ForwardIslamIslamic Education

پاکستان میں دینی تعلیم از خالد رحمٰن ، اے ڈی میکن

پیش لفظ

کسی بھی سوسائٹی کو خاص طرز زندگی پر قائم رکھنے میں ایمانیات کے علاوہ جن قوتوں کا بڑا دخل ہوتا ہے وہ اخلاق ،تعلیم اور قانون کی قوتیں ہیں ۔ اگر یہ تینوں ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور ان کی جڑیں ایمانیات میں پیوست ہیں تو پھر سوسائٹی میں بحیثیت مجموعی یک رنگی پائی جائے گی اور جس طریقے کو اس سوسائٹی نے قبول کیا ہے وہ پوری زندگی میں بھلائی کو جاری وساری کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ بیرونی سامراج کے سیاسی غلبے کا ایک بڑا ہی تباہ کن نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یہ تینوں قوتیں ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں اور ان کا تعلق ایمانیات سے منقطع ہو گیا۔ نتیجتا ًان میں سے ہر ایک، ملت کے افراد کو مختلف سمتوں میں لے جارہی ہے۔ ہمارا قانون اور ہماری تعلیم ان اقدار پر مبنی نہیں ہے جو ہمارے ایمان اور ہمارے تصورِ ا خلاق کی بنیاد ہیں۔

 ہمارے ہاں پورا نظام تعلیم ایسا ہے جس میں طالب علم کسی مقام پر بھی مذہب کو اپنی زندگی سے متعلق نہیں پاتا۔ وہ طبیعیات پڑھتا ہے تو کہیں اسے اللہ تعالیٰ کا قانون کارفرما نظر نہیں آتا۔ وہ فلکیات کا مطالعہ کرتا ہے تو اس علم میں بھی وہ خدا کے کرشمے دیکھنے میں ناکام رہتا ہے۔ وہ فزیالوجی کا مطالعہ کرتا ہے تو یہاں بھی اس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کی آیات کو نہیں دیکھتیں۔ وہ علوم عمرانی کا مطالعہ کرتا ہے تو ان کے دائرے میں بھی اسے کہیں اپنے دین کی تعلیمات نظر نہیں آتیں۔ اس نظام تعلیم میں تمام علوم خدا نا آشنا اور مذہب سے ناواقف ہیں اور اس کے تحت تعلیم پانے والا نو جوان یہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ گویا مذ ہب کا دائرہ ان تمام سے جدا ہے۔

 دوسری جانب اہلِ مذہب میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جسے ان حالات کا کوئی احساس اور ادراک نہیں ۔ وہ جو زبان بولتا ہے، اسے آج کا نوجوان نہیں سمجھتا۔ وہ ایسی کتابیں لکھتا ہے جن میں آج کے ذہن کے لیے کوئی اپیل نہیں۔ وہ جزوی موضوعات اور گروہی مناقصات میں الجھا ہوا ہے، جو لوگوں کو نفس مذہب سے قریب لانے کے بجائے دور لے جانے کا باعث ہور ہے ہیں۔ بعض سمجھدار اور لائق احترام علماء بھی وقت کی ضرورت کو پوری طرح محسوس نہیں کرتے اور معاملات کے بارے میں رائے زنی کرتے ہوئے پوری تحقیق سے کام نہیں لیتے ۔ یہ تمام چیزیں نو جوان نسل کو اسلام سے قریب لانے والی نہیں ، دور لے جانے والی ہیں۔

بلا شبہ علماء کرام کو بحیثیت ایک طبقے کے، اس بارے میں ذمہ دار نہیں ٹھیرایا جاسکتا اور ان میں ایسے افراد کی تعداد کم نہیں ہے جو اس خطرے کا صحیح شعور رکھتے ہیں اور اس کے تدارک کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ یادر ہنا چاہیے کہ دو ر استعمار اور تحریک آزادی میں دینی علوم واقدار کے تحفظ اور علمی روایات کو باقی رکھنے کے لیے دینی تعلیمی اداروں نے غیر معمولی خدمات انجام دی ہیں ۔ آج دراصل تو پورے نظام تعلیم کی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سوال پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ دینی تعلیم کے مراکز دوبارہ وہ منصبی کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں، جس کے وہ ذمہ دار اور مستحق ہیں اور جس کو اختیار کیے بغیر یہ امت کبھی صحیح رخ پر ترقی نہیں کر سکتی ؟

 دینی علمی حلقوں میں بالعموم اس بات کا احساس پایا جاتا ہے کہ مغرب کے ایجنڈے سے قطع نظر دینی مدارس کے نظام میں ایسی مثبت تبدیلیاں ہونی چاہیں جو مدرسہ کے سماجی اور دینی کردار کو معاشرہ میں مضبوط تر بنا ئیں، نہ کہ اسے محدود تر کریں۔ یہ تبدیلیاں کیا ہوں اور کس نہج پر تدریجا ًآگے بڑھنے کی ضرورت ہے، اس پہلو پر مسلسل غور و فکر اور عملی تجربات کے جائزے کی ضرورت ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے تحت دینی مدارس کی تعلیم کے حوالہ سے خصوصی پالیسی سیمینار سیریز میں متنوع پہلوؤں سے غور و فکر ہوتا رہا اور اہم خیالات سامنے آئے ۔ زیر نظر کتاب ان سیمیناروں میں پیش کیے گئے مقالات و مباحث پر مشتمل ہے۔ سیمیناروں میں چونکہ تمام مسالک اور زندگی کے تقریباً تمام اہم شعبوں اور طبقوں کی نمائندگی ہوئی ہے، اس لیے اس دستاویز سے ایک جامع اجتماعی سوچ کی عکاسی ہوتی ہے۔ امید ہے کہ مدارس کے بارے میں بہت سے جاری مباحث کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھنے اور آئندہ لائحہ عمل کی تشکیل میں اس کتاب سے مفید راہنمائی حاصل ہو سکے گی۔ نیز اس کاوش کے نتیجے میں جہاں دینی تعلیم سے متعلق ایک قومی نقطہ نظر تشکیل پانے میں مدد ملے گی وہیں خود دینی تعلیم سے متعلق ذمہ داران کو یہ طے کرنے میں سہولت ہوگی کہ مدارس کی تعلیم کو زیادہ سے زیادہ نتیجہ خیز بنانے اور مدارس سے متعلق بیرونی دنیا کے تاثر کو مثبت شکل دینے کے لیے انہیں کن اقدامات اور مراحل سے گزرنے کی ضرورت ہے۔

۲۰ نومبر ۲۰۰۹ء

پروفیسر خورشید احمد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »