اسلام کا نظریۂ تعلیم

پروفیسر خورشید احمد
پیش لفظ
تعظیم اساتذہ پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پور ے نظام تعلیم کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے انتہائی مربوط اور سائنٹفک انداز میں کوششیں کر رہی ہے ۔ ہمیں اس بات کا شدت سے احساس ہے کہ اسلامی نظام تعلیم کا محض نعرہ بلند کرنے سے ہم فضا کو شاید کسی حد تک گرما سکیں ، لیکن ٹھوس اور بنیادی لٹریچر فراہم کیے بغیر ہم اس ذہنی انقلاب اور منزل کا شعور حاصل نہیں کر سکتے ، جس کا عنوان اسلامی نظام تعلیم ہے۔
ہم اس سے پہلے بھی اسلامی نظام تعلیم کے مختلف گوشوں اور زا یوں کو اجاگر کرنے کے لیے اس قلم اور اہل علم حضرات کی کاوشوں کو پیش کرتے رہے ہیں اور اب ہمیں خوشی ہے کہ عمل پاکستان تعلیمی کانفرنس کے موقع پر اسلام کا نظریہ تعلیم کے موضوع پر ہم پروفیسر خورشید صاحب کا یہ گرانقدر مقالہ پیش کر رہے ہیں ۔
پر وفیسر خورشید احمد صاحب کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں۔ وہ ایک ممتاز ماہر تعلیم اور تحریک اسلامی کے رہنما کی حیثیت سے ملکی اور بین الاقوامی طور پر معروف ہیں ۔ آج کل وہ وفاقی وزیر و ڈپٹی چیر مین پلاننگ کمیشن حکومت پاکستان کی حیثیت سے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ کئی سال تک وہ کراچی یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر رہے ہیں اور اس طرح پروفیسر صاحب نظام تعلیم کے اسرار در موز کو ایک مبصر کی حیثیت سے نہیں بلکہ محرم َراز کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ ان کا بیشتر قارئین کو ایک نئے ذوق آگہی اور شعور سے سرشار کرے گا اور ہمیں آئندہ بھی ان کا تعاون اسی طرح حاصل رہے گا۔
حافظ وحید اللہ خاں
صدر تنظیمِ اساتذہ پاکستان
اسلام کا نظریہ ٔتعلیم
اسلام میں تعلیم کی اہمیت مسلم ہے۔ تاریخ انسانیت میں یہ منفرد مقام اسلام ہی کو حاصل ہے کہ وہ سراپا علم بن کر آیا اور تعلیمی دنیامیں ایک ہمہ گیر انقلاب کا پیامبرثابت ہوا اسلامی نقطہ نظر سے انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز تاریکی اور جہالت سے نہیں بلکہ علم او روشنی سے کیا ہے۔ تخلیق آدم کے بعد خالق نے انسان اول کو سب سے پہلے جس چیز سے سرفراز فرمایا وہ علم اشیاء تھا ۔یہ اشیاء کا علم ہی ہے جو انسان کو باقی مخلوق سے میز کرتا ہے اور جو قرآن حکیم کے فرمان کے مطابق تمام دوسری مخلوقات پر اس کی برتری قام کرتا ہے۔ علم قیادت کا ایک خاصہ اور ان اہم ترین عوامل میں سے ہے جو کسی تہذیب کے صحت من دار تقارا اور نشوونما کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں دنیا کے دوسرے نظاموں نے تعلیم کو زیادہ سے زیادہ بہت سی ضرورتوں میں سے ایک ضرورت سمجھا وہاں اسلام نے اسے اولین ضرورت قرار دیا ۔
اسلام کے سوا دنیا کا کوئی مذہب یا تمدن (CULTURE) ایسا نہیں ہے جس نے تمام انسانوں کی تعلیم کو ایک بنیادی ضرورت قرار دیا جو یونان اور چین نے غیر معمولی علمی اور تمدنی ترقی کی لیکن وہ بھی تمام انسانوں کی تعلیم کے قائل نہ تھے، بلکہ اہل علم کے ایک طبقے پر قانع ہو گئے تھے۔ افلاطون اپنی جمہوریہ ( REPUBLIC ) میں جو اُونچے سے اُونچا خواب دیکھ سکا اس میں بھی فلا سفہ اور اہل ِنظر کے ایک مخصوص طبقے ہی کو اس امتیاز سے نوازا گیا ہے۔ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے نام انسانو ںپر تعلیم کو فرض قرار دیا، اور اس فرض کی انجام وہی کو معاشرے کی ایک ذمہ داری بنایا۔ حضور اکرم صلی الہ علیہ وسلم پر جو پہلی وحی نازل ہوئی وہ علم کے مقام اور اُس کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ اس میں تعلیم و تعلیم کی ضرورت واہمیت ہی کو واضح نہیں کیا گیا بلکہ ذرا ئع تعلیم، پڑھنا اور لکھنا کی طرف بھی واضح اشارات موجود ہیں۔
اِقرابسمِرَبِكَ الَّذِي خَلَقَ : خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلق اقر اور بّْک الاكرم الَّذِي عَلمَّ بِاالْقَلَمَهُ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَم يَعْلَمُ
’’پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا ۔ انسان کو خون سے پیدا کیا۔ تیرا رب کریم ہے۔ وہ جس نے قلم سے تعلیم دی۔ انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا۔ (سورہ علق، ۱-۵)
قرآن کریم میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کی جو مہ داریاں سونپی گئی ہیں اور آپ کے جو وظائف مقر رکیے گئے ہیں ان میں تلاوت کتاب تعلیم کتاب و حکمت، تبین احکام و آیات تزکیہ نفوس اور تبلیغ و دعوت کو ایک مرکزی مقام حاصل ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إنما بعثت معلما
’’ میں معلم بناکربھیجا گیا ہوں‘‘۔
تعلیم کیا ہے ؟
علم اور تعلیم کی اس مسلمہ اہمیت کے پیش نظر یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم تعلیم کی نوعیت اور اس کے اساسی اصولوں کا صحیح فہم حاصل کریں ۔ تعلیم صرف تدریس عام ہی کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے۔ اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے جائے شعور کونکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ نئی نسل کی وہ تعلیم وتربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کا منشور دیتی ہے اور اس میں زندگی کے مقاصد و فرائض کا احساس پیدا کرتی ہے۔ تعلیم ہی سے ایک قوم اپنے ثقافتی اور ذہنی ورثے کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتی ہے اور ان میں زندگی کے ان مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنھیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک زمینی ، جسمانی اور اخلاقی تربیت ہے او اس مقصد اُونچے درجے کے ایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جو اچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ریاست کے ذمہ دار شہریوں کی حیثیت سے اپنے فرائش کو انجام دینے کے اہل ہوں، ہر دور کے ممتاز ماہرین تعلیم کے نظریات کا مطالعہ اسی تصور تعلیم کا پتہ دیتا ہے۔ لغت کے اعتبار سے تعلیم کا مادہ علم یا ع ل م ہے ۔ اس کے معنی میں کسی چیز کا ادراک کرنا ۔ اس سے باب تفصیل میں تعلیم آتا ہے۔ تعلیم کے معنی بار بار اور کثرت کے ساتھ دینے کے ہیں۔ حتیٰ کہ متعلم کے زہن میں اس کا اثر پیدا ہو جائے۔
انگریزی زبان کا لفظ EDUCATION لاطینی لفظ EDEX بہ معنی نکالنا اور DUC بہ معنی رہنمائی سے ماخوذ ہے۔ لفظی طور پر اس کے معنی معلومات کا جمع کر دینا اور مخفی صلاحیتوں کو نکھارنا ہیں۔ بہر نوع اصلا ًیہ لفظ معلومات فراہم کرنے اور متعلم کی مخفی صلاحیتوں کو نکھارنے کے مفہوم میں آتا ہے۔ جان اسٹورٹ مل مغرب کے ان مشاہیر میں سے ہے جنھوں نے تعلیم کے مفہوم کو وسعت دینے کی کوشش کی ہے وہ کہتا ہے :
’’تعلیم صرف ان باتوں ہی کا احاطہ نہیں کرتی جو ہم اپنی فطرت کے کمال سے قریب تر ہونے کی بنا پر، وضع مقصد کی خاطر اپنے لیے کرتے ہیں یا دوسرے سہارے لیے کرتے ہیں۔ اپنے وسیع تر مفہوم میں اس کی حدود بہت زیادہ ہیں۔ انسانی کردار اور صلاحیت پری نے والے اُن چیزوں کے بالواسطہ اثرات بھی اس کے دائرہ کار ہیں شامل ہیں جن کے فوری مقاصد بالکل ہی دوسرے ہوتے ہیں ‘‘
جان ملٹن تعلیم کی تعریف یوں کرتا ہے :
’’میرے نزدیک مکمل اور شریفار تعلیم وہ ہے جو انسان کو مسحالت جنگ و امن اپنی اجتماعی وہ بھی زندگی کے فرائض دیانت و مہارت اور عظمت کے ساتھ ادا کرنے کے لیے تیار کرتی ہے‘‘۔ تعلیم کا یہ وسیع ترین تصور ہے۔
امریکی فلاسفر جان ڈیوی کے نزدیک تعلیم افراد اور فطرت سے متعلق بنیادی طور پر عقلی اور جذباتی رویوں کے تشکیل پانے کا عمل ہے۔ ڈاکٹر پارک کا خیال ہے کہ تعلیم رہنمائی یا مطالعہ سے علم حاصل کرنے اور عادات اختیار کرنے کا عمل یا فن ہے۔ پر تعلیم وہ مسلسل عمل ہے جس کے ذریعے نئی نسلوں کی اخلاقی زمینی اور جسمانی نشو ونما بھی ہوتی ہے اور وہ اپنے عقائد و تصورات اور تہذیب ثقافت کی اقتدار بھی اس سے اخذ کر تے ہیں ۔ ماہرین تعلیم اس لفظ سے دو مفہوم لیتےہیں :
وسیع تر مفہوم میں ان تمام طبیعی و حیاتیاتی ، اخلاقی و سماجی اثرات کا احاطہ کرتا ہے جو فرد اور قوم کے طرزِ زندگی کی تشکیل کرتےہیں اور محدود مفہوم میں یہ صرف ان اثرات پر حاوی ہے جو اساتذہ کے ذریعے اسکولوں کالجوں اور دسری درسگاہوں میں مرتب ہوتے ہیں۔
بہر کیف تعلیم ایک ہمہ گیر عمل ہے اور شاگرد کی زندگی کے تمام پہلوؤں پر اس کا گہرا اثر ہے حقیقت تو یہ ہے کہ ایک قوم کی زندگی کا انحصار ہی اس کی تعلیم پر ہے۔ ایک چینی کہاوت اس بات کی کتنی صحیح عکاسی کرتی ہے: تمھارا منصوبہ اگر سال بھر کے لیے ہے تو فصل کاشت کرو دس سال کے لیے ہے تو درخت اگاؤ، دائمی ہے تو افرادپیدا کرو۔ اور افراد کی تعمیر صرف تعلیم ہی سے ممکن ہے۔
ایک غلط فہمی کا ازالہ
تعلیم کسی قوم کے سماجی نظریات اور ثقافت سے گہرے طور پر مربوط ہوتی ہے۔ بنا بریں کسی قوم کا نظام تعلیم اپنے مزاج، مواد اور موضوعات کے اعتبار سے نہ تو نظریاتی جنگ سے خالی ہو سکتا ہے اور نہ اس میں اتنی معروضیت ( OBJECTIVITY) ممکن ہے کہ اسے اقدار کی گرفت سے آزاد قرار دیا جاسکے۔ لیکن عہدِ جدید میں لبرالزم ( LIBERLISM ) اور انفرادیت پسندی( INDIVIDUALISM) کے علم برداروں نے تعلیمی دنیا میں اس غلط فہمی کو بڑے زور و شور سے رائج کرنے کی کوشش کی ہے کہ تعلیم تہذیبی اقدار اور معیارات میراث کے سلسلے میں بالکل اسی طرح غیر جانب دار ہوسکتی ہے جس طرح طبیعی علوم ۔اس غلط تصور کی بنا پر تعلیم کو مذہب اور اخلاقی اقدار سے الگ کر دیا گیا اور یہ کہا جانے لگا کہ طالب علم کو اپنی صلاحیت کے مطابق نشو نما پانے کے لیے پوری آزادی ملنی چاہیے اور اس کی کیا کردار کو کسی مخصوص سانچے میں ڈھالنے کے لیے کوئی بیرونی دباؤ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ طریقہ تعلیم ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں نہایت مقبول ہوا اور اُس نے دوسرے یورپی ممالک میں بھی شہرت حاصل کی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ بے عقیدہ تعلیم کے نتائج کسی طرح بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔
بے عقیدہ تعلیم کے نتائج
گر ہم آزاد اور بے عقیدہ علم کی تاریخ کا جائزہ میں مندرجہ ذیل چیزیں سامنے آتی ہیں ۔
(الف) بے عقیدہ تعلیم طلبہ میں اجتماعی تصورات پیدا کر نے میں ناکام رہی ہے۔ اور جب کوئی ان اجتماعی تصورات کے شعور سے پہلے بہرہ ہو جائے جو اسے عمل اور قربانی پر ابھارتے ہیں تو تاریخ پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے۔ ایسی اقوام جو کسی اجتماعی نظریے کے زندہ شعور سے عاری ہو جائیں اور جنھوں نے کسی اعلیٰ اور برتر نصب العین کے لیے جینا اور مرنانہ یکھا جو تاریخ عالم میں کوئی بڑا کارنامہ تو کیا انجام دیں گی ، اپنے وجود تک کو برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ تاریخ میں ایسی مثالوں کی کمی نہیں ہے کہ جب کیسی قوم نے اپنی منزل کا شعور کھو دیا تو وہ نقش پا کی طرح مٹادی گئی۔
اقبال نے کیا خوب کہا ہے:
مرگ فرد از خشکی زرد حیات
مرگ قوم از ترک مقصود حیات
(ب)جب بے عقیدہ تعلیم نئی نسل کے قلب وروح میں اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ اس کا تعلق صرف دماغ کے مطالبات سے ہوتا ہے۔ روح کے مطالبات سے یہ بیگانہ دار ہی گزر جاتی ہے۔ دونوں کی نشو و نما دو متضاد سمتوں میں ہوتی ہے جس کا نتیجہ ایک زبردست قومی نقصان کی صورت میں نکلتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم اس وقت حقیقی دوست اور رہنا کا کام کر سکتا ہے جب، اس کا محور دل ہو ور نہ صرف تن پرستی کے چکر میں یہ انسان کے لیے سانپ جیسا خطرناک بھی ہو سکتا ہے۔
علم را برتن زنی مارے بود
علم را بر دل زنی یارے بود
(ج )تعلیم کے بارے میں اسی رجحان کا نتیجہ لامرکز یت اور علم کی شعبہ جا تی جزو پرستی کی صورت میں نکلا ہے۔ بے عقیدہ تعلیم علم کو ایک ہی محور پر مرتکز یا منظم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ طلبہ اپنی زندگی اور اردگرد کی نیا کو چھوٹی چھوٹی غیر مربوط جزئیات کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ وہ علم کی وحدت اور زندگی کی یک رنگی اور مرکزیت کے احساس سے محروم ہی رہ جاتے ہیں۔
(د) اور آخری بات یہ ہے کہ بے عقیدہ تعلیم ایسے افراد پیدا کرتی ہے جو زندگی کے بنیادی حقیقی، واقعی اور زندہ مسائل پر کوئی معبود نہیں رکھتے یعنی زندگی کے بارے میں ان کا علم اس قدر سطحی سارہ جاتا ہے کہ اس کی کوئی ٹھوس افادیت باقی نہیں رہتی۔
قومی نقطۂ نظر سے بھی یہ تعلیم مفید نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے ۔ ڈاکٹر ایڈیٹوٹ نے امریکی تعلیم کے بارے میں کہا ہے :
’’ مقاصد کے بجائے تکنیک اور ذرائع سے وابستگی ادب فلسفہ، تاریخ اور مذ ہب کے مطالعے کو حقیقی آزادی سے محروم کر رہی ہے ‘‘
مشہور اہل قلم والٹرلپ نے’’ اس مضطرب دنیا میں تعلیم کی کیفیت ‘‘کے موضوع پرا ایک تقریر میں کہا تھا :
’’اسکول اور کالج دنیا میں ایسے افراد بھیجتے رہے ہیں جو اس معاشرے کے تخلیقی اصولوں کو نہیں سمجھ پاتے جس میں انھیں رہنا ہے۔ اپنی ثقافتی روایت سے محروم نئے تعلیم یافتہ مغربی افراد اپنے ذہن و جذبات میں مغربی تہذیب کے تصورات ، اصول اور بنیادوں کا اور اس کی منطق و استدلال کا کوئی احساس و شعور نہیں رکھتے ۔ اگر یہی نہج رہی تو موجودہ تعلیم آخر کار مغربی تہذیب کو تباہ کر دے گی۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہ تباہ کر رہی ہے “
امریکی تعلیم پر راک فیلر کی رپورٹ بھی اسی خامی کی نشان دہی کرتی ہے: “طلبہ اپنی زندگی کے لیے کوئی مقصد اور مفہوم چاہتے ہیں۔ اگر ان کا نظامِ تعلیم، ان کی ثقافت اور ان کے رہنما انہیں کوئی باعظمت مفہوم، مقاصد اور تصورات فراہم نہ کریں تو وہ اپنے لیے حقیر اور فرومایہ مقاصد متعین کر لیتے ہیں۔”
سر والٹر مو بولے نے اپنی کتاب’’ یونیورسٹی میں بحران‘‘ میں جو برطانیہ کے تعلیمی حالات کے مطالعے پر مشتمل ہے ، لکھا ہے:
’’ہم جس اُلجھن میں گرفتار ہیں وہ یہ ہے کہ ہماری یو نیورسٹی میں زیادہ تر طالبہ تعلیم سے فارغ ہو جاتے ہیں مگر اس کا کوئی موقع نہیں آتا ہے کہ وہ حقیقی اہمیت کے عظیم مسائل پر اپنا ذہن استعمال کریں تعلیمی غیر جانبداری کے زیر اثر وہ موجودہ سیاسی اور سماجی ماحول کے آگے سپر ڈال دینے اور سوچ بچار کی زحمت نہ اٹھانے کے عادی ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح وہ لادینیت کو بھی تسلیم کر لیتے ہیں اور یہ اس لیے کہ تعلیم کے مختلف اجزا میں منقسم ہونے کی موجودہ صورت حال کی وجہ سے اُنھیں ذمہ دارانہ حیثیت میں مقصد زندگی کو متعین کرنے کا چیلنج ہی نہیں ملتا ساری تعلیم کے بعد بھی وہ بنیادی طور پر غیر تعلیم یافتہ ہی رہتے ہیں ۔”
تعلیم کے پس منظر کے مکمل جائزے کے طور پر میری پروفیسر ہیرلڈ ایچ ٹیٹس لکھتے ہیں:
’’تعلیم نے اپنے آپ کو ماضی کے روحانی ورثے سے الگ کر لیا ہے مگر اس کا کوئی مناسب متبادل دینے میں ناکام رہی ہے۔ نتیجتاً پڑھے لکھے افراد بھی ایقان وایمان سے ، زندگی کی اقدار کے صحیح احساس سے ، اور دنیا کے بارے میں کسی ناقابل شکست ہمہ گیر نقطہ نظر سے عاری ہیں ‘‘
ان نئے خیالات سے پتہ جاتا ہے کہ مغرب بھی بے عقیدہ اور غیر جانبدا رانہ تعلیم کا نظریہ دم توڑ رہا ہے اور مغرب کے اکثر ما ہرین تعلیم اور علمائے عمرانیات یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ تہذیب و تمدن کی ترقی اور ثقافت کے تحفظ کی راہ میں یہ نظر ی کس قدر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تعلیم کے اسلامی اصول
(ا) تصور علم
اسلام نے جو تصو ر علم دیا ہے اس میں سب سے بنیادی چیز یہ ہے کہ علم کا سر چشمہ ذاتِ باری تعالی ہے۔ علم اشیا اسی کا دیا ہوا ہے اور انسان کی ہدایت کا علم بھی اسی کی طرف سے ہے جو اس اور عقل و تجربہ بڑے اہم ذرائع علم میں لیکن وحی سب سے اعلیٰ ذریعہ علم ہے۔ نیز یہ کے علم کا تعلق محض لوازمات ِحیات ہی سے نہیں ، مقاصدِ حیات سے بھی ہے اور اول الذکر کو ثانی الذکر کے تابع ہونا چاہیے۔ یہی وہ تصویر ہے جس سے ہمارے نظام ِ تعلیم کا پورا مزاج بنتا ہے۔
اسلام نے علم کا جو تصور دیا ہے اس ہیں علم اور تربیت دونوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے اور ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ تعلیم کتاب و حکمت اور تزکیہ نفس دونوں کو ساتھ ساتھ انجام دینا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے مخصوص نظام تعلیم میں تعلیم اور سیرت سازی ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہے ہیں اور اس کا اظہار علم و فضل کی اصطلاح سے بھی ہوتا ہے جو علم اور نیکی اور اخلاق حسنہ میں بڑے ہوئے ہونے کے مفہوم کوادا کرتی ہے۔
(ب )مقصد تعلیم
تعلیم بذاتِ خود منزل نہیں ، منزل کے حصول کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ حقیقی منزل ان لوگوں کا نظریہ حیات اور تمدن و ثقافت ہے جن کی خدمت اسے کرنی ہے۔ اے ۔ این۔ وائٹ ہیڈ نے یہ کہہ کر زور دیا ہے کہ
’’تعلیم کی روح یہ ہے کہ وہ مذہبی ہو‘‘
اقبال کا خیال بھی یہی تھا کہ اسلام ہماری زندگی اور تعلیم کا مقصد ہونا چاہیے۔ اُنھوں نے خواجہ غلام السیدین کو ایک خط میں لکھا تھا ۔
’’علم سے میری مراد وہ علم ہے جس کا دارو مدار حو اس پر ہو۔ عام طور پر میں نے علم کا لفظ اور معنوں میں استعمال کیا ہے۔ اس علم سے وہ طبعی قوت ہاتھ آتی ہے جس کو دین کے ماتحت رہنا چاہیے۔ اگر یہ دین کے تحت نہ رہے تو محض شیطنت ہے مسلمان کے لیے لازم ہے کہ علم کو مسلمان کر ے۔
بولہب را حیدر کرار کن
اگر یہ بولہب راحید کرار بن جائے یا یو ں کہئے کہ اس کی قوت دین کے تابع ہو جائے تو نوع انسان کے لیے سراپا رحمت ہے ۔
پس تعلیم کا اولین مقصد یہ ہونا چاہیے کہ طلبہ میں ان کے مذہب اور نظریہ حیات کی تفہیم وآگہی پیدا کرے۔ اس کے معنی یہ ہوں گے کہ زندگی کا مفہوم اور مقصد، دنیا میں انسان کی حیثیت ، توحید، رسالت، آخرت اور انفرادی اور اجتماعی زندگی پر ان کے اثرات، اخلاقیات کے اسلامی ثقافت کی نوعیت اور ایک مسلمان کے فرائض اور اس کا مشن انھیں سمجھایا جائے۔ انھیں بتایا جانا چاہیے کہ وہ کس طرح اعلیٰ مقاصد کے لیے دنیا کی تمام قوتوں کو استعمال کریں۔ تعلیم کو ایسے افراد پیدا کرنے چاہئیں جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریات پر بھر پور یقین کے حامل ہوں۔ اور اسے ان کے اندر ایک ایسا اسلامی نقطہ ٔنظر پیدا کرنا چاہیے کہ وہ زندگی کے ہر میدان میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اپنا راستہ خود بنا سکیں۔
قرآن حکیم کا فرمان ہے کہ اہلِ علم حق اور سچائی کے گواہ ہیں۔ وہ تعلیم جس کا مقصد اہل علم پیدا کرنا ہوا اسے اولین طور پر اسلام کا علم پیش نظر رکھنا چاہیے۔
قرآن میں فرمایا گیا ہے :
شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لا اله الاهو و المَلائِكَةُ وَأُولُوا العلم
’’خدا خود شاہد ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتے اور صاحبان علم بھی (اس حقیقت کے ) شاہد ہیں‘‘۔ (آل عمران – ۱۸)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
’’لوگوں میں سے درجہ نبوت کے قریب تراہل علم اور اہل جہاد ہیں۔ اہل علم اس وجہ سے کہ انھوں نے لوگوں کو وہ باتیں بتائیں جو رسول
لائے تھے اور اہل جہاد اس وجہ سے کہ اُنھوں نے پیغمبروں کی لائی ہوئی شریعت پر اپنی تلواروں سے جہاد کیا ، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سا مشن ہے جس کے لیے انبیا ءمبعوث کیے گئے ہیں۔ ایک ایسا مشن جو صاحبان علم کو مقام نبوت سے قریب کرتا ہے۔ قرآن حکم کے مطابق اسلام کے پیغام کی اشاعت و تبلیغ اور ایک عادلانہ اور صحت مند اجتماعی نظام کا قیام ہے ۔ قرآن کہتا ہے :
هُوَ الذي بَعَثَ فِي الأَمَانَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايَتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَالِ مُبِينِ :
’’وہ (خدا) وہی تو ہے جس نے امتیوں میں اُنھی میں سے (محمدؐکو )پیغمر بنا کر بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور خدا کی کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور اس سے پہلے تویہ لوگ صریح گمراہی میں مبتلا تھے ‘‘۔ (جمعہ )
لقد ارسلنا بالبينات وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الكتب والْمِيزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطيح
’’ہم نے اپنے مشیروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزان (عدل) نازل کی تاکہ لوگ اعتدال پر قائم رہیں‘‘ ۔ (الحدید (۲۵)
پر اسلامی تہذیب و ثقافت کے پس منظر میں تعلیم کا بنیادی مقصد ان پیغمبرانہ کا فرائض کی بجا آوری اور انسانوں کی اس مشن اور مقصد کی تعلیم دینا ان میں اس مذہب کی سچی روھ پیدا کرنا اور انھیں ایک مکمل اور صحت مند زندگی کے لیے تیار کرنا ہے۔
یہ مقصد تعلیم کے ہر گوشے میں اسلامی نظریہ حیات کی روح جاری و ساری کرنے سے حاصل ہوگا۔ نئی کتابوں کی ترتیب و تدوین بھی اسی نقطہ ٔنظر سے کی جانی ہوگی۔ اس کے لیے تمام تعلیمی سرگرمیوں کی تشکیل نو اور ایک ایسے ماحول کی تخلیق بھی کرنا ہوگی جو ان مقاصد کے حصول میں ممد و دمعادن ثابت ہو۔
(ج ) انفرادیت اور اجتماعیت میں توازن :
تعلیم کا ایک بنیا دی مقصد یہ ہے کہ طالب علم کی انفرادیت کے ارتقاء کو کیا اہمیت دی جائے۔ اس پر ہمارےسامنے متضاد نظریات ہیں۔ بعض کے نزدیک فرد کا ارتقا بنیادی قدر ہے۔ وہ اجتماعی یا مشترک ذمہ داری کے تصویر کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ۔ اس کے برعکس ایسے نظریات بھی ہیں جن میں معاشرے کے معیارات سے مطابقت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے اور فرد کی اپنی شخصیت کے نشو و نما پر کوئی زور نہیں دیا گیا۔
یہ دونوں انتہا ئیں غلط اور غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔ اسلام کی ایک منفرد خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ انفرادیت اور اجتماعیت میں ایک توازن پیدا کرتا ہے۔ اسلام فرد کی اپنی ذاتی شخصیت میں یقین رکھتا ہے اور ذاتی طور پر ہی ہر ایک کو خدا کے سامنے زمہ دارا اور جو اب دہ ٹھہراتا ہے۔ اسلام فرد کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے اور کسی کو ان میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ اس کی تعلیمی پالیسی میں فرد کی شخصیت کا مناسب ارتقا اہم ترین مقاصد میں سے ایک ہے۔ یہ اس خیال کا حامی نہیں کہ فرد کی اجتماع یا ریاست میں اپنی انفرادیت کھو دینی چاہیے۔ قرآن کریم کے مطابق :
وَانْ لَّيْسَ لِلْإِنْسَانِ الأَمَا سَعَى
’’اور یہ کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے‘‘۔(النجم: (۳۹)
إن الله لا يغيرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُذَرُوا مَا بِالفُسِهِمْ
’’بے شک اللہ کسی قوم کی (اچھی) حالت بدل نہیں دیتا جب تکوہ لوگ خود اپنے میں تبدیل نہیں کر لیتے‘‘۔ (الرعد : (۱۱)
لايكلف اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَاما اکتسبت.
’’اللہ کسی متنفس پر اس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔ شخص نے جو نیکی کمائی ہے اس کا پھل اس کے لیے ہے اور جو برائ کمائ ہے اس کا وبال اسی پر ہے‘‘۔ (البقرہ : ۲۸۶)
ولَنا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالكُمُ
اور ہم کو ہمار سے اعمال کا بدلہ ملے گا اور تم کو تمھارے سے اعمال کا(البقره: ۱۳۹)
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام ایک طالب علم کی انفرادی شخصیت کو نشوونما . دینا چاہتا ہے اور اس کی تمام خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔ اور دوسری طرف اسے معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بنانا چاہتا ہے تاکہ وہ اجتماعی زندگی کے وظائف کو بحسن و خوبی انجام دے سکے۔
(د) علم کی وحدت اور ہم آہنگی
تعلیم کا ایک اور اصول یہ ہے کہ طالب علم کو متوازن اور ہم آہنگ تعلیم حاصل ہو۔ اس میں اتنی قالبیت پیدا ہو جانی چاہیے کہ وہ دنیا کی رنگ رنگا بو قلمونیوں کے درمیان زندگی اور کائنات کی وحدت کو دیکھ سکے۔ اسلام راہِ وسط کا داعی ہے اور اس کا نصب العین متوازن شخصیت کی تعمیر و ارتقا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق فکر اور عمل کا توازن نبوت کی خصوصیات ہیں سے ایک ہے۔ اس لیے تعلیم میں یہ بات لازماًپیش نظر رہنا چاہیے کہ اختصاص کے مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے طالب علم کو علم کے وسیع پس منظر سے واقفیت حاصل ہو جائے اور زندگی اور اس کے مسائل کے بارے میں وہ ایک متوازن رویہ متعین کرلے۔ اسلام کی نظر میں علم ایک ہم آہنگ اور باہم مربوط کْسل ہے۔ یہ اس حقیقت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن تمام علوم کا سر چشمہ ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جو علم کے ہر متلاشی کا ذہن تشکیل کرے گی اور اس کا سوچنے کا انداز متعین کرے گی خواہ ان کے حصول علم کا میدان کچھ بھی کیوں نہ ہو۔ یہ چیز قدر تاًہم آہنگ علم کے تصور کی طرف لے جاتی ہے۔ اس بنیادی نقطے کا نتیجہ یہ ہوگاکہ مسلمان نفس علم کو چھوٹے چھوٹے غیر مربوط جزئیات میں تقسیم نہیں کریں گے، بلکہ کثرت میں وحدت کا رنگ رونما ہو جائے گا۔ اس سے جزو پرستی اور حد سے بڑی ہوئی شعبہ جاتیت کی خامیاں بھی دور ہو جائیں گی۔ اغلباً یہ تصور تعلیم کے اعلیٰ مرحلے پر ہی اختصاصی تعلیم شروع کرنے کے نقطہ نظر سے زیادہ قریب ہے۔ ابتدائی مرحلوں میں تعلیم کو غیر اختصاصی رہنا چاہیے۔ یہ طریقہ نوجوانوں میں وسعت نظر اور علمی دیانت ور واداری کی خوبیاں پیدا کرنے میں بہت اہم حصہ ادا کرے گا۔
(ھ) تعمیر کردار
تعلیم میں سب سے زیادہ اہمیت طالب علم کے کردار کی تشکیل کو حاصل کرنا چاہیے تعلیم جب تک اچھے کردار تعمیر نہ کرے گی ، اپنا حقیقی مقصد کبھی حاصل نہ کر پائے گا۔ اسلام میں نیک اعمال اولین اہمیت کے حامل ہیں۔ قرآن پاک میں ایما ن اور عمل صالح کی بیک وقت تلقین کی گئی ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بنیاد مشن میں تز کیہ ، یعنی انسانی زندگی اور روح کی تطہیر شامل ہے اور اسے اولیت حاصل ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کردار کے بنیادی رجحانات کی اساس زندگی کے دور ہی میں پڑ جاتی ہے اور اسکول اور کالج ایک انسان کے کردار کی تعمیر میں اہم حق ادا کر سکتے ہیں۔ یہ کام تعلیم کا ہے کہ وہ انسانی کردار کو ایک خاص سانچے میں ڈھال دے ۔ امام غزالی لکھتے ہیں
’’ تعلیم کا مقصد یہی نہیں ہونا چاہیے کہ نوجوان ذہن کے علم کی پیاس بجھا ئے بلکہ اس کے ساتھ ہی اسے اخلاق، کردار اور اجتماعی زندگی کے اوصاف نکھارنے کا احساس بھی پیدا کرنا چاہیئے ‘‘۔
ہمارے سامنے انسانی زندگی کا مثالی نمونہ رسول اکرم صلی الہ علیہ وسلم کی ذات مبارک ہے جیسا کہ قرآن کریم میں بھی ہے :
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ
رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا ایک عمدہ نمونہ موجود ہے تمھارے لیے۔(الاحزاب : ٢)
تعلیم کے تمام مراحل پر طالبہ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کی مثالی زندگیاں پڑھائی جانی چاہئیں۔ استاد کو خود اپنی زندگی اور اپنے کردار اور عمل سے طالب علم میں ایک نیک زندگی اختیار کرنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیے اور درسگاہوں کا ماحول بھی ایسا ہونا چاہیے کہ اس سلسلے میں ممدود
معاون ہوسکے۔
( و )تکمیل حیات
اسلام زندگی اور اس کی مسرتوں کو ترک کرنے کا نام نہیں بلکہ وہ ان کی تکمیل کا داعی ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ساری تعلیم کو ہمارے نوجوانوں کو زندگی گزارنے کے طریقوں کی تربیت دینی چاہیے اور معاشرے کی گونا گوں ضروریات کو پورا کر نے کے لائق بنانا چاہیے۔
اسلام رہبانیت کا مخالف ہے اور چاہتا ہے کہ انسان زندگی کی کشاکش کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ اپنی زندگی گزار دے ۔ قرآن دنیا اور آخرت دونوں کے بہترین حصول کی تعلیم دیتا ہے ۔قرآن کریم میں ان لوگوں کو سختی سے خبردار کیا گیا ہے جو اس کی عنایات سے لطف اندوز ہونے سے انکار کرتے ہیں :
’’ ان لوگوں سے کہو کہ کس کے حکم سے تم نے ان نعمتوں سے منہ پھیرا ہے جواللہ نے اپنے بندوں کے لیے تخلیق کی ہیں ۔ کھانے پینے کی اور استعمال کی ان چیزوں سے جو اس نے ان کے لیے بنائیں ‘‘۔
اسلام کا رویہ اس قرآنی آیت سے بالکل ظاہر ہے
كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا تْسرِ فْ
کھاؤ پیو مگر حد سے زیادہ اسراف نہ کرو۔ (الاعراف : ۳۱)
اسلام کی نظر میں انسانی محنت اور مشقت نہایت ہی قابل قدر ہے۔ اسلام ہر فرد کو اپنی روزی خود کما نے کے قابل بناتا ہے۔ پس تعلیم کو دیانتدارانہ، منصفانہ اور معقول معاش کے حصول میں ممدود و معاون ہونا چاہیے ۔ علاوہ ازیں تعلیم کو معاشرے کی اقتصادی، سماجی، سائنسی اور فنی ضروریات پوری کرنی چاہئیں۔ ان ضروریات کو نہ صرف یہ کہ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے بلکہ تعلیم کوان کی تکمیل کے لیے مثبت طور پر کام کرنا چاہیے۔ پھر تعلیم میں اتنا عملی عنصر ضرور ہونا چاہیے کہ ہر فرد معاشی استحکام حاصل کر سکے۔
ان مقاصد سے ہم آہنگ نظام ِتعلیم اسلامی آدرشوں کا تر جمان ہوگا اور بنی آدم کے لیے رحمت ثابت ہوگا۔
تعلیم کی تاریخی روایت
ہم نے مندرجہ بالا صفحات میں علم اور تعلیم کے بارے میں اسلام کے بنیادی نقطہ نظر کی وضاحت کی ہے ۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں مسلمانوں کا پورانظام تعلیم اپنی بنیادی اقدار کے حصول کی جدوجہد سے عبارت ہے۔ طریقے مختلف رہے ہیں۔ اصول تنظیم میں بھی تنوع نظر آتا ہے۔ ادواروں کی ہیئت بھی بدلتی رہی ہے۔ لیکن بنیادی مقاصد اور مزاج ایک ہی رہا ہے۔
دور نبویؐ میں تعلیمی روایت
نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم ملت اسلامیہ کے سب سے پہلے معلم تھے۔ آپؐ ہی نے پہلی منظم تعلیم گاہ مدینہ منورہ میں قائم فرمائی۔ صفہ نامی چبوترہ پہلا مدرسہ تھا اور اصحاب صفہ اس کے معلم تھے۔ اس مدرسے میں ۷۰ اور۸۰ اتک طالب علم تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام بھی یہاں معلم کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے تھے ۔ اصحاب صفہ میں سے ایک یعنی حضرت معاذ بن جبل ؓما لی امور کے نگران تھے اور عطیات کی تقسیم کا کام ان ہی کے سپرد تھا۔ ان متعلمین میں سے مختلف خدمات کے لیے مامور کر دیئے جاتے تھے۔ تعلیم و تبلیغ کے لیے تو خصوصیت سے انھیں اصحاب کو بھیجا جاتا تھا۔ اپنی مالی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے یہ طلبہ خود بھی محنت کرتے اور کماتے ۔ دوسرے اہل ثروت مسلمان بھی ان طلبہ اور ان کے متعلقین کی مقدور بھرمدد کرتے اور خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی براہ راست ان کی مدد فرماتے ۔ اس ندی سے نے اسلامی قلم رو میں تعلیم کی نہج قائم کی اور جو روایت اس میں پڑی وہی ہماری تعلیمی روایت بن گئی اور وہ روایت یہ تھی :
)۱( اولین چیز دینی تعلیم ہے۔ قرآن اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نصاب تعلیم کا مرکز و محور ہونا چاہیے۔
(ب) تعلیم کا مقصد
۱۔اچھا مسلمان اور داعی الحق بنانا۔
۲۔ اور مسلم معاشرے کی ہمہ ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
(ج) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم اور مسجد کا تعلق قائم کیا۔ مسجد دینی محور ، سیاسی مرکز اور تعلیم گاہ بنی اور اس کے ذریعے طالب علم ایک مخصوص ثقافتی ورثے کے امین بنے۔
(د) متعلمین کے لیے اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے خود محنت مزدوری کرنا ، اور مختلف حرفتوں کو سیکھنا اور ان سے وابستہ ہونا اچھا اور پسندیدہ قرار پایا۔
(ھ) تعلیم کی آخری ذمہ داری مسلمان معاشرے اور اسلامی ریاست پر عائد ہوتی ہے اور اسے اس مقصد کے لیے اپنے وسائل استعمال کرنے چاہئیں۔ مسلمانوں کی قومی آمدنی اور بیت المال پر اولین حق زیر تعلیم طلبہ اوران پر ہونے والے جملہ مصارف کا ہے۔
ادوار ِما بعد
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ بنیادی نہج پڑھی اور ان ہی خطوط پر بعد میں ارتقاء ہوا۔ مساجد تعلیم کا مرکز بن گئیں۔ ہر جگہ حلقہ ہائے درس قرآن و حدیث قائم ہوئے۔ ایک ایک مسجد میں گئی کئی حلقے بنے اور ایک ایک حلقے میں ہزاروں طلبہ شریک ہونے لگے ۔ جو اساتذہ متمول تھے وہ اپنی کفالت آپ کرتے لیکن جو ضرورت مند تھے ان کی کفالت بیت المال کرتا۔ خلفائے راشدین نے باقاعد تنخواہیں اور وظیفے مقرر فرمائے اور ہر مسجد ایک مکتب اور ہر میدان ایک تعلیم گاہ بن گیا ۔ پہلی چار صدیوں ہیں تعلیم کا بینی نظام رائج تھا۔ اصطلاحی مدارس نہ ہونے کے باوجود یہ نظام اتنا مستحکم اور ہمہ گیر تھا کہ گھر گھر تعلیم پھیل رہی تھی اور ایک قسم کی ہمہ رس اور ہمہ گیر تعلیم موجود تھی ۔سماءالرجال کی کتابوں میں اس دور کے ۵ لاکھ علماء کے مفصل حالات ملتے ہیں۔ اس زمانے کے تعلیمی اداروں میں مرکزی حیثیت مساجد ہی کو حاصل تھی۔ اور مساجد کے فن تعمیر پر ان کے اس تعلیمی رول کا خاصا اثر پڑتا ہے۔ تینوں سمتوں میں دالانوں کا ہونا اور بڑی تعداد میں ہجروں کی موجودگی اس کا ثبوت ہیں۔ اس دور کی اہم تعلیم گاہوں میں سے جو قابل ذکر ہیں جو آج بھی موجود ہیں وہ تیونس کی جامع زیتون اور مصر کی جامع از ہر ہیں۔ مساجد کے علاوہ خانقاد ہیں، علمار کے مکانات اور کھلے میدان بھی تعلیم گاہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ہر علاقے میں لاکھوں طلبہ کو مفت تعلیم دی جاتی تھی۔
یہ مسلمانوں کے تعلیمی نظام کا پہلا دور ہے۔ دوسرے دور کا آغاز پانچویں صدی کے اوائل سے ہوتا ہے۔ اس میں مساجد کے علاوہ باقاعدہ مدارس بھی قائم ہوئے اور بڑے وسیع پیمانے پر ہوئے۔ غالباً سب سے پہلا مدرسہ جس کی اپنی عمارت ، سرکاری گرانٹ اور وقف املاک برائے عام اخراجات اور مرتبہ نصاب تعلیم وغیرہ تھے۔ سلطان محمود غزنوی نے اپنے پایۂ تخت غزنی میں قائم کیا۔ بقول ابوالقاسم فرشتہ مسجد سے ملحق ایک عظیم اشان مدرسہ قائم کیا اور اس کے کتب خانے کو نادر الوجود کتب سے آراستہ کیا اور مسجد و مدرسے کے اخراجات کے لیے بہت سے دیہات وقف کیے ۔پہلے محمود غزنوی نے اپنی پوری مملکت ہیں بے شمار مدرسے قائم کیے اور اس کے زیر اثر دوسرے امراء اور ارکان دولت نے بھی یہ خدمت انجام دی۔ تاریخ نے محمود غزنوی کو اس کے عسکر ی حملوں کی وجہ سے تو یاد رکھا ہے لیکن علم کی دنیا میں جو انقلاب آفریں اقدام اُس نے کیا اس کا قرار و اعتراف نہیں کیا گیا۔ اسے تاریخ کی ستم ظریفی نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے۔ دوسرا اہم مدرسہ جس نے تاریخ میں اپنا نام پیدا کیا دولت سلجوقیہ کے مشہور وزیر اعظم نظام الملک طوسی (المتوفی ۳۸۵) کا قائم کردہ مدرسہ نظامیہ بغداد ہے جسے امام الحرمین اور امام غزالی ہے جیسے صدر مدرسین حاصل ہوئے اور جس نے تاریخ پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے۔
اس کے بعد مدارس کی ایک روچل پڑی اور سارمی اسلامی قلم رو میں ان کا جال بچھ گیا۔ ان میں ایسے ایسے عظیم الشان مدارس بھی تھے جن کے تحت مستعد د مدارس کام کرتے تھے۔ اور ان کی حیثیت آج کی اصطلاح میں یونیورسٹی کی سی تھی ۔ ان تمام مدارس میں وہی اصول کارفرما تھے جن کا ذکر ہم اوپر کر چکے ہیں۔ مفت عوامی تعلیم کا یہ ایک ایسا نظام تھا جس کی نظیر کسی دوسرے تمدن میں نہیں ملتی ۔
بر ّعظیم میں تعلیمی روایت کا ارتقا۔
برّعظیم پاک و ہند میں اسلام کی دعوت دور رسالت اور عہد خلافت راشدہ میں پہنچ چکی تھی ۔ پھر بنو امیہ کے دور میں محمد بن قاسم کے ہاتھوں ایک بڑا علاقہ فتح ہوا اور اسلامی ریاست قائم ہوئی ۔ اس زمانہ میں علوم کو بڑا فروغ حاصل ہوا۔ اس دور کے انمٹ اثرات یہاں کی تاریخ اور تمدن پر پڑے لیکن بد قسمتی سے دولت اسلامیہ کا یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکا۔ پھر محمود غزنوی کے حملوں نے خیبر سے سومنات تک ایک بار پھر اسلام کا غلغلہ بلند کر دیا لیکن مسلمانوں کی حکومت کا باقاعدہ آغاز معز الدین محمد بن سا م کے ہاتھوں ہوا ۔ قطب الدین سے بہادر شاہ ظفر تک تقریبا ساڑھے سات سو سال مسلمان یہاں حکمران رہے۔ اور اس زمانے میں مسلمانوں نے اپنے نظام تعلیم کو نشود نما دینے کی پوری کوشش کی ۔ اس دور کے تعلیمی نظام اور علمی سرگرمیوں کے مطالعے سے جو اہم چیزیں سامنے آتی ہیں ہم یہاں ان کا مکتصر تزکرہ کریں گے۔
(۱) تعلیم کا جو مزاج قرون اول میں تشکیل پایا تھا یہاں بھی اس کو بڑی حد تک قائم رکھا گیا۔ تعلیم کا مرکز دین اسلام رہا اور تمام تعلیمی سرگرمیاں اسی محور کے گرد گھومتی رہیں۔ تعلیم کو ایک عبادت تصور کیا گیا، اور اہل علم کا طریقہ یہ تھا کہ وہ کسی با قاعدہ مدرسے سے وابستہ ہوں یا نہ ہوں، علم کے اشاعت کے ذریعہ اس کی زکوۃ برابر نکالتے رہے۔
) ۲)بر عظیم میں شروع ہی سے باقاعدہ مدارس کا نظام قائم ہوا لیکن تعلیم کا ذریعہ صرف مدارس ہی نہ تھے ۔ ابتدائی تعلیم گھروں پر ہوتی تھی۔ لڑکیوں کی تعلیم کا انتظام بھی گھروں پرہی تھا۔ پھر قدیم اسلامی روایت کے مطابق مساجد تعلیم کا بہت بڑا مرکز رہیں۔ اہل علم کے مکانات بھی مستقل تعلیمی مراکز کی حیثیت رکھتے تھے۔ کتب خانے محض لائبریری کی حیثیت نہ رکھتے تھے بلکہ اعلیٰ تعلیم کا ایک اہم مرکز تھے۔ بڑے پیمانے پر تعلیمی مجالس کا ذکر بھی تذکروں اور تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔
(۳) ایک اور بڑی اہم چیز یہ ہے کہ گو دینی تعلیم پورے نظام کا مرکز ومحور تھی لیکن دوسری ضرورتوں سے کسی زمانے میں بھی اور کسی سطح پر بھی صرف نظر نہیں کیا گیا ۔صنعتی تعلیم کا انتظام کارخانوں میں تھا۔ تجارتی تعلیم کے لیے مہاجنی اسکول تھے جہاں تجارتی ہندسہ اور تجارت کے اصولوں کی ابتدائی تعلیم دی جاتی تھی۔ فنون سپہ گری کی تعلیم کے لیے بے شمار ادارے اور اکیڈیمیاں تھیں۔ کتابت ، خطاطی ، طغری نویسی، فن کوزه گرمی، فن تعمیر ، غرض ہر ایک اہل فن کے گر د طالبان علم کا ہجوم رہتا اور وہ اپنے اپنے فن میں یکتائے روزگار فن کار تیار کرتے۔ ان کے لیے با قاعدہ مدارس اور اکیڈیمیوں کا بھی پتہ چلتا ہے ۔ اس سے نظام تعلیم کی وسعت اور ہمہ گیری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
تعلیم کے اس ہمہ گیر تصور اور انتظام کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ مدارس میں جو نظام تعلیم رائج تھا، اور جس پر ہم بعد میں گفتگو کریں گے ، اس میں اگر ایک طرف قرآن ، فقہ ، منطق اور کلام کو اہمیت دی گئی تھی تو دوسری طرف تاریخ اور طبیعیات اور علم ہندسہ اور جغرافیہ کو ایک بنیادی مقام دیا گیا تھا۔ مولانا مناظر احسن گیلانی نے بالکل صحیح لکھا ہے کہ اس نصاب کا مقصد مسلمان حکومت کی سول سروس تیار کرنا تھا، خصوصیت سے قضاء و عدالت کی ضروریات کی تکمیل مسلمان اپنے نظام تعلیم کے مسائل پر جس ذہن سے غور کرتے تھے اس میں جہاں یہ فکر تھی کہ ہر چیز دین کے رنگ میں رنگی ہوئی ہو وہاں انھیں اس کا بھی خیال تھا کہ اپنے زمانے کے تقاضوں کو وہ پورا کر رہی ہو اور جس کام کے لیے جو علم و مہارت درکار ہے وہ فراہم کر رہی ہو۔ اس کا اندازہ اور نگ زیب عالم گیر کی اس گفتگو سے ہو سکتا ہے جس میں مخاطب ملا صلاح تھے جو شاہی اعلان کی تعلیم پر مامور تھے :
“کیا میرے معلم کا یہ فرض نہ تھا کہ وہ مجھے روئے زمین کی ہر قوم کے امتیازی خصائص سے روشناس کرتا۔ مجھے علم ہونا چاہیے کہ ان اقوام کے مسائل اور ان کی طاقت کیا ہے، ان کے آداب و اطوار، مذاہب و طرز حکومت، طریق جنگ وغیرہ کیا ہیں اور وہ کون سے امور ہیں جن میں یہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ با قاعدہ تعلیمی نصاب کے ذریعے بتایا جائے کہ ریاست کا آغاز کیسے ہوا، قوموں کے عروج و زوال کے اسباب کیا ہیں، اور وہ کون کون سے اسباب و عوامل اور حوادث ہیں جن کی بناء پر عظیم تبدیلیاں اور مہتمم بالشان انقلابات رونما ہوتے رہے ہیں”۔
(۴) اس دور میں جس پیمانے پرتعلیم پھیلی ہوئی تھی آج اس کا اندازہ کرنا بھی ہمارے لیے مشکل ہے۔ ابھی مسلمانوں کو ہندوستان میں آئے ہوئے ایک صدی بھی نہ گزری تھی کہ اس ملک میں جس میں تعلیم صرف پنڈتوں کا اجارہ تھی اور جہاں اگر شودر کے کان میں مذہبی کتب کے الفاظ پڑ جاتے تو اس کی پاداش میں ان کانوں میں پگھلا ہوا گرم سیسہ ڈا لا جاتا تھا۔ ہر طرف تعلیم تعلیم کا چرچا تھا اور پورا ملک علوم و فنون کا گہوارہ بن گیا تھا ۔ سلطان محمد تغلق (۷۲۵ تا ۷۵۲ و بمطابق ۱۳۲۴ تا ۱۳۵۱ء) کے زمانے کے بارے میں مقریزی کی روایت ہے :
’’سلطان محمد تغلق کے عہد میں دہلی کے اندر ایک ہزار اسلامی مدارس قائم تھے جن میں شوافع کا بھی ایک مدرسہ تھا۔ مدرسین کے لیے شاہی خزانے سے تخوا میں مقدر تھیں۔ تعلیم اس قدر عام تھی کہ کنیزیں تک حافظ قرآن اور عالم ہو تیں۔ مدارس میں علوم دینیہ کے ساتھ معقولات اور ریاضی کی تعلیم بھی جاتی تھی‘‘ ۔
صبح الاعلیٰ کا مصنف بھی اس کی شہادت دیتا ہے کہ ہندوستان کے پایہ تخت دہلی ہیں اس وقت ایک ہزار مدارس جاری تھے ۔ پھر یہ مدارس معمولی قسم کے مدارس نہ تھے بلکہ ان میں ایسے ایسے مدارس بھی تھے جو آج کی یونیورسٹیوں سے بھی زیادہ عظیم الشان تھے ۔ مدرسہ فیروز شاہی کے بارے میں مشہور مؤرخ ضیاء الدین برنی کا یہ قول قابل نقل ہے کہ
’’دہلی کا یہ مدرسہ اپنی شان و شوکت، خوبی عمارت محل وقوع، حسنِ انتظام اور تعلیم کی عمدگی کے لحاظ سے اپنی نظیر نہیں رکھتا۔ مصارف کے لیے شاہی وظائف مقرر ہیں۔ پا یہ تخت کی کوئی عمارت حسن تعمیر اور موقع و محل کے لحاظ سے مدرسہ فیروز شاہی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ مدر سے کی عمارت بہت وسیع ہے اور ایک بہت بڑے باغ کے اندر تالا ب کے کنارے واقع ہے۔ ہر وقت سینکڑوں طلبہ یہاں موجود رہتے ہیں۔ طلبہ واساتذہ کے مکانات بنے ہوتے ہیں۔ باغ کے کنجوں میں سنگِ مرمر کے فرش پر نہایت آزادی کے ساتھ مشاغل میں منہمک نظر آتے ہیں ، عبید عالمگیری کا مشہور مغربی کپتان الیگزنڈر ہیملٹن اپنے سفرنامہ سندھ میں صرف ایک شہر ٹھٹہ کے بارے میں لکھتا ہے کہ وہاں مختلف علوم و فنون کے چار سومدر سے تھے۔ یہ کیفیت ایک شہر کی نہیں، ہر شہر کی تھی۔ ایک علاقے کی نہیں ہر علاقے کی تھی اور ایک دور کی نہیں مسلمانوں کے پورے دور حکمرانی کی تھی مسلمانوں کے پورے دور حکومت میں خواندگی ہی نہیں تعلیم کا معیار بھی بہت بلند تھا۔ اس کی سہولتیں شہر شہر، قصبہ قصبہ، دیہات دیہات، محله محله، گھر گھر پہنچی ہوئی تھیں۔ اور اس سے بدرجہا بہتر حالت تھی جسے آج کے ماہرین ہمہ درس تعلیم (UNIVERSAL EDUCATION) کہتے ہیں۔
(۵)مسلمانوں کے نظام تعلیم کی ایک خصوصیت یہ بھی رہی ہے کہ وہ خالص عوامی تھا حکومتیں تعلیم کے فروغ کے لیے کثیر روپیہ خرچ کرتی تھیں اور ہر طرح کی سہولتیں فراہم کی تھیں لیکن کسی زمانے میں بھی تعلیم کا نظام حکومت کے تابع نہ تھا۔ کوئی ایک محکمہ ایسا نہ تھا جو تعلیمی اداروں پر حکومت کی طرف سے نگرانی رکھتا ہو۔ سلاطین دہلی اور شاہان مغلیہ کے دور میں صدر الصدور کے ایک عہدے کا نام ضرور ملتا ہے۔ اس کا کام تعلیمی اور اخلاقی امور کی نگرانی تھا لیکن صرف اس حد تک کی تعلیمی ضروریات پوری ہوں ۔ مدرسوں کی آزاد فضا پر اس کا کوئی اثر نہ تھا اور نہ یہ نصاب تعلیم کو اپنی گرفت میں رکھتا تھا۔ اس شعبے کا ایک کام یہ بھی تھا کہ جو اچھے باصلاحیت نوجوان نظر آئیں ان کو فتاوی اور قضاء کی ذمہ داریوں کے لیے منتخب کرے مسلمان نے پورے دور حکومت میں کبھی بھی نصاب تعلیم کو حکومت کے تاریخ نہیں کیا۔ ہر مدرسہ اپنا نظام چلانے کے لیے آزاد تھا حتی کہ وہ مدارس جو صرف سرکاری خزانے سے قائم ہوتے تھے وہاں بھی اساتذہ آزاد تھے۔ اگر کسی بڑے عالم نے نصاب میں کوئی تبدیلی کی تو اُسے اس کی صِحت اور علمی برتری کی بناء پر تو قبول عام حاصل ہوا لیکن ریاست کی قوت کے ذریعے اسے مسلط نہیں کیا گیا۔ تعجب یہ ہے کہ اس کے بغیر بھی پورے نظام میں غیر معمولی ہم آہنگی اور مطابقت پائی جاتی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری ثقافتی قوتوں کی گرفت معاشرے پر اتنی مضبوط تھی کہ بالکل فطری انداز میں تعلیم میں یگانگت اور یک رنگی پیدا ہوئی۔ اس آزادی کے اندر اس طرح کی فطری یگانگت کی مثال بھی دنیا کے کسی دوسرے تمدن میں نہیں ملتی ۔
یونانیوں میں آزادی تھی مگر انھوں نے تعلیم کو ایک ذہنی ورزش بنا دیا تھا ،چین میں تعلیم پر خاندان اور حکومت دونوں کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ ہندو تہذیب میں عمومی تعلیم کا تصورہی نہ تھا لیکن مسلمانوں نے ریاست کی طرف سے تعلیم کی حوصلہ افزائی اور غیر معمولی مالی اعانت کے باوجود ایک بالکل آزاد تعلیمی نظام قائم کیا جس میں تقسیم کا محور استاد تھا اور نظم و ضبط کو قائم رکھنے والی قوت اخلاق کی قوت مخفی۔ یہ ایک عجیب و غریب تجربہ تھا جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ ہماری نگاہ میں اس کی وجہ اسلام کا مخصوص مزاج، اکرام انسانیت اور فرد کی آزادی کا اسلامی تصور آخرت کی جواب دہی کا احساس اور اسلام کی قائم کردہ معاشرتی جمہوریت ہے جس سے دنیا کے دوسرے نظام نا آشنا نہیں ۔
(۶)ایک طرف یہ آزادی تھی اور دوسری طرف حکومت کی سرپرستی کا عالم یہ تھا کہ وہ تعلیم کو اپنے تمام کاموں سے زیادہ اہم کھیتی تھی۔ اس کا اندازہ اس ایک جملے سے کیجئے جو نظام الملک طوسی نے ملک شاہ سلجوقی کے جواب میں کہا تھا۔ ہوا یوں کہ شاہ کو ایک موقعہ پر تعلیم پر غیر معمولی اخراجات سے کچھ تشویش ہوئی اُس نے کہا کہ اس زرِ کثیر سے تو ایک لشکر ِجرار تیار ہو سکتا ہے۔ نظام الملک نے کہا کہ ” اے بادشاہ تیری فوج کے تیر تو فقط چندقدم پر کام دے سکتے ہیں لیکن جو فوج میں تیار کر رہا ہوں اس کے تیر زمین کے سارے طول و عرض میں مؤثر ہیں اور اس کی دُعاؤں اور حسنات کے تیر تو آسمان کی سپر سے بھی نہیں رک سکتے ، ارباب حکومت تعلیم کو ایک تجارت نہ سمجھتے تھے اور نہ خزانے پر اُسے ایک بار تصور کرتے تھے بلکہ انھیں یقین تھا کہ یہ دنیا و آخرت دونوں کو بنانے کے لیے ایک موثرترین ذریعہ ہے۔
قطب الدین ایبک سےبلبن تک جو حکمران گزرے ہیں انھوں نے بڑے پیمانے پر مدارس قائم کیے اور مساجد تعمیر کرائیں۔ فیروز تغلق کے بجٹ میں ۱۳۶ لاکھ تنکہ (جو روپے کے برابر تھا) وظائف وغیرہ کے لیے تھا لیکن اس کا تقریبا ۲۵ فی صد یعنی ۳۶ لاکھ تنکہ صرف تعلیم کے فروغ کے لیے استعمال ہوتا تھا اُس نے ۳۰ کالج اور ایک یونیورسٹی دہلی میں قائم کی جس کا سارا خرچہ سرکاری خزانے سے پورا کیا جاتا تھا۔
بہمنی اور دکن کی حکومتیں بھی تعلیم پر کثیر رقوم خرچ کر رہی تھیں مغل بادشاہ میں علم کی سرپرستی میں ایک سے ایک بڑھا ہوا تھا۔ جہانگیر کا ذوق اس درجہ بڑھا ہوا تھا کہ بقول مصنف تاریخ جان جہان
’’ اُس نے اُن مدارس کو از سر نو تعمیر کروایا جو تیس تیس میں سال سے بند پڑے تھے اور پرندوں اور جانوروں کی رہائش بن چکے تھے۔ اور ان کو دوبارہ طلبہ اور اساتذہ سے بھر دیا ‘‘۔
جہانگیر نے تعلیم پر دل کھول کر خرچ کیا اور بقول ایچے جی کین :
’’ اس نے لاتعداد اسکول اور کالج قائم کیے ‘‘
محمد شاہ بھی جسے تاریخ رنگیلا کے نام سے جانتی ہے تعلیم پر بے دریغ خرچ کرتا تھا اور حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی کا مشہور دار العلوم اسی کی علمی فیاضیوں کا مرہونِ منت تھا۔ یہ تھا مسلمان حکومتوں کا حال اسی روش پر سلمان امرا، اعیان حکومت، زمیندار، جاگیر دار اور دوسرے اہل ثروت عمل کرتے تھے۔ مولانا غلام علی آزاد بلگرامی صوبہ اودھ کا حال لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں :
’’پورے صوبہ اودھ اور صوبہ الٰہ آباد کے بڑے حصے میں پانچ پانچ کوس زیادہ سے زیادہ دس دس کوس کے فاصلہ پر شرفا ءا در عالیٰ خاندان لوگوں کی آبادی ہے جو سلاطین و حکام کی طرف سے تنخواہ و جاگیر مدد معاش کے طور پر رکھتے ہیں۔ انھوں نے مساجد، مدارس اور خانقاہیں تعمیر کر رکھی ہیں۔ اور اساتذہ یر جگہ علمی فیض رسانی میں مشغول ہیں اور انھوں نے طلبِ علم کا ایک جذبہ و ولولہ پیدا کر رکھا ہے۔ طلبہ گروہ در گروہ اور فوج در فوج ایک شہر سے دوسرے شہر جارہے ہیں اور جہاں موقعہ دیکھتے ہیں تحصیل علم میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ ہر بستی کے اہل توفیق ان طلبہ کا خیال رکھتے ہیں اور اس جماعت کی خدمت کو سعادت خطی شمار کرتے ہیں۔ صاحب قرآن ثانی شاہ جہاں انار اللہ برہانہ کا قول تھا کہ ’’پورب شیراز مملکتِ ماست !‘‘
(۷)ایک اور قابل ذکر چیز یہ ہے کہ تعلیم ہمیشہ مفت رہی۔ پاک وہند کے نظام تعلیم میں نہ صرف یہ کہ تعلیم مفت تھی بلکہ طلبہ بے بود و باش اور خورد و نوش کا بھی پورا انتظام کیا جاتا تھا اور جیب خرچ کے لیے غریب طلبہ کو سرکاری ذرائع سے اور امراء کی طرف سے وظائف دیئے جاتے تھے۔ کچھ مدر سے تو ایسے تھے جو نہایت شان و شوکت کے ساتھ یہ ضروریات پوری کرتے تھے۔ مدرسوں اور مساجد میں بڑی تعداد میں جرے ہوتے تھے جو طالب علموں کی رہائش کے کام آتے تھے۔
(۸) اس نظام کی ایک اور خصوصیت استاد و شاگرد کا قلبی تعلق تھا۔ تعلیم کے محور استاد تھے اور شاگرد کے لیے اُن کی حیثیت معلم اور مربی کی تھی ۔ اساتذہ کا کردار مثالی ہوتا تھا۔ ان کے ایثار و قربانی اور اخلاص اور تعلیمی انہما ک کا حال پڑھ کر تعجب ہوتا ہے کہ اسلام کیسے کیسے نمونے تیار کر سکتا ہے اور کتنی کثیر تعداد میں کر سکتا ہے۔ اساتذہ کا تعلق اپنے شاگردوں سے کیسا تھا اس کا اندازه مشہور مدرس حکیم علی گیلانی کے بارے میں تذکرہ علمائے ہند کے اس فقرہ سے کیجیے :
’’پیوستہ طالبہ را درس گفتے وبے ایشان طعام نہ خْوردے ‘‘
(ہمیشہ طلبہ کو درس دیتے اور ان کے بغیر کھانا نہ کھاتے)
اپنے طلبہ کا ان کو کتنا خیال تھا اس کا اندازہ اس سے کیجیے کہ جب ملک العلماء مولانا عبد العلی بحر العلوم کو منشی صدرالدین نے بہار (بردوان) آنے کی تکلیف دی اور گراں قدر تنخواہ کی پیش کش کی تو مولانا نے عذر فرمایا کہ میرے ساتھ طلبہ ہیں جب تک ان کے قیام و طعام کا انتظام نہ ہوئیں نہیں آسکتا ۔ کچھ طلبہ کا حال بھی یہ تھا کہ اپنے اساتذہ سے بے حد محبت کرتے تھے اور سعادت مندی، روحانی انبساط اور قلبی وابستگی کی آخری حدوں کو چھوجاتے تھے۔
(۹) اس نظام میں صرف اُستاد اور شاگر د میں قلبی تعلق ہی نہ تھا بلکہ استاد طلبہ کے تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کی فکر بھی کرتے تھے ۔ اور انھیں ہر وقت یہ خیال دامن گیر رہتا تھا کہ طلبہ کا معیار علم ہی بلند نہ ہو۔ ان کا معیار اخلاق بھی بلند ہو اور وہ اچھے انسان اور اچھے مسلمان بن کر نکلیں ۔ اگر اس معاشرے میں تقویٰ ، ایفا ئےعہد ،عصمت و عفت، ایثار و قربانی ، صلح رحمی ، اخلاق و مروت اور ہمدردی و اخوت کا دور دورہ تھا تو اس کی وجہ یہی تھی کہ تعلیم ایک اخلاق ساز قوت کا کر دار ادا کرتی تھی ۔
(۱۰) اس دور کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تعلیمی نظام میں جمود نہ تھا۔ یہ نظام نئی نئی پیدا ہونے والی ضرورتوں کو پورا کر رہا تھا اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ اس نظام کے تیار کردہ افراد محض حجروں کی زینت نہ تھے، بلکہ نظام حکومت کو بھی چلا رہے تھے اور حکومت و دانش مندی کے ساتھ چلا رہے تھے ۔ اگر درخت کو اس کے پھل سے پہچانا جاتا ہے تو اس نظام کو ان شخصیات سے پر کھا جا سکتا ہے جنھیں اس نے تیار کیا اور جنھوں نے زندگی کے ہر شعبے میں نام پیدا کیا۔
اِ دارہ تعلیمی تحقیق ،تنظیم ِ اساتذہ پاکستان کے مقاصد
۱ – اسلامی نظام تعلیم کی تعبیر و تشریح کرنا۔
۲- موجودہ نظام تعلیم کا اسلامی نقطہ نظر سے تنقیدی مطالعہ کرنا ۔
۳ – نصاب ِتعلیم اور نصابی کتب کا تجزیہ اور نئی نصابی کتب کی تیاری ۔
۴۔قومی تعلیم کی پیش رفت کا مطالعہ اور سفارشات کی تیاری ۔
۵- اساتذہ کی نظریاتی اور فنی تربیت کے لیے لٹریچر تیار کرنا ۔
۶ – حصول مقاصد کے لیے اساتذہ کو جدید طریقہ تحقیق کی تربیت دینا ۔
۷۔ تعلیمی و تحقیقی اداروں کے ساتھ روابط قائم کرنا ۔



