International RelationsKashmir

کشمیر اصل مسئلہ حقیقی چیلنج

ستمبر ۲۰۰۰ء میں، جب یہ تحریر لکھی گئی تحریک آزادی کشمیر میں تیزی کے ایک خاص مرحلہ کو ایک عشرہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا تھا۔ طاقت کے ذریعے سے تحریک کو کچلنے میں ناکامی کو دیکھتے ہوئے بھارت نے جو حکمت عملی اختیار کی اسے مصنف نے چھ نکات کی صورت میں بیان کیا ہے۔ جس میں پاکستان کو کشمیر کے مسئلے سے غیر متعلق کرنا تحریک مزاحمت کو اندرونی طور پر تقسیم کرنا، کشمیری رہنماؤں میں باہمی بے اعتمادی پیدا کر کے آپس میں لڑانا، آزادی کی اس تحریک کو علاقائی سطح پر اختیارات میں اضافے کے مسئلہ سے الجھانا، مقبوضہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنا اور کنٹرول لائن ( جنگ بندی لائن ) کو بین الاقوامی سرحد بنانے کی کوششیں کرنا شامل ہیں۔ اس تناظر میں، اس تحریر میں ، حکومت پاکستان کو ایک عالمگیر اور ہمہ پہلو سفارتی مہم کی ضرورت کی جانب متوجہ کیا گیا ہے۔ (مرتب)

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن کی امتیازی شان ہی یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ ایک سوراخ سے دوبارہ نہیں ڈسا جاتا۔ لیکن آج امت کا یہ حال ہے، اور خصوصیت سے پاکستان کے ارباب اختیار کا، کہ قوت ایمانی کی کمی اور مومنانہ فراست سے محرومی کے باعث ایک ہی سوراخ سے دوبارہ نہیں، بار بار ڈسے جا رہے ہیں اور پھر اسی سوراخ کے گرد منڈلانے اور اس کی قدم بوسی کے چکر میں پڑے ہوئے ہیں۔ بات محض استعارے کی نہیں ایک دردناک حقیقت ہے۔

کشمیر کے مسئلے کو لیجیے جو پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ، اور جسے قائد اعظم نے وطن عزیز کی شہ رگ قرار دیا تھا لیکن بھارت ہو یا امریکہ، دونوں سے بار بار چوٹ کھانے اور دھو کے پر دھوکا کھانے کے باوجود ہماری قیادتیں طواف کوئے ملامت سے باز رہنے کو تیار نہیں۔ ۱۹۴۸ء کی جنگ بندی سے کارگل ۱۹۹۹ء کے سانحے تک کسی واقعے سے بھی سبق سیکھنے کی کوشش نظر نہیں آتی ۔ سیاسی سر بر اہان حکومت میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے جو چر کے کھائے اور زخم دیے وہ مملکت کے جسم پر رستے ہوئے ناسور کی شکل میں موجود ہیں لیکن موجودہ قیادت نے ان سے کوئی عبرت نہیں پکڑی۔ جو خطرناک کھیل اس وقت کھیلا جا رہا ہے اس کے پردہ زنگاری میں موجودہ حکمرانوں اور ایجنسیوں کا پر تو بھی دیکھا جا سکتا ہے جو دراصل مملکت کی حفاظت پر مامور ہیں اور جن کا کام اس کو در پیش ہر خطرے کا مردانہ وار مقابلہ کرنا اور دشمن کا منہ توڑنا ہے، نہ کہ اس کھیل میں شریک ہو جانا جو ہمیں کمزور کرنے بلکہ پابہ زنجیر کرنے کے لیے کھیلا جا رہا ہے۔

ان حالات میں ہمارے پاس ایک ہی راستہ ہے، اور وہ ہے ملک کے عوام کو بیدار کرنا ، ان کو حقائق سے آگاہ کرنا اور اصل خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے سینہ سپر کرنا تا کہ وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ان کے آگے ڈٹ جائیں۔

۲۴ جولائی ۲۰۰۰ء کو جو دھما کا حزب المجاہدین کی طرف سے یک طرفہ جنگ بندی کی شکل میں ہوا ، وہ کوئی اتفاقی واقعہ نہ تھا۔ ۴ جولائی ۱۹۹۹ء کے اعلان واشنگٹن سے لے کر آج تک رونما ہونے والے واقعات کا اگر تجزیہ کیا جائے اور کڑی سے کڑی ملا کر دیکھا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ امریکہ اور بھارت ( نیز اسرائیل) کی ملی بھگت سے کشمیر کے مسئلے کی تحلیل (liquidation) اور تحریک آزادی کو سبوتاثر کرنے کا منصوبہ ایک خاص تدریج سے رو بہ عمل ہے۔ افسوس کہ ان مجاہدوں کے کچھ قائد بھی اس جال (trap) میں پھنس گئے جو عالمی شاطر اور بھارتی سامراج ان کے لیے بن رہا تھا۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا فضل، تحریک اسلامی کی بروقت اور دو ٹوک تنبیہ اور ان معصوم جوانوں کے خلوص اور خون کی دہائی تھی کہ حزب المجاہدین دو ہفتے ہی میں اس جال سے نکل آئی، جنگ بندی کو ختم کر دیا اور جہاد میں پھر سرگرم عمل ہوگئی۔ اس پورے عمل میں بھارت کا اصل چہرہ اور حقیقی عزائم پوری دنیا کے سامنے ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئے۔ اللہ تعالیٰ نے لغزش اور اس سے پیدا ہونے والے شر سے اس عظیم تحریک کو نہ صرف یہ کہ محفوظ رکھا بلکہ اس کی اس لغزش سے یہ خیر رونما ہوا کہ ایک طرف تحریک اسلامی کا موقف اور جہاد سے اس کا پختہ عہد (commitment) کھل کر سامنے آ گیا تو دوسری طرف خود دشمن کے منہ سے بار بار یہ اعتراف ریکارڈ پر آ گیا کہ کشمیر کی تحریک مزاحمت ایک خاص کشمیری تحریک ہے اور حزب المجاہدین کی تعظیم اکثریت مقبوضہ کشمیر کے مجاہدوں پر مشتمل ہے جو بھارت کی غلامی سے نجات کے لیے جہاد کر رہی ہے۔ مسئلے کے حل کی راہ میں اصل رکاوٹ بھارت کے سامراجی عزائم ، ریاستی تشدد اور ظلم، بین الاقوامی معاہدات کی خلاف ورزی اور میکاولین سیاست ہے جس کا پوری دنیا نے ان دو ہفتوں میں ایک بار پھر مشاہدہ کر لیا ۔

(وَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمُ ” ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کونا پسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو۔ البقرہ ۲۱۶:۲)

گذشتہ چند ہفتوں میں عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کی جو تشہیر ہوئی ہے اور خود بھارت کے دانش ور، اہل قلم اور صحافی جن حقیقتوں کا اب اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے ہیں، اس نے بھارت کی قیادت کو مدافعت پر مجبور کر دیا ہے۔ افسوس ہے کہ پاکستان کی وزارت خارجہ اور وزارت اطلاعات اس کا کوئی فائدہ نہیں اٹھا رہی۔ وہ ایک عالم گیر سفارتی مہم کے ذریعے اس مسئلے کی حقیقت سے دنیا کو روشناس کر کے تحریک مزاحمت کے حق میں عالمی رائے کو مسخر کر سکتی تھی لیکن اس کا کوئی نشان نظر نہیں آرہا۔ بلکہ ایک خاص گروہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے، خصوصیت سے انگریزی اخبارات میں، کہ تحریک جہاد کو ایک سعی لا حاصل اور محض مذہبی بنیاد پرستوں کی کارگزاری بنا کر پیش کرے اور معاشی حالات کا سہارا لے کر امن اور صلح کے نام پر کشمیر کے مسئلے کو ایک بار پھر اس تابوت میں بند کر دے جس سے ۱۲ سالہ قبل شروع ہونے والی تحریک نے اسے نکالا اور ایک زندہ حقیقت بنا دیا تھا۔

بھارت تحریک مزاحمت کونگی طاقت سے کچلنے میں ناکام ہونے کے بعد جس حکمت عملی پر کام کر رہا ہے، اس کے چھے اجزا ہیں:

ا۔ پاکستان کو کشمیر کے مسئلے سے نہ صرف یہ کہ غیر متعلق کر دے بلکہ تحریک مزاحمت کو محض پاکستان کا شاخسانہ بنا کر پیش کرے اور اس کے خلاف تشدد اور دہشت گردی کے الزامات اس شد و مد سے لگائے کہ پاکستان دفاعی پوزیشن میں آجائے اور عالمی سطح پر اسے الگ تھلگ (Isolate) کر دیا جائے۔

۲- تحریک مزاحمت کو تقسیم کرنے کی کوشش کی جائے تا کہ نہ صرف یہ کہ تحریک کمزور ہو، بلکہ آپس میں دست گریبان ہو جائے اور اس طرح اصل دشمن کو ہدف بنانے کے بجائے ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہو جائے۔

۳۔تحریک جہاد اور سیاسی محاذ میں (جس کی نمائندگی حریت کانفرنس کر رہی ہے )  ، بے اعتمادی اور تصادم کی کیفیت پیدا کی جائے۔ اس سلسلے میں جہادی تحریکوں پر بھی کام ہورہا ہے اور حریت کانفرنس میں شریک جماعتوں اور قائدین پر بھی ، تا کہ بھانت بھانت کی بولیاں سیاسی فضا کو مکدر اور غیر موثر کردیں۔

۴۔ بھارت کے چنگل سے آزادی کی تحریک کو خود مختاری (Autonomy) اور علاقائی بنیادوں پر اختیارات کی تقسیم اور منتقلی (Regional devolution) سے الجھا دیا جائے اور اس طرح کا کوئی ڈراما رچایا جائے جیسا ۱۹۵۰ء ۱۹۵۲ء اور ۱۹۵۳ء میں کیا گیا تھا اور جس کا حشر اہل جموں و کشمیر گذشتہ ۵۰ سال میں یہ چشم سر دیکھ چکے ہیں۔

۵۔اس سب کے پیچھے اصل منصو بہ مقیم کشمیر کا ہے جس کے لیے بڑی ہوشیاری اور چابک دستی سے کام ہو رہا ہے، جس کا مقصد مقبوضہ کشمیر کو تین حصوں میں مسلم اکثریت کی کشمیر کی وادی اور ڈوڈہ،پونچھ ، راجوری اور کارگل کا علاقہ ، جموں کا ہندور ڈوگرہ اکثریت کا علاقہ اور لیہہ (Leh) کا بدھ اکثریت کا علاقہ بانٹنا ہے۔ اس نقشے میں رنگ بھرنے کے لئے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو لڑانے کی کوششیں بھی ہو رہی ہیں جن کا آغاز ۱۹۹۰ء میں لداخ میں مسلمانوں کے خلاف کارروائی سے ہوا اور جن میں اب سکھوں، ہندو یاتریوں، پنڈتوں کے خلاف کارروائیاں اور بارڈر کے علاقوں سے مسلمانوں کا انخلا اور بھارت کے ہندوؤں کو لا کر آباد کرنا شامل ہیں۔ یہ بالکل اسی نقشے پر کام ہو رہا ہے جس پر ۱۹۴۴ ء سے لے کر ۱۹۴۷ء تک غیر منقسم ہندوستان میں ہوا تھا۔ یعنی بہار، بنگال اور پنجاب کے خونی فسادات کے ذریغ پنجاب اور بنگال کی تقسیم کا منصوبہ پورا کیا گیا۔

۶۔ اس نقشے کا آخری حصہ کنٹرول لائن ( جنگ بندی لائن ) کو معمولی ردو بدل کے ساتھ بین الاقوامی سرحد بنانا اور اس طرح کشمیر کی تقسیم در تقسیم کے ذریعے اس مسئلے کو دفن کر دینا ہے۔

یہ بھی اس منصوبے کا حصہ ہے کہ سہ فریقی مذاکرات اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے فریم ورک میں مسئلے کے حل سے احتراز کیا جائے اور دو فریقی سلسلہ جنبانی کے ذریعے بھارت اور کشمیریوں میں معاملات طے کرنے کی کوشش کی جائے، اور پھر ایک امر واقعہ (fait accompli) کی حیثیت سے بھارت اور پاکستان سے اسے قبول کرایا جائے۔ امریکہ کھل کر سامنے نہیں آرہا لیکن یہ سارا کھیل اس کے اشارے پر اور اس کے دیے ہوئے نقشے کے مطابق کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان پر اتنا معاشی اور سیاسی دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ چاروناچار اس میں شریک ہو جائے ۔ یہ ساری کاروائی اوسلو معاہدے کے طرز پر انجام ہی جارہی ہے تاکہ جس طرح فلسطین کے مسئلے کی تحلیل کر دی گئی ہے اور آج فلسطینی قیادت در بدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہے، یہی حشر کشمیر کی تحریک کا بھی ہو۔ افسوس کہ حریت کانفرنس کے نئے سربراہ عبد الغنی بٹ نے فلسطین کی بربادی کے اس پورے عمل سے عبرت پکڑنے کے بجائے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں اس کی خواہش کی ہے کہ آؤ اور ہمیں بھی اسی طرح ذبح کرو جس طرح اہل فلسطین کو کر رہے ہو:

 ہم اسے دو حصوں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں اور اسلام آباد اور دہلی جانا اور بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد جو گروپ دہلی میں رہنماؤں سے بات کر رہا ہے، اسے اسلام آباد جانا چاہیے اور جو گروپ اسلام آبادیوں سے بات کر رہا ہے اسے دہلی جانا چاہیے، اور وہاں رہنماؤں سے بات کرنا چاہیے تا کہ بے اعتمادی کی دیواریں ایک ہی دفعہ ہمیشہ کے لیے گر جائیں۔ جو مصنوعی خطوط کھینچے گئے ہیں وہمٹ جائیں اور ہم ایک با مقصد راستے پر آگے بڑھیں۔ آئیے، امید کریں بر عظیم میں یاسر عرفات اور شمعون پیریز ظاہر ہوں، ہاتھ میں ہاتھ ڈالیں اور امن کے لیے کام کریں ۔

اگر یہ لن ترانی حالات سے ناواقفیت کی پیداوار ہے تو افسوس ناک ہے، اور اگر جانتے بوجھتے یہ راگ الاپا گیا ہے تو شرم ناک، لائق ماتم اور خطرے کی گھنٹی ہے!اوپر ہم نے جس منصوبے اور پروگرام کا خلاصہ پیش کیا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مختلف اجزا کے بارے میں چند تائیدی شہادتیں پیش کر دی جائیں تا کہ امریکہ اور بھارت کی سیاست کا اصل چہرہ سامنے آجائے۔

لندن کا روز نامہ فنانشل ٹائمنر اپنے ادارتی نوٹ میں لکھتا ہے:

مارچ ۲۰۰۰ ء میں صدر کلنٹن کے اس علاقے کے دورے کے بعد مستقبل کے لیے ایک نقشہ (road map) ظاہر ہونا شروع ہو گیا ہے جو بقائے باہمی کی طرف جاتا ہے۔ اس کے مطابق ابتدائی طور پر جنگی کارروائیوں میں کمی کی جائے گی ۔ بعد کے مراحل میں یہ شامل ہے کہ بھارت کی متنازع ریاست جموں و کشمیر میں اختیارات کی منتقلی کی کسی شکل کی ابتدا کی جائے۔ بھارت اور پاکستان دونوں کی طرف سے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ نام نہاد کنٹرول لائن جو کشمیر کے ان متعلقہ حصوں کو تقسیم کرتی ہے دراصل ایک سرحد ہے، اور افواج کی تعداد میں وہ کمی کی جائے جو جو ہری استعداد میں اضافے کے اندیشے کو کم کرے۔ اس عمل کی کامیابی کے زیادہ امکانات ہوں کے اگر اس کو کسی قطعی تصفیے کے تصور کو پیش نظر ر کھے بغیر مرحلہ بہ مرحلہ آہستہ آہستہ چلایا جائے۔ بھارتی سیاست میں اختیارات کی زیادہ منتکلی کار جحان اس میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے کہ یہ کشمیریوں کے لیے کسی قسم کی خود معماری کے تصور کو کم اجنبی بنادے گا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان قریبی اقتصادی تعلقات بھی کسی آخری سمجھوتے کے لیے فضا کو خوش گوار بنا ئیں گے۔

لندن کا دوسرا اہم روز نامہ دی گارجین یہی بات بیان کرتا ہے:

امریکہ کی جانب سے خاموشی سے ترغیب دلانے پر بھارتی حکومت نے حال ہی میں ریاست کشمیر مشتمل حریت کانفرنس سے رابطہ کیا ۔ حکومت نے کچھ قیدیوں کو رہا بھی کر دیا۔ جواباً کشمیر کے وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر یشان ہوئے کہ انھیں نظر انداز کیا جارہا ہے، چنا نچہ انھوں نے خود مختاری کی نئی تجاویز پیش کیں جو کشمیر میں ۱۹۵۳ء سے قبل کے نظام کے نمونے پر تھیں۔ اس منصوبے سے ابتدائی طور پر دہلی میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ ہندو حکومت کے جارحیت پسند ممبران کی طرف سے کافی شور مچایا گیا لیکن اس کو فورا ہی رد نہیں کر دیا گیا۔ پھر گذشتہ ماہ پاکستان سے وابستہ نمایاں اسلامی گروپ حزب المجاہدین نے جنگ بندی کا اعلان کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جنرل مشرف پر امریکہ کے محتاط دباؤ نے اس میں کردار ادا کیا ہے۔

اس اداریے میں پاکستان کی قیادت کے بارے میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ بین السطور بہت واضح ہے اور بہ آسانی اسے پڑھا جا سکتا ہے:

پاکستان کے فوجی رہنما جنرل پرویز مشرف جس حد تک پاکستان سے کارروائی کرنے والے جنگجو، مقامی اور غیر ملکی اسلامی گروپوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں یا اس کے لیے رضا مند ہیں، اس کا نہ صرف کشمیر کے مستقبل پر بلکہ خود ان کے مستقبل پر فیصلہ کن اثر ہوگا۔ زیادہ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو کشمیر، امریکہ کی پشت پناہی اور امریکی اسلحے سے لیس بھارت کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرتا ہے جو فوجی انقلاب کے بعد کی تنہائی میں حمایت کے لیے روس اور چین کی طرف دیکھتا ہے ۔ کشمیر کی بڑی اہمیت ہے۔

لندن کا روز نامہ دی ٹائمنر لکھتا ہے:

امریکیوں کی تعریف کرنا چاہیے کہ وہ اپنے قابل لحاظ اثرات کو موثر طور پر اور دھیمے انداز سے استعمال کر رہے ہیں۔ اب یہ اسلام آباد اور دہلی کا کام ہے کہ وہ یقینی بنائیں کہ اگر یہ پہلا قدم بھی ضائع ہو جاتا ہے تو امن کا راستہ ایک سراب رہے گا ۔

بھارت کے دی ہندو گروپ کے اہم پندرہ روزہ رسالے فرنٹ لائن نے ایک مفصل مضمون Kashmir Conundrum ( کشمیر کا معما) شائع کیا ہے جس میں بھارت، پاکستان، امریکہ اور خود مختاری کے مسئلے پر کلام کیا گیا ہے۔ مضمون نگار لکھتا ہے:

یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کی حکومت کی کشمیر پر ہوائے جنگ ہوتی کے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اسے سرکاری پالیسی کی ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی مکالمہ اور کوئی حل پیش کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خلا کو ایڈ ہاک خبروں سے یا ان پالیسی تناظرات سے بھر دیا گیا ہے جوامریکی انگیخت پر بنائے ہوئے منصوبوں اور داخلی ضرورت پوری کرنے کے لیے فرقہ واریت کے منصوبوں پر مبنی ہیں ۔

یہی مضمون نگار بھارت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کا نقشہ یوں کھینچتا ہے:

مغربی اسٹریٹجک اور عسکری منصوبوں کے ساتھ بھارت کا گٹھ جوڑ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے جیسا کہ امریکہ اور فرانس کے ساتھ اس کی جامع مشتر کہ فوجی مشقوں سے یا اسرائیل کے ساتھ اس کے تازه مضبوط تر تعلقات سے ظاہر ہوتا ہے۔ جسونت سنگھ اور ایڈوانی کے حالیہ دورے صرف تعلقات کو معمول پر لانے سے بڑھ کر علاقائی اسٹریٹجک تعاون، اعلیٰ ٹیکنالوجی کی منتقلی اور فوجی اور خفیہ دائروں میں براہ راست تعاون سے متعلق تھے۔ اس کا مقابلہ اس سے کریں کہ جب اسرائیل نے چین کو ٹیکنالوجی فروخت کی تو امریکہ کا رد عمل کیا تھا۔ امریکہ نے اسرائیل کو مجبور کیا کہ وہ اس معاہدے کو جس پر مشترکہ دستخط ہوئے تھے، یک طرفہ طور پر ختم کر دے۔

اس طرح سیاسی و نظریاتی دائروں میں بی جے پی کا بھارت، امریکہ کے بہت زیادہ قریبی حلیف کی حیثیت سے تیزی سے ابھر رہا ہے۔ ایف بی آئی ، جو سرکاری طور پر امریکہ کے اندر ہی خفیہ معلومات جمع کرنے کا کام کرتی ہے، نئی دہلی میں اپنا دفتر کھولنے والی ہے (فرنٹ لائن ، ص ۱۱۰) فرنٹ لائن میں اس کے نمائندہ سری نگر پر اوین سوامی کی رپورٹ کا یہ حصہ بھی قابل غور ہے : امریکہ، خصوصاً اس کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا جنگ بندی کا اہتمام کروانے میں جو کردار ہے، وہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔

اس نمائندے کی نگاہ میں وادی کی خود مختاری اور لیہہ اور جموں و کشمیر کی الگ صف بندی بھی امریکہ ہی کے ایما پر ہورہی ہے۔ جموں اور کشمیر کو تین خودمختار علاقوں میں تقسیم کرنے کی تجویز پر تیزی سے غور کیا جا رہا ہے۔ لداخ کے علاقے میں کارگل کو لیہہ سے الگ کیا جا رہا ہے اور لداخ کو لیہہ ترقیاتی کونسل کے تحت لایا جا رہا ہے۔ جموں کو ڈوگرہ اکثریت کی ریاست میں تبدیل کیا جا رہا ہے جس سے وہاں کے مسلمانوں میں بڑی بے چینی ہے۔ ریاست کی یہ سہ گون تقسیم (Trifurcation) بھی امریکی منصوبے کا حصہ ہے۔ جیسا کہ بھارت کے مشہور علمی مجلہ  Economic and Political Weekly میں ریکھا چودھری Autonomy Demand: Kashmir at Crossroads لکھتی ہیں:

 ایسی ہی ایک تجویز کشمیر اسٹڈی گروپ کی طرف سے سامنے آئی ہے جس کے سر براہ امریکہ میں رہنے والے کشمیری ارب پتی فاروق کا ھواری ہیں۔ حال ہی میں اس نے ایک رپورٹ شائع کی ہے:Kashmir:AWayForward) کشمیر، آگے کا ایک راستہ ) جس میں ڈکشن پلان کی بنیاد پر ریاست کی تنظیم نو اور مذہبی بنیادوں پر اس کی تقسیم کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ جموں کی علاحدہ ریاست کا مطالبہ ان لوگوں کی طرف سے اٹھایا جاتا ہے جو ڈوگرہ ر ہندوؤں کی نمائندگی کا دعوئی کرتے ہیں۔

امریکہ کی کھلی اور چھپی سفارت کاری میں ایک طرف کشمیر کا یہ حل مرکزی حیثیت رکھتا ہے تو دوسری طرف بھارت کی معاشی اور عسکری قوت کی ترقی، اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر اور بالآخر ایک ایٹمی طاقت تسلیم کرنا اور پاکستان پر یہ دباؤ ڈالنا شامل ہے کہ بھارت کو علاقے کی بالا دست قوت تسلیم کرے، اپنی فوجی طاقت کو کم کرے، کشمیر پر خاموشی اختیار کرے ،سی ٹی بی ٹی پر دستخط کرے، نیوکلیر صلاحیت کو ختم کرے یا محدود کرے اور ساری توجہ معاشی بحالی اور تحدید آبادی پر صرف کرے۔

سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی قوم کو یہ پوزیشن قبول ہے؟ ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ ملت اسلامیہ پاکستان کسی قیمت پر بھی اس حیثیت کو قبول کرنے کو تیار نہیں بلکہ ہم یہ بھی کہیں گے جو اس رول کو اختیار کرے گا، یہ قوم اسے ان شاء اللہ برداشت نہیں کرے گی ، خواہ وہ کوئی بھی ہو!

ہمارے اس واضح اور دوٹوک اظہار برات کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانان پاک و ہند نے آزادی کی ساری جدو جہد جس مقصد کے لیے کی تھی وہ ایک ایسے پاکستان کا قیام اور استحکام تھا جو مسلمانوں کی آزادی ہی نہیں، ان کے دین اور تہذیب و تمدن کا صحیح نمونہ ہو اور جس کے ذریعے مسلمان عالمی برادری میں اپنا حقیقی مقام حاصل کر سکیں۔ یہ جدو جہد بھارت کی بالا دستی سے نجات کے لیے تھی، ایک نئی صورت میں اس کے دام میں گرفتار ہونے کے لیے نہیں۔ پھر کشمیر کا مسئلہ نہ دور یاستوں کے درمیان کوئی سرحدی تنازعہ ہے اور نہ محض پانی کے منبع پر قبضے کا ذریعہ۔ یہ تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا اور ڈیڑھ کروڑ انسانوں کی آزادی اور نظریاتی تشخص کی حفاظت کا مسئلہ ہے۔ یہ بات حق اور اصول کی اور اہل جموں و کشمیر کے حق خود ارادیت کی ہے جس سے بھارت نے ان کو آج تک محروم رکھا ہے۔ آج کلنٹن صاحب بھی کہہ رہے ہیں اور واجپائی صاحب بھی گویا ہیں کہ اب دنیا میں سیاسی نقشے تلوار سے نہیں بدلے جاسکتے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری بیسویں صدی طاقت کے ذریعے نقشوں کی تبدیلی کی صدی ہے۔

خود بھارت نے کشمیر، جونا گڑھ، حیدر آباد اور گوا پر قبضہ صرف طاقت کے ذریعے کیا ہے۔ نیپال اور بھوٹان آزاد ملک ہیں مگر بھارت نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر انہیں اپنی سیاسی اور معاشی گرفت میں لے رکھا ہے۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستان کو دولخت کرنے کا کام بھی طاقت ہی کے ذریعے انجام دیا گیا ہے۔ سری لنکا میں تامل تحریک بھی بھارت کی پشت پناہی میں شروع ہوئی ۔ افغانستان ،مشرقی یورپ، وسط ایشیا اور حال ہی میں یوگوسلاویہ اور انڈونیشیا میں جو کچھ ہورہا ہے وہ محتاج بیان نہیں۔

جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے ، وہاں مسئلہ آج طاقت سے سیاسی مسئلے کو تبدیل کرنے کا نہیں ہے، بلکہ جس طاقت نے بزور شمشیر کشمیر پر قبضہ کر رکھا ہے، عوامی رائے کی قوت سے مسئلہ اس قابض سے نجات پانے کا ہے۔ طاقت کا استعمال تو قابض بھارت کر رہا ہے جس نے سات لاکھ فوج وہاں مسلط کر رکھی ہے اور صرف طاقت کے بل بوتے پر وہاں کے عوام کو ان کی مرضی کے خلاف اپنی غلامی میں رہنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن کا اعتراف اب خود بھارت کے وہ دانشور کر رہے ہیں جو ضمیر کی آواز سے مجبور ہو کر زبان کھول رہے ہیں۔ اس سلسلے میں Economic and Political Weekly کے ۲۹ جولائی۲۰۰۰ء کے شمارے میں ایک ہندو دانشور گوتم نولکھا(Gautam Navlakha) کامضمون بہت چشم کشا اور پاکستان کی قیادت اور ان دانشوروں اور کالم نگاروں کے مطالعے کے لائق ہے جو کشمیر کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دینے کی باتیں دبے لفظوں میں کر رہے ہیں۔ مضمون کا عنوان ہے Kashmir: Its never too late to do the right thing،مقالہ نگار شروع میں لکھتا ہے:

حکومت بھارت کی، پاکستان کی فوجی قیادت کے ساتھ ، غیر مشروط مذاکرات کی پیشکش کو خوش آمدید نہ کہنا نا مجھی کی بات ہوگی لیکن حکومت کے خلوص کو اس کے ظاہر (Face Value) پر قیاس کرنا فاش غلطی ہوگی ۔ پیشکش کے اعلان سے صرف ۲۴ گھنٹے پہلے وزیر اعظم نے پرزور طریقے سے کہا تھا کہ گفت وشنید بھارت کے دستور کے دائرے میں ہوگی لیکن اگر اسے اپنی بات سے پھر جانے(Back Tracking)، اور معاہدات کی خلاف ورزی کی تاریخ اور اس حقیقت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے کہ یہ رجحان امریکہ کی جانب حالات سازگار بنانے کا نتیجہ ہے تو پھر شبہات کو تقویت ملتی ہے۔ لیکن شاید اس کی سب سے بڑی وجہ اپنی سرحدوں کے تحفظ کا خبط ہے۔

 مقالہ نگار اس امر کا بار بار اعتراف کرتے ہیں کہ کشمیر پر فوج کا قبضہ ہے اور محض طاقت کی حکمرانی ہے اور اگر حکومت پاکستان کی طرف سے کوئی کمزوری نہ دکھائی گئی اور اس فیصلہ کن مرحلے میں ثابت قدمی اور ہمت کے ساتھ جدوجہد کو جاری رکھا گیا تو بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے فریم ورک میں سہ فریقی مذاکرات اور عوام کی مرضی کے مطابق مسئلے کے حل کے لیے مجبور ہوگا۔ یہی مقالہ نگار عسکری صورت حال کا جائزہ لے کر بر ملا اظہار کرتا ہے کہ بھارت کے لیے یہ جنگ روز بروز مہنگی ہو رہی ہے اور توازن اس کے خلاف جا رہا ہے۔

کشمیر کے عوام کے ساتھ بھارت کے نام نہاد اچھے لوگوں کی جانب سے گذشتہ گیارہ سال سے انتہائی تو ہین، تذلیل اور تحقیر کا سلوک کیا جارہا ہے اور ان کے ساتھ نہایت بے رحمی سے غیروں جیسا برتاؤ کیا جارہا ہے۔ آج کشمیر میں لفظ ” آزادی وہاں کے عوام کے ان تجربات کا دوسرا نام ہے۔ علاحدگی کا یہ عمل ریاست پر غیر معمولی انحصار، ترقی کے محدود امکانات ، سرمایہ کاری کے فقدان، بیروزگاری اور کھلے عام کر پشن کے پیدا کیے احساس محرومی اور گیارہ سال سے مسلسل کیسے جانے والے تشدد کی وجہ سے واضح اور تیز رفتار تبدیلی سے گزرا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بھارت سے علاحدگی ایک مقبول عام مطالبہ بن گیا۔ یہ بھارت کی تاریخ کے ایک ایسے مرحلے پر ہوا جب فرقہ وارانہ فاشزم مضبوط ہورہا تھا۔ بابری مسجد کے لیے شوریدہ مہم اور اس کا انہدام مسلم دشمن فسادات، جن کے بعد مجرموں کو سزا بھی نہ دی جاتی تھی ، ان سب نے بھارتی جمہوریت پر اعتماد کو کھوکھلا کر دیا۔

سرکاری افواج کے خلاف غم وغصہ بہت عام ہے۔ ہلاک ہونے والوں کی تعداد جو بھارتی حکومت بیان کرتی ہے اس پر ریاستی حکومت بھی یقین نہیں کرتی ۔ وزارت داخلہ ۲۰ ہزار اموات تسلیم کرتی ہے، جبکہ ریاستی حکومت گزشتہ گیارہ سال کی لڑائی میں مرنے والوں کی تعدادہ ۷ ہزار بتاتی ہے۔ آزاد ذرائع اس سے زیادہ تعداد کی، اور اس میں سرکاری افواج کی مجرمانہ کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی کے بشیر احمد دابلہ نے Save the Children Fund کے لیے تیار کردہ ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ۱۹۹۹ء تک کشمیر میں ۶۰ ہزار افراد ہلاک ہو چکے تھے اور ۲۰ ہزار یتیم اور ا ہزار بیوائیں موجود تھیں ۔ عام طور پر حکومتیں اپنی افواج کی طرف سے کی جانے والی شہری ہلاکتوں کو کم کر کے بیان کرتی ہیں اور جنگجوؤں کو ملزم گردانتی ہیں۔ اس مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ۸۰ فیصد اموات کراس فائرنگ، سیکیورٹی فورسز کے زیر حراست قتل اور منحرفین کے ہاتھوں ہوئیں۔ سرینگر کے پہنی امراض کے سرکاری اسپتال کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ ۷ میں سے افراد سیکورٹی فورسز کے ظلم و تشدد کی وجہ سے یا اپنے کسی قریبی شخص پر تشدد ہوتے دیکھ کر ہوش و حواس کھو بیٹھے تھے۔ ریاست کے سینئر افسران تسلیم کرتے ہیں کہ زیر حراست قتل کی وارداتوں میں پریشان کن اضافہ ہوا ہے۔ یعنی گزشتہ تین ماہ میں ۲۱، جبکہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے مطابق اس مدت میں ۵۸ ہلاکتیں ہوئیں۔ ریاستی انتظامیہ کا مسلح افواج پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور اپنی پریشانی یا بے اختیاری کا وہ بھی طور پرہی اظہار کر سکتے ہیں۔ بہر حال گزشتہ گیارہ سالوں میں کوئی ایک کشمیری گھرانہ بھی نہیں بچا جو متاثر نہ ہوا ہو اور ہر خاندان کے پاس بیان کرنے کے لیے ایک کہانی ہے۔

حالات کا یہ جائزہ تازہ ترین صورتحال پیش کرتا ہے اور ایک معروف بھارتی دانشور کے قلم سے ہے جوز مینی حقائق پر مبنی ہے اور جس کی تائید دوسرے آزاد ذرائع سے بھی ہوتی ہے۔

ٹائمنر آف انڈیا کے معروف کالم نگارسوامی ناتھن ایس این کلیسا یا آئیر لکھتے ہیں: مدھو کشور نے اپنے حالیہ مضمون میں بالکل صحیح لکھا ہے کہ ہمارے محافظ دستوں کو کشمیری اپنا محافظ سمجھنے کے بجائے جلاد تصور کرتے ہیں۔ ان پر عورتوں کی عصمت دری، تشدد اور معصوم افراد کے قتل کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس الزام میں مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہو لیکن اگر اس میں ایک چوتھائی بھی حقیقت ہے تو یہ ہمارے اخلاقی زوال کا بدترین ثبوت ہے۔

حفاظتی دستوں کی بربریت سے ہر روز نئے نئے دہشت گرد جنم لیتے ہیں۔ سکیورٹی دستوں کے مظالم کا جو لوگ شکار ہوتے ہیں یا جو لوگ مارے جاتے ہیں ان کے رشتے دار بالآخر عسکریت پسندی کا راستہ اپنانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ حکومت کے لیے یہ آسان بہانہ ہے کہ سارا الزام پاکستان یا اسلامی دہشت گردوں پر ڈال دیا جائے ۔ حالانکہ دہشت گردی بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ ہماری اپنی سکیورٹی افواج ہیں۔ تمام تر کوششوں کے باوجودان کے رویے میں کوئی تبدیلی اب تک واقع نہیں ہوئی ہے، نتیجہ یہ ہے کہ کشمیریوں کی بھارت سے دوری بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ نیت چاہے کتنی ہی پاک وصاف رہی ہو لیکن جو کچھ ہورہاہے وہ مل کی تعمیر کے لیے نہیں ہورہا ہے۔ کشمیری کیا چاہتے ہیں کیا نہیں چاہتے ، اس کا فیصلہ کرنے کا حق نہ تو ہم صحافیوں کو ہے اور نہ سیاستدانوں کو بلکہ اس کا فیصلہ خود کشمیریوں کو کرنا چاہیے۔ رائے شماری سے اصل حقیقت سامنے آجائے گی۔ کشمیر کے عوام سے یہ دریافت کیا جانا چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ ؟ بھارت اور پاکستان دونوں کو اپنا مقدمہ کشمیری عوام کی عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔

کشمیر میں ہلاکتوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ میرے ضمیر کو بھی ملامت کر رہا ہے۔ میرے خیال سے ۳۰ ہزار بہت بڑی تعداد ہے۔ ہم نے لبرل اقدار پر ملک کی تعمیر میں پچاس سال کا وقت صرف کیا ہے۔ تو آئیے ان اقدار سے اپنی عقیدت برقرار رکھیں، بجائے اس کے کہ الحاق کی دستاویز جیسی قانونی موشگافیوں میں ہم اپنا وقت ضائع کریں۔ آئیے کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر لینے دیں۔

ان حالات میں حکومت پاکستان، پاکستانی فوج اور پاکستانی قوم پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تاریخ کے اس نازک لمحے میں ذراسی بے تدبیری سارے کیے دھرے پر پانی پھیر سکتی ہے اور نصف صدی سے زائد کی قربانیوں کو تلپٹ کر سکتی ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ جنگیں میدان جنگ سے بھی پہلے دل و دماغ میں جیتی یا ہاری جاتی ہیں۔ میدانی پوزیشن تحریک مزاحمت کے حق میں ہے لیکن سیاسی اور معاشی دباؤ کا مردانہ وار مقابلہ کیے بغیر اس پوزیشن کو باقی رکھنا اور اسے اس کے منطقی انجام تک پہنچانا ممکن نہیں ۔ جنرل مشرف صاحب اور فوج کی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملت پاکستان کے مبنی برحق موقف کے لیے ڈٹ جائیں اور کسی سطح پر بھی کمزوری نہ دکھا ئیں۔ معاشی محاذ کو بھی مضبوط کیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے قوم سے لڑنے کے بجائے اس کے اشتراک سے مسائل کو حل کرنے کی سعی ہی مفید اور موثر ہوسکتی ہے ۔ لیکن سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم کشمیر پر اپنے اصولی موقف پر سرمو انحراف نہ کریں اور قوم کو اعتماد میں لے کر کشمیری مسلمانوں کی مخلصانہ اور مجاہدانہ پشتی بانی جاری رکھیں ۔

کشمیری حریت پسندوں نے جان کی بازی لگادی ہے۔ اگر ان کو یقین ہو کہ پاکستان ان کے ساتھ ہے اور کوئی کمزوری نہ دکھائے گا تو ہمیں یقین ہے کہ وہ پہلے سے بھی زیادہ ہمت اور عزیمت سے دشمن کا مقابلہ کریں گے اور ان شاء اللہ فاتح اور سرخرو ہوں گے۔ مسئلہ وقت کا نہیں عزم اور وژن کا ہے۔ چین نے ہانگ کانگ کے معاملے میں ۱۰۰ سال صبر کیا۔ مکاؤ (Macao) کے علاقے کو ساڑھے چارسوسال کے بعد بالآخر حاصل کر لیا ہے۔ فارموسا کے سلسلے میں بھی چین کسی سمجھوتے یا کمزوری کیلئے تیار نہیں، بلکہ اپنے موقف پر ڈٹا ہوا ہے۔ کشمیر کے معاملے میں تو پوری کشمیری قوم بھارت کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے اور تمام تجزیہ نگار اس حقیقت کا اعتراف کر رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مسلمانوں کو اب بھارت کے نظام کے تحت رکھنا ممکن نہیں۔

ایسے حالات میں امریکی دباؤ کے تحت پاکستان کی ذراسی کمزوری ان کو پاکستان سے مایوس تو کر سکتی ہے، بھارت کی غلامی پر مجبور نہیں کرسکتی۔ امریکہ کا اپنا کھیل ہے اور ہمیں اس کھیل کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔ بھارت کے اپنے عزائم ہیں لیکن وہ اب ان عزائم کو پورا نہیں کر سکتا۔ جو چالیں بھارت چل رہا ہے اور خود مختاری اور تقسیم در تقسیم کے جو منصو بے رو بہ عمل لائے جارہے ہیں یہ مسئلے کا حل نہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا صرف ایک حل ہے اور وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت استصواب اور حق خود ارادیت کا حصول ہے۔ پاکستان، بھارت اور کشمیری عوام اس مسئلے کے برابر کے شریک ہیں اور بھارت کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کے لیے تیار ہو۔ اس میں جتنا وقت لگے ساری جدوجہد اسی ایک نقطے پر مرکوز رہنی چاہیے۔ سیاسی جدوجہد، سفارتی کوششیں اور جہادی سرگرمیاں یہ سب ایک ہی تحریک کے مختلف پہلو ہیں اور ایک دوسرے کے لیے تقویت کا باعث ہیں۔ اس کے لیے بیرونی دباؤ کا مقابلہ اور خود اپنی صفوں میں کمزوری دکھانے والوں سے گلو خلاصی ضروری ہے۔ یہی حقیقی چیلنج ہے اور اس چیلنج کا مردانہ وار اور موثر مقابلہ کیے بغیر کشمیر کے مسئلے کا حل ممکن نہیں۔

سیاسی جدو جہد اور مذاکرات کی کامیابی کا انحصار ہی حریت پسند قوتوں کی مضبوطی اور فیصلہ کن کارروائیوں پر ہے۔ اس سے ہٹ کر جو راستہ بھی اختیار کیا جائے گا وہ ایک کامیاب جد و جہد کو غتر بود کرنے اور ایک پوری نسل کی بیش بہا قربانی کو ضائع کرنے پر طبع ہو سکتا ہے۔ عزت اور کامیابی نہ مذاکرات کی بھیک مانگنے میں ہے اور نہ صلح کے لیے کسی نوعیت کی جلد بازی اور کمزوری دکھانے میں۔ اصولی موقف پر استقامت اور ہر محاذ پر جدو جہد اور پیش قدمی ہی ہمیں اصل منزل تک لے جاسکتی ہے۔

ہمارے لیے ہدایت کا سر چشمہ قرآن پاک کی یہ ہدایت ہے:

فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللهُ مَعَكُمْ وَلَنْ يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ

پس تم بودے اور کم ہمت نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو تم ہی غالب رہنے والے ہو، اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔” (سورہ محمد ۳۵:۴۷)

اور اللہ کا وعدہ ہے کہ اگر ہم ایمان کے تقاضے پورے کریں تو کامیابی ہماری ہی ہے۔

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِينَ

اور ہمت مت ہارو اور رنج نہ کرواور تم ہی غالب رہو گے اگر تم پورے پورے مومن رہو۔“ (آل عمران ۳: ۱۳۹)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »