اتوار کی چھٹی

امریکہ کے نئے عالمی نظام کی طرف ایک اور پسپائی!
فروری ۱۹۹۷ کے مینڈیٹ کی پہلی خلاف ورزی اگر مناصب اقتدار کی تقسیم میں اقربا نوازی کی شکل میں ہوئی تو دوسرا اخلاقی اور نظریاتی انحراف وزیر اعظم کے خطابی فرمان کے ذریعہ جمعہ کی چھٹی کی منسوخی اور اس کی جگہ ایک مخصوص سیکولر ، مغرب پرست اور ہندستان نواز لابی کو خوش کرنے کے لیے اتوار کی چھٹی کی بحالی ہے۔ یہ وہ اقدام ہے جس کے ذریعہ مسلم معاشرے کی تاریخ، روایات اور نظریاتی تشخص کو نظر انداز کر کے ایک بار پھر پاکستان کا مسلم دنیا سے رشتہ توڑنے اور یورپ، امریکہ اور ہندستان سے جوڑنے کی سعی نامسعود کی گئی ہے۔ صد افسوس ہے کہ اس بار یہ زخم برطانوی سامراج کے ہاتھوں نہیں مسلم لیگ کی اس قیادت کے ہاتھ سے لگا ہے جو نظریہ پاکستان کے احیا اور پاکستان کے نظریاتی استحکام کا دعویٰ لے کر اٹھی ہے ۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
میاں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم پہلی تقریر میں بہت سے مثبت اور خوشگوار پہلو تھے لیکن نہ معلوم کیوں انھوں نے ضروری سمجھا کہ اس پہلی ہی تقریر میں ملک کے نظریاتی اور تہذیبی تشخص پر ایک ایسا وار کریں جس کی ان سے توقع نہ تھی۔ اس اقدام کے لیے جواز کی تلاش میں ان سے قرآن پاک کی جس آیت کریمہ کا ترجمہ پیش کرایا گیا ہے وہ ایک طرف قرآن کی بے ادبی ہے تو دوسری طرف امت کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ ہم ضروری سمجھتے ہیں اس مسئلے کے مختلف پہلو قوم کے سامنے رکھیں تاکہ ایک طرف ریکارڈ درست ہو سکے تو دوسری طرف خود میاں صاحب، مسلم لیگ کی قیادت اور پارلیمینٹ کو اس مسئلہ پر غور و فکر کا ایک اور موقع مل جائے اور شاید وہ اس غلطی کی اصلاح کے لیے آمادہ ہو جائیں جس کے وہ مرتکب ہوئے ہیں ورنہ تاریخ اور ملت اسلامیہ پاکستان ان حضرات کو اس رجعت قہقہری کے لیے کبھی معاف نہیں کرے گی۔
برطانوی سامراج کی مسلط کردہ اتوار کی چھٹی کو ۱۹۷۷ کی عوامی تحریک کے جلو میں ختم کیا گیا تھا اسی طرح یقیناً مستقبل میں ان شاء اللہ ملت اسلامیہ کی حقیقی نمایندہ قوتیں پھراس بدعت سیئہ کا خاتمہ کریں گی اور جمعہ کی چھٹی کی پاک روایت کا احیا ہو گا۔ اس مسئلہ پر غور کرنے کے کئی پہلو ہیں۔ ایک خالص دینی نقطہ نظر دوسرا سیاسی، ثقافتی اور تہذیبی روایات اور مصالح کا پہلو اور تیسرا معاشی اور کاروباری زاویہ۔ ہم ان تمام پہلوؤں سے مسئلے کا جائزہ لیں گے اور ان سب افراد کو جو اس سے دلچسپی رکھتے ہیں دعوت دیں گے کہ ہمارے دلائل پر کھلے ذہن سے غور فرمائیں۔
سب سے پہلے دینی پہلو کو لیجیے۔ بہت سے مذاہب میں کسی ایک دن کو عبادت اور آرام کے لیے مخصوص کرنے اور اس دن کو خدا کے نام سے موسوم کرنے اور کچھ مذہبی اوامر و نواہی کے لیے خاص کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ خصوصیت سے یہودی مذہب میں یوم السبت (ہفتہ کا دن) اور عیسائی دنیا میں اتوار کا دن۔ دوسرے مذاہب میں بھی اس نوعیت کی تخصیص پائی جاتی ہے جس کا تفصیل سے ذکر انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس کے دو مضامین SABBATH (جلد ۱۰ ص ۸۸۵ تا ۸۹۵ اور SUNDAY (جلد ۲ ص ۱۰۳ تا ۱۱) کے ذیل میں کیا گیا ہے۔ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے، تمام دن اللہ کے لیے ہیں اور محض آرام کے تصور سے ایک دن مخصوص کرنے کی کوئی روایت اسلامی تہذیب و تمدن میں نہیں۔ اس لیے جمعہ کے مسئلہ پر سبت کے پس منظر میں غور نہیں کرنا چاہیے۔ یہی وجہ ہے اسلامی روایات میں جمعہ کا ایک خاص مقام ہونے کے باوجود نہ اس دن سے محض آرام،کام سے فرار اور زندگی کے معاملات سے تعرض کا کوئی تعلق ہے اور نہ اس کے پس منظر میں کوئی ایسا مجمول مذہبی تصور ہے کہ زمین اور آسمان کے پیدا کرنے والے نے کائنات کو چھ دن میں بنایا اور ساتویں دن آرام کیا توناے بنی آدم تو بھی ایک دن آرام کر
اسلام میں جمعہ کا آغاز امت کی مرکزیت کو مستحکم کرنے اور اجتماعی عبادت کا ایک ایسا نظام قائم کرنے کے لیے ہوا جو معاشرے میں یک جہتی پیدا کرنے اور اسے عبادت اور اللہ اور اس کے بندوں کی خدمت کی روشنی سے منور کرنے کا باعث ہو۔ یہ بات بڑی اہم ہے۔ پہلے جمعہ کا اہتمام ہجرت کے بعد مدینہ کی اسلامی سوسائٹی اور ریاست کے قیام کی پہلی منزل کے طور پر ہوا اور اس دن سے آج تک (اور ان شاء الله روز قیامت تک) یوم الجمعہ کا یہ مرکزی کردار امت کی امتیازی شان رہے گا۔ جس طرح حج کے ایام اور ماہ رمضان اسلام کے شعائر میں سے ہیں، اسی طرح جمعہ بھی اسلام کا ایک نمایاں شعار ہے اور ملت کی اجتماعی شیرازہ بندی میں اس کا منفرد کردارہے۔
اسلامی تقویم میں جمعہ ہفتے کا ساتواں اور آخری دن ہے جسے زمانہ قبل اسلام میں یوم العروبة کہتے تھے مگر مدینہ کی اسلامی اجتماعیت کے قیام کے بعد اس کا نام الجمعہ رکھا گیا۔ اس دن کی مرکزی اہمیت مسلمانوں کا وہ اجتماع ہے جو نماز جمعہ کی شکل میں مرتب کیا جاتا ہے اور جس کا اہتمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ یہ وہ نماز ہے جو جماعت کے بغیر ادا نہیں ہو سکتی۔ (ملاحظہ ہو لسان العرب و مفردات القرآن ، بذیل ماده جمع الكشاف، جلد ۴)
سورۃ الجمعہ کی جن تین آیات میں (آیت ۹ تا ۱۱) اس نماز کا اور اس کے دوسرے متعلقات کا حکم دیا گیا ہے ان میں اور متعلقہ احادیث میں جمعہ کے آداب کے سلسلے میں بڑی واضح ہدایات ملتی ہیں
1۔ جمعہ کی نماز کا اہتمام مسلم معاشرے میں ضروری ہے جس کا ایک حصہ جمعہ کی اذان بھی ہے، اور اس اذان کے بعد ہر مسلمان بالغ مرد کے لیے کاروبار زندگی، خواہ اس کا تعلق خرید و فروخت سے ہو یا دوسرے معاملات سے مطلقاً بند کر کے نماز کی نیت سے جامع مسجد کی طرف روانگی لازم ہے۔
2- نماز سے پہلے اس کی تیاری اور اہتمام کے بارے میں مختلف احادیث اور فقہ کی کتابوں میں تفصیلات مذکور ہیں جو دراصل سعی الی ذکر اللہ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتی ہیں اور جن کا ذوق و شوق سے اہتمام مسلم معاشرہ کی جان ہے۔ امام غزالی نے احیا العلوم (جلد اول ، فصل پنجم، جمعہ کی فضیلت) میں تفصیل سے ان کا ذکر کیا ہے اور علما ء اور صلحاءِ امت نے جمعہ کی اس تیاری کا اس طرح اہتمام کیا ہے جیسے عید کے لیے کیا جاتا ہے۔ جمعہ کے غسل کا وجوب،صاف ستھرے کپڑوں کا اہتمام، خوشبو کا استعمال گویا سب اسی سعی کے مختلف پہلو ہیں۔
3-جمعہ کی اذان سے پہلے اور جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد زندگی کے دوسرے معاملات کا اہتمام، خواہ ان کا تعلق خرید و فروخت سے ہو یا دوسرے امور سے جائز ہے، البتہ کثرت سے اللہ کا ذکر لازم ہے تاکہ اس کی حدود کا اہتمام ہو، عبادت کی روح غالب رہے اور سیر و تفریح یا تجارت میں انہماک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام اور ان کے احکام کی پیروی کے باب میں کسی تساہل کا سبب نہ بنے۔
ان ہدایات کی روشنی میں جہاں یہ بات سامنے آتی ہے کہ جمعہ کا دن اور اس کی عبادت ایک مرکزی اہمیت کی حامل اور مسلم معاشرہ کا نمایاں شعار ہے وہیں یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ زندگی کے دوسرے معاملات کے بارے میں اذان سے قبل اور نماز کے بعد کام کی اجازت موجود ہے اور یہودیوں کی طرح کار دنیا سے اجتناب اسلامی روایت کا حصہ نہیں۔ جس طرح اسلام نے زندگی کے تمام معاملات کو دین کا رنگ دیا ہے۔ اسی طرح جمعہ کے دن میں نماز اور ذکر الہی کے ساتھ ساتھ دوسری سرگرمیوں کی گنجایش موجود ہے۔ جو حضرات کام کاج کی اس اجازت اور اباحت کو جمعہ کی سرکاری یا اجتماعی چھٹی کے عدم جواز کے لیے پیش کرتے ہیں وہ خلط مبحث کے مرتکب ہوتے ہیں۔ کام کاج کی یہ اباحت موجود ہے، مسلم ہے، اور مسلم معاشرے کی تاریخ کا ایک حصہ ہے اور اس لیے ہے کہ اسلام میں چھٹی کا کوئی ایسا تصور موجود نہیں جو کاروبار زندگی سے اجتناب اور ”سبت” کی نوعیت کی بے عملی سے عبارت ہو۔ البتہ سوال یہ ہے کہ اگر مسلم معاشرے میں مختلف وجوہ سے کوئی دن چھٹی کا ہونا چاہیے تو وہ اس امت کے مزاج اور اس کی ثقافت اور تہذیب کی روایات کی روشنی میں کون سا دن ہو؟ اس پر امت کا تقریباً اجماع ہے کہ وہ دن جمعہ ہی ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی تاریخ میں جب سے اجتماعی چھٹی کا رواج ہوا ساری اسلامی قلم رو میں یہی دن اس مقصد کے لیے مختص کیا گیا تا کہ جس دن کو اجتماعی عبادت کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منتخب کیا وہی دن مسلم معاشرےمیں لگے بندھے کاموں سے ہٹ کر فراغت، معاشرتی میل جول، اجتماعی پروگرام خدمت خلق اور تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو۔ بالکل فطری انداز میں ہماری تاریخ میں جمعہ نے یہ حیثیت اختیار کرلی اور تعلیم، عدالت، سرکاری کام کاج کے باب میں اسے چھٹی کے دن کے طور پر اختیار کیا گیا۔ یہی معاملہ بازار اور کاروبار معیشت کا رہا۔ گو محدود پیمانے پر نماز سے قبل اور اس کے بعد اس کا دروازہ کھلا رہا البتہ جمعہ کے دوسرے آداب کے ساتھ ! خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک جمعہ سید الایام ہے، جس کا مرتبہ یوم الفطر اور یوم النحر سے بھی بڑا ہے” (الدر المنشور ج ۶، ص ۲۱۸ الكشاف ج ۴، ص ۵۳۲) نیز آپ نے فرمایا: ”میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے، ان کے پاس سفید آئینہ تھا اور کہنے لگے کہ یہ صحیفہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اور آپ کے بعد آپ کی امت کے لیے عید بنا کر پیش کیا ہے۔ یہ دن ہمارے نزدیک سید الایام ہے اور اسے ہم آخرت کے دن تک یوم المزید یعنی اضافے والا دن کہیں گے (الكشاف ج ۴، ص ۵۳۲) مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع اپنی تفسیر معارف القرآن (جلد ہشتم، ص ۱۴۴۱) میں آیت الجمعہ کی تفسیر کے ذیل میں لکھتے ہیں:
“اس میں اشارہ اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ اذان جمعہ کے بعد جو خرید و فروخت کو اس آیت نے حرام کر دیا ہے اس پر عمل کرنا تو بیچنے والوں اور خریداروں سب پر فرض ہے، مگر اس کا عملی انتظام اس طرح کیا جائے کہ دکانیں بند کر دی جائیں تو خریداری خود بخود بند ہو جائے گی اس میں حکمت یہ ہے کہ گاہکوں اور خریداروں کی تو کوئی حد شمار نہیں ہوتی۔ ان سب کے روکنے کا انتظام آسان نہیں، فروخت کرنے والے دکاندار متعین اور معدود ہوتے ہیں۔ ان کو فروخت سے روک دیا جائے تو باقی سب خرید سے خود رک جائیں گے، اس لیے ذروا البیع میں صرف بیچ چھوڑ دینے کے حکم پر اکتفا کیا گیا”۔
مفتی صاحب قبلہ فتاوی دارالعلوم دیوبند دار الاشاعت کراچی سوال نمبر ۲۸۱ ص (۴۰۶۴۰۵) میں جمعہ کی چھٹی کو مستحب قرار دیا ہے۔( اصل سوال و جواب عربی میں تھا۔ اس کا صرف ترجمہ دیا جا رہا ہے)
سوال : جمعہ اور عید الاضحی کے دنوں میں تدریس کی چھٹی کرنا قرآن و حدیث اور فقہ سے ثابت ہے یا یہ کوئی مصنوعی طریقہ ہے جسے اختیار کر لیا گیا ہے؟
الجواب : اگر جمعہ کے روز تدریس وغیرہ کی چھٹی اس وجہ سے کرنا ہے کہ اس دن ایسا کرنا صحیح نہیں ہے تو یہ نقطہ نظر غلط ہے اور بدعت ہے، اس پر عمل کرنا درست نہیں۔ لیکن اگر درس و تدریس وغیرہ سے چھٹی اس وجہ سے کرنا ہے کہ سلف صالحین کی سنت یہ رہی ہے کہ وہ اس دن کو عبادات کے لیے خاص کرتے تھے اور اسے یوم عید سمجھتے تھے تو مستحب ہے کیونکہ یہ چیز نصوص سے ثابت ہے جیسا کہ ابن قیم نے زاد المعاد 1/1 میں لکھا ہے کہ جمعہ کے دن کو عبادات کے لیے مخصوص کرنا چاہیے اور مختلف واجب اور مستحب عبادات کے حوالے سے اس دن کو خصوصی امتیاز حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لیے ایک ایسا مکمل دن مقرر فرمایا ہے جس میں وہ عبادت کے لیے فارغ ہوتے ہیں اور دیگر دنیاوی کام چھوڑ دیتے ہیں۔ اس لیے جمعہ کا دن عبادت کا دن ہے اور دنوں میں اس کی حیثیت و مرتبہ ماہ رمضان جیسا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
مولانا امین احسن اصلاحی اپنی تفسیر تدبر قرآن میں جمعہ کے روز مسلمانوں کے لیے پسندیدہ روش کے عنوان سے لکھتے ہیں:
قرآن کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ مسلمانوں کے لیے پسندیدہ روش‘ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ہے کہ جمعہ سے پہلے کا وقت وہ جمعہ کی تیاریوں میں صرف کرے۔ کوئی اور مصروفیت، بلا کسی شدید ضرورت کے وہ ایسی نہ پیدا کرے جو اس تیاری میں مانع یا مخل ہو۔ یہ بات یوں نکلتی ہے کہ فرمایا ہے کہ جب نماز ختم ہو جائے تب زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کے رزق و فضل کے طالب بنو۔ ان الفاظ کے اندر یہ مضمون مضمر ہے کہ جمعہ کے دن کاروباری مصروفیت کے لیے موزوں وقت جمعہ سے پہلے کا نہیں بلکہ جمعہ کی نماز کے بعد ہی کا ہے بالخصوص اس طرح کی کاروباری مصروفیت جس کے لیے لوگوں کو بستی سے نکل کر زمین میں پھیلنے پر مجبور ہونا پڑے اور اندیشہ ہو کہ جمعہ کے لیے جو اجتماع مطلوب ہے اس انتشار سے اس کو نقصان پہنچے گا۔ ایک عام آدمی کو ہفتہ میں ایک دن ایسا ضرور ملنا چاہیے جس دن وہ حجامت بنوائے، کپڑے دھوئے، غسل کرے۔ ان کاموں کے لیے موزوں ترین دن جمعہ ہی کا ہو سکتا ہے اس لیے کہ یہ باتیں اس کے آداب میں سے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ ہدایت فرمائی کہ جمعہ کے دن دوسری معاشی و کاروباری سرگرمیاں اگر ضروری ہوں تو جمعہ کے بعد ہی شروع ہوں۔ یہی طریقہ ہمارے سلف صالحین کا رہا ہے اور یہی طریقہ آج بھی ان حلقوں میں پسندیدہ ہے جن میں اسلامی شعائر اور اسلامی تہذیب کا شعور زندہ ہے“۔ (جلد ہفتم، ص ۳۸۹)
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی اپنی تفسیر تفہیم القرآن میں آیت جمعہ کا تاریخی پس منظر اور ضروری مسائل کی وضاحت کے بعد فرماتے ہیں:
اس مقام پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اگرچہ قرآن میں یہودیوں کے سبت اور عیسائیوں کے اتوار کی طرح جمعہ کو عام تعطیل کا دن قرار نہیں دیا گیا ہے لیکن اس امر سے کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا کہ جمعہ ٹھیک اسی طرح مسلمانوں کا شعار ملت ہے جس طرح ہفتہ اور اتوار یہودیوں اور عیسائیوں کے شعار ملت ہیں۔ اور اگر ہفتہ میں کوئی ایک دن عام تعطیل کے لیے مقرر کرنا ایک مدنی ضرورت ہو تو جس طرح یہودی اس کے لیے فطری طور پر ہفتہ کو اور عیسائی اتوار کو منتخب کرتے ہیں اسی طرح مسلمان (اگر اس کی فطرت میں کچھ اسلامی حس موجود ہو) لازماً اس غرض کے لیے جمعہ ہی کو منتخب کرے گا بلکہ عیسائیوں نے تو دوسرے ایسے ملکوں پر بھی اپنے اتوار کو مسلط کرنے میں تامل نہ کیا جہاں عیسائی آبادی آٹے میں نمک کے برابر بھی نہ تھی۔ یہودیوں نے جب فلسطین میں اپنی اسرائیلی ریاست قائم کی تو اولین کام جو انھوں نے کیا وہ یہ تھا کہ اتوار کے بجائے ہفتہ کو چھٹی کا دن مقرر کیا۔ قبل تقسیم کے ہندستان میں برطانوی ہند اور مسلمان ریاستوں کے درمیان نمایاں فرق یہ نظر آتا تھا کہ ملک کے ایک حصے میں اتوار کی چھٹی ہوتی تھی اور دوسرے حصے میں جمعہ کی۔ البتہ جہاں مسلمانوں کے اندر اسلامی حس موجود نہیں ہوتی وہاں وہ اپنے ہاتھ میں اقتدار آنے کے بعد بھی اتوار ہی کو سینے سے لگائے رہتے ہیں جیسا کہ ہم پاکستان میں دیکھ رہے ہیں بلکہ اس سے زیادہ جب بے حسی طاری ہوتی ہے تو جمعہ کی چھٹی منسوخ کر کے اتوار کی چھٹی رائج کی جاتی ہے جیسا کہ مصطفیٰ کمال نے ترکی میں کیا”۔ (جلد پنجم ص ۴۹۷-۴۹۸ )
افسوس کہ جو ظلم ترکی میں سیکولر قیادت نے کیا تھا، پاکستان میں ۲۰ سال جمعہ کی چھٹی کے اہتمام کے بعد مسلم لیگی قیادت نے وہی ظلم اہل پاکستان کے ساتھ کیا ہے اور اس پس منظر میں کیا ہے کہ پاکستان بننے کے بعد سے تمام اسلامی قوتیں اتوار کی جگہ جمعہ کی چھٹی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ۲۴ اگست ۱۹۷۲ کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں اس سلسلہ میں ایک قرارداد باقاعدہ طور پر پیش کی گئی جس پر مفصل بحث ہوئی اور اس بحث میں مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان نے اس کی تائید کی۔ یہ قرارداد صاجزادہ صفی اللہ نے پیش کی تھی (ملاحظہ ہو پاکستان کی قومی اسمبلی کی رودادیں ۲۴ اگست ۱۹۷۲ سے ۳۱ اگست (۱۹۷۲) اور اسمبلی نے اسے متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے سپرد کیا جس نے متفقہ طور پر اپنی رپورٹ میں اسے منظور کرنے کی سفارش کی۔ اس کے علاوہ سرحد اسمبلی بھی اس سے پہلے ایسی ہی قرار داد منظور کر چکی تھی۔ نومبر ۱۹۷۶ میں اسمبلی میں پھر قرار داد، کمیٹی کی رپورٹ کے ساتھ پیش ہوئی۔ (ملاحظہ ہو قومی اسمبلی کی کارروائی نومبر ۱۹۷۶) اور بالا خر پاکستان نیشنل الائنس کی مہم کے دوران جس میں مسلم لیگ بھی شامل تھی عوامی مطالبے پر اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اتوار کی جگہ جمعہ کی چھٹی نافذ کی۔
جمعہ کی تعطیل کا مطالبہ صرف سیاسی جماعتوں ہی کی طرف سے نہیں تھا بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی بار بار اس حکومت کو اس طرف متوجہ کیا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ اسلام کے معاشرتی نظام کے قیام کی طرف پہلے قدم کے طور پر یہ اقدام کرے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ عبوری رپورٹ برائے سال ۷۶-۱۹۷۵ میں باب دوئم میں اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے ۹ نکات پر مشتمل جو سفارش کی اس کے پہلے دو مطالبات یہ تھے:
۱۔ پورے ملک میں ہفتہ وار تعطیل کے لیے جمعہ کا دن مقرر کیا جائے۔
۲-پاکستان میں ہجری کیلنڈر کو اختیار کیا جائے جس کے ساتھ رائج الوقت شمسی کیلنڈر کی تاریخیں بھی درج ہوں”۔ (اسلامی نظریاتی کونسل کی سہ سالہ رپورٹ ۱۹۷۶۔۱۹۷۴ ص ۹۷) کونسل نے پھر اپنی ۱۹۷۷-۱۹۷۶ کی رپورٹ میں ان مطالبات کا اعادہ کیا (ص ۲۵۹) اور پھر ضمیمہ جات سالانہ عبوری رپورٹ ۷۷-۱۹۷۶ میں پوری شدت سے لکھا: “جمعہ کی تعطیل : انگریز نے اپنے دور اقتدار میں ہفتہ وار تعطیل کے لیے اتوار کا انتخاب محض اس وجہ سے کیا تھا کہ یہ عیسائیوں کی عبادت کا دن ہے اور یہ رسم قبیح آزادی کے بعد سے اب تک جاری ہے۔ اس کے برعکس جمعہ ملت اسلامیہ کی عبادت کا خاص دن ہے اور اس کی اہمیت مسلم ہے۔ یہ درست ہے کہ قرآن و سنت میں تعطیلات کے متعلق کوئی قطعی حکم نہیں ملتا لیکن اگر ملک میں ہفتہ وار تعطیل کرنا ضروری ہے تو مسلمانوں کے جذبات اور جمعہ کی فضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسی تعطیل اسی روز ہونی چاہیے لہذا کونسل متفقہ طور پر سفارش کرتی ہے کہ پورے ملک میں ہفتہ وار تعطیل کے لیے جمعہ کا دن مقرر کیا جائے”۔ (اسلامی نظریاتی کونسل سے سالہ رپورٹ ۷۵ – ۷۶٬۱۹۷۴-۱۹۷۵ ۷۷-۱۹۷۶ صفحہ ۳۰۷)
یہ فطری مطالبہ مسلمانوں کی تاریخی روایت کے عین مطابق ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف اسلام (لیڈن) میں مشہور مستشرق ایس۔ ڈی گوئے ٹین (S.D. Goitein) لکھتا ہے: جمعہ ۔۔۔ اسلام میں ہفتہ وار اجتماعی عبادت کا دن …… تاریخی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ سرکاری دفاتر اور سکول عباسیہ دور حکومت ہی سے جمعہ کے دن بند ہوتے تھے۔ اسی طرح بارہویں صدی عیسوی کے یہودی محقق میمونا کڈز (Maimonides) سے جب سوال کیا گیا تو اس نے بتایا کہ اس صدی کے تجارتی اداروں میں جن میں مسلمان اور یہودی شریک تھے خصوصیت سے سنہارے کا کام، تو یہودی ہفتہ کو اور مسلمان جمعہ کو چھٹی کرتے تھے (بحوالہ موشے بن میمون ,Response Jerusalem ۱۹۳۳ )آج کے دور میں مسلمان ریاستوں کی اکثریت جمعہ ہی کو سرکاری تعطیل مناتی ہے البتہ ترکی نے اتوار کو چھٹی کے لیے منتخب کیا ہے اور پاکستان میں اتوار کو تعطیل اور جمعہ کو نصف تعطیل ہوتی ہے۔ (انسائیکلو پیڈیا آف اسلام، جلد دوئم ص ۵۹۳۔ واضح رہے یہ جلد ۶۵ – ۱۹۶۰ کے درمیان مرتب ہوئی تھی اور لیڈن سے ۱۹۶۵ میں شائع ہوئی تھی)
آگے بڑھنے سے پہلے یہ بھی واضح کر دیا جائے تو بہتر ہے کہ اول اول تعطیل کا تصور مختلف تہذیبوں میں مذہبی بنیادوں پر رونما ہوا۔ انگریزی زبان میں Holiday دراصل Holyday ہی سے مشتق ہے۔ چیمبرز کی بیسویں صدی کی ڈکشنری کے بقول:
“Holiday: originally a relegious festival, a day or season of
idleness and recreation”.
:اتوار کی تعریف اس ڈکشنری میں یوں کی گئی ہے:
Sunday: the first day of the week, anciently dedicated to the sun, now regarded as a Sabbath by most Christians.
:اور Sabbath کی تعریف یوں کی گئی ہے
“Sabbath: among the jews, Saturday set apart for rest from work; among Christians, Sunday”.
:انسائیکلو پیڈیا آف ریلیجن اینڈ ایتھکس نے Sunday کے عنوان سے اس یوم کی تعطیل کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ اس کا مقالہ نگار M.G. Glazebroلکھتا ہے
تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد کام سے جسمانی آرام ایک ثابت شدہ انسانی ضرورت ہے جس کا اعتراف تمام مہذب قوموں نے باقاعدہ تعطیل کا نظام قائم کر کے کیا۔ عیسائی بادشاہ قسطنطين (Constantine) نے ۳۲۱ عیسوی کے فرمان کے ذریعہ اتوار کی چھٹی کو رواج دیا۔ اس طرح اس نے صرف فرد کو آرام کی ایک سہولت اور چرچ کی ضروریات اور مطالبات ہی کو پورا نہیں کیا بلکہ ان معاشی اور سماجی مسائل کا بھی حل نکال دیا جو وقت کے گزرنے کے ساتھ زیادہ گھمبیر ہوتے جا رہے تھے۔ ہفتہ وار تعطیل کے لیے جو بھی سرکاری احکام جاری کیے جائیں ان کے پیچھے بزسند اور روحانی رشتہ ضروری ہے اور بلاشبہ یہ انھی پر لاگو ہوتی ہیں جو مذہبی ادارہ کے حق کو تسلیم کرتے ہیں۔ ہماری دنیا میں عیسائی چرچ ہی کو یہ حیثیت حاصل ہے اور یہی وجہ ہے ان دوسرے دلائل کے ساتھ جن کا ذکر کیا گیا ہے۔ چرچ کی اتھارٹی وہ سند ہے جس نے اتوار کی تعطیل کو عام مقبولیت بخشی۔
(Encylopedia of Religions and Ethics ed. by: James Hastings, New York, Vol. XII. p 110)
دینی، سیاسی، ثقافتی اور تاریخی اعتبار سے مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اب اس معاشی مصلحت پر بھی مختصر گفتگو کر لی جائے جو اتوار کی چھٹی کے بارے میں کچھ کاروباری حلقے پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس مصلحت پر کلام کرنے سے پہلے اتنی بات ضرور عرض کرنا چاہتے ہیں کہ خود سورۃ جمعہ کی متعلقہ آیات میں ایک اصولی بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ اگر ایک طرف دینی حکمت اور ایمانی غیرت ہو اور دوسری طرف معاشی مصلحت یا ذوق اور تفریح کی خواہش تو اس تصادم کی صورت میں مسلمان کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کو ترجیح دیتا ہے کسی دوسرے مفاد کو نہیں!
وإذا روا تمارَةَ أَوْ لَهُوَ ا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا – قُلْ مَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ مِنَ اللَّهُوَ وَمِنَ التِّجَارَةِ وَاللهُ خَيْرُ الرَّزِقِينَ (الجمعه ۱۱:۲۲)
اور جب انھوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے کہو جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔ ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان کی آج کی سیاسی قیادت نے معنوی طور پر اسلام اور اس کے شعائر کے ساتھ وہی کچھ کیا ہے جس سے اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کو منع کیا گیا ہے۔ کاش وزیر اعظم صاحب نے سورۃ جمعہ کی یہ تینوں آیات تلاوت فرمائی ہو تیں اور صرف ایک آیت کا ترجمہ پڑھنے پر اکتفا نہ کیا ہوتا!
برسر اقتدار طبقہ اور ساری باتیں کرتا ہے لیکن جس بات کا ذکر کرتے ہوئے،صرف ذکر کرتے ہوئے اس پر عمل کرتے ہوئے نہیں ،کچھ شرماتا ہے وہ اصل مدعا یعنی مغرب کے نظام سے مطابقت ہے اور اب تو یہ مصلحت اس لیے مزید دو آتشہ ہو جاتی ہے کہ ہندستان سے تجارتی اور سیاسی دوستی کے لیے جو بے چینی ہے اس میں پاکستان اور ہندستان میں اتوار کی تعطیل بھی گویا قدر مشترک ہو جائے گی! حالانکہ لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ خود مقبوضہ کشمیر میں آج بھی وہاں کے مسلمان جمعہ کو یوم تعطیل مناتے اور اتوار کو کام کرتے ہیں! کہا جاتا ہے کہ جمعہ کی چھٹی کی وجہ سے ہم دنیا سے تین دن کے لیے کٹ جاتے ہیں۔ ہفتہ اور اتوار کو وہ چھٹی مناتے ہیں اور جمعہ کو ہم۔ اس طرح عملاً صرف چار دن کام ہو سکتا ہے۔ یہ بات بھی چند در چند مغالطوں پر مبنی ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آج کی دنیا میں کام کے دن بلکہ کام کرنے کی ساعات کا تعین کارکنوں کی کارکردگی اور ملکی روایات اور تاریخی تجربات کی روشنی میں ہوتا ہے، ایک دوسرے کی نقالی میں نہیں۔ بیشتر مغربی ممالک میں دو دن کی چھٹی ہے اب تو چند ممالک میں تین دن کی چھٹی شروع ہو گئی ہے۔ یورپین کمیشن نے برطانیہ کا احتساب کیا کہ اس کے یہاں اوقات کار یورپ کے دوسرے ممالک سے زیادہ ہیں تو برطانیہ نے اس کو منہ توڑ جواب دیا کہ ہمارا عمل ہمارے اپنے مصالح پر مبنی ہے، آپ کو اس سے کیا؟ ہم یورپ کے سوشل چیپٹر (social chapter) کو تسلیم نہیں کرتے! اسرائیل میں ہفتہ کو چھٹی ہوتی ہے جبکہ پوری عرب دنیا میں، جس میں وہ گھرا ہوا ہے، جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے۔ اس نے اس نوعیت کی کوئی معذرت تلاش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہندستان کی تجارت کا تقریباً ساٹھ فی صد اس وقت عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ ہے۔ ان تمام ممالک میں جمعہ کو چھٹی ہوتی ہے لیکن ہندستان نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس عظیم منڈی سے مطابقت حاصل کرنے کے لیے جمعہ کو چھٹی کر لے۔ یہ تو ہماری “اسلامی” قیادت ہی کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ دوسروں کی خاطر اپنا دین اور اپنی دنیا سب کچھ لٹانے کے لیے تیار ہے۔
دیکھ مسجدمیں شکست ر شتہ تسبیح شیخ
بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ
اگر آپ دنیا کی جغرافیائی حالت پر غور فرمائیں تو دیکھیں گے کہ امریکہ میں وقت ہم سے دس سے بارہ گھنٹے پیچھے ہے جبکہ جاپان اور کوریا آٹھ سے دس گھنٹے آگے ہے۔ جاپان اور امریکہ میں صرف دن اور رات کی گردش کے باعث ایک دن کا فرق پڑ جاتا ہے۔ نتیجتا جب ہمارے یہاں دن ہوتا ہے تو وہاں رات ہوتی ہے اور جب جاپان میں پیر کا سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت امریکہ میں ابھی اتوار کی صبح کی سفیدی بھی پھیلی نہیں ہوتی! کیا اس کی وجہ سے تجارت تباہ ہو گئی؟ سرمایہ کاری ماند پڑ گئی؟ معاشی تعلقات کا شیرازہ بکھر گیا؟
یورپ اور امریکہ میں اب وقت کی تنظیم Time Management کا نیا نظام جسے flexible اور revolving سسٹم کہتے ہیں، رائج ہو رہا ہے۔ جس میں انتظامی معاملات میں، خصوصیت سے اعلیٰ professionals کے لیے حاضری کا کوئی متعین جدول نہیں ہوتا صرف یہ طے ہوتا ہے کہ کتنے گھنٹے کام کرنا ہے اور ہر شخص اپنی سہولت کے مطابق جدول طے کر لیتا ہے اور اس طرح ایک وسیع تر ٹائم کنویس پر کام ہوتا رہتا ہے۔ اب فیکس، کمپیوٹر، انٹرنیٹ ،ای میل اور الیکٹرانک نظام کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے، ہفتہ کے ساتوں دن اور دن کے چوبیس گھنٹے ایک دوسرے سے ربط رکھا جاسکے اور اس کے لیے متعین اوقات میں دفتر کا کھلنا اور بند ہونا ضروری نہیں رہا۔ یورپ اور امریکہ میں اب direct banking کے ذریے چوبیس گھنٹے بنکاری کا کاروبار ہو رہا ہے اور الیکٹرانک چیکنگ کی وجہ سے پلاسٹک منی (credit card / plastic money) کو دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی بھی وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اور کمپیوٹر کی مدد سے اسی وقت معاملہ کی توثیق ہو جاتی ہے۔ ان تمام معاملات کا انحصار دفتر کے کھلنے اور عملے کی موجودگی پر باقی نہیں رہا۔ نیز ہر گھر بلکہ ہر جیب ایک منی دفتر (mini office) بن چکی ہے۔ ان ساری سہولتوں کی موجودگی میں بیرونی تجارت اور مالی لین دین کی مشکلات کی بات کرنا کیا ” قبل تاریخ کی کسی داستان کو چھیڑنے کے مترادف نہیں؟
ساری تقریر اس مفروضے پر کی جاتی ہے کہ پاکستان کے عام تاجر اور عام شہری کی اصل مشکل بین الاقوامی تجارت اور یورپ اور امریکہ سے معاملات ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی قومی دولت کے بمشکل دس پندرہ فی صد کا تعلق عالمی منڈیوں سے ہے اور پاکستان کے تاجروں میں بمشکل ہزار میں پانچ ایسے ہوں گے جن کا انحصار بین الاقوامی تجارت پر ہو۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اخبار تعطیل کے باوجود روزانہ شائع ہوتے ہیں۔ اگر کسی ادارے (مثلاً اسٹاک ایکینج) کی ایسی ہی ضرورت ہو تو وہ چھٹی کے باوجود کام کا نظام بنا سکتا ہے عام شہریوں کو اس کی سزا کیوں دی جائے۔ گزشتہ بیس سال سے جمعہ کی چھٹی ہو رہی تھی لیکن کوئی شہادت ایسی نہیں ہے کہ محض اتوار کو تعطیل نہ ہونے اور جمعہ کی تعطیل ہونے کی وجہ سے ہماری تجارت یا دوسرے بین الاقوامی تعلقات پر کوئی ناخوشگوار اثر پڑا ہو۔ ساری عرب دنیا مراکش سے خلیج تک (پٹرولیم کی دولت آنے کے بعد نہیں بلکہ صدیوں سے) جمعہ کی تعطیل کر رہی ہے لیکن کاروبار میں کہیں کوئی مندی واقع نہیں ہوئی۔ بحرین کا بین الاقوامی مالیاتی مرکز جمعہ کو بند رہتا ہے اور اتنا ہی کامیاب ہے جتنا لندن، نیویارک، ٹوکیو یا فرینکفرٹ کا! پھر یہ سارا واویلا کس بات کا ہے؟ شاید اصل روگ معاشی نہیں، ذہنی اور نفسیاتی ہے جس کی طرف حکیم الامت نے بڑی بصیرت سے اشارہ کیا تھا:
تھا جو نا خوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
بس ہمارا سانحہ بھی یہی ہے جسم تو ایک حد تک مغرب کی غلامی سے آزاد ہو گئے ہیں لیکن ذہن اور سوچ آج بھی اسی طرح غلام ہے ۔
زباں سے کہہ بھی دیا لا الٰہ تو کیا حاصل
دل ونگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
ہمارا گلہ مغرب سے نہیں اپنے ہی ہم وطنوں سے ہے جو مغرب کی پرستاری اور ہندستان کی تجارتی چاہت میں ہر حد پھلانگنے کے لیے تیار ہیں۔ جو بات تو عوام کے مینڈیٹ کی کرتے ہیں ہیں اور مطابقت پیدا کرنا چاہتے ہیں امریکہ کے نئے عالمی نظام سے اور ہندستان کے معاشی در و بست سے!
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے یورپ سے نہیں ہے تقلید پہ یورپ کی رضا مند ہوا تو



