ForwardIslamIslamic Education

عصرِ حاضر اور شریعت اسلامی

میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہمیں یہ توفیق بخشی اور میرے عزیز بھائی محمود احمد غازی کو یہ توفیق بخشی کہ اس سلسلہ محاضرات کو آپ کے سامنے پیش کیا۔ مجھے تمام ہی لیکچرز سننے کا موقع ملا اور میں تحدیثِ نعمت کے طور پر یہ کہنا چاہتا ہوں کہ :

  • علمی اعتبار سے یہ لیکچرز نہایت معتبر تھے۔ ان میں نہ کوئی مداہنت برتی گئی، نہ معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا گیا اور نہ کسی تعلی یا تفاخر کا اظہار ہوا۔ جو بات پیش کی گئی وہ قرآن وسنت اور تاریخ کے قابلِ اعتماد ماخذ کی بنیاد پر پیش کی گئی۔
  • ان لیکچرز میں جامعیت تھی۔ اگر چہ عنوانات کا کینوس بڑا وسیع تھا اور موضوع کا حق ادا کرنا مشکل تھا لیکن وسعت، تنوع اور ہمہ گیریت کے اعتبار سے میں نے ان لیکچرز کو جامع پایا۔ یہ اللہ تعالیٰ کا غازی صاحب پر بڑا فضل ہے اور ہم سب ان کے ممنون ہیں کہ اتنے وسیع علمی پھیلاؤ کو انہوں نے ان آٹھ لیکچرز میں سمیٹ لیا ہے۔
  • پھر ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اگر چہ اس میں بڑے مشکل اور ادق موضوعات بھی تھے لیکن انہوں نے اسے قابل فہم بنا کر آسان زبان میں پیش کیا ہے۔ خاص طور پر علم کلام کے کچھ موضوعات تو ایسے تھے جن کو سمجھنا اور سمجھانا آسان نہیں ہے لیکن الحمد للہ بڑی آسان زبان میں ان کو بیان کیا گیا ہے۔
  • مجھے یہ بھی بڑا اچھا لگا کہ اس پورے سلسلہ میں خود اپنے طور پر بھی اور سامعین میں بھی تنقیدی حس بیدار کرنے اور زندہ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ کسی بھی علمی مذاکرہ میں یہ ایک بڑی مفید چیز ہوتی ہے۔
  • میں نا انصافی کروں گا اگر یہ بات نہ کہوں کہ علم اور معلومات سے بھر پور ہونے کے باوجود ان لیکچرز کا انداز دعوتِ فکر وعمل کا تھا، نہ کہ ادعائے علم کا۔۔ اور یہ بڑی خوبی ہے۔

متن اور نفسِ مضمون کے لحاظ سے میری نگاہ میں اسلامی تہذیب اور تاریخ کے پس منظر میں شریعت اور اس کے کردار کو نمایاں کرنے کا جو حق تھا، خصوصاً عقیدہ ،عمل اور معاملات کے دائروں میں جو منفرد حیثیت اور رول شریعت کا رہا ہے، اُسے یہاں بہت خوبی سے نبھایا گیا ہے۔ فکر ،قلبی و روحانی کیفیات اور اعمال ان تینوں میں اسلام نے جو توازن قائم کیا ہے، شریعت کے بیان میں بالعموم یہ توازن قائم نہیں رہتا اور تزکیہ نفس اور قلبی کیفیات کا پہلو نظر انداز ہو جاتا ہے۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ توازن کا یہ پہلو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا ہے۔ اس طرح سے فرد اور معاشرہ کا رشتہ، اور علم ، عدل اور توازن جو شریعت اور تہذیب دونوں کا طرہ امتیاز ہے وہ ان لیکچرز میں ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اسی طرح شریعت اور تہذیب کے مختلف پہلوؤں اور مختلف ادوار کا بھی احاطہ کیا گیا ہے۔ ان تمام پہلوؤں سے غازی صاحب نے گفتگو کا حق ادا کیا ہے۔ میں دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالٰی سے دعا کرتا ہوں کہ انہیں درازی عمر، سلامتی فکر، حُسن ِعمل اور قبولیت سے نوازے اور ان کو مزید خدمت کا موقع دے۔ ہمیں ان سے بڑی توقعات ہیں اور میں غالب کا سہارا لے کر کہہ سکتا ہوں کہ ؂

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

سلسلہ بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ایک طالب علم کی حیثیت سے چند پہلو پیش کرنا چاہتا ہوں جن پر ہمیں مزید غور و فکر اور علمی حوالہ سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

■شریعت کی تعریف کرتے ہوئے بعض علماء نے یہ بات کہی ہے کہ” شریعت نام ہے ان احکام، ہدایات اور تعلیمات کا جو قرآن و سنت سے ادِلَّہَ شرعیہ کے ذریعے مستنبط کی گئی ہوں ۔“ بلا شبہ قرآن و سنت شریعت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن وسنت سے زندگی کا راستہ تلاش کرنا اور اس تلاش کرنے کی ایک methodology ہونا قابل غور ہے۔ اگر جدید ترین علمی اصطلاح استعمال کی جائے تو شریعت datum بھی ہے اور شریعت methodology بھی ، اور دونوں کو اگر ہم تعریف میں اور مفہوم میں سموسکیں تو میرا خیال ہے کہ یہ ایک بڑا مثبت علمی contribution ہوگا ۔

■یہ بات ذرا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قرآن پاک میں کارِ نبوت پانچ اصطلاحات میں بیان کیا گیا ہے۔ تلاوت آیات، جس کے معنی یہ ہیں کہ اصل وحی کو جیسی کہ وہ ہے پہنچا دینا۔ پھر نفس کا تزکیہ، تا کہ وہ اس وحی کا محمل بن سکے، اسے سمجھ سکے، اسے اپنے میں سمو سکے، اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال سکے، اس کے تقاضوں کو پورا کر سکے۔ تیسرا تعلیم کتاب، جو تلاوت سے آگے کی ایک چیز ہے۔ اس کے اسرار ورموز کو سمجھنا، اس کے اولیات، آداب کا استحضار اور اس سے پھر علوم، ہدایات اور فنون کے دریاؤں کا بہنا۔ پھر تعلیمِ حکمت، جو نام ہے اس عمل کا کہ اس ہدایت کو زندگی پر کیسے منطبق کیا جائے اور قیام قسط اور عدل ” ليقوم الناس بالقسط“ تاکہ یہ سب ایک چیز میں مرکوز ہو سکیں— شریعت در اصل انہی پانچ چیزوں کی حامل ہے۔ اس لیے کہ جو کارِ نبوت تھا اس کا رِنبوت کا تسلسل شریعت کے ذریعے انجام پا رہا ہے۔ اس میں خالق اور بندے کا تعلق بھی ہے، بندوں کا بندوں سے تعلق بھی ہے، فرد کا اداروں سے تعلق بھی ہے اور پھر وہ مشن بھی سامنے ہے جس کے لیے اس پوری کی پوری جہد و جہد کو استعمال کیا جانا ہے۔ پھر احکام ، ہدایات ، اور اس کے ساتھ ساتھ احکام اور ہدایات کو جاننے کا طریقہ، اور وہ طریقہ بھی شریعت ہی نے سکھایا ہے۔ اس لئے جس کو اَدِلئہ شرعیہ کہا جاتا ہے وہ محض عقلی نہیں ہے۔ یہ وہ methodology ہے جس میں وحی کے ساتھ ساتھ انسانی عقل، انسانی تجربہ، اور انسانی کوششیں اس کے تابع ہو کر اسی روشنی میں شریک ہو جاتی ہیں۔ در اصل شریعت کا مفہوم اسی طرح پورے طریقے سے نکھر کر سامنے آنا چاہیے۔ عقیدہ اس کا ایک حصہ ہے۔ پھر تزکیہ، اصلاحِ قلب، احسان و تقویٰ اور زُہد، پھر عمل عمل میں بھی مسلمان فرد اور مسلم معاشرہ دونوں شامل ہیں۔ نیز یہ واضح ہونا کہ اسلامی معاشرہ اور اسلامی اجتماعیت میں افراد ہی نہیں بلکہ ادارے اورprocessesبھی شامل ہیں۔

■یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہے کہ اس presentation میں کچھ اہم dimensions ضمناً آئی ہیں، مرکزی حیثیت سے نہیں آئی ہیں، یعنی رسالت، دعوت، اعلائے کلمۃ اللہ ، اقامت دین، شہادت حق۔۔ یہ سب شریعت کا حصہ ہیں۔ کار رسالت کی contribution میں ان پہلوؤں کو سمو دینا چاہیے۔

■ شریعت کی تشکیل اور پھر اس کی تفہیم میں ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا جو رول ہے اور سنت کی جو بنیادی اہمیت ہے، قرآن کے ساتھ ساتھ اس کی طرف بھی ہمیں زیادہ متوجہ ہونا چاہیے ۔

آپ اُفقًا (horizontally) دنیا کے ایک حصے سے دوسرے حصے میں چلے جائیے ، جو چیز مسلمانوں میں مشترک ہے اور جو اُن کو یک رنگی دیتی ہے وہ سنت سے مطابقت ہے۔ جو زبان بھی ہو ، جو رنگ بھی ہو، تمدن کا جو بھی ماحول ہو، یہ سنت ہی ہے جس کی بناء پر وحدت رونما ہوتی ہے۔ پھر آپ عموداً (vertically) سفر کیجیے اور دیکھیے کہ ذاتِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک شریعت میں جو تسلسل اور continuity ہے اس میں قانون کا بھی دخل ہے، اداروں کا بھی دخل ہے۔ تو اتر اس کا بڑا اہم حصہ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی روح قرآن مجید کے ساتھ ساتھ سنت رسول اللہ ہے۔ اس لیے رسالت اور سنت کی یہ جو dimensions ہیں، اسے شریعت کے علمی اور فکری مطالعے اور شریعت کے تاریخی اظہار میں ضرور پیش نظر رکھنا چاہیے۔

■ایک اور اہم پہلو شریعت کی ابدیت ہے۔ جامعیت ، ہمہ گیریت ، دین و دنیا کا ایک ہونا ، مادی و روحانی یک رنگی ، توازن، اعتدال اور عدل کے ساتھ ساتھ شریعت اسلامی کا ایک اہم خاصہ اس کا ابدی ہونا بھی ہے۔ اس کو یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ دیگر کوئی بھی قانون یا نظام انسانی عقل اور تجربے کی پیداوار ہوتا ہے اور ایک معاشرہ اس قانون یا نظام کو جنم دیتا ہے جبکہ شریعت کا منفرد پہلو یہ ہے کہ وہ معاشرہ کی پیداوار نہیں بلکہ معاشرہ کو پیدا کرنے والا ہے۔ یہ نظام معاشرے کا خالق ہے، ہر دور اور ہر زمانے میں اور ہر جگہ۔ عام تصور قانون یا نظام اور شریعت میں یہ ایک بہت بڑا انقلابی فرق ہے۔ شریعت شروع ہوتی ہے اپنے اصول ، اپنے اولیات، اپنے کلیات سے اور پھر وہ فرد اور معاشرے کو اپنے رنگ میں ڈھالتی ہے۔ جبکہ دیگر نظاموں میں اس کے برعکس معاملات کا آغاز مسائل، مشکلات اور تجربات سے ہوتا ہے اور پھر اس کے حل نکالے جاتے ہیں اور اس طرح corpus of law and thought ہوتا ہے۔ میں استخراجی طریقے (inductive method) کا منکر نہیں ہوں لیکن جو بات میں کہنا چاہ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ شریعت میں ابدیت کی جو شان ہے اور اس کے جو الہامی اور تکمیلی پہلو ہیں نیز اس میں ثبات اور تغیر کا جوخود کار نظام ہے اس کی طرف زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

شریعت کی ابدیت کی بنیاد یہ ہے کہ اس قانون اور نظام کا دینے والا وہ اللہ رب العالمین ہے جو زمان و مکان کی حدود سے بالا ہے۔ ہر انسان خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اور انسانوں کا کوئی گروہ خواہ وہ کیسا ہی عالم فاضل کیوں نہ ہو، وہ زمان و مکان کی حدود سے آزاد نہیں ہے۔ اس لیے ان کے دیے ہوئے خیالات، تجربات اور قانون بھی زمان و مکان کی حدود کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ جو زمان و مکان سے بالا ہے، جس کے لیے ماضی، حال اور مستقبل میں کوئی فرق نہیں ہے، اس ماخذ سے جو چیز آئے گی اسے ابدی ہونا چاہیے۔ پھر یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس فطرت پر قائم کیا ہے، اُس فطرت کو سامنے رکھ کر ہی اُس نے اسلام اور شریعت کو وضع کیا ہے۔ گویا کہ ابدیت بالکل فطری ہے ۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ زندگی میں تبدیلیوں کا ہونا ، نئے نئے وسائل سامنے آنا ،نئی ٹیکنالوجیز کا وجود میں آنا بھی ایک حقیقت ہے۔ شریعت کے اندر نئے مسائل اور نئے معاملات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جو خودکار (built-in) نظام ہے، اس پر ہمہ گیر نظر ہونی چاہیے۔ شریعت کے ماخذ اصولیین نے قرآن ، سنت، اجماع اور قیاس بیان کیے ہیں لیکن اگر آپ گہرائی میں جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ اصل چیز تو قرآن وسنت اور اجتہاد ہے۔ کسی اجتہاد پر اجماع ہو جائے تو اس کا مقام اونچا ہو جاتا ہے۔ پھر اجتہاد کے عمل میں انسانی عقل اور انسانی ارادے کا الہامی ہدایات کے ساتھ interaction ہے اور اس سے پھر ثبات کے ساتھ تغیر ، اور ایسا تغیر جو ثبات کی حفاظت اور فریم ورک میں ہو اور اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے زمانے اور اپنے معاملات سے جڑا ر ہے— یہ جو ثبات ، تغیر اور دوام کا تعلق ہے اس میں میرا خیال ہے کہ مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام میں جو built-in process of change ہے یہ اس کی ایک بہت بڑی خصوصیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقبل کبھی بھی اسلام کے لیے مشکل نہیں ہو گا ۔ اس پہلو کو نمایاں کرنے کی ضرورت ہے۔

■ایک اور اہم پہلوشریعت کا نا قابل تقسیم ہونا ہے۔ شریعت کی ہمہ گیریت ، عالمگیریت اور توازن کے ساتھ ساتھ شریعت کے ناقابل تقسیم ہونے کے پہلو کو بھی اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے زوال میں بہت بنیادی دخل اس بات کا ہے کہ انہوں نے شریعت سے کچھ لیا اور کچھ ترک کر دیا۔ حالانکہ اللہ کا مطالبہ تو یہ تھا کہ : أدخلوا في السلم كافة ولا تتبعوا خطوات الشيطان( اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ، اور شیطان کے طریقوں کی پیروی نہ کرو)۔ (البقرہ ۱۰۸ )

شریعت اور ہدایت کے ہوتے ہوئے بھی اس کی برکات سے مستفید نہ ہو نیکی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے شریعت کے اجزاء کو پکڑ لیا ہے اور یہ بھول گئے ہیں کہ ہر جزو  دوسرے جزو کے ساتھ مربوط ہے اور چند اجزاء کو بھی ترک کر دینا پورے نظام کی اثر انگیزی، اس کی برکات، عنایات اور انعامات کو متاثر کرے گا۔ ہماری قوت کا راز بھی دراصل یہی رہا ہے کہ جب تک ہم نے شریعت کی یک رنگی کو قائم رکھا اور پوری شریعت کے ارتباط کو سمجھا اور اس پر عمل کیا ، ہم محفوظ رہے۔ اور جب ہم نے اسے اجزاء میں تقسیم کر کے کچھ کو پکڑنے اور کچھ کو چھوڑنے کا رویہ اختیار کیا، ہم کمزور ہو گئے۔

■شریعت کے قائم کردہ اداروں پر بھی ہمیں ذرا زیادہ گہری تحقیقی نظر ڈالنی چاہیے۔ عقیدہ، تزکیہ، کیفیتِ قلب، اعمال اور معاملات کی حد تک تو شریعت کے پہلو بہت نمایاں ہو کر سامنے آگئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ شریعت کا ایک اہم رُخ(dimension)اداروں کی تشکیل بھی ہے۔ یہ ادارات وہ لنگریا ستون ہیں جن پر کوئی معاشرہ قائم ہوتا ہے اور یہ اس کے استقلال اور استقرار کی ضمانت دیتے ہیں ۔

سب سے اہم ادارہ خاندان ہے۔ پورے قرآن پاک میں جہاں قانون اور احکامات کا ذکر آتا ہے، اس کا ایک تہائی سے بھی زیادہ صرف خاندانی معاملات سے متعلق ہے۔ دیگر امور میں قرآن کی اپروچ یہ ہے کہ بنیادی مسائل کا تعین کر کے کچھ حدود متعین کر دی گئی ہیں اور باقی معاملات کو کھلا چھوڑا گیا ہے لیکن خاندان کے بارے میں اس کے قائم ہونے سے لے کر ایک فرد کی موت اور اس کے بعد تک ہر چیز کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں۔ خاندان کا ادارہ وہ ادارہ ہے جو انسانی تجربہ سے وجود میں نہیں آیا ہے بلکہ وہ خدائی قانون اور ہدایات کے نتیجے میں منظر پر آیا ہے جس کا آغاز آدم و حوا سے ہوا۔

اسی طرح شریعت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد ، مدرسہ، جماعت، تکافل، زکوٰۃ، وقف، احتساب ، قانون، قضا، ریاست ، اور امت، یہ سب ادارے شریعت نے تشکیل دیے ہیں ۔ ان سب کے لیے ایک واضح سمت، کچھ کے لیے احکام اور کچھ کے لیے قواعد تک بھی دیے ہیں۔ پھر ان میں سے ہر ایک کا تہذیبی اظہار ہوا ہے۔ صرف ایک ادارہ کی مثال دیتا ہوں ۔ وقف کے ادارے کا آغاز دور رسالت مآب میں ہوتا ہے اور پھر ہماری تاریخ میں اوقاف کی ایسی نادر مثالیں ملتی ہیں کہ انسان تصور نہیں کر سکتا ۔ مصطفی سباعی نے اس بارے میں ایک پوری کتاب لکھی ہے۔ اس میں وہ بتاتے ہیں کہ دمشق میں ہر پانچ میں سے ایک پراپرٹی ”وقف “ تھی، یعنی ان کی آمدنی کسی نیک کام کے لیے مخصوص تھی۔ اور یہ صرف مسجد، مدرسہ اور طلبہ کی ضروریات کے لیے ہی نہیں تھیں بلکہ دیگر بہت سے امور کے لیے بھی تھیں۔ اس کام کے لیے بھی وقف قائم کیے گئے کہ لوگوں کو ہمہ وقتی فارغ کیا جائے کہ وہ مریضوں کی عیادت اور دیکھ بھال کر سکیں۔ ایسے وقف بھی تھے جن کے deeds میں یہ لکھا ہوا تھا کہ یہ وقف گھروں میں ملازمت کرنے والے ایسے لوگوں کے لیے تھے کہ اگر اُن سے کوئی برتن ٹوٹ جائے تو وہ صاحب خانہ کی ڈانٹ ڈپٹ اور تحقیر سے بچنے کے لیے وہ ٹوٹا ہوا برتن وقف میں دے دیں اور اس کی جگہ نیا برتن لے جائیں اور تضحیک سے بچ جائیں۔ اسی طرح دیگر تہذیبی اداروں کے حوالہ سے بھی ہماری تاریخ میں بہت قابل قدر مثالیں پائی جاتی ہیں۔ شریعت کے قائم کردہ ان اداروں پر بھی تحقیقی نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

■جو تہذیبیں ایمان (faith) کے بغیر بنی ہیں، تاریخ میں وہ ایک نامیاتی وجود( organic phenomenon)کے طور پر نظر آتی ہیں یعنی پیدائش ، ترقی ، عروج ، ظاہری خوبصورتی ، اندرونی تناؤ / ٹکراؤ اور پھر موت۔ اس کے مقابلہ میں وہ تہذیبیں جن کی بنیاد کسی اخلاق، عقیدے یا روحانی اقدار پر ہوتی ہے ان کے ہاں نئی زندگی (rebirth) یا احیاء (revival) کا پہلو بھی کارفرما نظر آتا ہے۔ ابن خلدون کے علاوہ، میرے علم کی حد تک کسی اور نے گہرائی میں جا کر شریعت اور تاریخ کے تعلق کو قائم نہیں کیا—مسلمانوں کی تاریخ دوسری تہذیبوں کی تاریخ سے اس لحاظ سے بہت مختلف ہے کہ اس میں ہر مشکل مرحلہ میں اور ہر اہم موڑ پر شریعت کی طرف رجوع کا جذبہ نظر آتا ہے۔  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کا واقعہ امت کے لیے ایک چیلنج تھا۔ ایک جذباتی فضا میں پہلے نظام ِامارت کا قیام ایک بہت مشکل مرحلہ تھا۔ ثقیفہ بنی ساعدہ کی مشاورت میں یہ مرحلہ طے ہو گیا اور اسی جذبہ کی وجہ سے طے ہوا کہ رسالت مآبؐ کے طریقوں پر چلنا ہی ہماری منزل ہے۔ اس کے بعد اسلام کی وسعت کے ساتھ ساتھ جو مسائل در پیش ہوئے ان کے حل کے لیے جو بھی تحریکیں اُٹھیں خواہ وہ بنی امیہ کی ہوں، بنو عباس کی ہوں یا بعد کے ادوار کی ہوں ان سب میں کسی نہ کسی طریقے سے شریعت کی تلاش اور شریعت کا احیاء ہی بنیادی مرکز اور ماخذ رہا ہے اور یہ صرف سیاسی پہلو سے نہیں علمی پہلو سے بھی یہی نکتہ مرکزی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ خود علم فقہ کی تدوین اس کی اہم مثال ہے۔ تصوف کے بارے میں بڑی اچھی گفتگو ہمارے سامنے آئی ہے۔ اس پہلو کو بھی تاریخی تناظر میں دیکھیں تو یہ تمام چیزیں دراصل سوسائٹی کے چیلنجز ، انحراف اور پھر انحراف کے بعد مراجعت کے پہلو کو اجاگر کرتی ہیں۔ اسلامی تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ قرآن نے ہمیں عروج دلایا ہے اور قرآن کی طرف رجوع نے ہمیں سہارا دیا ہے Back to the Quran and forward with the Quran)) اس پہلو کو ہمیں ضرور سامنے رکھنا چاہیے۔

■ ایک اہم مسئلہ جس کو ہر تہذیب نے اپنے اپنے انداز میں ڈیل کیا ہے، وہ ہے قوت کا مقام ۔ تاریخ میں قوت کے استعمال اور قوت کے instruments کے لحاظ سے جو بے اعتدالیاں ملتی ہیں، ان کا کچھ ذکر یہاں بھی آیا ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ اسلام نے قوت کو انسانوں کے لیےحتی المقدورجس طرح غیرتکلیف دہ مگر مؤثر بنایا ہے اور جس طرح اسے اقدار کے تابع کیا ہے، اور ساتھ ساتھ اقدار کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، یہ ایک بہت منفرد پہلو ہے۔ اس پر ہمارے مفکرین اور مورخین نے اشارے کیے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ گہرائی میں جا کر کسی نے اس پہلو کو اجا گر نہیں کیا ہے۔ اسلام میں قوت کا کردار اور اس کی جو انفرادیت ہے اس سے ایک عجیب تہذیبی حسن رونما ہوا ہے جس میں آزادی اور نظم وضبط کے درمیان ایک توازن قائم ہوتا ہے۔ اس پر مزید علمی کام کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔

■حریت اور آزادی بھی در اصل اسلامی تہذیب کا ایک بڑا منفرد پہلو ہے کہ اس نے انسان کو صاحبِ ارادہ تسلیم کر کے معاملات کو آگے بڑھایا ہے۔ اختیار (choice) کی جو آزادی ہے، اس کی بنیاد عقل ہے۔ عقل اور اختیار کی آزادی ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ یہ اسلام کا عظیم پہلو ہے کہ اس میں خالق کائنات نے انسان کو اپنے وجود کے انکار کا اختیار بھی دے دیا ہے۔ انکار اور ناسپاسی کا یہ رویہ ظاہر ہے اُسے سخت نا پسند ہے لیکن محض انکار کرنے کی بناء پر اُسے گردن زدنی نہیں قرار دیا۔ یہ اختیار اس کو دیا ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ ٹھیک ہے اس کے نتائج دنیا میں بھی نکلیں گے اور آخرت میں بھی لیکن آزادی اور حریت اس تہذیب کا ایک بڑا بنیادی تصور ہے۔ اور یہ آزادی اور عقل ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

■آخری بات میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آج کے دور میں بھی کوئی چیز زندگی کے لیے بنیاد بن سکتی ہے تو وہ شریعت ہے۔ اس لیے شریعت کا فہم ، شریعت کے دیے ہوئے عزائم اور محرکات کو اپنی شخصیت میں سمونا،شریعت کے بتائے ہوئے راستے کے قیام کے لیے فکری اور عملی دونوں سطح پر تیاری اور کوشش کرنا ہمارے لیے سب سے اہم ہونا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ نے ازالۃ الخفاء میں ایک جملہ میں اس بات کو یوں بیان کیا ہے کہ ”مسلمانوں کے احیاء اور ترقی کا راز اجتہاد اور جہاد میں ہے“۔ جہاد اس عقلی، فکری اور عملی جد و جہد کا نام ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو متاثر کرتی ہے۔ جس میں نفس پر قابو سے لے کر ظلم کے خلاف مزاحمت تک تمام امور شامل ہیں۔

امت کے آج کے حالات بڑے پریشان کن ہیں لیکن ماضی میں مسلمانوں کے حوصلہ ہار دینے کے لحاظ سے حالات اس سے کہیں زیادہ خراب بھی رہے ہیں۔ تاریخ ہمیں بڑی امید دلاتی ہے کہ آج کی کشمکش میں بھی ہم سرخ رو ہوں گے ۔ جس طرح شریعت ماضی میں قوت کا ذریعہ رہی ہے، آج بھی ان شاء اللہ وہی ہماری قوت کا ذریعہ ہے۔ جیسا کہ امام مالک سے منقول ہے کہ اس امت کے اول دور میں جو چیز اس کی اصلاح کا ذریعہ بنی، آخری دور میں بھی وہی چیز اس کی اصلاح کا ذریعہ بنے گی اور وہ ہے قرآن۔

میری نظر میں امت مسلمہ کے اصحاب فکر و نظر کی ذمہ داریاں امت کے عام فرد کے مقابلہ میں کئی گنا زیادہ ہیں کہ انہیں جدید دور میں امت کی فکری رہنمائی کا عظیم فریضہ سرانجام دینا ہے۔ اس کام کے لیے جہاں احکاماتِ الہی پر گہری تحقیقی نظر در کار ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ انہیں احوالِ زمانہ سے مکمل واقفیت ہو، آگے بڑھنے کی حکمت عملی پر سوچ بچار ان کی فطرت ثانیہ ہو، ابلاغ و مکالمہ کے مروجہ بہترین اسلوب سے آشنائی ہو اور یہ سب کچھ محض نظری سطح پر مطلوب نہیں ہے بلکہ ان کی عملی زندگی اس کا آئینہ ہو— کامیابیوں کا دروازہ اسی طرح کھل سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »