ForwardPakistanPolitics and Governance

پاکستان میں جمہوری عمل کا احیاء اور متناسب نمائندگی

پروفیسر خورشید احمد

بسم الله الرحمن الرحیم

دیباچہ

پاکستان ایک بار پھر کسی سیاسی نظام کی تلاش میں ہے۔ ایک نئے نظام کے نفاذ کا وعدہ کیا جا رہا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم ذرا دیر رکیں، ملک میں چار سو پھیلی ہوئی سیاسی بے چینی پر سوچ بچار کریں اور اس سے نکلنے کی راہ ڈھونڈیں۔ زیر نظر مطالعہ میں میں حقیر کوشش کی گئی ہے۔ ملک میں سیاسی عمل کا احیاء ہمارے اس مطالعہ کا موضوع ہے، خصوصا ًانتخابی نظام سے یہ مطالعہ بھر پور بحث کرتا ہے۔ ان مسائل پر چونکہ قومی سطح پر بحث چھڑ چکی ہے اس لئے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز بھی قوم کے سامنے ایک نقطۂ نظر پیش کر رہا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ملک کی قیادت سیاسی نظام کی جستجو کرتے وقت ہمارے ان افکار کا بھی بغور جائزہ لے گی۔ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کا مختلف سیاسی نقطہ ئے نظر اور ان کے رویوں سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ سیاسی اور غیر سیاسی موضوعات پر اس کے مطالعاتی کام کا مقصد فکرو ذہن کی ساری صلاحیتوں اور ریاضتوں کے ساتھ ، مختلف مسائل کو سوچنے سمجھنے کی کوشش کرنا اور اپنے مطالعاتی اور تحقیقی نتائج سامنے لا کر قوم اور اس کے پالیسی سازوں کی مساعی میں ان کا ہاتھ بٹانا ہے۔ زیر ِنظر مطالعے میں اس مطالعے کے مختلف اجزاء بھی شامل کر دیئے گئے ہیں جو ہم نے ۱۹۷۹ء میں قوم کے سامنے پیش کیا تھا۔ ہمیں امید ہے کہ ہماری یہ پورٹ ان لوگوں کی کچھ نہ کچھ مدد ضرور کرے گی جو ملک میں ایک مستحکم سیاسی نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں۔

ایجنسی افغان پریس کے جناب مختار حسن نیز جناب مطیع الرحمٰن نے معلومات جمع کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے میں میری مدد کی ہے۔ اسی طرح میں چوہدری رحمت الٰہی، جناب عبد الملک مجاہد، جناب خالد رحمٰن ، ڈاکٹر انیس احمد، جناب متقین الرحمن اور جناب کے ایم فاروق کا ممنون ہوں جنہوں نے مجھے اپنی قیمتی آراء اور مشوروں سے نوازا۔ تاہم اس مطالعہ کی آخری ذمہ داری موجودہ مصنف ہی پر عائد ہوتی ہے۔

اسلام آباد

خورشید احمد

۱۰ نومبر۱۹۰۴ء

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »