BooksInternational RelationsKashmir

پاکستان کی کشمیر پالیسی

  • بھارتی اقدامات اور پاکستان کی کشمیر پالیسی
  • پاک بھارت مذاکرات: احتیاط کی ضرورت، تنازعہ کشمیر کاحلاور تقسیم کشمیر کی تجاویز
  • تنازعہ کشمیر کا حل: نئی تجاویز
  • تنازعہ کشمیر کا حل: چار نکاتی فارمولا
  • مسئلہ کشمیر: واضح اور مضبوط موقف کی ضرورت

                مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کے سلسلہ میں سفارتی، سیاسی اور دفاعی سطح پر پاکستان کی پالیسی یکساں رخ پر اور یکساں نہج سے جاری نہیں رہ سکی۔ قیادت کے وژن، خطے کے حالات، عالمی طاقتوں کے دباؤ جیسے عوامل یقینا اس کے پس منظر میں نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر ۲۰۰۱ء کے بعد اس پہلو سے پاکستان کا اصولی موقف بھی نظر انداز ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اس دور میں مصنف نے تاریخی تناظر ، خطے کی صورت حال، حق خود ارادیت کے حوالے سے عالمی قوانین اور کشمیری عوام کی قربانیوں اور امنگوں کی روشنی میں بار بار سیدھے راستے کی وضاحت کی اور قومی سطح پر درست فیصلے کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس حصے میں ان مضامین کو یکجا کیا گیا ہے جو پاکستان کی کشمیر پالیسی کی تاریخ بیان کرتے ، اس کا تجزیہ کرتے اور آئندہ کے لیے درست سمت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بھارتی اقدامات اور پاکستان کی کشمیر پالیسی

کشمیر پر پاکستان کی قومی پالیسی طے کرتے وقت دو امور کوضر ور نظر میں رکھنا ہوگا۔ ایک یہ کہ ہندوستان کے اسٹریٹیجک عزائم اور کشمیر پر اس کی حکمت عملی کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ سرد جنگ کے خاتمہ کے بعد عالمی حالات میں کیا تبدیلیاں رونما ہو ئیں اور عالمی طاقتیں اس علاقے میں کیا کھیل کھیل رہی ہیں ۔ جون ۱۹۹۴ء کی اس تحریر میں ان دونوں پہلوؤں کا جائزہ اور تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اور ان بدلتے حالات میں پاکستان کی کشمیر پالیسی کے لیے لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔ (مرتب)

کشمیر کی تحریک آزادی کے معروضی حقائق، پاکستان کے لیے کشمیر کی تاریخی، نظریاتی، جغرافیائی ، معاشی ، سیاسی ،تہذیبی اور عسکری اہمیت ، پاکستانی عوام اور کشمیری مسلمانوں کے جذبات اور عزائم کی یکسانیت کے پس منظر میں جب پاکستان کی حکومتوں کی کشمیر پالیسی کا بے لاگ تجزیہ کیا جائے تو حاصل پریشانی اور تشویش کے سوا کچھ نہیں۔ سیاسی قیادت، الا ماشاء اللہ کشمیر کے بارے میں ایک واضح مبنی بر حقیقت، جرات مندانہ اور مربوط پالیسی اختیار کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایک طرف قائد اعظم کے یہ الفاظ دل و دماغ میں گونجتے ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور دوسری طرف اس شہ رگ کی حفاظت سے ایسی غفلت ، سہل انگاری اور ژولیدہ فکری نظر آتی ہے جس کی کوئی توجیہ ممکن نہیں۔

فکری انتشار کا پہلا مظہر ریاستوں کے بارے میں عمومی پالیسی کا تضاد تھا۔ اس میں یہ بنیادی نکتہ ملحوظ رکھا گیا کہ ریاستوں کی قسمت کا آخری فیصلہ اس کے عوام کی رائے ہی سے ممکن ہے۔ پھر جتنےمواقع مسئلہ کے حل کےلیے آئے، امریکہ کی خوشنودی، اپنی کم ہمتی، یا کبھی مجبوری کی وجہ سے سب ضائع ، کر دیے گئے ۔ ہندوستان نے کشمیر پر قبضہ کے لیے فوجی قوت کا سہارا لیا تو قائد اعظم نے جوابی کاروائی کا حکم دیا، مگر پاکستانی فوج کی انگریز قیادت نے اس حکم پر عمل کرنے سے انکار کر دیا۔ اس طرح ایک نادر تاریخی موقع ہاتھ سے نکل گیا۔

 جب ہندوستان پر عوام اور مجاہدین کا دباؤ بڑھا تو اس نے اقوام متحدہ کی راہ لی۔ یہاں بھی پاکستان نے ایسے موقع پر جنگ بندی کا معاہدہ کر لیا جب مسلم قوتوں کا پلڑا بھاری ہو رہا تھا اور مسئلہ کا عوامی حل قریب نظر آ رہا تھا۔ ہندوستان نے نازک تاریخی لمحات کو غیر موثر بنانے کے لیے بار بار مذاکرات کا چکر چلایا، اور پاکستان کی قیادت ہر بار اس جال میں پھنستی رہی۔ سب سے اہم موقع ۱۹۶۲ء کی چین ۔ بھارت جنگ نے فراہم کیا تھا، لیکن ہم ہندوستان کے سفارتی جھانسہ کا شکار ہو گئے اور مذاکرات کی بھول بھلیوں میں ایک اور تاریخی موقع کو ضائع کر دیا۔ ۱۹۶۵ء میں مناسب تیاری اور مقبوضہ کشمیر میں زمین ہموار کیے بغیر ایک بڑا اقدام کر دیا گیا، جس کے نتیجہ میں بالآخر تا شفتند کی ہزیمت سے دو چار ہونا پڑا ، علاقہ میں روس کا عمل دخل بڑھ گیا، اور ہندوستان اور روس کے تعاون نے علاقہ کی سیاست کے نقشے کو ہی تبدیل کر دیا۔

 ۱۹۷۱ء کی شکست کے بعد شملہ معاہدہ کیا گیا جس کے ذریعہ ہندوستان نے کوشش کی کہ کشمیر کے مسئلہ کو ایک بین الاقوامی مسئلہ کے بجائے محض پاکستان اور ہندوستان میں “دو طرفہ معاملہ” بنادے۔ بلکہ اس کا اصل مقصد تو جنگ بندی لائن کو لائن آف کنٹرول میں تبدیل کر کے، اسے بالآخر بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرناتھا۔ ہندوستان کے سفارت کاروں کا دعویٰ بھی یہی ہے کہ اس بات کو جناب بھٹو سے تسلیم کرالیا گیا تھا۔ مگر ایسی کوئی چیز تحریری شکل میں موجود نہیں ہے، بلکہ معاہدہ شملہ میں بین الاقوامی معاہدات اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کوتسلیم کیا گیا ہے اور کشمیر کے مسئلہ کے آخری حل کی ضرورت کا اقرار کیا گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے بعد بین الاقوامی اداروں میں مسئلہ کشمیر کواٹھانے سے عملاً احتراز کیا گیا۔

تحریک آزادی کشمیر: بدلتے حالات اور پاکستان کی پالیسی

گذشتہ ۹ سال میں سات حکومتیں برسراقتدار رہی ہیں ، ان میں سے ہر ایک نے چند نیم دلانہ اقدامات عوام کو خوش کرنے کے لیے اور جہاد کشمیر کی تقویت کے لیے کیے، تو اسی لئے بیرونی ممالک کے دباؤ اور اپنی کم ہمتی کے باعث ایسے اقدامات بھی کیے جن سے اس عظیم جدو جہد کو شدید نقصانات پہنچے۔ پیپلز پارٹی کے برسراقتدار آنے کے بعد ، دسمبر ۱۹۸۸ء میں راجیوگاندھی کی آمد پر،  اسلام آباد سے کشمیر ہاؤس کا بورڈ اتروا دینا اور ریڈیوٹی وی سے آزاد کشمیر کے موسم کے اعلانات روک دینا، صرف بزدلی ہی نہیں، کشمیر کے بارے میں کمزوری اور رجعت قہقری کی علامت بھی تھا۔ پھر جب ہندوستان کے وزیر اعظم نے کشمیر میں ریفرنڈم نہ کرانے کے جواب میں کہا کہ وہاں آٹھ بار انتخاب ہو چکا ہے، تو پاکستان کی وزیر اعظم خاموش بیٹھی رہیں۔ انھیں اتنا کہنے کی جرات بھی نہ ہوئی کہ یہ ہندوستان کا موقف ہے، ہمارا موقف اس سے جدا ہے۔ اسی طرح سکھوں کے بارے میں جو روش اختیار کی گئی ، اور جس کا حال ہی میں اعتراف بھی کر لیا گیا ہے، اس سے بھی کشمیر میں جہاد کمزور ہوا، پنجاب کے بارے میں اطمینان کا سانس لینے کے بعد بالآخر ہندوستان نے کشمیر میں بھی اپنی عسکری قوت میں تقریبا پچاس فیصد کا اضافہ کرلیا۔

جناب نواز شریف کشمیر کی آزادی کے نعرے پر انتخاب جیت کر وزیر اعظم بنے ، لیکن امریکہ کے دباؤ کی مزاحمت نہ کر سکے۔ جب پاکستان کو دہشت گر دریاست قرار دینے کی دھمکی دی گئی تو ان کی حکومت نے بوکھلا کر گھٹنے ٹیک دیے۔ تیسرے آپشن کی باتیں کی گئیں تحریک کی امداد سے دست کشی کا آغاز کیا گیا، اور اسے غیر حکومتی اداروں (NGOs) کے ہاتھوں میں منتقل کرنے کی منصوبہ بندی ہوئی۔ عالمی سطح پر جتنی سرگرمی کی ضرورت تھی اس کا عشر عشیر بھی نہ کیا گیا۔ تین سال اقتدار میں رہنے کے باوجود کشمیر کے بارے میں مربوط اور یکساں پالیسی نہ بنائی گئی۔ ان کے دور میں بعض مخصوص گروہوں کی پشت پناہی کی گئی مجاہدین کو آپس میں تقسیم کیا گیا، اور تحریک کی امداد کے لیے کوئی موثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔

                جناب معین قریشی، نے کشمیر کے مسئلہ کو نیوکلیر پالیسی سے جوڑ کر، خود نیوکلیر پالیسی کو ہی کنفیوژن میں لپیٹ دیا۔ حالانکہ نیوکلیر پاور کی جتنی ضرورت جہاد کشمیر کے دوران ہے، اس سے زیادہ ضرورت اس کی کامیابی کے بعد ہوگی ، تا کہ پاکستان اور کشمیر کی حفاظت ہو سکے۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکومت گوز بانی طور پر اب کشمیر کے مسئلہ میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہے، لیکن فی الحقیقت اب بھی حکومت ایک مربوط اور موثر پالیسی سے محروم ہے۔ وزارت خارجہ کسی اور ذہن سے کام کر رہی ہے، اور کچھ دوسرے ادارے کسی اور انداز میں۔ اقتدار سنبھالتے ہی اقوام متحدہ سے کشمیر کی قرارداد واپس لے لی گئی ، جو ایک فاش غلطی تھی۔ پھر جس طرح جنیوا میں انسانی حقوق کے کمیشن میں معاملہ کیا گیا اس کو دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ ؎

گر ہمیں مکتب و ہمیں ملا

کار طفلاں تمام خواهد شد

حکومت نے مسئلہ کو اٹھانے کے لیے ایک ایسے فورم کا انتخاب کیا جس میں صرف بنیادی حقوق کی بات ہو سکتی تھی لیکن حق خود ارادیت کے معاملہ کو نہیں اٹھایا جا سکتا تھا۔ پھر ہندوستان کی سفارتی مہم کے مقابلہ میں بڑے کمزور اور غیر موثر انداز میں وہاں پاکستان کا موقف پیش کیا گیا: متعلقہ ممالک کی تائید حاصل کرنے کی مہم غیر مرتب تھی ، سفارتی ٹیم کمزور اور غیر موثر تھی، حقائق کا عدم ادراک اور صحیح معلومات کا فقدان تھا، قوم کو آخری وقت تک خوش فہمیوں میں مبتلا رکھا گیا، اور آخری وقت میں اپنے پرانے دوستوں چین اور ایران کی بھی مکمل تائید سے محروم ہو کر قرارداد کو واپس لیا گیا… اور واپس لینے کے بعد سے آج تک رٹ لگائی جارہی ہے کہ قرارداد معلق ہے، واپس نہیں لی گئی ، اور اس سفارتی شکست کو ایک کامیابی بنا کر پیش کرنے کی بھونڈی کوشش کی جارہی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ کشمیر پر ایک حکیمانہ اور جرات مندانہ پالیسی بالکل واضح اور دوٹوک انداز میں مرتب ہونی چاہیے۔ اس پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہونی چاہیے۔ ضرورت ہے کہ زندگی اور موت کے اس مسئلہ کو سیاست کا کھلونا نہ بنایا جائے۔ سنجیدہ غور وفکر او ر مخلصانہ مذاکرات کے ذریعہ ایک ایسی موثر پالیسی وضع کرنے کے ساتھ ساتھ ، اس کے نفاذ کے لیے قومی سطح پر موثر مشینری بھی قائم کرنا چاہیے۔

کشمیر پر قومی پالیسی کیا ہو؟ یہ طے کرنے سے پہلے دو امور کا جائزہ ضروری ہے۔ پہلا یہ کہ اس وقت ہندوستان کے اسٹریٹیجک عزائم کیا ہیں، اور کشمیر کے بارے میں اس کی حکمت عملی کیا ہے۔ دوسرے یہ کہ امریکہ اور مغربی اقوام، بظاہر سرد جنگ کے ختم ہو جانے اور ان کے اپنے زعم میں ایک قسم کی یک مرکزی دنیا (Unipoler world) کے وجود میں آنے کے بعد، اس علاقے میں کیا کھیل کھیل رہی ہیں اور ان کے اہداف کیا ہیں۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی کی تشکیل میں ان دونوں عوامل کو ملحوظ رکھنا، اور ان کی روشنی میں منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔

ہندوستان کا اصل ہدف نہ صرف ایک علاقائی سپر پاور بننا، بلکہ ایک ورلڈ پاور بننا ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی ایک مستقل نشست حاصل ہو۔ کشمیر کے بارے میں ہندوستان ابھی تک اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ اسے قوت کے ذریعہ سے اپنے قابو میں رکھ سکتا ہے۔ جنیوا میں جو محدود سفارتی کامیابی اسے حاصل ہوئی ہے، اس نے اس کے نشہ کو کچھ اور بھی بڑھا دیا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوا ہے کہ کانگریس اور بی جے پی کشمیر کی حد تک ، ایک دوسرے سے قریب آگئے ہیں، اور ان کی پالیسی کے اہداف میں یکسانی پیدا ہو رہی ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ میں کشمیر پر جو مذموم قرار داد منظور ہوئی ہے، وہ ہندو انتہا پسندوں کی فکر کی غماز ہے۔ اب ہر فورم پر جن بحثوں کو اٹھایا جا رہا ہے، وہ بھی بی جے پی کے ذہن کی پیداوار ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستان کی پالیسی میں تشدد اور عدم لچک میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس پر وہاں کے سوچنے سمجھنے والے عناصر کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ اصل زمینی حقائق سے یہ پالیسی بہت دور ہے۔ ان شاء اللہ اسکا انجام بالآخر اس سے مختلف نہیں ہو سکتا جو روس کی اسی نوعیت کی افغان پالیسی کا ہوا۔

ا۔ ہندوستان کا پہلا ہدف ، کشمیر کو ہر صورت میں اپنے قابو میں رکھنا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وہ ایک طرف کشمیر میں اپنی تشدد کی پالیسی کو اس انتہا تک لے جارہا ہے جسے عسکری اصطلاح میں زمین سوز حکمت عملی (Scortch earth policy) کہتے ہیں۔ یعنی، ہر چیز راکھ کردو… فصلیں، عمارتیں، انسان   اور اس طرح دشمن پر قابو پالو۔

۲۔ دوسری طرف وہ سیاسی بات چیت کا کھیل بھی کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پرانے سیاسی مہروں کو دوبارہ حرکت میں لایا گیا ہے۔ چاون اور راجیش پائلٹ دونوں نے مذاکرات کا دروازہ کھولنے کے لیے نئی کوششیں شروع کی ہیں۔ دستور کی دفعہ ۳۷۰ کے دائرے میں، بلکہ اس سے باہر دفعہ۳۷۰ بھی، بشرطیکہ ہندوستان سے وابستگی رکھی جائے، مزید خود مختاری کے اشارے دیے جارہے ہیں ۔اس ، بارے میں کئی نئے شوشے بھی چھوڑے جارہے ہیں مگر ابھی تک کسی سمت سے بھی کوئی مثبت ردعملسامنے نہیں آیا ہے۔

۳۔ ہندوستان کا تیسرا ہتھیار، مجاہدین اور تحریک آزادی کے سیاسی محاذ کے درمیان پھوٹ ڈالنا، مجاہدین کی تنظیموں کو ایک دوسرے سے دست بگر یباں کرنا ، ان کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنا، اور اس طرح ان کی صفوں کو کمزور اور منتشر کرنا ہے۔ اس سلسلے میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ اور حزب المجاہدین کو آپس میں لڑانا اور فرنٹ کے ذریعے پاکستان دوست قوتوں کو کمزور کرنا، نیز کل جماعتی حریت کانفرنس میں انتشار پیدا کرنا بھی اس کے منصوبے ہیں ۔

۴۔ ہندوستان کی پالیسیوں کا ایک اور شاطرانہ حصہ تیسرا آپشن یعنی خود مختار کشمیر ہے۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ کچھ لوگ خلوص سے بھی آزادی کی بات کرتے ہوں گے لیکن یہ ہندوستان کی پالیسی کا بڑا اہم حصہ ہے۔ اس نے اسے آخری حربے کے طور پر اپنی پالیسی کا حصہ بنایا ہے کہ کشمیر ہندوستان کا حصہ نہ رہ سکے تو وہ پاکستان سے مل کر پاکستان اور برعظیم کے مسلمانوں کی قوت میں اضافے کا ذریعہ بھی نہ بن سکے بلکہ ایک ایسی کمزور آزاد مملکت وجود میں آجائے جسے مفاد کی جنگ میں بآسانی استعمال کیا جاسکے۔امریکہ اور چند مغربی اقوام بھی اپنے مفاد کے چکر میں کسی ایسے ہی نظام کے فکر میں ہیں جس کے ذریعے ان کو ایشیا کے اس اہم اور حساس علاقے میں اپنے قدم جمانے اور اپنے مفاد کی خاطر ایک کمزور ملک کی حیثیت سے کشمیر کو استعمال کرنے کا موقع مل سکے۔

۵۔ ہندوستان ایک طرف پاکستان پر مسلسل فوجی دباؤ بھی بڑھا رہا ہے اور دوسری طرف امریکہ اور مغربی ممالک میں پاکستان کے خلاف زبر دست سفارتی مہم چلا رہا ہے تا کہ دوسرے ممالک سے پاکستان پر فوجی ، معاشی اور سیاسی دباؤ ڈلوایا جاسکے۔

یہ پانچ نکاتی حکمت عملی ہے جس پر ہندوستان کار بند ہے۔ یہ حکمت عملی بالکل فوجی حکمت عملی کے طور پر بنائی گئی ہے۔ یعنی بظاہر ایک دوسرے سے غیر مربوط اہداف لیکن دراصل مختلف امکانات کو سامنے رکھ کر متبادل ترجیحات کی صورت میں ان کو ایک ہی پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تا کہ اگر ایک ہدف حاصل نہ ہو سکے تو دوسر یا تیسرا حاصل کیا جا سکے۔ اس طرح خود مذاکراتی پوزیشن میں تغیر وتبد یلی بھی ممکن ہو سکے۔

خود مختار کشمیر کی بات ہندوستان نے اسی وقت سے شروع کر دی تھی جب اسے ابتدائی دور ہی میں یہ اندازہ ہونے لگا تھا کہ اگر استصواب رائے ہوا تو اس کے نتیجے میں کشمیر کے عوام پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کریں گے۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی قرارداد میں صرف دو آپشن واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں، یعنی ہندوستان یا پاکستان سے الحاق ۔ ۲۸ جنوری ۱۹۴۸ء کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے صدر نے مسئلہ کی جامع اور قاطع تشکیل اس طرح کی:

جو دستاویزات ہمارے سامنے ہیں وہ صاف ظاہر کرتی ہیں کہ دونوں پارٹیوں ( یعنی ہندوستان اور پاکستان ) کے درمیان مندرجہ ذیل تین امور پر مکمل اتفاق ہے:

۱- یہ سوال کہ ریاست جموں و کشمیر کا الحاق ہندوستان سے ہوگا یا پاکستان سے، اس کا فیصلہ استصواب رائے کے ذریعے ہوگا۔

۲-استصواب کا انعقاد ایسے حالات میں کیا جائے گا جن کے بارے میں یہ یقین ہو کہ وہ مکمل طور پر غیر جانبدار ہیں۔

۳-یعنی یہ استصواب اقوام متحدہ کے زیر اہتمام منعقد ہوگا۔

یہی وہ موقع تھا کہ ہندوستان کے نمائندوں نے خود مختار کشمیر کا شوشہ چھوڑا۔ گوپال سوامی آئنگر نے، جو اقوام متحدہ میں ہندوستان کے نمائندہ تھے ، ۱۵ جنوری ۱۹۴۸ء کو کہا :

ہم سب نے اتفاق کیا ہے کہ [ کشمیر کے ] معاملات کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق فیصلہ طلب امور ہیں۔ ان میں یہ مسئلہ بھی شامل ہے کہ آیا کشمیر ہندوستان سے اپنے الحاق کی نفی کرتا ہے یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرتا ہے یا آزا در ہنے کا فیصلہ کرتا ہے جس میں وہ اقوام متحدہ کا رکن بن سکے۔

اس کے بعد ۱۹۶۴ء میں شیخ عبداللہ پاکستان آئے اور فیلڈ مارشل ایوب سے ملاقات کی ۔اس میں انہوں نے خود مختار کشمیر اور کشمیر، ہندوستان اور پاکستان کے کنفیڈریشن کی بات کی جسے صدرپاکستان نے موثر انداز میں رد کر دیا اور کہا کہ یہ ایک آپشن نہیں ایک استعماری سازش ہے۔ بقول الطاف گوہر اس مسئلے پر شیخ عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ اہل کشمیر کا مستقبل پاکستان سے وابستہ ہے ۔

          بدقسمتی سے ایک زمانے سے خود پاکستان کی وزارت خارجہ اور خود دوسری ایجنسیوں کے چند دانشور اس بات کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ وہ اپنی خام خیالی میں اسے ہندوستان پر دباؤ ڈالنے کا ایک موثر ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ اپنے ملک اور ملت اسلامیہ کے حقیقی عزائم اور مفادات سے بے خبری اور خود اپنے ہاتھوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلانے کی اس سے زیادہ افسوسناک مثال اورکیا ہو سکتی ہے!

                کشمیر کی تحریک مزاحمت آج اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ کشمیر کا ہندوستان سے وابستہ رہنا ناممکن ہوتا جارہا ہے۔ اس لیے خود مختار کشمیر کی بات کو مختلف شکلوں اور منصوبوں کی صورت میں ایک بار پھر پیش کیا جارہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کے نتائج و عواقب کو سامنے رکھا جائے۔ ہندوستان کا اصل مقصد تحریک مزاحمت کو کمزور کرنا، کشمیر کے مسلمانوں کو الجھاؤ میں ڈالنا، تحریک کو پاکستان اور اہل پاکستان کی ہمدردیوں سے محروم کرنا، اور بالآخر .. اگر ہندوستان کے لیے کشمیر پر قبضہ ناممکن ہو جائے تو اسے حقیقی آزادی اور پاکستان سے مل کر ایک موثر قوت بن جانے سے روکنا ہے۔ وہ کسی صورت بھی پاکستان کو مضبوط دیکھنا نہیں چاہتا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اگر کشمیر ہاتھ سے جاتا ہے تو وہ خود مختار کشمیر کے شوشے کے ذریعے کشمیر اور پاکستان کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرے اور کشمیر کے ان عناصر کے ساتھ ساز باز کے ذریعے جواب تک  اس کا آلہ کار بنے رہے ہیں کشمیر کی اسلامی قوتوں سے ان کو نبرد آزما کرے، کشمیریوں کو مسلسل لڑا تار ہے اور کشمیر اور پاکستان میں نزاع اور تصادم پیدا کرے تا کہ پاکستان اور کشمیر دونوں کو کمزور کرنے کا کھیل کھیل سکے۔

یہاں مغربی اقوام کے کردار کا ذکر بھی ضروری ہے۔ امریکہ نے پہلے تو مسئلے کے وجود کا اعتراف کرنے سے احتراز کیا۔ لیکن جب انسانی حقوق کی پامالی اور خود امریکی رائے عامہ اور ارکان کانگریس کے دباؤ سے اسے اس مسئلے کوتسلیم کرنا پڑا تو اس کے پالیسی ساز ایسے منصوبے بنانے میں مشغول ہو گئے جن سے علاقے میں امریکی مقاصد کو حاصل کرنے میں مددمل سکے۔

امریکہ ایک طرف اس علاقے میں ہندوستان کی بالا دستی کو نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ پورے جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا میں ہندوستان کو ایک بڑی طاقت کی حیثیت سے تسلیم کرانا چاہتا ہے۔ اس کا ایک مقصد چین کے مقابلے میں ایک ایسی قوت کی پشت پناہی ہے جو ایشیا میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکے۔ نیز صیہونی اور سیکولر لابی نے جس طرح اسلامی احیا کی تحریک کو امریکہ اور مغرب کےابھرتےہوئے دشمن کی طرح پیش کیا ہے، اس پس منظر میں بھی سیکولر ہندوستان کو ، جو سوشلزم سے  تائب ہو کر سرمایہ داری کا علمبردار بن چکا ہے، ایک حلیف کی حیثیت دی جارہی ہے۔ امریکہ کے دانشوروں کی طرف سے اس زمانہ میں چند تجاویز پورے زور و شور سے پیش کی جارہی ہیں۔ ان سب کا اصل مقصد ہندوستان کی اس حیثیت کا تحفظ اور علاقے میں امریکہ کے اپنے قدم مضبوط کرنا ہے۔ مثلاً کشمیر میں موجودہ لائن آف کنٹرول ہی کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کر لیا جائے اور اس طرح معاملے کو رفع دفع کر دیا جائے ۔

ہندوستان کا تو معاہدہ شملہ کے بعد ہی سے یہ ہدف رہا ہے۔ اہل کشمیر اور پاکستان نے اس کو بالکل مسترد کر دیا ہے، پھر بھی امریکی اور ہندوستانی برابر اس کا راگ الاپتے رہتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال امریکن کانگریس کی امور خارجہ کمیٹی کے سربراہ لی ہملٹن کی وہ تقریر ہے جو وہا ں کی ایشیا سوسائٹی کے اجلاس میں کی گئی۔ اس سے پہلے سلیگ ہیریسن اور اسٹیفن سولارز جو انڈیا لابی کے سرخیل رہے ہیں، ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کو مستقل سرحد بنانا پاکستان اور اہل کشمیر کے لیے تو ہمیشہ ہی سے ناقابل قبول تھا، اب سیاسی اور تاریخی حقائق کی روشنی میں بھی یہ نا قابل غور ہو گیا ہے۔ یہ منصوبہ ان شاء اللہ بہت جلد اپنی موت آپ مر جائے گا۔

 جس اسکیم پر زیادہ کام ہو رہا ہے ، وہ یہ ہے کہ جموں اور لداخ کے ہندو اکثریت کے علاقے ہندوستان میں مدغم کر دیے جائیں، باقی علاقے کو ایک آزاد یا نیم آزاد ریاست کی شکل دے دی جائے۔ اس کی مختلف شکلیں بیان کی جارہی ہیں۔ یعنی،

(الف) گلگت اور شمالی علاقہ پاکستان میں ملا دیے جائیں اور موجودہ آزاد کشمیر سمیت باقی حصے کو ایک آزاد یا نیم آزاد ریاست بنا دیا جائے۔

(ب) گلگت ، شمالی علاقہ اور آزاد کشمیر کو پاکستان میں ملا دیا جائے اور صرف کشمیر کی وادی اور جموں کے مسلم علاقوں کو ملا کر ایک ریاست بنائی جائے۔

 (ج) خود مختار کشمیر کو (اس کی حدود جو بھی طے ہوں ) ہندوستان اور پاکستان دونوں کی سر پرستی اور مشترکہ حاکمیت (Condiminium) کے تحت رکھا جائے ۔

(ھ) خود مختار کشمیر مکمل طور پر آزاد ہو اور اس کی ترقی کے لیے امریکہ اور مغربی ممالک اسی طرح مدد کریں جس طرح غزہ اور اریحا کے فلسطینی علاقے کے متعلق منصوبے بنائے جارہے ہیں۔

                 ایک اسکیم یہ بھی ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کو ایک وحدت رکھا جائے ۔ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کو ملا کر ایک ریاست بنے اور یہ پوری ریاست مکمل طور پر ایک آزادریاست ہو۔ اسے اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ میں دیا جائے یا یہ ہندوستان اور پاکستان کی مشترک حاکمیت میں ہو۔ ہماری نگاہ میں یہ سب تجاویز مسلمانان کشمیر اور پاکستان کے خلاف سازش کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا اصل مقصد مسئلہ کشمیر کوحل کرنا نہیں مستقل الجھا دینا ہے اور علاقہ میں دائمی کشمکش اور خود مسلمانوں کے درمیان تصادم اور افتراق کا بیج  بوناہے۔

سیدھی بات یہ ہے کہ ریاست جموں و کشمیر کےمسئلہ کا تعلق تقسیم ملک کی اس اسکیم سے ہے جس پر ہندوستان اور پاکستان کی ریاستیں قائم ہوئیں۔ مسئلہ کی سیاسی، اخلاقی، قانونی بنیاد تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے، جسے ہندوستان نے آج تک مکمل نہیں ہونے دیا۔ اب وہ چاہتا ہے کہ اتنی قربانیوں کے باوجود یہ معاملہ طے نہ ہونے پائے۔ ہندوستان نے اپنے مفاد کی خاطر تو حیدر آباد جیسی ریاست پر قبضہ کیا، گوا جیسے بین الاقوامی علاقے کو فوج کشی کے ذریعے اپنے قبضے میں لیا، کشمیر کو بزوراب تک اپنے قابو میں رکھا سکم اور بھوٹان کی حاکمیت کا مذاق اڑایا، مالدیپ میں فوج بھیجی مشرقی پاکستان کو فوج کشی کے ذریعے پاکستان سے کاٹا ، سری لنکا میں کھلی کھلی مداخلت کی لیکن اب جبکہ کشمیر کا مسئلہ صحیح رخ پر عوام کی مرضی کے ذریعے سے حل ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تو اس مسئلے کو مزید الجھانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ اگر ایک مرتبہ ہم تقسیم ملک کے اساسی اصول سے انحراف کرتے ہیں تو پھر منصفانہ حل کے لیے کوئی قانونی اور سیاسی بنیاد باقی نہیں رہے گی۔

مسئلہ کشمیر کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہندوستان نے گزشتہ ۴۷ سالوں میں جموں وکشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو ایک منصوبے کے تحت کم کیا ہے۔ ۱۹۴۱ء کی مردم شماری کے مطابق مسلمان پوری ریاست کی آبادی کا ۸۰ فیصد تھے۔ ۱۹۵۱ء میں مقبوضہ کشمیر میں ان کا تناسب ۷ فیصدرہ گیا۔ ۱۹۹۱ء کی مردم شماری کے مطابق اب یہ تناسب ۶۲ فیصد ہو گیا ہے۔ ان حالات میں یہ خطرہ بھی موجود ہے، کہ اگر استصواب ہوا اور اس میں دو کی بجائے تین آپشن دیے گئے، تو ہندو آبادی اور مفاد پرست مسلمان متفقہ طور پر ہندوستان کے حق میں رائے ڈالیں، اور باقی مسلمانوں کا ووٹ پاکستان اور خود مختار کشمیر کے درمیان بٹ جائے۔ اس طرح ہندوستان وہ مقصد حاصل کرلے جو وہ آج تک نہ سیاسی چالوں سے حاصل کر سکا اور نہ عسکری قوت سے ۔

                یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ جغرافیائی، معاشی، اسٹریٹجک وجوہ سے اس حساس علاقے میں کسی چھوٹی سی ریاست کا آزادر ہنا مشکل ہے۔ یہی ہندوستان اور مغربی اقوام کا مقصد ہے کہ اس علاقے میں ایک ایسی کمزور ریاست بن جائے جس کا انحصار ان کی مدد پر ہو، اور اس طرح وہ پاکستان اور چین کی سرحد پر اپنے قدم جماسکیں اور علاقے کو مستقلاً ایسی سازشوں اور علاقائی تنازعات کی آماجگاہ بنا سکیں۔ چین پر اس کے دور رس اثرات ہوں گے، اور چین اور تبت میں بھی اس طرح انتشار اور افتراق کے بیج بوئے جاسکیں گے۔

اس طرح نظریاتی اعتبار سے بھی اس علاقے کو، نہ صرف یہ کہ اسلامی تہذیب و تمدن کا گہوارہ بنے سے روکا جاسکے گا بلکہ مغربی ثقافت، تہذیب اور معیشت کے اثرات کے لیے سارے دروازے کھولے جائیں گے ۔ خوداسرائیل کے مشیر اور پالیسی ساز انہی خطوط پر علاقے کے مستقبل کا نقشے بنا رہے ہیں۔ ان تمام سازشوں کا مقابلہ صرف ایک صورت میں ممکن ہے۔ وہ ہے پاکستان سے ریاست جموں و کشمیر کا الحاق ، اور پھر اس پوری قوت کا اسلامی شناخت اور ایک مضبوط پاکستان کی تشکیل و تعمیر کے لیے استعمال۔

یہاں ہم ایک وضاحت ضروری سمجھتے ہیں۔ الحاق کے بعد ، جہاں پاکستان کی تعمیر و ترقی میں مسلمانان جموں و کشمیر اپنا بھر پور کردار ادا کریں گے وہاں یہ پاکستان کا عہد ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے لوگوں کی مرضی سے یہ طے کیا جائے گا کہ پاکستان سے اس کے تعلق کی نوعیت اور ریاست کا نظام چلانے کا نقشہ کار کیا ہوگا۔ اس بات کی ضمانت پاکستان کے دستور میں دفعہ ۲۵۷ کی شکل میں دی گئی ہے ۔ اور یہ دفعہ انھی الفاظ کے ساتھ ۱۹۶۲،۱۹۵۶ اور ۱۹۷۳ کے دسا تیر میں درج ہے:

جب ریاست جموں و کشمیر کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کریں، تو پاکستان اور مذکورہ ریاست کے درمیان تعلقات مذکورہ ریاست کے عوام کی خواہشات کے مطابق متعین ہوں گے۔ (دفعہ ۲۵۷)

ہندوستان یہ بات بھی بار بار پیش کرتا ہے کہ اگر ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان سے ہو جائے تو اس کے بڑے خراب اثرات ہندوستان کے مسلمانوں پر پڑیں گے۔ ان کے جان و مال کو خطرہ لاحق ہو جائے گا۔ ہندوستان مذہبی اور فرقہ وارانہ فسادات کی لپیٹ میں بھی آجائے گا۔ اس طرح یہ خود مسلمانوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ یہ دلیل جنیوا میں بھی بڑے شدومد سے دی گئی۔ ساری عرب دنیا میں ہندوستان کے سفارت کار اس دلیل کو پیش کر رہے ہیں، اور چند ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اس بات کو پھیلانے کے لیے آلہ کار بنا رہے ہیں ۔ لیکن اگر ذرا سا غور کیا جائے تو اس دلیل کا بودا پن واضح ہو جاتا ہے۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ برعظیم پاک و ہند کی تقسیم ایک اصول کی بنیاد پر ہوئی جسے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے تسلیم کیا۔ وہ اصول اگر ۱۹۴۷ء میں صحیح تھا تو آج غلط کیسے ہو گیا؟

دوسری بات یہ ہے کہ کشمیر کے مسئلہ کے حل اور ہندوستان اور پاکستان سے الحاق کے لیے استصواب کے راستے کو بھی ہندوستان، پاکستان، اقوام متحدہ اور کشمیری عوام نے تسلیم کیا، یہ ایک معاہدہ عمرانی ہے جس پر عمل ضروری ہے۔ اس کو فرقہ واریت کا نام دینا اور فرقہ وارانہ فسادات کا ہوا دکھا کر اس معاہدہ کو ختم کرنے کا آخر کیا جواز ہوسکتا ہے؟

تیسری بات یہ ہے کہ گزشتہ ۴۷ سال سے ریاست جموں و کشمیر کا بڑا حصہ جبر کے ذریعہ ہندوستان کا حصہ رہا ہے۔ لیکن کیا اس وجہ سے وہاں کے مسلمانوں کو کوئی تحفظ حاصل ہوا ہے، جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو ، یا خود ہندوستان کے مسلمانوں کو؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ حضرت بل کا واقعہ اسی زمانے میں ہوا اور مسلمانوں کے خون سے خود جموں و کشمیر میں ہولی کھیلی گئی ؟ کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ اس زمانہ میں ہندوستان میں خود سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 9 ہزار سے زیادہ مسلم کش فسادات ہوئے ہیں، جن میں لاکھوں مسلمان شہید اور زخمی ہوئے اور اربوں روپے کی ان کی املاک تباہ کر دی گئیں یا لوٹ لی گئیں۔ کیا کشمیر کے ہندوستان کا حصہ ہونے سے مسلمانوں کو کوئی تحفظ مل سکا؟ کیا اس زمانہ میں ہزاروں مسجدوں کو شہید نہیں کیا گیا؟ انھیں مندروں میں تبدیل نہیں کیا گیا؟ کیا بابری مسجد کو اس زمانہ میں شہید نہیں کیا گیا، اور کیا کشمیر کا ہندوستان پر قبضہ اس فلم کو روک سکا؟ اگر گذشتہ ۴۷ سال میں مسلمانان ہند کی قسمت نہ جاگ سکی تو کشمیر پر مزید قبضہ سے کیسے جاگ جائےگی؟

چوتھی بات یہ غور طلب ہے کہ کیا برعظیم کی تقسیم اور دونوں ملکوں میں مسلمانوں اور غیر مسلمان آبادی کی تقسیم کا معاملہ مسئلہ کشمیر سے مشروط تھا؟ کیا ہندوستان کے مسلمانوں کی قسمت کو کسی درجہ میں بھی اور کسی وقت بھی کشمیر کے مسئلہ سے وابستہ کیا گیا تھا یا آج ہی ہندوستان کے مسلمان کشمیر کے مستقبل کے بارے میں یرغمال بنا دیے گئے ہیں؟

پانچویں غور طلب بات یہ ہے کہ خود کشمیر کے مسلمان آخر ہندوستان کے اقتدار کے خلاف کیوں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ بلاشبہ حق خودارادیت اس کی اصل بنیاد ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ۴۷ سال میں جو تجر بہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں نے کیا ہے اس سے یہ بات ان پرحق الیقین کی حد تک واضح ہوگئی ہے کہ ہندوستان کی حکومت نے مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے ، ان کے دین، ان کی ثقافت ، ان کے اخلاق و کردار، ان کی تعلیم و تربیت، ان کی معیشت ، ہر میدان میں ان کو سیکولر نظام کے نام پر ہند و ثقافت اور کلچر کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی ۔ نہ ان کی جان اور مال کو تحفظ تھا اور نہ ان کے اخلاق، کردار، اقدار اور تہذیب و تمدن کی حفاظت کا کوئی انتظام۔ یہی وہ چیز ہے جس نے ان کو مجبور کیا کہ بیش بہا قربانیاں پیش کر کے اپنے آپ کو ہندوستان کے قبضہ سے آزاد کرا ئیں ۔ آزادی کی اس جد و جہد کو اور خود ارادیت کے اس حق کو اب ہندوستان کے مسلمانوں کے نام پر سلب کرنا ایک نئی استعماری چال ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

پھر ایک اور بات یہ بھی ملحوظ رہے کہ علاقے کے مسلمان اتنے ہی زیادہ محفوظ ہوں گے جتنا پاکستان مضبوط ہوگا، اور اتنے ہی کمزور ہوں گے جتنا پاکستان کمزور ہوگا۔ اس کا تجربہ سارک کے تمام ممالک کر رہے ہیں۔ ہندوستان کا کوئی بھی ہمسایہ اس کی دست درازیوں سے محفوظ نہیں ہے۔ بنگلہ دیش تک ہندوستان کی چیرہ دستیوں سے پریشان ہے۔ نیپال، سکم، بھوٹان، سری لنکا ، مالدیپ ہر ملک اپنی آزادی اور عزت کو بچانے کے لیے پریشان ہے، اور پاکستان کی طرف اس امید سے دیکھتا ہے کہ مضبوط پاکستان خود ان کے لیے تقویت کا باعث بنتا ہے۔ یہی معاملہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ہے۔ اور تقسیم ملک کے معاہدے اور خصوصیت سے لیاقت نہرو پیکٹ کا یہی پیغام ہے۔

ہم نے جو گزارشات اوپر کی ہیں ہندوستان کے مسلمانوں کے دل کی آواز ہے، وہ اپنے نام پر کشمیر کے مسلمانوں کی غلامی کو ہندوستان کی ہندو قیادت کی ایک چال سمجھتے ہیں۔ اس سلسلہ میں دہلی کے ہفت روزہ ریڈیکس نے بالکل کھلے الفاظ میں یہ لکھا ہے:

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کانگریس کی نگاہ میں ہندوستان کے پندرہ کروڑ سے زیادہ کی مسلمان اقلیت، کشمیر کے پس منظر میں ، وہی حیثیت رکھتی ہے جو شطرنج میں پیادہ اور ایک بے جان مہرہ کی ہوتی ہے۔ ایک نہایت غلط لیکن جان بوجھ کر زور وشور سے پیدا کیا جانے والا تاثر کہ مسلمانوں کی حیثیت  پر مال سے بہتر نہیں۔

سوال در اصل یہ ہے کہ کیا مسلمان اقلیت ، آج کی مسلمان اقلیت کشمیر کے الحاق میں ایک فریق اور شریک کی حیثیت رکھتی تھی ۔ اگر نہیں تو پھر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس تنازعہ میں وہ کہاں سے شریک بن جاتے ہیں؟

کیا ہندوستانی مسلمانوں نے اس تنازعہ میں کبھی بھی کوئی مثبت یا منفی رول ادا کیا ہے؟ اگر نہیں تو پھر آج انھیں گھسیٹ لانے کا کیا قانونی اور اخلاقی جواز ہو سکتا ہے۔

کیا مسلمانان ہند اورمسئلہ کشمیر میں کوئی حقیقی تعلق اور ربط ہے؟ اگر نہیں تو پھر وہ کیا محرک ہے جس کی بنا پر انہیں اس معاملہ میں گردن زدنی قرار دیا جار ہا ہے۔

کیا جب پاکستان پر پنجاب میں خالصتان کی تحریک کی تائید کا الزام لگایا جارہا تھا تو باقی تمام ہندوستان کی خالصتان  کمیونٹی کو بھی ایسے ہی نظریہ کی گرفت میں لیا گیا تھا؟ اور کیا مسلمانان ہند کے بارے میں یہ تمام نہایت غیر ذمہ دارانہ بیانات جو بظاہر نہایت ذمہ دار حضرات کی زبانوں پر جاری ہیں۔ دراصل ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف اکثریتی فرقہ کو اکسانے کے مترادف نہیں؟ کیا اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ان کو یہ ترغیب دی جائے کہ جیسے ہی کشمیر ہندوستان کے چنگل سے نکلتا ہے، ہندوستانی مسلمانوں پر ٹوٹ پڑو اور گلی کوچے میں ان کا قتل عام کرو؟کیااس طرح ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف ایک معاندانہ فضا تیار نہیں کی جارہی؟

ہمیں دکھ ہے کہ یہ باتیں وہ ہی نہیں کہہ رہے جو متعصب ہندو ہیں یا ایم ایم جوشی اور بال ٹھا کرے جیسے لوگ ہی یہ زبان استعمال نہیں کر رہے، بلکہ مرکزی وزراء  اور اس کے سفیر یہ باتیں کہہ رہے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ مسلمان ،پاکستان اور اسلامی عرب دنیا اگر ہندوستان کے مسلمانوں کے تحفظ سے دلچسپی رکھتی ہے تو پھر ا سے جموں و کشمیر کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ اور اگر انھوں نے جموں و کشمیر میں دلچسپی لی تو اس کا نقصان ہندوستان میں ان کے ہم مذہبوں کو ہوگا۔

اگر اس حکمت کا نام ہندوستانی مسلمانوں کو یر غمالی بنا نا نہیں، تو خدارا ہمیں بتاؤ ، اسے کس نام سے پکاریں؟ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی میں حد فاصل ختم ہوتی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم نریما راؤ کو جنیوا میں انسانی حقوق کے کمیشن کے سامنے ہندوستان کی وکالت کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدراٹل بہاری واجپائی کے سوا کوئی اور نہ مل سکا، وہی واجپائی جس نے بار بار کہا ہے کہ تقسیم ہند پر خط نسخ پھیر دو ۔ کیا اب کانگریس بھی اسی مسلک پر آ گئی ہے؟ یا یہ آنے والے دور کی ایک جھلک ہے۔

ان حالات میں پاکستان کی کشمیر پالیسی کیا ہو؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ کشمیر پالیسی کا مقصد پاکستان اور علاقے کے مسلمانوں کے عزائم اور حقیقی مفادات کا حصول ہونا چاہیے۔ اس سلسلہ کےبنیادی حقائق یہ ہیں :

۱۔مسئلہ کشمیر، ریاست جموں وکشمیر کے سوا کروڑ سے زائد مسلمانوں کے ایمان ،عزت ،آزادی اور سیاسی اور تہذیبی مستقبل کا مسئلہ ہے۔ یہ تقسیم ملک کے نامکمل ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ نہیں ۔ اس لیے ہماری سیاسی ترجیحات میں اسے اولیت دینا چاہیے۔

۲۔مسلمانان جموں و کشمیر نے اپنی بیش بہا قربانیوں کے ذریعہ اس مسئلہ کو زندہ رکھا ہے، اور اس وقت اسے اس مقام تک پہنچا دیا ہے جہاں ہندوستان اور دنیا کے دوسرے ممالک یہ محسوس کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اس مسئلہ کو حل کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔ لیکن جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ ساتھ ، اس مسئلہ کے فریق پاکستان ، ہندوستان اور اقوام متحدہ بھی ہیں۔ پاکستان کا فرض ہے کہ ایک فریق کی حیثیت سے مسئلہ کو لے کر اٹھے اور ہر میدان میں اس کے حل کے لیے سرگرم ہو … تحریک آزادی کی مدد کے ذریعہ بھی ، اور عالمی رائے کو منظم اور مسخر کر کے بھی۔

۳۔ پاکستان اس موقف سے ہرگز دست بردار نہ ہو کہ مسئلہ کشمیر کے حل کا صرف ایک طریقہ ہے ۔ وہ ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے ۔ اس استصواب میں بھی صرف دو ہی راستے ہیں یعنی ہندوستان یا پاکستان سے الحاق۔ کسی تیسرے آپشن کا دروازہ کھولنا خود کشی کے مترادف ہے، پاکستان کے لیے بھی اور مسلمانان جموں وکشمیر کے لیے بھی۔

۴-پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے موقف کو پوری جرات اور دانشمندی سے پیش کرے۔ پاکستان یہ بات بھی واضح کردے کہ الحاق کے فیصلہ کے بعد، پاکستان اور ریاست جموں و کشمیر میں تعلقات کی نوعیت ،نظم ونسق اور انتظام وانصرام کا نقشہ، اورخود اختیاری کی شکل و نوعیت کیا ہوگی، یہ تمام چیزیں ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کے مطابق طے ہوں گی۔

۵۔ پاکستان کا فرض ہے کہ مجاہدین کشمیرکی بھر پور مدد کرے اور اس کے اعلان میں شرمندگی نہ محسوس کرے۔ پاکستان نے کشمیر کی خاطر گذشتہ ۴۷ سال میں بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ آج جب کشمیر کے نو جوان کشمیر اور پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ان کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ۔ وہ ہماری جنگ لڑ رہے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ اپنا پیٹ کاٹ کر بھی ان کی مدد کریں، ان کی ہر ضرورت کو پورا کریں، اور ہندوستان نے ان پر مظالم کے جو پہاڑگرا ئے ہیں ہم صحیح معنی میں ان کے پشتی بان بن جائیں۔

۶۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ ساتھ ، اس جدوجہد میں آزاد کشمیر کی حکومت اور عوام کی بھی بڑی ذمہ داری ہے۔ پاکستان کی حکومتوں کی طرح، آزاد کشمیر کی حکومت بھی اپنے اصلی مشن کو بھول چکی ہے ۔وہ محض آزاد علاقے کی حکومت نہیں، بلکہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزادحکومت ہے، اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کی جدو جہد اس کا اولین مقصد ہے۔ اسی لیے اسے بیس کیمپ کا لقب دیا گیا تھا۔ اب ضرورت یہ ہے کہ گروہی سیاست سے بالا ہوکر  آزادکشمیر کی حکومت اور عوام تحریک میں بھر پور حصہ لیں، اور اپنی ترجیحات کو یکسر بدل کر تحریک آزادی کو اس کے منطقی اور فطری نتیجہ تک پہنچانے کے لیے سرگرم ہو جا ئیں۔

۷۔ حکومت پاکستان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر چہ یہ مقصد محض سیاسی اور سفارتی جد و جہد سے حاصل نہیں ہوسکتا، مگر سیاسی اور سفارتی مہم بہت اہم ہے اور اب تک اس کے تقاضے بھی پورے نہیں کیے جاسکے ہیں۔ محض چند وفود باہر بھیجنے سے کام نہیں ہوگا۔ اس کے لیے بڑے ہمہ گیر منظم اور موثر کام کی ضرورت ہے، جس کے تحت پوری دنیا میں ہر علاقے کے حالات کے مطابق تحریک کشمیر کے تعارف اور اس کے لیے تائید کے حصول کے لیے جدو جہد کرنا ہوگی ۔ ہماری وزارت خارجہ بالعموم اس مقصد میں ناکام رہی ہے۔

اس بات کی سخت ضرورت ہے کہ کشمیر کی تحریک کو کامیاب بنانے کے لیے وزارت کی تنظیم نو ہو، اور کشمیر ڈیسک سب سے اہم ڈیسک ہو۔ ہر اس ملک میں جہاں ہمارا سفارت خانہ ہے کشمیر سیل (Cell) قائم کیا جائے۔ علم اور صلاحیت رکھنے والے افراد کو جوکشمیر کے لیے صحیح جذبہ رکھتے ہوں، اس کام پر لگایا جائے ، اور اس طرح عالمی سطح پر ایک موثر تحریک چلائی جائے۔

۸۔پوری پاکستانی قوم کو حالات سے آگاہ رکھنا اور جذبہ جہاد سے سرشار کرنا بھی اس پالیسی کا اہم جزو ہونا چاہیے۔ جب تک پوری قوم کو اس تحریک کے لیے متحرک نہیں کیا جائے گا، کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ہر اسکول، کالج اور یونیورسٹی میں، ہر شہر، قصبہ اور دیہات میں، ہر مسجد اور مدرسہ میں، ہر کارخانہ اور بازار میں، جہاد کشمیر سے لوگوں کو متعارف کرایا جائے اور اس میں شرکت کے لیے مال سے، جان سے، ہر صورت میں آمادہ کیا جائے ۔ قوم میں بڑا جذ بہ ہے لیکن اسے آج تک صحیح انداز میں متحرک و منتظم نہیں کیا گیا۔

 ۹۔ حکومت پاکستان کو اپنے بجٹ کو بھی ان ترجیحات کی روشنی میں از سرنو مرتب کرنا ہوگا۔ جہاد کشمیر کی ضروریات کو اولیت دینا ہوگی، اس کے ساتھ ساتھ نیوکلیر پاور کی مناسب ترقی، فوج کو چوکسرکھنا اور قوم کے نوجوانوں کو تیار کرنا ضروری ہے۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ جب کشمیر میں حالات ہندوستان کی گرفت سے بالکل نکلنے لگیں گے تو وہ پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی کوشش کرے گا۔ کشمیر پالیسی کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں۔ تاریخ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جو قوم جنگ سے خائف رہی ہے، وہ پنی آزادی سے بھی محروم ہوگئی ہے اور جوقوم جنگ کے لیے تیار رہی ہے، وہی اپنے ایمان، عزت و آزادی کومحفوظ رکھ سکی ہے۔

سابق امریکی صدر نکسن نے بہت صحیح کہا تھا کہ ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قوت کے استعمال سے دستبرداری، در اصل دشمن کو اپنے خلاف قوت کے استعمال کی دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ بلکہ نکسن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ صرف تیار ہی نہ رہو مخالف کو یہ پیغام بھی دے دو کہ تم ہر قوت کے استعمال کے لیے تیار ہو، یہ وہ چیز ہے جو دشمن کو تم پر دست درازی سے رو کے گی۔ اسی بات کو ہنری کسنجر نے ایک دوسرے انداز میں کہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اگر امن کے معنی محض جنگ سے بچنا لے لیے جائیں، اور یہ چیز ایک قوم یا بہت سی اقوام کے مجموعہ کا بنیادی مقصد بن جائے، تو سمجھ لو عالمی سیاسی نظام سب سے زیادہ بے رحم اور سنگدل ملک کے رحم و کرم پر ہو گا ۔ اس لیے جنگ سے بچنے کا بھی سب سے موثر راستہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا ہے۔

ہندوستان پر موثر دباؤ ڈالنے کے لیے چار ہی اہم طریقے ہیں اور ان چاروں کو موثر انداز میں اور مربوط منصوبہ بندی کے ذریعہ استعمال ہونا چاہیے۔

۱-تحریک آزادی کشمیر کی بھر پور اور موثر مدد ، تا کہ مقبوضہ کشمیر میں قابض قوت پر اتنا دباؤ پڑے اور اسے قبضہ کی اتنی گراں قیمت ادا کرنی پڑے کہ وہ پر امن حل کے لیے تیار ہو جائے۔

 ۲۔ عالمی رائے عامہ کو منظم کرنا، اور اس کا دباؤ اتنا بڑھانا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کے لیے مجبور ہو۔ اگر فرانس کو الجزائر چھوڑنا پڑا، اگر اقوام متحدہ کو نمیبیا میں استصواب رائے کروانا پڑا، اور اگر جنوبی افریقہ تین سوسالہ نسلی امتیاز کے نظام کوختم کرنے پر مجبور ہوا، تو ہندوستان کو بھی کشمیر میں استصواب پر مجبور کیا جا سکتا ہے، اور بہت جلد کیاجا سکتا ہے۔

۳۔ہندوستان اور اس کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی عالمی مہم ۔ پاکستان خود اس کا آغاز تمام تجارتی تعلقات منقطع کر کے کرے۔ تمام مسلمان ممالک کو اس کی ترغیب دی جائے کہ او آئی سی کی اپریل ۱۹۹۳ء کی قرارداد کے مطابق ہندوستان کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔ اس وقت صرف مشرق وسطی میں ہندوستان کی کل برآمدات کا تقریباً ۵۰ فیصدی جا رہا ہے۔ اگر ایک موثر عوامی اور سرکاری تحریک چلائی جائے تو یہ معاشی دباؤ بھی ہندوستان کو مجبور کرے گا کہ کشمیر میں استصواب کرائے۔ پھر عالمی پلیٹ فارم پر بھی معاشی پابندیوں کا مطالبہ کیا جائے۔ سیکیورٹی کونسل میں ، جنرل اسمبلی میں، دنیا کی مختلف پارلیمانوں میں، یہ قرارداد یں منظور کرائی جائیں۔ عوامی بائیکاٹ کی مہم کے ساتھ ساتھ سرکاری پابندیوں کی تحریک بھی چلائی جائے۔ اگر اس واضح ہدف کے لیے کام کیا جائے تو جلد فضا تبدیل ہو سکتی ہے۔

۴۔قوم کو جہاد کے لیے تیار کرنا، فوج کا چوکس رہنا اور نیوکلیر صحیح درجہ میں موجود ہونا۔ ایک طرف یہ چیز بیرونی جارحیت کے لیے موثر مانع ثابت ہوگی، اور دوسری طرف ہم کو وہ استطاعت حاصل رہے گی کہ اگر دشمن کوئی دست درازی کرتا ہے تو اس کا موثر جواب دیا جاسکے۔ نیوکلیر پاور کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے محدود جنگ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں اور مکمل جنگ سے اجتناب ممکن ہو سکتا ہے۔ اس لیے اس دفاعی اسٹریٹیجی میں نیوکلیر پاور کا موثر کردار ہے۔

۵۔ مندرجہ بالا خطوط پر مرتب کردہ کشمیر پالیسی کی کامیابی کے لیے ضروری ہوگا کہ اس کے نفاذ کے لیے بھی ایک موثر مشینری وجود میں لائی جائے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ یہ پالیسی ، اور اس کی تنفیذی مشینری قومی بنیادوں پر استوار کی جائے۔ تمام سیاسی اور دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ اس سلسلہ میں مثبت کردار ادا کریں۔ پارلیمنٹ کو اس بارے میں مناسب ابتدائی اقدامات کرنا چاہیں ۔ میڈیا کا رول بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کام کے لیے ایک قومی تحریک کی ضرورت ہے۔

جس طرح کشمیر کے نوجوانوں نے چند سالوں میں وہاں کی فضا تبدیل کر دی ہے، اسی طرح اگر پاکستان کی حکومت، سیاسی جماعتیں اور عوام اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں تو حالات بہت کم وقت میں بدل سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ صرف تحریک آزادی کشمیر اور بالآخر کشمیر کے پاکستان سے الحاق کی شکل میں ہی نہیں ہوگا بلکہ قوم میں نئ  زندگی اور نیا جذبہ  آئے  گا اوراس نئی زندگی اور نئے جذبے کو پاکستان کو ایک حقیقی اور مضبوط اسلامی فلاحی مملکت بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔ یہی تحریک پاکستان کا اصل مقصد تھا اور یہی تحریک کشمیر کی بھی قوت محرکہ ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »