EducationForwardSociety

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز

پروفیسر خورشید احمد

جناب صدر مجلس !

 ہمارا معاشرہ اور ملک جن حالات سے گزر رہا ہے، اس میں تعلیم کا شعبہ شدید کس مپرسی کے عالم میں سانس لے رہا ہے۔ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے اس کا اہتمام کیا ہے کہ جو افراد اسلام اور پاکستان کا درد رکھتے ہیں، اور کسی نہ کسی حیثیت سے تعلیمی خدمت انجام دے رہے ہیں، وقتاً فوقتاً مل بیٹھیں۔ اپنی ان نشستوں میں تعلیم و تعلم کے مختلف امور اور پہلوؤں پر اپنے قابل قدر خیالات کا اظہار کریں۔ ان کی اس آزادانہ سوچ کو ہم اپنی قوم کے سامنے پیش کر سکیں۔ اس لحاظ سے انسٹیٹیوٹ نے تعلیم کے موضوع پر متعدد سیمی نار منعقد کئے ہیں اور اپنی نوعیت کا ایک منفرد مجلہ “تعلیم: اسلامی تناظر میں ” جاری کیاہے۔

ہماری کوشش رہی ہے کہ ان سیمی ناروں میں بنیادی سوالات بھی اٹھائیں اور ان کے بارے میں جو ممکنہ جوابات ہو سکتے ہیں، ان پر توجہ مرکوز کریں۔  پھر تعلیم اور انتظامیہ سے متعلق افراد کے سامنے وہ چیزیں لائیں، جو مثبت طور پر ہماری تعلیمی زندگی کو متاثر کر سکیں۔

ہم نے اس دفعہ یونیورسٹیوں کے کردار کو موضوع بحث بنایا ہے۔ یہ موضوع بڑا وسیع ہے جس کا ایک دو سیمی ناروں میں جائزہ لینا ممکن نہیں۔ اس لئے آج کی تین نشستوں کے بعد ان شاء اللہ پھر مل بیٹھیں گے۔ میں آپ حضرات کا رسمی شکر یہ اس لئے ادا نہیں کر رہا کہ یہ سیمی نار اور یہ موضوع ہم سب کا مشترک ہے اور انسٹیٹیوٹ نے مل بیٹھنے کی معاونت فراہم کی ہے۔ ان چند الفاظ کے ساتھ میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس مل بیٹھنے کو خیر و برکت کا باعث بنائے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »