اٹھارھویں ترمیم خوش آیند پیش رفت

پروفیسر خورشید احمد
بدلتی اور نئی ابھرتی ہوئی ضرورتوں کی روشنی میں مطلوبہ ہدایت اور رہنمائی فراہم کرنے کی خدمت انجام دے سکے۔ یہ ہے وہ ضرورت جو دستوری ترمیم کے ذریعے پوری کی جاتی ہے۔ دنیا کے تمام ہی دساتیر اس امر پر شاہد ہیں کہ وہ ریاست کے مقاصد اور نظام حکومت کے بنیادی ڈھانچے کی تقامت کا ضامن ہوتے ہیں۔ چونکہ اس کے ساتھ وقت کے تقاضوں سے ہم آنگی کی ضرورت باربار رونما ہوتی ہے، اس لیے ریاستی دساتیر ایک زندہ دستاویز کے طور پر ان ضرورتوں کی تشفی کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔ امریکا کے دستور میں گذشتہ دو صدیوں میں درجنوں ترمیمات کی گئی ہیں، جو بنیادی ڈھانچے کی حفاظت کے ساتھ وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بنی ہیں ۔ یہی صورت دنیا کے دوسرے ممالک کے دساتیر کی بھی ہے، لیکن پاکستان میں بار بار کی فوجی مداخلت اور دستور کی چیر پھاڑ کے باعث ہمارا مسئلہ بالکل مختلف نوعیت اختیار کر گیا۔ ہمیں دو چیلنج درپیش تھے۔ ایک یہ کہ دستور کے بنیادی اہداف کی روشنی میں نئے حالات اور مسائل کے تقاضوں کو دستور کے فطری ارتقا کے عمل کا حصہ بنایا جائے نیز یہ کہ گذشتہ ۲۷ برسوں میں دستور میں جوناہمواریاں اور انحل بے جوڑ تبدیلیاں ارباب اقتدار اور خصوصیت سے فوجی حکمرانوں نے محض قوت کے نشے میں اور بڑی حد تک ذاتی اقتدار کو محکم کرنے کے لیے کی ہیں، ان سے دستور پاکستان کو کس طرح پاک کیا جائے زیاده امشکل اور نازک کام تھا، جسے الحمداللہ پارلیمنٹ کی دستوری اصلاحات کی کمیٹی نے بڑی محنت اور حکمت سے انجام دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں دستور کی ۹۵ دفعات میں ضروری ترامیم کی گئیں۔
ان سفارشات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ جس طرح ۱۹۷۳ ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو قومی اتفاقی راۓ سے تمام سیاسی جماعتوں کے بھر پور تعاون اور مؤثر حصہ داری سے افہام و تفہیم کے ذریعے تیار اور منظور کیا گیا تھا، تقریباً اسی طرح ساڑھے نو مہینے کی مسلسل مشاورت اور کوشش کے ذریعے اٹھارویں ترمیم کو مرتب کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں اتفاقی راۓ پیدا کیا گیا اور پھر پار لیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے مکمل اتفاقی راۓ سے انھیں منظور کیا۔ اس طرح یہ ترامیم اب دستور کا جز ولا ینفک بن گئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں دستور پاکستان ایک طرف ان حشو و زوائد اور متعد ناہمواریوں اور تضادات سے پاک ہو گیا ہے، جو دو مارشل لا حکومتوں میں آٹھویں (۱۹۸۵ء)اور سترھویں (۲۰۰۳ء) ترامیم کے ذریعے اس میں داخل کر دی گئی تھیں۔
دوسری طرف ان ۳۷ برسوں میں جو نئے مسائل اور نئی ضرورتیں سامنے آئیں، ان کی روشنی میں دستور کو اس کی اصل شکل اور روح کے مطابق نہ صرف بحال کیا گیا ہے بلکہ اس کے بنیادی ڈھانچے اور مقاصد کے مطابق مزید ارتقائی منزلوں سے ہم کنار کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے۔ بلاشبہ کوئی بھی انسانی کوشش ہر اعتبار سے مکمل اور خطا سے پاک نہیں ہو سکتی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بحیثیت مجموعی اٹھارھویں دستوری ترمیم ایک مثبت پیش رفت ہے، جس پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ البتہ اس میں اب بھی جو خامیاں رہ گئی ہیں، یا جو امور مزید اصلاح طلب ہیں، یا جو دستوری مسائل حل طلب نہیں، ان کے لیے کوششیں جاری رکھی جائیں تا کہ ہمارے قدم آگے ہی بڑھتے رہیں۔
دستوری کمیٹی کے لیے چیلنج
اس وقت دستور کے بارے میں دستوری کمیٹی، پارلیمنٹ اور پوری قوم کے سامنے بنیادی طور پر دو چیلنج تھے پہلا یہ کہ دستور میں جو انحل بے جوڑ چیزیں داخل کر دی گئی ہیں، ان سے اس کو پاک کیا جائے لیکن اس پورے عمل میں اگر کچھ چیزیں صحیح اور دستور کے فریم ورک اور مقاصد سے ہم آہنگ ہیں تو ان کومحض اس وجہ سے رد نہ کر دیا جائے کہ انھیں دستور کا حصہ بنانے کا عمل نام یا ان کا وجودمحل ِنظر تھا۔ اس لیے ضروری تھا کہ ایک طرف جو عمل غلط ہوا ہے، اس کے غلط ہونے کا اور اک ہی نہیں اعلان بھی ہو۔ دوسری طرف تعصب یا ہٹ دھرمی کے راستے سے لائن بچاتے ہوئے حل ما صفاء ودع ماكلو ( جو سچ ہےاسے قبول کر لو اور جونا درست ہے، اسے ترک کر رو) کے زریں اصول پر عمل کرتے ہوئے جو تبدیلیاں صحیح مقاصد کے حصول اور دستور کے مزاج اور فریم ورک سے مطابقت رکھتی ہیں، ان کو قبول کر لیا جائے اس پس منظر میں اگر آپ اٹھارھویں دستوری ترمیم کی شق ۲ اور ۹۵ (ترمیم شدہ دستور کی دفعہ ۱۳۷۰ے اے) کا مطالعہ کریں، تو اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے نافذ کردہ ایل ایف او کو، جو ایک مخلوط اور نا جائز اقدام تھا، بجاطور پر غلط اور نا جائز قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سترھویں دستوری ترمیم کو جو خاص حالات میں منظور کی گئی تھی، اسے بھی دستور کی زبان میں کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ان میں جو چیزیں دستور کے فریم ورک سے ہم آہنگ یا وقت کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہیں، ان کو جاری رکھا گیا ہے۔ کچھ کو تحفظ دے کر اور کچھ کو دوبارہ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے دستوں کا حصہ بنا کر۔
اس خاص طریق کار کے ذریعے دو مقاصد حاصل کیے گئے ہیں: ایک یہ کہ اصل اقدام کے ناجا ئز ہونے کا اعلان دستور میں آجائے، تا کہ آئندہ کے لیے دستور میں اس طرح کی دراندازیوں کا دروازہ بند ہو۔ پھر اعلٰی عدالتوں پر بھی واضح ہو جائے کہ ان کے جواز (validation) کو پارلیمنٹ نے رد کر دیا ہے۔ دوسری طرف قوانین کے تسلسل اور مناسب تبدیلیوں کو شک، ضد اور عناد کی بنا پر رو نہیں کیا گیا، بلکہ ان کو حیات ِنو دے دی گئی ہے جس کے نتیجے میں ان کو مکمل قانونی جواز حاصل ہو گیا ہے۔
اس عمل تظییر اور تصحیح کے ساتھ دستوری کمیٹی نے تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کوئی تجاویز دینے، دستور کو تازہ دم کرنے اور نئے مسائل کی روشنی میں ترامیم کی نشان دہی کرنے کی درعت دی۔ ۸۰۰ سے زیادہ تجاویز آئیں، جن کا جائزہ لیتے ہوئے، جو کچھ اس وقت ضروری اور قابل عمل سمجھا گیا ، اسے اس جامع دستوری ترمیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ دستوری کمیٹی نے اپنے کام کے آغاز ہی میں چند اصولی باتیں طے کیں، جن کو سمجھنا ضروری ہے۔
۱۔ہم پورے دستور پر نظر ثانی نہیں کر رہے اور نہ دستور کے بنیادی ڈھانچے اور فریم ورک ہی میں کوئی تبدیلی ہمارے پیش نظر ہے۔ ہم صرف ان دوضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کریں گے جو اوپر بیان کی گئی ہیں۔
۲۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ دستور کے فریم ورک کو اچھی طرح سمجھ لیا جائے۔ پاکستان کا دستور تحریک پاکستان کے مقاصد کے پس منظر میں مرتب اور منظور کیا گیا ہے۔ مقرارداد مقاصد( مارچ ۱۹۴۹ء) اس فریم ورک کی بنیاد اور ماخذ ہے۔ پھر ۱۹۷۳ء کے دستور کو منظور کرنے والی دستور ساز اسمبلی نے دستور کی بنیادوں کو واضح کر دیا ہے، جنھیں جو اس وقت کے صدر مملکت اور دستور ساز اسمبلی کے چیئر مین جناب ذوالفقار علی بھٹو نے دستور کے مسودے کے منظور ہونے کے موقع پر اپنے انتقامی خطاب میں اس طرح بیان کیا تھا۔
’’بہت سے تنازعات کے بعد ۲۵ سال بعد ہم ایسے مقام پر آگئے ہیں جہاں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم ایک دستور رکھتے ہیں اور کوئی اس بات سے انکار نہیں کر سکتا۔ یہ دستور پاکستان کے عوام کی مرضی کی نمائندگی کرتا ہے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جمہوریت کی کسی بھی تعریف کے مطابق یہ ایک جمہوری دستور ہے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ ایک وفاقی دستور ہے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ اسلامی دستور ہے۔ اس میں پاکستان کے کسی بھی سابقہ دستور یا دنیا کے دوسرے اسلامی ممالک کے دستور جہاں شاہی نظام ہے، زیادہ اسلامی دفعات ہیں‘‘۔
موصوف نے ایک بار پھر دستور کی بنیادی خصوصیات اور اس کے اساسی فریم ورک کا اس طرح اظہار کیا۔
’’میرے دوستو! یہ دستور جو جمہوری ہے، جو وفاقی ہے اور اسلامی نظام کا جو ہرا اپنے اندر رکھتا ہے، اسلامی سیاسی نظام کا تحفظ کرتا ہے۔ یہ دستور عدلیہ کو آزادی فراہم کرتا ہے۔ یہ دستور شہریوں کو بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے۔
:صدر دستورساز اسمبلی کے ان واضح ارشادات سے دستور کے بنیادی اور اساسی ستون واضح طور پر سامنے آجاتے ہیں اور وہ یہ ہیں
(ا) دستور کی بنیا د اسلام اور اسلام کا دیا ہوا سیاسی نظام ہے، جس کی حفاظت اور جس پر عمل پہلا ہدف ہے۔
(ب) دستور جمہوری ہے، جو پارلیمانی نظام حکومت کے اصول پر قائم ہے۔
(ج )دستورا یک وفاقی نظام کا تصور پیش کرتا ہے۔
(د) بنیادی حقوق کی حفاظت اس دستور کا ایک نا قابل تنسیخ پہلو ہے۔
( ہ )عدلیہ کی آزادی دستور کا پانچواں ستون ہے۔
ان پانچوں بنیادوں کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے بار بار دستور کا بنیادی فریم ورک قراردیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس حمود الرحمٰن نے قرار داد مقاصد کو اپنے اس تاریخی فیصلے میں grund-norm [معروف و مقبول ضابطہ] قرار دیا تھا، جس میں جنرل محمد یحیٰی خان کے اقتدار کو غاصبانہ اور نا جائز قبضہ قرار دیا گیا تھا۔ پھر عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے میں، جس میں جنرل پرویز مشرف کے اقدام کو جواز بخشا گیا تھا، اور اسے دستوری ترمیم کا حق بھی بن مانگے عطا کر دیا گیا تھا، تاہم یہ بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ یہ پانچوں اصول دستور کا بنیادی ڈھانچا ہیں اور ان میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے اپنے اس جولائی ۲۰۰۹ ء کے فیصلے میں دستور کے بنیادی ڈھانچے کو ان اصولوں سے عبارت قرار دیا ہے اور عدالت عظمیٰ کا یہی احساس ۱۲ د کبیر ۲۰۰۹ء کے فیصلے میں بھی پوری شان سے نظر آتا ہے۔
کمیٹی نے ایک اولیں اصول یہ طے کیا۔ اگر چہ اس کے سامنے میثاقِ جمہوریت اور تمام یاسی جماعتوں کی تجاویز رہیں گی لیکن اس کا سارا کام دستور کے اس فریم ورک کے اندر ہو گا۔ ترامیم کا ردو قبول اس کسوٹی پر ہوگا۔ کمیٹی نے اپنے دائرہ کار کا اس طرح تعین کیا۔
کمیٹی سترھویں ترمیم،میثاقِ جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کو پیش نظر رکھ کر ترامیم تیارکرے گی تا کہ پاکستان کے عوام کی جمہوری اور اسلامی تمنایئں پوری ہو سکیں۔
دستوری کمیٹی نے دوسرا اصول یہ تعین کیا کہ حتی الوسع کوشش ہوگی کہ تمام ترامیم اور تجاویز اتفاقی راۓ سے مرتب کی جائیں ، اور اگر یہ ممکن نہ ہو، تو پھر کمیٹی کی کل تعداد کے دو تہائی سے فیصلہ ہوگا جسے اختلاف کرنے والے ارکان اکثریت کے فیصلے کے طور پر قبول کرلیں گے، البتہ انھیں اختیار ہوگا کہ اپنی اصولی اور پارٹی پوزیشن کو اعادہ موقف کے نوٹ (note of reiteration) کے ذریعے ظاہر کر دیں اور مستقبل میں اپنے موقف کے حصول کے لیے کوشش کا حق محفوظ رکھیں۔ بظاہر یہ صرف لفظی کھیل نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں اتفاق اور تعاون کے ایک نئے ماڈل کو ترویج دینے کے لیے اختلافی نوٹ (note of dissent) کے بجائے سب نے اعادہ موقف کی اصطلاح کو اختیار کیا۔ و ستوری کمیٹی نے اپنی تمام کا روائیوں کو بند کمرے کی کارروائی اس لیے رکھا کہ تمام جماعتیں پوری آزادی کے ساتھ افہام و تفہیم کے عمل کو آگے بڑھاسکیں، اور وقت سے پہلے بحث و میانے کا بازار گرم نہ ہو۔ اس ذیل میں صرف اعلی ٰعدالتوں میں ججوں کی تقرری کے مسئلے کو استثنا حاصل رہا۔ یہ اسی طریق کار کا نتیجہ تھا کہ اختلافات کے باوجود بڑے بنیادی امور کے بارے میں کمیٹی متفقہ تجاویز مرتب کر گئی اور پارلیمنٹ کی متفقہ منظوری کے ۱۹۷۳ء کے دستور کی ۲۸۰ میں سے ۹۵ دفعات میں مکمل اتفاق راے ٔکے ساتھ تبدیلی کا عمل ممکن ہو سکا۔
دستوری استحکام کی طرف اہم پیش رفت
اٹھارھویں دستوری ترمیم کا سب سے بڑا نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے مکمل اتفاق راے سے ۱۹۷۳ء کے دستور کو اس کے بنیادی ڈھانچے کی مکمل حفاظت اور مزید مضبوطی اور وسعت دینے کے ساتھ ۲۰۱۰ء کی ضرورتوں اور تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تقسیم اختیارات اور توازن کے سہ کوئی انتظام (triconomy of power) کے بنیادی اصول کی پاسداری کی گئی ہے۔ تمام اداروں کو دستور کے فریم ورک میں اور دستور سے اختیارات حاصل کرنے والے اداروں کی حیثیت سے، اپنے اپنے وظیفے اور ذمہ داری کو ادا کرنے کے لائق بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ایک مشکل اور حساس مسئلے یعنی مرکز اور صوبوں میں اختیارات اور ذمہ داریوں کی تقسیم کو نئے حالات کی روشنی میں ایک متفق علیہ فارمولے کی شکل دے کر منظوری دی گئی ہے جس کا مرکزی تصور ملکیت، انتظام، نگرانی اور احتصاب میں شراکت ہے۔
اس نئے مثالیے (paradigm) کے نتیجے میں ملک کو ایک مرکزیت کے حامل وفاق (centralized federation) کے تصور سے ہٹ کر ایک باہم شراکت کے حامل وفاق (participatory federation) کے تصور کی طرف لایا گیا ہے جو اٹھارھویں ترمیم کافی الحقیقت ایک اہم کارنامہ ہے۔ اگر اس تصور پر صحیح صحیح عمل ہوتو مرکز اور صوبوں میں جو کھچاؤ، بے اعتمادی بلکہ تصادم کی فضا بن رہی تھی، وہ ان شاء اللہ تعاون اور اعتماد میں تبدیل ہو جائے گی، اور اس طرح مرکز اور صوبوں کے درمیان زیادہ یک جہتی پیدا ہو سکے گی۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی متوقع ہے کہ مرکز گریز یا علیحدگی پسندی کی تحریکات اور غیر جمہوری راستے اختیار کرنے کے جو رجحانات سر اٹھا رہے تھے، وہ ختم ہو سکیں گے۔ یوں معاشرے کے تمام عناصر کو جمہوری عمل کا حصہ بنا کر اختیارات کی شراکت کے ذریعے ایک ایسے نظام کو فروغ دیا جاسکے گا جس میں سب ایک ٹیم بن کر اپنا اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔ اس طرح صوبوں کی مضبوطی اور خوش حالی کے ذریعے پورے ملک کی مضبوطی، استحکام اور خوش حالی کا حصول ایک حقیقت بن سکے گا۔ مگر یہ سب کام خلوصِ نیت، احساسِ زمہ داری ،ایثارکشی اور پاکستانیت کے حقیقی شعور کے ساتھ ہی ممکن عمل ہے۔ اور اصل چیزیں اصولوں اور ضابطوں پر عمل ہے محض انھیں کتاب دستور کا حصہ بنانا کافی نہیں۔
اٹھارھویں ترمیم کے پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہونے کا ایک اور تاریخی اثر یہ ہے کہ ا ب دستور میں جو بھی ہے، اسے پوری پارلیمنٹ اور قوم کی تائید حاصل ہے۔ جنرل محمد ضیا الحق کے نام اور ریفرنڈم کے ذریعے صدر بننے کے ذکر کو رستورسے خارج کرنے اور جنرل پرویز مشرف کے ریفرنڈم اور اقتدار کے جواز سے دستور کے اوراق کو پاک کرنے کا جو مثبت قانونی نتیجہ رونما ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ آٹھویں اور سترھویں ترامیم کے جن اجزا کو دستور میں رکھا گیا ہے، وہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور قوم کی مکمل تائید سے دستور کا مستقل حصہ بن گئی ہیں اور اب اس کی حفاظت کی ذمہ داری مکمل طور پر پارلیمنٹ اور پاکستانی قوم پر آتی ہے۔ ایسی تمام دفعات اب کسی آمر مطلق کے نشاناتِ جبر اور کسی عدالت کے جواز کا حامل نہیں رہے، بلکہ ۱۹۷۳ء کے دستور کا جائز اور مبنی بر حق حصہ بن گئے ہیں اور ان پر انگشت نمائی کا کوئی جواز باقی نہیں رہا، جو ایک خاص طبقے کا معمول بن گیا تھا۔ اس سلسلے میں دستور کی دفعہ ۲ (الف) جس کے ذریعے قرارداد مقاصد کو دستور کا قابل تنفیذ حصہ بنایا گیا تھا، دفعات ۲۲ اور ۶۳ میں جو تبدیلیاں کی گئی تھیں اور دستور کا باب ۳ الف یہ سلسلہ وفاقی شرعی عدالت اور اس کی متعلقہ دفعات ۱۲۰۳ے سے لے کر ۲۰۳ جے تک فوجی آمر کےساۓ سے آزاد ہو کر دستور کی باقی دفعات کی طرح پارلیمنٹ کا فیصلہ قرار پائیں ہیں۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایل ایف او اور سترھویں دستوری ترمیم کو تو منسوخ کیا گیا ہے مگر اس کے برعکس آٹھویں ترمیم سے بالکل مختلف معاملہ کیا گیا ہے۔ اسے صرف ۱۹۸۵ء کی پارلیمنٹ کی توثیق ہی کی بنا پر نہیں، بلکہ ۱۹۸۸ ء سے لے کر ۱۹۹۹ء تک کی پارلیمانوں کی تائید اور توثیق کی بنیاد ر ۲۰۱۰ ء کی ترمیمات کے ذریعے مکمل سندِ جواز اور دستور کی باقی دفعات کے ہم رنگ قرار دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ خودمیثا قِ جمہوریت میں ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ ء کی شکل میں دستور کی بحالی کے مطالبے میں بھی اس امر واقعی کو امر قانونی کے طور پر تسلیم کیا گیا تھا۔
اٹھارھویں ترمیم کے بعد دستور اب ایک مکمل یک جان، یک روح وجود کی حیثیت اختیار کر گیا ہے، اور یہ تجدیدِ عہد دراصل سیکولر لابی کی بڑی شکست ہے، وہ لابی کہ جس نے اس پورے عرصے میں ان دفعات کو نشانہ بنایا ہوا تھا اور خود کمیٹی کے کام کے دوران میں بھی اس طبقے نے انھیں سبوتاژ کرنے کی بھر پور کوشش کی تھی۔ ان کی کوشش تھی کہ اسلامی دفعات میں جو اضافے ہوئے ہیں، ان کو کسی طرح ختم یا کم از کم تحلیل (dilute) کریں، لیکن الحمد للہ وہ اپنی اس کوشش میں ناکام ہوئے۔
ہم نے ان صفحات میں اٹھارھویں ترمیم کے تین نمایاں قانونی، اخلاقی اور سیاسی پہلوؤں کا ذکر کیا ہے یعنی (۱) ان کا مکمل اتفاقِ راے ٔسے منظور کیا جانا (۲) اسلامی دفعات کو دستور کے وجود کا جز ولا نیفک (Integral) بنانا ، اور (۳) صوبائی خود مختاری کے ایک نئے ماڈل کو دستوری شکل دینا۔ یہ دستوری کمیٹی، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں اور تمام سیاسی جماعتوں کی طرف سے ایک عظیم خدمت ہے۔ ایسی خدمت جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی اور اس کے نتیجے میں ۱۹۷۳ ء کے دستور اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ۲۰۱۰ ء میں ایک زیادہ محکم ، واضح اور نکھری شکل اختیار کرلی ہے۔ توقع ہے کہ مستقبل کی منزلوں کو طے کرنے میں یہ دستور اپنی اس ارتقایافتہ شکل میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکے گا۔
پاکستان کی دستوری تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ایک افسوس ناک صورت حال سامنے آتی ہے۔ وہ دستور ساز اسمبلی جسے ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں منتخب کیا گیا تھا، اس کے سپر د حصولِ آزادی کے بعد دستور بنانا تھا، مگر افسوس کہ اسے قرارداد مقاصد کو منظور کرنے کے بعد دستور بنانے سے محروم رکھا گیا۔ پھر جب بڑی سخت جدو جہد کے بعد ۱۹۵۴ء میں دستور کا مسودہ دستور ساز اسمبلی میں لانے کا موقع آیا تو اس اسمبلی ہی کو غیر قانونی طور پر تحلیل کر دیا گیا۔ پھر اس کی جگہ ایک نئی اسمبلی نے ۱۹۵۲ء میں پہلا دستور بنایا تو اس دستور کے تحت انتخابات کے انعقاد سے چند ماہ قبل اس دوسری دستور ساز اسمبلی کو بھی تحلیل اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے متفقہ دستور کو منسوخ کر دیا گیا اور بے رحم فوجی راج کا تاریک دور شروع ہو گیا۔ ۱۹۶۲ ء میں وقت کے فوجی آمر نے ایک دستور مسلط کیا، جس سے قرارداد مقاصد حذف کر دی گئی تھی اور جمہوریہ کے نام سے بھی اسلامی کا لفظ نکال دیا گیا تھا، مگر عوامی دباؤ کے تحت دو سال ہی کے اندر ان دونوں اسلامی دفعات کو بحال کرنا پڑا۔ البتہ ملک کا دستوری نظام، پارلیمانی تظام کی جگہ صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا گیا۔ فیڈریشن کا نام تو باقی رہا مگر عملاً وحدانی (unitary) نظام ملک پر مسلط کر دیا گیا۔ جنرل آغا م یحیٰ خان نے جنرل ایوب خان کے دستور ۱۹۶۲ء کو منسوخ کر دیا اور ایک نئی دستور ساز اسمبلی وجود میں لانے کے لیے عام انتخابات کا انعقاد کرایا۔ یہ دستور ساز اسمبلی بدقسمتی سے پورے پاکستان کی جگہ صرف مغربی پاکستان کے لیے دستور بنا سکی کیونکہ ۱۲ دسمبر ۱۹۷۱ء کو بھارتی جارحیت اور بنگلہ قوم پرستی کے مشترکہ عمل سے مشرقی پاکستان الگ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا تھا۔
ان مایوس کن حالات میں ۱۹۷۳ء کا دستور بنانا ایک بہت بڑی کامیابی تھی، مگر اس پر دیانت داری کے ساتھ عمل کرنے سے حکمرانوں نے پہلو تہی اختیار کیے رکھی۔ بلکہ پہلی سات میں سےچھے ترامیم ایسی تھیں، جن کے ذریعے دستور کے بنیادی ڈھانچے کو مجروح کیا گیا۔ صرف دوسری ترمیم کو اتنا حاصل ہے جس کے ذریعے مسلم کی تعریف کی گئی اور وہ پارلیمنٹ سے متفقہ طور پر منظور ہوئی ۔ باقی تمام ترامیم کی پوری اپوزیشن نے مخالفت کی اور انھیں محض عددی قوت کے بل بوتے پر زبر دستی دستور کا حصہ بنایا گیا۔ آٹھویں ترمیم اور پھر سترھویں ترمیم کے ذریعے پارلیمانی ظام کو عملاً نیم صدارتی نظام میں تبدیل کر دیا گیا۔ صدر مملکت کو نہ صرف پارلیمنٹ کا حصہ بنایا گیا، بلکہ اسے اسمبلی توڑنے اور اہم ترین تقرریوں کا اختیار بھی دے دیا گیا جس سے عملاً صدر کو چیف ایگزیکٹو کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ اٹھارھویں ترمیم کا اولین ہدف دستور کو پارلیمانی نظام کی شکل میں لانا تھا۔ نیز ملک کو ایک ایسے وفاقی نظام کی صورت دینا تھا، جس میں مرکز اور صوبے اختیارات اور زمہ واریوں میں حقیقی شراکت کر سکیں، مزید یہ کہ ۷ سال کے تجربات کی روشنی میں دستور کونئے حالات سے نمٹنے کے لائق بنانا تھا تا کہ مملکت کے قیام کے مقاصد کو بہتر انداز میں حاصل کیا جا سکے۔ آئے دیکھیں کہ اس ترمیم کے ذریعے دستور میں کون کون کی اہم تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
صدر، وزیر اعظم اختیارات میں توازن
پارلیمانی نظام کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں فیصلوں، قانون سازی اور جواب دہی کا مکمل اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہوتا ہے۔ انتظامیہ، پارلیمنٹ میں سے وجود میں آتی ہے اور پارلیمنٹ کے سامنے پوری طرح جواب دہ ہوتی ہے۔ وزیر اعظم کا انتخاب قومی اسمبلی کرتی ہے، جو بالغ حق راۓ دہی کی بنیاد پر بر اہ ر است منتخب ہوتی ہے اور وہی اسمبلی وزیر اعظم پر عدم اعتماد کا اظہار کر سکتی ہے۔ مملکت کا انتظام کابینہ کے ذریعے ہوتا ہے جسے پارلیمنٹ ہی میں سے مقرر کیا جاتا ہے اور وہ اجتماعی جواب دہی کے اصول پر کام کرتی ہے۔ اہم تقرریاں وزیر اعظم کے مشورے کے مطابق کی جاتی ہیں اور صدر مملکت کی حیثیت بڑی حد تک علامتی ہوتی ہے، جس کے لیے اس کا غیر جانب دار ہونا بھی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ کاروبار حکومت بالعموم صدر کے نام پر ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ ریاست کی علامت اور وفاق کی شناخت تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن عملاً حکومت کی ذمہ داری کا بینہ انجام دیتی ہے، جو وزیراعظم، وزرا اور وزرائے مملکت پر مشتمل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمانی نظام میں اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ وہ کہیں وزیرا عظمی نظام نہ بن جائے۔ اس کے لیے وزیر اعظم کو بھی اداراتی مشاورت کے نظام کا پابند کیا جاتا ہے اور صواب دیدی اختیارات کو جس حد تک ممکن ہو محدود کیا جاتا ہے۔ فیصلہ سازی اور تقرریوں کے عمل کو زیادہ سے زیادہ شفاف اور اہلیت کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، تا کہ اختیارات کا ارتکاز نہ ہو اور افراد اور اداروں کے درمیان توازن قائم رہ سکے۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے ضروری تھا کہ صدر نے جو اختیا رات آٹھویں اور سترھویں ترامیم کے ذریعے حاصل کر لیے ہیں ، ان کو بطریق احسن وزیر اعظم، کا بینہ اور پارلیمنٹ کی طرف منتقل کیا جائے، اور ان سے وابستہ تصورات کو غیر مبہم بتانے کے لیے الفاظ بھی وہ استعمال کیے جائیں، جو توازن اختیارات کو حقیقی ببناسکیں۔
اس مقصد کے حصول کے لیے اٹھارھویں ترمیم میں حسب ذیل تبدیلیاں ہوئی ہیں:
ا۔ نمایاں ترین چیز دستور کی دفعہ ۵۸ (۲) ب کی تنسیخ ہے جس کے ذریعے صدر کو مرکز میں اور صوبوں میں اس کے نمائندہ گورز کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار دیا گیا تھا (۱۱۲ (۲) ب) بلا شبہ آٹھویں ترمیم میں صدر کے اس اقدام کو عدالت میں قابل مواخذ بنایا گیا تھا، اور سترھویں ترمیم میں ایسے اقدام کو آپ سے آپ سپریم کورٹ کے جائزے (ریونیو) کا پابند کر دیا گیا تھا، مگر اصل چیز صدر کا وہ صواب دیدی اختیار تھا، جو اسمبلیوں پر تلوار کی طرح لٹک رہا تھا۔ اب اس اختیار کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
۲۔ صدر کو اپنے صواب زید کی اختیار سے مسلح افواج پاکستان کے تینوں سربراہوں اور جوائنٹ چیف کے تقرر کا اختیار تھا، وہ اب وزیر اعظم کو منتقل ہو گیا ہے۔ اسی طرح چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن کے ارکان، اور عبوری حکومت کے سربراہ کا تقرر کا اختیار بھی صدر کو حاصل ہو گیا تھا لیکن اب اٹھارھویں ترمیم کے تحت یہ تقرریاں وزیر اعظم کے ہاتھوں ایک پارلیمانی انتظام کی مشاورت سے واقع ہوں گی۔ گورزوں کے تقریریں بھی اب وزیراعظم کا مشورہ فیصلہ کن ہوگا۔ اسی طرح ججوں کے تقررکا بھی نیا نظام تجویز کیا گیا ہے۔ پبلک سروس کمیشن کا سربراہ بھی اب وزیر اعظم کے مشورے پر مقرر کیا جائے گا۔
۳۔آٹھویں ترمیم کے ذریعے وزیر اعظم کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ صدر مملکت کو کابینہ کے تمام فیصلوں اور جملہ انتظامی امور اور قانون سازی کی تجاویز کے بارے میں مطلع رکھے، اور صدر کو بھی یہ اختیار تھا کہ وہ کا بینہ سے اس کے کسی بھی فیصلے یا کسی بھی دوسرے امر کے بارے میں از سر نو غور کا مطالبہ کر سکتا تھا۔ ان تمام حصوں کو اب حذف کر دیا گیا ہے، اور اس کے لیے ایک جامع دفعہ رکھی گئی ہے، جس کے تحت وزیر اعظم تمام ملکی اور بیرونی امور پر صدر کو عمومی طور پر مطلع رکھے گا مگر محض صدر کے ایماپر کوئی مسئلہ زیر غور نہیں آئے گا۔
۴- ایک اہم تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ دفعہ ۹۹ میں انتظام حکومت، صدر کے بجاۓ مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ ایسی ہی تبدیلی گورنر اور صوبائی حکومت کے ذیل میں بھی کی گئی ہے۔ نیز حکومت کی جانب سے حکومتی قواعد کار (rules of business) مرتب کرنے اور ان میں تبدیلی لانے کی ذمہ داری بھی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو حاصل ہو گئی ہے، جن کے سربراہ وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ صدر یا گورز کا دخل اس باب میں بھی ختم کر دیا گیا ہے۔
۵- دستور کی دفعہ ۲۸ میں صدر کو وزیراعظم کے مشورے پر ۱۰ اور ۱۵ دن کے اندراندر عمل کرنے کا پابند کر دیا گیا ہے۔ ایسی ہی پابندی گورنر پر بھی عائد کی گئی ہے۔صدر کو ریفرنڈم کا جو صواب دید ی اختیار حاصل تھا، اب وہ بھی ختم کر دیا گیا ہے، بلکہ کسی ایسے فیصلے کے لیے وزیر اعظم کو بھی پارلیمنٹ کے مشترک اجلاس کی تائید کا پابند کیا گیا ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح صدر کے اختیارات کو محدود اور اس کے مقابلے میں وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کے اختیارات کو مضبوط کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے، جب کہ صدر کی پارلیمنٹ کے سامنے کوئی جواب رہی نہیں ہے۔ وہ صرف ہر سال سیشن کے آغاز پر پارلیمنٹ سے خطاب کرتا ہے اور پارلیمنٹ اگر چاہے تو اس کا مواخذہ کر سکتی ہے۔ لیکن صدر کی عمومی جواب دہی کا کوئی نظام نہیں ہوتا۔ صدر آصف علی زرداری صاحب بار بار یہ احسان جتا ر ہے ہیں کہ ”میں نے پارلیمنٹ کو اور وزیر اعظم کو اپنے اختیارات منتقل کر دیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوجی صدور نے یہ اختیارات جبر اًحاصل کیے تھے اور ان غصب شدہ اختیارات کی واپسی میثاقِ جمہوریت اور تمام سیاسی جماعتوں بشمول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے منشور کا بنیادی حصہ تھا۔ اٹھارھویں ترمیم، صدر زرداری صاحب کا عطیہ نہیں ہے بلکہ عوامی مینڈیٹ کو پورا کرنا ہے۔ صدر موصوف نے دو سال تک ان اختیارات کی منتقلی میں مسلسل لیت ولعل کی ، جس کی جواب دہی ان کو کرنا چاہیے، نہ کہ وہ اب دو سال بعد اس تبدیلی کو اپنا ذاتی احسان قرار دیں۔
واضح رہے کہ تیرھویں ترمیم کے موقع پر بھی یہ اختیارات اس وقت کے صدر جناب فاروق احمد خان لغاری سے وزیر اعظم کو منتقل ہوئے تھے اور صدر مملکت نے بخوشی اس ترمیم پر دستخط کر دیے تھے، تب انھوں نے کوئی احسان نہیں جتایا تھا۔
پارلیمان کی بالادستی کے لیے نیا نظام
پارلیمنٹ کی بالادستی کے قیام اور اہم تقرریوں کو خود وزیر اعظم کے صواب دیدی اختیار کے دائرے سے نکال کر اداراتی مشاورت کے ذریعے انجام دینے والے نظام کا اختیار کیا جانا، اٹھارھویں ترمیم کے حوالے سے یہ ایک اہم تبدیلی ہے۔ اس کے لیے جو نیا نظام ختیار کیا گیا ہے وہ پارلیمنٹ کو زیادہ کارفر ماقوت بنانے اور وزیر اعظم کے اختیارات کو محدود کرنے کا باعث ہوگا ا۔ سب سے اہم تبدیلی الیکشن کمیشن کے تصور اور اس کے تقرر کے طریق کار میں ہے جس کے نتیجے میں الیکشن کا نظام زیادہ غیر جانب دار اور شفاف ہو سکے گا، جو جمہوریت کی روح ہے۔
اس سلسلے میں پہلی تبدیلی یہ ہےکہ اب الیکشن کمیشن ایک مستقل ادارہ ہوگا اور اس میں مرکزی کردار صرف الیکشن کمشنر کا نہیں بلکہ پورے کمیشن کا ہوگا، جو چیف الیکشن کمشنر اور چار ججوں پرمشتمل ہوگا، اور وہ چاروں صوبوں سے لیے جائیں گے۔ ان کا تقرر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف باہمی مشورے سے کریں گے اور وہ تین نام ایک پارلیمانی کمیٹی کو دیں گے، جو ۱۲ افراد پر مشتمل ہوگی، جس میں ایک تہائی ارکان سینیٹ ہوں گے اور یہ کمیٹی تجویز کردہ ناموں میں سے ایک کا انتخاب کرے گی۔ اسی طرح کمیشن کا تقرر پانچ سال کے لیے ہوگا اور اس میں توسیع نہیں ہو سکے گی۔
۲- پبلک سروس کمیشن کے سربراہ کا تقرر بھی وزیر اعظم، قائد حزب اختلاف کے مشورے سے کرے گا۔ یوں، الیکشن کے نظام کو شفاف اور قابل اعتماد بنانے اور سروسز کے انتخاب کے عمل کو حکومت وقت کی گرفت سے نکالنے اور معیار و قابلیت کے نظام کوتر و یج دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
۳ – اسی طرح ججوں کے تقرر کے نظام کو ہر سطح کے صواب دیدی اختیار سے پاک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سب سے سینئر حج کے چیف جسٹس نے کے اصول کے تسلیم کیے جانے اور اس اہم ترین تقرری میں انتظامیہ کی مداخلت کو ختم کر دیا گیا ہے۔ نئے ججو ں کے تقرر کر لیے برتری عدالت کو حاصل ہے، جس میں عدالتی کمیشن کا سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان ہوگا۔ اس میں سپریم کورٹ کے دوسب سے سینئر جج اور سپریم کورٹ کا ایک ریٹائرڈ چیف جسٹس یا جج ہوگا، جسے چیف جسٹس آف پاکستان باقی دو ججوں کے مشورے سے مقرر کریں گے۔ باقی تین افراد وزیر قانون، اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کا ایک سینئر ایڈووکیٹ جسے پاکستان بار کونسل نا مزد کرے گی۔ اس طرح سات میں سے چارجج ہوں گے۔ یہ عدالتی کمیشن، نئے ججو ں کے لیے جو نام تجویز کریں گے، وزیر اعظم اپنے صواب دیدی اختیار سے تقرر کے لیے صدر کو نہیں بھیجیں گے، بلکہ ایک پارلیمانی کمیٹی کو بھیجیں گے جس میں چار ارکان حکومتی پارٹی سے اور چار حزبِ اختلاف سے ہوں گے نیز ان میں سے چار تو می اسمبلی اور چار سینیٹ کے ارکان ہوں گے جنھیں ۱۴ دن کے اندر اندر تجویز کردہ نام کی توثیق کرنا ہوگی اور صرف تین چوتھائی اکثریت سے انھیں نام رو کرنے کا اختیار ہوگا۔ گویا کہ اس طرح ہر سطح پر صواب دیدی اختیار کو ختم کر کے اداراتی مشاورت کا نظام قائم کیا جا رہا ہے اور نئے ججو ں کے ناموں کا اولین انتخاب عدلیہ کے توسط سے ہوگا۔
ججوں کے تقرر پر اعتراض کی حقیقت
اٹھارھویں ترمیم کی اس تجویز پر کچھ حلقوں کی طرف سے سخت اعتراضات کیے جارہے ہیں اور اسے عدلیہ کی آزادی کے تصور سے بھی متصادم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کی ان اعتراضات کا مختصر جائزہ لے لیا جائے۔
پہلی اصولی بات یہ ہے کہ عدلیہ کی آزادی اور عدالت کے لیے ججو ں کا تقرر دوالگ الگ امور ہیں۔ عدلیہ کی آزادی کا عمل ججو ں کا عدلیہ کا حصہ بننے کے بعد شروع ہوتا ہے، اس کا تعلق ججو ں کے تقرر سے نہیں۔ چوں کے تقرر میں دوہی چیز یں دیکھی جاتی ہیں: ایک قابلیت ، دوسرے کردار، دیانت داری اور راست بازی۔۔ عدلیہ کی آزادی کی ایک قابل ذکر مثال امریکا سے سامنے آتی ہے۔ یادر ہے امریکا میں ججو ں کا تعین صدر مملکت کی تجویز پر سینیٹ کے ذریعے ہونا ہے، لیکن تقرر کے اس طریقے کو آج تک کسی نے عدلیہ کی آزادی سے متصادم قرار نہیں دیا اور عدلیہ نے بھی اپنی آزادی کو برقرار رکھا ہے۔
دوسر کی بات یہ ہے کہ دنیا کے دوسرے جمہوری ممالک میں ججو ں کے تقرر کے طریق کار میں پارلیمنٹ کا کردار ایک واضح حقیقت ہے۔ جرمنی میں تو مرکزی اور صوبائی اسمبلیاں با قاعدہ ووٹ سے ان کو منتخب کرتی ہیں۔ فرانس، اٹلی، ہالینڈ، جنوبی افریقہ، سنگا پور تقریباً ۲۰ ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں وزیر قانون، پارلیمنٹ کے نمائندوں اور قانون سے وابستہ اداروں کے نمائیندوں کا اس میں دخل ہے لیکن اسے کہیں بھی عدلیہ کی آزادی سے متصادم قرار نہیں دیا گیا اور نہ ججوں کے کسی بھی عمل کے ذریعے منتخب یا مقرر ہو جانے کے بعد انھوں نے اپنی آزاد حقیقت کو مجروح ہونے دیا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ ججوں کے تقرر کے سلسلے میں پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بد قسمتی سے صرف چیف جسٹس کی سفارش پر تقرر یا وزیر اعظم اور وزیر قانون کی تجویز پر تقرر، دونوں ہی کا ریکارڈ کوئی بہت قابل فخر مثال پیش نہیں کرتا ۔ سابق چیف جسٹس سجاد علی شاہ صاحب نے اپنی خود نوشت میں خود اپنے تقرر کا جو احوال بیان کیا ہے، اور اس میں خود زرداری صاحب کا کردار نا قابلِ رشک رہا ہے۔ اسی طرح خود ججوں کے کیس (۱۹۹۲ء) نے جو ایک کلاسیک حیثیت حاصل کر چکا ہے، جو معیار مقرر کیا تھا، اس پر اس فیصلے دینے والے جج بھی پورے نہیں اتر رہے تھے۔
ان حالات میں ایک نئے تجربے کی تجویز کو ابتداہی میں اس طرح ملعون کرنا مناسب معلوم نہیں ہوتا ۔ اس پر تجربے کی ضرورت ہے اور اگر تجربے کی روشنی میں کسی ردو بدل کی ضرورت ہو تو اس کا دروازہ بھی کھلا ہے۔ خود پاکستان بار کونسل نے کمیٹی کو جو جویر بھیجی تھی، اس میں۱۹ افراد پر مشتمل کمیشن کی تجویز دی گئی تھی، جن میں سے سات جج اور چھے وکیل اورچھے ارکان پارلیمنٹ رکھے گئے تھے گویا اس کمیشن میں جج اقلیت میں ہوتے اور وکیل اور پارلیمنٹ کے ارکان سات ججوں کے مقابلے میں ۲ ۱بن جاتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ کے چھے ارکان کو اس کمیشن میں رکھا جا سکا ہے تو ایک پارلیمانی کمیٹی کے بننے سے کون سی انہونی ہو جائے گی۔
اس مسئلے پر جذباتی، گروہی یا طبقاتی انداز میں غور نہیں ہونا چاہیے، اور اٹھارھویں ترمیم کی تجویز پر کھلے دل سے عمل کرنا چاہیے۔ بلاشبہ پارلیمنٹ کی کمیٹی کی بھی ذمہ داری بہت بڑی ہے اور پار لیمنٹ کے ارکان کو میرٹ اور اصول پرستی کا مظاہرہ کرنا ہوگا لیکن چشم زدن میں اس نظام کو دستور کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار ودینا مبالغہ آمیز حد تک زیادتی ہے۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی کو زیادہ موثر بنانے کی تجاویز دی گئی ہیں، اور اس سلسلے میں دستور کی دفعہ ۲۰ اور ۴۰۳ میں جوترامیم کی گئی ہیں، ان سے ان شاء اللہ عدلیہ محکم اور آزاد ہوگئی اور چوں کے تبادلوں کے سلسلے میں اگر وہ دو سال سے کم مدت کے لیے ہو تو ان کی مرضی کے خلاف تبادلہ اور تبادلہ قبول نہ کرنے پر ریٹائر منٹ، عدلیہ کی آزادی کے اصول کے خلاف تھا اور اسے اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے ختم کیا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے ججو ں کو جس طرح بے توقیر کیا گیا تھا، ان کا تقرر، تبادلہ، بر خاستگی جیسی ذلت آمیزی اور ان کو اپنی گرفت میں رکھنے کے لیے بطور سزا ان کی مرضی کے بغیر ان کو اس عدالت میں بھیجنے کے تمام امکانات کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج اب عدالت عالیہ کے باقی تمام ججو ں کے مساوی ہوں گے اور ان کو وہی تحفظ حاصل ہوگا جو دوسروں کو حاصل ہے۔ جس کے بغیر عدلیہ کی آزادی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ تمام پہلو مثبت ہیں اور ان کو نظر انداز کرنا قرین ِانصاف نہیں۔
بنیادی حقوق کا تحفظ
اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے عوام کے بنیادی حقوق کو مضبورا اور محکم کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سب سے اہم تبدیلی دستور کی دفعہ ۲۵اے کا اضافہ ہے، جس کی رو سے اب ملک کے ہر بچے کے لیے بنیادی تعلیم (۵ سے ۱۶ سال تک ) مفت اور لازمی قرار دی گئی ہے اور یہ حق حاصل کیا جا سکے گا۔ یہ محض پالیسی کی سفارش نہیں ہے۔ اسی طرح حصول اطلاعات کا حق بھی کر پشن کو روکنے کے نظام کو شفاف بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اسی طرح right to fair trial and due process of law ا پہلی مرتبہ ایک دستوری حق کے طور پر کتاب دستور میں لکھا گیا ہے۔ دستور توڑنے یا منتقل کرنے یا اس میں معاونت کرنے والوں اور اس عمل کو سند جواز دینے والوں کو دستور کی دفعہ کی گرفت میں لایا گیا ہے۔ بلاشبہ صرف دستور میں تعداری کا ارتکاب جیسے الفاظ کے اندراج سے فوجی طالع آزماؤں اور ان کے سیاسی اور خود عدالتی پشتی بانوں کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس جرم کے ان تمام پہلوؤں کے دستور میں آنے کا ایک سدِّ جارحانہ (deterrent) کردار ضروری ہے۔ البتہ آمریت کا راستہ روکنے کا اصل ذریعہ تو رائے عامہ کی قوت، اداروں کا استحکام، سیاسی جماعتوں کا اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ، اور سب سےبڑ ھ کر اچھی حکمرانی کا وجود ہے۔ آزاد ذرائع ابلاغ بھی اس سلسلے میں بڑا اہم کردارادا کرتے ہیں۔ اس پس منظر میں دفعہ۶کو وسعت دینا اور اس جرم کے تمام پہلوؤں پر اس کو محیط کر دینا ایک مفید خدمت ہے۔
صوبائی خودمختاری
اٹھارھویں ترمیم کے ذریے ایک انقلابی اقدام مشترک لسٹ کا خاتمہ اور مرکز اور صوبوں کے درمیان تعلقات کار کی کی بساط بچھانا، ایک مستحسن قدم ہے جس کے نتیجے میں اختیارات اور وسائل صوبوں کی طرف منتقل ہوں گے۔ قانون سازی کی مرکزی فہرست کے حصہ دوم کو وسعت دی گئی ہے اور مشترکہ مفادات کی کونسل (CCI) کو ایک موثر اور کارفرما ادارہ بنا کر حکمرانی اور فیصلہ سازی میں مرکز اور صوبوں کے اشتراک کا ایک نیا نظام تجویز کیا گیا ہے۔ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کو بھی موثر اور متحرک بنایا گیا ہے۔ قومی مالیاتی اوارڈ کو صوبوں کو وسائل کی فراہمی کے لیے ایک نیا آہنگ دیا گیا ہے۔ ملک کے وسائل پر مرکز اور صوبوں میں ملکیت اور انتظام و انصرام کے اشتراک کا بندوبست تجویز کیا گیا ہے۔ پن بحیلی کے منصوبوں کے سلسلے میں متعلقہ صوبے سے مشاورت لازم کی گئی ہے اور مرکز اور صوبوں میں تعلقات کار کے نظام کو بالکل ایک نئی جہت دی گئی ہے۔
اگر ان تجاویز پر ایمان داری سے عمل ہوتا ہے اور مرکز اور صوبے اپنے اپنے کام ذمہ داری سے انجام دیتے ہیں، تو اگلے چند برسوں میں ملک کی قسمت بالکل بدل سکتی ہے۔ وسائل کا بہاؤ مرکز سے صوبوں کی طرف مرسکتا ہے۔ بالکل نچلی سطح پر معاشی اور سیاسی سر گرمیوں میں غیر معمولی اضافہ واقع ہو سکتا ہے، جو محرومیوں کو دور کرنے کا ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح صوبوں کی نمائندگی، مرکز ہی نہیں تمام مرکزی اداروں میں یقینی بنانے اور ماضی کی زیادتیوں کا ازالہ کرنے کا انتظام بھی دستوری ترامیم میں تجویز کیا گیا ہے۔ صوبائی خودمختاری کا نیا مثالیہ جوان دستوری سفارشات میں دیا گیا ہے، اپنی اصل کے اعتبار سے ۱۹۷۳ء کے بعد ایک انقلابی آئینی اقدام ہے۔ خدا کرے کہ اس پر صحیح خطوط پر عمل ہو سکے۔ نتائج کا اصل انحصار عمل پر ہے اور ان ترامیم کے بعد اب مرکز اور صوبوں، سب کابڑا امتحان ہے۔
اسلامی دفعات
دستور کی اسلامی دفعات کے سلسلے میں اٹھارھویں ترمیم کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ۱۹۷۳ ء اور ۱۹۸۵ء کی دفعات کو با ہم یک جان کر دیا ہے، اور اس طرح دستور کی اسلامی دفعات زیادہ موثر ہو گئی ہیں۔ سیکولر قوتوں کو اس سلسلے میں جو پسپائی ہوئی ہے، وہ اسلامیان ِپاکستان کی ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے صرف ان دفعات کو محکم ہی نہیں کیا گیا ہے، بلکہ کئی چیزیں ایسی ہیں جو شدید مزاحمت کے باوجود حاصل کی گئی ہیں، مثلاً:
۱۔ وزیر اعظم کے لیے مسلمان ہونا دستور کے متن میں شامل کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے صرف وزیر اعظم کے حلف میں اس کا ذکر تھا، جو ایک بالواسطہ کیفیت تھی۔
ا۲۔ سب سے اہم چیز وفاقی شرعی عدالت کی حیثیت، اس کے ججو ں کی آزادی اور ان کو توہین آمیز حد تک جس بے وقعتی کا نکا نشانیہ بنا یا گیا تھا، اسے ختم کرنا ہے۔ حکومت جس جج کو چاہے کسی عدالت میں اُس کی مرضی کے خلاف بھیج سکتی تھی۔ اس عدالت میں اگر حکومت کسی جج سے نا خوش ہے، تو جس وقت چاہے اس کو تبدیل کر سکتی تھی، فارغ کر سکتی تھی، کوئی دوسرا کام اس کو سونپ کھتی تھی۔ ان کو ملازمت کا کوئی تحفظ حاصل نہ تھا اور عملاً بھی یہ سب کچھ ماضی میں کیا گیا۔ جس جج حتیٰ کہ چیف جسٹس نے بھی اگر حکومت کے اشاروں کو نظر انداز کیا، تو اسے یک بینی و دوگوش فارغ کر دیا گیا۔ اب شرعی عدالت کے جج بھی عدالت عالیہ کے ججوں کے مساوی ہوں گے۔ ان کا حلف بھی وہی ہوگا۔ ان کے تقرر، تبادلے اور برطرفی کے لیے وہی قانون لاگو ہوگا۔ پہلی مرتبہ وفاقی شرعی عدالت ایک حقیقی، آزاد اور با اختیار عدالت بن سکے گی۔
۲- اس کے ساتھ وفاقی شرعی عدالت میں علماۓ کرام سے بطور جج تقرر کے لیے جو مطلوبہ دینی اور علمی صلاحیت درکار تھی، اسے بھی بہتر بنالیا گیا ہے۔ پہلے کسی بھی شخص کو جسے اسلامی علوم کا ماہر قرار دیا جائے جج مقرر کیا جا سکتا تھا۔ اب اس کے لیے وہی استعداد اور صلاحیت مقرر کر دی گئی ہے جو دستور میں اسلامی نظریاتی کونسل (IIC) کے علما ارکان کے لیے ہے، یعنی ۱۵ سال کا تجربہ اسلامی قانون کی تعلیم تحقیق یا افتا کا تجربہ
۴- اسلامی نظریاتی کونسل کے سلسلے میں بھی ایک ترمیم یہ کی گئی ہے کہ کونسل میں علما ارکان کی تعداد کل تعداد کا کم از کم ایک تہائی (۳/۱) ضروری ہے۔ پہلے ان کی زیادہ سے زیادہ تعداد چار تھی، جو اس وقت تو مناسب تھی جب کو نسل کے کل ارکان آٹھ ہوتے تھے، مگر اب جب کہ وہ ۲۰ہیں، ان میں چار کی تعداد بہت کم تھی۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے علما کی کم سے کم تعداد ایک تہائی مقرر کی گئی ہے۔ اسی طرح علما اور مختلف مکاتب فکر کی بہتر نمایندگی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ ه دستور کی دفعہ ۶۲ اور ۶۳ سیکولر لابی کا خاص ہدف تھے لیکن نہ صرف یہ کہ ان میں اسلامی نقطہ نظر سے کوئی تبدیلی یا تخفیف نہیں کی جاسکی، بلکہ دفعہ ۶۳ – ایف میں، جس کو بہت نشانہ بنایا گیا، ایسی ترمیم کی گئی ہے جس سے اس کے غلط استعمال کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔ ایک شخص کی امانت، دیانت اور اچھی شہرت کے سلسلے میں نا اہلی کو عدالتی فیصلے سے وابستہ کر دیا گیا ہے۔
آرڈی ننس سے قانون سازی کی حوصلہ شکنی
پارلیمنٹ کا اصل کام قانون سازی ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان میں قانون سازی کے لیے بے محایا آرڈی ننس جاری کرنے کا آسان راستہ اختیار کر لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں پارلیمنٹ ایک قسم کی ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے۔ دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں انتظامیہ کو آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی کا اختیار حاصل نہیں۔ امریکا اور یورپ میں تو اس کی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔ عظیم پاک و ہند میں برطانیہ نے اپنے دور اقتدار میں آرڈی ننس کے ذریعے حکمرانی کا راستہ اختیار کیا۔ نتیجتا ًجب اُن کے جانشین یہاں پر حکمران بنے تو انھوں نے بھی پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش میں قانون سازی کی یہ قبیح صورت جاری رکھی تاہم اس میں ایک فرق ضرور ہے اور وہ یہ کہ بھارت میں ۱۰۰میں سے بمشکل ۱۰قوانین، آرڈینینس کے ذریعے اور ۹۰ معمول کی قانون سازی کے ذریعے کتاب قانون کا حصہ بنتے ہیں، جب کہ پاکستان میں یہ تناسب بالکل الٹ ہے یعنی ۸۰ فی صد سے زیادہ توانین آرڈی ننس کے ذریعے مسلط کیے جاتے ہیں اور ایک عمل آرڈی ننس کو بلاترمیم یا کچھ نمایشی تبدیلی کے بعد بار بار نافذ کیا جاتا رہتا ہے۔ بڑے مفصل قوانین کو نافذ کرنے کے لیے اسمبلی کے اجلاس کی بر خاستگی کا انتظار کیا جاتا ہے۔ پھر اسمبلی کے اجلاس کے ختم ہونے کے گھنٹے کے اندر ہی آرڈ ی ننسوں کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ سیاسی جماعتیں جب حزب اختلاف کا کردار ادا کرتی ہیں تو قانون سازی بذریعہ آرڈی ننس کی مخالفت کرتی ہیں اور جب اقتدار میں آتی ہیں تو بڑی ڈھٹائی اور سخت بے رحمی کے ساتھ اس مکر وہ طریقے کو روا رکھتی ہیں۔ میں نے پوری دل سوزی کے ساتھ دستوری کمیٹی میں آرڈی ننس کے اس طرح مسلط کرنے کا دروازہ بند کرنے کی تجویز پیش کی، لیکن بڑی مشکل سے جو کچھ حاصل کیا جا سکا ، وہ یہ ہے۔
ا ۔ پہلے جب سینیٹ پر سرِ کار (in session) ہو، اس وقت بھی آرڈی ننس نا فذ کیا جاسکتا تھا۔ صرف اسمبلی کے سیشن کے دوران یہ پابندی تھی کہ آرڈی ننس نہیں لاگو کیا جا سکتا ( دفعہ ۸۹)۔ اب فرق یہ پڑا ہے کہ اگر سینیٹ بھی سیشن میں ہو تو آرڈی ننس نہیں آسکے گا۔ ایک ہی آرڈی ننس کو بار بار نافذ کرنا پارلیمنٹ کے ساتھ مذاق ہی نہیں ، اس کی تو ہین بھی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بھی اس کے بارے میں اپنے تحفظات کا کئی بار اظہار کیا ہے مگر لاحاصل۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے کم از کم یہ پابندی لگ گئی ہے کہ حکومت ایک ہی آرڈی نفس کو دوبارہ اپنی مرضی سے جاری نہیں کر سکتی۔ اگر اس کی مدت میں توسیع ناگزیر ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کے کم از کم ایک ایوان کی قرار داد لازم قرار دی گئی ہے، اور پارلیمنٹ کو بھی پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ ایک سے زیادہ مرتبہ توسیع نہیں دے سکتی۔ توقع ہے کہ اس کے بعد پارلمنٹ کے ذریعے قانون سازی کے عمل میں اضافہ ہوگا اور آرڈی ننس کے ذریعے قانون سازی میں کمی واقع ہوگی۔
سینیٹ کے اختیارات میں اضافہ
پارلیمنٹ کا ایوان بالا (سینیٹ ) فیڈریشن کا مظہر اور صوبوں سے برابری کی بنیاد پر نمائندگی کی وجہ سے ان کے حقوق کے محافظت میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے سینیٹ کو قومی اسمبلی کے مساوی حیثیت تو نہیں دی جا سکی لیکن نصف درجن سے زیادہ ترامیم کے ذریعے اس کے اختیارات اور کردار میں خاطر خواہ اضافہ ضرور کیا گیا ہے۔ اب سینیٹ سال میں ۹۰ دن کے ے بجاۓ۱۱۰ دن لازمی سیشن میں رہے گا۔ متعدد سرکاری اور پارلیمانی رپورٹوں کے بارے میں بھی یہ لازم کیا گیا ہے کہ ان کو قومی اسمبلی کے ساتھ سینیٹ میں بھی پیش کیا جائے، تا کہ سینیٹ ان پر اپنی راۓ دے سکے۔
جیسا کہ اور عرض کیا گیا ہے، سینیٹ جب سیشن میں ہو تو اس وقت بھی آرڈی ننس کے اجرا پر پابندی لگادی گئی ہے۔ اہم حکومتی پارلیمانی کمیٹیوں میں سینیٹ کو نمائندگی دی گئی ہے، یعنی ججو ں کے تقرر کی کمیٹی اور ایکشن کمیٹی کے ارکان کی نامزدگی کی ذمہ دار کمیٹی وغیرہ میں۔ اسی طرح بجٹ ، فنانس بل اور منی بل کے لیے بھی اب سینیٹ میں غور و بحث اور اپنی تجاویز دینے کے لیے سات کے مقابلے میں ۴ ا دن مقرر کیے گئے ہیں۔ قومی اسمبلی کے لیے لازم کیا گیا ہے کہ وہ سینیٹ کی سفارشات پر غور کرے گی ، گو اس پر پابندی لازم نہیں ہے۔
اپنے جوہر کے اعتبار سے ایک بڑی اہم ترمیم یہ کی گئی ہے کہ اب مرکزی کابینہ اور وزیر اعظم قومی اسمبلی کی طرح سینیٹ کے سامنے بھی جواب دہ ہوں گے۔ گو وزیر اعظم کے انتخاب کا فریضہ صرف قومی اسمبلی بھی ادا کرے گی، لیکن حکومت کی جواب دہی کو اب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں تک وسعت دے دی گئی ہے اس سلسلے کی تمام ترامیم کے نتیجے میں توقع ہے کہ سینیٹ کا کردارہے تھے گا، قانون سازی کا عمل بہتر ہو سکے گا اور صوبوں کی آواز کو زیادہ وقعت اور اہمیت حاصل ہو سکے گی۔ صوبائی خود مختاری کے نئے ماڈل پر عمل درآمد کے لیے سینیٹ کا کردار بہت کلیدی اہمیت کا حامل ہے اور ان سب ترامیم کا حاصل فیڈریشن کے باہم اور متوازن تعلقات کار کے تصور کو ایک قابل عمل صورت دیتا ہے۔
ترمیم پر اعتراضات
اٹھارھویں دستوری ترمیم کے پانچ اہم اعتراضات سیاسی ، صحافی، اور قانونی حلقوں کی طرف سے ہو رہے ہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں چند گزارشات پیش ہیں۔
:ججوں کے تقرر کا نیا نظام
سب سےبڑا اعتراض ججوں کے تقرر کے نئے نظام ر کیا جا رہا ہے۔ گو اس سلسلے میں سیاسی اور قانونی حلقوں کی رائے منقسم ہے لیکن ایک قابل ذکر حلقے نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ خود دستوری کمیٹی نے ان اعتراضات پر سنجیدگی سے غور کیا اور جو ڈینل کمیشن کو ترکیب میں ایسی تبدیلیاں کیں، جن کی وجہ سے چیف جسٹس اور ججوں کی راے کو بالاتر حیثیت حاصل ہو گی، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ہماری نگاہ میں یہ ایک اچھا تجریہ ہے، تاہم اس بارے میں تین خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے ان کو یکسر نظر انداز نہیں کیا جاسکا۔ قسمتی سے ماضی میں ججوں کے تقریر کے سلسلے میں دو انتہائی صورتیں رہی ہیں، یعنی: وزیر اعظم کی سفارش پر تقرریا چیف جسٹس کی سفارش پر تقریر ان کے ذریعے اچھے جج بھی آئے ہیں اور ایسے جج بھی مقرر کیے گئے ہیں جو اعلی ٰعدلیہ کے لیے نیک نامی کا باعث نہیں ہے۔ اس لیے اس نئے تجربے کو جس کے خدوخال اور اس کے دلائل کا ذکر ہم اور کر چکے ہیں، پوری احتیاط سے آگے ملنا ہوگا اور دونوں اداروں ( جوڈیشل کمیشن اور پارلیمنٹ کی جوڈ میٹل تقریر کی کمیٹی ) کواپنی ذمہ داری پوری دیانت اور امانت سے ایک شفاف عمل کے ذریعے انجام دینا ہوگی۔ عدلیہ کی آزادی کا باب چوں کے تقریر کے بعد شروع ہوتا ہے، اور کمیٹی کی کوشش رہی ہے کہ ہر سطح پر صواب دید کی جگہ اداراتی مشاورت کے نظام کو رائج کیا جائے۔ اس نظام کار کو تجویز کرتے وقت جمہوری ممالک کے تجربات کو سامنے رکھا گیا ہے۔ البتہ اب کمیشن اور پارلیمانی کمیٹی دونوں کی آزمائیش اور امتحان ہے۔ گو ہماری نگاہ میں جو نظام تجویز کیا ہے، ان خطرات اور منفی پہلوؤں کے علی الرغم جن کی نشان وہی کی جارہی ہے، ماضی کے برعکس اس نظام کا رمیں خوبی کے امکانات زیادہ ہیں کوشش یہ ہوتی چاہیے کہ جن خطرات کے بارے میں متنبہ کیا جا رہا ہے، متعلقہ ادارے اور ذمہ داران ان کا پورا اور اک کریں اور ان سے بچنے کی ہرممکن کوشش کریں۔ نیتوں پر حملہ صحیح رویہ نہیں۔
صوبہ سرحد کا نیا نام
دوسرا مسئلہ صوبہ سرحد کے نئے نام کا ہے۔ بلا شبہ یہ ایک مشکل بلکہ تھا۔ نام کی تبدیلی کسی کو بھی اعتراض نہیں تھا۔ البتہ کیا نام ہو، اس پر اتفاق رائے موجود نہیں تھا، اور بالآخر جو نام مسلم لیگ (ن) اور عوامی نیشنل پارٹی کی مشترک تجویز پر اختیار کیا گیا ، اس کو صوبے کے ایک بڑے حصے نے خوشی سے قبول کیا، اور دوسرے حصے نے اس پر شدید نا پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اس رد عمل میں اتنی شدت سامنے آئی جس کا پہلے سے کسی کو بھی ادر اک نہیں تھا۔ ہم لسانی اور علاقائی قومیت کی بنیاد پر صوبوں کی تشکیل کو صحیح نہیں سمجھتے، لیکن نام کے معاملے میں علاقے کے لوگوں کی پسند کو اہمیت دیتے ہیں۔
قرآن پاک میں بھی یہ اشارہ موجود ہے کہ باہمی تعارف اور پہچان کے لیے گروہوں اور قوموں کے نام ہو سکتے ہیں، لیکن معاشرے کی بنیاد اور معیار اور کمال کا تعلق شناخت کے لیے مقرر کروہ ناموں سے نہیں تقویٰ اور اخلاقی بالیدگی پر ہے (وَجَعَلْتُكُمْ شُعُوْبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ لَفكُم الحجرات (۱۳:۴۹) ) چونکہ صرف پختون خواہ سے ایک خاص زبان اور قوم کا گہرا تعلق تھا، اس لیے مسلم لیگ (ن) کی تجویز پر جب کمیٹی کے ارکان کی اکثریت نے خیبر پختون خواہ پر اتفاق کر لیا تو اختلافی نقطہ نظر رکھنے کے باوجود ہم نے بھی اسے قبول کر لیا۔ اس معاملے میں اے این پی نے دستوری ترمیم کی مکمل منظوری سے بھی پہلے جس طرح فتح کے شادیانے بجائے، ان کے اس عاجلانہ اور فاتحانہ انداز سے صوبے کے دوسرے لوگوں کو دکھ پہنچا اور اشتعال انگیز فضا بن گئی۔ ساتھ ہی ہزارہ کے لوگوں کا سخت رائل سامنے آیا، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر ستم بالائے ستم کہ صوبائی انتظامیہ نے ہزاروں لوگوں کی طرف سے اظہار راے کے جمہوری حق کو کچلنے کے لیے جس طرح قوت کا وحشیانہ استعمال کیا ، اس نے حالات کو تیزی سے بگاڑ دیا۔ اس لیے ہم مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ مسئلے کا یای حل انتہام و تفہیم اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں اور، فاتح اور مفتوح کی ذہنیت سے بالاتر ہوں کوئی مسئلہ لائیل نہیں، جذبات کا اظہار بجا لیکن ان کو حدود میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ نام کے مسئلے پر بھی مزید مذاکرات ہو سکتے ہیں اور ہزارہ کے لوگوں کے دوسرے تحفظات اور مطالبات کی روشنی میں تبدیلیاں بھی ممکن ہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہیں۔
:پارٹی کے اندر انتخاب کی پابندی
تیر امسئلہ دستور کی دفعہ ۱۷ (۴) کا ہے، جو سترھویں ترمیم کے ذریعے دستور کا حصہ بنی تھی اور جس کے ذریعے سیاسی جماعتوں کے اندرانتخاب کی پابندی کولازمی قرار دیا گیا تھا۔ یہ ایک اچھی تجویز تھی اور سیاسی جماعتوں کے قانون میں بھی یہ شرط موجود ہے۔ کمیٹی نے قانون میں اس شرط کے موجود ہونے کو کافی سمجھا اور سترھویں ترمیم سے نجات کے شوق میں اس دفعہ کو خارج کر دیا میں اپنے آپ کو اس قبائل کی ذمہ داری سے مبرا نہیں کہہ سکت لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس شق پر کمیٹی نے اس زمانے میں فیصلہ کیا ، جب میں علاج کے لیے انگلستان گیا ہوا تھا۔ میری نگاہ میں اس شرط کو دوبارہ دستور میں لانا مفید ہو گا اور قانون میں جو شر و اموجود ہے، وہ اس طرح اور بھی مستحکم ہو جائے گی۔ اس کو کا دفاع کیا جواز پیش کرنا غیر ضروری ہے اور آئیندہ دستوری ترمیم کے ذریعے اس کی بہر صورت اصلاح کرنی چاہیے۔
:اسمبلی سے رکنیت کے خاتمے کا اختیار
چوتھا مسئلہ سیاسی جماعت کے سربراہ کے اس اختیار سے متعلق ہے کہ وہ پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی شکل میں ایک رکن اسمبلی کو سیٹ سے محروم کرنے کی سفارش سینیٹ کے چیئر مین یا اسمبلی کے اسپیکر کو کر سکتا ہے، اور ایسی صورت میں ایک متعین مدت کے اندر چیئر مین سینیٹ یا اسپیکر اسمبلی کو اسے الیکشن کمیشن کو بھیجتا ہوگا۔ ہمارے خیال میں اس شق پر تنقید پوری ذمہ داری سے نہیں کی جارہی۔ جس طرح سیاسی جماعتوں میں قیادت کا انتخاب اور جمہوری روایات کا احترام ضروری ہے، اسی طرح پارٹی میں ڈسپلن بھی ایک ضروری شے ہے۔ دستور میں دفعہ ۶۳ (اے) کا اضافہ، پارٹی سے ’’بغاوت‘‘ یا’’ بے وفائی‘‘ کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس میں جوترامیم اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے کی گئی ہیں، وہ صرف دو ہیں: ایک یہ پارٹی کے پارلیمانی لیڈر کی جگہ پارٹی کے سربراہ کویہ اختیار دیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں دو آرا ہو سکتی ہیں لیکن پارٹی ڈسپلن کے نقطہ نظر سے پارٹی کے سربراہ کو اس کا اختیار و یا کسی اعتبار سے بھی جمہوری اصولوں سے متصادم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ واضح رہے کہ اس دفعہ میں یہ بات بھی وضاحت سے لکھی گئی ہے کہ: یشر طیکہ اعلان کرنے سے پہلے پارٹی کا سربراہ ایسے ممبر کو موقع فراہم کرے گا کہ وہ وجہ بتائے کہ اس کے خلاف ایسا اعلان کیوں نہ کیا جائے۔
اس طرح یہ اعلا ن دفاع کا حق دیے جانے سے شروط ہے۔ لیکن دوسری شرط اور بھی اہم ہے کہ یہ اقدام شخص اختلاف رائے یا عام معاملات تھی کہ قانون سازی کے معاملات میں اختلاف کی بنیا دپر نہیں ہو سکا۔ اس اقدام کا جواز صرف اس وقت ہے، جب ایک رکن پارٹی کے فیصلے کے خلاف صرف چار امور پر ووٹ دیتا ہے یا پارٹی کی ہدایت کے باوجود ووٹ دینے سے اعتراز کرتا ہے، اور وہ یہ ہیں: وزیر اعظم یا وزیر اعلی کا انتخاب ، حکومت پر اعتماد یا عدم اعتماد کا ووٹ و منی بل کے بارے میں ووٹ و دستوری ترمیم پر ووٹ ۔ واضح رہے کہ ۶۳-اے کا اضافہ ۱۹۹۷ ء میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں ہوا تھا، اور اٹھارھویں ترمیم کے ذریعے صرف دستوری ترمیم پر ووٹ کو اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے، نیز پارٹی سربراہ کو یہ اختیار دیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ اس بے وفائی ( defection ) کا تعلق صرف ان چار امورسے ہے ۔محض اختلاف رائے یا ضمیر کے مطابق اظہار خیال سے نہیں ہے، جیسا کہ میڈیا میں یہ تکرار کہا جارہا ہے۔ نیز یہ بات بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ پارٹی کا سربراہ صرف ایک اعلان ( declaration) کرے گا جسے چیئر مین سینیٹ یا اسپیکر اسمبلی الیکشن کمیشن کو بھیج دے گا۔ فیصلہ ایکشن کمیشن کرے گا جو ایک عدالتی ادارہ ہے اور معاملے کے سارے پہلوؤں کا احاطہ کر کے اور متعلقہ فرد کو صفائی کا موقع دے کر کوئی فیصلہ کرے گا اور قانون کے مطابق اس فیصلے کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ آخری فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔
جماعت اسلامی کا نقطۂ نظر
جہاں تک جماعت اسلامی کا تعلق ہے اس کے نمائندہ نے اٹھارھویں دستوری ترمیم سے عمومی اتفاق کے ساتھ اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے مفصل نوٹ دیا ہے، جو رپورٹ کا حصہ ہے۔ اس میں تین اہم امور کا ذکر کیا گیا ہے، وہ مختصر یہ ہیں:
ا ۔تعلیم کے حق کے بارے میں ہماری کوشش تھی کہ اس پر مکمل عمل در آمد کے لیے زمانی حد زیادہ سے زیادہ ۱۰ سال مقرر کی جائے، جس پر اتفاق نہ ہوسکا۔ اسی طرح ہم نے تعلیم کے ساتھ غربت کے خاتمے اور ہر شہری کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کو بھی ایک دستوری حق کے طور پر شامل کرانے کی کوشش کی، جسے موجودہ دستوری ترمیم میں شامل کرنے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔ دستور کی دفعہ ۲۵ میں صدر کو سزا میں تخفیف کا غیر محدود اختیار حاصل ہے، جس کا حال نیا میں صدر زرداری نے اپنے منظور نظر افراد کو قانون کی گرفت سے نکالنے کے لیے اس وقت استعمال کیا، جب کہ ابھی اٹھارھویں ترمیم کو نہ سینیٹ نے منظور کیا تھا اور نہ خود صدر ہی نے اس پر دستخط ثبت کیے تھے۔ ہماری تجویز تھی کہ یہ امتیازی صواب دیدی اور اخلاقی سے ماورا اختیار ختم کیا جائے اور عدالت کسی مجرم کے لیے جو بھی سزا طے کرے، اسے پورا ہونا چاہیے لیکن اگر یہ تجویز قبول نہ ہو تو کم از کم حددو کے باب میں تخفیف کا اختیار تو لازما ًختم کیا جائے کہ شریعت اس کی اجازت نہیں دیتی۔ ہماری یہ تجویز بھی منظور نہ کی گئی۔
۲۔ ہم نے سینیٹ میں غیر مسلموں کی نشستوں کے اضافے پر بھی اصولی اعتراض کیا تھا۔ ہماری نگاہ میں جدا گانہ انتخاب کا طریقہ حق و انصاف پر منی اور ملک کی نظریاتی اساس سے ہم آہنگ ہے۔ اس کے تحت غیر مسلموں کو اپنی آبادی کے تناسب سے نمایندگی مل جاتی ہے لیکن جب اقلیتوں اور سیکولر لابی کے اصرار پر جلو و طرز انتخاب کا اصول تسلیم کیا گیا ہے تو پھر غیر مسلموں کے لیے علیحدہ نشستوں کا وجود ان کو دوسری نمایندگی دینے کے مترادف ہے اور یہ حق کسی سیکولر، جمہوری یا مغربی ملک میں بھی نہیں دیا جاتا۔ پاکستان میں غیر مسلم کسی ثانوی درجے کے محروم طبقے کی حیثیت نہیں رکھتے۔ یہ سیاسی پارٹیوں کا کام ہے کہ ان کو ٹکٹ دیں اور اس طرح وہ منتخب اداروں میں آئیں۔ چور دروازے سے داخل ہونا صحیح نہیں۔ ہم نے یہ بھی کہا کہ اس وقت بھی سینیٹ میں دو غیر مسلم بینیٹر موجود ہیں، اس لیے الگ نشستوں کا کوئی جواز نہیں۔
۴- ہماری نگاہ میں ججوں کے تقرر کے لیے جو، جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے، اس میں حکومت کی نمائندگی کے لیے صرف وزیر قانون کا ہونا کافی تھا۔ ہم نے اٹارنی جنرل کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔
۵۔ ہم نے سول سروس کو سیاسی اثر ورسوخ سے آزاد کرنے کے لیے ان کے لیے ان دستوری ضمانتوں کے اختیار کی تجویز بھی دی تھی، جو انھیں ۱۹۵۶ءکے دستور پاکستان میں حاصل تھیں۔
ہ۶۔ہم نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ ملک کے اہم اداروں کے سربراہوں کی ملازمت کےسلسلے میں توسیع کا طریقہ ختم کیا جائے، چاہے ان کی مدت ملازمت میں کچھ اضافہ کر دیا جائے۔ فوج اور دستوری سول اداروں کے سربراہوں کی مدت ملازمت میں توسیع کے بڑے تلخ نتائج سامنے آئے ہیں جو آج تک ملک بھگت رہا ہے۔ تمام سروسز چیف، پبلک سروس کمیشن اور ایکشن کمیشن وغیرہ کے سربراہوں کی مدت مقرر اور نا قابیل توسیع ہونی چاہیے۔ صرف چیف الیکشن کمیشن کے سلسلے میں ہماری تجویز منظور ہوئی فوج کے سربراہوں اور دوسرے دستوری اداروں کے بارے میں اسے قبول نہیں کیا گیا، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت میں آزادی کے حصول سے آج تک کسی ایک بھی سروس چیف کی مدت ملازمت میں توسیع نہیں کی گئی۔ اس طرح ہر شخص کو علم ہوتا ہے کہ اسے ایک متعین مدت میں اپنے کام کو مکمل کرنا اور پھر دوسروں کے لیے جگہ خالی کر دیتا ہے۔ ہمارے ملک میں ملازمت میں توسیع کا جو سخت کر وہ سلسلہ جنرل ایوب خان کے دور میں شروع ہوا، وہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف تک جاری رہا اور اب بھی ہر ایک کی نگاہ تو سیع ہی پر ہوتی ہے۔
۷۔ جہاں ہم نے قانون سازی کی مشترک فہرست کے خاتمے کی تجویز پیش کی، وہیں ہم نے یہ بھی کہا کہ ایک نظریاتی ملک کی حیثیت سے ضروری ہے کہ ملک میں یکساں نظام تعلیم ہو، کہ قومی یک جہتی کے لیے یہ نہایت ضروری ہے۔ اس لیے تعلیمی پالیسی اور نصاب کی یکسانی ضروری ہے۔ بلاشبہ تعلیمی پالیسی کی تشکیل اور نصاب کی صورت گری میں ہر صوبے کے لوگوں کی شرکت ضروری ہے اور جہاں جہاں علاقائی ضرورتوں کے لیے مقامی ادب اور تاریخی روایات کو نصاب کا حصہ بنا ضروری ہو ، وہ لازم ہونا چاہیے، لیکن اس کے ساتھ قومی اور ملکی ضروریات کے لیے یکسانی اور وحدت بھی ضروری ہے۔ اعلی تعلیم اور تحقیق کے معاملات کو تو وفاقی فہرست (حصہ دوم) میں شامل کیا جا سکا لیکن یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب کے لیے ہم کمیٹی کی تائید حاصل نہ کر سکے۔ قومی زبان کے ساتھ جو مجرمانہ سلوک کیا جا رہا ہے اس کے خاتمے کی تجویز بھی ہم نے پیش کی اور مطالبہ کیا پانچ سال کے اندر اردو کو سرکاری زبان کے طور پر لاز ماً نافذ کیا جائے، اور دستور کی دفعہ ۲۵۱ کی جو مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے، اسے ختم کیا جائے، لیکن ہماری یہ تجویز بھی مقتدر سیاسی پارٹیوں سے شرف قبولیت حاصل نہ کر سکی۔
۹۔ہم نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ سینیٹ کا انتخاب مناسب نمائندگی کے اصول پر ہر صوبے سے بلاواسطہ ( direct ) طور پر کیا جائے، اور سینیٹ کو وزیر اعظم کے انتخاب اور بحیٹ اور نئی مل کے باب میں قومی اسمبلی کے مساوی حیثیت دی جاسکے۔ اس پر ہمیں خاصی تائید حاصل ہوئی ، مگر مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں ہوگی۔
۱۰۔ہم نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ تمام اہم کارپوریشنوں، فیڈرل اتھارٹیز اور مقتدر اداروں کے سربراہوں اور غیر پیشہ ورانہ سفارتی عہدے داروں کے تقریر کی توثیق کم از کم سینیٹ کی کمیٹی سے حاصل کی جائے، کم و بیش اسی اصول پر جس پرچوں کے تقریر میں پارلیمنٹ کے کردار کو شامل کیا گیا ہے۔ دنیا کے بیش تر جمہوری ممالک میں اور خصوصیت سے جہاں وفاقی نظام قائم ہے وہاں پارلیمنٹ یا ایوان بالا کا ایک کردار ہوتا ہے لیکن یہ تجویز بھی شرف قبولیت نہ پا سکی۔
۱۱۔ ہم نے یہ تجویز بھی دی تھی کہ تمام بین الاقوامی معاہدات اور کنونشتر کو پارلیمنٹ میں آتا چاہیے اور ان کے لیے پارلیمان کی توثیق ضروری قرار دی جائے۔ اس وقت یہ سارا اختیار شخص کا بینہ کو حاصل ہے، پارلیمنٹ کو ان کی ہوا بھی نہیں لگتی۔ یہ تجویز بھی قبول نہ کی گئی۔
۱۲- ہماری یہ بھی تجویز تھی کہ بنیادی حقوق میں اس حق کو بھی شامل کیا جائے کہ کسی شخص کو خواہ وہ پاکستان کا شہری ہو، یا پاکستان میں مقیم ہو، ہائی کورٹ کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے ملک کے سپرد نہیں کیا جائے گا، لیکن یہ بھی متفقہ دستاویز کا حصہ نہ بن سکی۔
۱۳ ہم نے یہ بھی تجویز دی تھی کہ جس طرح تمام وزرا، ارکان پارلیمنٹ حلف لیتے ہیں ای طرح دستور کے تحت مقرر کیے جانے والے تمام مشیروں (advisors ) سے بھی حلف لیا جائے شمول حلف راز داری اس وقت یہ تمام مشیر کسی طلب کے بغیر کا بینہ اور پارلیمنٹ میں شرکت کرتے ہیں، جو بڑی بے قائدگی ہے، جلد از جلد اس بے قاعدگی کا خاتمہ ہونا چاہیے، مگر اسے بھی متفقہ سفارشات کا حصہ نہ بنایا گیا۔
۱۴ – ہم نے فاٹا کے علاقے میں سیاسی حقوق کی حفاظت، سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیوں کی آزادی، اور اس علاقے کے لوگوں کو فراہمی انصاف اور قانون کے باب میں پاکستان کے باقی تمام علاقوں کے مساوی قرار دینے اور ان کے اپنے منتخب نمائندوں کو علاقے کے مستقل انتظام کو طے کرنے کا موقع دینے کی تجویز بھی پیش کی۔ اس تجویز کے ایک حصے کو پالیسی کے لیے اپنی سفارشات میں تو شامل کر لیا گیا، مگر دستوری ترمیم کا یہ تجویز حصہ نہ بن سکی۔ ان تمام امور کو شعور کا حصہ بنانے کے سلسلے میں ہماری جد و جہد ان شاء اللہ جاری رہے گی۔
ہماری نگاہ میں اٹھارھویں ترمیم مجموعی طور پر ایک مثبت پیش رفت ہے اور اگر اس پر خلوص اور دیانت سے عمل کیا گیا تو حالات کی اصلاح اور حقیقی جمہوری اقدار کے فروغ ، سماجی انصاف کے قیام اور علاقائی توازن کے پیدا کرنے میں اس کا کردار کلیدی ہو گا۔ ملک اور قوم، قیام پاکستان کے اصل مقاصد کی طرف مؤثر پیش قدمی کر سکیں گے لیکن اس کا انکارنیت ، ادر اک ، اخلاص اور عمل پر ہے۔ دستور کے الفاظ ہمارے مسائل کا حل نہیں۔
اب مرکز ، صوبے، سیاسی جماعتیں، تمام دستوری اداروں اور پوری قوم ایک عظیم امتحان میں ہے۔ وقت کی اصل ضرورت مسائل کا حل اور ان اہداف کا حصول ہے، جو دستور میں ان ترامیم کے بعد قوم کی آرزو اور تمنا کے طور پر واضح شکل میں سامنے آگئے ہیں۔ بلاشبہ جو خامیاں رہ گئی ہیں، آیند ہ دستوری ترامیم کے ذریعے ان کو دور کرنا بھی ایک اہم ضرورت ہے، لیکن فوری ضرورت ان دستوری ترامیم پر مؤ ثر عمل درآمد ہے۔ اس سلسلے میں ذراسی کوتاہی بھی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ دستوری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اور خود اٹھارھویں دستوری ترمیم کی شق ۹۵میں کی دستوری دفعہ ۲۷ اے اے کے ذریعے ایک قصہ کا ر دیا ہے اور ایسے ادارات کے قیام اور کارفرمائی کی سفارش کی ہے جو ان تبدیلیوں کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ اب اصل امتحان میدان عمل میں قومی قیادت کی کارگزاری اور مرکز اور صوبوں کے نظام میں بنیادی تبدیلیوں کو حقیقت کے روپ میں ڈھالنے کا ہے۔ ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں ع
پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے



