بجٹ پیٹرن ایک ہی ہے

پروفیسر خورشید احمد
80ء کی دہائی میں بین الاقوامی قرضے لینے پر مجبور کیا گی، اس شیطانی کھیل کو چیلنج کرنے کا وقت ہے
تین کروڑ ڈپازیٹس کو صرف 13 ہزار افراد استعمال کر رہے ہیں، جس میں سے 10 ہزار نادہندہ ہیں
پاکستان بزنس فورم نے بروقت ایک ایسے سیمینار کا انعقاد کیا ہے جس کے ذریعے خلوص اور سنجیدگی کے ساتھ معاشیات کے ماہرین و طالب علموں، تاجر برادری اور صحافیوں کو اپنی آواز قوم اور موجودہ حکمرانوں کے سامنے لانے کا موقع حاصل ہوا۔ دنیا کے متعدد ممالک میں یہ روایت قائم ہو چکی ہے کہ مختلف بجٹ تنظیمیں اپنے تحقیقی ادارے قائم کرتی ہیں اور ٹھوس کام اور محنت کے بعد تنقیدو تجویز دونوں کا کام انجام دیتی ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے یہاں یہ روایت کچھ زیادہ عام نہیں ہوئی ہے۔ یہاں ذاتی مفادات اور محدود سیاسی مقاصد کے لئے فورمز کو استعمال کیا جاتا ہے۔ الحمد للہ مجھے اس سے قبل بھی پاکستان بزنس فورم کے پلیٹ فارم سے اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقعہ ملا ہے۔ میں ممنون ہوں کہ مجھے آج آئندہ بجٹ کے پس منظر میں خیالات کا اظہار کرنے کی دعوت دی گئی۔ میری کوشش ہو گی کہ ان حقائق کو بیان کروں جو میری نگاہ میں اس وقت قوم اور آپ کی توجہ کے مرکز ہونے چاہئیں۔ بلاشبہ اس وقت ملک کی معاشی صورت حال نہایت خراب، بے حد گمبھیر اور ایک بحرانی کیفیت میں مبتلا ہے۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ مجھے لمحہ بھر کے لئے بھی پاکستان کے روشن مستقبل کے بارے میں شبہ نہیں ہوا۔ یہ ہمارا گھر ہمارا ملک ہے اور ہمیں ہی تباہی سے بچانا ہے۔ اسے اس کے وسائل کا غلط استعمال کرنے والوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ مجھے قوی امید ہے کہ انشاء اللہ ملک میں کامیابی، ترقی اور اخلاقی برتری کا دور آئے گا۔ تاہم اس کا انحصار ہماری جدوجہد پر ہے۔ موجودہ حکومت کے سوا سال نظریات، اخلاقیات، معیشت کی بحالی اور دستوری و قانونی اداروں کی تباہی و بربادی کے اعتبار سے انتہائی مایوس کن رہے۔ لیکن ان تمام کے باوجود میں یہ بات کہنا اپنے ضمیر کا تقاضہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت جو معاشی صورت حال ہمیں درپیش ہے وہ مسلسل اور پیہم غلطیوں کا نتیجہ ہے اور اس کی ذمہ داری صرف ایک نہیں بلکہ ان سب قیادتوں پر ہے جنہیں وقتاً فوقتاً ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ لیکن وہ لکیر کے فقیر رہے اور نہ ہی آنکھیں کھول کر حقائق کو دیکھا اور نہ منزل و مقصد کا صحیح تعین کیا۔ ان کی پالیسی و عمل میں جو غیر معمولی تضاد تھا وہ انتہائی تباہ کن ثابت ہوا۔ اس کے علاوہ معاشی بگاڑ میں صرف قیادت ہی نہیں بلکہ بحیثیت مجموعی ارباب دانش، صحافت اور تجار بھی حد درجہ شریک ہیں۔ ہم بحیثیت قوم حقائق کو تسلیم کرنے اور اصلاح کرنے کے بجائے حقائق پر پردہ ڈالنے اور تصویر کا ایک رخ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اعداد و شمار کا صحیح ہونا ضروری ہے۔ اعداد و شمار آئینے کی طرح ہیں۔ اگر آپ کا آئینہ صرف اچھائی دکھائے تو اصلاح ممکن نہیں۔ ہمارے یہاں بھی یہ مرض پھیل چکا ہے۔ ہمارے یہاں اعداد و شمار وضع کئے جاتے ہیں، کچھ قانونی و دستوری انداز میں اور کچھ ڈھٹائی کے ساتھ۔ کیونکہ ہم حقائق کو فیس نہیں کرنا چاہتے۔ اس وقت یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ افراط زر کی شرح کم ہوئی ہے۔ کچھ افراد کا تو یہ کہنا ہے کہ سنگل فیگر میں آگیا ہے اور شرح 9 سے 7 فیصد تک ہو گئی ہے۔ بلاشبہ آپ میں سے ہر ایک کا تجربہ اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ اعداد و شمار کی اس بازی گری سے ہم اپنوں کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ہماری در آمدات کم اور برآمدات بڑھ گئی ہیں جس سے نتیجتاً خسارہ کم ہو گیا ہے۔ لیکن ذرا پردہ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ درآمدات میں جتنی کمی ہوئی اس میں سے 25.5 فیصد کی کمی مشینری اور اسپئیرز کی شامل ہے۔ جس کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی انڈسٹری پہلے ہی بیمار ہے اور اب میڈیم اور لانگ ٹرم انڈسٹریل پروڈکشن کے اعتبار سے ہماری استعداد نیچے جارہی ہے۔ دوسرا بڑا آئٹم پیٹرولیم ہے۔ عالمی منڈی میں پیٹرولیم کی قیمت گری اور 18 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 9 ڈالر فی بیرل تک ہو گئی۔ ملکی در آمدات میں 19 فیصد کمی صرف اس ایک آئٹم کی قیمت کی وجہ سے ہے۔ لیکن یہاں اس قیمت کے کم ہونے کا فائدہ عام انسان کو ہونے ہی نہیں دیا گیا۔ جب تیل کی قیمت بڑھی تھی تو تیل کی قیمت بڑھا دی گئی تھی اور اب قیمت کم ہوئی تو ملکی صارفین کو فائدہ نہیں پہنچنے دیا گیا۔ ٹرانسپورٹ کی صنعت اور عام آدمی جو اس سے فائدہ اٹھا سکتا تھا اسے محروم رکھا گیا۔ تقریباً 21 ارب روپے قیمت کے گرنے سے حکومت کو حاصل ہوئے جسے سرکاری ریونیو دکھا دیا گیا۔ اس طرح حکومت نے لوگوں پر مزید بالواسطہ ٹیکس لگا دیا ہے۔ میری نگاہ میں یہ اعداد و شمار کی بازی گری ہے۔ اپنوں کو دھوکا دینا اور حقائق کا سامنا نہ کرنا ہے۔ یہ تشویش ناک مرض ہے اسے دور ہونا چاہئے اس کے بغیر اصلاح نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ میں شاہ حسین صاحب سے اس بات پر اتفاق رکھتا ہوں کہ اب ہماری معیشت اس مقام پر آ چکی ہے کہ ونڈو ڈریسنگ سے اور اس قسم کی شعبدے بازی سے کہ ہم نو ٹیکس بجٹ پیش کر رہے ہیں اس سے نہ معیشت سنبھل سکتی ہے اور نہ ملک ترقی کر سکتا ہے۔ اس کے لئے بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ یہ بات میں پچھلے 15-16 برسوں سے کہہ رہا ہوں۔ میں نے غلام اسحاق خان صاحب کے بجٹ 90-1989ء میں یہ تنقید کی تھی اور مفصل انداز میں کہا تھا کہ ہمیں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے یہ نہیں کیا تو آنے والی قوم اس کے شدید منفی نتائج بھگتے گی لیکن کوئی تبدیلی نہیں کی گئی تمام پیٹرن ایک تھا۔ آپ تمام بجٹ اٹھا کے دیکھ لیں۔ غلام محمد صاحب سے لے کر سرتاج عزیز کے بجٹ تک اس کا پیٹرن صرف ٹنکرنگ اور جزوی تبدیلیوں کے علاوہ ایک ہی ہے۔ جب تک ہم بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں نہیں کرتے ترقی ممکن نہیں اور اس کے لئے ان حضرات سے مجھے توقع نہیں۔ آزمائے ہوئے کو آزمانا حماقت ہے، یہ حماقت برابر ہو رہی ہے۔ میری نگاہ میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ہم نے اپنے مقاصد کا صحیح تعین نہیں کیا۔ میں نے 50 برس معاشیات کی کار گزاری میں گزارے ہیں اور پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ جب تک زندگی کے کچھ اعلیٰ مقاصد سامنے نہ ہوں، محض دولت کو بڑھانے اور نام نہاد معاشی ترقی اور پیداوار میں اضافہ کے مقصد کو سامنے رکھ کر کوئی قوم آگے نہیں بڑھتی۔ جن قوموں نے معاشی ترقی کی، اس کی وجہ اعلیٰ قومی مقاصد کو سامنے رکھنا تھا تاکہ معاشی ترقی اس کے لئے ذریعہ اور فوجی قوت اس کا ذریعہ بن جائے۔ جب تک یہ آئیڈیل ازم نہ ہو ترقی ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں ایک بنیادی چیز انصاف ہے۔ اسلام میں انصاف کا مقام تو یہ ہے کہ جہاں انبیاء کرام کی بنیادی ذمہ داری ،مشن یہ بتایا گیا کہ وہ اللہ کی کتاب تم تک پہنچاتے ہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس کتاب کی ہدایت کو کس طرح نافذ کیا جائے۔ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان انصاف قائم ہو۔ اسلام نے بہت واضح مشورے دیئے ہیں۔ اسلام کے معنی صرف سود کو ختم کر دینا اور زکوۃ کی ادائیگی ہی نہیں ہے۔ بلا شبہ یہ دو اہم ستون ہیں لیکن یہ تو ایک معیشتِ طیّبہ ہے جو ظلم سے پاک ہے جس میں دولت پر کچھ لوگوں کا اقتدار نہ ہو جس میں دولت تمام لوگوں میں گردش کرے۔ اسلام انصاف قائم کرتا ہے۔ جب تک یہ مقاصد سامنے نہیں ہوں گے ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ یہ غلطی ہم نے بھی کی ہے۔ اگر اکنامک ڈیولپمنٹ کی فکر کا مطالعہ کیا جائے تو اس کا صرف ایک مقصد جی ڈی پی بڑھانا تھا اور بس یہ فکر تھی کہ فی کس آمدنی بڑھادی جائے۔ جبکہ یہ بات نظر انداز کر دی گئی کہ اس سے معاشرے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ انصاف میسر ہو گا کہ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بجٹ میں واضح مقاصد طے نہیں کئے گئے۔ ذرا سوچئے کہ اس امت کو شہدأ علی الناس قرار دیا گیا۔ کیا شہدأ علی الناس امت دوسروں کی محتاجی میں اپنا فرض ادا کر سکتی ہے۔ یہ امت تو اپنا فرض منصبی ادا ہی اس وقت کر سکتی ہے جب یہ خود کفیل ہو۔ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو اور فکری اعتبار سے عسکری طور پر اور اخلاقی و نظریاتی لحاظ سے کسی کی محتاج نہ ہو۔ جبکہ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ حکومت کشکول گدائی میں مصروف ہے۔ مقاصد کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔ میرے خیال سے یہ عین موجودہ قیادت کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ یہ نا کام قیادت ہے جس کے گواہ پچاس برس ہیں۔ میں جب پلاننگ کمیشن میں گیا تو مجھے احساس ہوا کہ پورے کمیشن کی فکر صرف ایک تھی کہ کسی طرح ایک ایسا ڈھانچہ بنا دیا جائے جس سے امداد مل جائے اور کوئی فکر نہیں تھی۔ میں 1978-79ء میں ڈپٹی چیئر مین تھا۔ فارن ریمی ٹینسز 1972ء سے آنا شروع ہوئیں۔ پلاننگ کمیشن سے ایک پیپر اس مسئلے پر تیار نہ ہو سکا کہ یہ ریمی ٹینسز کیا ہیں۔ ان کے کیا نفاذ ہو سکتے ہیں، کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور فارن ایڈز سے نجات کا یہ کس طرح ذریعہ بن سکتی ہیں۔ آج ہم 32 ارب ڈالر کے مقروض ہیں اور اس صورت حال میں ہیں کہ تقریباً 28 ارب ڈالر ادا کر چکے ہیں۔ اس کے کیا اثرات پڑے ہیں قومی زندگی پر، کن چیزوں پر ہم اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے ہیں در حقیقت فارن ایڈ کا مقصد یہ کبھی تھا ہی نہیں کہ اس سے ترقی پذیر ممالک معاشی ترقی کر سکیں۔ اس کا مقصد صرف یہ تھا کہ اپنے اوپر ان کی محتاجی پیدا کی جائے اور یہ ممالک خود انحصار نہ ہو سکیں۔ اس کے اصل بینی فشریز بھی یہ نام نہاد امداد دینے والے ممالک ہی ہیں۔ اصل لعنت سودی قرضہ ہے۔ سودی قرضہ کے سلسلے میں یہ پابندی بھی ہے کہ جو گرانٹ دے رہا ہے آپ اس سے سارا سامان خریدیں اور یہ سامان عالمی منڈی کے نرخوں کے مقابلے میں 30 تا 60 فیصد مہنگا دیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس ملک کو فارن ایڈ دی گئی اس کے 80 فیصد فائدہ مند امداد دینے والے اور صرف 20 فیصد فائدہ لینے والے کو ہوا اور اس میں بھی اگر کرپشن آجائے تو ذلت و محتاجی اور آنے والی نسلوں کو گروی رکھنے کے علاوہ کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
میری رائے میں ہونا یہ چاہئے کہ تمام ترقی پذیر ممالک انفرادی اور اجتماعی طور پر اس کو چیلنج کریں۔ غیر ملکی امداد ہمارے ملک میں 14 فیصد سے لے کر 23 فیصد پر آئی۔



