افضل گورو کی شہادت: اثرات

۹ فروری ۲۰۱۳ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ۲۰۰۱ء کے بھارتی پارلیمنٹ پر حملہ کے ایک ملزم محمد افضل گورو کو نامکمل ثبوت کے باوجود تختہ دار پر چڑھا دیا گیا۔ افضل گورو کی لاش لواحقین کے حوالے کرنے کے بجائے جیل کے احاطے ہی میں دفن کر دی گئی۔ گویا بعد از شہادت بھی وہ قید میں ہیں! اس واقعہ کے فوراً بعد تحریر کردہ اس مضمون میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کی حقیقت، مقدمہ کا کھوکھلا پن، اس شہادت کا پس منظر، بھارتی عدلیہ میں انصاف کا خون اور عالمی ضمیر کےچبھتے سوالات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اور پاکستان کی حکومت پر قومی مقاصد اور مفادات کی روشنی میں حقیقی طور پر آزاد خارجہ پالیسی کی تشکیل پرزور دیا گیا ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب پاکستان میں امئی ۲۰۱۳ء کے قومی انتخابات قریب ہی تھے اور ضرورت تھی کہ قوم کوتحریک آزادی کشمیر کے موجودہ مرحلہ میں درپیش چیلنجوں سے باخبر اور ہوشیار رکھا جائے۔ (مرتب)
بات بہت واضح ہے۔ تاریخ کا لمحہ لمحہ گواہ ہے کہ مسئلہ آزادی، ایمان اور عزت کی حفاظت کا ہو یا ظلم واستبداد کے نظام سے نجات اور اعلیٰ مقاصد حیات کے حصول کا یہ بازی صرف ایک ہی طریقے سے سر کی جاسکتی ہے اور وہ عبارت مسلسل اور پیہم جدو جہد، ایثار اور قربانی سے۔ اس حیات آفریں عمل ہی کو شریعت نے جہاد کا نام دیا ہے اور اس کے مقاصد و اہداف، اصول و آداب اور قواعد وضوابط کار کا بھی پوری وضاحت سے تعین کر دیا ہے۔ یہ جدو جہد نیت اور سمت کی درستی کے ساتھ وقت ، جان اور مال ،غرض ہر چیز کی قربانی کا تقاضا کرتی ہے اور اگر اس جدو جہد میں نوبت جان کو جانِ آفریں کے سپرد کرنے کی آجائے تو اسے کامیابی کی معراج قرار دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح جان دینے والے کی موت کو عرف عام کی موت سے یہ کہ کر ممیز کر دیا گیا ہے کہ یہی اصل حیات ہے:
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَمْوَاتٌ بَلْ أَحْيَاء وَلَكِن لَّا تَشْعُرُونَ .
’’ اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا۔“
(البقرہ ۱۵۴:۲)
ایک اور پہلو اس مقام کو حاصل کرنے والوں کی زندگی کا یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کے لیے روشن مثال قائم کرتے ہیں، انسان کو موت کے خوف سے بے نیاز کرتے ہیں، زندگی کو ان مقاصد کے لیے قربان کرنے کا داعیہ پیدا کرتے ہیں جو محض ایک فرد نہیں بلکہ پوری اُمت اور تمام انسانوں کو زندگی کے اس مفہوم سے آشنا کرتے ہیں جس سے زندگی زندہ رہنے کے لائق بنتی ہے ( what makes life worth living)۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کا اظہار اس طرح کیا گیا ہے کہ
؎ شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے
آج ایک خاص طبقہ کچھ مخصوص بلکہ مذموم مقاصد کے لیے جہاد اور شہادت کو نا پسندیدہ الفاظ بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن چاند پر تھوکنے سے چاند کی روشنی اور پرکیف ٹھنڈک میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔ ہر دور میں شہادت کا ہر واقعہ ایمان کی تازگی اور حق اور صداقت کی جدو جہد کرنے والوں کے لیے مہمیز دینے کا ذریعہ رہا ہے۔ یہی وہ عمل ہے جس کے نتیجے میں بالآخر ظلم واستبداد کا ہر نظام سرنگوں ہوتا ہے اور آزادی، عزت، غلبہ حق اور عدل و انصاف کی صبح طلوع ہوتی ہے۔ تاریخ کے در و دیوار سے یہ گونج مسلسل سنائی دیتی ہے کہ ۔
یہ خون جو ہے مظلوموں کا، ضائع تو نہ جائے گا لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں، جو صرف بہاراں ہوتے ہیں
بھارتی غلبے اور استبداد کے خلاف جموں و کشمیر کے مسلمانوں کی جدو جہد ہمارے دور کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے۔ اس جدو جہد میں جو سعید روحیں جان کا نذرانہ پیش کرتی ہیں، وہ دراصل اُمید کا ایک چراغ روشن کرتی ہیں۔ بھارتی ظلم و استبداد کا نشانہ بننے والی ہر روح تاریکیوں کو چیلنج کرنے والے ایک چراغ کی مانند ہے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین مثال ۹ فروری ۲۰۱۳ء کو دہلی کی تہاڑ جیل میں ایک بے گناہ مجاہد محمدافضل گورو کو تختہ دار پر چڑھانے کے ظالمانہ اقدام کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے جس نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور اس کے عدالتی نظام کا اصل چہرہ ہی بے نقاب نہیں کیا، بلکہ عالمی قیادت کے اس مدعی ملک کی ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال بھی پوری دنیا کے سامنے پیش کر دی ہے۔ یہ اس کے سیاسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت اور اس کی کشمیر پالیسی کی نا کامی کی علامت ہے۔
شہادت کا پس منظر
اس امر میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ یہ اقدام ایک مکروہ سیاسی چال ہے اور تحریک آزادی کشمیر کو نہ صرف یہ کہ اس سے ان شاء اللہ کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس کے نتیجے میں اس جدو جہد کوہی جلا ملے گی اور نئی قوت میسر آئے گی ۔ ذرا تصور کیجیے کہ ایک مظلوم انسان جسے ایک سازش کے تحت دہشت گردی کے ایک واقعے میں ملوث کیا گیا، اسے تین بار عمرقید اور دو بار پھانسی کی سزادی گئی، جس کی (افسوس ہے کہ ) ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کھلے بندوں، قانون اور عدل کی بنیاد پر نہیں، علانیہ طور پر سیاسی وجوہ سے توثیق بھی فرما دی۔ وہ ۱۳ سال سے قید تنہائی میں تھا اور سات سال سے پھانسی کے تختے کا انتظار کر رہا تھا۔ اسے اور اس کی اہلیہ کو قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے اطلاع دیے بغیر اور آخری وقت میں بیوی اور بچے سے بھی ملنے سے محروم رکھ کر تختہ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ جموں و کشمیر میں کرفیو لگا دیا جاتا ہے اور اخبارات ، میڈیا، اور سیل فون تک کو خاموش کر دیا جاتا ہے، اس کے باوجود مظلوم مجاہد کی جبیں پر کوئی شکن نہیں آتی۔ وہ فجر کی نماز پڑھ کر پورے اعتماد کے ساتھ تختہ دار کی طرف شان استغنا کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔ اپنے خاندان اور تمام مسلمانوں کو پیغام دیتا ہے کہ اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے اس مقام کے لیے چنا۔ باقی میری طرف سے آپ اہلِ ایمان کو مبارک ہو کہ ہم سب سچائی اور حق کے ساتھ رہے اور حق و سچائی کی خاطر آخرت میں ہمارا اختتام ہو۔ اہل خانہ کو میری طرف سے گزارش ہے کہ میرے مرنے پر افسوس کے بجائے اس مقام کا احترام کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کا حامی و ناصر ہو، اللہ حافظ !“۔ یہ الفاظ کسی مجرم یا باطل سے دب جانے والے انسان کے نہیں ہو سکتے ۔ یہ خطاب صرف اہلِ خانہ سے نہیں، تمام اہلِ ایمان سے ہے جو دلوں میں نیا ولولہ پیدا کریں گے اور اس جدو جہد کونئی زندگی دیں گے۔ اس کا ایک ہلکا سا نظارہ ان واقعات میں بھی دیکھا جاسکتا ہے جو اس شہادت کے بعد رونما ہوئے۔ ایک طرف خائف سوپر پاور ہے اور دوسری طرف بے سروسامان عوام لیکن وہ ہر رکاوٹ کے باوجود احتجاج کر رہے ہیں۔ کرفیو ان کا راستہ نہیں روک سکتا اور گولی اور لاٹھی کی بوچھاڑ انھیں گھروں میں قید نہیں رکھ سکتی۔ بوڑھا سید علی شاہ گیلانی زیرحراست ہے لیکن اس کی آواز پر کشمیر کے مظلوم شہری ظالموں کے خلاف کمربستہ ہیں۔ دہلی تک میں مظاہرے ہوتے ہیں جن کی قیادت دہلی کالج کا وہی پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمٰن گیلانی کر رہا ہے جس پر اس مقدمے میں شریک جرم ہونے کا الزام تھا، اسے بھی افضل گورو کے ساتھ سزائے موت ملی تھی جو بعد میں سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دی اور اسے بے گناہ قرار دیا۔ وہ نہ صرف اس احتجاج کی قیادت کر رہا ہے بلکہ برملا شہادت دے رہا ہے کہ محمد افضل گورد بے گناہ تھا اور اسے صرف اس لیے پھانسی کے تختے پر چڑھایا گیا ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کا ایک مجاہد تھا اور اسے اس کے سیاسی خیالات کی وجہ سے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے۔ مظاہرے میں شریک ہر نو جوان یہ عہد کر رہا ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کو جاری رکھے گا۔ بلاشبہ افضل گورو کی شہادت سے اس تحریک کو ان شاء اللہ نیا ولولہ ملے گا۔
جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے، ۹ فروری کی شہادت کی خبر سارے کرفیو اور تمام پابندیوں کے باوجود جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ کرفیو کے علی الرغم عوامی احتجاج ہر و رونما ہوا اور قربانیوں اور شہادتوں کی نئی تاریخ رقم ہونے لگی۔ ہڑتالوں کا سلسلہ ان سطور کے لکھنے تک جاری ہے اور کشمیر ہی نہیں، دنیا بھر میں کشمیری نوجوان ، وہ بھی جو پہلے اس جدو جہد میں شریک نہیں تھے ، اب نئے جذبے کے ساتھ مزاحمت کی تحریک میں شرکت کے لیے بے تاب ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی نامہ نگار برمنگھم یونی ورسٹی کی ایم فل کی ایک طالبہ عارفہ غنی ان کے اس عزم کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کرتی ہے:
جب مقبول بٹ کو پھانسی دی گئی تو میں پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ جب میں نے اس کے بارے میں کچھ پڑھا تو پھر وہ ہمارا ہیرو ہو گیا ۔ گورو کی پھانسی کے بعد میں جس طرح محسوس کر رہی ہوں اس طرح کبھی بھی محسوس نہیں کیا۔ مگر ہم اپنے بڑوں کی طرح ہتھیار نہیں اُٹھا ئیں گے۔ ہم زیادہ ذہانت سے ردعمل دیں گے۔
یہ کیسی جمہوریت ہے اور یہ کیسی ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے جو مجاہدین کی لاشوں سے بھی خائف ہے اور جس نے نہ مقبول بٹ شہید کی لاش اس کے لواحقین کو دی اور نہ اب افضل گورو کی لاش دینے کے لیے تیار ہے؟ لندن کے اخبار دی گارڈین کے کالم نگار نے کس طنز سے لکھا ہے کہ:
یہ بات ضرور پوچھی جانی چاہیے کہ بھارتی ریاست کیا کہنے کی کوشش کر رہی تھی؟ یقینا ًاس کی وضاحت سادگی سے اس طرح نہیں کی جاسکتی تھی جیسا کہ بعض تجزیہ نگاروں نے کی ہے کہ یہ محض انتخابی سیاست کی مجبوریوں کا ایک مکروہ اظہار ہے۔ بلاشبہ یہ وہ عمل ہے جس میں بھارت کی سیاسی پارٹیاں اپنے حریفوں سے آگے بڑھنے کے لیے نئی اخلاقی پستیوں میں ڈوبنے کے لیے بے چین ہیں لیکن یہ اقدام در اصل کشمیری عوام کے لیے ایک پیغام ہے کہ ایک قابض طاقت بے اختیار عوام کو پوری گھن گرج کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ تمھیں لازماً تعظیماً جھکنا پڑے گا۔ اس مقدمے کے اثرات پھانسی کے تختے سے بہت آگے بھی جاسکتے ہیں۔ اس کا تاریک سامیہ ان کے بچوں کے لیے دودھ اور بزرگوں کے لیے دواؤں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ دولمحات تاریخ کا حصہ بنتے نظر آرہے ہیں۔ کشمیری، بھارت کی مزاحمت کی یاد میں گہری قبر کھود کر مقبرہ تعمیر کر رہے ہیں، اور بھارت بزدلانہ اعتراف کر رہا ہے کہ ایک کشمیری لاش بھی باغی ہو سکتی ہے، لہذا اسے جیل ہی میں ہمیشہ کے لیے مقید رہنا چاہیے۔
بھارتی قیادت کے عزائم اور اہل کشمیر کے لیے اس کا پیغام تو بہت واضح ہے۔ شہیدوں کی لاشوں تک سے ان کا خوف بھی الم نشرح ہے لیکن گارڈین کے مضمون نگار کا یہ خیال کہ جو قبریں سری نگر کے شہدا کے تاریخی قبرستان میں ان دو شہدا کے لیے بنائی گئی ہیں، وہ اپنے مکینوں کا انتظار کر رہی ہیں اور بس یادوں اور مزاحمتوں کا مقبرہ ہوں گی، شدید غلط فہی پربنی ہیں۔ یہ قبریں تحریک مزاحمت کی علامت اور آزادی کی نا تمام جدو جہد کا عنوان ہیں۔ یہ آزادی کے کارواں اور اس راہ میں مزید قربانیوں کے لیے ایک تکبیر مسلسل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس آرزو اور عزم کا اظہار بھی ہیں کہ ایک دن ان شاء اللہ جموں وکشمیر کے مسلمان بھارت کے قبضے اور استبدادی نظام سے نجات پائیں گے، اپنی آزاد مرضی سے اپنا مستقبل طے کریں گے اور پھر شہدا کی وہ لاشیں، جن سے آج وہ محروم کر دیے گئے ہیں، وہ انھیں حاصل کر سکیں گے اور وہ وقت دور نہیں جب یہ خالی قبریں اپنے اصل مکینوں کو خوش آمدید کہہ سکیں گی۔
بلاشبہ محمد افضل گورو کی شہادت کا واقعہ اس جدو جہد میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن اس پہلو کے ساتھ یہ واقعہ کئی اور حیثیتوں سے بھی بڑے غور و فکر کا مواد فراہم کر رہا ہے۔ ہم ان میں سے چند پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں تا کہ حالات کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھا جا سکے اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے صحیح پالیسیاں اور مناسب حکمت عملیاں تیار کی جاسکیں۔
ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال
بھارت نے پہلے دن سے کشمیر کو صرف قوت کے ذریعے اور بدترین سامراجی حربوں کے بے محابا استعمال کے بل بوتے پر اپنی گرفت میں رکھا ہوا ہے اور وہ ظلم و استبداد کے مکروہ سے مکروہ تر اقدام کا ارتکاب کر رہا ہے۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۱ء کی جنگ بندی تک اپنے قدم جمانے اور جنگ آزادی کو کچلنے کے لیے بھارتی اور ڈوگرہ افواج نے چار لاکھ افراد کا خون بہایا اور ۱۹۸۹ء سے رُونما ہونے والے تحریک آزادی کے دوسرے دور میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو شہید کیا جا چکا ہے۔ لاکھوں زخمی ہوئے ہیں، ہزاروں لاپتا ہیں، ہزاروں جیلوں میں سڑرہے ہیں اور خاص و عام آبادی کے انسانی حقوق کو پوری بے دردی کے ساتھ پامال کیا جارہا ہے۔ پاک باز خواتین کی آبروریزی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہے اور جنسی زیادتی کو ایک جنگی حربے (Military strategy) کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔ جموں و کشمیر میں ے لاکھ سے زیادہ بھارتی فوجی ظلم کی یہ داستان رقم کر رہے ہیں اور ان کو ایک مہذب معاشرے کے ہر قانون سے، حتیٰ کہ جنگی قانون تک سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ Armed Forces Special Powers Act جنگل کا ایک ایسا قانون ہے جس نے بھارتی فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کو دستور، قانون، جنگی قواعد وضوابط اور سماجی روایات، ہر ضابطے اور قاعدے سے آزاد کر دیا ہے۔ جموں وکشمیر میں جوخونی کھیل کھیلا جارہا ہے اسے تمام دنیا کے میڈ یا اور عالمی مبصرین کے لیے نوگو ایریا بنادیا گیا ہے تا کہ دنیا اس سے بے خبر رہے جو کچھ مجبوروں کی اس بستی میں کیا جارہا ہے۔ اس پس منظر میں محمد افضل گورو کی گرفتاری کا مقدمہ، اس کی قید تنہائی، اس پر تعذیب کی دل خراش داستان، اس کی سزاء اس کی رحم کی درخواستوں پر کیا جانے والا معاملہ، اس کی پھانسی، پھانسی کی اطلاع سے خود اس کو اور اس کے اہل خانہ تک کو بے خبر رکھنا، اس کی میت سے بھی اس کے خاندان کو محروم رکھنا، اس کی پھانسی کی خبر تک کا گلا گھونٹنے کی کوشش یہ سب کشمیر کی حقیقی صورت حال کا ایک آئینہ ہے جس میں بھارت کے سیاسی اور عدالتی نظام کا اصل چہرہ بھی دیکھا جاسکتا ہے اور جسے اب دنیا سے چھپانے کی کوئی تدبیر کا میاب نہیں ہوسکتی ۔ بھارت کے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے تمام دعووں کی قلعی صرف اس ایک واقعے کے ذریعے کھل جاتی ہے۔ کس طرح ہر سطح پر اور ہر ہر قدم پر دستور، قانون، سیاسی آداب اور مسلّمہ اخلاقی اصول وضوابط کو پامال کیا جاتا ہے اور کس ڈھٹائی سے انصاف کا خون کر کے ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال قائم کی گئی ہے۔ اس کیس کے حقائق کو ان کی اصل ترتیب میں دیکھنے سے بھارت کی سیاست اور عدل وانصاف کی زبوں حالی کی مکمل تصویر سامنے آجاتی ہے۔
بد نام زمانہ نائن الیون کے دوہی مہینے کے بعد دسمبر ۲۰۰۱ ء دہلی میں پارلیمنٹ پر حملے کا واقعہ رونما ہوتا ہے جس کے پانچوں کردار کچھ دوسرے افراد کے ساتھ موت کے گھاٹ اُتار دیے جاتے ہیں اور کسی کو بھی کوئی ثبوت اس کا نہیں مل سکا کہ حملہ کرنے والے کون تھے اور ان کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا۔ اس وقت کے وزیرداخلہ ایل کے ایڈوانی کا یہ ارشاد سارے ڈرامے کا عنوان بنا کہ شکل وصورت سے حملہ آور پاکستانی معلوم ہوتے ہیں۔
دو دن کے اندر دہلی کے تین افراد، جن میں پروفیسر عبدالرحمٰن گیلانی کو مرکزی شخصیت (Master mind) قرار دیا جاتا ہے، گرفتار کر لیے جاتے ہیں اور بظاہر ان کی دی ہوئی معلومات کی بنیاد پرمحمد افضل گورو اوران کی اہلیہ کو شامل تفتیش کیا جاتا ہے اور افضل گورو کے ایک ایسے بیان کی بنیاد پر جو تشدد اور تعذیب کے ذریعے لیا گیا تھا اور جس سے افضل گورو نے عدالت میں صاف انکار کیا ، ان کا پاکستان سے رشتہ جوڑا گیا اور ایک لیپ ٹاپ اور سیل فون کا ڈراما رچایا گیا جن کا ڈھونگ ہونا مقدمے کے دوران ہی ثابت ہو گیا۔
محمد افضل گورو کی ابتدائی تعلیم کشمیر میں اسلامی ٹرسٹ کے ایک اسکول میں ہوئی۔ پھر اس نے میڈیکل کالج میں داخلہ لیا جسے جاری نہ رکھ سکا۔ بھارتی افواج کے مظالم اور خصوصیت سے مسلمان خواتین سے زیادتی نے اسے کشمیر کی آزادی کی تحریک میں شرکت پر مجبور کیا۔ جے کے ایل ایف سے اس نے وابستگی اختیار کی، پاکستان بھی آیا مگر یہاں سے مایوس ہو کر واپس چلا گیا اور بھارتی افواج اور ایجنسیوں کے آگے سرنڈر کا مرتکب ہوا اور پھر ان کے ہتھے چڑھ گیا۔ انھوں نے بار بارا سے ذلیل و خوار کیا، تشدد کا نشانہ بنایا، اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی اور عدم تعاون پر بدترین تعذیب سے نوازا۔ اس اثنا میں اس نے ایم بی اے کیا ، شادی کی، غیر سیاسی زندگی اختیار کرنے کی کوشش کی مگر جو ایک بار بھارتی ایجنسیوں کے ہتھے چڑھ گیا وہ ان کی گرفت سے کیسے نکل سکتا ہے۔ دسمبر ۲۰۰۱ء کے واقعے میں بھی اسے انہی ایجنسیوں نے ملوث کرنے کی کوشش کی اور اس کی پوری تفصیل افضل گورو نے عدالت کے سامنے حلفیہ پیش کی مگر بے سود۔ آخر انھیں کسی نہ کسی کی تو قربانی کا بکرا بنانا تھا اور انھوں نے پوری بے دردی اور بے شرمی سے محمد افضل گورو کو اس کی بھینٹ چڑھا دیا۔
مقدمے کے دوران اسے قید تنہائی میں رکھا گیا تفتیش کے دور میں اسے بدترین تعذیب کا نشانہ بنایا گیا۔ مقدمے میں اسے اپنا وکیل تک نہیں کرنے دیا گیا۔ ایک دوسرے درجے کے وکیل کو سرکار نے مقرر کیا جس نے افضل گورو سے کبھی ملاقات نہ کی اور دفاع کے بجائے عملا ًسرکار کے وکیل کا کردار ادا کیا۔ جن دوسرے افراد کو اس جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا تھا اعلیٰ عدالت کی سطح پر کوئی شہادت اور ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے ان کی سزاؤں کو ختم کر دیا گیا لیکن افضل گورو کوسزاد یا ان کی سیاسی ضرورت بن گئی اور اس طرح وہ سیاسی انتقام در اصل سیاسی دہشت گردی کا ہدف بن گیا۔
انصاف کا خون
یہ ستم ظریفی بھی قابل غور ہے کہ جس اصل نام نہاد ماسٹر مائنڈ ، یعنی پروفیسر عبدالرحمٰن گیلانی کو محمد افضل تک رسائی کا ذریعہ ظاہر کیا گیا تھا، وہ تو اعلیٰ عدالت کے حکم سے بے گناہ ثابت ہوئے اور جوان کے لیے بھی ایک بالواسطہ ذریعہ قرار دیا گیا تھا وہ اصل مجرم بن گیا اور سولی پر چڑھا دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں تین باتوں کا صاف الفاظ میں اعتراف کیا ہے:
ا ۔اس کیس میں محمد افضل گورو کے ملوث ہونے کا کوئی واقعاتی یا شہادت پر منی ثبوت موجود نہیں۔
۲۔ کسی دہشت گرد تنظیم سے کسی سطح پر بھی محمد افضل گورو کا کوئی با قاعدہ تعلق ثابت نہیں ۔
۳۔جو بالواسطہ مواد پولیس یا تفتیشی عملے نے دیا ہے اس میں شفافیت نہیں بلکہ وہ تہ در تہ تضادات سے بھرا پڑا ہے، مثلاً پروفیسر عبدالرحمٰن گیلانی کے بارے میں کہا گیا کہ ان کے ذریعے محمد افضل گورو کو محمد افضل گورو کو عبدالر حمٰن گیلانی کی گرفتاری سے پہلے ہی سری نگر میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جس لیپ ٹاپ کا ذکر ہے وہ محفوظ (Protected) نہیں تھا اور ایسی شہادت جو محفوظ نہ ہو قابل قبول نہیں ہوتی۔ نیز جو معلومات اس پر تھیں وہ خود یہ ظاہر کرتی تھیں کہ کمپیوٹر سے بہت سی معلومات نکال دی گئی ہیں اور جو معلومات باقی ہیں، ان میں ہیر پھیر کر دیا گیا ہے۔ سیل فون کے بارے میں سم کے حاصل کرنے کی جو تاریخ دی گئی ہے، وہ بے معنی ہے اس لیے کہ وہ ہم اس تاریخ سے کم از کم تین ہفتے پہلے سے کسی کے زیر استعمال تھی اور بدیہی طور پر یہ حمد افضل گورو نہیں تھا۔ یہ صرف چند مثالیں ہیں، ورنہ کیس میں کسی سطح پر بھی کوئی جان نہیں تھی۔
ان اتمام حقائق کو تسلیم کرنے کے بعد عدالت عالیہ نے جس بنیاد پر موت کی سزا کی توثیق کی ہے وہ عدل کی تاریخ میں ایک عجوبہ اور بھارت کے عدالتی نظام کے چہرے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔ سپریم کورٹ ہی کے الفاظ میں عدل کے قتل اور قانونی دہشت گردی پر مبنی اس فیصلے کو ملاحظہ فرمائیں:
افضل گوروان دہشت گردوں میں سے نہیں تھا جنھوں نے ۱۳ دسمبر ۲۰۰۱ء کو پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کیا۔ وہ ان لوگوں میں سے بھی نہ تھا جنھوں نے سکیورٹی اہل کاروں پر گولی چلائی اور چھے میں سے تین کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ جیسا کہ بیش تر سازشوں کے ساتھ ہوتا ہے، یہاں بھی کوئی ایسی براه راست شہادت نہ ملی ہے اور نہ مل سکتی ہے جسے مجرمانہ سازش قرار دیا جا سکے۔ اس واقعے نے جس میں ایک تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے پوری قوم کو ہلا دیا ہے اور معاشرے کا اجتماعی ضمیر اسی صورت میں مطمئن ہو سکتا ہے کہ مجرم کو سزاے موت دی جائے ۔
یعنی ایک شخص کو صرف اس لیے سولی پر چڑھا دو تا کہ اس سے جس نے کو سوسائٹی کا اجتماعی ضمیر کہا جا رہا ہے اس کی تسکین ہو سکے۔ عدل و انصاف کے قتل کی اس سے زیادہ قبیح اور اندوہناک صورت کیا ہوسکتی ہے؟ پھر یہی نہیں، قانونی اور دستوری نقطہ نظر سے دستور اور قانون کے مسلمہ اصولوں اور خود بھارت کی عدالت عالیہ کے ایک درجن سے زیادہ فیصلوں کی بھی اس مقدمے اور سزا میں کھلی خلاف ورزی کی گئی ہے۔
ہندوستان کے صدر مملکت کو اگست ۲۰۰۵ء کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد خاندان کی طرف سے دستور کی دفعہ ۷۲ کے تحت رحم کی اپیل کی گئی جسے بھارت کے دوصدور نے مسترد کرنا صحیح نہ سمجھا اور حکومت کو غور کے لیے بھیجا۔ حکومت نے خاموشی اختیار کی ۔۲۰۱۳ء میں تیسری بار ایوانِ صدر سے درخواست کو وزارت داخلہ کو بھیجا گیا اور موجودہ وزیر داخلہ نے اسے رد کرنے کی سفارش کی جس پر صدر نے صاد کر دیا اور اس طرح رحم کی اپیل رد ہو گئی اور پھانسی کے لیے زمین ہموار کی گئی، حالانکہ قتل کے دسیوں مقدمات میں رحم کی اپیلیں مدت دراز سے زیر غور ہیں اور اس طرح پھانسی کی سزا عملاً ایک طرح کی عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ راجیو گاندھی کے تینوں قاتل بھی آج تک رحم کی اپیل کے التواہی کی بنیاد پر زندہ ہیں اور اس کو ۲۱ سال گزر چکے ہیں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رحم کی اپیل کے سلسلے میں طے شدہ ضابطہ یہ ہے کہ دستور کی دفعہ ۷۲ کے تحت رحم کی اپیل کے منظور کیے جانے یارد کیے جانے کی سفارش مرکزی کا بینہ کرتی ہے، مگر افضل گورو کے معاملے میں وزارتِ داخلہ نے کابینہ سے رجوع کیے بغیر اپیل رد کرنے کی سفارش کی جسے صدر نے قبول کرلیا جو خود قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
پھر سب سے زیادہ نقصان دہ الزام (Damaging indictment) وہ ہے جو بھارت کی سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ اور ایک سابق سالیسٹر جنرل ٹی آراند ودھیا رو جنا نے اپنے مضمون An Execution Most Foul (بہت غلط پھانسی ) میں کیا ہے جو بھارت کے روز نامہ دی ہندو میں ۱۹ فروری ۲۰۱۳ ء کی اشاعت میں شائع ہوا ہے۔ اس میں اس نے بڑے اہم قانونی نکات اٹھائے ہیں جن کی روشنی میں افضل گورو کی پھانسی ایک مجرمانہ فعل (Criminal offence) بن گیا ہے۔ بھارت کی حکومت نہ صرف سیاسی شعبدے بازی کی مرتکب قرار پاتی ہے بلکہ اس نے عدالت عالیہ کے فیصلوں کی بھی خلاف ورزی کی ہے اور سب سے بڑھ کر تو ہین عدالت تک کی مرتکب ہوئی ہے کیوں کہ افضل گورو کا معاملہ ایک دوسرے مقدمے میں عدالت عالیہ کے سامنے زیر غور تھا اور اس معاملے کے فیصلے کے اعلان کیے جانے سے پہلے ہی افضل گورو کو پھانسی دے دی گئی:
۹فروری کو افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کا ایک غیر انسانی فعل تھا۔ افضل گورو کوم را گست ۲۰۰۵ء کو سپریم کورٹ کی طرف سے سزائے موت کے فیصلے کے سات سال بعد اور صدر بھارت کو نومبر ۲۰۰۶ء کودی گئی رحم کی اپیل کے چھے سے زیادہ سال بعد پھانسی دی گئی۔ اس عرصے میں اُس نے اور اس کے اہل خانہ نے اس کی قسمت کے بارے میں ہر دن تکلیف و پریشانی میں گزارا۔ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس کی تمام مہذب ممالک اور ہماری سپریم کورٹ بھی مذمت کرتی ہے۔ صدر بھارت کی طرف سے اس کی رحم کی درخواست کو چھے سال کے بعد فروری ۲۰۱۳ء کو مسترد کیا گیا ہے جسے اراد تا ًخفیہ رکھا گیا اور اس کے اہل خانہ کو بھی اطلاع نہیں دی گئی کہ کہیں یہ عدالتی درخواست کی بنیاد نہ بن جائے ۔ ۹فروری ۲۰۱۳ء کو اس کے اہل خانہ کو بتائے بغیر خفیہ طور پر اسے پھانسی دی گئی اور اتنی ہی خفیہ طور پر تہاڑ جیل نئی دہلی میں ایک قبر میں اسے دفن کر دیا گیا۔
۱۹۸۳ء میں شیر سنگھ بمقابلہ ریاست پنجاب کے مقدمے میں عدالت نے انہی باتوں کو دہرایا جو ایک اور مقدمہ ترکی وینی بن بمقابلہ ریاست گجرات میں وسیع تر دستوری بینچ نے طے کرنا چاہا، اور سپریم کورٹ نے دوبارہ انھیں دہرایا کہ پھانسی دینے میں تاخیر غیر منصفانہ اور غیر معقول ہوگی۔ عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ رحم کی اپیلوں کے فیصلوں میں پوری دنیا میں یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ متعلقہ شخص ایک ذہنی ٹارچر میں جتلا رہتا ہے بلالحاظ اس کے کہ اس کے ساتھ کوئی جسمانی بد سلوکی نہیں کی جاتی۔ اس لیے رحم کی اپیل کے استرداد کی اطلاع دینا لازمی تھا۔ جگدیش بمقابلہ ریاست مدھیہ پردیش مقدمہ ۲۰۱۲ء سپریم کورٹ نے نہ صرف ملزم کی اس اذیت کو نمایاں کیا جو اسے سزا ملنے میں تاخیر سے ہوتی ہے بلکہ اس تکلیف اور اذیت کو بھی جو اس کے قریبی رشتے داروں کو ہوتی ہے۔ ۱۹۹۴ء میں پریوی کونسل نے بھارتی سپریم کورٹ کی رائے کو درست قرار دیا اور اپنے فیصلے کے ایک پُر تاثیر حصے میں لکھا کہ پھانسی پانے کے احکامات کے خلاف ایک جبلی کراہت ہوتی ہے۔ یہ جبلی کراہت کسی وجہ سے ہوتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ ہم اس کو غیر انسانی فعل قرار دیتے ہیں کہ ایک آدمی کو پھانسی کی اذیت میں طویل عرصے تک رکھا جائے۔ کئی برس تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد ان لوگوں کو پھانسی دینا ایک غیر انسانی سزا ہوگی۔ یورپی یونین کی انسانی حقوق کی عدالت نے ۱۹۸۹ء میں اور کینیڈا کی سپریم کورٹ نے بھی یہی موقف اختیار کیا۔ افضل گورو کو پھانسی دینے میں حکومت نے جان بوجھ کر سپریم کورٹ کے موقف کو نظر انداز کیا اور دوسری عدالتوں کے موقف کو بھی۔
ایک زیر التوا مقدمہ خود افضل گورو کا تھا۔ عدالت نے مجھے اپنا مشیر مقر رکیا تا کہ غیر معمولی تاخیر کے بعد مزا دینے کے مسئلے کو صحیح پس منظر میں دیکھا جائے۔ عدالت کے سامنے میں نے اپنے دلائل دیتے ہوئے خاص طور پر افضل گورو مقدمے کے حقائق کا حوالہ دیا۔ سماعت ۱۹ سا پریل ۲۰۱۲ء کوختم ہوگئی ۔ عدالت نے فیصلہ محفوظ رکھا (جس کا ان سطور کے تحریر کیے جانے تک اعلان نہیں ہوا ہے )۔ حکومت اس بات سے پوری طرح آگاہ تھی کہ مجرموں کی پھانسی کی سزا میں طویل تاخیر کا مسئلہ قانونی طور پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ حکومت کے لیے لازم تھا کہ زیر التوا فیصلوں پر سپریم کورٹ کے مستند فیصلے کا انتظار کرتی۔ لیکن حکومت نے ۹ فروری کو افضل گورو کو پھانسی کی سزا دے دی۔ افضل گورو کی پھانسی بھارتی حکومت کے سزائے موت کے کیسے ہوئے فیصلوں میں سب سے زیادہ بے رحمانہ فیصلہ سمجھا جائے گا۔
اس مضمون میں اُٹھائے گئے سوالات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایک طرف عدالت عالیہ کا موت کا فیصلہ ہی کسی قانونی جواز کے بغیر تھا۔ یہ فیصلہ محض سیاسی وجوہ سے سوسائٹی کے اجتماعی ضمیر کا سہارا لے کر دیا گیا تھا لیکن اس کے علاوہ بھی کم از کم مندرجہ ذیل شکلوں میں دستور اور قانون کی دھجیاں بکھیر دی گئیں:
۱- چھے سال تک رحم کی اپیل کو لٹکانا انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضوں سے متصادم تھا اور ایسی صورت میں موت کی سزا کا ساقط کیا جانا قانون اور انصاف سے اقرب ہے جس پر بھارتی سپریم کورٹ تک کی متعدد آبزرویشن موجود ہیں ۔
۲۔رحم کی اپیل کے فیصلے میں تاخیر کے خلاف انصاف ہونے کا مسئلہ بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ مقدمے کی سماعت مکمل ہو گئی تھی اور اس مقدمے میں افضل گورو کا کیس بھی شامل تھا۔ مقدمے کا فیصلہ ابھی آنا تھا جس میں اس کا امکان بھی تھا کہ کیس کے تمام متعلقہ افراد کی موت کی سزا کوختم کیا جا سکتا تھا۔ فیصلہ آنے سے پہلے افضل گورو کو پھانسی دینا غیر قانونی فعل تھا اور اس طرح کا ایک اقدام قتل بن جاتا ہے۔
۳۔اگر رحم کی اپیل رد کر دی گئی تھی جب بھی یہ سزا پانے والے کا حق تھا کہ اسے اپیل کے رد کیے جانے کی اطلاع بر وقت دی جاتی۔ اس لیے کہ سپریم کورٹ کے بار بار کے فیصلے موجود ہیں کہ دستور کی دفعہ ۷۲ کے تحت موت کی سزا کے بارے میں رحم کی اپیل رد کرنے کے صدارتی فیصلے پر عدالتی محاکمہ (Judicial Review ) ممکن ہے اور اس طرح رحم کی اپیل رد ہونے کے بعد بھی افضل گورو کی اہلیہ کو یہ حق تھا کہ عدالت سے ایک بار پھر رجوع کرے اور اپیل کے رد کیے جانے کے مبنی برحق و قانون ہونے کے بارے میں عدالت کی رائے حاصل کرے لیکن اپیل رد کیے جانے کے بعد افضل گورو اور اس کے اہل خانہ کو بروقت اطلاع تک نہ دی گئی اور انھیں اپنے اس حق سے محروم کر دیا گیا کہ وہ عدالتی اپیل کر سکیں۔ یہ ملک کے دستور اور قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔
اس طرح افضل گورو کو پھانسی کی شکل ہی میں ایک بار نہیں، چار بار عدل و انصاف کا خون ہوا اور بھارت کے جمہوری نظام ہی نہیں، پورے عدالتی نظام کے کھو کھلے ہونے اور کا تماشا تمام دنیا نے دیکھ لیا۔ نیز یہ بھی ثابت ہو گیا کہ اس ملک میں انصاف خاص لوگوں کے لیے (Selective) اور امتیازی (Discriminatory) ہے اور انصاف اور قانون کو سیاست اور مصلحت کے تابع کر دیا گیا ہے۔ کیا ایسے نظام کو دستوری اور جمہوری نظام کہا جا سکتا ہے؟ دیکھیے بھارت اور عالمی سطح پر انصاف کے اس اسقاط (Miscarriage of justice) کا کیسے اعتراف کیا جارہا ہے۔
عالمی ضمیر کے چبھتے سوال
بھارت کی مشہور ادیبہ اور سماجی کارکن ارون دھتی رائے اپنے دو مضامین میں جولندن کے اخبار دی گارڈین میں شائع ہوئے ہیں، افضل گورو کی پھانسی کے آئینے میں بھارت کا اصل چہرہ پیش کرتی ہیں۔ پہلامضمون ۰ افروری کو شائع ہوا ہے اور دوسرا ۱۸ فروری کو ۔ گو دونوں مضامین اہم ہیں لیکن ہم یہاں
۱۰ فروری کے مضمون سے اقتباس پیش کر رہے ہیں:
۲۰۰۱ء کے پارلیمنٹ کے حملے کے ملزم افضل گورو کو صبح خلیہ طور پر پھانسی دی گئی اور اس کے جسم کو تہاڑ جیل میں دفن کر دیا گیا۔ جہاں وہ بارہ سال سے قید تنہائی میں تھا۔ افضل گورو کی اہلیہ اور اس کے بیٹے کو اطلاع نہ دی گئی …
اتحاد کے ایک شاز لمحے میں قوم، یا کم از کم اس کی بڑی سیاسی جماعتیں کانگریس، بی جے پی، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) قانون کی بالا دستی کا جشن منانے کے لیے اکٹھی ہو گئیں، سوائے ان چند کمزور آوازوں کے جو پھانسی میں ’’تاخیر‘‘ اور ’’وقت‘‘ کے حوالے سے اختلاف کر رہی تھیں۔ ٹی وی اسٹوڈیوز سے براہ راست نشریات جس میں وہی معمول کے مذہبی جذبے اور حقائق پر نازک گرفت کے ساتھ ’’جمہوریت کی فتح ‘‘کے مظاہر عیاں تھے ۔ دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور گورو کی پھانسی کا جشن منایا اور ان کشمیری مرد و خواتین کی پٹائی کی جو دہلی میں احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔
حیف کہ ایک آدمی جو مر چکا تھا اور اس دنیا سے جا چکا تھا لیکن پھر بھی وہ ان کے حواس پر سوار تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بزدلوں کی طرح انھیں اپنے حوصلے کو قائم رکھنے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت تھی۔ کیا یہ سب اس کا غماز نہیں کہ وہ بخوبی اپنے دل میں اس بات کو جانتے تھے کہ وہ لوگ ایک انتہائی غلط کام میں تعاون کر رہے تھے
وہ سینئر صحافی جو بہتر طور پر جانتے ہوں گے کہ ان کے بتائے ہوئے جھوٹے بیانات کے برعکس افضل گوروان دہشت گردوں میں شامل نہیں تھا جنھوں نے ۱۳ دسمبر ۲۰۰۱ء کو پارلیمنٹ پر حملہ کیا تھا اور جنھوں نے سکیورٹی اہل کاروں پر گولی چلائی تھی جس میں چھے ہلاک ہونے والوں میں سے تین کو اس نے گولی ماری ( یہ بات بی جے پی کے راجیہ سبھا کے ایم پی چندن مترا نے ۷ اکتوبر ۲۰۰۶ء کے دی پانیر میں کہی) حتی ٰکہ پولیس کی چارج شیٹ بھی اس پر یہ الزام نہیں لگاتی ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ شہادتیں صرف قرائن پر ہیں۔ اس طرح کی سازشوں میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ مجرمانہ سازش کے لیے کوئی براہ راست ثبوت فراہم نہیں ہوتا۔ آگے چل کر کہا گیا ہے کہ اس واقعے نے جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں اموات ہوئیں، پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور معاشرے کا اجتماعی ضمیر اسی صورت میں مطمئن ہوگا، جب کہ مجرم کو سزائے موت دی جائے۔ پارلیمنٹ پر حملے کے مقدمے میں کس نے اجتماعی ضمیر کو بنایا؟ کیا یہ صرف اخبارات کی خبریں ہیں؟ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ہم نے یہ حقائق اخبارات سے اخذ کیے یا ان فلموں سے جو ہم ٹی وی پر دیکھتے تھے ؟
پھر اس کا ایک پس منظر ہے۔ دوسرے بہت سے ہتھیار ڈالنے والے جنگ جوؤں کی طرح افضل گورو کے ساتھ کشمیر میں تعذیب، بلیک میل یا استحصال کرنا آسان تھا۔ وسیع تر اسکیم میں وہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا تھا۔ اگر کوئی پارلیمنٹ کے حملے کے راز کو واقعی حل کرانے میں دل چسپی رکھتا تھا تو اس کے لیے شہادتوں کی بڑی تعداد ایک سراغ کی طرح تھی جس کی پیروی کی ضرورت تھی ، یہ کسی نے نہ کیا۔ اس طرح یہ یقینی ہو گیا کہ سازش کے اصل کردار شناخت نہ کیے جاسکیں گے اور ان کے خلاف تفتیش بھی نہیں ہوگی ۔ اب، جب کہ افضل گورو کو پھانسی دی جا چکی ہے، مجھے امید ہے کہ ہمارا اجتماعی ضمیر مطمئن ہو چکا ہے یا ہمارے اجتماعی ضمیر کا پیالہ ابھی تک خون سے صرف آدھا ہی بھرا ہے؟
بھارت کے روز نامہ دی ہندو نے افضل گورو کی پھانسی کو انصاف نہیں انتقام قرار دیا ہے۔ ادارتی کالم میں، افروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں کہا گیا ہے کہ:
آٹھ سال گزرنے کے بعد سپریم کورٹ نے محمد افضل گورو کو ۲۰۰ء کے پارلیمنٹ پر حملے کے کردار کی بنیاد پر حیرت انگیز طور پر یہ کہاکہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر کو صرف اسی صورت میں مطمئن کیا جا سکتا ہے کہ ملزموں کو سزائے موت دی جائے ، پھانسی کی سزادی۔ گورو کو اس ہولناک رسم کی ادائیگی کے لیے ہفتے کی صبح پھانسی کے تختے تک لے جایا گیا جو حکومتیں وقتا فوقتا روایتی دیوتاؤں کے غیظ و غضب کی تسکین کے لیے ادا کرتی ہیں اور آج یہ دیوتا انتقام کے طالب عوام بن گئے ہیں۔ اس وحشت ناک اور خفیہ حرکت کے نتیجے میں بھارت کا قد دُنیا میں بہت زیادہ چھوٹا کر دیا گیا ہے۔ اس سزا کی وجوہات صرف وہ نہیں جو بظاہر نظر آتی ہیں بشمول اس کے کہ گورو پارلیمنٹ پر حملے میں ایک بالکل معمولی سا کردار تھا جس کا مقدمہ ضابطے کی خلاف ورزیوں اور جو ہری اہمیت کی حامل غلطیوں کی وجہ سے خراب ہو گیا ہو۔ سزائے موت کے لیے دیے جانے والے دلائل کا ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے جائزہ لیا اور ان کو معیار سے کم تر پایا۔ لیکن ایک دلیل جس کا کھل کر جائزہ نہیں لیا گیا )اور جو فیصلہ کن دلیل بنی) وہ وہی تھی جس کی بنا پر گورو اور دیگر بھارتی شہریوں کو تختہ دار پر لے جایا جاتا ہے اور وہ ہے مصلحت ۔ گویا پھانسی کی سزا کو ترجیح دیے جانے کے سوال کے جواب کا تعلق بڑی حد تک مصلحت سے ہے، اور انصاف سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
بھارت کا سب سے سنجیدہ رسالہ اکانومک اینڈ پولیٹیکل دیکھی ہے، جو اپنے ۲۳ فروری ۲۰۱۳ء کے شمارے میں ادارتی کالم میں افضل گورو کی پھانسی کو انصاف کا خون اور بھارتی حکومت کے دامن پر بدنما دهبا قرار دیتا ہے۔ پھانسی کے فیصلے، پھانسی دیے جانے کے ڈرامے اور پھانسی کے بعد جس طرح حالات کو سیاسی مصلحتوں کا کھیل بنایا گیا، اس پر مؤثر احتساب کرتا ہے:
فروری کی صبح افضل گورو کی پھانسی موجودہ حکومت کے خراب ٹریک ریکارڈ پر شاید تاریک ترین دبھہ ہے۔ افضل گورو کا قتل غیر قانونی اور ملکی قوانین کی رُو سے رُسوا کن تھا۔ افضل گورو کی ہلاکت غیر قانونی ہے اور اس جمہوری حکومت کے قوانین کے لیے بھی رُسوا کن ہے۔ صدر سے رحم کی اپیل کے مسترد ہونے کو خفیہ رکھا گیا، اس کے خاندان اور وکلا کو آگاہ نہ کیا گیا اور ایک مجرم کی حیثیت سے اسے جو حقوق حاصل تھے انھیں استعمال کرنے کی اجازت نہ دی گئی ، رحم کی اپیل مسترد ہونے پر اپیل کا حق نہ دیا گیا، اپنے اہلِ خانہ سے ملنے نہ دیا گیا اور آخری خواہش کے اظہار کا موقع بھی نہ دیا گیا۔ حکومت نے حیران کن مکارانہ اقدام کے تحت اس کی پھانسی کی اطلاع سپیڈ پوسٹ کے ذریعے اس طرح سے دی کہ وہ اس کے خاندان کو پھانسی کے بعد اس وقت ملے جب وہ ٹیلی ویژن پر اس کی خبر سن چکے ہوں۔ یہ محض ہیومن رائٹس کے علم بردار ہی نہیں بلکہ گوپال سبر امینم ، سرکاری وکیل جس نے گورو کے خلاف مقدمہ لڑا ، کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق اور قانون کی بالا دستی کے حوالے سے یہ حکومت کی بہت بڑی فروگزاشت ہے۔
گورو کی پھانسی کے مسئلے کو اگر ایک طرف رکھ بھی دیا جائے تب بھی کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے کہ حکومت نے وادی کشمیر کی پوری آبادی کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا اور اس کی پھانسی کے نتیجے میں لگنے والے کرفیو کی وجہ سے عوام ضروری اشیا، دواؤں اور خبروں سے بھی محروم ہو گئے جو شہریوں کے ان حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی ضمانت دستور نے شہریوں کو دی ہے۔ حد یہ ہے کہ خود دارالحکومت (یعنی دہلی ) میں بھی پولیس نے غیر قانونی طور پر اس (یعنی افضل گورو) کے بہت سے حمایتیوں اور ان کے بچوں تک کو کسی متعین الزام کے بغیر گرفتار کیا ۔ گویا حکومت نے نمائشی طورپر قانون کے پردے (fig leaf) کو نظر انداز کر دیا اور عوام سے بالکل اس طرح معاملہ کیا جس طرح کوئی غنڈا کرتا ہے۔
ایسے اقدام کا لازمی نتیجہ ہے کہ لوگ دُور سے دُور ہوتے جائیں اور ان کے اور حکومت کے درمیان مغائرت ہی میں اضافہ ہو، اور یہ ڈوری صرف کشمیر کے لوگوں تک ہی محدود نہیں بلکہ وہ لوگ بھی اس کا شکار ہوں گے جن کو اس حکومت سے یہ توقع تھی کہ وہ روشن خیالی پر کار بند ہے خواہ یہ روشن خیالی کتنی ہی جزوی اور کچی پکی ہی کیوں نہ ہو۔
امریکی روز نامہ انٹرنیشنل ہیرالڈٹربیون میں بھارت کے ایک صحافی ما نو جوزیف نے پورے مسئلے پر بڑا بھر پور تبصرہ کیا ہے اور افضل گورو کے مقدمے اور حکومت کی کارکردگی اور اس کے تضادات پر بچی تلی تنقید کی ہے لیکن سب سے اہم سوال جو اس نے اُٹھایا ہے وہ بھارت کے نظامِ عدالت کے قابل بھروسہ ہونے سے متعلق ہے۔
افضل گورو کی پھانسی جس نے اس کے خاندان کو صدمے سے دو چار کیا ہے اس نے پوری قوم کو بھی حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہاں، اس پر مختلف پارٹیوں کے سیاست دانوں نے خوشی کا اظہار کیا ہے اور عام شہریوں نے بھی۔ یہ کیسی دنیا ہے جو ایک طرف افضل کے بارے میں فتویٰ دیتی ہے کہ وہ اس زمین پر زندہ رہنے کے لیے موزوں نہیں، وہیں یہ ایک انسان کی موت پر جشن تک منانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے لوگ بھی بہت بڑی تعداد میں تھے جو اس پر نالاں اور متنفر تھے اور انھوں نے احتجاج بھی کیا۔ اور ان لوگوں کا تعلق محض وادی کشمیر سے نہ تھا جو افضل کی جائے پیدائیش ہے اور جہاں کرفیو گا ہوا تھا۔ اس پھانسی نے بڑے بنیادی سوالات اُٹھا دیے ہیں جو ایک بڑی تعداد کے لیے وجہ تشویش بن گئے ہیں۔ اگر ان تمام سوالات کو ایک جملے میں سمودیا جائے تو ان کا حاصل یہ تشویش ناک صورت ہے کہ :
کیا بھارت کا نظام انصاف معیاری ہے ، اور یہ کہ کیا اس کی اخلاقی سند (Moral authority) اس امر کے لیے تعلیم کی جاسکتی ہے کہ اس کے حکم پر ایک انسانی جان کو ختم کیا جاسکے؟
محمد افضل گورو کی شہادت نے بھارت کے جمہوریت اور انصاف اور قانون کی بالا دستی کے دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے اور اس پالیسی کو بے نقاب کر دیا ہے جسے ریاستی دہشت گردی کے علاوہ کوئی اور نام نہیں دیا جا سکتا۔ بظاہر اس پھانسی پر بھارت کے سیاسی حلقوں میں خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں لیکن فی الحقیقت یہ اس کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے اور ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کا ذریعہ بن سکتا ہے جو بھارت سے خیر کی توقع رکھتے ہیں۔
جس طرح افضل گورو کو پھانسی دی گئی ہے اس پر دنیا میں بھارت کے عالمی شہرت کے ایک ماہر قانون فالی ایس نریمان نے برملا کہا ہے: ہمارا بدترین دشمن بھی اس سے بہتر نہیں کر سکتا تھا جس طرح یہ کیا گیا۔ یہ بعض کے لیے ایک بدقسمتی تھا اور اس کے نتیجے میں بھارتی ریاست نے اپنے کو چھوٹا کر لیا ہے اور اُمیدوں کے کم ترین معیار کو اختیار کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔
کشمیر: خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کی ضرورت
جہاں تک کشمیر کی تحریک آزادی کا تعلق ہے ہمیں یقین ہے کہ اس قسم کے ہتھکنڈوں سے نہ ماضی میں اسے دبایا جا سکا ہے اور نہ مستقبل میں اسے کوئی نقصان پہنچا ناممکن ہو گا۔ اس لیے کہ ظلم اور استبداد کی چیرہ دستیاں حق پرستوں کا راستہ بھی نہیں روک سکتی ہیں اور آزادی کی تحریکیں خون کے ایسے ہی سمندروں کو عبور کر کے اپنی منزل کا سراغ پاتی رہی ہیں۔ ان شاء اللہ یہ خونی واقعہ کشمیر کے مسئلے کو عالمی سطح پر ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے بشرطکہ پاکستان کی حکومت اور اُمت مسلمہ کی قیادتیں اپنے کشمیری بھائیوں کی اس معنی برحق جد و جہد میں اپنا کردار ادا کریں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ بھارت نے اس خاص موقعے پر یہ اقدام کیوں کیا ؟ ہماری نگاہ میں اس کی وجہ بھارت کی وہ بوکھلاہٹ ہے اور آنے والے حالات کے باب میں اس کا وہ ادراک ہے جو پاکستان اور علاقے کی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی بنا پر ہ محسوس کر رہا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ چند برسوں میں کشمیر کے سلسلے میں جو قلابازیاں کھائی گئیں اور بھارت کے سلسلے میں جس پسپائی کا رویہ اختیار کیا گیا اور جسے حکومت میں تبدیلی کے بعد بھی زیادہ بھونڈے انداز میں جاری رکھا گیا ہے، صاف نظر آ رہا ہے کہ اب اس سلسلے کا جاری رہنا محال ہے۔
چند مہینوں میں نئے انتخابات کے نتیجے میں نئی سیاسی قیادت برسر کار آئے گی اور وہ امریکہ اور بھارت دونوں کے بارے میں موجودہ پالیسیوں پر بنیادی نظر ثانی کر سکے گی۔ افغانستان سے امریکہ اور ناٹو کی افواج کی واپسی کی وجہ سے بھی علاقے کے حالات میں بڑی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ عالم اسلام کے حالات بھی بدل رہے ہیں۔ ترکی، مصر، تیونس اور دوسرے ممالک میں ہونے والی تبدیلیوں نے پورے علاقے کے جیو اسٹریٹیجک (Geo-strategic) نقشے کو بدل ڈالا ہے۔ مصر میں فروری ۲۰۱۳ء میں منعقد ہونے والی او آئی سی کا نفرنس میں عالم اسلام کے مسائل کے ساتھ کشمیر کونمایاں حیثیت دی گئی ہے۔ خود پاکستان میں اس سال ۵ فروری کو جس جوش اور ولولے سے کشمیر سے یک جہتی کے دن کے طور پر منایا گیا ہے وہ آنے والے دور کی ایک جھلک پیش کرتا ہے۔ افغانستان میں امریکہ نے بھارت کو جو رول دیا تھا، وہ بھی اب معرض خطر میں ہے اور پاکستان کی موجودہ نا کام کشمیر پالیسی میں بھی تبدیلی ناگزیر ہے۔ نیز بھارت کے اپنے اندرونی سیاسی حالات جن میں اگلے سال ہونے والے انتخابات اور بی جے پی کی نئی سیاست اہم ہیں، کانگریس حکومت کی بوکھلاہٹ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ ان حالات میں بھارت نے ایک بار پھر قوت سے آزادی کشمیر کی تحریک کو دبانے کا اشارہ دیا ہے، لیکن اس کی حیثیت ایک ناکام پالیسی کو ایک بار پھر آزمانے کی حماقت سے زیادہ نہیں ہے۔ تاریخ کا ایک تلخ سبق یہ ہے جن کو طاقت کا گھمنڈ ہو جاتا ہے وہ تاریخ سے کم ہی سبق سیکھتے ہیں اور وہی غلطیاں بار بار کرتے ہیں جو ماضی میں اقوام کی تباہی کا سبب بنی ہیں۔ ہم پاکستان اور مسلم اُمت کی قیادت کو دعوت دیتے ہیں کہ بھارت کے اس اقدام کے پس منظر میں غور کریں اور مقابلے کی حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔
یہ بہت ہی افسوس ناک ہے کہ افضل گورو کی شہادت پر جو رد عمل پاکستان کی قیادت کی طرف سے آنا چاہیے تھا وہ نہیں آیا۔ بلاشبہ عوام اور اسلامی قوتوں نے اس کی بھر پور مذمت کی ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کی جانب سے واضح الفاظ میں اور پوری شدت کے ساتھ اس کی مذمت اور کشمیری عوام سے یک جہتی کا اظہار سامنے نہیں آیا۔ وزارت خارجہ کا بھی ایک کمزور ردعمل واقعہ سے ۲۸ گھنٹے کے بعد آیا ہے جو لمحہ فکریہ ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کشمیر پالیسی پر فوری نظر ثانی کرے جس پر حکومت گذشتہ ۱۲ سال سے عمل پیرا ہے۔ ۲۰۰۳ء میں سیز فائر کے نام پر جو قلا بازی کھائی گئی تھی اس نے تحریک آزادی کشمیر کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ بھارت نے اسرائیل کی مدد سے بارڈر کو سیل کر دیا ہے اور ایسی الیکٹرانک دیوار بنادی ہے جس نے کشمیری عوام کی مشکلات میں اضافہ اور پاکستان کی حکمت کاری کے وزن (Strategic leverage) کو بُری طرح متاثر کیا ہے۔ پھر جنگ آزادی اور دہشت گردی کے جو ہری فرق کو نظر انداز کر کے پاکستان نے اس کشمیر پالیسی کا شیرازہ منتشر کر دیا ہے جس پر قائد اعظم کے وقت سے لے کر آج تک قومی اتفاق رائے ہے۔ جنوری ۲۰۰۴ء کا مشرف واجپائی معاہدہ ہماری قومی کشمیر پالیسی کو صحیح رُخ سے ہٹانے (Derail) کا ذریعہ بنا اور پھر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو نظر انداز (By-pass) کرنے اور روایت سے ہٹ کر حل Out of box solution کی تلاش میں ہماری سیاسی قیادت نے وہ بھیانک غلطیاں کی ہیں جس نے پاکستان کی سلامتی خطرے میں ڈال دی ہے اور ہمارے اسٹریٹجک مفادات بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ان حالات میں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ سابقہ دور کی خارجہ پالیسی کو ترک کر کے پاکستان کے مقاصد اور مفادات کی روشنی میں حقیقی طور پر آزاد خارجہ پالیسی تشکیل دی جائے جس میں ملک کے نظریاتی ، سیاسی، معاشی، تہذیبی اور سیکورٹی کے حساس پہلوؤں کا ٹھیک ٹھیک احاطہ کیا جاسکے۔ یہ پالیسی پاکستان کی خارجہ پالیسی ہو، پاکستان کے لیے ایسی خارجہ پالیسی نہ ہو جس کی تشکیل پر واشنگٹن، لندن اور دی کا سایہ ہو۔ ہماری پالیسی پاکستان میں اور وہ بھی اسلام آباد میں عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق پارلیمنٹ کے ذریعے بنائی جائے۔ ملک عزیز کو دوسروں پر محتاجی کی دلدل سے نکالا جائے اور خود انحصاری کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اس کا مقصد پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی، جمہوری ، فلاحی اور وفاقی ریاست بنانا ہو ۔ فطری طور پر اس میں کشمیر کی بھارت کے قبضے سے آزادی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مستقبل کے حل کو ایک مرکزی مقام حاصل ہوگا۔
کشمیر کے عوام پاکستان سے دلی لگاؤ رکھنے کے باوجود پاکستان کی حکومت اور اس کی پالیسیوں سے مایوس ہورہے ہیں اور خصوصیت سے نئی نسل پریشان اور سرگرداں ہے۔ یہ وقت ہے کہ پاکستان کی نئی قیادت کشمیر پالیسی کی تشکیل نو کرے اور اس پالیسی کو بروئے کار لائے جو پاکستان اور کشمیری عوام کی اُمنگوں سے مطابقت رکھتی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے تین فریق ہیں، پاکستان، بھارت اور کشمیر کے عوام اور اصل فیصلہ کشمیر کے عوام کو کرنا ہے، اور یہ سامنے رکھ کر کرنا ہے کہ ان کے مفادات کا بہتر حصول کس انتظام میں ممکن ہے اور ان کا مستقبل کسی صورت میں روشن ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے پاکستان کی کشمیر پالیسی کو جموں اور کشمیر کے عوام کے جذبات، احساسات اور عزائم کی روشنی میں مرتب ہونا چاہیے جو مشترک سوچ پر مبنی اور مشترک جدو جہد سے عبارت ہو۔
کشمیر کو اب کسی طور پس پشت نہیں ڈالا جا سکتا۔ حالات میں جیسے کہ ابال آرہا ہے اور پھٹ پڑنے کو تیار ہیں ۔ موجودہ چیلنج کا مقابلہ بالغ نظری کے ساتھ باہم مشاورت ہی سے کرنا ہوگا تا کہ ایک بہتر مستقل انتظام کی راہ ہموار ہو سکے۔ محمد افضل گورو کی شہادت نے ایک تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔ کیا پاکستان اور کشمیر کے عوام اس کے نتیجہ میں کشمیر کی آزادی کی جدو جہد کو ایک ایسا آہنگ دینے کی کوشش کریں گے جو مجاہدین کی قربانیوں کے شایانِ شان ہو؟



