پاکستان کا جوہری پروگرام

ابتدائیہ
ابن خلدون نے قوموں کے عروج و زوال کی عبرت انگیز داستان کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے کے بعد جن چند امور کو تاریخ میں فیصلہ کن عوامل قرار دیا ہے ان میں سب سے اہم دو ہیں۔ اولاً، نظریہ اور وہ قوت جو انسانوں کو جوڑتی اور ایک جان رکھتی ہے اور انہیں ایک قوم اور اکائی بناتی ہے (جسے ابن خلدون عصبیت کا نام دیتا ہے) اور ثانیاً، اصول انصاف اور بے لاگ قدر (merit) شناسی کا اہتمام جس سے معاشرہ میں توازن پیدا ہوتا ہے اور ترقی کی راہیں پھوٹتی ہیں۔ پاکستان کا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم ایک شاندار عوامی تحریک اور بیش بہا قربانیوں کے نتیجہ میں ایک عظیم ملک قائم کرنے میں تو کامیاب ہو گئے لیکن اسے باقی رکھنے اور ترقی دینے میں ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔
قوموں کی زندگی میں پچاس سال ایک بڑا فیصلہ کن عرصہ ہوتا ہے اور مستقبل کا مؤرخ ہماری اس قیادت کو، جو اس نصف صدی میں ملک کے سیاہ و سفید کی ذمہ دار رہی ہے، اس کی غفلت اور بے وفائی پر کبھی معاف نہیں کرے گا۔ ایک طرف بدلتے ہوئے عالمی حالات ہیں جن میں اسلام اور مسلمانوں کو خطرہ اور دہشت گرد بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف ہمارا ہمسایہ بھارت ہے جس کے خطرناک عزائم سے پاکستان کے وجود کو مسلسل خطرہ درپیش ہے۔ کشمیر میں ہمارے بھائی اور بہن آج بھی بھارت کی غلامی میں ہیں اور اس سے نجات پانے کے لیے جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ لیکن ہماری قیادتوں کا یہ حال رہا ہے کہ انہیں اپنی ذات اور اپنے گروہ کے مفاد سے بالا تر ہونے کی توفیق نہیں ہوئی۔ ان حالات میں دفاع وطن کا مسئلہ اور بھی سنگین ہو گیا ہے۔ ماضی میں ہماری قیادتوں کی غلط پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت برابر دگرگوں ہے قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ سود کی ادائیگی بجٹ کا ۴۶ فیصد حصہ کھا جاتی ہے، اور خود دفاع اور ترقی کے لیے وسائل مسلسل کم ہوتے جارہے ہیں۔
میں نے حالات کا جو بھی مطالعہ کیا ہے اس سے اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ دفاعی اعتبار سے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور قوم کے جذبہ حب الوطنی کے بعد جو چیز ہمارے ملک و قوم کے تحفظ کی ضامن ہے وہ سدّ جارحیت کی جوہری اہلیت [ nuclear deterrence] اور میزائل سازی کی صلاحیت ہے جس سے دشمن کے حملوں کو نقصان پہنچانے سے پہلے روکا بھی جاسکتا ہے اور دشمن کے اہم نشانوں تک رسائی بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ آج کی جنگ روایتی جنگ سے بہت مختلف ہے۔ اس کا اہم ترین تجربہ خلیج کی جنگ کے دوران میں ہوا۔ اعلیٰ تقینے [high tech] کی قوت سے امریکہ نے عراقیوں کے کئی ہزار افراد کے مقابلہ میں اپنے ایک فرد کے نقصان کی قیمت پر شرق اوسط کی ایک ابھرتی ہوئی قوت کو تباہ کر دیا، اورپورے علاقے کا توازن قوت اپنے اور اسرائیل کے حق میں تبدیل کر دیا۔
سرد جنگ کے دور کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے سے بھی یہی سبق ملتا ہے۔ جب امریکہ اور یورپی اقوام نے یہ محسوس کیا کہ روایتی جنگی ساز و سامان میں روس اور اس کے اتحادیوں کی برتری کا توڑاْن کے لیے ممکن نہیں (یورپ میں روسی قوت نیٹو کی روایتی قوت سے تین گنا زیادہ تھی اور اس کی در اندازی (penetration) کی صلاحیت نیٹو سے کہیں زیادہ تھی تو سارا انحصار سد جارحیت کی جوہری صلاحیت [nuclear deterrence] پر کیا گیا، جس نے دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچا لیا۔ اب روس کے منتشر ہو جانے اور اس کی فوج کے مضمحل ہو جانے سے وہ صورت حال باقی نہیں رہی ہے، اور عملاً اب روایتی سازو سامان اور فوجی صلاحیت میں بھی روس امریکہ یا یورپ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اور یہی وہ فضا ہے جس میں جوہری ہتھیاروں اور جوہری توانائی کی تحدید اور تجمید کی تحریکیں مغربی اقوام کے ایماء پر فروغ دی جا رہی ہیں۔ ان تحریکوں کے پس پردہ مغربی اقوام کا ہدف اپنی عسکری بالادستی کو قائم رکھنا اور دوسرے ممالک کو سد جارحیت کی جوہری صلاحیت [nuclear deterrence] سے محروم رکھنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری دفاعی پالیسی مغربی اقوام کی مصلحتوں اور ان کے اشارہ چشم و ابرو پر بنے یا اس کی تشکیل ہمارے اپنے قومی مفاد اور آزادی اور عزت کے تحفظ کے اصولوں پر ہو ؟ ۔ جوش ملیح آبادی نے اپنے مخصوص رنگ میں بڑے پتے کی بات کہی تھی۔
عشق و آزادی بہار زیست کا سامان ہے
عشق میری جان آزادی میرا ایمان ہے
وشق پہ کردوں فدا میں اپنی ساری زندگی
لیکن آزادی پہ میرا عشق بھی قربان ہے
آج پاکستانی قوم کے سامنے بھی یہی بنیادی سوال ہے۔ آزادی کے تحفظ کے لیے سد جارحیت کی جوہری صلاحیت [nuclear deterrence] اور میزائل سازی کی اعلیٰ صلاحیت ناگزیر ہے۔ بیرونی دباؤ خواہ کتنا زیادہ ہوں، ہم اپنی آزادی کے تحفظ کے پیش نظر ان امور پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ اور اس کے لیے ہمیں بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔ بلا شبہ قوم کی اخلاقی اصلاح اور ملک کی معاشی ترقی بھی اہم ترین چیلنجوں میں سے ہیں، لیکن ان تمام اہداف کے حصول کا انحصار آزادی کی بقاء پر ہے۔ اگرخدانخواستہ یہی متاثر ہو گئی تو باقی سب کام دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ جوہری حکمت عملی طے کرتے وقت عالمی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ علاقائی حقائق کو پیش نظر رکھنا از بس ضروری ہے، اور اس سلسلہ میں بھارت کی جوہری پالیسی اور صلاحیت سب سے اہم عامل ہے۔ جہاں تک عالمی رجحانات کا تعلق ہے، سرد جنگ کے خاتمہ اور خود تاریخ کے اپنی آخری سرحدوں کو چھو لینے [the end of history] کی باتوں کے باوجود جس حکمت عملی پر عمل ہو رہا ہے (وہ نہیں جس کا مشورہ ہمیں دیا جا رہا ہے) وہ بہت واضح ہے۔ لندن اکانومسٹ نے اسے بڑی خوش اسلوبی اور صفائی کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
“The main reason for the West’s post-Cold War failure is that most people in Western Europe and America wanted to believe that the end of the cold war was, in that fatal phrase, the end of history. They wanted to put their feet up and relax.
It was not possible. History never comes to a halt; it just changes direction and finds a new way of being vexatious. The West will not recover from its past five years’ stumbling until its voters recognise that one road’s end was another’s beginning. The people of the West must go on spending rather a lot of money on defence, if not quite as much as in the past half-century. They have to authorise their politicians to make hard choices, often when no possible outcome is gleamingly perfect. They must accept that their armies will sometimes have to go and fight, and that young men will be maimed and killed. If they do not do these things, they will see what their fathers and grandfathers achieved turn slowly to dust’’.
رہا بھارتی خطرہ، تو اس کے بارے میں اس کے نرم اور صلح کل وزیر خارجہ جناب اندر کمار گجرال کے وسط مارچ ۱۹۹۷ء کے ان بیانات کو سامنے رکھیں جن میں انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ خواہ ساری دنیا ہماری مخالفت کرے ہم اپنے جوہری اور میزائل پروگراموں پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اور ذرا یہ بھی یادر ہے کہ مسئلہ صرف جوہری توانائی کے پر امن استعمال کا نہیں ہے۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے صاف لفظوں میں کہا تھا:
“I hope Indian scientists will use the atomic force for constructive purposes. But if India is threatened, she will inevitably defend herself by all means at her disposal.
اور ہندوستان کے دفاعی امور پر سند کا درجہ رکھنے والے مبصر جناب کے سو برامانیم (K. Subrahmanyam)کا واضح ارشاد ہے:
“The idea that the bomb can not be used is absurd and can rise only out of willing suspension of the thinking process’’.
بھارت کے اہلِ ہوش و دانش کے ان ارشادات کے بعد بھی اگر ہمارے دانشور سد جارحیت کی جوہری صلاحیت [ nuclear deterrence] کو ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، اور ان لوگوں پر جنگجو (war-mongers) کی پھبتی کستے ہیں، جو سد جارحیت کی جوہری صلاحیت کے حصول اور بقاء کے قائل ہیں، تو اس کو اس کے علاوہ اور کیا کہا جاسکتاہے:
خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ سازکرے
’’پاکستان کا جوہری پروگرام: قومی سلامتی کے تناظر میں ‘‘ایک ایسی علمی اور تحقیقی پیش کش ہے جو زمینی حقائق پر مبنی اور پاکستان اور ملت اسلامیہ کے تزویراتی (strategic) مفادات کے تحفظ کے جذبہ سے مرتب کی گئی ہے۔ اصلی کتاب [انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی سٹڈیز کے زیر اہتمام ۵ دسمبر ۱۹۹۳ء اور ۱۸ دسمبر ۱۹۹۴ء کو منعقد ہ] دو سیمیناروں کے مقالات پر مبنی تھی، جو چند سال قبل انگریزی میں شائع ہوئی تھی اور اسے ملک اور ملک کے باہر قبول عام حاصل ہوا تھا۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے زیرِ اہتمام منعقدہ مذکورہ دو سیمیناروں کے مقررین اور مقالہ نگاروں کا نقطہ نظر بحیثیت مجموعی ایک ہی ہے تاہم جزئیات پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ جملہ مقررین اس حقیقت پر تو متفق ہیں کہ سد ِّجارحیت کی جوہری صلاحت کا حصول ہی پاکستان کی آزادی اور تحفظ کی ضمانت ہے تاہم جوہری مسئلہ سے متعلق علاقائی حکمت عملی کے سلسلے میں جس کے تحت بھارت اور پاکستان بیک وقت این پی ٹی پر دستخط کریں، ان میں اختلاف رائے پایا گیا ہے۔ اُن لوگوں کے نزدیک جو جوہری مسئلہ کو عالمی تناظر میں دیکھتے ہیں، محض جنوبی ایشیا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک علاقہ قرار دے دینے سے مسلمانانِ عالم کی حفاظت کا سامان نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح ایسے معاہدہ و میثاق کے بارے میں بھی شدید ذہنی تحفظات پائے گئے ہیں جس کے تحت پاکستان دیگر مسلم ممالک کو جوہری تقنیہ منتقل نہ کرنے کا پابند ہو۔ اور وہ بھی ایک ایسی دنیا میں جہاں نیوکلیائی تقنیہ کے عالمی اجارہ دار ہر وہ راستہ بند کرنے پر کمر بستہ ہیں جس کے ذریعے مسلم اقوام کو اس تقنییے کے حصول کا امکان ہو۔
اب ہمارے عزیز ساتھی جناب محمد الیاس خان صاحب نے بڑی محنت اور حسن ذوق سے مذکورہ کتاب کو اُردو کا جامہ پہنایا ہے۔ بحث کو آج تک کے حالات تک update کیا ہے، اور اس طرح وقت کی ایک اہم ضرورت کو پورا کیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ کتاب ان شاء اللہ قومی شعور کی بیداری اور جوہری توانائی کے سلسلہ کی بحث کو متانت اور حقیقت پسندی کی نئی بلندیوں سے ہمکنار کرنے کا ذریعہ بنے گی۔
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے ہمیشہ آزادی اظہار کا احترام کیا ہے کیونکہ آزادی اظہار ہی اتفاق رائے کی تمہید ہوتی ہے۔ سد جارحیت کی جوہری صلاحیت اور کشمیر جیسے قومی امور پر اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ قومی اتفاق رائے کے حصول کے اسی جذبہ کے تحت پاکستان کی قومی سلامتی سے متعلق پیش کیے جانے والے خیالات اور خدشات میں پوری قوم کو [ اس کتاب کی اشاعت کے ذریعے] شریک کیا جا رہا ہے۔ وما توفیقی الا باللہ
خورشید احمد
انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز
اسلام آباد
۲۳ مارچ ۱۹۹۷ء



