین سیکٹر اور خدمات سیکٹر کا پھیلاؤ ہے۔ یہ عدم توازن شوکت عزیز صاحب کے زمانے میں شروع ہوا اور اب خطرناک حدود میں داخل ہو چکا ہے۔ لیکن بجٹ میں اس عدم توازن کو دور کرنے اور پیداواری سیکٹر کو فروغ دینے کی کوئی حکمت عملی نظر نہیں آتی۔

۷–  دولت کی عدم مساوات اور اس میں مسلسل اضافہ، اور ٹیکسوں کا ایسا نظام جس کا بوجھ امیر طبقات کے مقابلے میں غریبوں پر زیادہ پڑ رہا ہے۔ ٹیکس کا ۶۲ فی صد بالواسطہ ٹیکس ہے جس کا بڑا بوجھ غریب عوام پر پڑتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ۷۵ فی صد غریب آبادی کو اپنی آمدنی کا مافی صد ٹیکس میں دینا پڑ رہا ہے، جب کہ امیر طبقے کی آمدنی پر بلا واسطہ ٹیکس کا جو بوجھ ہے، وہ ان کی آمدنی کا بمشکل پانچ فی صد بنتا ہے۔ نیز امیر طبقوں کے کئی اہم حصے ایسے ہیں جو عملا ٹیکس کے جال سے باہر ہیں۔ خاص طور پر بڑے زمین دار جن کی آمدنی میں صرف گندم کی قیمت بڑھانے سے ۳۰۰ سے ۴۰۰ رارب روپے کا سالانہ اضافہ ہوا ہے، جب کہ ان کی آمدنی ٹیکس کی گرفت سے باہر ہے۔ غضب ہے کہ صوبوں نے جو برائے نام ٹیکس بڑے زمین داروں پر لگایا ہے، اس سے نہ صرف یہ کہ پورے ملک سے بمشکل ایک ڈیڑھ ارب روپے حاصل ہوتے ہیں بلکہ سندھ میں تازہ بجٹ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اس مد سے آمدنی ۵۰۰ ملین روپے ہو رہی تھی جو اس سال کم ہو کر ۱۵۰ ملین روپے رہ گئی ہے۔ یہی حال املاک کی خرید وفروخت اسٹاک ایکھینچ کے تاجروں اور بڑے بڑے پیشوں سے متعلق افراد کا ہے جن میں وکیل، ڈاکٹر ہمشیر ، اکاؤنٹنٹ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ نظام ملک کی دولت کی عدم مساوات کو بڑھارہا ہے۔ امیر امیر تر ہو رہا ہے اور غریب پر محصولات اور افراط زردونوں کی وجہ سے بوجھ بڑھ رہا ہے۔

 ۸ – کرپشن ایک ناسور کی طرح معیشت کے ہر شعبے کو کھا رہی ہے اور صدر سے معمولی اہل کار تک ہر کوئی اس بگاڑ میں شامل ہے۔ آج پاکستان دنیا کے ۱۰ کرپٹ ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ بلاشبہ یہ نظام کی خرابی ہے مگر اس بگاڑ کو اپنی انتہا تک پہنچانے میں تین چیزوں کا خاص دخل ہے: ایک قیادت کا اپنا کردار اور مثال، دوسرا انتظامی امور میں صواب دیدی رائے کاعمل دخل اور تیسرے ملک میں احتساب کے مؤثر اور شفاف نظام کا فقدان ۔

 غضب ہے کہ نیب کا ادارہ عضو معطل بنا دیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود احتساب کے نظام کو فعال کرنے کی کوئی کوشش نظر نہیں آتی ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ قومی اسمبلی میں احتساب کے قانون کا مسودہ دو اڑھائی سال سے زیر غور ہے لیکن مفاد پرست عناصر اس کو قانون نہیں بننے دیتے۔ کرپشن کو سختی سے ختم کیے بغیر ملک کے لیے معاشی دلدل اور ظلم اور نا انصافی کے چنگل سے نکلنا محال ہے۔ کرپشن ہی کی ایک مشکل میرٹ کا خون ہے۔ موجودہ حکومت کا ریکارڈ اس سلسلے میں سب سے خراب ہے۔ اس نے جس طرح سیاسی اور شخصی مقاصد کے لیے نا اہل لوگوں کو ذمہ داری کے مناصب پر لگایا ہے اور عدالت ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے علی الرغم ہر جگہ اپنی من مانی کی ہے، اس نے انتظامی مشینری ، فیصلہ سازی کے نظام اور شعبہ انتظامیات کے پورے درو بست کو تباہ و برباد کر دیا ہے۔ کوئی ادارہ ایسا نہیں جہاں قانون اور ضوابط کے مطابق خالص میرٹ کی بنیاد پر تقرریاں ہو رہی ہوں ۔ اس سے انتظامی مشینری کی چولیں ہل گئی ہیں اور حکومت کے نظام میں ہر جگہ نا اہلی اور بد عنوانی اور بددیانتی کا بازار گرم ہے۔ حالات پہلے بھی بہت اچھے نہ تھے مگر زرداری گیلانی دور میں تو یہ خرابیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں۔

۹ –پبلک سیکٹر کے تقریباً تمام ہی اہم کاروباری ادارے آج خسارے میں جارہے ہیں اور ان کو زندہ رکھنے کے لیے سرکاری خزانے سے ۳۰۰ سے ۴۰۰ را رب روپے سالانہ خرچ کرنا پڑرہے ہیں جو صریح ظلم ہے۔ اس کی وجہ سے وہ شعبہ ہائے زندگی وسائل سے سب سے زیادہ محروم ہورہے ہیں جن پر کسی ملک کے مستقبل اور خوش حال فلاحی معاشرے کا قیام اور فروغ منحصر ہے۔ یعنی تعلیم، صحت اور فنی ضرورتوں کی روشنی میں انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ۔ ۱۵ سال پہلے تعلیم پر گل قومی دولت کا اڑھائی فی صد صرف ہور ہا تھا اور اسے چار فی صد تک لے جانے کی کوشش ہو رہی تھی۔ مگر اب یہ کم ہو کر ۸ ء فی صد رہ گیا ہے۔ صحت پر اخراجات کا یہ تناسب ۰۸ فیصد تھا جواب کم ہو کر 4 فی صد رہ گیا ہے، جب کہ تعلیم پر قومی دولت کا کم از کم چار سے چھے فی صد اور صحت پر دو سے تین فی صد صرف ہونا چاہیے۔ سندھ کے بارے میں ایک تازہ ترین سروے کے نتیجے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ وہاں ۴۲ ہزار اسکولوں میں صرف کے ہزار ایسے ہیں جو حقیقت میں برسر کار (functional) ہیں ورنہ ایک نمایاں تعداد بھوت اسکولوں کی ہے جن کا کوئی وجود نہیں۔ ان اسکولوں کا ۷۰ فیصد ایسا ہے کہ وہاں صرف ایک کمرہ اور ایک استاد ہے اور ایک کلاس میں طلبہ کی اوسط تعداد صرف سات ہے۔ سرکاری ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں کا حال اس سے بھی ابتر ہے۔

خارجہ پالیسی اور معیشت

ملک کی معاشی حالت کو جن نکات میں ہم نے اوپر بیان کیا ہے، وہ ایسے ہیں کہ انسان کا دن کا چین اور رات کا آرام مشکل ہو جاتا ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ قیادت کو ان کا کوئی احساس نہیں ۔ وژن، دیانت اور صلاحیت ہر ایک کا فقدان ہے۔ عوام نے جو تو قعات ان سے وابستہ کی تھیں اور جس حکمرانی اور جمہوری انداز میں ملک کے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری ان کو سونپی تھی، اس کو انھوں نے بری طرح پامال کیا ہے۔ ان کی اپنی نا اہلی کے ساتھ ان کی خارجہ پالیسی بھی معاشی حالات کو دگرگوں کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکا دہشت گردی کے نام پر جو کھیل کھیل رہا ہے وہ سب کے لیے تباہی کا راستہ ہے۔

امریکا کے اپنے عالمی عزائم ہیں اور وہ ان کے حصول کے لیے اس جنگ کو نت نئے رنگ میں آگے بڑھا رہا ہے حالانکہ خود ا سے ان ۱۰ برسوں میں ۵ سے ۶ ٹریلین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔صرف افغانستان میں سالانہ ۰۰ ارارب ڈالر جنگ کی آگ میں جھونک رہا ہے اور کسی ایک میدان میں بھی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی اور بالآخر اب جولائی ۲۰۱۱ء سے انخلا کی حکمت عملی پر عمل شروع کر رہا ہے۔ اس کے بعد اب پاکستان کو میدان جنگ میں تبدیل کرنے کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اس سال کے معاشی سروے میں حکومت نے خود اس معاشی قیمت کا ایک اندازہ پیش کیا ہے جو پاکستان کو امریکا کی جنگ میں شرکت کی وجہ سے برداشت کرنا پڑ رہی ہے۔ پاکستانی قوم نے پہلے دن سے اسے اپنی جنگ نہیں سمجھا اور Pew کا جو تازہ سروے آیا ہے اس کی رُو سے پاکستان کی آبادی کا ۷۳ فی صد امریکا کی اس جنگ کے خلاف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اس جنگ میں سب سے زیادہ قیمت ادا کی ہے، جب کہ اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ ۳۵ ہزار پاکستانی عوام شہید ہوئے ہیں اور ۶ ہزار پاکستانی فوجی اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افراد لقمہ اجل بنے ہیں۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ اور بے گھر ہونے والے ۵۰ لاکھ سے زیادہ ہیں ۔ یہ تو وہ نقصانات ہیں جن کا روپوں اور ڈالروں میں کوئی اندازہ ممکن ہی نہیں۔ لیکن جو نقصانات بلا واسطہ اور بالواسطه خالص معاشی میدان میں اُٹھانے پڑ رہے ہیں، ان کا اندازہ بھی ۶۸ ملین ڈالر ہے جو پاکستانی روپوں میں ۵۰۳۶,۸ر ارب روپے ہو جاتا ہے جو اس نام نہاد امریکی امداد سے جوان ابرسوں میں کسی بھی شکل میں بشمول پاکستان کی فوجی خدمات کے عوض دی گئی ہیں پانچ گنا زیادہ ہے۔ یعنی اس جنگ میں جو امریکا کے ہر ایک ڈالر کے مقابلہ میں پاکستان کے غریب عوام نے پانچ ڈالر کا بوجھ اُٹھایا ہے۔ یہ صرف معاشی پہلو ہے۔ پاکستان کی آزادی، خود مختاری اورسالمیت کو جو نقصان پہنچا ہے اور جو انسانی تباہی و بربادی ہوئی ہے وہ اس کے سوا ہے۔

نکلنے کا راستہ

سوال یہ ہے کہ ان حالات سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟ بات بہت واضح ہے کہ پاکستانی قوم اورقیادت کو ایک بنیادی فیصلہ کرنا ہوگا اور اس کے دو پہلو ہیں ۔ پہلا یہ کہ امریکا کی اس دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جلد از جلد نکلنا اور جو تباہی اس کی وجہ سے پاکستان میں ہوئی ہے کم از کم اس سے بچنے کا آغاز۔

 لیکن دوسرا اور سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ہمیں کہاں جانا ہے، ہمارے اپنے قومی مفادات کیا ہیں، ہمیں کسی قسم کی معیشت قائم کرنی ہے اور پاکستان کی شناخت اور اس کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی منزل کا صحیح صحیح تعین اور پھر اس کی روشنی میں پوری معاشی پالیسی معاشی منصوبہ بندی اور بجٹ سازی کی نئی راہ کا تعین، گویا امریکا کی مسلط کردہ جنگ اور پاک امریکی تعلقات کے موجودہ انتظام سے اپنے کو علیحدہ کرنا اور بالکل نئے اہداف اور مقاصد کے مطابق امریکا سے شرائط معاملہ (terms of engagement) کو از سر نو مرتب کرنا اور اسی طرح پاکستان کے تاریخی اور قومی مفادات کی روشنی میں معاشی حکمت عملی کی تشکیل نو۔

 پاکستان وہ بدنصیب ملک ہے جو مادی اور انسانی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود آج غربت، بے روزگاری، مہنگائی، توانائی کے بحران اور قرضوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور اس کی اصل وجہ اس وژن کو بھول جانا ہے جس نے تحریک پاکستان کو جنم دیا تھا اور اس مقصد سے بے وفائی ہے جس کے لیے ملت اسلامیہ پاک و ہند نے قائد اعظم کی رہنمائی میں عظیم قربانیاں دے کر یہ خطہ زمین حاصل کیا تھا۔ اس کی دوسری وجہ اچھی قیادت کا فقدان، یا بہ الفاظ صحیح تر ، ملک پر ایک ایسی قیادت کا غلبہ جو وژن، دیانت اور صلاحیت سے محروم ہے اور جس کے سامنے اپنے ذاتی مفادات کے سوا کوئی اور مقصد نہیں ۔ وژن اور منزل مقصود کے باب میں بنیادی تبدیلی اور اس کے ساتھ انقلاب قیادت جس کے نتیجے میں ایسے لوگ بر سر اقتدار لائے جاسکیں جو پاکستان کے مقصد وجود سے وفادار ہوں، جو دیانت اور اعلیٰ صلاحیت کا نمونہ ہوں، جو عوام میں سے ہوں اور عوام کے سامنے جواب دہ ہوں اور سب سے بڑھ کر جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وفا اور اطاعت کا رشتہ رکھتے ہوں اور ان کے سامنے اپنے کو جواب دہ سمجھتے ہوں ۔ صحیح وژن اور اہل قیادت یہی وہ دو چیزیں ہیں جن کے ذریعے مطلوبہ تبدیلی ممکن ہے۔ استخلاف وہ بنیادی تصور ہے جس کے گردزمین پر اسلام کے کردار اور اُمت مسلمہ کی اصل ذمہ داری کو سمجھا جاسکتا ہے۔ استخلاف کے تو معنی ہی یہ ہیں کہ مسلمان اللہ کے بندے کی حیثیت سے زندگی کے پورے نقشے کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ڈھالنے کی ہمہ گیر کوشش کرے اور انصاف کی بنیاد پر اجتماعی نظام قائم کرے۔ حضرت یوسف علیہ کے اسوے سے یہ سبق ملتا ہے کہ خوش حالی کے سات سال اور خشک سالی کے سات سال زندگی کی حقیقت ہیں اور فراست نبوی کا تقاضا ہے کہ معاملات کو اس طرح انجام دیا جائے کہ خوش حالی کے ثمرات کو خشک سالی کے ادوار تک پہنچایا جا سکے۔ اس کے لیے حکمت اور امانت دونوں درکار ہیں۔ اختیار، اقتدار اور وسائل کے صحیح استعمال کے بغیر استخلاف کی ذمہ داری ادا کر ناممکن نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں جو معاشی نظام قائم کیا اس میں محنت اور جد و جہد اور وسائل کی ترقی اور ان کا صحیح استعمال، ان کی منصفانہ تقسیم اور ان کے درست انتظام کے نتیجے میں خوش حالی، منصفانہ اور طاقت در معاشرے کا قیام ہے۔ یہ معاشرہ حلال وحرام کے احترام کے ساتھ انسانوں کے درمیان انصاف، آزادی اور اخوت کا ایسا ماحول قائم کرتا ہے جس میں ہر فرد بحیثیت خلیفہ اپنا کردار ادا کر سکے اور کوئی کسی کا محتاج نہ ہو ۔ اقبال نے اسی انقلابی تصورکو دو مصرعوں میں اس طرح ادا کر دیا ہے ؎

کس نہ باشد در جہاں محتاج کسی

نکته شرع مبیں، این است وبس

اقبال اور قائد اعظم کا تصور

اقبال نے قائد اعظم کو ملت اسلامیہ ہند کی جس جدو جہد کی قیادت کی دعوت دی تھی اس کا اظہار انھوں نے اپنے ۲۸ مئی ۱۹۳۷ء کے خط میں بڑے واضح الفاظ میں یوں کیا تھا:

ہمارے سیاسی اداروں نے مسلمانوں کی عمومی حالت کو بہتر بنانے کے لیے کبھی غور وفکر نہیں کیا۔ روزگار کا مسئلہ زیادہ سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ مسلمانوں نے یہ محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ گذشته ۲۰۰ برسوں سے نیچے ہی نیچے جا رہے ہیں ۔ عام طور پر وہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کی دلدل سے نکلنے کا راستہ غربت کا سبب ہندو مہاجنی یا سرمایہ داری ہے۔ انھیں یہ شعور نہیں ہے کہ یہ بیرونی حکمرانی کا نتیجہ ہے لیکن انھیں جلد یہ ادراک ہو کر رہے گا ۔ جواہر لال نہرو کے بے خدا سوشلزم کو مسلمانوں کی طرف سے زیادہ پذیرائی نہیں ملے گی۔ سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کی غربت کا مسئلہ کس طرح حل ہو؟ اور لیگ کے مستقبل کا انحصار بھی اسی پر ہے کہ وہ اس مسئلے کو کس طرح حل کرتی ہے۔ خوش قسمتی سے اس مسئلے کا حل اسلامی قانون کے نفاذ میں ہے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اس قانون کو مناسب انداز میں سمجھا اور نافذ کیا جائے تو اس کے نتیجے میں ہر ایک کا روزگار کا حق محفوظ ہو جائے گا۔ لیکن اس ملک میں اسلامی شریعت کا نفاذ اور ارتقا ایک آزاد اسلامی ریاست یا ریاستوں کے بغیر ممکن نہیں۔

 قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے تیرھویں اجلاس میں جو دہلی میں ۲۴ جولائی ۱۹۴۳ءمیں منعقد ہوا تھا پاکستان کے قیام کے اس مقصد کو ان الفاظ میں اور بڑے جذبات سے ادا کیا:

 یہاں میں ان جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو متنبہ کروں گا جو ہمارے وسائل کے بل پر پچھلےپھولے ہیں۔ عوام کا استحصال ان کے خون میں سرایت کر چکا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ اسلام کا سبق بھول چکے ہیں۔ آپ دیہی علاقے میں کہیں بھی چلے جائیں میں خود دیہاتوں میں گیا ہوں۔ ہمارے لکھوکھا لوگ ہیں جنھیں ایک وقت کی روٹی بھی بمشکل ملتی ہے۔ کیا یہ تہذیب ہے؟ کیا یہ پاکستان کا مقصد ہے؟ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ لاکھوں لوگوں کا استحصال کیا جا چکا ہے اور انھیں ایک وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ اگر یہ پاکستان کا تصور ہے، تو یہ میرےپیش نظر نہیں ہے۔

قیام پاکستان کے بعد ۲۷ ستمبر ۱۹۴۷ء ولیکا ٹیکسٹائل ملز کا سنگ بنیا د ر کھتے ہوئے قائد اعظم نے فرمایا:

اپنے ملک میں صنعت کاری کے ذریعے ہم اشیائے صرف کی فراہمی کے لیے بیرونی دنیا پر انحصار کم کر سکیں گے، لوگوں کو روزگار کے زیادہ مواقع فراہم کر سکیں گے اور مملکت کے وسائل میں بھی اضافہ کر سکیں گے۔ قدرت نے ہمیں صنعت وحرفت میں کام آنے والے بہت سے خام مال ” سے نوازا ہے ۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اسے ملک اور عوام کے بہترین مفاد کے لیے استعمال کریں۔ ]قائداعظم: تقاریر و بیانات ، جلد چهارم، ص ۳۷۳[

اور یکم جولائی ۱۹۴۸ء بنگ دولت پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

حکومت پاکستان کی حکمت عملی یہ ہے کہ قیمتوں کو ایسی سطح پرمستحکم کر دے جو تیار کنندہ اور صارف دونوں کے لیے منصفانہ ہو۔ مجھے امید ہے کہ اس اہم مسئلہ کو کا میابی کے ساتھ حل کرنے کے لیے آپ کی مساعی بھی اس جہت کا لحاظ رکھیں گی۔ آپ کا تحقیقی شعبہ، بنکاری کے طور طریقوں کو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات سے ہم آہنگ کرنے کے سلسلے میں جو کام کرے گا، میں ان کا دل چسپی کے ساتھ انتظار کروں گا۔ اس وقت مغربی اقتصادی نظام نے تقریباً نا قابل حل مسائل پیدا کر دیے ہیں اور ہم میں سے اکثر کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی معجزہ ہی دنیا کو اس بربادی سے بچا سکے جس کا اسے اس وقت سامنا ہے… مغربی اقدار، نظریے اور طریقے خوش وخرم اور مطمئن قوم کی تشکیل کی منزل کے حصول میں ہماری مدد نہیں کر سکیں گے۔ ہمیں اپنے مقدر کو سنوارنے کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرنا ہوگا اور دنیا کے سامنے ایک ایسا اقتصادی نظام پیش کرنا ہو گا جس کی اساس انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے بچے اسلامی تصور پر استوار ہو۔ (ایضاً، ص ۵۰۰-۵۰۱) یہ ہے پاکستان کا اصل وژن ۔

دستور کی روشنی میں

۱۹۷۳ء کے دستور میں اس وژن کو پاکستان کے اساسی قانون کا حصہ اور حکومت کے لیے پالیسی سازی کے لیے واضح ہدایت کے طور پر درج کیا گیا ہے:

دفعہ ۳۱ کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں کے بارے میں مملکت مندرجہ ذیل کے لیے کوشش کرے گی:

ا – قرآن پاک اور اسلامیات کی تعلیم کولازمی قرار دینا عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی کرنا اور اس کے لیے سہولت بہم پہنچانا اور قرآن پاک کی صحیح اور من وعن طباعت اور اشاعت کا اہتمام کرنا۔

ب–  اتحاد اور اسلامی اخلاقی معیاروں کی پابندی کو فروغ دیتا، اور

ج–  زکوة ( عشر ) اوقاف اور مساجد کی باقاعدہ تنظیم کا اہتمام کرنا۔

دفعه]۳۷[

ا– پس ماندہ طبقات یا علاقوں سے تعلیمی اور معاشی مفادات کو خصوصی توجہ کے ساتھ فروغ دے گی۔

ب–  کم سے کم ممکنہ مدت کے اندر نا خواندگی کا خاتمہ کرے گی اور مفت اور لازمی ثانوی تعلیم مہیا کرے گی۔

ج–  فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کو عام طور پر مکن الحصول اور اعلی تعلیم کو لیاقت کی بنیاد پر سب کے لیے مساوی طور پر قابل دسترس بنائے گی۔

د – ستے اور سہل الحصول انصاف کو یقینی بنائے گی۔

ہ–  منصفانہ اور نرم شرائط کار، اس امر کی ضمانت دیتے ہوئے کہ بچوں اور عورتوں سے ایسے پیشوں میں کام نہ لیا جائے گا جو ان کی عمر یا جنس کے لیے نا مناسب ہوں ، مقرر کرنے کے لیے احکام وضع کرے گی ۔

و–  مختلف علاقوں کے افراد کو تعلیم ، تربیت ، زرعی اور صنعتی ترقی اور دیگر طریقوں سے اس قابل بنائے گی کہ وہ ہر قسم کی قومی سرگرمیوں میں، جن میں ملازمت پاکستان میں خدمت بھی شامل ہے، پورا پورا حصہ لے سکیں ۔

ز–  عصمت فروشی، قمار بازی اور ضرر رساں ادویات کے استعمال فحش ادب اور اشتہارات کی طباعت نشر و اشاعت اور نمایش کی روک تھام کرے گی۔

ح–  نشہ آور مشروبات کے استعمال کی ، سوائے اس کے کہ وہ طبی اغراض کے لیے یا غیر مسلموں کی صورت میں مذہبی اغراض کے لیے ہو ، روک تھام کرے گی ، اور

ط – نظم ونسق حکومت کی مرکزیت دور کرے گی تا کہ عوام کو سہولت بہم پہنچانے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کے کام کے مستعد تصفیہ میں آسانی پیدا ہو۔

دفعه ۳۸۔ مملکت

ا – عام آدمی کے معیار زندگی کو بلند کر کے، دولت اور وسائل پیداوار و تقسیم کو چند اشخاص کےپاکستان کا معاشی بحران ب۔ ہاتھوں میں اس طرح جمع ہونے سے روک کر کہ اس سے مفاد عامہ کو نقصان پہنچے اور آجر و ما جور اور زمین دار و مزارع کے درمیان حقوق کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دے کر بلالحاظ جنس،ذات، مذہب ی نسل بعوام کی فلاح و بہبود کے حصول کی کوشش کرے گی ۔

ب – تمام شہریوں کے لیے، ملک میں دستیاب وسائل کے اندر، معقول آرام و فرصت کے ساتھ کام اور مناسب روزی کی سہولتیں مہیا کرے گی۔

ج–  پاکستان کی ملازمت میں، یا بصورت دیگر تمام ملازم اشخاص کو لازمی معاشرتی بیمے کے ذریعے یا کسی اور طرح معاشرتی تحفظ مہیا کرے گی۔

د–  ان تمام شہریوں کے لیے جو کمزوری، بیماری یا بے روزگاری کے باعث مستقل یا عارضی طور پر اپنی روزی نہ کما سکتے ہوں بلا لحاظ جنس، ذات، مذہب یا نسل، بنیادی ضروریات زندگی مثلا خوراک، لباس، رہائیش، تعلیم اور طبی امداد مہیا کرے گی ۔

ہ – پاکستان کی ملازمت کے مختلف درجات میں اشخاص سمیت، افراد کی آمدنی اور کمائی میں عدم مساوات کو کم کرے گی اور

 و-  رہا کو جتنی جلد ممکن ہو ختم کرے گی۔

معیشت کی اسلامی تشکیل

 اقبال اور قائد اعظم کے بیانات اور دستور پاکستان میں وہ وژن بہت صاف الفاظ میں موجود ہے جو پاکستان کے معاشی، مالیاتی اور تہذیبی نظام کے خدو خال متعین کرتا ہے ۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری قیادت ان تمام ہدایات اور اہداف کو نظر انداز کر رہی ہے اور قوم کو ایک بحران کے بعد دوسرے بحران سے دو چار کر رہی ہے۔ اسلام نے پہلے دن سے تمام معاشی وسائل کو امانت قرار دیا ہے اور قیادت اور عامتہ المسلمین پر لازم کیا ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بنائیں کہ اللہ کے دیے ہوئے وسائل انسانی محنت کے ساتھ تمام انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوں ۔ بیت المال کا ادارہ دور خلافت راشدہ ہی میں قائم ہو گیا تھا اور اس کا مقصد نظام حکومت چلانے کے لیے جو وسائل درکار ہیں ان کے حصول اور استعمال کے ساتھ ساتھ معاشرے میں دلدل سے نکلنے کا راستہ خوش حالی اور فلاح عامہ کے لیے وسائل کا صحیح صحیح استعمال یقینی بنانا تھا۔

 یہی وجہ ہے کہ پہلے دن سے بیت المال کے دو شعبے قائم کیے گئے ایک کا تعلق اموال المسلمین’ سے تھا، تو دوسرے کو اموال الصدقہ قرار دیا گیا تا کہ تمام اجتماعی اور فلاحی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ ملوکیت میں خزانہ بادشاہ کی مرضی کے تابع ہوتا تھا اور حکمران کے ذاتی اموال اور عوام کے اموال میں کوئی تمیز نہ تھی۔ لیکن اسلام نے اس کو بیت المال کا مالک نہیں امین بنایا اور دو ر ملوکیت میں بھی بیت المال الخاصہ جو خلیفہ کے ذاتی تصرف میں ہوتا تھا، اور بیت المال المسلمین جو تمام مسلمانوں کے لیے تھا، میں واضح فرق کیا جاتا تھا۔ دولت عثمانیہ تک یہ فرق نظام کا حصہ تھا۔

ان تاریخی حقائق کی روشنی میں ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان کی معیشت کی تنظیم نو اسلامی بنیادوں پر کی جائے اور دیانت اور اہلیت کے ساتھ جو وسائل اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیئے ہیں ان کو ترقی دی جائے اور استعمال کیا جائے تو پاکستان چند برسوں میں دنیا کے لیے نمونہ بن سکتا ہے۔ ہمیں کسی بیرونی امداد کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس وہ وسائل موجود ہیں جن کو دیانت اور سمجھ داری سے ترقی دے کر پاکستان کو ایک خوش حال فلاحی معاشرہ بنایا جا سکتا ہے اور ایک ایسے نظام کا نقشہ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے جو ترقی اور خوش حالی کا ایسا نمونہ ہو جس میں کوئی کسی کا محتاج نہ ہو اور سب ایک دوسرے کے لیے تقویت کا ذریعہ بنیں ۔ ترقی کا یہ راستہ خود انحصاری اور انصاف کے قیام سے عبارت ہے اور یہی ہمارے لیے نجات کی راہ ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی بجٹ تجاویز

برائے سال ۲۰۱۲-۲۰۱۱

جماعت اسلامی پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ بجٹ سازی میں تمام متعلقہ طبقات (سٹیک ہولڈرز) کے ساتھ مشاورت کی جائے اور پارلیمنٹ میں اس کو محض عددی اکثریت کی بنیاد پر اعداد وشمار کے گورکھ دھندے کی صورت میں منظور نہ کرایا جائے بلکہ بجٹ قومی وسائل، ضروریات اور عوام کی فلاح و بہبود کو مد نظر رکھ کر بنایا جائے ۔ اپنے اس بنیادی موقف کو سامنے رکھتے ہوئے گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی جماعت اسلامی پاکستان مندرجہ ذیل بجٹ تجاویز پیش کرتی ہے۔

-1     سال ۱۱-۲۰۱۰ء میں بھی بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.5 فیصد سے بڑھ کر 5.5 فی صد سے 6.5 فی صد تک چلا  گیا۔ نتیجتاً حکومت نے اندرون ملک بینکوں سے اور بیرون ملک قرضہ جات لیے، نوبت یہاں تک پہنچی کہ روزانہ 2 ارب سے 3 ارب روپے کے نوٹ چھاپے جاتے رہے۔ افراط زر کے عفریت نے مہنگائی اور بے روزگاری کی صورت میں عوام کا جینا دو بھر کر دیا۔ خود کشیوں کے علاوہ رشوت، چوری، ڈاکہ زنی اور دیگر جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ بجائے اس کے کہ حکمران وقت ان حالات میں بہتری لانے کے لیے مناسب اقدامات اٹھاتے ، اگلے مالی سال کے لیے بھی بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.5 فیصد تجویز کیا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی توقع ہے اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ شاید یہ قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل کی حد تک پہنچ جائیں ۔ اس خطر ناک صورت حال

کے پیش نظر بجٹ خسارے کو فوری طور پر کم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا کرنے کے لیے حکومت کو فوری طور پر اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کم از کم 40 فیصد کم کر دینے چاہئیں ۔ اس کے لیے مرکزی اور صوبائی کا بینوں کے وزرا اور مشیروں کی تعداد نصف کر دی جائے ۔ اب تو حد یہاں تک پہنچ گئی کہ صوبائی گورنروں نے بھی بڑی تعداد میں اپنے مشیر رکھ لئے ہیں۔ وزرا اور سینئر بیوروکریٹس اور ان کے اہل خانہ کے زیر استعمال بہت زیادہ سرکاری گاڑیاں ہیں ۔ بلٹ پروف گاڑیوں کی درآمد کی بھرمار ہے۔ بلٹ پروف گاڑیوں کی مزید درآمد پر پابندی لگائی جائے اور وزرا اور سرکاری افسروں بشمول صدر ، وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ کی گاڑیوں میں پٹرولیم کے استعمال ، گاڑیوں کی مرمت اور ان کے اندرون ملک اور بیرون ملک دوروں پر اٹھنے والے اخراجات میں کم از کم ۵۰ فیصد کمی کی جائے ۔

2  -حکومت کے بجت میں منظور شدہ اخراجات میں اضافہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی منظوری کے بغیر نہ کیا جائے۔ کسی بھی انتظامی افسر کو بجٹ میں منظور شدہ اخراجات سے اضافی رقم خرچ کرنے کا اختیار نہ ہو اور اس کے لیے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی پیشگی منظوری کو لازمی قراردیا جائے۔

3  -سالانہ ترقیاتی فنڈ ز کی جو تم بجٹ میں مختص کی گئی ہو اس کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیٹنگکی منظوری کے بغیر کسی دوسری مد میں خرچ کرنے پر مکمل طور پر پابندی ہو۔

4 –  بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے ایک طرف عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے اور دوسری طرف صنعتی پیداوار میں کمی واقع ہوئی، جس کی وجہ سے برآمدات متاثر ہوئیں اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔ اس وقت ہائیڈل تھرمل اور دیگر ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کی پیداواری صلاحیت 15000 میگاواٹ روزانہ سے کم نہیں ہے۔ اگر 15000 میگا واٹ بجلی با قاعدگی سے پیدا ہو تو لوڈ شیڈ نگ کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ حکومت پی ایس اور آئی پی پیز اور کے ای ایس سی وغیرہ کے درمیان سرکلر ڈیبٹ [Circular Debt] کی وجہ سے پیداواری صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا نہیں ہو رہی ۔ جس کی کمی بعض اوقات 4000 میگا واٹ روزانہ سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے بجائے کرائے کے بجلی گھر لانے کا ڈرامہ رچایا اور کئی کمپنیوں کو پیشگی ادائیگی بھی کر دی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے از خود نوٹس لینے کی وجہ سے اب تک اس طرح سے پیشگی ادا کی جانے والی رقم میں سے 3 ارب روپے سے زیادہ قومی خزانے میں جمع ہو چکے ہیں۔ ابھی سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے مقدمے کا حتمی فیصلہ آنا ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ سرکلر ڈیبٹ کا مسئلہ فوری طور پر حل کیا جائے تا کہ پہلے سے موجود پیداواری صلاحیت کے مطابق بجلی پیدا ہونی شروع ہو اور عوام کی روز مرہ زندگی معمول پر آ جائے۔ دوسری طرف صنعتوں میں پیداوار بڑھ جائے ۔

 – 5برادر ہمسایہ ملک ایران نے بہت پہلے ہمیں گیس فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی اور اس کے بعد کئی دفعہ یاد دہانی بھی کروائی۔ امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے حکومت پاکستان ، ایران پاکستان مشتر کہ گیس پائپ لائن منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ نہیں اور اب گیس سپلائی میں کمی بھی بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور گھر یلو خواتین کھانا پکانے سے قاصر ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصو به جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے اور دوسری طرف موجودہ گیس کی صوبوں کے درمیان طے شدہ منصوبہ کے مطابق منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ کیونکہ بعض حلقوں کی طرف سے یہ شکایت موجود ہے کہ وفاقی حکومت اس معاملہ میں متعصبانہ رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

 6  -فروری 2011 ء میں ایک انتظامی حکم کے تحت وفاقی حکومت نے زرعی کھادوں ، بیجوں ، ادویات، ٹریکٹرز اور دیگر زرعی آلات پر جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا ۔ اس وقت پاکستان میں سالانہ 130 ملین بوریاں یوریا کھاد ، 30 ملین بوریاں ڈی اے پی کھاد ، 60 ارب سے زیادہ بیج ، 25 ارب کے قریب زرعی ادویات اور پچاس ارب کے قریب ٹریکٹر ز ا د یگر زرعی آلات استعمال ہوتے ہیں ۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ 350 ارب روپے کے قریب مذکورہ زرعی ترسیلات [Agricultural Inputs] پر خرچ ہوتے ہیں۔ سیلز ٹیکس کے نفاذ سے یہ خرچ پچاس سے ساٹھ ارب روپے سالانہ بڑھ جائے گا۔ فی ایکڑ اوسط خرچ میں تقریباً 4000 روپے اضافہ ہوگا۔ کیونکہ اب تک سیلز ٹیکس لگنے کی وجہ سے کھادوں کی قیمت میں 20 ، ادویات کی قیمتوں میں %25 اور ٹریکٹرز ازرعی آلات کی قیمتوں میں %17 اضافہ ہو چکا ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ چھوٹا کسان ان چیزوں کا استعمال اتنا نہیں کر سکے گا جتناکہ اچھی پیداوار لینے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ہم پہلے ہی ہندوستان ، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک سے فی ایکڑ اوسط پیداوار میں %40 پیچھے ہیں۔ یورپی ممالک میں کسان اوسطاً 380 کلو گرام کھاد فی ایکڑ استعمال کرتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں کسان اوسط 132 کلوگرام فی ایکڑ کھا د استعمال کرتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سیلز ٹیکس لگنے کے نتیجے میں ان زرعی ترسیلات میں قیمتوں کا اضافہ ہوگا اور ان کا استعمال چھوٹے کسان کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔

ہمارے ملک میں %58 کاشت کار پانچ ایکڑ تک کے مالک ہیں اور %28 کسان پانچ سے ساڑھے بارہ ایکڑ کے مالک ہیں۔ ساڑھے بارہ ایکڑ سے زیادہ ملکیت رکھنے والوں کی تعداد 12 سے زیادہ نہیں ہے۔ 100 ایکڑ سے زیادہ رکھنے والوں کی تعداد 10 سے بھی کم ہے۔ ماہرین کی رائے کے مطابق مہنگی کھادوں اور ادویات کے کم استعمال کی وجہ سے زرعی پیداوار میں %10 کمی آئے گی جس سے غذائی اشیا میں 30 قیمتوں کا اضافہ ہوگا اور %40 آبادی جن کی اوسط آمدنی ایک ڈالر روزانہ سے بھی کم ہے، خوراک کی کمی کا شکار ہو جائے گی ۔ اس سے غذائی اشیا کی درآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ جولائی 2009ء اور فروری 2010 ء کے عرصہ کے دوران غذائی اشیا کی درآمد پر 2.058 ارب ڈالر خرچ ہوئے ۔ جبکہ جولائی 2010ء اور فروری 2011 ء کے عرصے کے دوران یہ خرچ 3.548 ارب ڈالر تھا۔ اس طرح سے مالی سال 11-2010 ء میں یہ اضافہ 72.34 فیصد تھا۔ ملکی مفاد کا یہ تقاضا ہے کہ زرعی ترسیلات پر سیلز ٹیکس فوری طور پر ختم کیا جائے ۔ ساری دنیا میں زراعت پر سبسڈی دی جاتی ہے۔ تا کہ غذائی اشیاء کا عدم تحفظ [Food Insecurity] پیدا نہ ہو۔ لیکن ہمارے ہاں حکمرانوں نے ایسی پالیسی اختیار کی ہے جس سے یہ پیدا ہونا لازمی ہے۔

 – 7ایسی مالیاتی پالیسی اختیار کی جائے جس کے نتیجے میں صنعت کاروں کو سر مایہ کاری میں آسانی ہوتا کہ پیداوار میں اضافہ ہو سکے، روز گار آسانی سے میسر آ سکیں ۔ اب تک گی اختیار کی گئی مالیاتی پالیسی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ بلکہ الٹا حکومت کے سٹیٹ بینک سے قرض لینے کی وجہ سے سرمایہ کاری کے لیے بہت کم رقم باقی بچتی ہے۔

 – 8صنعتی اور کاروباری سیکٹر کے لیے بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈ نگ اراهتنگ کا نظام فوری طور پر ختم کیا جائے۔ کیونکہ جب تک صنعت اور کاروبار کا پہیہ نہیں چلے گا اس وقت تک نہ پیداوار میں اضافہ ہوگا اور نہ ملازمتیں مل سکیں گی۔ برآمدات میں بھی اضافہ نہیں ہو سکے گا۔ علاوہ ازیں لا اینڈ آرڈر کامسئله بر قرار ر ہے گا اور معاشرہ مسلسل بدامنی کی وجہ سے امن کے لیے ترستار ہے گا۔

 9  -اس خطے میں واقع دوسرے ممالک کے مقابلے میں ہمارے ہاں فی ایکڑ اوسط زرعی پیداوار کم ہے۔ حکومت فی ایکڑ اوسط زرعی پیداوار میں اضافے کو اپنی ترجیح اول بنائے ۔ کیونکہ مجموعی قومی پیداوار کا %23 زرعی سیکٹر سے آتا ہے ، یہ سیکٹر %40 لیبر فورس کو روز گار مہیا کرتا ہے اور تقریبا %66 آبادی کا انحصار بالواسطہ یا بلا واسطه زراعت سے ہے۔ اس کے لیے زرعی تحقیق پر خصوصی توجہ دی جائے تا کہ ایسے بیجوں کی افزائش ہو سکے جو کم پانی کے باوجود زیادہ اوسط پیداوار دیں اور ان پر بیماریوں کا حملہ بھی کم ہو۔ اسی طرح سے پانی کی کمی کا مسئلہ فوری طور توجہ کا متقاضی ہے۔ سندھ طاس معاہدہ 1960 ء کے مطابق دریائے سندھ ، دریائے چناب اور دریائے جہلم پاکستان کے حصے میں آئے تھے اور ہندوستان کو ان دریاؤں پر پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی حق نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود اس نے متعدد ڈیم بنا لیے ہیں ۔ موجودہ اور سابقہ حکومت نے اس معاملے میں مجرمانہ تساہل برتا ہے۔ دوسری طرف 1974 ء کے بعد پاکستان میں کوئی نیا ڈیم نہیں بنایا گیا اور ہم ہر سال لاکھوں ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں جانے دیتے ہیں اور بعد میں پانی اور بجلی کی کمی کے ہولناک نتائج بھگتے رہتے ہیں ۔ پیشتر اس کے کہ سارے کا سارا معاملہ ہمارے ہاتھ سے نکل جائے ،حکومت پاکستان اسی بجٹ میں نئے ڈیم پانی کے ذخیرے بنانے کے لیے فنڈ مختص کرے ، ہندوستان کے ساتھ مضبوط موقف اختیار کیا جائے تا کہ 1960ء کے سندھ طاس معاہدہ پر سختی سے عملدرآمد ہو ۔ پاکستان میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے 1991ء کے معاہدہ پرسختی سے عمل درآمد کیا جائے تاکہ صوبوں کے درمیان باہمی منافرت نہ پھیلے۔

 10-  آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے چنگل سے باہر نکالا جائے۔ اس سال اپنی ٹیکس نان ٹیکس آمدنی کا ہدف کم از کم اڑھائی کھرب رکھا جائے ۔ تمام افراد جن کی سالانہ آمدنی پانچ لاکھروپے اور اس سے زیادہ ہو وہ ٹیکس ادا کر یں ۔ اس معاملے میں کسی کو بھی چھوٹ نہ دی جائے اور جوں جوں یہ آمدنی بڑھتی چلی جائے تو پروگریسو انداز سے ٹیکس کا ریٹ بھی بڑھتا جائے تا کہ زیادہ آمدنی والا زیادہ ٹیکس ادا کرے اور کم آمدنی والا کم ٹیکس ادا کرے۔ انکم ٹیکس کی و ود ہولڈنگ ٹیکس کے ذریعے سے وصولی کی سختی سے حوصلہ شکنی کی جائے اور باقاعدہ خود تشخیص کا نظام اپنایا جائے جس کو بعد میں آڈٹ کے ذریعے سے چیک کیا جائے ۔ ریٹیل ٹریڈرز جن کی سالانہ گر اس سیل میں لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو، انہیں سیلز ٹیکس میں رجسٹر کیا جائے اور ہر خرید اور فروخت پر تحریری رسید کا جاری کرنا لازمی ٹھہرایا جائے۔ سیلز ٹیکس کا ریٹ کم کر کے نئے ٹیکس گزاروں کو رجسٹر کروانے کے لیے سہولت دی جائے۔ یہ ریٹ 10 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ وہ تمام اقدامات اٹھائے جائیں جس سے معیشت دستاویزی شکل اختیار کر لے اور اس کے لیے مسلسل مکالمے اور آگاہی کے ذریعے سے ٹیکس گزاروں میں اعتماد کی فضا پیدا کی جائے ۔ سٹاک ایکھینچ میں حصص کی فروخت، رئیل اسٹیٹ کیپٹل گین اور تعمیرات کی صنعت کے کاروبار کو فوری طور پر ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے ۔ حکومت کے خلاف عوام کی بد اعتمادی ٹیکس چوری / ٹیکس ادائیگی سے اجتناب کی بہت بڑی وجہ ہے ۔ حکومت کو اپنے کر پٹ ہونے کی شہرت کو ختم کرنا ہوگا اور عوامی فلاح و بہبود کو ترجیح اول بنانا ہوگا ۔ اس سال حکومت مذکورہ بالا اقدامات کے ذریعے سے کم از کم تیں لاکھ نئے ٹیکس گزاروں کا اضافہ کرے۔

11 –  برآمدات کے لیے 2012-2011 کے لیے تقریباً 25 ارب ڈالر اور درآمدات کے لیے تقریباً 39 ارب ڈالر کا ہدف تجویز کیا گیا ہے۔ یہ 14 ارب ڈالر کا تجارتی عدم توازن ملک کے لیے خطرے کا الارم ہے۔ ان دونوں کے درمیان یہ تفاوت کم از کم نصف کیا جائے۔ اس کے لیے ایک طرف برآمدات کو بڑھایا جائے اور دوسری طرف غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے ۔ برآمدات بڑھانے کے لیے [Textile Value Added] سیکٹر ، چمڑے کی مصنوعات کھیلوں کا سامان ، آلات سرجری، قیمتی پتھر ، جواہرات اور چاول پر خصوصی توجہ دی جائے۔ اسی طرح سے کمپیوٹر سافٹ ویئر کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

12-  ہندوستان اپنی طرف کے تھر صحرا سے کوئلے کو ڈیزل میں تبدیل کر کے اپنی %75 ضروریات پوری کر رہا ہے اور اطلاعات یہ ہیں کہ وہ زیر زمین ہمارے کوئلے کے ذخائر کو چوری کر رہا ہے۔ اس سال کے بجٹ میں تھر کے کو نکلے کو بجلی پیدا کرنے اور ڈیزل میں تبدیل کرنے کے لیے رقم مختص کی جائے تاکہ ہم بجلی کے بحران اور ڈیزل کی کمی کا مداوا کر سکیں ۔

13-  سینڈک اور ریڈ کو کے بلوچستان میں واقع زیر زمین قیمتی ذخائر کو اپنی ملک میں موجود صلاحیت کو استعمال کر کے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کو ملکی وسائل میں اضافے کے لیے استعمال کیا جائے اور بلوچستان کے لوگوں کو اس میں طے شدہ حصہ مقامی طور پر استعمال کرنے کا حق دیا جائے۔

 14-  امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی لائی ہوئی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اب تک پاکستان 60 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھا چکا ہے ۔ 5 ہزار سے زیادہ فوجیوں اور 30 ہزار سے زیادہ عام شہریوں کی شہادت کا پیسوں کی صورت میں تخمینہ لگانا ممکن نہیں ۔ ذلت اور رسوائی کے علاوہ 25 ارب ڈالر امریکہ نے عطا کیے ہیں ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان فوری طور پر اس نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے باہر آ جائے تو ہمارے معاشی حالات بہت بہتر ہو جائیں گے۔

 15-  افراط زر کی شرح 11-2010ء میں 15 سے بھی زیادہ رہی اور روزمرہ استعمال ہونے والی اشیاء میں %100 سے بھی زیادہ اضافہ ہوا۔ 2012-2011ء میں افراط زر کا ہدف %12 بتایا جارہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افراط زر کی شرح کو ہر حال میں ۱۰ یا زیادہ کے بجائے 10 سے کم رکھا جائے۔ ترکی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جہاں پر صرف میرٹ پر ایماندار لوگوں کو اہم ذمہ داریاں دینے اور کرپشن کو کنٹرول کرنے کے نتیجے میں افراط زرہ اسے کم ہو چکا ہے۔

16 –  کرپشن کو موثر طریقے سے کنٹرول کرنے کے لیے قومی احتساب کے ادارے کو دوبارہ سے منتظم کیا جائے اور اسے مکمل طور پر خود مختاری دی جائے۔ اس کے چیئر مین کا تقر ر حکومت چیف جسٹس سپریم کورٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے اتفاق رائے سے طے کمرے اور اس کے اندر تمام تقرریاں میرٹ پر کرنے کو یقینی بنایا جائے ۔ انتظامی اقدامات کے ذریعے اس ادارے کے معاملات میں مداخلت کا دروازہ بند کیا جائے اور ہر معاملہ مجاز عدالت کے ذریعے سے طے پائے۔

 17- حکومت کے لیے لازم ہے کہ وہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلوں پر من و عن عمل کرے بالخصوص جن کا تعلق کر پشن ، کک بیکس اور معاشی معاملات کے متعلق ہے۔ جن سیاستدانوں، کاروباری حضرات اور بیورو کر میں وغیرہ کے اثاثے کسی بھی صورت میں پاکستان سے باہر ہیں، جب تک وہ اپنے اثاثے قانون کے مطابق ملک میں واپس نہیں لاتے انہیں نہ تو یہاں کسی سرکاری یا سیاسی منصب حاصل کرنے ا قائم رہنے کی اجازت ہو اور نہ ہی یہاں کا روبار کرنے کی اجازت ہو۔

 18- تاجروں کے اتحاد [Cartels] معرض وجود میں آنے کے نتیجے میں ہر شعبے میں ایسے طاقتور گروپ پیدا ہو چکے ہیں جو اپنی مرضی کے مطابق متعلقہ حکومتی حلقوں اور سرکاری افسروں کی ملی بھگت سے قیمتوں میں اضافہ کر لیتے ہیں اور چند ہفتوں میں اربوں روپے کما لیتے ہیں اور سارا حکومتی نظام ان کے سامنے بے بس لگتا ہے۔ اس ضمن میں ماضی قریب میں آٹے کا بحران، چینی کا بحران وغیرہ جیسی واضح مثالیں موجود ہیں ۔ ایک طرف فوری طور پر مسابقتی کمیشن کو قانونی طور پر خود مختار بنانے کی ضرورت ہے اور دوسری طرف قانونی طور پر ایسا نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت روز مرہ کی اشیائے ضرور یہ مثلا دودھ ، آنا بھی، چینی، دالیں ، سبزیات اور پھل وغیرہ کی قیمتوں میں توازن برقرار رہے۔ اس پر عمل درآمد کروانے کا میکنزم بھی قائم کیا جائے ۔

 19-  مزدوروں کے لیے کم از کم ماہانہ تنخواہ 10000 روپے مقرر کی جائے اور اس کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ۔ مزدوروں کو بدنیتی سے قائم صنعتوں میں موجود ٹھیکیداری نظام کے ذریعے سے استحصال کا شکار ہونے سے بچایا جائے ۔ جو بھی وہاں کام کرے اس کی گریجوایٹی سوشل سیکورٹی اور اس کے اہل خانہ بچوں کی تعلیم اور طبی ضروریات پوری ہونے کا نظام وضع کیا جائے ۔

 20-  زراعت کے شعبے سے منسلک لیبر فورس بہت بُری طرح سے استحصال کا شکار ہے۔ ان کے لیے کوئی قانون موجود نہیں اور نہ ہی ان کے لیے کسی قسم کی سوشل سیکورٹی کا انتظام ہے۔ اس شعبے سے منسلک لیبر فورس کے لیے کم از کم تنخواہ اور سوشل سیکورٹی کے نظام کو بنانے کے لیےقانون سازی کی جائے۔

  – 21غیر پیداواری مقاصد اور قسطیں ادا کرنے کے لیے بینکوں کے قرض لینے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

 22- غیر سودی معیشت کو معرض وجود میں لانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں ۔ سب سے پہلے زرعی شعبے میں بیع سلم کا نظام اختیار کیا جائے۔ جس کے تحت قرض لینے والا کاشت کار قرض دینے والے بینک کو اپنی آنے والی فصل کا اسی وقت طے شدہ ریٹ اور مقدار طے کر لے گا جو کہ قرض دینے والا بینک قرض دی ہوئی رقم کے عوض فصل پکنے پر وصول کرے گا۔ اس طرح سے سود کی لعنت سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ یہی طریقہ کار، زراعت کے شعبے میں اس تجربے کی روشنی میں صنعتی سیکٹر میں بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ملک بھر میں حکومت اسلامی بنکاری اور مالیات کے نظام کی حوصلہ افزائی کے لیے واضح اقدامات اٹھائے۔

 23  -منفعت بخش اور حساس اداروں کی نجکاری بند کی جائے۔ اس ضمن میں نئی پالیسی مرتب کی جائے اور غیر ملکیوں کی شرکت کی حد اور ان کا کردار متعین کیا جائے۔ تا کہ ماضی کی ایسٹ انڈیا کمپنی کو نئے روپ میں اپنا کھیل کھیلنے سے روکا جا سکے۔

 – 24خسارے میں چلنے والے بڑے قومی ادارے مثلا سٹیل مل ، ریلویز اور پی آئی اے وغیرہ کی انتظامیہ کی تشکیل نو میرٹ پر کی جائے تاکہ یہ ادارے جو اس وقت سرکاری خزانے کا بوجھ بنے ہوئے ہیں دوبارہ سے نفع بخش بن سکیں ۔ ماضی میں یہ ادارے نفع بخش رہے ہیں۔

 – 25 درمیانی درجے کے کاروباری صنعتی اداروں [SMES] کی زیادہ سے زیادہ حوصلہ افزائی کی جائے اور مالیاتی اداروں کو ان کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنے کے لیے کہا جائے ۔ تاکہ ایک طرف ملک کے طول و عرض میں اس طرح کے ادارے قائم ہونے سے بے روزگاری پرقابو پایا جا سکے اور دوسرے پیداوار میں اضافہ اور علاقائی سطح پرمحرومیوں کا احساس ختم ہو۔

 26- بجلی کے بلوں میں آئے روز اضافہ سے عام صارف کے لیے زندگی گزارنا بہت مشکل ہو چکی ہے۔ 100 یونٹ تک ماہانہ بجلی خرچ کرنے والوں کو سبسڈی دی جائے اور اس کے بعد ریٹ درجہ بہ درجہ میں بڑھایا جائے ۔ مثال کے طور پر ایک سو سے لے کر 150 یونٹ تک ایک ریٹ ، 150 سے لے کر 200 یونٹ تک اس سے زیادہ ریٹ۔ اس نظام کے تحت زیادہ بجلی خرچ کرنے والا اپنی اسی حیثیت کے مطابق زیادہ بل ادا کرنے گا اور کم بجلی خرچ کرنے والا کم بل ادا کرے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »