Family and GenderSociety

اشتراکی جنت میں کسان کا حال ِزار

پروفیسر خورشید احمد

روس کا عملی تجربہ

اشتراکیت کے تحت کسان اور کاشتکار کا جو حشر ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہم نے روس کی عملی مثال کو اس لیے منتخب کیا ہے کہ وہ اشتراکیت کی اولین تجربہ گاہ ہے اور وہاں اشتراکیت عملاً نصف صدی سے بر سر کار ہے۔ مزید برآں روس ہی وہ سر زمین ہے جس کے بارے میں اس برصغیر کے اشترا کی حضرات ۳۵، ۴۰ سال سے قصیدے پڑھتے آتے ہیں اور اسی اشتراکی جنت کے تذکر ے  وہ اسی حیثیت سے کرتے ر ہے ہیں کہ اس دور میں اگر کسی جگہ عدل وانصاف کی گرم بازار می ہے تو وہ بس یئی سرخ سویرے کی سرزمین ہے۔ اسی طرح کے قصیدے  آج کل کچھ لوگ چین کے متعلق بھی پڑھنے لگے ہیں لیکن یہ بات نہیں بھولنی چا ہیے کہ ظلم در اصل اشتتراکیت اور سو شلزم کی فطرت اور بنیاد میں پنہاں ہے۔ اس لیے اشتراکی ملک خواہ  کوئی بھی ہو اسکے متعلق کسی قسم کی خوشی فہمی  نہیں ہونا چاہیے۔ ایسی کوئی خوش فہمی یا تو سادگی اور بے خبری کا کرشمہ ہوسکتی ہے یا خود فریبی ا اور پاکستان کے اسلام پسند عوام کو ان میں سے کسی  کا شکا ر  نہیں ہونا چاہیے اور ہمارے جن کسانوں کو کوئی مغالطہ لا حق ہو ہم ان کا مغالطہ دور کر دینا چاہتے ہیں۔

پیش لفظ

دنیا میں بیشتر مصیبتیں وہ ہیں جو داناؤں کی نادانیوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں یہ بیماری  موجود ہے کہ اچھے خاصے پڑھے لوگ بہت بڑے بڑے معاملات کے فیصلے ضروری حقیقتوں اور واقعات کو جانے بغیر سطحی قسم کے نعروں اور سلوگنوں سے حل کرنا چایتے ہیں  ہیں اور ان شعروں اور سلوگنوں کی مفہوم وہ واقعات کی روشنی میں نہیں بلکہ  اپنی اپنی خوش خیالیوں سے متعین کر لیتے ہیں۔

حشیشی  سوشلسٹ

یہی دانشور لوگ ہیں جنہوں نے سوشلزم کے نعرے کو حشیش کے پیالے کی طرح استعما ل کرنا شروع کر دیا ہے کہ چار گھونٹ پیئے اور مست ہو کر خوابوں کی جنت میں پہنچ گئے۔ ہمارے یہ محترم  ’’حشیشی سوشلسٹ ‘‘، اگر محض اپنے لیے سرمستی کا سامان کر کے رہ جاتے تو کوئی زیادہ توجہ طلب مسئلہ نہ تھا۔ وہ ساری قوم کو اپنی خوش خیالوں کی حشیش  پلانا چاہتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر ان کی نوازش مزدور اور کسانوں پر ہے ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ سوشلزم کی مکمل واقعاتی تجربہ نے اس طبقے کو نصف صدی میں آخر کیا کچھ عطا کیا ہے ، سوشلزم نے مزدوروں پر کیا نوازشات کیں ۔اس کا جائزہ ہم نے ایک الگ پمفلٹ میں لیا ہے یہاں ہم یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ : کسان کو  ملا، کسان پر کیا گذری ، زرعی سرگرمیوں کے ثمرات کیا ہیں ؟

زمین کاشت کار کی

دعویٰ اور حقیقت

کارخانہ مزدور کا اور زمین کا شکار کی، یہ وہ خوشی کن  نعرے میں جن کے ساتھ پاکستان کے اشتراکی یہاں کے سادہ دل عوام میں اپنے پروپیگنڈے کا آغاز کرتے ہیں اس سے قطع نظر کہ اشتراکی ممالک میں کارخانہ کہاں تک مزدور کا ہے اور زمین کس حد تک  کا شکار کی ہے۔ یہ دونوں نعرے سرے سے اشتراکیت کے بنیادی اصول یعنی نظریہ اجتماعی ملکیت ہی کے خلاف بلکہ اس کی سند میں حقیقتی سوشلزم کی تو بنیاد ہی انفرادی حاکمیت کی نفی پر ہے یعنی فرد سے ہر چیز لے کر ریاست کی ملکیت میں دے دی جائے۔ پھر کارخانہ مزدور کا اور زمین کا شتکار کی ہونے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں، ماسوائے اس کے کہ لوگوں کو چند جذباتی نعروں سے دھوکا دے کر انہیں سو شلزم کے جال میں پھانسنے کی کوشش کی جائے۔

امر واقع یہ ہے کہ سوشلزم دوسری چیزوں کی طرح زمین کو بھی ریاست کی بلکہ  زیادہ صحیح الفاظ میں حکومت کی ملکیت قرار دیتا ہے اور کسی کسان یا زمیندار کی انفرادی ملکیت کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ روس میں جب اشتراکی انقلاب آیا تو انقلا بیوں کو اپنے اس اصول کو عملی جامع پہنانے اور روس کی زراعت کو اجتماعی کھیتوں میں منظم کرنے کے لیے ایک مستقل خونریز  جنگ لڑنی پڑی۔ ایک فطری تقاضے کے طور پر کسان اپنی زمین اور اپنے مویشیوں کو جن کے وہ مالک چلے آرہے تھے، اجتماعی تحویل میں دینے کے لیے تیار نہ تھے لیکن ان پر سخت ترین تشدد کر کے ان سے زمینیں حاصل کی گئیں اور یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ اس خونی عمل میں تقریباً ایک کروڑ انسانوں کی بلکہ کہنا چاہتے کہ کہ کسانوں کی جانیں ضائع ہو ئیں۔ یہ سب کچھ اشتراکیوں نے انسانی فلاح اور عدل وانصاف  کے نام پر کیا اور کوئی  ادنیٰ سی کسک   اس پر محسوس نہ کی گئی۔ یالٹا کا نفرنس (۴ فروری ۱۹۴۵)کے موقع پر خود اسٹالن نے چرچل سے کہا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں جانوں کا اتلاف کیا حیثیت رکھتا ہے۔ ہم نے تو زراعت کو اجتماعی  کھتیوں میں تبدیل کرتے وقت اس سے دْگنی  قربانی دی تھی ۔ واضح رہے کہ دوسری عالمی جنگ میں جو ۲ ستمبر ۱۹۴۵ کو ختم ہوئی روس کے چالیس ۴۰ پچاس ۵۰  لاکھ افراد مارے  گئے تھے۔

اس سے اس نعرے کی حقیقت آشکار ہو جاتی ہے کہ ’’زمین کاشتکار کی‘‘ خود اشتراکی اصول کے مطابق محض ایک فریب ہے ۔ چونکہ سوشلسٹوں کا ضابطہ اخلاق یہ ہے کہ محصول مقصد کے لیے نہ صرف یہ کہ ہر طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے، قطع نظر اس سے کہ وہ طریقہ دنیا کے مسلمہ اخلاقیات کی رو  سے جائز ہو یا نا جائز بلکہ ایسا کرنا ان کے نزدیک عین ضروری ہے۔ اس لیے وہ ہر ماحول اور فضا کے مطابق نعرے ایجاد کرتے ہیں اور اس طرح اپنے نظریات کے لیے زمین ہموار کرتے ہیں۔ اب مقامی اشتراکیوں کے اس نعرے سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم آئندہ سطور میں اس امر کا جائزہ لیں گے کہ جب روس میں اشتراکی انقلاب آیا اور اشترا کی فکر کے مطابق اجتماعی زراعت (collective Farming ) کے تحت کھیتوں کو منظم کرنے کے اصول پر عمل کیا گیا تو اس سے روس کی زراعت پر کیا اثرات مرتب ہوتے اور روسی کسان کو کن حالات سے گزرنا پڑنا اور آجکل وہ اس اشترا کی جنت میں کس حال میں ہے۔

ناکام زراعتی تجربہ

سوشلزم کی زرعی پالیسی کی بنیاد زراعت کی اجتماعیت بندی  (collective farming)پر ہے لیکن عملی تجربے نے بتایا ہے کہ زراعت کو اجتماعی کھیتوں میں منظم کرنے کا طریقہ نتائج کے اعتبار سے سخت مایوس کن ہے اور اس سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہونے کے بجائے غیر معمولی النحطاط واقع ہوتا ہے۔ اس پہلو سے اشتراکیت کی معاشی حکمت عملی کا سب سے کمزور پہلو زراعت ہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اشتراکیت دنیا کے کسی ملک میں بھی زراعت کے میدان میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

اشتراکیت اپنی زرعی پالیسی کو بالعموم دو مراحل میں تقسیم کرتی ہے۔ پہلے مرحلے میں اس کا اصل ہدف زمیندار طبقہ ہوتا ہے اور کسانوں کو ساتھ ملا کر اس سے زرعی اصلاحات کے ذریعے سے زمین چھینی جاتی ہے اس کام کے لیے ہوا کہ عوامی تائید موجود ہوتی ہے اور کسان کو یہ تصور دلا ایاجاتا ہے کہ زمین چھین کر تمہی  لوگوں کو دی جائیگی۔اس لیے حکومت کے اس اقدام کے لیے فضا خاصی ہموار ہوتی ہے۔

دوسرے مرحلے میں زمینداروں سے حاصل کردہ زمینیوں کو سر کاری ملکیت میں لے  لیا جاتا ہے اور کاشت کار کی حیثیت بس ایک مزدور کی ہو جاتی ہے۔

پہلے مرحلے میں کسان کو یہ خواب دکھایا جاتا ہے کہ اب وہ زمین کا مالک ہوگا اور زمین اسی کے تصرف میں ہوگی لیکن جب زمین کو اجتماعی کھتیوںمیں منظم کر دیا جاتا ہے تو وہ کفِ افسوس ملتا رہ   جاتا ہے۔ بس صرف آقا  بدل جاتے ہیں ورنہ اقتدار اور زمین کی ملکیت سے وہ بدستور محروم رہتا ہے۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کام سے اس کی دلچسپی مسلسل کم ہوتی جاتی ہے اور ملک کی زراعت میں ایک مستقل بحرانی کیفیت رونما ہو جاتی ہے۔ پھر حکومت کی ہمہ جہت کوششوں کے باوجود  زراعت کی دنیا سنور نہیں پاتی۔

 زرعی پالیسی کی و د کمزوریاں

 اجتماعی زراعت کے میدان میں روس کے تجربے سےجو صورت سامنے آتی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے:

(۱) زراعت میں اشتراکیت کی ناکامی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اشتراکیت کا اصل انہماک صنعت میں ہوتا ہے۔ اس لیے زراعت کے بارے میں بڑی حدتک غفلت برتی جاتی ہے اور اس طرح گویا زراعت کی قیمت پر صنعت کو ترقی دی جاتی ہے لیکن چونکہ آبادی کی اکثریت زراعت سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس لیے اسے اس صنعتی ترقی کی بڑی بھاری قیمت دینی پڑتی ہے پھر ترقی کے ثمرات سے اسے محروم ہی رہنا ہے تا ہے کیونکہ اس سے فائدہ اٹھانے والا طبقہ بالعموم وہ ہوتا ہے جو شہری آبادی سے متعلق ہوتا ہے۔

(۲)اس سے یہ بات نمایاں ہوتی ہے کہ اشتراکیت کے پاس دراصل زراعت کے میدان کے لیئے کوئی معقول اور مثبت اسکیم ہی موجود نہیں ہے جبکہ وہ اس کے ساتھ بھی بالکل صنعت کا سا معاملہ کرتی ہے اور فطری طور پر اس کے نتائج تباہ کن نکلتے ہیں۔

یہ بات صرف روس پر ہی صادق نہیں آتی بلکہ میں ملک میں بھی اشتراکیت کا تجربہ کیا گیا ہے وہاں یہی نتائج نکلتے ہیں۔ اس طرح آج زراعت کا بحران عالمی اشتراکیت کے لیے ایک پریشان کن مسئلہ بن چکا ہے۔

اعداد و شمار کیا کہتے ہیں

روس میں اشتراکی زرعی پالیسی کی ناکامی کا سب سے اہم ثبوت پیدا وار کے سرکار ی اعداد و شمار سے فراہم ہوتا ہے۔ روس کے کل زیرِ کاشت رقبے کا ۶ء۹۸ فید اجتماعی تحویل میں ہے اور صرف ۴ء۱فیصد ہی انفرادی ملکیت میں ہے۔ کسانوں کو آدھے اور تین چو تھائی ایکڑ کے کھیت نجی ملکیت میں رکھنے کی اجازت ہے۔ اجتماعی تحویل میں جو ۶ء۹۸ فیصد ی رقبہ ہے اس میں سے۵ء۴۹ فیصدی براہ راست سرکار ہی کھیتوں کی شکل میں ہے اور اور ۱ء۴۹ فیصد اجتماعی کھیتوں کی صورت میں لیکن اگر اجتماعی تحویل کے کھیتوں (اجتماعی +سر کاری )کے مقابلے میں نجی کھیتو ں کی پیداوار  کو دیکھا جائے تو چونکا دینے والے حقائق سامنے آتے ہیں۔دونوں کی پیداوار کے باہمی تفاوت کو ذیل کے بدول سے سمجھا جاسکتا ہے۔

اجتماعی دائره

سر کار ی کھیت +اجتماعی کھیت

رقبه =۹۸ء۶ فیصدی

زرعی پیداوار =کل پیداوار کا ۶۸ فصیدی

حیوانات – کل کا ۵۳ فیصدی

نجی دائره

 انفرادی ملکیت

رقبه =۱ء۴فیصدی

زرعی پیداوار= کل پیداوار کا ۳۲ فیصدی

 حیوانات = کل کا ۴۷ فیصدی

دوسرے الفاظ میں کل زیر کاشت رقبے کے صرف ۴ء۱ فیصدی رقبے سے جو انفرادی ملکیت میں ہے، کل زرعی پیداوار کا۳۲ فصیدی اور حیوانات کا ۴۷ فیصدی حصہ حاصل ہوتا ہے۔ اس طرح زرعی پیداوار میں ۴ء۱فیصدی رقبے کی پیداوار اور ۶ء۹۸ فیصدی رتبے کی پیداوار کا تناسب ۱۴ء۳۳ : ۱ ہے۔ یعنی انفرادی دائرے کی شرح پیداوار سرکاریدائرے  کی شرح پیداوار سے کم سے کم سو گنا زیادہ ہے۔ یہ حقائق اشترا کی طرز پر منظم کھیتوں  کی عبرت انگیز ناکامی اور زراعت میں انفرادی ملکیت کی غیر معمولی کامیابی کا ایک ناقابل تردید ثبوت ہے۔ جس سے خود اشتراکیت کے اس دعوے کا بود اپن اور بر سر باطل ہو نا واضح ہوتا ہے کہ انسان کے اندر انفرادی ملکیت کا ذوق اور داعیہ محض سماجی حالات کی پیداوار ہے ورنہ اگر اس کے اندر اشتراکی فکر کے مطابق مسلسل تربیت سے اجتماعی شعور پیدا کر دیا جائے تواس کا یہ داعیہ خود بخود ختم ہو جائے گا۔ اشتراکیت نے انسانی فطرت کا اندازہ لگانے میں کسی عظیم کوتاہ اندیشی اور غلط بینی کا ثبوت دیا ہے !

لیکن بیچارا اشتراکی مجبور ہے کہ مارکس  اور لینن بھی مکھی پر مکھی مارتا چلا جائے۔ بلکہ انسانوں کا صفایا بھی کر ڈالے ۔ پیداوار گرتی ہو تو گرتی رہے، پر نالہ وہیں رہے گا۔

 روس میں زراعت کی اجتماعیت بندی کا آغاز ۱۹۲۸ء میں ہوا ۔ ۱۳-۱۹۲۹ اور ۵۵ ۱۹ کے درمیان سرکاری اعلان کے مطابق کل زرعی پیداوار میں اضافہ ۳۵ فیصدی ہوا جب کہ آبادی میں اضافہ ۴۵ فیصدی ہوا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ۱۹۵۵ء میں فی کسی پیداوار ۱۹۲۹ء کے مقابلے میں کم تھی ۔

سرکاری اعتراف

زرعی پالیسی میں اس ناکامی کا اعتراف تمام سرکاری منصوبوں میں ملتا ہے جو خود خرد شیف  کی ایک تقریر کے الفاظ یہ ہیں :

“کامریڈرز ، تمہاری کالی زمین ملک کے بہترین علاقوں میں سے تھی، پھر مجھے بتاؤ کہ تماری پیدا دا کم کیوں ہوگئی گوشت تم اب کم پیدا کر رہے ہو یہ بڑھنےکے بجائے کم کیوں ہو گیا ؟ ایک ڈائرکٹر ایک سکیٹر سے ، ۷ یا ۸ یا زیادہ سے زیادہ ۱۱کونٹل  گندم لے کر کیسےمطمعئن ہو جاتا ہے ؟کیا تم کہتے ہو کہ اس طرح تم اشتراکیت کی منزل تک پہنچ سکو گے ؟”

اشترا کی طرز پر منظم کیئے ہوئے کھیتوں کی ناکامی اور زراعت میں انفرادی ملکیت کی کامیابی کا تجربہ مشرقی یورپ کے اشترا کی مالک کو بھی ہوا ہے اور انہوں نے اولین تجربات کی ناکامی کے بعد اپنے اپنے حالات کے مطابق معاشی حکمت عملی میں بنیادی تغیرات کیے ہیں اور اب وہاں زراعت میں تیزی کے ساتھ انفرادی ملکیت کا اختیار کیا جا رہا ہے۔ تقریباً سبھی ممالک نے ایک محدود پیمانے پر زراعت میں اجتماعی کاشت کا کا تجربہ کرنے کے بعد اس سلسلے کو زیادہ آگے نہیں بڑھا یا کیونکہ اس سے زرعی پیداوار میں مناسب ترقی نہیں ہوسکی ہے بلکہ الٹا ان ممالک کو غلہ باہر سے بر آمد کرنا پڑا۔ روس اور چین دونوں نے ۱۹۶۳ء اور ۱۹۶۴ ء میں مغربی ممالک اور دوسرے ممالک سے غلہ حاصل کیا ہے۔

اور یہ سب کچھ اس حالت میں ہوا کہ روس میں زراعت پر کام کرنے والی محنت دو سر سے ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ۔ چین نے روس کی تقلید میں ایک مدت تک بھاری صنعت کی ترقی، زمین کی اجتماعی اور مشینی کاشت اور فوجی قوت کی تعمیر کو اصل اہمیت دی لیکن پھر اس سے ہٹ کر اس نے معیشت کو زراعت کی اولیت کی بنیادپر منظم  کرنے کا تجربہ شروع کیا جو سات آٹھ سال کی کوشش کے باوجود نہ تو اب تک کوئی واضح شکل اختیار کر سکا ہے اور نہ اس کے کوئی مفید نتائج ہی سامنے آسکے ہیں۔

 زراعت کے لیے سوتیلاپن

اب تک کے بیان کردہ حقائق سے یہ  دلچسپ لیکن فکر انگیز حقیقت سامنے آتی ہے کہ زراعت بھی اشتراکیت کی سب سے بڑی کمزوری ہے اور اس کا اصل سبب یہ ہے کہ نظریاتی طور پر اشتراکیت زراعت کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتی بلکہ اس کی اصل دلچسی صنعت، صنعتی مزدور(proletariat) او صنعتی بیت سے ہے صنعتی نظام … (Industrialism) ، میں محویت کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اشتراکیت زراعت کو نظر انداز کرتی ہے جبکہ اسے صنعتی ترقی کے لیے قربانی کا بکرا بھی بناتی ہے۔ زراعت سے اشتراکیت کا معاملہ سوتیلی ماں کا ساہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صرف روس ہی میں نہیں بلکہ چین اور مشرقی یورپ کے تمام اشتراکی ممالک میں سوشلزم کی زرعی پالیسی ناکام رہی ہے اور اسے اس میدان میں بار بار صرف شکست ہی کا اعتراف نہیں کرنا پڑا جبکہ نئی مراعات بھی دینی پڑی ہیں۔ اشترا کی دنیا میں پولینڈ زرعی اعتبار سے سب سے بہتر ہے لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں اجتماعیت بندی سے ( collectivization)سب سے کم رہی ہے اور وہاں باقی ممالک کی نسبت آزاد کاشت کا سب سے زیادہ رواج ہے ۔ اس پہلو سے پسماندہ ممالک کے لیے اشتراکیت ایک سخت مہلک نظام ہے اور وہ ان کے بنیادی زرعی مسئلہ کوحل نہیں کر سکتی کیونکہ اپنے نظریاتی مزاج کے مطابق اشتراکیت ایک غیر فطری صنعتی انقلاب کیلئے جو کو ششیں کرتی ہے معاشرے کو شدید بحران کا شکار بنادیتی ہے۔ پاکستان کے اندر سو شلزم کا پرچار کرنے والوں کو سوشلزم کے چہرے کے اس مکروہ منظر کو بھی اہل پاکستان کے سامنے لانا چاہیے۔

بچارہ کسان

گذشتہ صفحات میں یہ بات گذر چکی ہے کہ اشتراکیت کے تحت روس میں اجتماعی زراعت بندی (Collective Farming) کو نافذ کرنے کے لیے کم وبیش ایک کروڑ  انسانوں کو تباہ وبرباد کر دیا گیا۔ اب یہ پہلو بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جس طرح سرمایہ داری  نظام میں ایک عرصے تک مزدور کی قیمت پر معاشی ترقی کا سامان کیا گیا۔ اسی طرح انشتراکیت کے کار پرواز طبقے نے بھی مزدور اور کسان کی قیمت پر معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے مفاد اور آرام کا  ساما ن کیا بلکہ کسان کا استحصال مزدور سے بھی کچھ بڑھ کر کیا گیا ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ روس میں گذشتہ پچاس سال سے کسانوں کو مسلسل ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور مجبور و بے بس و ہقان کے خون گرم سے روسی بیورو کریسی کے لیے دار عیش کا سامان فراہم کیا گیا ہے، وہ اس طرح کہ معاشی ترقی کے لیے کثیر وسائل زراعت سے منتقل کیے گئے ہیں اور زراعت کے سنوارنے اور کسانوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کوئی مادی کوشش نہیں ہوئی۔

اس بات کا اندازہ اس چیز سے کیا جا سکتا ہے کہ ایک اجتماعی فارم سے حاصل ہونے والی کل پیدا وار کا اکتیس  فیصدی حصہ ریاست کے لیے لے لیا جاتا ہے اور پھر مزید سنتیں فصید ی بیجج اور پارے کے نام پر حکومت کو لازماً واپس کرنا پڑتا ہے۔ اب اس کے بعد ایک اجتماعی فارم سے کاشتکار کو مجموعی پیداوار کا بمشکل  ستایئس فیصدی ملتا ہے ۔ اس طرح معاشی ترقی کے لیے وسائل کسانوں سے جبری طور پر حاصل کیئے جاتے ہیں اور خود ان کو نہایت خستہ حال میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔

حصولِ تعاون کے بجائے جبریت

  کسی بھی اصول ، مقصد یا نظام کی خوبی کا معیار یہ ہے کہ اسے دلائل کے ذریعے جمہو ری طریقوں سے قابل قبول بنایا جا سکے لیکن اشتراکیت نے کسان کی بہبود کے نام پر جو پروگرام بنایا اس کے لیے کسانوں میں رضا کارانہ جذ بہ تعاون پیدا کرنے میں ناکام ہوکر جبریت کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ زراعت کی اجتماعیت بندی کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے پوری زراعت کو حکومت کی پالیسیوں اور سرکاری افسروں کے احکام کے تابع کر دیا گیا ہے اسی طرح زرعی مسائل کو جبری طور پر معاشی ترقی کے لیے استعمال کرنے کا موقع فراہم ہو گیا۔ اشتراکی معیشت دان سارس ڈوب نے بھی اعتراف کیا ہے کہ :

“پہلے پانچ سالہ منصوبے کے تحت سخت مشکل حالات میں زراعت کی اجتماعیت بندی  نے یہ کا رنامہ انجام دیا کہ اسکے ذریعے ذریعی پیداوار کی قابل فراحت فاضل مقدار surplus حاصل ہو گئی ہے ۔ یہ فاضل مقدار اس وقت حاصل کی جارہی تھی جب کسان بھوک سے مر رہے تھے اور اس فاضل مقدار کو مشینری در آمد کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا تھا۔ بے کوف کے بقول جس وقت ملک میں زرعی پیداوار گر رہی تھی اور قحط کی کیفیت تھی۔ اس وقت غلہ کی برآمد  زوروں  پر تھی اور غلے کی کل پیداوار کا اس سے ۳۵ فیصدی حصہ بر آمد کیا جارہا تھا تا کہ بیرونی در آمدات کو بڑھایا جاسکے” ۔

روس میں غذائی پیداوار کے متعلق جو خوش کن پروپیگنڈا کیا جاتا ہے اس کا طلسم  فقط اس حقیقت سے پاش پاش ہو جاتا ہے کہ۳۳۔ ۱۹۳۲ کے یوکرین قحط میں کم از کم بیس لاکھو فراد لقمہ اجل ہوگئے تھے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جب یہ عظیم قحط رو نما ہو تو اس کی کوئی خبر اخبارات میں شائع نہیں ہونے دی گئی اور ایک زمانے تک اس کو صیغہ راز میں رکھا گیا۔ اب کہیں جاکر اس کا کھلے بندوں اعتراف کیا جانے لگا ہے اور آہنی پر د سے میں اتنےزخنے  پڑچکے ہیں کہ پوشیدہ حقیقتیں دنیا بھر کے سامنے آرہی ہیں۔

بنیادی حقوق اور ضروریات زندگی سے محرومی

 اشتراکیت کے تحت پیداوار میں ان چیزوں کو اولیت دی جاتی ہے جو اشتراکی نظام کے لیے ضروری ہیں خواہ عام انسانوں کی ضروریات ان سے پوری ہوں یا نہ ہوں، تمام اشترا کی ممالک میں صنعت کو اولیت دی گئی ہے اور زراعت کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ روس میں اب اشتراکی انقلاب کو پچاس سال سے زائد ہو رہے ہیں لیکن معاشی پالیسی اسی بنیاد پر ہی ہیں ہے نتیجہ یہ ہے کہ انسان کی روزمرہ استعمال میں آنے والی ایشیاء یعنی اشیائے صرف میں آج تک قلت چلی آرہی ہے۔ اس کا وبال مزدور اور کسان پر پڑتا ہے۔ کسانوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ خواہ ان کی اپنی ضروریات پوری ہوں یا نہ ہوں وہ اپنی پیداوار کا ایک خاص حصہ ایک خاص  قیمت پر ،جو حکومت مقرر کرے ، حکومت کو دیں۔ حکومت کو پیداوار کا کتنا حصہ دیا جائے، اس کا تعین کرتے ہوئے اس بات کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا کہ کسان اور کاشت کار خود اپنی ضرورت بھی پوری کر سکیں گے یا نہیں اور قیمت مقر کرنے میں بھی اس چیز کو قطعاً ملحوظ نہیں رکھا جاتا کہ اس نیت سے کم از کم پید اوار  کے مصارف تو ضرور پور سے ہو جائیں۔ اسکے ثبوت کے لیے خود خردشیف کی شہادت موجود ہے۔ خروشیف نے ۹سمبر ۱۹۶۳ء کو کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی کمیٹی کے سامنے تقریر کرتے   ہوئے اسٹالن اور مولوٹوف کے بارے میں کہا تھا کہ وہ غلہ اس حال میں ملک سے بر آمد کرتے تھے جبکہ لوگ بھوک سے مر رہے ہوتے تھے۔ دوسری جنگ سے قبل ہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی ! اس کے الفاظ یہ ہیں:

“ہاں کا مریڈیز ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ۱۹۴۷ میں بہت سے علاقوں میں مثلاً کر سک (kursk) کے علاقے میں عوام بھوک سے مر رہے تھے اور لوگ عین اس وقت ہارا پیدا کردہ غلہ ملک سے با ہر ر بیچ رہے تھے “۔

آمدنی کم ضروریات مہنگی اور ٹیکسو ں کا بوجھ

زرعی پیداوار کی قیمتیں بھی بغیر اس بات کا لحاظ کیے مقرر کی جاتی ہیں کہ آیا ان سے پیداوار کی لاگت کے مصارف تو  پورے  ہو سکیں۔ قیمتوں کی لاگت سے کم ہونے کا اعتراف بھی سرکاری طور پر کیا جا چکا ہے۔ ایک طرف تو یہ عالم ہے کہ حکومت کا شتکاروں سے جس قیمت پرذرعئ پیدا وار خرید تی ہے وہ کم رکھی گئی ہے اور دوسری طرف وہ اشیائے صرف جو کا شتکار استعمال کرتا ہے بہت مہنگی ہیں اور ان پر بکِری ٹیکس (Sales tax) بھی لگایا گیا ہے یہ بِکری ٹیکس  قومی مالیات کا تقریباً  پچھتر ۷۵ فیصدی  حصہ فراہم کرتا ہے اور اس کا سارا بار کسان اور عام صارفین پر جن میں مزدور بھی شامل ہے ، پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روس کا معیار زندگی پست اور کسانوں اور مزدوروں کے حالات زندگی غیر تسلی بخش ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روس میں سب سے مظلوم طبقہ کاشتکاروں کا ہے۔ اسے زندگی کی عام سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ زمین پر اس کے اقتدار کو ختم کر کے اسے ایک مزدور اور اجیر (vage earnes) کی سطح پر لے آیا گیا ہے۔ زرعی پیداوار اس سے حددرجہ کم قمیتوں پر خرید ی جاتی ہے پھر وہی آبادی کو تو قحط اور فاقے  تک کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن کسانوں سے سرکار کی وصولیاں بدستور جاری رکھی گئی ہیں اور غریب کسانوں  کی ضروریات سے صرف نظر کر کے اشیائے خوردو نوش بر آمد کی جاتی رہی ہیں۔ ایک وقت میں بد  حالی یہاں تک پہنچی کہ کسان جانوروں کوذبح  کر کے کھانے پر مجبور ہو گئے جس کے نتیجے میں کل جانوروں (Livestock) کی تعداد میں نہ صرف یہ کہ خاطر خواہ اضافہ نہیں ہو سکا ہے بلکہ پہلی جنگ کے معیار کے مقابلے میں پیداوار کی حقیقی سطح کم رہی ہے۔

لوٹ کھسوٹ

میلان جیلاس (Milan Djilas)، جو یوگوسلاویہ کی کمیونسٹ پارٹی کا سیکرٹری جنرل اور وہاں کا نائب صدر تھا، اپنی کتاب (The New Class) میں لکھتا ہے کہ اشتراکیت میں ابھرنے والے نئے طبقے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ مزدور اور کسان دونوں کا خون  چوستا ہے۔ اس کتاب کے صفحہ ۱۱۶پر وہ لکھتا ہے کہ اس نظام میں کسان کی حالت بڑی خستہ ہے اور نئے طبقے نے محکم اجرت اور فصل کی جبری خرید کے ذریعے کسانوں کو لوٹا ہے۔  کیونکہ اس کے بقول اس نئے طبقے کو گوارا نہ تھا کہ زمین کے سلسلے میں کوئی اس کا حریف ہو۔ اس لیے اس نے دیہات اور زرعی کھیت پر بھی اپنا تسلط مستحکم کیا اور طرح یہ نیا طبقہ کسانوں کو غلام بنانے اور ان کی آمدنی میں سے بڑا حصہ ہڑپ کر جانے میں کامیا ب ہو گیا ہے۔

حالت یہ ہے کہ ملک میں قحط تک پڑتے رہے لیکن اس نئے حکمران طبقے کے لیے عیش کی چیزیں برابر فراہم کی جاتی رہیں۔ ۱۹۳۲ء اور ۱۹۳۶ء کے درمیان جو نہایت سخت زمانہ تھا اور جب حالت یہ تھی  کہ عام اشیائے صرف کی پیداوار کمترین حد تک کم کردی گئی تھی، اور قحط سالی اور بھوک کی وجہ سے کاشت کار اپنے جانور کاٹ کاٹ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھا رہا تھا اس وقت بھی اشیائے تعیش کی پیداوار میں اضافے کی رفتار مسلسل بڑھے رہی تھی ۔ اس طرح روس میں عوام  کی ایک بڑی تعداد کاخون  چوس چوس کر ایک محدود طبقے کو  زندگی کی سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں۔ یہ بڑی بڑی ملیں اور فیکٹریاں جن پر روسی لٹیروں کو بڑا ناز ہے حقیقت میں کیا ہیں ۔ ان کی بنیادوں میں کسانوں کی ہڈیاں  اورجبری محنت کاروں کا خون اور پسینہ ہے۔ چینی فلسفی لن یوٹنگ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق سرکار ہی ملازمین جو کل آبادی کا با رہ چودہ فیصدی ہیں کل آمدنی کا  ۳۰، ۳۵ فیصدی حصہ لے جاتے ہیں لیکن کسان جو آبادی کا ۵۳ فیصدی ہیں کل قومی آمدنی کا صرف ۲۹ فیصدی حصہ پاتے ہیں۔ اس طرح پورے اشتراکی تجربے کا مطالعہ ہمیں اس اندوہناک حقیقت کے سامنے لاکھڑا کرتا ہے کہ انسان کی فلاح کے نام انسان پر جو ظلم اشترا کی آمریت نے توڑا ہے اس کی تثیر انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے اور اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔

جب کسی نظام میں سیاسی اور معاشی قوت چند ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جائے تو اس کا نتیجہ ظلم واستبداد کے سوا کچھ اور نکل ہی نہیں سکتا کیونکہ وہاں مقابلے میں کوئی اور دوسری قوت ایسی موجود نہیں ہوتی جو ظالم کا ہاتھ روک سکے اور اسے اس کے ظلم پر ٹوک سکے۔ سیاسی اور معاشی آمریت کے گٹھ جوڑ میں انسانوں کا جو حشر ہو سکتا ہے وہی حشر روس کی اشتراکی جنت میں انسانیت کیسا تھ ہوا ہے اور روسی کسان اس کی ایک حسرت انگیز اور منہ بولتی تصویر ہے !

سوشلسٹوں کا دامن پکڑ کر پوچھو !

 پاکستان کے عوام کو با علوم اور کاشتکار کو بالخصوص سوشلزم کے حق میں آواز اٹھانے والے مفاد پر ستوں سے یہ وضاحت طلب کرنی چاہیے کہ جب تمہارے اشتراکی نظام کے بانیوں نے اپنی اولین تجربہ  گاہ میں کسان کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے تو اب تم ہمیں کیا سبز باغ دکھانے چلے ہو ، سرخ سامراج نے انسان پر وہاں کون سا ظلم نہیں کیا ہے جس کو نشانہ اب تم ہمیں بنانا چاہتے ہو ؟ ہم سرمایہ دار می نظام کی لعنتو ں سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں لیکن اس لیے نہیں کہ ہم اپنے ہاتھوں کی جن زنجیروں کو کاٹ کر پھینک دیں تم ان کو نئے طوق و سلاسل میں ڈھال کر ہماری پاؤں میں بھی پہنا دو اور ہماری گردنوں میں بھی کہ بہ طواف و سلاسل ایک زیادہ بڑی فیکٹر ی میں زیادہ سلیقے کے ساتھ ڈھل کر آتے ہیں۔ کیا ہمارے لیے خدا کا دین کافی نہیں ہے جو ہماری دنیا بھی بناتا ہے، اور ہماری آخرت بھی ؟!دہ انسان کے روٹی کے مسئلے کو بھی حل کرتا ہے اور اس کی روح کو بھی زندگی عطا کرتا ہے کیونکہ وہ  خالقِ کائنات کابنایا ہوا مکمل ضابطہ حیات ہے۔ کسی انسان کے ذہن کی ادھوری تخلیق نہیں ہے۔

 کسان بھائیو سوشلسٹوں کا دامن پکرڑ کر پوچھو تم نے اب تک اشترا کی ریاستوں میں کسان کے ساتھ کیا نوازشات کی ہیں کہ اب ہمیں اپنے دام فریب میں پھنا نا چاہتے ہو!

 لیکن مجھے تمہاری بات سے اختلاف ہے۔ کسان اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ اپنے مدعا سے وہ میری اور تمہاری نسبت کہیں بہتر طور پر آگاہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ یکسر  مختلف قسم کی منزل کا آرزو مند ہے۔ جب انقلاب آیا اور اور اسے سونے سے جگایا گیا۔ تو گویا اس نے اپنی منزل پالی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اپنے پرانے خوابوں کی تعبیر مل گئی ہے۔ اب وہ نراج کے عالم میں اپنی زمین پر الگ تھلگ رہے گا۔ اپنے کھیت پر اپنے ہاتھوں سے کام کریگا، نہ اسے کسی سے سروکار ہوگا نہ وہ کسی کی مداخلت سہے گا۔ وہ ہر طرح آزاد ہو گا کسی کا اس پر کوئی مطالبہ نہ ہوگا لیکن آرزو کی اس جنت کی جگہ اس نے انقلاب کے بعد اپنے آپ کو جس عالم میں پایا وہ پہلے سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا۔ زار کی حکومت کے جبر و ستم کی جگہ اب وہ انقلابی فوجی ریاست کے شکنجے میں تھا، جو اپنے پیشرو سے بھی زیادہ سخت گیر تھی۔

کیا اب بھی تمہیں اس حیرت ہے کہ دیہات کیوں بے چینی اور گڑ بڑ کے عارضے میں مبتلا ہیں۔ کیونکہ وہ ا من سکون کیساتھ اپنے کاموں میں مصروف نہیں ہوتے۔

(روسی مصنف بورس پیٹر ناک کا ناول : ڈاکٹر ژادگو صفحہ ۲۰۲)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »