Interfaith RelationsIslamOpening / Closing Remarks

صدارتی خطاب

میرے عزیز بھائیو ، اور بہنو! مجھے اس بات کا احساس ہے کہ اس نشست کا وقت پہلے ہی ختم ہو چکا ہے، اس لیے میں چند منٹ میں اپنی بات مکمل کرنے کی کوشش کروں گا ۔ آپ نے جناب لیاقت بلوچ کی تقریر سنی ”نوجوان اسلامی قیادت کا ہراول دستہ ہیں“۔ آپ نے جناب صدیقی کا مقالہ سنا جو خرابی صحت کی وجہ سے یہاں تشریف نہیں لا سکے ۔ آئیے ہم سب مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت عطا فرمائے ۔ آپ نے ابھی پروفیسر خورشید احمد صاحب کی تقریر بھی سنی ۔ میں اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا ہوں کہ ہماری میشوں میں پروفیسر خورشید احمد جیسے ماہر معاشیات موجود ہیں اور یہ تنہا نہیں بلکہ ان کی رہنمائی میں کتنے ہی ادارے اور کتنے ہی لوگ رات دن تحقیق میں مصروف ہیں اور مجھے خوشی ہے کہ یہ وہ کام کر رہے ہیں جو حکومتوں کے کرنے کےہیں۔

میں اس بات کو آج پھر آپ کے سامنے دہراتا ہوں کہ ہر انقلاب کے لیے جذبے ، ہمت ، جرأت ، عمل اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ یہ تمام چیزیں ، یہ تمام اوصاف بدرجہ  نوجوانوں میں موجود ہوتے ہیں ۔ پاکستان میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے جو قربانیاں دی گئی ہیں ان میں بھی ان کا حصہ ہے ۔ ۱۹۷۳ء میں بنگلہ دیش نامنظور کی تحریک میں انہوں نے قربانیاں دیں ، ۱۹۷۷ء میں پاکستان قومی اتحاد کی تحریک میں بھی یہ ہر اول دستہ تھے اور یہ قوت آج پھر پورے ملک میں مصروف عمل ہے ۔ افغانستان کے جہاد میں بھی ہمارے نوجوان پیش پیش ہیں ۔ آج گھٹا ٹوپ اندھیرا ہے ، ہمارے بہت سے لوگ مصلحت پرستی ، دنیاوی اغراض ، بندگی اور عافیت گوشی میں پڑے ہوئے ہیں ۔ قوم کو بانٹا جا رہا ہے ، لیکن نوجوانوں ہی سے امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ان اندھیروں کو اجالوں میں بدل دیں گے ، انشاء اللہ سحر ضرور طلوع ہوگی ۔

یہ اجتماع اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان کے نوجوان بیدار ہو گئے ہیں ۔ اب انشاء اللہ اس ملک میں ہم نفرت کی خلیجوں کو باقی نہیں رہنے دیں گے ۔ اور اللہ نے چاہا تو اللہ کا نظام ہی اللہ کی سر زمین پر نافذ ہو گا ۔ خواتین تعداد کے لحاظ سے ہماری آبادی کا نصف حصہ ہو سکتی ہیں ، لیکن میں بلاخوف و تردید یہ بات کہتا ہوں کہ افادیت کے لحاظ سے یہ ۱۰۰ فیصد ہیں ۔ اسلام نے انہیں شرف ، عزت اور احترام کا مقام دیا ہے ۔ پاکستان میں آج صرف مرد ہی ان کا استحصال نہیں کر رہے ہیں بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم عمل خواتین کے بعض گروہ بھی ان کا استحصال کر رہے ہیں ۔ یہ مغرب زدہ خواتین پاکستان میں مسلمان خواتین کی نمائندگی نہیں کرتیں ۔ میرے بھائیو ! کراچی میں ابھی خواتین کا ایک اجتماع ہوا ۔ شہر کی پوری آبادی دنگ رہ گئی کہ پردہ دار خواتین کا یہ ہزاروں کا اجتماع شہر کراچی میں کیسے ہو سکتا ہے ۔ اگر اس اجتماع کی خبریں  ریڈیو ، ٹی وی اور اخبارات میں آتیں تو آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ ایک حیرت انگیز اجتماع تھا ۔ آج آپ اس اجتماع گاہ میں آئے ہیں ۔ آئیے ہم اللہ کا شکر ادا کریں کہ آج سے ۲۶ سال پہلے جماعتِ اسلامی کا جو کل پاکستان اجتماع اسی شہر لاہور میں ہوا تھا ۔ اس میں جتنی تعداد تھی ، اس سے دو گنی تعداد سے زیادہ آج صرف خواتین پر دہ کی پوری پابندی کے ساتھ یہاں جمع ہیں وہ خواتین ہیں جو اللہ کے رنگ میں رنگی ہوئی ہیں۔ میں اپنے حکمرانوں سے اور گمراہوں سے کہتا ہوں کہ یہ خواتین میدانِ عمل میں آگئی ہیں ۔ اب انشاء اللہ پاکستان میں خواتین کا استحصال نہیں ہو گا ۔

بھائیو ! پہلے غیر ملکی آقادنیا کو فتح کرنے کے لیے اپنی فوجیں لے کر آتے تھے۔ ہندوستان کو بھی انہوں نے فتح کیا تھا اور اب طریقہ یہ ہے کہ باطل نظریات ، امداد اور قرضے دینے کے بعد وہ قوموں کو اپنا محکوم بناتے ہیں ۔ آج پاکستان میں غیر ملکی آقا یہی طریقہ اپنائے ہوئے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ اگر یہاں باطل قوتوں اور حکمرانوں نے اسلام کا راستہ روکا تو اس سے ملک میں شدید خلفشار اور انتشار پیدا ہو گا جبکہ اس ملک کے عوام کی زندگی پہلے ہی اغوا ، قتل اور ڈاکہ زنی کی وارداتوں نے اجیرن کر رکھی ہے ۔ باطل اگر حق سے ٹکرائے گا تو ایک خونی انقلاب جنم لے گا ۔ اگر قوم خود کو اور اپنے ملک کو اس سے بچانا چاہتی ہے تو ہمارا پیغام یہ ہے کہ آؤ! اللہ کی وحدت میں آ جاؤ ، اسلامی نظام کو اپنا لو ، میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ اسلام آئے گا تو کسی پر کوئی ظلم نہیں ہو گا ، کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوگی ، عدل و انصاف پر مبنی نظام اس ملک کے کروڑوں عوام کے لیے خیر و برکت کا باعث ہو گا ۔

آخر میں ایک بار پھر میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ آپ نے سفر کی تکلیفیں برداشت کیں ، آپ اس وقت دھوپ میں بیٹھے ہوئے ہیں ، لیکن اس دھوپ میں میری آنکھیں آپ کو دیکھ کر ٹھنڈک محسوس کر رہی ہیں ۔

یہ اجتماع ایک روح پرور اجتماع ہے ۔ اللہ ہمیں اس کی برکتوں سے ضرور نوازے گا ۔ وأخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمين

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »