IslamSeerat

سیرتِ پاک کا تاریخی کردار

پروفیسر خورشید احمد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ملت اسلامیہ کو تاریخ ِاقوام میں جو منفرد حیثیت حاصل ہے وہ جاہ و اقتدار دولت و ثروت ایجاد و اکتشاف، قوت و سطوت یا نسل و نسب کی بنیاد پر نہیں، اس کی نسبت ایک اور صرف ایک ہے۔ یعنی عقیدہ اور دین کی بنیاد پر وجود میں آنے والی ایک صاحب دعوت قوم۔

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمیؐ

اس امت کی بنیاد کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے، یہی اس کی اساس ہے اور یہی اس کی شان امتیاز۔ اسے وجود بخشنے والی اور اسے قائم و دائم رکھنے والی قوت ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت، آپ کی لائی ہوئی ہدایت، آپ کی روشن سنت اور آپ کے طریقے پر زندہ رہنے کی خواہش اور کوشش ہے۔ یہی اس کی طاقت کا اصل سرچشمہ، اس کا حقیقی سرمایہ حیات اور اس کی بقا اور ترقی کا نسخہ ہے۔۔

نہ افغانیمو نے ترک و تاریم

چمن زادیم او از یک  شاخساریم

تمیز رنگ وبوبر ما حرام است

کہ ما پرورده یک نوبہاریم

اس اُمت کی زندگی اور اس کی پوری تاریخ میں ذات رسالت مآب کو اصل مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ آپ ہی کی شہادت پر قرآن کو اللہ کا کلام اور آپ کو مالک السموات والارض کا آخری نبی مانا اور اسی ایمان اور عقیدے پر ایک امت کا وجود قائم ہوا، جس کا مقصد وجود اسی مشن کی خدمت قرار پایا جو آپ کی زندگی کا مقصد اور مشن تھا۔ اس پہلو سے اگر غور کیا جائے تو نبی اکرم کی ذات اور آپ کا نمونہ اور سنت وہ محور ہے جس پر یہ ملت قائم ہے۔ قرآن پاک اور آپ کی سنت دراصل ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں جیسا کہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ آپ کا سراپا قرآن ہی کا عکاس تھا (کان خلقه القرآن)۔ اور خود اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے کہ آپ ؐجو کچھ فرماتے تھے وہ وحی الہی کے نور سے منور ہوتا تھا، وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الهولى إن هو الا وحی یوحی (النجم ۳:۵۳-۴)۔ اور جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ مَنْ تُطِعِ الرَّسُولَ فَقد اطاع الله (النساء :۸۰ )۔ آپ نے حجتہ الوداع کے موقع پر جو دائمی ہدایات دیں ان میں سرفہرست یہی تھی کہ میں تمھارے لیے دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں: کتاب اللہ اور اللہ کے رسول کی سنت، اگر ان سے مربوط رہو گے تو کامیاب ہو گے۔ یہی وہ سنت ہے جس نے دور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے آج تک ملت کے شیرازے کو مجتمع رکھنا ہے، اس کے لیے مرکز و محور کا کام کیا ہے، یہ وہ نشان راہ ہے جسے دیکھ کر اہل حق نے خود راستی اختیار کی اور راہ راست کی طرف اللہ کے بندوں کو بلایا۔ یہی وجہ ہے کہ سارے بنوع حتی کہ انحراف و بدعت کے باوجود یہ سنت ہی ہے جس نے ملت کی وحدت اور یک رنگی کو قائم رکھا ہے۔ نیز یہی وہ خدائی نظام ہے جس کے ذریعے نبی آخر الزمان کا دین قیامت تک زنده و پایندہ رہے گا۔ اس کی تعلیم خود حضور نے علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین کے ارشاد میں دی اور یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف خود قرآن سبیل المومنین کے بلیغ اشارے کے ذریعے متوجہ کرتا ہے۔ وَمَنْ يَشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْلُومَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نوله ما تولى ونصلِهِ جَهَنَّمَ (النساء ۱۱۵:۴) جو شخص رسول کی مخالفت پر کمربستہ ہو اس کے بعد کہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے تو اس کو ہماسیطرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا اور اسے جہنم میں جھونک دیں گے۔

اسلام کسی فلسفیانہ تصور یا مابعد الطبیعیاتی نظریے کا نام نہیں۔ یہ زندگی گزارنے کا وہ سادا اور سیدھا طریقہ ہے جو دنیا کی زندگی کو خیر و صلاح سے بھر دیتا ہے اور آخرت میں انسان کی کامیابی کا ضامن ہے۔ فطری طور پر ایسے دین کے لیے جہاں یہ ضروری تھا کہ حقیقت نفس الامری کا بے لاگ انداز میں اور ہر شک و شبہ سے بالا ہو کر اعلان و اظہار کرے، وہیں یہ بھی ضروری تھا کہ عقائد، عبادات اور معاملات، نیز انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر اہم پہلو کے بارے میں واضح رہنمائی دے تاکہ بندے کا تعلق اپنے رب سے کائنات اور اس کے وسائل سے  اور دوسرے تمام انسانوں اور سماجی اداروں سے صحیح خطوط پر استوار ہو سکے۔ جہاں قرآن پاک میں اس نظام زندگی کے تمام ضروری خدوخال واضح کر دیے گئے ہیں وہیں رسول پاکؐ کی زندگی اور آپ کے نمونے کی صورت میں اسلامی زندگی کی مکمل تصویر کشی کر دی گئی ہے تاکہ انسان حق کی اس سیدھی راہ پر کسی تکلیف اور تنگی کے بغیر گامزن ہو سکے اور انسانیت کے لیے حیات طیبہ ایک قابل حصول منزل بن سکے۔ سنت کا اصل کارنامہ ہی یہ ہے کہ اول دن سے اس کے ذریعے اسلامی زندگی کی یہ حنا بندی انجام پائی ہے۔ حضورؐ سے تعلق محض ایک خبر دینے والے اور ہدایت پہنچانے والے کا سا نہیں بلکہ ہادی اور رہبر، قائد اور مطاع اور محبوب اور نمونے کا ہے جن سے ایک طرف گہری محبت و عقیدت ہو تو دوسری طرف ان کی مکمل اطاعت اور اتباع ۔ حضورؐ پر ایمان محض ایک نظری تعلق نہیں بلکہ یہ ایک ایسا گہرا اور جاندار روحانی تعلق ہے جس سے آپ ایک مسلمان کو اپنی جان و مال اور اپنے ماں باپ اور دنیا و مافیہا سے بھی زیادہ عزیز اور محبوب ہو جاتے ہیں اور آپ کے ہر قول کی تصدیق اور آپ کے ہر عمل اور اشارے کی تعمیل اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش بن جاتی ہے۔

در دلِ مسلم مقاممصطفی است

آبروئےماز نام مصطفیٰ است

ایک مسلمان کا دل رسول اللہ کی قیام گاہ ہے۔ حضورؐ ہی کا اسم گرامی ہمارے لیے عزت و آبرو کا سرمایہ ہے۔

اگر غور کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ روز اول سے آج تک اور ان شا اللہ ابد تک اس ملت کی شیرازہ بندی کرنے والی قوت ہی سنت رسول ؐہے۔ مکہ اور مدینہ میں جو شمع روشن ہوئی تھی، اس کی روشنی سے ملت کی ساری کائنات منور ہے۔ خواہ آپ دنیاے تہذیب کا افقی جائزہ لیں یا تاریخ انسانی پر عمودی نظر ڈالیں، صاف نظر آتا ہے کہ مراکش سے میلبورن تک نیل کے ساحل سے خاک کاشغر تک، ٹوکیو سے واشنگٹن اور مانٹریال تک مدینہ سے سرائیو تک۔۔۔ مشرق، مغرب، شمال، جنوب، جدھر بھی آپ دیکھیں یہ سنت رسولؐ ہے جس نے رنگ و بو مال و منال بود و باش علم و اکتساب کے سارے اختلافات کے باوجود حضوؐر کے نام لیواؤں میں وحدت و یک رنگی پیدا کر رکھی ہے۔ مہد سے لحد تک، شرب و طعام  کے آداب سے معاشرت اور مدنیت کے اسلوب تک حلال و حرام اور مطلوب و مکروہ کی اقدار دوستی اور دشمنی کے معیارات تک زندگی کے ہر معاملے میں، خواہ انفرادی ہو یا اجتماعی، فرق پیدا کرنے والی چیزیں مقامی اور وقتی ہیں اور وحدت اور یک رنگی پیدا کرنے والی چیز سنت رسول اللہ ۔ اسی طرح اگر آپ تاریخی تسلسل پر نگاہ ڈالیں تو سارے نشیب و فراز عروج و زوال، سیاسی اور تہذیبی غلبے اور محکومی کے باوجود جس چیز نے اس ملت کو باقی رکھا، اس کی اصل کو محفوظ رکھا اسے بار بار تجدید و احیا کی نعمتوں سے مالا مال کیا اور اس کی زندگی اور تہذیب و ثقافت میں تسلسل پیدا کیا، وہ سنت رسول ہے۔ گویا فرد کی زندگی ہو یا خاندان کی، معاشرت ہو یا معیشت سیاست ہو یا تہذیب و تمدن، جغرافیائی اعتبار سے دنیا کا کوئی بھی خطہ ہو اور تاریخی اعتبار سے کوئی بھی زمانہ اور دور مسلمان مرد اور عورت مسلمان معاشرے اور مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کی صورت گری اور شیرازہ بندی اسی سنت نبوی کا کارنامہ ہے جس کی جڑیں قرآن پاک میں ہیں اور جس کا تسلسل محور ملت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے نسبت اور اس کی پیروی میں ہے۔

بقول جگر

ازل ہو یا ابد دونوں اسیر زلف حضرتؐ ہیں

جدھر نظریں اٹھاؤ گے یہی اک سلسلہ ہو گا

 سنت اور ذات رسالت مآب کی اس مرکزی حیثیت کو اقبال نے رموز بے خودی میں بڑی خوبصورتی اور بصیرت سے پیش کیا ہے ۔؎

از رسالت در جہاں تکوینِ ما                    از رسالت دینِ ما آئینِ ما

از رسالت صد ہزارِ ما یک است               جزو ِما از جزوِ ما لا ینفک است

ما ز حکمِ نسبت او ملیم                            اہل ِعالم را پیامِ رفتیم

قلب ِمومن را کتابش قوت است            حكمتش حبل الوريدملت است

زندگی قوم از دمِ او یافت است                ایں سحر از آفتابش تافت است

ایں گہر از بحرِ بے پایانِ اوست                  ما کہ  یکجا نیم از احسانِ اوست

قوم را سرمایہ قوتازو                                                                                                                                                                                           حفظِ سر وحدتِ ملت از و

ہمارا وجود اس دنیا میں رسالت سے ہے۔ رسالت ہی سے ہمیں دین ملا۔ رسالت ہی سے شریعت ملی رسالت ہی کی برکت ہے کہ ہم لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں ہمارا ایک جز دوسرے جز سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ اسے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتاں ہم رسول اکرم ؐکی ذات گرامی کے ساتھ نسبت کی بنا پر ملت و قوم بن گئے اور دنیا والوں کے لیے ہم رحمت کا پیغام میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  جو کتاب (قرآن مجید) لائے وہ مومن کے دل کے لیے قوت و استحکام کا سامان ہے اور جو حکیمانہ ارشادات حضور اکرم ؐکی زبان مبارک پر جاری ہوئے، انھیں ملت کی زندگی میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ قوم نے صرف رسول اکرم کے دم سے زندگی پائی۔ یہ صبح اسی آفتاب کی روشنی سے جلوہ ریز ہوئی یہ وحدت کا راز ایک موتی ہے جو رسول اکرم کے بے پایاں سمندر سے نکلا۔ ہم یک جان ہیں تو یہ حضور اکرم ہی کا احسان ہے قوم کو قوت ملتی ہے تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  ہی سے ملتی ہے اور ملت کی وحدت کا راز بھی اسی پاک ذات کی بدولت محفوظ ہے۔

سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تاریخی کردار دعوت دیتا ہے کہ ایک لمحہ کے لیے اس امر پر غور کیا جائےکہ انسانوں کی ہدایت کے لیے جو نظام اللہ رب العزت نے قائم فرمایا ہے وہ کیا ہے اور اس کے آئینے میں مسلمانوں کے عروج و زوال اور تجدید و احیا کے نقوش پر تدبر کی نگاہ ڈالی جائے۔ بلاشبہ اس کی اصل بنیاد اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت قرآن پاک کی حفاظت اور اس کا بحیثیت سرچشمہ ہدایت موجود رہنا ہے۔ تہذیبوں کے تقابلی مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف مذاہب اور نظریے، منجملہ اور عوامل کے، قوموں اور تہذیبوں کے عروج و ترقی کا ذریعہ بنے ہیں، لیکن تہذیبوں کے زوال اور انتشار کے بعد ایک ہی مذہب اور ایک ہی نظریے کا تجدید و احیا کے لیے بار بار بنیاد بننا امت مسلمہ کے امتیازی پہلوؤں میں سے ایک ہے۔ اور یہ قرآن کے آخری کتاب اور حضور کے آخری نبی ہونے کا فطری تقاضا ہے۔ کتاب ہدایت کی حفاظت کے ساتھ دوسری اہم چیز حضور  کا نمونہ ہے جو تاریخی تواتر کے ساتھ محفوظ اور کار فرما قوت کی حیثیت سے ہر دور میں اور ہر مقام پر اس ملت کی تاریخ کو متاثر کرتا رہا ہے۔ اور ہدایت کا یہ صحیفہ اور رہنمائی کا یہ نمونہ بھی ایسا جامع اور ہمہ گیر ہے کہ تہذیب و تمدن کے ہر دور میں زندگی کے ہر پہلو اور ہر مسئلے کے بارے میں اس سے روشنی اور رہنمائی حاصل کی جاتی رہی ہے۔ اس میں ثبات اور تغیر کے تقاضوں کو اس طرح سمو دیا گیا ہے کہ یہ کبھی پرانا نہیں ہوتا اور نہ کبھی جدید تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر رہا۔ مرور ایام کی کوئی کروٹ اسے غیر متعلق اور ازکار رفتہ نہیں بنا سکتی۔ یہ تو صبح نو کی طرح ہر دم تازہ اور نور فشاں رہتا ہے۔ اگر ایسا ہے اور بلاشبہ ایسا ہی ہے تو پھر ملت پر مختلف ادوار میں انتشار و انحطاط کے سایے کیوں پڑے اور محکومی اور مظلومی کے دن اسے کیوں دیکھنا پڑے؟ یہ بڑا اہم اور بنیادی سوال ہے اور ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اس امر پر غور کریں کہ حضور پاک کی اصل سنت کیا ہے، اور اس کا بے لاگ جائزہ لیں کہ امت نے اس سنت کے ساتھ کب کیا معاملہ کیا ہے۔ اس طرح ہمیں اپنی کمزوریوں اور ناکامیوں کے اسباب معلوم کرنے اور تجدید و احیا کے خطوط استوار کرنے کے لیے ضروری رہنمائی مل سکے گی۔

حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول، عمل اور تقریر (جو عمل آپ کے سامنے ہوا اور آپ نے اسے ناپسند نہ فرمایا) آپ کی سنت ہے اور قرآن کے احکام و ہدایات کی عملی تصویر۔ ہر سنت (خواہ اس کا تعلق بنیادی امور سے ہو یا جزوی سے) کی حفاظت ان کی تعلیم و تذکیر ان کے مطابق انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل بھی ہر مسلمان مرد اور عورت اور بحیثیت مجموعی امت مسلمہ کی زندگی کا مشن اور ہدف ہے۔ اس سلسلے میں ہماری تاریخ میں مسلمانوں نے بڑی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں، بلکہ سچی بات یہ ہے کہ ماضی میں جو ترقی بھی حاصل ہوئی ہے اور جو خدمات بھی مسلمانوں نے دنیائے علم و تہذیب کی انجام دی ہیں، جو عزت ان کو تاریخ عالم میں حاصل ہوئی ہے اور ہر پستی کے بعد بلندی کی طرف جو مراجعت ان کے نصیب میں آئی ہے وہ سنت کے باب میں اٹھی مساعی کا نتیجہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ شیطانی قوتیں اس امت اور انسانیت کو اس سرچشمہ ہدایت سے محروم کرنے کے لیے ہمیشہ کوشاں اور سرگرداں رہی ہیں اور ان کا وار ہمیشہ خالی نہیں گیا! اس سلسلے میں حملے کئی سمتوں سے ہوئے ہیں۔ کچھ کھلے کھلے مخالفانہ اور جارحانہ اور کچھ بڑے خوبصورت اور دلفریب!

قرآن کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا اور سنت رسول کی حجیت اور تاریخیت پر زبان طعن دراز کرنا تو دشمنوں کا کھلا شیوہ رہا ہے، ماضی میں اور آج بھی۔ لیکن اس کھلی جارحیت نے جتنا نقصان پہنچایا شاید اس سے کچھ کم نقصان ان حسین، معصومانہ دوستانہ ، عاجلانہ جاہلانہ اورعارفانہ چالوں سے نہیں پہنچا جو اس تاریخ کا ایک قابل ذکر حصہ ہیں۔ اگر جہالت اور غفلت کے مضر اثرات سے صرف نظر کر بھی لیا جائے، گو یہ بھی بگاڑ اور تباہی کے اہم عالمین میں سے ہیں، تب بھی جن تصورات نے سنت کے تاریخی کردار کو مجروح اور غیر موثر کرنے میں اور انحراف، بدعت اور بگاڑ کو فروغ دینے میں خاصا اہم رول ادا کیا اس میں غلو عدم اعتدال اور سب سے بڑھ کر اس مشن اور جدوجہد سے اغماض ہے جو حضور کی بعثت کا اصل مقصد اور آپ کی سنت کا اصل ہدف اور منزل ہے۔ کچھ لوگ صرف اس پر قانع ہو گئے کہ سنت اور سیرت کا تعلق بس حصول ثواب ہے (بلاشبہ حضور سے قرب کی ہر کوشش خیر اور پسندیدہ ہے لیکن اس کا کوئی تعلق ان کی اپنی زندگیوں اور حق و باطل کی کشمکش میں ان کے کردار سے نہیں۔ کچھ نے اس کو بھی ایک دینی خدمت سمجھا کہ انسانیت کے اس عظیم ترین نجات دہندہ کو بس ایک مافوق الفطرت ہستی میں بدل دیں اور رزم گاہ حیات سے توجہ ہٹا کر کونین کی رنگین خیالیوں سے قلب و نظر کو مسحور کر ڈالیں۔ ایک بڑی تعداد نے بڑے خلوص کے ساتھ بس ساری توجہ کو اپنے پسندیدہ چند انفرادی افعال و اعمال تک محدود کر لیا اور اس سنت کبریٰ کو یکسر نظر انداز کر دیا (افسوس کہ کچھ نے تو اسے بدعت ہی سمجھ لیا) جس کا نمونہ آپ نے بحیثیت داعی حق پہلی وحی کی آمد کے وقت سے اپنے وصال کے آخری لمحے تک امت کے سامنے چھوڑا۔ کچھ ستم گر تو یہاں تک بڑھے کہ آپ جس تبدیلی اور جس انقلاب کے داعی تھے ، اسے بھلا ہی نہیں دیا گیا بلکہ سو طرح سے اسے غیر ضروری اور غیر مطلوب بلکہ ایک قسم کی دنیا داری اور سیاست پسندی تک قرار دے دیا گیا اور ظلم و طاغوت کے غلبے اور استیلا سے ایک شان تقویٰ کے ساتھ سمجھوتہ سا کر لیا گیا۔ بقول اقبال

گرچہ  بر لب ہائے او نام خداا ست

قبلہ او طاقت فرمان روا است!

اگرچہ اس کی زبان پر تو خدا ہی کا نام ہے لیکن اس کا قبلہ (اطاعت) فرماں روا کی طاقت ہے۔

سنت و بدعت کی کشمکش کا یہ اہم ترین پہلو ہے جس پر ٹھنڈے دل سے غورو فکر کی ضرورت ہے۔ ہم محض قانون اور فقہ کی زبان میں بات نہیں کر رہے اور ہم دین کے مخلص خادموں کی محدود اور جزوی مساعی کے عدم اعتراف یا تحقیر کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ ہمیں یقین ہے کہ جس نے بھی خلوص کے ساتھ جس حد تک خدمت کی کوئی کوشش کی ہے وہ ان شاء اللہ اتنا ہی مستحق اجر ہو گا، لیکن تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے اس سوال کا جواب بہرحال دریافت کرنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت اور امت مسلمہ کے تاریخی کردار کے لیے جو نظام بنایا تھا اور سنت نبوی نے اسے جس طرح ایک تاریخی عمل میں تبدیل کیا تھا اس میں رخنے کیسے پڑے ؟ یہ امت عروج کی بلندیوں پر پہنچ کر زوال کی پستیوں کی طرف کیوں اتری؟ اللہ کی حاکمیت قائم کرنے والی یہ قوم ایک ہزار سال تک عالمی طاقت بنے رہنے کے بعد خدا کے باغیوں کے ہاتھوں مغلوب و محکوم کیوں ہوئی؟ اور پھر آج جو عالمی کشمکش برپا ہے جس میں یہ امت ایک بار پھر انسانیت کے نجات دہندہ کا کردار ادا کر سکتی ہے، اسے اس لائق کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

ہم اہل نظر کو دعوت غور و فکر دینا چاہتے ہیں کہ ترقی کا راستہ صرف اور صرف سنت کے احیا میں ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب سنت کا حقیقی اور مکمل تصور ہمارے ذہنوں میں ہو اور اس کے مطابق کام کا نقشہ اور انقلاب کا منہج تیار کیا جائے۔ عید میلاد النبی کا بھی اگر کوئی پیغام ہے تو وہ یہی ہے کہ جہاں مسلمان ایک ایک سنت کی پیروی کی فکر کریں وہاں داعی اعظم کی اس سنت کبری کے اتباع کی فکر بھی کریں اور انھی مقاصد کے پیش نظر اور ان طریقہ ہائے کار (methodologies) سے استفادہ کرتے ہوئے کریں جن کا نمونہ آپ نے پیش فرمایا تھا۔ یہ قوم درختوں کے دیکھنے میں اتنی منہمک ہو گئی کہ جنگل اس کی آنکھوں سے فراموش ہو گیا۔ ہم چند پھول اور پتوں سے ایسے مسحور ہوئے کہ پورے گلشن کو بھول گئے۔ ہماری نگاہوں سے وہ نقشہ اور pattern ہی اوجھل ہو گیا جس کے اجزا یہ سارے نگینے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انفرادی خیر کے باوجود وہ عمومی تبدیلی نہیں آ رہی اور وہ نظام زندگی قائم و غالب نہیں ہو رہا جس کے برپا کرنے کے لیے یہ سارا نظام ہدایت جاری و ساری کیا گیا تھا اور جسے کلمہ لا الله الا الله محمد رسول اللہ کے قبول کیے جانے پر اس طرح رونما ہونا چاہیے جس طرح بیج سے درخت اور درخت سے پھول پھل رونما ہوتے ہیں۔

ہے طوافوحج کا ہنگامہ اگر باقی تو کیا

کند ہو کر رہ گئی مومن کی تیغ بے نیام

نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری زندگی حق کی شہادت کی زندگی تھی اور آپ کی یہی وہ سنت کبری ٰہے جس کے اتباع کی ذمہ داری امت مسلمہ پر ہے۔ وَجَاهِدُوا فِي اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ – هُوَ اجْتَبكُمْ وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ – مِلَتَ اَبِيْكُمْ إِبْرَاهِيمَ – هُوَ سَقَكُمُ الْمُسْلِمِينَ – مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُولُ شَهِيداً عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ (الج ۷۸:۲۲) “الله کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ اس نے تمھیں اپنے کام کے لیے چن لیا ہے اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ قائم ہو جاؤ اپنے باپ ابراہیم کی ملت پر۔ اللہ نے پہلے بھی تمھار انام “مسلم” رکھا تھا اور اس (قرآن) میں بھی (تمھارا یہی نام ہے) تاکہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ”۔ سیرت پاک کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پہلے دن سے حضور اکرم ؐکےسامنے دین کی شہادت زندگی کے سارے نظام کو اللہ کی حاکمیت کے تحت لانے اور اس کی تنظیم نو کرنے اور حق کو غالب اور فرماں روا قوت بنانے کا ہدف تھا اور مقصد کا یہ شعور، منزل کا یہ احساس اور مستقبل کا یہ وژن (vision) کسی دور میں بھی اور کسی لمحہ حضور کی آنکھوں سے او جھل نہیں ہوا۔ اللہ کی بندگی اور اللہ کے بندوں کو غیر اللہ کی غلامی سے نجات دلا کر انھیں ایک تاریخ ساز قوت اور بالاتر طاقت بنانا آپ کے پیش نظر تھا۔ انبیائے کرام کی بعثت کا یہ نصب العین ہر لحظہ آپ کے سامنے تھا کہ لقد ارسلنا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ ۔۔ليقوم الناس بالقسط – وانزلنا الحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ (الحدید ۲۵:۵۷) ہم نے اپنے رسولوں کو روشن نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں”۔

خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد اور ہدف قرآن نے صاف الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے:

 هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدِّينِ كَلَّم ولوم الْمُشْرِكُونَ (الصف (9:7)

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اسے پورے کے پورے دین پر غالب کر دے، خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو”۔

نزول وحی اور منصب نبوت پر سرفرازی کے بعد جب آپ کو دعوت عام دینے کا اذن ہوا تو آپ نے خاندان بنی ہاشم کو دوبار دعوت پر بلایا اور ان کے سامنے اپنی بات پیش کی اور فرمایا کہ یہ پیغام دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کا ضامن ہے۔ اس بات کو ذرا اور کھول کر آپ نے بالکل ابتدائی مراحل ہی میں فرمایا : كلمة واحدة تعطوينها تملكون بها العرب وتدين ولكم بها المجم (سیرت ابن ہشام) بس وہ ایک کلمہ ہے جسے اگر مجھ سے قبول کر لو گے تو اس کے ذریعے تم سارے عرب کو زیر نگیں کر لو گے اور سارا عجم تمھارے پیچھے ہو گا۔ اس بات کو آپ نے قریش کے ایک وفد کے سامنے اس طرح بیان فرمایا: فان تقبلوا منی ما جئتكم به فهو حظكم في الدنيا وفي الاخرة (سیرت ابن ہشام) تم اگر میری دعوت قبول کر لو جسے میں پیش کر رہا ہوں تو اس میں تمھاری دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری ہے۔ دین حق کے غلبے اور کامیابی اور عرب و عجم پر اس کلمے کی حکمرانی کا وژن ان کی نگاہوں میں اتنا واضح تھا کہ عین مکی دور کے اس زمانے میں جب اہل حق مظلوم تھے اور تشدد اور تعذیب کا نشانہ بنائے جا رہے تھے ، ایک صحابی حضرت خباب نے کہا کہ یا رسول اللہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ تو آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا کہ “اے خباب ! جانتے ہو تم سے پہلے اہل حق پر کیسے کیسے مظالم ہوئے ہیں۔ ان کو لوہے کے آرے سے چیر دیا گیا اور لوہے کی کنگھیوں سے ان کے گوشت کو ہڈیوں سے جدا کر دیا گیا مگر وہ راہ حق سے نہ  ہٹے۔ پھر حضورؐنے ان کو اطمینان دلاتے ہوئے یہ تاریخی جملے ارشاد فرمائے: ”خدا کی قسم، وہ وقت ضرور آئے گا کہ ایک سوار صنعا سے حضر موت تک سفر کرے گا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہ ہو گا”۔ یعنی اسلام کا نظام غالب اور حکمران ہو گا۔ انصاف کا دور دورہ ہو گا ہر کسی کو امن و سلامتی کی نعمت حاصل ہو گی اور أَطْعَمَهُم مِنْ جُوع وامنهم من خوف کی کیفیت ہو گی۔ اس دور ظلم و ظلمت میں ایک اور موقعے پر آپ نے فرمایا: ”عنقریب وہ زمانہ آئے گا جب مکہ کو قافلہ بے نگہبان جایا کرے گا“۔آپ کے چچا ابو طالب نے جب آپ کو ایک بار سمجھاتے ہوئے کہا ”جان پدر! اس کام سے ہاتھ اٹھا لو تو آپ نے فرمایا : محترم! میری تنہائی کا خیال نہ کیجیے۔ حق زیادہ دیر تک تنہا نہیں رہے گا۔ کل عرب و عجم ایک دن حق کے ساتھ ہو گا۔ (سیرت ابن ہشام)

حضرت عدی بن حاتم کا بیان ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ دو شخص کہیں سفر سے آئے۔ ایک نے بھوک کی اور دوسرے نے رہزنی کی شکایت کی۔ حضور نے حضرت عدی کو مخاطب کر کے فرمایا: کیوں عدی! تم نے حیرہ دیکھا ہے؟ (حیرہ ایک مقام کا نام ہے)۔ عدی نے کہا: ”دیکھا تو نہیں ہے لیکن اس کے بارے میں جانتا ضرور ہوں“۔ آپ نے فرمایا: “اگر تم زندہ رہے تو دیکھو گے کہ حیرہ سے ایک ہودج نشین عورت چل کر خانہ کعبہ کا طواف کرے گی اور اس کو خدا کے سوا کسی کا خوف نہ ہو گا۔ اور اگر تم زندہ رہے تو دیکھو گے کہ کسریٰ کا خزانہ فتح کر لیا گیا ہے اور اگر تم زندہ رہے تو دیکھو گے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا چاندی لے کر نکلے گا کہ کسی کو خیرات کر دے لیکن دولت و کثرت کا یہ عالم ہو گا کہ کوئی قبول کرنے والا نہ ملے گا۔ عدی کہتے ہیں کہ میرے دل میں یہ بات کھٹکتی تھی کہ آخر قبیلہ طے کے وہ ڈاکو کیا ہو جائیں گے جنھوں نے پورے ملک میں آگ لگا رکھی ہے، لیکن پھر خود عدی کا بیان ہے کہ انھوں نے یہ چشم سر دیکھا کہ ایک پردہ نشین عورت تن تنہا چل کر آتی ہے اور کعبہ کا طواف کر کے واپس چلی جاتی ہے اور اس کو خدا کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہو تا۔ نیز جن لوگوں نے کسریٰ کا خزانہ فتح کیا ان میں خود عدی بھی شریک تھے۔

حضرت عثمان بن طلحہ کہتے ہیں کہ ایام جاہلیت میں کعبہ کا دروازہ ہفتہ میں دو دن یعنی پیر اور جمعرات کو کھولا کرتے تھے۔ ایک دن نبی کریمؐ اپنے چند اصحاب کے ساتھ کعبہ میں داخل ہونے کی نیت سے تشریف لائے تو کعبہ کے کلید بردار حضرت عثمان بن صلحہ نے درشتی کا مظاہرہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل ضبط اور حلم سے کام لیتے ہوئے فرمایا اے عثمان! ایک دن تو اس کعبہ کی چابی میرے ہاتھ میں دیکھے گا اور میں جسے چاہوں گا اس کو دے دوں گا“۔ عثمان نے کہا: اس دن قریش مرجائیں گے اور ذلیل ہو جائیں گے کہ اس دروازے کی کنجی تمھارے ہاتھ میں چلی جائے گی ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں، اس دن قریش کو اور زیادہ عزت حاصل ہو گی۔ پھر فتح مکہ کے بعد چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ کعبہ کی چابی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں میں آئی اور آپ نے کمال حلم و بردباری سے یہ چابی پھر انھی کو سونپ دی اور فرمایا: ”یہ کنجی لو! یہ قیامت تک تمھارے ہی خاندان میں رہے گی۔ ظالم اور جابر کے سوا کوئی اسے تم سے نہیں چھینے گا”۔ حضرت عثمان! کہتے ہیں کہ مجھے حضور کے وہ الفاظ یاد تھے جو آپ نے مکہ میں مظلومی کے زمانے میں کہے تھے اور میں نے برملا اعلان کیا: “یقیناً جو آپ نے فرمایا تھا، وہی ہوا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں”۔ ایک طرف مکی دور کی سختیاں اور مجبوریاں ہیں تو دوسری طرف دائی کا عزم و بصیرت اور مشن اور منزل کا واضح شعور۔ انھی حالات میں معراج کا واقعہ ہوتا ہے جو تحریک اور اس کے مشن کی راہ میں ایک سنگ میل اور اس دعوت کے اصل مزاج اور کردار کا بہترین مظہر ہے۔ جیسا کہ اقبال نے لکھا ہے ، آپ کا اصل مشن  محض عرفان ذات نہ تھا بلکہ رسول عربی کا اصل مشن رب کائنات سے اتنے قرب اور نور الٰہی سے بلاواسطہ فیضیاب ہونے کے بعد جو روشنی حاصل ہوئی تھی، اس سے دنیائے انسانیت کو منور کرنا تھا۔

 ایک عظیم صوفی بزرگ مولانا عبد القدوس گنگوہی کے تاریخی جملے: اگر میں حضور کی جگہ ہوتا تو ذات باری کے اتنا قریب پہنچنے کے بعد واپس نہ آتا” پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال نے اسلامی الہیات کی تشکیل جدید میں صحیح کہا ہے کہ نبی کے تصور دین اور محدود مذہبیت کے تصور میں یہی فرق ہے۔ ایک اپنی ذات کے عرفان کا متلاشی ہے اور دوسرا معرفت ذات کے بعد انسانیت کی تخلیق نو اور ایک نئے انسان نئے معاشرے اور نئی تاریخ کی تعمیر کو اپنا نصب العین بناتا ہے اور یہی محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا اصلی کارنامہ ہے۔ دیکھیے خود قرآن اس پر کس طرح دلالت کرتا ہے کہ سورہ بنی اسرائیل کی جن آیات میں واقعہ اسراء بیان ہوا وہیں دعوت نبوی اور اسلامی تحریک کا عالمی منشور پیش کیا گیا ہے کہ اللہ کا یہ فرستادہ بندہ ان بلندیوں کو چھونے کے بعد اب انسانیت کو بلندیوں کی طرف بلانے اور نئے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کرے گا۔ ہجرت کا اشارہ بھی انھی آیات میں موجود ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے کی زبان پر اس وقت جو دعا جاری و ساری فرمائی ہے وہ مدنی دور کی پیش بینی اور اسلام کے لیے اقتدار اور قوت کی بشارت کی خبر دیتی ہے۔

 وقُل رَّبِّ ا و دْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِى مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا وَقُلْ جَاءَ الحق وزهقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقاً (بنى اسرائيل ) اور دعا کرو کہ پروردگار مجھ کو جہاں بھی تو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنا دے اور اعلان کر دو کہ حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے”۔

ہجرت کے واقعے پر غور کریں تو صاف نظر آتا ہے کہ گو اللہ کا برگزیدہ رسول اپنے وطن کو چھوڑ کر جا رہا ہے اور دشمن اس کا پیچھا کر رہے ہیں لیکن اس کے عزم اور اس کے وژن کا حال یہ ہے کہ سراقہ بن جشم جب تعاقب میں ناکام ہو جاتا ہے اور گھوڑے کے زمین میں دھنسنے سے اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا تو وہی جو آپ کو گرفتار کرنے آیا تھا، آپ سے عفو و امان طلب کرتا ہے اور آپ نہ صرف اسے امان دیتے ہیں (جو فی الحقیقت فتح مکہ پر اس کے کام آئی) بلکہ فرماتے ہیں: ”اے سراقہ! اس وقت تیری کیا شان ہو گی جب تو کسری ٰکے کنگن پہنے گا”۔ یعنی ایران کی فتح اور اس وقت کی ایک سوپر پاور پر اسلام کا غلبہ وائی کو صاف نظر آ رہا ہے اور حضرت عمر فاروق کے زمانے میں وہی ہوا جس کی آپ نے پیش گوئی کی تھی، حتی کہ کسری ٰکے کنگن سراقہ کے ہاتھوں کی زینت بنے۔

بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبی ثانی میں جو عہد و پیمان ہوئے ہیں ان پر غور کیجیے۔ اللہ کا رسول ایک پناہ گزین کی حیثیت سے نہیں ایک آقا اور سربراہ کی حیثیت سے مدینہ جاتا ہے اور جان نثاروں کے اس عہد کے ساتھ جاتا ہے کہ انصار مدینہ اس کی خاطر ساری دنیا کی دشمنی مول لیں گے اور ان کی تلواریں اس دین اور اس کے نبی کا دفاع کریں گی۔ بیعت عقبہ اولیٰ میں جو عہد کیا جاتا ہے وہ یہ ہے: ”ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھرائیں گے، چوری نہیں کریں گے، زنا نہیں کریں گے ، اپنے بچوں کو قتل نہیں کریں گے ، کسی کے خلاف جانتے بوجھتے کوئی من گھڑت بہتان نہیں اٹھائیں گے اور کسی معروف معاملے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی نہیں کریں گے”۔ بیعت عقبہ ثانی کے موقع پر جب عہد و پیمان ہو گیا تو حضرت سعد بن زرارہ نے صاف الفاظ میں اعلان کیا: ”بھائیو! یہ بھی خبر ہے کس چیز پر بیعت کر رہے ہو؟ یہ عرب و عجم اور جن و انس سے اعلان جنگ ہے۔ سب نے کہا: ”ہاں، ہم اسی پر بیعت کر رہے ہیں۔

مدینہ میں آپ سربراہ مملکت تھے اور مدینہ کی ریاست کے دستور (جو تاریخ انسانی کا پہلا تحریری دستور ہے) کے تحت حضور اکرم تمام معاملات میں صرف اہل ایمان ہی کے لیے نہیں، یہودی قبائل اور پوری آبادی کے لیے آخری اتھارٹی تھے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ حضور نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ نے زمین کو سمیٹ کر مشارق و مغارب کے کونے مجھ کو دکھا دیے۔ پس جہاں تک میں نے دیکھا، وہاں تک میری امت کی حکمرانی پہنچ جائے گی”۔ خندق کی کھدائی کے موقع پر آپ نے کرئی کے شہر اور قیصر کے علاقوں پر اسلام کی فتح کی جھلک دیکھی اور بالآخر یہ دونوں سوپر پاورز اسلام کے آگے سرنگوں ہو گئیں۔ دعوت رسالت اور غلبہ حق کے یہ سارے نقوش اسی ایک سنت کبری کا حصہ ہیں اور جب تک مسلمان دین اور دنیا کی وحدت دعوت اور جہاد کی ہم آہنگی اور تقویٰ اور اقتدار کی یک رنگی کے علم بردار رہے، وہ روشنی برابر بڑھتی رہی جو حرا سے نکل کر مدینہ اور مدینہ سے بڑھ کر چار دانگ عالم میں پھیل گئی تھی۔ کیا غضب ہے کہ آج اس سنت کیرٹی کو کچھ ارباب مذہب “سیاست” کا نام دیتے ہیں اور کار نبوت سے اس کی نسبت پر شرمسار ہیں۔

اسی قرآن میں ہے اب ترک جہاں  کی تعلیم               جس نے مومن کو بنایا مہ و پرویں کا امیر

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں                 ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق

سنت نبویؐ میں دین و دنیا کی جس وحدت اور ایمان اور اقتدار میں جس ہم آہنگی کا نمونہ پیش کیا گیا ہے وہ دنیا پرستی اور قوت و حکمرانی کے اس ماڈل سے بالکل مختلف ہے جو ہمیں دنیا کی دوسری تہذیبوں میں نظر آتا ہے۔ یہاں اگر قوت و اقتدار قیام حق کی جدوجہد کا ایک لازمی حصہ اور مرحلہ ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ یہ قوت اور یہ اقتدار اخلاق کی بالادستی، دعوت دین، رب کی اطاعت اور انسانوں کی خدمت کی شرائط سے مشروط ہیں۔ دنیا اور اقتدار خود مطلوب نہیں۔ ان کا حصول صرف دعوت رب کے ذریعے اور دعوت رب کی خاطر ہے۔ اس کا بہترین مظہر وہ مکالمہ ہے جو قریش کے سرداروں اور نبی برحق کے درمیان ہوا۔ جب قریش نے دیکھا کہ لوگ حضور کی دعوت کی طرف لبیک کہہ رہے ہیں تو اس سے زیادہ پہنچ ہی نہیں سکتے تھے جو انسان کی خالص دنیوی اور طبعی سطح کی معراج ہے۔ وہ سمجھوتے کی دعوت لے کر آپ کے پاس آئے۔ ان کی سوچ بس یہیں تک جا سکتی تھی کہ انسان ساری تگ و دو کس لیے کرتا ہے۔دولت حسن، اقتدار ، انھوں نے آپ کو تینوں کی پیش کش کی اور یہ پیش کش دعوت کو ترک کر دینے مشروط تھی۔ وہ آپ کو دولت سے مالا مال کرنے کو تیار تھے، خوبصورت ترین خاتون آپ کے نکاح میں دینے کے لیے آمادہ تھے، آپ کو سرداری اور اقتدار پیش کر رہے تھے۔ لیکن جو قوت، دولت اور اقتدار آپ کے پیش نظر تھا وہ دعوت کے ذریعے اور دعوت کے لیے تھا۔ دعوت کو ترک کر کے محض اپنی ذات کے لیے نہیں۔ آپ نے صاف کہہ دیا: مجھ کو مال و دولت کی تمنا نہیں، شہرت اور بادشاہت میرا مقصد نہیں، میں ہوس کا بھی شکار نہیں اور نہ کوئی اور شکایت مجھے ہے۔ میں تو اللہ کا رسول ہوں۔ اس نے مجھے بھیجا ہے تاکہ تم کو غفلت سے چونکا دوں، برائی کا برا انجام بتا دوں اور نیکی کا نیک انجام بھی سنا دوں اور تمھیں تمھارے رب سے ملا دوں۔

جب ابو طالب نے کہا: ’’بھتیجے ، یہ قوم کے مالدار اور سردار لوگ ہیں، انھیں تم سے شکایت ہے۔ نہ تم ان کے دیوتاؤں کو کچھ کہو نہ یہ تم کو اور تمھارے خدا کو کچھ کہیں۔ آپ نے فرمایا: چا چا جان! جو چیز ان کے لیے بہتر ہے کیا میں اس کی طرف بلانا چھوڑ دوں؟ میں کہتا ہوں کہ یہ زبان سے ایک فقرہ کہہ دیں – لا الله الا الله محمد رسول الله – اگر یہ راضی ہو جائیں تو پورا عرب ان کے تابع ہو گا اور ساری دنیا ان کے قدم چومے گی۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند رکھ دیں اور کہیں کہ میں یہ کام چھوڑ دوں تو یہ نا ممکن ہے۔ یا تو یہ کام پورا ہو گا یا میری جان بھی اس راہ میں کام آئے گی۔

مقصد دولت اقتدار یا غلبہ نہیں اللہ کی بندگی اور انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نجات دلانا اور صرف ایک اللہ کی بندگی میں لانا تھا اور دولت، قوت، اقتدار اور غلبہ ہر چیز کلمتہ الله العالی کے لیے تھی، خود مقصود نہ تھی۔ یہی وجہ ہے حکمرانی کا جو نمونہ حضور نے پیش فرمایا وہ بادشاہوں اور دولت اور اقتدار کے پجاریوں والا نہیں، اللہ کے ایک مطیع بندے اور اللہ کے بندوں کے خادم اور خیر خواہ کا تھا۔

حاتم طائی کے بیٹے عدی عیسائی تھے۔ انھوں نے حضور اکرمؐ کے جو حالات سنے، خصوصیت سے آپ کے نبی ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست کے حکمران ہونے کے بارے میں، تو شک میں پڑ گئے کہ آپ بادشاہ ہیں یا پیغمبر جب وہ اپنے قبیلے کا وفد لے کر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو عین اس وقت ایک مسکین سی عورت اپنی کسی غرض سے دربار نبوت میں آئی اور لوگوں سے ذرا ہٹ کر کچھ سن لینے کی درخواست کی۔ آپ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اس کی بات سنی اور اس وقت تک گلی میں کھڑے رہے جب تک وہ اپنی مرضی سے چلی نہیں گئی۔ عدی کہتے ہیں کہ آپ کی تواضع اور ملنساری دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ پیغمبر ہیں، بادشاہ نہیں۔

حضورؐ ایک یہودی عالم کے مقروض تھے۔ اس نے آپ سے تقاضا کیا۔ آپ نے فرمایا: اس وقت تو میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اس نے کہا  میں تو قرض وصول ہی کر کے ٹلوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”اچھا پھر میں تمھارے ساتھ ہی بیٹھتا ہوں”۔ چنانچہ آپ ظہر سے فجر تک اس کے ساتھ بیٹھے رہے۔ صحابہ نے اس یہودی کی اس گستاخی پر ناراضی ظاہر کی اور خدمت عالی میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ آپ کو ایک یہودی نے روک رکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں! لیکن خدا نے مجھے منع کیا ہے کہ میں کسی ذمی یا کسی اور شخص پر ظلم کروں۔ جب تھوڑا اور وقت گزرا اور دن ذرا چڑھا تو اس یہودی عالم نے کلمہ پڑھا اور کہا میں اپنی جائیداد کا نصف خدا کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔ میں نے یہ گستاخی اس لیے کی تھی کہ تورات میں پیغمبر کے جو اوصاف مزکور ہیں ان کا تجربہ کروں بلاشبہ آپ خدا کے پیغمبر ہیں، بادشاہ نہیں۔

یہ ہے سنت نبوی میں حکمرانی اور اقتدار کا نمونہ۔

سروری در دین ما خدمت گری است                      عدل فاروقیؓ و فقر حیدریؓ است

ہر کہ عشقِ مصطفیؐ سامان ِاوست              بحرد بر در گوشہ  دامانِ اوست

ہمارے دین میں سرداری خدمت گری کا نام ہے۔ (ہمارے دین میں) حضرت عمر فاروق کا سا عدل اور حضرت علی کا سا فقر ہے ۔جو شخص عاشق رسول ہے اس کے دامن میں بحروبر کی تمام اشیا ہیں (وہ ساری کائنات پر حکمران ہوتا ہے)۔

 دعوت تزکیہ خدمت اصلاح بین الناس عدل و انصاف دادرسی اور کرم گستری یہ ہے سنت نبوی ؐمیں قوت و اقتدار کا مزاج اور غلبہ دین کا حاصل اور پیغام۔ جب تک مسلمان سنت خیر الا نام کے اس مرکزی نکتہ کو ایک بار پھر حرز جاں نہیں بنا لیتے ، وہ تاریخ میں اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر سکتے۔ اقبال نے اپنے ۱۹۳۰ کے تاریخی خطبہ صدارت میں تصور پاکستان کا اولیں نقشہ ہی پیش نہیں کیا، اس میں اسلام کے انسان ساز اور تاریخ گر کردار کو بھی نمایاں کیا ہے اور ایمان کو ایک ایسے روحانی تجربہ کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی معاشرے کی الہامی ہدایت کی روشنی میں تنظیم نو کرتا ہے اور پھر تاریخ کے اس زریں سبق پر توجہ کو مرکوز کیا ہے کہ :

“One lesson I have learned from the history of Muslims: at critical moments in their history it is Islam        that has saved Muslims and not vice versa”.

میں نے مسلمانوں کی تاریخ سے ایک سبق سیکھا ہے اور وہ یہ کہ ان کی تاریخ کے تمام نازک اور فیصلہ کن لمحات میں مسلمانوں نے اسلام کو نہیں بچایا، یہ اسلام ہے جس نے ہمیشہ مسلمانوں کو بچایا اور تحفظ اور زندگی فراہم کی ہے۔

اور جیسا کہ امام مالک نے کہا کہ مسلمانوں کو ان کے بعد کے دور میں بھی ترقی اور بلندی اسی چیز سے حاصل ہو سکتی ہے جس سے ان کو پہلے دور میں عزت اور سربلندی میسر آئی تھی ، یعنی قرآن اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم!

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »