ForwardIslamic Law

اسلامی ریا ست میں نظامِ تعلیم

مسلم سجاد

پیش لفظ

 پروفیسر خورشید احمد

چیٔر مین انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سے اسٹڈیز

قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ میں اگر کسی ایک مؤثر ترین تاریخ ساز عامل کی تلاش کی جاۓ تو یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جا سکتی ہے کہ اس میں سرِ فہرست تعلیم آتی ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسان کو اپنا خلیفہ اورنمائندہ مقر کرنے کے لیے سب سے پہلے جس چیز سے اسے آراستہ کیا وہ علم تھا اور پنے تمام انبیا ءکو جوکام سونپا اس میں تعلیم، کتاب ،حکمت اور تزکیہ نفس کو مرکزیت حاصل ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےمدینے کی اسلامی ریاست کی تعمیر وتشکیل کا آغاز مسجد نبوی کے قیام سے کیا جو اس نۓ نظریاتی معاشرہ کی پہلی مسجد اور پہلا مدرسہ تھا۔ دوسری قوموں کی تاریخ میں بھی تعلیم کی یہ مرکزی حیثیت نمایاں نظر آتی ہے ۔مغرب کے دور جدید کا آغاز علمی نشاۃ ثانی سے ہوا۔ نیز بعد کے ادوار میں اور تقریباً ہر خطہ زمین پر تمام ہی اہم تہذیبی اور فنی ادوارو مراسل کی پشت پر ہمیں ایک نہ ایک علمی تحریک نظر آتی ہے۔

برصغیر پاکو ہند پر غلہ کے بعد برطانوی سامراج نے بھی پہلا ہدف مسلمانوں کے تعلیمی نظام ہی کو بنایا۔ پرانے نظام ِتعلیم سے مِلت کے رشتہ کو یک قلم کاٹ دیا گیا اور ایک بالکل نیا نظام رائج کیا جو ان کے مفید مطلب نسل تیار کر سکے۔ اس خطرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اکبر الہ آبادی نے کہا تھا کہ :

دل بدل جائیں گے تعلیم بدل جانے سے

 اور یہی ہوا ، لیکن آزادی کے بعد اس ملک کی قیادت نے اس چیلنج کو یکسر نظر انداز کر دیا جس پر اس قوم کے مستقبل کا سب سے  زیادہ انحصار تھا نتیجہ یہ ہے کہ تقریباً چالیس سال کے بعد ہمارا نظامِ تعلیم نہ صرف یہ کہ ان تمام خرابیوں کا مرقع ہے جو سامراجی دور میں پیدا ہوئی تھیں بلکہ ان میں کیفیت اور کمیّت دونوں کے اعتبار سے بگاڑ میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ ہم نے محض نۓ تعلیمی اداروں کے قیام کو تعلیمی ترقی سمجھ لیا ہے اورتعلیمی نظام کے تمام بنیادی مسائل سے صرف نظر کر رکھا ہے۔ قوموں کی تاریخ میں اس سے بڑے سانحہ کا تصور بھی محال ہے۔نظام تعلیم کی تشکیل ِجدید کے لیے ضروری ہے کہ نئے نظام کا ایک مکمل خاکہ خواہ وہ مجمل ہی کیوں نہ  ہو موجود ہو۔ موجودہ نظام پر تنقیدی لٹریچر کی کی نہیں لیکن اس امر کی ضرورت ایک مدت سے محسوس ہو رہی تھی کہ اسلامی نظام تعلیم کا ایک مکمل خاکہ تیار کیا جائے۔ اس نظام کے مقاصد کی توضیح کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی واضح ہو سکے کہ اس نظام میں گھر ،ذرائع ابلاغ ، ماحول اور حکومت کا کیا کر دار ہوگا ۔ استاد، طالب ِعلم، نصاب، درسی کتب اور آلات تدریس کی کیا شکل بنے گی؟ تعلیمی ماحول میں کیا تبدیلی ہوگی ؟ اور حکومت تعلیم کے میدان میں کیا کردار ادا کرے گی ؟ پھر ہمارے تعلیمی نظام کے کچھ مخصوص مسائل ہیں جن کا تعلق اس تاریخی پس ِمنظر سے ہے جس میں یہ نظام قائم ہوا ہے۔ ان مسائل کو کیونکر حل کیا جائے گا۔ اس میں سرِ فہرست دو متوازی نظام ہائے تعلیم کامسٔلہ ہے جسے طبقاتی تعلیمی اداروں کے قیام نے اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس سوال پر بھی بحث کرنے کی ضرورت ہے کہ نجی تعلیمی اداروں کی کیا حیثیت ہونی چاہیے اور نظریاتی ریاست میں وہ کیا کر دار ادا کرسکتے ہیں۔ نیز اسلامی نظامِ تعلیم میں شخصی آزادی کی کیا حیثیت ہوگی۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس کی مالیات کی بنیاد فیس پر ہونی چاہیے ۔پھر تعلیمِ نسواں در مخلوط تعلیم کا مسٔلہ ہے جس نے پریشان کن تعلیمی اور تہذیبی الجھنیں پیدا کر دی ہیں ۔تعلیمی معیار اور تحقیق کے مستقبل کے مسائل سے بھی صرفِ نظرممکن  نہیں ۔ یہ سارے معاملات ایسے ہیں جن پر خالص معروضی انداز میں غور کر کے اور اسلامی تعلیمات اور اسلامی روایات کی روشنی میں بیسویں صدی کے اس آخری ربع میں ایک اسلامی ریاست کے لیے نظام تعلیم کا نقشہ پیش کرنے کی ضرورت ہے۔

 ان میں سے بیشتر مسا ئل پر الگ الگ گفتگو کی گئی ہے لیکن  میرے علم میں  ایسی کویٔ  کوشش نہیں ہے جس  میں ایک مقام پر ان سب مسائل کا احاطہ کیا گیا ہو ۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی دعوت پر میرے محترم بھائی پروفیسر  مسلم سجاد نے زیرِ نظرکتاب تیار کی ہےجو  تعلیمی لٹریچر میں یک منفرد اضافہ ہے۔ مْسلم  سجاد  پچھلے۲۰ سال سے تعلیم کے مختلف موضوعات پر لکھ رہے ہیں اور مخلوط تعلیم پران کا مقالہ علمی برادری سے خراج تحسین حاصل کر چکا ہے۔ ان کی تازہ پیش کش تعلیمی افق پر ایک درخشاں ستارہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ میں نے کتاب کا بغور مطالعہ کیا ہے اور میں کہہ سکتا ہوں کہ اس موضوع پر یہ ایک جامع ترین کتاب ہے جو صرف نظری امور ہی سے نہیں عملی مسائل سے بھی حقیقت پسندانہ انداز میں بحث کرتی ہے۔ میری خواہش ہے کہ فلسفٔہ تعلیم کی بحث کو کچھ اور وسیع کیا جاتا لیکن وقت کی کمی کے باعث یہ نہ ہو سکا اور اس کتاب کی اشاعت میں مزید تا خیر مناسب نہیں۔ مجھے توقع ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں مؤلف محترم اس طرف مزید توجہ دیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »