ForwardIslamIslamic Education

پاکستان میں نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل

بسم الله الرحمن الرحیم

پیش گفتار

پروفیسر خورشید احمد

چیئر مین انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد

آج امت مسلمہ کو سیاسی آزادی حاصل کرنے کے بعد ذہنی اور تہذیبی آزادی حاصل کرنے اور اپنی اجتماعی زندگی کے تمام گوشوں کی اسلامی اقدار اور تصورات کے مطابق صورت گری کا مرحلہ درپیش ہے۔ پاکستان بھی اس دور سے گزر رہا ہے۔

علامہ محمد اقبال ۱۹۳۸ء ۔ ۱۸۷۷ء اور مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی (۱۹۷۹ء۔۱۹۰۳ء) کی فکر نے ایک ایسی نسل تیار کر دی ہے، جو ذہنی مرعوبیت سے آزاد ہے اور جدوجہد میں مصروف ہے کہ ملک کا پورا نقشہ کار اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات کے مطابق ترتیب پائے۔ تعلیم بھی اس جدوجہد کا ایک دائرہ ہے۔ اس فکر کے اثرات تعلیم کے دائرہ میں پوری اسلامی دنیا پر پڑ رہے ہیں ۔ لیکن فطری طور پر یہ اثرات پاکستان میں زیادہ واضح اور نمایاں ہیں۔

اسی فکر کا یہ اثر ہے کہ آج اسلامی نظام تعلیم ایک معروف اصطلاح ہے، ایک دور وہ بھی تھا، جب مذاق اڑایا جاتا تھا کہ اسلامی نظام تعلیم کیا ہوتا ہے ؟ اب اس اصطلاح کے ساتھ تصور میں ایک خاکہ بھی آتا ہے۔ اس لئے کہ گذشتہ برسوں میں اس موضوع پر اچھا خاصا لٹریچر تیار ہوا ہے ان اور اس امر پر ایک حد تک اہل علم کے درمیان وحدت فکر پائی جاتی ہے کہ مسلمانوں کی اصل ضرورت محض تعلیم کا فروغ نہیں، بلکہ صحیح تعلیم کا فروغ ہے، جو نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل جدید کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں مسلمان ماہرین نے اپنی تین عالمی کانفرنسوں میں جو ترجیحات پیش کی ہیں وہ ایک طرح کی اجماع کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ جس عملی مسئلہ سے ہمارا سابقہ ہے، وہ یہ ہے کہ اسلامی نظام تعلیم کو نافذ کس طرح کیا جائے ؟ موجودہ حالات میں کیا تدابیر اختیار کی جائیں کہ نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل ممکن العمل ہو جائے ؟

انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز، اسلام آباد کے تحت نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل جدید کے موضوع پر خاصے وسیع پیمانے پر کام ہو رہا ہے اور کئی موضوعات پر مطالعہ و تحقیق کے کام میں خاصی پیش رفت ہو چکی ہے۔ اس سلسلے میں ” نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل کی حکمت عملی ‘‘ پر کام کا آغاز سات مقالات کی تیاری کی شکل میں ہوا۔ پھر کراچی میں ۷ار فروری ۱۹۸۱ء کو ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں پانچ مقالے پیش ہوئے، جہاں ان پر بحث و گفتگو ہوئی اور اصل موضوع کے ان پہلوؤں پر بھی کلام کیا گیا، جو تشنہ رہ گئے تھے۔ اس گفتگو کی روشنی میں جو تجاویز سامنے آئیں، ان میں سے اہم کو اختصار سے یہاں درج کیا جا رہا ہے۔

۱۔  نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل صحیح معنوں میں اس کے بغیر ممکن نہیں کہ ملک کے پورے اجتماعی نظام سیاست، معیشت، تجارت، ذرائع ابلاغ وغیرہ کو اس رخ پر ڈالا جائے اور انتظامی مشینری اسے روبہ عمل لانے میں اخلاص سے سرگرم عمل ہو۔

کلی تبدیلی کا یہ نصب العین نظروں کے سامنے رہنا چاہئے۔

۲۔  ذرائع ابلاغ ۔ ریڈیو، ٹیلی ویژن ، اخبارات محض اطلاعات کے نہیں بلکہ عمومی تعلیم کے ذرائع ہیں۔ اور انھیں وزارت تعلیم کے تحت ہونا چاہئے تاکہ تعلیمی ادارے اور ابلاغ کے ادارے یکساں مقاصد کے تحت ہم آہنگی سے کام کریں۔

۳۔  دینی مدرسے اور عام تعلیمی ادارے نظام تعلیم کے دو دھارے ہیں، ان کی یکجائی کے مثالی نظام کے حصول کو سر دست موخر کرتے ہوئے، دینی مدارس کے نصابات میں اصلاحات کی جائیں اور مختلف مراحل کے ساتھ اس طرح کے مختصر کورس تیار کئے جائیں، جن میں کامیابی کے بعد طلبہ میٹرک انٹر اور گریجویٹ کورس میں داخل ہو سکیں۔ نیز اس کا راستہ بھی نکلنا چاہئے کہ جدید تعلیم کے بعد ایک شخص اعلیٰ دینی تعلیم حاصل کر سکے۔ خواہ یہ کام کچھ خصوصی ادارے انجام دیں یا اس کے لئے موجودہ دینی مدارس میں مناسب گنجائش پیدا کی جائے۔

۴۔ تعلیمی اداروں کا طبقاتی کردار ختم کرنا ہو گا۔ مراعات یافتہ طبقات کی اولاد کے لئے مخصوص تعلیم و تربیت کے ادارے معاشرے کے ان گنت مسائل کا باعث ہیں۔ ترجیحی بنیادوں پر یہ کام اولین اہمیت کا ہے کہ یکساں نوعیت کے تعلیمی اداروں میں، ہر طالب علم کو استعداد اور صلاحیت کی بنا پر ، نہ کہ خاندانی پس منظر یا مالی استعداد کی وجہ سے (مخصوص اداروں میں تعلیم کی وجہ سے) معاشرہ میں مقام ملے۔

۵۔ اسلامی نظام تعلیم سے مراد محض نظریہ کا نفوذ نہیں، بلکہ معیار کی بہتری، سہولتوں کی فراہمی، قومی ضروریات کی تکمیل، روزگار کی مناسب مواقع، یہ سب بھی اس کے مظاہر ہیں ۔

۶۔ تبدیلی کے کسی بھی منصوبہ کے موثر ہونے کے لئے ضروری ہے کہ انتظامی مشینری فعال اور فرض شناس ہو۔ اسے اس کے حال پر چھوڑنے کے بجائے، فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں اور سست اور نا فرض شناس عملے کا احتساب کیا جائے۔ اور محنت کرنے والوں کی ہمت افزائی کی جائے۔

۷۔ اسلامی نظام میں تعلیم کی اہمیت کے پیش نظر اس کی راہ میں وسائل کی کمی آڑے نہ آنی چاہئے۔ رقوم فراہم کی جائیں اور ان کے دیانتدارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے۔

۸۔تعلیمی اداروں کا ماحول اسلامی اقدار کا عکاس ہو۔

۹۔ طالبات کے لئے علیحدہ نصابات کا ہدف سامنے رکھتے ہوئے، طلبہ اور طالبات کے لئے تعلیمی ادارے ہر مرحلہ کے لئے علیحدہ کر دیئے جائیں۔ اس پورے نظام کی اعلیٰ سطح پر نگرانی ایک یا ایک سے زیادہ خواتین یونیورسٹیوں کے ذریعہ انجام پائے۔

۱۰۔  اسلامی نظریہ کی روشنی میں تمام علوم کے نصابات کی تدوین نو کی جائے۔

۱۱۔ اسلامی نظریاتی مملکت میں نصابات کی تدوین اور درسی کتب کی تحریر و تصنیف کو مرکزی حکومت کے تحت ہونا چاہئے۔

۱۲۔معلم کو صحیح معنوں میں معلم بنانے کے لئے تدابیر اختیار کی جائیں۔  

۱۳۔ہر عمر کے طلبہ و طالبات کے لئے بازار میں اعلیٰ معیار کا عام لٹریچر تیار کر کے لایا جائے۔

۱۴۔ لاز می پرائمری تعلیم کے ہدف کو مسلسل آگے بڑھانے کے بجائے طلبہ وطالبات دونوں کے لئے اسے جلد از جلد حاصل کیا جائے۔

۱۵۔ خواندگی کی مہم کو قرار واقعی اہمیت دی جائے۔

درج بالا امور کی طرف حکومت کو متوجہ کرنے اور ان کو تسلیم کرانے کے لئے کوششوں کے ساتھ ساتھ ، اساتذہ، طلبہ، اسلامی ادارے اور غلبہ اسلام سے دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ کسی دوسرے کا انتظار کئے بغیر خود جو کچھ کر سکتا ہو، اس میں کوتاہی نہ کرے۔ اگر اس طرح کے افراد گزشتہ برسوں میں ٹھوس ہوم ورک میں لگے رہتے تو آج بہت سے کام کئے ہوئے ہوتے۔

بہر حال، اب ان کا آغاز ہونا چاہئے، مقالات اور گفتگو کی روشنی میں اس کام کے اہم نکات یہ ہوں گے۔

ا۔ نصاب

 ا۔ اس سلسلہ میں حکومت پر انحصار یا اس کا انتظار کرنے کے بجائے، اسلامی فکر کے حامل اساتذہ کام کا آغاز کر دیں۔ مختلف مضامین کے لئے مجالس علمی تشکیل دیں، جہاں مثالی نصابات تشکیل دیئے جائیں اور کتابیں تیار کی جائیں، یہ کتابیں سرکاری نصابات پر لاز ما‘ اثر انداز ہوں گی۔

۲۔ ہر مضمون کے لئے ایسی رہنما کتابیں تیار کی جائیں، جو نصاب خواہ کچھ ہو، اساتذہ کو مضمون اسلامی نظریہ کے مطابق پڑھانے کی تربیت دیں۔

۲۔ اساتذہ

الف۔ اساتذہ میں علمی سرگرمی کی تحریک چلنی چاہئے ۔ اس کے لئے تدابیراختیار کی جائیں۔ اسلامی فکر و عمل کے حامل اساتذہ کسی نہ کسی مثبت اور تعمیری کام میں حصہ لیں۔

ب۔ منظم انداز سے نظریہ اسلامی کے مخالفین کے خلاف مؤثر انداز اختیار کریں۔

 ج فرائض کا شعور بیدار کیا جائے تو ہر استاد اسلامی نظام تعلیم کا نقطہ آغاز ثابت ہو سکتا

۳۔ تعلیمی ادارے

اسلامی فکر کے حامل افراد نجی تعلیمی اداروں کی اجازت سے استفادہ کرتے ہوئے، مناسب مقامات پر ضرورت کے لحاظ سے تعلیمی ادارے قائم کریں اور اسے مثالی طریقے پر چلائیں موجودہ صورت حال میں اگر معیاری ادارے کھولے جائیں تو کامیابی یقینی ہے۔

۴۔ تعلیمی مشینری

اگر باطل نظریات کے افراد تعلیمی مشینری میں غالب نظر آتے ہیں تو اس پر شکوہ کرنے کے بجائے سوچنا چاہئے کہ اسلامی فکر کے افراد غالب کیوں نہیں ہیں ؟ اگر ہر فرد اپنی حد تک مکمل کوشش کرے تو صورت حال میں واضح فرق پڑ سکتا ہے۔

ان تجاویز کے ساتھ یہ مجموعہ پیش کرتے ہوئے ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ یہ نہ صرف تعلیم کے ارباب بست و کشاد، بلکہ اسلامی فکر رکھنے والے اساتذہ اور دوسرے افراد کے غور و فکر اور سعی و عمل کے لئے مہمیز کا کام کرے گا۔ اور اس ملک کو اسلامی نظام تعلیم سے قریب لانے میں مدد گار ہو گی۔ انشاءاللہ

کیا۔

میں اپنے بھائی اور رفیق پروفیسر مسلم سجاد کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس مجموعہ کو مرتب کیا ۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »