EducationForwardSociety

بلوچستان کے تعلیمی ادارےاورنظم و ضبط کے چند پہلو

تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کا مسٔلہ کئی پہلوؤں سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ تعلیم محض کتابوں کو پاٹ لینے اور اساتذہ کے درس سن لینے کا نام نہیں ہے تعلیم تو نیٔ نسلوں کی ذہنی، اخلاقی ،جسمانی اور فنی تربیت کا ایک ہمہ پہلو عمل ہے جس کے ذریعے ان نسلوں کو مستقبل میں ان کے انفرادی اور اجتماعی کردار کی ادائیگی کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ نظم و ضبط کی اہمیت صرف  اس پہلوہی سے نہیں ہےکہ اس پر عملی تدریس و تربیت کا انحصار ہے اور اگر یہ مفقود ہو تو نہ صرف طلبا ان امکانات سے فائدہ ہی اٹھانے کے لائق نہیں ہوں گے جو نظام تعلیم فراہم کرتا ہے بلکہ خود ان مواقع کے زیادہ سے زیادہ مفید استعمال، ان سے حقیقی فوائد کو جذب کرنے اور تعلیمی عمل جو استعداد فرد میں پیدا کرتا ہے اس کو مفید مطلب استعمال کرنے کی صلاحیت بھی کسی نہ کسی طرح نظم و ضبط ہی کی مرہون ِمنت ہے ، اگر کسی ملک کے نظام تعلیم میں اعلیٰ سے اعلیٰ سہولتیں فراہم کر دی جائیں، بہترین اساتذہ جمع کر دیئے جائیں ، خوبصورت عمارتیں  اور تجربہ گاہیں بنادی جائیں حتیٰ کہ اچھی اچھی کتا ہیں فراہم کر دی جائیں لیکن نظم وضبط مفقود ہو تو ان سہولتوں سے کوئی قابل ذکر فائدہ نہ اٹھایا جاسکے گا۔

ہمارے ملک کی تعلیمی حکمتِ عملی کی سب سے بڑی کمزوری ہی یہ ہے کہ یہاں ہر جزو کو الگ الگ لیا جاتا ہے لیکن کل کے ہمہ پہلو بیک نظر سامنے نہیں رکھے جاتے جس کے نتیجہ میں بہت سے مفید اقدام بھی غیر موثر ہو جاتے ہیں۔ سیاسی اور دوسری وجوہ سے تعلیمی ادارے لمبے لمبے عرصے کے لئے بند رہتے ہیں اور کراچی میں تو گزشتہ دس سال میں تعلیم کے تعطل کا ریکار ڈ قائم ہو گیا ہے۔ ایسی جامعات بھی ہیں جہاں تشدد اور غنڈہ راج ہے اور جہاں پاکستان کا قومی جھنڈا تک نہیں لہرایا جا سکتا ۔ امتحانات میں کھلے عام نقل اور غیر اخلاقی حربے استعمال ہوتے ہیں۔ اساتذہ کا احترام باقی نہیں رہا ہے اور طلبأ کے مختلف گروہوں کے درمیان تصادم ناخوش گوار صورتیں اختیار کر لیتا ہے ، یہ مسلٔہ اتنا اہم ہے کہ اس پر نظری اور اخلاقی ہر دو طرح کی تحقیق ضروری ہے تاکہ حقائق کا بے لاگ تجزیہ  کر کے اصلاح کی مؤثر تدابیر اختیار کی جا سکیں۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے متعد داہل علم کو اس موضوع پر کام کرنے کی دعوت دی ہے۔ ان رفقاء میں جناب ڈاکٹر انعام الحق کوثر نے اپنے دو معاونین کی مددسے بلوچستان کے کالجوں اور اسکولوں میں نظم وضبط کے مسئلہ یہ ایک خاص انداز سے جائزہ لیا ہے جو اطلاقی تحقیق کا ایک اچھا نمونہ ہے ۔ ڈاکٹر انعام الحق کو ثر صاحب نے بلوچستان کے اساتذہ کو ایک مفصل سوالنامہ بھیجا ۔ ان مختلف پہلوؤں پر ان کی رائے معلوم کی جن کا تعلق نظم و ضبط کے مختلف پہلوؤں سے ہوتا ہے بلاشبہ اس طریق تحقیق کی اپنی خوبیاں اور کمزوریاں ہیں۔ اس کے ذریعہ معلم جو تعلیمی نظام اور طالب علم کے درمیان سب سے اہم کڑی ہے، کے احساسات اور تعلیمی کوائف کے بارے میں ان کا (Evaluation) بلا واسطہ ہمارے سامنے آتا ہے اور اس طرح معاملات کو سمجھنے میں بڑی مدد ملتی ہے لیکن دوسری طرف  یہ طریق تحقیق موضوعی (Subjective) ہے اور اس سے شخصی احساسات اور اندازے ہی حاصل ہوتے ہیں جن کی تجمیع (Aggregation) جہاں چند موضوعی پہلوؤں کو کم کر دیتی ہے وہیں پوری تحقیق کے موضوعی کردار میں فرق نہیں پڑتا ۔ نیز اس نوعیت کی تحقیق سے جہاں بہت سے ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جو سرکاری اعداد و شمار سے کبھی معلوم نہیں ہوتے وہیں تجزیہ کا دائرہ ان معلومات تک محدود کرناپڑتا ہے جو اس نوعیت کے جائزہ سےحاصل ہوتی ہیں اور ان عوامل و محرکات پر بحث ممکن نہیں رہتی جن کا احاطہ سوالنامہ میں نہ کیا گیا ہو. یہی وجہ ہے کہ جہاں یہ طریق کار ایک حد تک

نہایت مفید اور ضروری ہے وہیں مسئلہ کی تنقیح کے لیے صرف اس پر انحصار کافی نہ ہوگا۔

ڈاکٹر کو ثر اور ان کے رفقاء کے اس جائزے سے جو صرف بلوچستان کے تعلیمی اداروں تک محدود ہے چند بڑے اہم حقائق ہمارے سامنے آتے ہیں۔ میری نگاہ میں ان میں سے خصوصیت سے قابل ِ غور چیزیں یہ ہیں ۔

(۱)                                     بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی میں طلباء اور اساتذہ میں بے چینی اور اضطراب کا پیدا ہونا جو نظم و ضبط کو کمزور کرنے اور کچھ خاص حالات میں بگاڑ کا سبب بن سکنا ایک امکانی امر ہے۔

( الف ) طلبا کی تعداد اور ادارہ کی تعلمی سہولتوں میں عدم مطابقت ہے ۔ سروے میں شامل ۷۹ فیصد اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ طلباء کی تعداد زیادہ ہے۔ اسی طرح ۷۲ فیصد اساتذہ یہ سمجھتے ہیں کہ اساتذہ کی تعداد کم ہے ۔

(ب) اسکول / کالج کا محل وقوع ۴۵ فیصد کی نگاہ میں غیر تسلی بخش ہے اور شور کی وجہ سے تعلیمی ماحول متاثر ہوتا ہے اور ۲۲ فیصد کا خیال ہے کہ تعلیمی ادارہ کی چار دیواری بھی موجود نہیں ہے۔

 (ج) ۲۰ فیصد اساتذہ کی رائے میں تعلیمی اداروں میں بیت الخلا کی معقول سہولتیں موجود نہیں ہیں اور 9 فیصد کی رائے میں پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہے اور مزید ۲۹ فیصد کی رائے میں یہ انتظام نا کافی ہے۔ اسی طرح دو فیصد کی رائے میں روشنی کا انتظام نہیں ہے اور مزید ۲۷ فیصد  کی رائے میں یہ انتظام غیرتسلی بخش ہے ۔ ان اور دوسری ضروری سہولتوں کی کمی تعلیمی ماحول کو خراب کرنے کا ایک سبب ہے۔

(۲)                                     معیار تعلیم کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ طلباء کا مجموعی ریکارڈ محفوظ رکھا جائے اور اس کی بنیاد پر متعین وقفوں کے بعد ان کی کار کردگی کا جائزہ لیا جائے جس سے طالب علم ،استاد اور والدین تینوں مطلع رہیں۔ لیکن تقریباً ۸۶ فیصد آراء کے مطابق بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں طلباء کا مجموعی ریکارڈ رکھا ہی نہیں جاتا اور یہ کیفیت آزادی کے ۳۶ سال بعد ہے ۔ اسی طرح ۱ ۳فیصد آراء کے مطابق اساتذہ بالعموم پہلے سے مطلع کئے بغیر چھٹی کی درخواست دے دیتے ہیں اور ۵۵ فیصد کبھی کبھی ایسا کرتے ہیں۔ نیز ۷ا فیصد آراء سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھٹی پر گئے ہوئے اساتذہ کے پیریڈ لینے کا بھی باقاعدہ انتظام نہیں ہوتا ہے اور ۱۸ فیصد آراء کے مطابق تو تعلیمی اداروں میں جسمانی تربیت کا کوئی انتظام ہی نہیں ہے جبکہ مزید 10 فیصد کے مطابق یہ انتظام بے قاعدہ ہے ۔

(۳)  تعلیمی اداروں میں نظم وضبط کے استحکام اور طلبہ کی اجتماعی زندگی کے لیے صحت مندتربیت میں ہم نصابی سرگرمیاں بڑا اہم کردار اداکرتی ہیں۔ لیکن بلوچستان کے تعلیمی اداروں میں ۴۱ فیصد  آراء کے مطابق یا ہم نصابی سرگرمیوں کا کوئی اہتمام ہی نہیں ہے یا اگر ہے تو صرف کبھی کبھی  سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ گو کھیل میں دلچسپی کا تناسب بہتر ہے لیکن پھر بھی ۱۲ فیصدی آراء کے مطابق ایسے ادارے بھی ہیں جہاں کھیل میں دلچسی غیر تسلی بخش ہے۔

(۴)تعلیمی اداروں سے والدین کے تعلق کا حال بڑا ہی خراب ہے۔ سروے میں شامل ۵۴ فیصد اساتذہ کے مطابق اداروں سے والدین کا کوئی ربط نہیں اور مزید ۳۳ فیصد کے مطابق ربط واجبی اور غیر مسلسل ہے۔ حالانکہ اسکول اور گھر دونوں کو طالب علم کی تربیت میں برا بر  کا حصہ ادا کرنا چاہیئے اور اس عمل میں برابر کے شریک کی حیثیت اختیار کرنی چاہئیے ۔

(۵)اس جائزے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اساتذہ میں گروہ بندی بڑے وسیع پیمانے پر ہے ۔ ۷۵ فیصد  آرا ءکے مطابق اساتذہ میں گروہ بندی ہے اور مزید ۱۶ فیصد کے خیال میں اساتذہ کسی حد تک اس  میں ملوث ہیں۔ یہ  ایک ایسا مسلہ ہے جس کے بارے میں مزید تحقیق اور اصلاح کیلئے مناسب کاروائی کی ضرورت ہے۔ اس سروے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد (۷۸ فیصد آراء) طلباء کو برانگیختہ کرنے  میں کوئی نہ کوئی رول ادا کرتی رہی ہے اور نصف سے زائد اساتذہ میں ٹیوشن پڑھانے کا رجحان ہے ۔

 (۶)           یہ دلچسپ حقیقت بھی اس جائزے سے سامنے آئی ہے کہ جہاں والدین کا تعلق تعلیمی اداروں سے واجبی سا ہے وہیں غیر متعلقہ افراد نظم وضبط پر اثر انداز ہوتے ہیں اور تقریباً  ۰۵ فیصداساتذہ  یہ محسوس کرتے ہیں کہ یہ امر قابل ذکر ہے۔

 میری نگاہ میں اس مطالعہ کے ذریعہ مندرجہ بالا چھ امور پر بلوچستان کے تعلیمی اداروں کے بارے میں بڑی مفید معلومات حاصل ہوئی ہیں جن کا گہری نظر سے جائزہ لیا جانا چاہیئے اور اصلاح احوال کے لیے ضروری اقدام کی فکر کرنی چاہیئے۔ اس طرح اس جائزہ کے خطوط پر ان حالات و مسائل کا مطالع دوسرے صوبوں اور علاقوں کے بارے میں بھی کیا جانا چاہیئے اور یہ کام ایک سے زیادہ ٹیکنیک کو استعمال کر کے انجام دیا جانا چاہیئے۔ محض اس جائزے کی بنیاد پر پورے ملک کے لیے اسے  generalizeکرنا درست نہ ہوگا۔ گواصل مسئلہ کو سمجھنے میں اس سے بہت سہولت ہوگی ۔ میں اس موقع پر نظم وضبط کے  مسئلہ کے چند دوسرے پہلوؤں کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں ۔ نظم وضبط کا بڑا گہرا  تعلق اس بات سے ہے کہ نظام تعلیم، مقاصد تعلیم ،تعلیمی قیادت ، نصاب تعلیم اور خود اساتذہ کے بارے  ہیں طلباء اور معاشرہ میں کیا جذبات واحساسات پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک نا قابلِ  انکار حقیقت ہے کہ سامراجی پس منظر کی وجہ سے ہمارے ملک میں نظام تعلیم سے ہمہ گیر بے ااطمینانی پائی جاتی ہے ۔ آزادی کے حصول سے قبل مسلمانوں میں اس نظام تعلیم سے سخت بے چینی اور آزادی کے بعد یہ اضطراب اور بے اطمینانی مزید بڑھتی ہیں۔ بدقسمتی سے اصلاح اور تشکیل جدید کی کوئی مؤثر اور ہمہ گیر کوشش آج تک نہیں ہوئی اور جو بنیا دی اصلاحات کی گئی ہیں وہ

ہر کہ در کان نمک رفت نمک بْود

کے مصداق کوئی حقیقی تبدیلی لانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ نظامِ تعلیم ناقص ہے اور اس کے ناقص ہونے کا احساس بھی ہر سطح پر ہے ۔ ان دونوں کی موجودگی میں اس نظام اور اس کے کارپردازوں کے لئے احترام اور تقدس کے جذبات کیسے پیدا ہو سکتے ہیں جو نظم وضبط کی جان ہیں ؟ پھر یہ نظامِ تعلیم ملک کی صنعتی، فنی، معاشی اور سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیۓ  نئی نسل کو تیار کرنے کا کام بھی بخوبی انجام نہیں دے سکے ہے۔۳۶ سال کے بعد بھی عالم یہ ہے کہ خواندگی کی شرح ۷۷ فیصدی ہے۔ آبادی کا صرف آٹھ فیصد پرائمری تعلیم ، ۲ء۸ فیصد ثانوی تعلیم  ۳ء ۰ فیصد کالج  تعلیم اور ۶ فیصد یو نیورسٹی تعلیم حاصل کر پایا ہے۔ قومی دولت کا صرف ۱ء۵ فیصد تما م تعلیمی پروگراموں پر صرف ہو رہا تھا اور اب یہ تناسب صرف ایک فیصد رہ گیا ہے۔ ان حالات میں اگر ارباب بست و کشادہ یہ سمجھے ہیں کہ تعلیمی ماحول بہتر ہوگا اور نظم وضبط پر ان حالات کا کوئی اثر نہیں پڑے گا تو

اسے حقیقت پسندی قرار دینا مشکل ہے۔

تعلیمی اداروں میں نظم وضبط کے مسٔلہ کومحض انتظامی پس ِمنظر میں دیکھنا کافی نہیں ہے۔ تعلیمی دنیا کو معاشرہ کے عام حالات سے ہٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ پاکستان کے قیام کی جد و جہد ہیں جو ایک حیثیت سے خالص سیاسی تحریک بھی تھی۔ طلبہ نے بڑا مثبت اور فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام خود علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح کے مشورہ سے ہوا اور طلبا نے قیام پاکستان کی جدو جہد میں بھر پور حصہ لیا۔ اس کے بعد یہ توقع کہ قیام پاکستان کے بعد طلبہ مقاصد پاکستان کے عملی حصول سے بالکل غیر متعلق ہو سکتے ہیں، ایک حقیقت پسندانہ توقع نہیں ہے۔ بلاشبہ طلبہ کا سیاسی کردار محدود ہے اور اسے محدود ہونا چاہیئے لیکن جوحضرات نظم وضبط کے مسٔلہ کو محض سیاسی ناصر کا کارنامہ قراردیتے ہیں وہ ان عناصر کو ایک ایسا (Tribute) دے رہے ہیں جن کے وہ مستحق نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد تعلیمی نظام میں جن تبدیلیوں کو لایا جانا چاہیئے تھاوہ نہ آسکیں اور اس وجہ سے خود طلبہ کو نظام ِتعلیم کی نظریاتی اور فنی اصلاح اور تعلیمی سہولتوں کے حصول کے لیے جد و جہد کرنا پڑی ۔ اس جدوجہد کے اسباب بڑی حد تک داخلی اور تعلیمی انتظامیہ اور حکومتوں کے پیدا کردہ ہیں اوراگران حقایٔق کونظرانداز کر کے محض چندا داروں مثلاً طلبہ  کی یونینوں وغیرہ پر شورش کی ذمہ داری ڈال دی جائے اور اس پس منظر میں مسئلہ کا حل تلاش کیا جائے تو ایک عظیم غلطی ہوگی۔

 تعلیمی ادارے ملک کی مجموعی سیاسی اور نظریاتی فضا سے غیر متعلق نہیں رہ سکتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، سیاسی جماعتوں ‘تعلیمی قیادت اور طلباء کے درمیان ایک ذہنی ہم آہنگی ہو تا کہ طلبا ءملک کے حالات سے مطلع بھی رہیں اور روزمرہ کی سیاست میں ان کی شرکت نہ ہو۔ اس طرح تعلیمی دنیا میں جو اجتماعی ادارے ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے ہیں ان کا نہ صرف یہ کہ تحفظ ہو بلکہ ان کے صحیح خطوط پر ترقی دینے کا کام انجام دیا جائے۔ اگر کسی مقام پر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہوتا ہے تو اس کا بروقت نوٹِس لیا جائے اور بے لاگ فیصلہ کیا جائے ۔نیز ان اسباب کو دور کیا جائے جو تنازعہ کا باعث ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں نظم وضبط کے مسٔلہ کو پیدا کرنے میں بڑا دخل اس بات کا بھی ہے کہ تعلیمی انتظامیہ مسائل کا بر وقت نوٹس نہیں لیتی۔ طلباء کے مسائل اور مشکلات سے بے توجہی برتی جاری ہے۔ تعلیمی انتظامیہ کی مداخلت تعلیمی معاملات میں بڑھتی جارہی ہے۔ استاد کی مرکزی حیثیت بری طرح مجروح ہو چکی ہے۔ تعلیمی ادارے بلا واسط حکومت کی تحویل میں آگئے ہیں اور تعلیمی دنیا سے تعلیمی خودمختاری ( Educational Autonomy) ختم ہوگئی ہے ۔ ایک گروہ تعلیمی اداروں کو بھی تجارتی اداروں کے طور پر چلا رہا ہے اور حکومت ان سے ایک سرکاری شعبہ کے طور پر معاملہ کر رہی ہے حالانکہ تعلیمی دنیا کی خود مختاری خود تعلیم کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے اور یہ صرف آج کی دنیا ہی کا ایک مسلمہ اصول نہیں مسلمانوں نے اپنی تاریخ میں اس کی اعلیٰ ترین روایات قائم کی ہیں اور اس معاملہ میں اتنے حساس رہے ہیں کہ تعلیمی ادارے حکومتوں کی مداخلت حتیٰ کہ مالی مدد  سے بھی آزاد تھے اور ان کے معاملات پورے کرنے کے لئے مسلمان اہل ِخیر وقف کی بنیاد پر انتظام کرتے تھے۔ لیکن اب جامعات، کالج اور اسکول حکومت کی تحویل میں ہیں اور اس امر کی بھی کوئی زمانت نہیں کہ جو انتظامیہ ان کی نکیل سنبھالے ہوئے ہے اسے تعلیم کے مزاج اور تقاضوں کا کوئی احساس ہے بھی یا نہیں اور ان کی تربیت اس خاص میدان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہویٔ ہے یا نہیں؟ اس سلسلہ میں پاکستان کی مختلف حکومتوں، خصوصیت سے حکومت کرنے والی سیاسی پارٹی کے رویہ کا بھی بڑا دخل ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر حکومت ِوقت کی تائید کی جائے تو یہ سیاست نہیں ہے ، سیاست صرف اسی وقت ہے جب حکومت ِوقت سے اختلاف کیا جائے ! اس دورنگی سے تعلیمی فضا کا متاثر ہونا ایک فطری امر ہے۔ مسئلہ کا ایک اور پہلو طلباء اور اساتذہ ، اساتذہ اور انتظامیہ اور طلبا اور انتظامیہ کے درمیان  ربط و تعلق کی کمی اور ایک قسم کا(Communication gap) ہے جس کا نوٹس نہیں لیا جاتا اور بالآ خر نظم وضبط کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس سلسلہ میں طلباء کی یونین اور اساتذہ کی انجمنیں اور والدین کی جمعیتں بڑا مفید رول ادا کر سکتی ہیں بشرطیکہ ان کو پنپنے  اور صحیح خطوط پر پروان چڑھنے کا موقع دیا جائے۔ نہ مسائل کے انکار سے مسائل کی شرح پیداوار کم ہو سکتی ہے اور نہ حاکمو محکوم کے درمیان پردوں سے فاصلے دور کیے جا سکتے ہیں۔ نظم وضبط کا مسئلہ وسائل اور سہولتوں کے پیش نظر میں دیکھا جانا چاہیئے، ربط و تعلق اور افہام و تفہیم کے ذرائع (Channels) سے بھی اس کا تعلق ہے اور ملک کی نظر یاتی  فضا، سیاسی جماعتوں کے رویہ ، حکومت اور انتظامیہ کی دخل اندازی کی کیفیت اور تعلیمی اداروں میں خود مختاری (Autonomy) کی کیفیت سے بھی وہ متعلق ہے ۔ یہ ایک ہمہ جہتی مسلہ ہے اور صرف ایک پہلو کی روشنی میں اسے حل نہیں کیا جا سکتا ۔

ان خیالات کے ساتھ میں ڈاکٹر انعام الحق کوثر اور ان کے رفقات کے بلوچستان کے حالات کے اس مطالعہ کا خیر مقدم کرتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ ملک کے دوسرے حصوں کے بارے میں بھی معلومات جمع کرنے کا کام کیا جائے گا اور اس طرح حاصل کردہ معلومات اور دوسرے کوائف کی روشنی میں تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط کے مسٔلہ پرتحقیق و گفتگو جاری رہے گی۔

۵ فروری ۱۹۸۴

خورشید احمد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »