ForwardIslamIslamic Thought

پاکستان اور سیکولرازم از امام احمد شفق ھاشمی

بسم الله الرحمن الرحيم

پیش لفظ

پروفیسر خورشید احمد

آج پاکستان کو جو خطرات اور چیلنجز در پیش ہیں ان میں سب سے اہم وہ نظریاتی یلغار ہے جس کا ہدف پاکستان کی نظریاتی اساس کو منہدم کرنا اور اس کی تہذیبی شناخت کو پراگندہ کرنا ہے۔ اس کروسیڈ میں جہاں مغربی اقوام کی قیادت، دانشور اور میڈیا ایک کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، وہیں خود پاکستان کے نام نہاد لبرل طبقے کے کچھ دانشور اور قلم کار بھی ان کے ہر اول دستہ کے طور پر سرگرم ہیں اور اس مذموم کاروائی میں حقائق ، تاریخ اور علمی دیانت کے ہر اصول کو پامال کر رہے ہیں۔ ان حالات میں اس امر کی ضرورت ہے کہ تحریک ِپاکستان کے اصل مقاصد اور بر صغیر پاک و ہند کی مسلم امت کی آزادی کی جد و جہد کی صحیح تصویر قوم کے سامنے پیش کی جائے تاکہ عوام اور خصوصیت سے ہماری نئی نسلیں اس پروپیگنڈے کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں اور فکری انتشار کا شکار نہ ہوں۔ گردوغبار کا جو طوفان برپا کیا جا رہا ہے اس سے قوم کو بچانے کا واحد راستہ حق کی شمع کو اس طرح روشن کرنا ہے کہ تاریکیاں رفع ہو جائیں اور اصل منزل مقصود ایک بار پھر سب کے سامنے واضح ہو جائے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہمارے عزیز بھائی اور رفیق کار شفق ہاشمی صاحب نے پاکستان کے نظریاتی وجود پر حملہ کرنے والوں کے اس چیلنج کو قبول کیا ہے اور اس مختصر کتاب میں ان تمام اعتراضات کا مدلل جواب فراہم کر دیا ہے جن کی سیکولزم کے حامی بارش کر رہے ہیں۔ ان حضرات کو گمان ہے کہ ہٹلر کے وزیر اطلاعات گوئبلز کا یہ دعویٰ درست ہے کہ ایک غلط بات کو اگر تکرار سے مسلسل کہا جائے تو لوگ اسے سچ سمجھنے لگیں گے۔ لیکن یہ نہیں جانتے کہ حق و صداقت کو جھوٹ اور ریا کاری کے اس طوفان سے بھی معدوم نہیں کیا جاسکتا اور جیسا کہ ابراہم لنکن نے کہا تھا کہ:

’’تم کچھ لوگوں کو بہت وقت کے لیے اور تمام لوگوں کو کچھ وقت کے لیے دھوکا دے سکتے ہو لیکن تمام افراد کو ہمیشہ کے لیے دھوکا نہیں دے سکتے ۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حق بالآخر ظاہر ہو کر اور غالب ہو کر رہتا ہے:

وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًاه (بنی اسرائیل: ۸۱)  

’’حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے‘‘۔

مجھے توقع ہے کہ حق کے غلبہ کی اس جد وجہد میں ’’پاکستان اور سیکولر ازم‘‘ کی اشاعت ایک مفید اور مؤثر خدمت انجام دے گی۔

 برادرم شفق ہاشمی نے تاریخی حقائق ، بانیانِ پاکستان کے واضح ارشادات یا صحیح تر لفظوں میں اللہ اور عوام سے ان کے عہد و پیمان کا خود ان کے الفاظ میں احاطہ کر لیا ہے اور قرار دادِ پاکستان، قراردادِ مقاصد اور دستور پاکستان سے ناقابل ِانکار شہادتیں ہر متلاشی حق کے لیے اس طرح پیش کر دی ہیں کہ غلط فہمی اور گمراہی کے لیے کوئی راہ باقی نہ رہے۔ میں اس موقع پر اپنی شہادت کا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے تحریک ِپاکستان میں ایک طالب علم کی حیثیت سے حصہ لینے کی سعادت حاصل رہی ہے اور میرے والد محترم مسلم لیگ دہلی کی ورکنگ کمیٹی کے رکن اور بحیثیت رکن کل ہند مسلم لیگ کے اس کنونشن میں شریک تھے جس نے ۳ جون ۱۹۴۷ء کے تقسیم ہند کے منصوبے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ میں اینگلو عربک اسکول کا گیارہویں جماعت کا طالب علم ، اور مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا سرگرم کارکن تھا، نیز مسلم لیگ کے رضا کار کی حیثیت سے میں نے ۱۹۴۶ء کی انتخابی مہم میں بھر پور حصہ لیا اور خاص طور پر دہلی کے ڈاکٹر عبد اغنی قریشی کی الیکشن مہم میں شریک تھا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ ہم سب نے پاکستان کے لیے ووٹ اس نعرہ اور وعدہ پر لیے تھے کہ پاکستان کا مطلب کیا ؟ لا اله الا الله “۔ واضح رہے کہ اپریل ۱۹۴۶ء کا لیجلیٹرز کنونشن ہمارے اسکول میں ہی منعقد ہوا تھا اور میں اس میں ایک کارکن کی حیثیت سے شریک تھا۔ اسی کنونشن میں حسین شہید سہروردی نے قرار داد پاکستان پیش کی تھی جو ۱۹۴۰ء کی قرارداد پاکستان کی تکمیل تھی اور اس قرار داد پر تمام منتخب نمائندوں نے حلف لیا تھا۔ اس حلف سے پہلے انہوں نے مل کر : إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام:۶:۱۶۲) ”میری نماز، میرے تمام مراسم عبودیت، میرا جینا اور میرا مرنا سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے” کا اقرار کیا تھا۔ میں اس کا عینی شاہد ہوں۔ واضح رہے کے پاکستان کا نام ۱۹۴۰ء کی قرارداد میں نہیں تھا گو اس قرارداد کے بعد عملاً تحریک میں یہ نام زبان زد خاص و عام ہو گیا تھا، مگر سرکاری طور پر یہ نام ۱۹۴۶ء کی قرارداد میں آیا اور پھر ۱۴ را گست ۱۹۴۷ء کو قائد اعظم ؒکی قیادت میں برصغیر کے تمام مسلمانوں کی اجتماعی جدوجہد اور بیش بہا قربانیوں کے نتیجہ میں یہ ملک وجود میں آیا۔ قراردادِ مقاصد نے دستور کی زبان میں پاکستان، اس کے مقصد وجود اور منزل مراد کا واشگاف الفاظ میں اعلان کیا۔ آج اس تصور کو پراگندہ کرنے کے لیے قوم کی آنکھوں میں جو دھول جھونکی جارہی ہے وہ ایک نظریاتی جنگ کا حصہ ہے جس کا بھر پور مقابلہ ضروری ہے۔ جس طرح مسلمانان برصغیر پاک و ہند نے قیام پاکستان کے لیے جد وجہد کی اسی طرح آج پاکستان کے حقیقی تصور کی تجدید اور عملاً اس کی بقا اور استحکام کے لیے ہمہ جہتی تحریک وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

 برادرم شفق ہاشمی نے قائد اعظم کے اقوال سے ان کے تصور پاکستان کی صحیح تصویر پیش کر دی ہے لیکن میں چاہتا ہوں اس موقع پر قائد اعظم کے چند اور بڑے ہی واضح اعلانات ہدیہ ناظرین کروں تا کہ قائد اعظم کے پیغام اور قوم سے عہد و پیمان کے بارے میں جو دھوکا دیا جا رہا ہے اس کا پردہ پوری طرح چاک ہو جائے اور جو تہمت قائد اعظم پر لگائی جارہی ہے اس کا کوئی دھبہ ان کے پاک دامن پر باقی نہ رہے۔ قائد اعظم نے پاکستان کے قیام سے پہلے اس وقت کے صوبہ سرحد کی مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے نام اپنے پیغام مورخہ ۵ جنوری ۱۹۴۵ء یہ میں فرمایا تھا:

’’میں نے اکثر یہ بات واضح کی ہے کہ اگر مسلمان باوقار اور لائق احترام لوگوں کی طرح زندہ رہنا چاہتے ہیں تو ان کے سامنے ایک ہی راستہ ہے: پاکستان کے لیے لڑیئے ، پاکستان کے لیے زندہ رہیے اور اگر ناگزیر ہو تو اصول کے لیے جان دے دیجیے۔ ورنہ پھر مسلمان اور اسلام دونوں تباہ ہو جائیں گے۔

ہمارے سامنے ایک ہی راہ ہے: اپنی قوم کی تنظیم کرنا، اور یہ قوت، ہم اپنی محنت، مْصمّم  اور پُر عزم مساعی کے ذریعے سے ہی پیدا کر سکتے ہیں، نہ صرف اپنی آزادی اور خود مختاری حاصل کر سکتے ہیں بلکہ برقرار رکھ سکتے ہیں اور اسلامی آدرش اور اصولوں کے مطابق زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

پاکستان کا مطلب نہ صرف آزادی اور خود مختاری ہے بلکہ مسلم نظریہ بھی ہے جسے ہمیں محفوظ رکھنا ہے، جو ایک پیش قیمت تحفے  اور سرمایہ کے طور پر ہم تک پہنچا ہے، اور ہم امید کرتے ہیں کہ اور لوگ بھی اس میں ہمارے ساتھ شراکت کر سکیں گے ۔“

بالکل اسی بات کا اعادہ قائد اعظمؒ نے قیام پاکستان کے بعد اسلامیہ کالج پشاور کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ۱۳ جنوری ۱۹۴۸ء کو فرمایا:

’’ہم نے پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کوآزما سکیں۔“

اسلامی نظام حکومت کے بارے میں بھی قائد اعظمؒ کا تصور بہت صاف اور واضح تھا۔ عثمانیہ یونیورسٹی (حیدر آباد دکن ) کے طلبہ کے سامنے ۱۹۴۱ء میں قائد اعظم نے فرمایا:

’’ اسلامی حکومت کے تصور کا یہ  امتیاز ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیۓ کہ اس میں اطاعت اور وفا کیشیکا مرجہ خدا کی ذات ہے جس کی تکیل کا واحد ذریعہ قرآن  مجید کے احکام اور اصول ہیں۔ اسلام میں اصلاً نہ بادشاہ کی اطاعت ہے، نہ کسی پارلیمان کی ، نہ کسی اور شخص یا ادارہ کی۔ قرآن حکیم کے احکام ہی سیاست اور معاشرت میں ہماری آزادی اور پابندی کے حدود متعین کرتے ہیں۔ اسلامی حکومت دوسرے الفاظ میں قرآنی اصول اور احکام کی حکمرانی ہے اور حکمرانی کے لیے اب آپ کو علاقہ اور مملکت کی ضرورت ہے۔“

کیا اس واضح اعلان کے بعد بھی کسی کو شبہ ہو سکتا ہے کہ قائد اعظم ؒنے اللہ کے فضل وکرم سے جو علاقہ حاصل کیا اور مملکت قائم کی وہ اسلامی نظام کے قیام کے لیے تھی نہ کہ سیکولرازم کی تجربہ گاہ بنانے کے لیے تھی ؟ ستم ہے کہ آج بھی امت مسلمہ کو پاکستان میں وہی مسئلہ در پیش ہے جس سے قیام پاکستان سے پہلے انگریز کی حکومت اور ہندو کانگریس کی چال بازیوں کے سبب سابقہ تھا۔ یعنی مسلمانوں کی شناخت کو تباہ و برباد کرنا اور ان کی روح کو پراگندہ کرنا۔ لیکن آج بھی اس کا جواب وہی ہے جو قیام پاکستان کی جد و جہد کے دوران قائد اعظم ؒنے دیا۔ میں اپنی ان گزارشات کا خاتمہ قائد کے اس تاریخی بیان پر کرتا ہوں اور پاکستان کی قوم کو اپنے ایمان اور اپنے روح کے تحفظ کے لیے وہی دعوت دیتا ہوں جو قائد اعظم نے ۲ مارچ ۱۹۴۱ء کو مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے خصوصی اجلاس میں اپنے خطبہ صدارت میں دی تھی:

’’ جس اہم مقابلہ میں ہم مصروف ہیں وہ نہ صرف مادی فوائد کے لیے ہے بلکہ وہ مسلم قوم کی بقا کے لیے بھی ہے۔ اس لیے میں نے بسا اوقات یہ کہا ہے کہ یہ مسلمانوں کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہے سودے بازی کی بات نہیں۔ مسلمانوں کو اس بات کا پورا احساس ہو چکا ہے کہ اگر ہم اس جدوجہد میں ہار گئے تو سب کچھ کھو جائے گا۔ دلندیزی ضرب المثل کے مصداق ہمارا موقف یہ ہونا چاہیے کہ:

دولت کھوئی تو کچھ نہ کھویا

حوصلہ کھویا تو کافی کچھ کھویا

عزت کھوئی تو بہت کچھ کھویا

روح کھوئی تو سب کچھ کھویا

اسلام آباد

۱۴/ نومبر ۲۰۱۱ء

خورشید احمد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »