امریکا اور افغانستان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
امریکا اور افغانستان
بحران سے نکلنے کا راستہ
پروفیسر خورشید احمد
افغانستان بلاشبہ آج دنیا کے پس ماندہ اور غریب ترین ممالک کی فہرست میں بھی پست ترین مقام پر آتا ہے، اور کم از کم ۲۰ سال سے جنگ اور خانہ جنگی کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ حکمرانی کے آداب کی زبوں حالی کرپشن اور بد عنوانی کی فراوانی میں بھی سر فہرست ہے۔ برطانوی استعمار کی ۱۰۰ سالہ خون آشام عسکری جولانیاں اور دخل اندازیاں، روس کا ۱۰ سالہ قبضہ اور پسپائی، اور امریکا اور نا ٹو اقوام کی نو سالہ بے نتیجہ فوج کشی اور بالآخر افغان دلدل سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے کی کی و جہد تاریخ کے اس نا قابل انکار سبق کی یاد تازہ کرتے ہیں کہ افغانستان کے غیور عوام کو ان کی تمام بے سرو سامانی کے باوجود کوئی طاقت ور طالع آزما غلامی اور محکومی کے طوق نہیں پہنا سکتا۔
یہ تا ریخ کا ایک عجوبہ نہیں تو کیا ہے کہ یہ پس ماندہ ترین ملک گذشتہ صدی کی دو عالمی طاقتوں کے ناپاک عزائم کا قبرستان بنا، اور آج تیسری اور بظاہر دنیا کی سب سے بڑی طاقت کو ناکوں چنے ناہوا رہا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اور امریکا کی بالادتی کا ۵۰۰ سالہ دور اپنے انجام کی طرف جا رہا ہے اور افغانستان جیسے ایشیا کے کمزور، چین جیسے طاقت ور ملک ایک بار پھر اپنے اپنے انداز میں تاریخ کے نئے باب کے آغاز کے لیے ورق گردانی کر رہے ہیں۔ تقریباً ۸۰ سال پہلے اقبال نے اپنی خداداد بصیرت کی بنا پر جاوید نامہ میں افغانستان کے ماضی اور حال کی جھلک دکھائی تھی۔
آسیا یک پیکر آب و گل است مِلت افغان در آں پیکر دل است
از فسادِ ا و فسادِ آ سیا در کشا دِ او کشادِ آسیاے
اقبال کے یہ اشعار، افغانستان کی موجودہ صورت حال کی روشنی میں اس کے مستقبل کے امکانات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ستمبر ۲۰۰۱ء کے دہشت گردی کے واقعات کو امریکا کی قیادت نے اپنے عالمی عزائم کے حصول کے لیے کامل عیاری کے ساتھ استعمال کیا۔ القاعدہ اور اسامہ بن لادن ایک گھناؤنی استعماری جنگ کا عنوان بن گئے۔ جس فوجداری جرم کا ارتکاب کرنے والوں میں افغانستان سے کوئی ایک فرد بھی شریک نہ تھا اور جس کی منصوبہ بندی جرمنی کے شہر ہیمبرگ اور خود امریکا میں ہوئی، اس کو بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ کیا گیا ، پاکستان کو دھمکیاں دے کر اپنا آلہ کار بنایا گیا، اور پھر عراق پر فوج کشی کی گئی اور پوری دنیا کوں ہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر ایک عالمی ہیجان اور لاقانونیت میں جلا کر کے عملاً میدان جنگ بنا دیا گیا۔
صدر اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں عراق کی جنگ کو نشانہ بنایا لیکن افغان جنگ کو ضرورت کی جنگ قرار دیتے ہوئے جاری رکھنے کا عندیہ دینے کے ساتھ ساتھ تبدیلی کا پیغام بھی دیا لیکن مسند صدارت پر ممکن ہونے کے بعد ان کی پالیسیاں تضادات کا شکار اور اپنے کیے ہوئے عہد و پیمان سے روگردانی کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ حلف برداری کے فورا بعد انھوں نے افغانستان میں۱۷ ہزار تا ز ہ دم فوجی بھجوائے اور اب افغان پالیسی پر سال بھر کے نظر ثانی کے عمل کے بعد مزید ہزار فوجی بھیجنے کا اعلان کیا ہے، مگر ساتھ ہی یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ ۱۸ مہینے کے بعد فوجوں کی واپسی کا آغاز کر دیا جائے گا۔ گوانتانا موبے کے عقوبت خانے کو ایک سال میں بند کرنے کا اعلان حلف برداری کے بعد ہی کیا تھا، مگر ایک سال گزرنے کے باوجود اس طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ قیدی عدل و انصاف سے بدستور اسی طرح محروم ہیں جس طرح بیش کے دور میں محروم نے تفتیش کے دوران معلومات حاصل کرنے کے لیے اذیت اور تشدد کے حربوں کو استعمال کرنے کا کاروبار یکسر ختم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے مگر وہ بھی اسی طرح جاری ہے جس طرح پہلے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کی جو امید امریکا کے ووٹروں اور دنیا کے عوام کو تھی وہ دم توڑتی نظر آرہی ہے اور صدر اوباما کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گرنا شروع ہو گیا ہے۔
ان حالات میں یکم دسمبر ۲۰۰۹ ء کو مہینوں کی مشاورت اور بحث و مذاکرے کے بعد افغانستان کے بارے میں جس نئی پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے وہ توقعات سے کہیں کم اور بیش کی پالیسی کا تسلسل کہیں زیادہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مختلف لابیوں کو مطمئن کرنے کے لیے پالیسی کے نام پر ایک ایسا ملغوبہ تیار کیا گیا ہے جو تضادات سے بھرا ہوا ہے۔ اصول، قانون، انصاف اور تحقیقی ان کے قیام کے امکانات ایک بار پھر دم توڑ گئے ہیں۔زمینی حقائق سے صرف نظر کیا گیا ہے اور حق اور عدل کے تقاضوں کا خون کرتے ہوئے صرف مفادات کے کھیل کو آگے بڑھانے کی ایک اور کوشش کی گئی ہے۔ پالیسی کے مرکزی اجزا میں کسی تبدیلی کے بغیر جو بھی طرح سازی اور لفظی ہیر پھیر کیا گیا ہے، اس سے حالات میں کسی بہتری کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اگر گہری نظر سے تجزیہ کیا جائے تو اوباما کی تازہ افغان پالیسی کئی خرابیوں اور مشکلات کو جنم دے گی اور حالات کو مزید خراب کرنے کا باعث ہوگی، اس لیے ضروری ہے کہ اس پالیسی پر فقد وہ حتساب سے پہلے امریکا کی افغان جنگ کی اصل حقیقت ، اس جنگ میں پاکستان کے کردار، اور افغانستان کے اس وقت کے حالات کا صحیح صحیح اور اک کیا جائے تا کہ اس دلدل سے نکلنے اور حقیقی راہ نجات کے خد و خال کو سمجھنے اور ان پر عمل کے لیے نقشہ کا ر تیار کرنے کا کام انجام دیا جا سکے۔
افغان جنگ کے حقائق
پہلی بات جسے اچھی طرح سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ امریکا جو بھی دعوے کرے اور مغربی مفادات کا محافظ میڈیا جو بھی گل افشانیاں کرے، یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ افغانستان پر امریکا کی فوج کشی بین الاقوامی قانون، اصول سیاست اور اخلاقی اقدار و ضوابط ہر ایک کے اعتبار سے ایک استعماری اور جارحانہ اقدام تھا، ایک ایسا بین الاقوامی جرم جو بہر انتہا نا قابل قبول تھا اور رہے گا۔ اس حقیقت پر پردہ ڈالنے اور ایشوز کو الجھانے کی منظم کوششوں کے باوجود، اب اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں (بشمول امریکا) جنگ کے خلاف اہل ِعلم ہی نہیں، سول سوسائٹی کے اہم عناصر کی طرف سے بھی آواز بلند ہو رہی ہے اور جنگ مخالف (anti war) تحریک تقویت پکڑ رہی ہے۔ اوباما کے یکم دسمبر کے پالیسی خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے بر طانوی دانش ور کائین دیگر نے لندن کے روزنامے گلوٹین میں اپنے مضمون میں اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ افغانستان پر حملہ سزا دینے کے لیے تھا لیکن یہ ایک قبضے میں بدل گیا ۔ یہ کام نہ صرف بری طرح انجام دیا گیا بلکہ ابتدائی بغیر سوچے سمجھے کئی گئی تھی ۔ (۲ دسمبر ۲۰۰۹) امریکی وزارت خارجہ کے ایک اعلیٰ افسر ماتھیو ہوہ نے ( جو سابق میرین بھی ہے) افغان پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے اکتوبر ۲۰۰۹ ء میں استعفا دے کر اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دی۔ اس استعفے کو رکوانے کی بھر پور کوشش کی گئی مگر نا کام رہی۔ اسے چھپوانے سے روکنے کی سعی بھی لاحاصل ثابت ہوئی۔ اب اس بات کا بھی اعتراف کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں امریکی سفیر کارل ایکنبری اور خود امریکی نائب صدر جو بیڈن اس استعفے پر فکر مند ہیں۔
ما تھیو وہ کے استعفے کے یہ حصے بڑے قابل غور ہیں:
میرا افغانستان میں امریکا کی موجودگی کے مقاصد کے بارے میں اعتماد اٹھ گیا ہے۔ مجھے موجودہ حکمت عملی اور مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں شکوک و تحفظات ہیں لیکن میرا استعفا اس پر نہیں ہے کہ ہم کس طرح لڑ رہے ہیں بلکہ اس پر ہے کہ ہم کیوں اور کس لیے لڑرہے ہیں؟ اس نے اپنے استعفے میں صاف الفاظ میں واجبات بھی کہی ہے جسے کہنا اور سمجھنا تو چاہے تھا پاکستان کی قیادت کو، جو امریکا کی جنگ کو اپنی جنگ بنانے پر تلی ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو: ”افغانستان میں ہماری مو جودگی نے پاکستان میں عدم استحکام اور بناوت میں اضافہ بھی کیا ہے۔ اس نے اس ا ستعفے میں امریکا کی افغان پالیسی کے تباہ کن منطقی تقاضوں کو بیان کرنے کے بعد یہاں تک کہہ دیا ہے۔
دیانت دارانہ طور پر اگر ہم القاعدہ کی بحالی یا تنظیم نو کو روکنا، اور افغانستان کو القاعدہ سے محفوظ بنانا چاہتے ہیں تو ہماری حکمت عملی کا تقاضا یہ ہوگا کہ ہم اس کے بعد پاکستان، صومالیہ، سوڈان اور یمن وغیرہ پر بھی حملہ کریں اور قبضہ کر لیں۔ خطرہ جغرافیائی یا سیاسی سرحدوں کے اندر محدود نہیں ہے۔
ماتھیو ہو نے یہ بھی صاف لکھا ہے کہ اگر ہم نے اس جنگ کے بارے میں بنیادی سوچ نہ بدلی تو پھر یہ جنگ لامتناہی ہو سکتی ہے اور عشروں اور نسلوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
دی گارڈین کے مضمون نگار کیلیو ڈورن ہو، نے اس استعفے پر ایک جملے میں یوں تبصرہ کیا ہے ،’’افغانستان میں امریکی افسر کی حیثیت سے میتھیو ہوہ کا استعفیٰ جنگ پر ایک واضح، درست اور سخت تنقید ہے‘‘۔ وہ مزید کہتا ہے ”موہ کی بات درست ہے کہ ا ۱ستمبر کے حملوں کی منصوبہ بندی زیادہ تر جرمنی میں کی گئی تھی اور افغانستان میں جنگ امریکا کو زیادہ محفوظ نہیں بناتی۔
افغانستان پر امریکی فوج کشی اور قبضے کے غیر قانونی اور نا جائز ہونے کا کھلا کھلا اعتراف خود امریکا کے اعلیٰ قانونی حلقوں میں کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں سب سے اہم کتاب Rules of Disengagement ہے جو تھامس جیفرسن اسکول آف لا کی پروفیسر اور امریکا کی نیشنل لایٔرز گلڈ کی صدر پروفیسر مارجوری کو ہن نے لکھی ہے اور ۲۰۰۹ ء کے اواخر میں شائع ہوئی ہے۔ اپنی اس کتاب کے نتائج کو پروفیسر مارخوری کوہن نے اپنے ایک مضمون (Counter Punch) ۲۱ ویر ۲۰۰۹ء میں بیان کیا ہے اور پاکستان کے لیے اس میں ایک پیغام ہے کہ موصوفہ نے مضمون کا عنوان :
] “Why Af/Pak War is Illegal”افغان پاکستان جنگ کیوں غیر قانونی ہے؟ ]رکھا ہے۔ ہم اس مضمون کے چند اقتباس پیش کرتے ہیں۔
افغانستان پر امریکا کا حملہ عراق پر حملے کی طرح غیر قانونی تھا لیکن پھر بھی بہت سے امریکی اسے ا۱ستمبر کے جملوں کا درست رد عمل سمجھتے تھے۔ ٹائم کے سرورق پر اس کو درست جنگ قرار دیا گیا۔ اوباما کی مہم یہ تھی کہ عراق میں جنگ ختم کریں گے لیکن افغانستان میں بڑھائیں گے، مگر اب امریکیوں کی اکثریت اس کی بھی مخالف ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹ میں ہے کہ ریاستیں اپنے بین الاقوامی تنازعات پر امن طریقے سے لے کریں گی اور کوئی قوم اپنے دفاع کے علاوہ فوجی قوت استعمال نہیں کر سکتی، یا جب تک کہ سلامتی کونسل اس کی اجازت نہ دے۔ نائن الیون کے حملوں کے بعد سلامتی کونسل نے دو قرار داد یں منظور کیں مگر ان میں سے کسی ایک میں بھی افغانستان میں فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق حملے کے ثبوت نہیں ملے، لہٰذا طالبان نے بن لادن کو حوالے نہیں کیا لیکن بش نے افغانستان پر بم باری شروع کر دی۔
- افغانستان پر حملے کے لیے بش کا جواز بے بنیاد تھا۔ اسی بنیاد پر ایرانی امریکا ر حملہ کر سکتے تھے جب انھوں نے ۱۹۷۹ ء میں رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹا اور امریکا نے اسے پناہ دی۔ اگر حکومت ایران نے مطالبہ کیا ہوتا کہ ہم شاہ کو اس کے حوالے کریں اور ہم نے انکار کیا ہوتا تو کیا ایران کے لیے قانونی طور پر جائز ہوتا کہ امریکا حملہ کر دیتا؟ یقیناً نہیں۔
- افغانستان میں اپنی افواج میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے اوباما نے نائن الیون کے حملوں کا ذکر کیا۔ افغانستان میں بش کی جنگ جاری رکھنے اور اسے بڑھاتے ہوئے اوباما بھی یو این چارڑ کی خلاف وزی کر رہا ہے۔ نوبل امن انعام وصول کرتے ہوئے اوباما نے اعلان کیا کہ اسے یک طرفہ طور پر جنگ کرنے کا حق حاصل ہے۔ [حالانکہ] یک طرفہ طور پر فوجی طاقت کا استعمال اپنے دفاع میں نہ ہوتو غیر قانونی ہے۔
- جن لوگوں نے ۹ستمبر کو ہوائی جہاز اغوا کرنے اور ہزاروں آدمیوں کو مارنے کی سازش کی، انھوں نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ ان کی شناخت ہونی چاہیے اور قانون کے مطابق انصاف ہونا چاہیے۔
- لیکن افغانستان پر حملے کا جواز نہ تھا۔ اس سے امریکیوں اور افغانیوں کی ہلاکت میں اضافہ ہوا ہے، اور امریکا کے خلاف نفرت بھی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔
- قومی مباحثے میں یہ سیاسی تجزیہ غائب ہے کہ نائن الیون کا المیہ کیوں رونما ہوا؟ ہماری ضرورت ہے کہ بحث ہو اور امریکی خارجہ پالیسی کو از سر نو تشکیل دینے کے لیے جامع حکمت عملی بنائی جائے تا کہ ہم امریکی استعمار سے نفرت کرنے والوں کے غیظ و غضب سے محفوظ رہ سکیں۔ اس ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو بغیر تنقید کے بیشتر لوگوں نے قبول کر لیا ہے۔ دہشت گردی دشمن نہیں، ایک تدبیر ہے۔ تدبیر کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا جاسکا۔ دہشت گردی ختم کرنے کا طریقہ یہ ہےکہ اس کی بنیادی وجوہات (بشمول غربت، تعلیم کی کمی اور بیرونی قبضہ) کو جانا جائے اور ان وجوہ کو دور کرنے کو ہدف بنالیا جائے۔
- اوباما نے یہ اعلان کرتے ہوئے کہ وہ افغانستان میں ہزار مزید امریکی فوج بھیجے گا، پاکستان کا براۓ نام تذکرہ کیا لیکن اس کی سی آئی اے نے پاکستان کے خلاف بش سے زیادہ ڈرون حملے کیے۔ اندازہ کیا جاتا ہے کہ ان حملوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے زیادہ پاکستانی اس کے مخالف ہیں۔ گیلپ کے گذشتہ جائزے میں ۲۷ فی صد مخالف تھے اور صرف۹فی صد حامی تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت نے طالبان یا پاکستان کے ازلی دشمن بھارت سے زیادہ امریکا کو پاکستان کے لیے خطرہ قرار دیا۔
- پاکستان میں ڈرون کا استعمال یو این چارٹر اور جنیوا کنونشن دونوں کی خلاف ورزی ہے جن میں ارادے سے قتل کی ممانعت ہے۔ اس طرح کے ماور اے عدالت قتل کسی حکومت کے حکم پر یا اس کی مرضی سے کیے جاتے ہیں مگر ان کو کسی بھی صورت میں جائز قرار نہیں دیا جا سکتا حتی ٰکہ حالت جنگ میں بھی نہیں۔ یہ جنیوا کنونشن کی صریح خلاف ورزی ہے۔
امریکی جارحیت اور عالمی رد عملی
اس جنگ کے نتیجے میں اگر ایک طرف بین الاقوامی اصول عدل و انصاف ،جنیوا کنونشن اور اخلاقی اقدار و ضوابط کا خون ہوا ہے، تو دوسری طرف ہزار انسانوں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے افغانستان میں دسیوں ہزار اور عراق میں۱۰ لاکھ افراد کو بے رحمی کے ساتھ ہلاک کیا جا چکا ہے۔ لاکھوں بے گھر ہوئے ہیں اور کم از کم دو ملک بالکل تباہ ہو گئے ہیں، جب کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کو فروغ حاصل ہوا ہے اور جو مصیبت ایک محدود علاقے میں محصور تھی، اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس لیے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف دہشت گردی نہیں بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے جو راستہ اختیار کیا گیا ہے، وہ خود اصل مسئلہ ہے۔ امریکا کی اوہایو یونی ورسٹی کے علم سیاسیات کے پروفیسر جان موئیلر نے اپنی کتاب
Overblowm میں بڑے واضح الفاظ میں حکمت عملی کے اس تباہ کن زخ کی نشان دہی کی ہے۔
دہشت گردی یا اس کے خلاف ہمارا ردِ عمل، زیادہ بڑا خطرہ کس میں ہے؟ ایک خطرہ جو حقیقی ہے لیکن اس کا دائرہ محدود ہے، اسے بڑے پیمانے پر بڑھاچڑھا کر پیش کر کے بلا جواز پر یشانی پیدا کر دی گئی ہے۔ اس عمل سے غیر ضروری اخراجات اور پالیسی میں ضرورت سے زیادہ ایسے رد عمل ہوئے ہیں جنھوں نے عام طور پر اس سے زیادہ نقصان اور اخراجات کروائے ہیں جود ہشت گر دپہنچا سکتے تھے۔
ایک دوسرے امریکی پروفیسر رابرٹ پاپ نے جو شکا گو یونی ورسٹی میں سیاسیات کے پروفیسر ہیں اور معروف کتاب Dying to Win کے مصنف ہیں، نیویارک ٹائمز (۱۵/اکتوبر ۳۰۹) میں اپنے مضمون میں امریکا کی افغان پالیسی کا تنقیدی جائز دلیا ہے۔ چند پہلو قابل غور ہیں۔
- جنرل میک کرسٹل کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور ناٹو کی فوجیں بذات خود حالات کے بگاڑ کا ایک بڑا سبب ہیں۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ مغربی افواج کو بیرونی قابض افواج سمجھا جاتا ہے۔ جنگی طاقت پر بہت زیادہ انحصار کی وجہ سے انتقان عوام کی نظروں میں بین الاقوامی سلامتی کی فوج کے جواز کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ امریکا کے پسندیدہ حامد کرزئی کی قیادت میں کام کرنے والی مرکزی حکومت بہت زیاد بدعنوان ہے اور اسے نا جائز سمجھا جاتا ہے۔
- بد قسمتی سے یہ سیاسی حقائق گذشتہ برسوں کے میدان جنگ کے بھائی سے مطابقت رکھنے ہیں۔ ۲۰۰۱ء میں اپنی چند سو افواج کے ساتھ امریکا نے طالبان کا تختہ الٹا اور القاعدہ کو افغانستان سے نکال باہر کیا۔ یہ امریکا کی فضائی طاقت اور شمالی اتحاد کی زمینی فوجوں کے اشتراک سے ہوا۔ پھر آئندہ برسوں میں امریکا اور ناٹو نے اپنی فوج کی تعداد ۴۰ ہزار تک پہنچادی، جب کہ ان کا اصل مشن صرف کابل کی حفاظت تھا۔ ۲۰۰۴ء تک افغانستان میں بہت کم دہشت گردی تھی اور بہت کم احساس تھا کہ حالات خراب ہورہے ہیں۔
- ۲۰۰۵ء میں پورے افغانستان میں امریکا اور ناٹو نے اپنی افواج کو باقاعد ہی بڑھایا۔ اس کے مقاصد اس وقت موجود معمولی سی بغاوت کو کچلنا، پوست کی فصلوں کو تباہ کرنا اور مرکزی حکومت کے لیے مقامی حمایت بڑھانا تھا۔ یہ افواج جنوب اور مشرقی کے پشتون علاقوں تک لگائی گئیں اور آج وہ ایک لاکھ سے زیادہ ہیں۔
- مغربی قبضے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کی دونوں شکلوں ، خودکش حملے اور بم دھماکوں میں اضافہ ہوا۔ ۲۰۰۱ ء سے پہلے افغانستان میں خودکش حملے ریکارڈ پر نہیں ہیں۔ امریکا کی فتح کے فورا بعد بہت کم ہوئے ، ۲۰۰۲ ء میں ایک بھی نہیں، ۲۰۰۲ ء میں رو ۲۰۰۴ء میں پانچ اور ۲۰۰۵ ء میں نو لیکن ۲۰۰۶ء سے خود کش حملوں میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا _ ۲۰۰۲ء میں ۹۷، ۲۰۰۷ ء میں ۱۴۲، ۲۰۰۸ ء میں ۱۴۸، اور ۲۰۰۹ء کے پہلے نصف میں ۲۰ ۸۰ فی صد سے زیادہ حملے امریکا اور اس کی اتحادی افواج پر ہوئے نہ کہ افغان شہریوں کے خلاف اور کرنے والے 90 فی صد افغان تھے۔ دہشت گرد حملوں کا انداز بیش تر ایک عمل ہے۔ سب سے خطرناک سڑک کے کنارے لگے بم ہوتے ہیں جورموٹ کنٹرول سے یا چھونے سے پھٹ جاتے ہیں۔ ۲۰۰۵ ء میں صرف ۷۸۲ حملے ہوئے تھے لیکن اس کے بعد تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ۲۰۲ ء میں ۱۷۳۹، ۲۰۷ ء میں ہزار اور گذشتہ برس ۲۳ ہزار ۲ سو یہ حملے بھی زیادہ تر مغربی افواج کے خلاف ہوئے ہیں نہ کہ افغان اہداف پر۔
- تصویر واضح ہے، افغانستان میں ہم نے جتنی زیادہ افواج بھیجی ہیں مقامی لوگوں نے اتنا ہی ملک کو بیرونی تسلط کے تحت تصور کیا ہے جس سے خودکش اور دوسرے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کوئی بیرونی مسلح طاقت امن قائم کرنے کی کوشش کرتی ہے، ہم یہی صورت دیکھتے ہیں مغربی کنارے سے کشمیر اور سری لنکا تک۔
- جنرل میک کر سٹل افغانستان میں طرز عمل بدلنے کی توقع کرتے ہیں تری مزید فوجی بھیجنے کی نہیں بلکہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے بیرونی قابض افواج ہونے کا ہار ختم کرنے کی ہے۔ افغانستان میں ہمارا مقصد مستقبل میں نائن الیون جیسے حملوں کو روکتا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ امریکا دشمن دہشت گردوں کی ایک نئی نسل کی پرورش کو روکا جائے۔ خاص طور پر خودکش دہشت گرد جو بڑی تعداد میں معصوم لوگوں کو ہلاک کر سکتے ہیں۔ خودکش دہشت گرد کو جو چیز تحریک دیتی ہے، وہ ان کے علاقے میں غیر ملکی فوجوں کا وجود ہے۔
پروفیسر رابرٹ پاپ کا یہ تجزیہ کہ اصل مسئلہ غیر ملکی افواج کی موجودگی اور قبضہ ہے جو دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں، پالیسی سازوں کے لیے لمحہ فکریہ فراہم کرتا ہے۔ ہمیں اس کی تجویز کرده حکمت عملی سے اتفاق نہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ افغانستان ہو یا عراق، فلسطین ہو یا کشمیر، جب تک بیرونی قوتیں ان ممالک پر قابض ہیں، مزاحمت اور ردعمل ل رونما ہوگا اور وہ خونی اور تباہ کن بھی ہو سکتا ہے، بلکہ ہوتا جا رہا ہے۔ مسئلے کا حل فوج کشی اور قوت کا بے محابا استعمال یا خانہ جنگی کو ہوا دینا نہیں۔ اگر افواج میں اضافہ ہوگا تو یہ چیز بذات خود تصادم، خون خرابے اور ہلاکتوں میں اضافے کا باعث ہوگی، اصلاح احوال کا ذریعہ نہیں بن سکی۔
امریکا کی ناکام حکمت عملی
افغانستان کے زمینی حقائق کے معروضی مطالعے سے جو حقیقت سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ امریکا اور ناٹو کی فوجی حکمت عملی یکسر نا کام رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ ہے کہ افغانستان کی ۲۴ ولایات میں سے ۳۲ پر طالبان کا عملاً قبضہ ہے اور ان میں ان کے متبادل گورز ( shadow governor) تک موجود ہیں۔ بڑے بڑے شہروں میں امریکی، ناٹو اور خود افغان فوج کا وجود ہے مگر باقی تمام مضافات پر طالبان کی حکمرانی ہے اور شہروں میں بھی رات کو انھی کا حکم چلتا ہے۔ ٹاٹو کے کمانڈر، بر طانیہ کے فوجی تجزیہ نگار، حتی کہ خود امریکی فوجی قیادت اب کھل کر اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ افغانستان کی جنگ جیتی نہیں جاسکتی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بی بی سی سے اپنے انٹرویو میں کھل کر اعتراف کیا ہے کہ یہ جنگ ہاری جا چکی ہے اور اخراج کی حکمت عملی ہی وقت کی ضرورت ہے۔ اب یہ بات امریکی کمانڈراسٹیلے میک کرسٹل بھی کہنے پر مجبور ہوا ہے اور ہالبروک، رابرٹ گیٹں اور ہیلری کلنٹن بھی اعتراف کر رہی ہیں کہ طالبان افغان حقیقت کا حصہ ہیں اور ان سے معاملہ کیے بغیر افغانستان سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ لیکن اس اعتراف کے باوجود جو حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے وہ شیطنت کا ایک دوسرا مظہر ہے یعنی ایک طرف فوج اور قوت کے استعمال کو بڑھا دیا جائے اور دوسری طرف تحریک مزاحمت کو تقسیم کرنے، طالبان میں پھوٹ ڈلوانے اور رشوت اور روزگار کا لالچ دے کر طالبان کے تمام سپاہیوں کو اپنے ساتھ ملانے کی حکمت عملی اختیار کی جائے، اور افغان حکومت اور اس کا ساتھ دینے والوں کے ذریعے ملک کا نظم ونسق اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہ حکمت عملی بد نیتی اور دھو کے پرمبنی ہے اور زمینی حقائق اور تاریخی تجربات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی۔ یہ حالات کو بگاڑنے کا نسخہ ہے ۔ اصلاح احوال کی تدبیر نہیں۔
امریکا کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ حقائق کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں۔ اوباما کو اس طرح گھیر لیا گیا ہے کہ عملاً اس نے بش کی جنگ کو اب اوباما کی جنگ بنا لیا ہے۔ اوباما کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ اس نے حالات کا آزاد اور معروضی جائزہ نہیں لیا اور وہ بہت جلد امر یکی نیو کونز اور بیش انتظامیہ کے شاطر پالیسی سازوں کے نرغے میں آگیا ہے اور امریکا کا ملٹری انڈسٹریل کمپلیکس اس پر حاوی ہو گیا ہے۔ اس کی اپنی ڈیمو کریٹک پارٹی کے بااثر عناصر اس کی پالیسیوں سے پریشان ہیں کہ ری پبلکنز اور بش کے حواری پالیسیوں کا رخ متعین کر رہے ہیں۔ امر یکی محقق پیٹریپکر کا مضمون نیویارک ٹائمز کے بلاگ Obama’s War Over Terror (blog)کے عنوان سے جنوری ۲۰۱۰ء کو شائع ہوا ہے جس میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح پالیسی سازی پربش کے دور کے لوگ چھا گئے ہیں۔ رابرٹ گیٹس جسے بش نے وزیر دفاع بنایا تھا اور دو سال اس نے کی ٹیم میں کام کیا، اوباما کا وزیر دفاع بھی وہی ہے۔ جان برینان جوبش کی ٹیم کا ایک اہم ستون تھا، ان کے بارے میں پیٹریپکر کایہ تبصرہ قابل غور ہے کہ صدر کے لیے اس کی راۓ اہم ترین ہو گئی ہے۔ چیف آف اسٹاف رہن ایمونئل صہیونی لابی کا ایک فرد ہے جو اسرائیل میں جنگی خدمات تک ادا کر چکا ہے۔ فوجی قیادت وہی ہے جو بش کے زمانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی تھیں، یعنی ایڈمرل مولن، جنرل اسٹینلے میک کر سٹل۔ پیکر نے تقریباً ایک درجن سول، خفیہ سروس اور فوج کے شعبوں کے متعلق کلیدی شخصیات کی نشان دہی کی ہے جو اوباما کی ٹیم کا حصہ اور پالیسی بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ بش کے دور کے سی آئی اے کے ڈائر کٹر مائیکل ہائیڈن کے الفاظ میں:
یہ بش انتظامیہ کا تسلسل ہے۔ میرے خیال میں اسے بش کی طرح کہنا بھی دوست نہیں، یہ بش ہی ہے۔ دونوں میں کوئی با معنی فرق نظر نہیں آتا۔ کافی محنت نظر آتی ہے کہ معاملات کونئی طرح پیش کیا جائے مگر اس سے خاص فرق نہیں پڑتا۔
یہی وجہ ہے کہ اوباما کی صدارت سے پالیسی کی تبدیلی کے باب میں جو توقعات مختلف علاقوں نے وابستہ کرنی تھیں وہ بری طرح مجروح ہوئی ہیں، اور امریکا اسی طرح دہشت گردی کی دلدل میں مزید پھنستا چلا جا رہا ہے جس طرح بش کے دور میں یہ سلسلہ شروع ہوا تھا۔ امریکی اور یورپی تجزیہ نگار تو یہ بات کہہ ہی رہے ہیں مگر خود افغانستان سے وہ خاتون رکن پارلیمنٹ جسے ہیرو نا کر پیش کیا گیا تھا، یعنی مالائی جویا ، اوباما کی یکم دسمبر کی تقریر سے صرف ایک دن پہلے اپنے ۳۰ نومبر ۲۰۰۹ء کے ایک مضمون میں جو گلوٹین لندن میں شائع ہوا ہے، کہتی ہیں: کئی مہینوں کے انتظار کے بعد اوباما افغانستان کے لیے نئی حکمت عملی کا اعلان کرنے والے۔ ہیں تقریر کا طویل عرصے سے انتظار ہے لیکن کم ہی لوگوں کو کسی حیران کن بات کی توقع ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ جنگ میں کسی بڑے اضافے کا اعلان کریں گے۔ یہ کرتے ہوئے وہ وہ ’’غلطی ‘‘سے بہت زیادہ کریں گے۔ یہ میرے ملک کے تکلیف اٹھانے والے عوام کے خلاف جنگ کے جرم کا تسلسل ہے۔ اس سال ہم نے افواج میں اضافے کا اثر دیکھا ہے یعنی زیادہ تشدد اور زیادہ شہری ہلاکتیں۔ جنگ کے آٹھ سالوں کے بعد صورت حال عام انسانوں کے لیے خاص طور پر عورتوں کے لیے ہمیشہ کی طرح خراب ہے۔
محترمہ جو یا امریکی عوام کے جذبات کے بارے میں یہ تک کہتی ہیں: رائے عامہ کے جائزے تصدیق کرتے ہیں کہ امریکی عوام جنگ میں اضافہ نہیں، امن چاہتے ہیں۔ بہت سے لوگ اوباما سے یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ بش اور اس کی انتظامیہ کو جنگی جرائم کا ذمہ دار ٹھہر ا ئیں۔ خارجہ پالیسی کے دائرے میں امید اور تبدیلی کے بجاے او بابا پہلی پالیسی پر پہلے سے سے زیادہ عمل پیرا ہیں۔
ورلڈ سوشلسٹ موومنٹ ( International Committee of the Fourth International) نے اپنی ویب پر یکم جنوری ۲۰۱۰ء کو امریکا کی افغان جنگ کے خلاف ایک تفصیلی چارج شیٹ شائع کی ہے جس میں ۲۰۰۸ ، اور ۲۰۰۹ء میں اس جنگ کے نتیجے میں افغانستان اور خود پاکستان میں جو تباہ کاریاں اور ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں ان کو اعداد وشمار کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، اور یہ اعداد و شمار اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ فوجی کارروائیوں کے اضافے سے تشدد اور دہشت گردی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی، بلکہ اس میں معتد یہ اضافہ ہوا ہے اور ۲۰۰۹ و افغانستان کی تازه تاریخ کا سب سے خوشی اور بدترین سال رہا ہے۔ بالعموم ۲۰۰۹ء میں ۲۰۰۸ء کے مقابلے میں اس جنگ کے نتیجے میں ہلاکتوں اور دوسری تباہ کاریوں میں ۵۰ سے ۸۰ فی صد اضافہ ہوا ہے۔ ہم اس رپورٹ سے کچھ اقتباس دیتے ہیں:
- اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ سال کے پہلے مہینوں میں ۲۰۲۸ شہری ہلاک ہوئے جس میں صوبہ فرح میں مئی میں امریکی حملے میں ۱۵۰ء اور ستمبر میں صوبہ کندز میں جرمن افواج کے کروائے ہوئے حملے میں ۱۴۲ افراد شامل ہیں۔ بعد کے دو مہینے میں بھی سیکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں جس میں صوبہ کندز کے دور دراز علاقوں میں ناٹو انوارج نے ۱۰ افرادل کیے، ان میں آٹھ اسکول کے طالب علم تھے۔
- اوباما کے دور میں امریکی فوج نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے ذریعے طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ قائدین کو مارنے کے لیے غیر قانونی قتل و غارت کی مہم میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ اس عمل میں متعدد مرد و خواتین، بچے، راہ گزر ہلاک ہوئے ہیں جنھیں ایک معمول کے ذمنی نقصان کے طور پر بیان کر دیا جاتا ہے۔
- پاکستانی حکومت پر شمال مغربی علاقے میں فوجی آپریشن تیز کرنے کا امریکی دباؤ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اسلامی دہشت گرد حملوں اور ردعمل کی دوسری کا رروائیوں میں ۵۰۰ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور ہزاروں زخمی ہیں۔ پاکستان میں امریکی پالیسی کی مخالفت بہت عام اور بہت زیادہ ہے۔ واشنگٹن سے طویل مدت سے تعلقات کے باوجود پاکستانی فوج کے بعض عناصر میں سخت ناراضی اور مخالفت کے آثار پائے جاتے ہیں۔
- یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں ہے اور نہ پاکستان یا افغانستان کو مدددینے کے لیے ہے بلکہ یہ آس پاس کے توانائی سے بھر پور علاقوں پر امریکی بالا دستی قائم کرنے کی کوشش ہے۔ امریکا کے حکمران طبقے کی طرف سے اوباما افغانستان کو ایک نو آبادیاتی امریکی علاقہ اور وسطی اور جنوبی ایشیا اور شرق اوسط میں مزید سازشوں کے لیے ایک مرکز بنانے کا عزم رکھتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہزاروں جانیں ضائع ہوتی رہیں گی۔
مزاکرات یا نیا جال
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ امریکا کی افغان پالیسی ہر اعتبار سے ناکام رہی ہے اور افغانستان اور پاکستان خصوصیت سے اس کی بڑی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ جس طرح اوبامابش کی پالیسیوں پر کار فرما ہے، اسی طرح پاکستان کی موجودہ قیادت (زرداری گیلانی حکومت) جنرل مشرف کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے اور ملک کو ہر روزنئی مصیبتوں اور ہلاکتوں میں جھونک رہی ہے۔ ملک کی پارلیمنٹ نے اپنے مشترک اجلاس (اکتوبر ۲۹۸۸ء) میں ایک متفقہ قرارداد کے بعد خارجہ پالیسی کو آزاد بنیادوں پر از سر نو مرتب کرنے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شرکت کی پالیسی کو تبدیل کرنے کی سفارش کی تھی۔ ڈرون حملوں کی خدمت بھی نہیں مزاحمت کا مطالبہ کیا تھا اور فوجی حل کی جگہ سیاسی حل اور مذاکرات پر بھی پالیسی کو ملک کے لیے تجویز کیا تھا، مگر حکومت نے ۱۵ مہینے ضائع کر دیے اور پالیسی اور حکمت عملی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی اور ملک تباہی کی دلدل میں مزید دھنستا چلا جا رہا ہے۔
لندن کا نفرنس میں جو حکمت عملی تجویز کی گئی ہے بظاہر اس میں طالبان سے مذاکرات کو ان کا مرکزی پیغام قرار دیا جا رہا ہے مگر یہ ایک دھوکا ہے۔ اس لیے کہ اس حکمت عملی کا اصل مقصد مذاکرات اور مفاہمت نہیں بلکہ طالبان میں پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو (divide and rule) کی سامراجی پالیسی پر عمل ہے۔ ایک طرف فوج کی تعداد کو یہ لیا جا رہا ہے اور دوسری طرف ۵۰۰میلین ڈالر سے لے کر ڈیڑھ ارب ڈالر تک کے فنڈ کے قیام کی باتیں ہو رہی ہیں، اور توقع کی جارہی ہے کہ ڈالروں کے ذریعے طالبان کے ایک بڑے حصے کی وفاداریاں خریدی جاسکیں گی۔ طالبان کی قیادت نے اس کا صاف الفاظ میں جواب دے دیا ہے کہ ہمارا ایمان اور ہمار ی وفاداریاں کوئی قابلِ خرید و فروخت شے نہیں۔ اگر ڈالر اور اقتدار ہماری منزل ہوتی تو بہت پہلے یہ کچھ حاصل کیا جا سکتا تھا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اصل ایشو امریکا او ناٹو افوج کا قبضہ ہے اور جب تک افغانستان سے بیرونی افواج کا انخلا نہیں ہوتا اور اس کا واضح ٹائم ٹیبل طے نہیں ہوتا، کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ طالبان نے دو بڑے اہم بیانات دیے ہیں، ایک نومبر ۲۰۰۹ ء میں عیدالاضحیٰ کے موقع پراور دوسرا لندن کا نفرنس کے جواب میں۔ ان کا گہری نظر سے مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں کھلے الفاظ میں اور بین السطور طالبان کی تازہ سوچ کو اور آئندہ ان کی حکمت عملی کے رخ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تعجب ہے کہ طالبان کے ان بیانات کا پاکستان اور عالمی میڈیا نے قرار واقعی نوٹس نہیں کیا اور ان میں کئی سوچ کے جو روشن استارے ہیں ان سے صرف نظر کر لیا گیا ہے۔ صرف نيويارك ريويو آف بکس کے تازہ شمارے میں ملا عبد السلام ضعیف کی خود نوشت پر جس کا ترجمہ حال ہی میں امریکا سے My Life with the Taliban کے نام سے شائع ہوا ہے، احمد ر شید کے تبصرے میں نومبر ۲۰۰۹ ء والے بیان کا ذکر اس اعتراف کے ساتھ ہے کہ افغان طالبان اب ایک ایسی تحریک ہیں جس کا اثر ملک کے تمام علاقوں میں ہے اور صرف جنوبی افغانستان تک محدود نہیں۔ طالبان کے تصویر حکمرانی کے بارے میں مضمون نگار کا یہ تبصر ہ غور وفکر کا متقاضی ہے۔ دریں اثنا طالبان نے لچک کا پہلا اشارہ دیا ہے جیسا کہ نومبر ۲۰۰۹ ء میں عید کے موقع پر ۱۰ صفحے کے بیان میں ظاہر ہوتا ہے۔ طالبان رہنما ملا عمر نے اپنے جنگجوؤں سے امریکا کے خلاف جہاد کی ایل کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ مستقبل کی طالبان حکومت ان قائم کرے گی، بیرونی افواج کی مداخلت ختم ہوگی اور پڑوسی ممالک کے لیے کوئی خطرہ نہ ہوگا۔ اس میں یہ مضمر ہے کہ افغانستان میں طالبان کے ساتھ القائد دوائیں نہیں آئے گئی۔ ملا عمر نے انتہا پسند سے زیادہ ایک مدبر کے طور پر کہا ہے کہ اسلامی امارت افغانستان تمام ملکوں کے ساتھ مل کر باہمی تعاون اور معاشی ترقی اور باہمی احترام کی بنیاد پر انکے مستقبل کے لیے تعمیری اقدام کرے گی۔
ایک ہفتے بعد اوباما کی تقریر کے ردعمل میں ایک بدلے ہوئے رویے کا اشارہ ملتا ہے۔ جہا دیا اسلامی قانون نافذ کرنے کا ذکر ہی نہ تھا۔ اس کے بجائے طالبان نے افغانستان کی آزادی کے لیے جب وطن اور قومیت کی بنیاد پر جدوجہد کی بات کی اور کہا کہ اگر بیرونی فو جیں افغانستان سے نکل جائیں تو وہ قانونی ضمانت دینے کے لیے تیار ہیں۔ نئے سال کے پیغام میں طالبان نے امریکی فوج کے اضافے کی مذمت کی لیکن اوباما کے ساتھ یہ کہہ کر ہمدردی بھی کی کہ امریکی صدر کو اپنے ملک میں بہت سارے مسائل اور مخالفت کا سامنا ہے ۔سوچ کا یہی رخ طالبان قیادت کے ۲۸ جنوری ۲۰۱۰ ء کے بیان میں بھی واضح ہے جو لندن کا نفرنس کے اعلامیے پر ان کا بر وقت ردعمل ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ امیر المونین ملا عمر نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہم اپنے ملک میں اسلامی قانون چاہتے ہیں۔ ہم پڑوسی ممالک اور دنیا کے ممالک کا نقصان نہیں چاہتے اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں نقصان پہنچائیں۔ ہم اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اسلامی امارت باہمی احترام کے ماحول میں پڑھی ممالک کے ساتھ اس کے مثبت تعلقات چاہتی ہے، اور دوطرفہ تعاون، معاشی ترقی اور خوش حال مستقبل کے لیے دیر پا اقدامات کرنا چاہتی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی ہمارے ارادوں کے جواب میں ایسے ہی ارادے رکھیں۔ مزید بر آن اسلامی امارت اسلامی بنیا دوں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اپنے عوام کی تعلیمی ضروریات پورا کرنے کی پابند ہے۔ اسلامی امارت افغانستان کی لسانی یا نسلی تعصب سے پاک خوش گوار ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے، تا کہ لوگ اتحاد اور قوت کے جذبے سے مل کر کام کر سکیں۔ اس طرح وہ اسلامی حکومت کی حمایت کریں گے جو ہمارے شہدا کی تمناؤں کی عملی شکل ہوگی اور جان و مال، عزت و حیثیت اور قومی اور تاریخی اقدار کی محافظ ہوگی۔
یہ امر افسوس ناک ہے کہ امریکا کی قیادت میں حملہ آور مسئلے کے فوجی حل پر مصر ہیں۔ ہم وضاحت سے کہتا چاہتے ہیں کہ حملہ آور اپنے آپ کو مزید مالی اور جانی نقصان سے بچانا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے عوام کو پر فریب منصوبوں اور حکمت عملی سے دھو کا نہیں دینا چاہیے، ان پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، اور ہمارے عوام کے لیے زیادہ تکلیف اور پریشانیوں کا سبب نہیں بنا چاہیے۔ انھیں اسلامی امارت کا پیش کردہ حل قبول کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک سے حملہ آور فوجیں مکمل طور پر چلی جائیں۔ اس میں حملہ آوروں کے لیے نجات اور تحفظ ہے۔ اگر وہ واقعی مسئلے کے حل کے لیے اقدام کرنا چاہتے ہیں تو انھیں افغانستان، پاکستان، گوانتانامو اور دوسری جیلوں میں موجود لوگوں کو رہا کر دینا چاہیے۔ تمام عالمی اصولوں کے خلاف انھیں اتنے برس جیل میں نہیں رکھنا چاہیے تھا۔ انھیں اپنی بلیک لسٹ مکمل ختم کر دینا چاہیے تھی اور مزید فوج نہیں بھیجنا چاہیے تھی۔ جو وہ کہتے ہیں وہ کرنا چاہیے تھا۔
آخر میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ حملہ آوروں کی غارت گری اور سفاکیت کے خلاف ہمارے مسلمان اور غیور عوام کی مزاحمت اور جہاد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ دشمن مختلف ہتھکنڈوں سے ان کی قوت کو نہ کمزور کر سکتا ہے اور نہ ختم کر سکتا ہے۔ انھوں نے ماضی میں بھی کوشش کی ہے اور اب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ ہمارے بہادر مسلمان عوام اور ان کی قیادت اسلامی امارت کو الجھائیں۔ کبھی وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ جو مجاہدین جہاد کا راستہ ترک کرنے کے لیے تیار ہوں ، وہ انہیں مال و دولت، روزگار اور ملک سے با ہر ایک آرام دہ زندگی گزارنے کے مواقع فراہم کریں گے وہ سمجھتے ہیں کہ مجاہدین نے رقم حاصل کرنے کے لیے، یا اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپنے ہتھیار اٹھائے ہیں یا انھیں مجبور کیا گیا ہے کہ ہتھیار اٹھا ئیں۔ یہ بے بنیاد اور مہمل بات ہے۔ اگر اسلامی امارت کے مجاہدین کا مقصد مالی مقاصد حاصل کرنا ہوتا تو وہ پہلے بھی حملہ آوروں کے غلبے کو تسلیم کر لیتے اور ان کی حمایت کرتے۔ ہر چیز ان کی پہنچ میں تھی ، آرام دہ زندگی، مال و دولت اور اقتدار لیکن اسلامی امارت عقیدے ، ضمیر اور اپنی سرزمین کا مادی مفادات کے لیے سودا نہیں کرے گی اور نہ ذاتی مراعات اور دھمکیوں کی بنیاد پر ان کو دبایا جا سکے گا۔ افغانستان کے غیور عوام کی تاریخ میں اس طرح کا گھناؤنا کھیل کبھی کا میاب نہیں ہوا۔
مجوزه افغان پالیسی: بنیادی خطوط
طالبان قیادت کے یہ بیانات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں اور بحران سے نکلنے کے لیے ابتدائی خطوط کار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امریکا اور پاکستان دونوں کے لیے صحیح افغان پالیسی وہی ہو سکتی ہے جس میں مندرجہ ذیل امور کومرکزی حیثیت حاصل ہو۔
۱۔فوری جنگ بندی اور افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجیوں کا ایک طے شدہ نظام کار کے مطابق مکمل انخلا
۲- افغانستان میں قومی مفاہمت کا آغاز جس میں ملک کی تمام سیاسی اور دینی قوتوں کی مذاکرات میں شرکت اور قومی جرگے کے ذریعے نئے نقشہ کار پر اتفاق کا حصول۔
۳۔بیرونی افواج کے ساتھ دوسری بیرونی قوتوں کے بارے میں واضح پالیسی اور افہام و تصمیم کے ذریعے اور مہمان داری کی اسلامی اور افغان روایات کے مطابق، اور ان مقاصد اور حدود کا پورا کا ڈر رکھتے ہوئے جو حالات کا تقاضا ہے، مناسب کارروائی۔
۴- افغانستان کے معاملات میں بھارت کے کردار پر نظر ثانی اور امریکا اور بھارت کی ملی بھگت سے جو کھیل وہاں تعمیر وترقی اور تربیت کے نام پر کھیلا جا رہا ہے، اس کا مکمل سدباب۔
۵۔ قومی مفاہمت اور علاقائی امن کے حصول کے عمل میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کا مشورہ اور شراکت، اور ایک دوسرے کے معاملات میں مکمل عدم مداخلت اور شفاف تعلقات کے نظام کار پر اتفاق نیز باہم رضامندی سے تاریخی تعلقات اور روایات کی روشنی میں تعاون اور امداد باہمی کے نظام کا قیام۔
۶ – افغانستان کی معاشی، تعلیمی اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے فوری اور لمبے عرصے کی منصوبہ بندی، وسائل کی فراہمی اور عملی نقشہ کار اورتقسیم کار کا اہتمام۔
۷۔ عالمی سامراجی چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور عالمی سطح پر حقیقی دوستی اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے مناسب منصوبہ بندی اور نقشہ کار۔
۸۔افغانستان نے گذشتہ ۳۰ سال میں اور خصوصیت سے گذشتہ ۱۰ سال میں جو نقصانات اٹھائے ہیں ان کا سائنسی بنیادوں پر تخمینہ اور تعین اور ان کی تلافی اور آئندہ کی ترقی کے لیے وسائل کی فراہمی کے لیے امت مسلمہ اور عالمی سطح پر قابل عمل منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد کے نظام کا قیام۔



