ArticleMedia ArticlePakistanPolitics and Governance

سینٹ کے بجٹ میں کٹوتی کی مخالفت

مالیات کے وزیر مملکت نے سینٹ کی مالیاتی کمیٹی کے فیصلے کو نظر انداز کیا ہے اور سینٹ کے اخراجات کے لیے 91-1990ء کی بجٹ تجاویز میں مالیاتی کمیٹی کی طرف سے منظور کردہ مجوزہ اخراجات سے کہیں کم مختص کیے ہیں۔ یہ مختص شدہ رقم ۹۰-۱۹۸۹ء کے مالی سال کے دوران ینٹ کے مجموعی حقیقی اخراجات سے کم ہے۔ مالیاتی کمیٹی نے سینٹ کی موثر کار گزاری کے لیے کئی اہم سکیمیں منظور کی ہیں۔ لیکن بجٹ کی کاٹ چھانٹ نے سینٹ کے لیے ان ذمہ داریوں کو پورا کرنا ناممکن بنا دیا ہے، جن کا تعین مالیاتی کمیشن کے منصوبے میں کیا گیا تھا۔ وزیر خزانہ اور حکومت کے اس اقدام سے سینٹ کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے، اور آئین میں متعین کردار کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ یہ بات سینٹ کے استحقاق کی سنگین خلاف ورزی کا باعث بنتی ہے۔

پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ خود مختار ادارہ ہے اور اس کی خود مختاری کو مستحکم اور قابل عمل بنانے کے لیے یہ بات ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کا کنٹرول اس کی اپنی مالیات پر ہو پاکستان کے دستور میں پارلیمنٹ، سینٹ اور قومی اسمبلی پر مشتمل ہے۔ میری اس تحریک کا تعلق بحیثیت مجموعی بجٹ یا مالی بل سے نہیں بلکہ بجٹ کے صرف اس حصے سے ہے جسے سینٹ کا بجٹ قرار دیا جاتا ہے سینٹ کے بجٹ کے سلسلے میں آرٹیکل ۸۸ بہت واضح ہے اور یہی پوزیشن قومی اسمبلی کی بھی ہے۔

Article 88 (1): “The expenditure of the National Assembly and the Senate within authorized appropriations shall be controlled by the National Assembly or, as the case may be, the Senate acting on the advice of its Finance Committee,”

(2) “The Finance Committee shall consist of the Speaker or, as the case may be, the Chairman, the Minister of Finance and such other members as may be elected thereto by the National Assembly or, as the case may be, the Senate.”

(3) “The Finance Committee may make rules for regulating its procedure.”

دفعہ ۸۸– ۱– (منظور شدہ مرد بندی کے دائرے میں سینٹ اور قومی اسمبلی کے اخراجات قومی اسمبلی یا جیسی بھی صورت ہو، سینٹ اپنی مالیاتی کمیٹی کے مشورے پر عمل کرتے ہوئے کنٹرول کرے گی۔)

۲) -مالیاتی کمیٹی، سپیکر، یا جیسی بھی صورت ہو، چیئرمین، وزیر مالیات اور ایسے دوسرے ممبران پر مشتمل ہو گی جنہیں اس کے لیے قومی اسمبلی یا جیسی بھی صورت ہو، سینٹ منتخب کرے۔(

۳ـ) مالیاتی کمیٹی اپنے طریقہ کار کے الضابطہ کے لیے قواعد وضح کر سکے گی۔(

مالیاتی کمیٹی کے فرائض

اس کے تحت ۱۹۷۳ء میں اس کے ضوابط بنے اور یہ ضوابط سینٹ سیکرٹیریٹ نوٹیفکیشن دسمبر ۱۹۷۳ء کہلاتے ہیں۔ اس سلسلے میں یہ دیکھتے ہیں کہ اس کمیٹی کے فرائض کیا ہیں۔ دفعہ ۴ کہتی ہے۔

That the Committee shall:

(a) “Approve the budget of the Senate for inclusion in the federal budget and;”

(b) “advise the Senate in regard to control over the expenditure to be incurred within the authorized appropriations.”

(کہ کمیٹی :(الف) وفاقی بجٹ میں شمولیت کے لیے سینٹ کے بجٹ کی منظوری دے گی۔)

()ب (منظور شدہ تصرفا کے دائرے میں اخراجات پر کنٹرول کے بارے میں سینٹ کو مشورہ دے گی۔(

یہ کمیٹی سارے فیصلے اتفاق رائے یا کثرت رائے سے خود کرتی ہے۔ چیئر مین سینٹ اس کا چیئر مین ہوتا ہے۔

“…….and in the absence of the Chairman the Minister of Finance shall preside at its meetings.”

(اور چیئرمین کی غیر حاضری کی صورت میں وزیر خزانہ اس کے اجلاسوں کی صدارت کرے گا۔)

اس امر کی وضاحت کی ضرورت نہیں کہ اگر سینٹ کو اپنی مالیات پر کنٹرول حاصل نہ ہو تو جو حکومت اگر سینٹ کے بارے میں کچھ خاص تصورات رکھتی ہے اور اس کی صورت سے خوش نہیں ہے۔ ایسی حکومت سینٹ کو مالی لحاظ سے مار دے سکتی ہے۔ ایسے ہی نتائج کو روکنے کے لیے دستور اور مالیاتی کمیٹی کے قواعد میں یہ تحفظ مہیا کیا گیا ہے کہ سینٹ کو     “Financial independence, financial control and financial sovereignty”                           )مالیاتی آزادی، مالیاتی کنٹرول اور مالیاتی خود مختاری(    حاصل ہو گی۔ بلاشبہ سینٹ ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو ملک کے حالات پر بھی نگاہ رکھتے ہیں جو جوابدہ ہیں اور جو بجٹ وہ بنائیں گے وہ اس کے لیے ذمہ دار اور جوابدہ ہیں۔ لیکن دستور اور ضوابط میں سینٹ کے بجٹ کو حکومت کی مرضی اور پالیسی کا پابند نہیں کیا گیا۔ اسی لیے یہ بڑی اہم بات ہے کہ سینٹ کو اختیار دیا گیا ہے۔ گوسینٹ مالیاتی بل زیر بحث نہیں لا سکتا لیکن اپنا بجٹ بنانے کا اختیار اور اپنی ضروریات کو مستعین کرنے کا اختیار اسے دیا گیا ہے۔ اس کے فنکشن میں صاف الفاظ میں کہا گیا ہے کہ

“The Committee shall approve the budget of the Senate for inclusion in the federal budget.”

(کمیٹی وفاقی بجٹ میں شمولیت کے لیے سینٹ کے بجٹ کی منظوری دے گی۔)

گویا کہ وزیر خزانہ جس وقت مالیاتی کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے کام کرے گا اس وقت اس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے اس بجٹ کا جائزہ لے اور جب کمیٹی اسے منظور کر دے اس کے بعد وزارت خزانہ کا کام یہ ہے کہ وہ اس کے لیے بجٹ بنائے، یوں اس نظام میں جمہوریت کے تحفظ کے لیے یہ بے حد ضروری ہے اور یہ بے حد ضروری چیز سینٹ با حد ضروری چیز کو اختیار دینے کے لیے ہے کہ وہ اپنے معاملات کو طے کر سکے۔

میں ۸۵ء سے سینٹ کی مالیاتی کمیٹی کا ممبر ہوں اور شرح صدر کے ساتھ یہ بات کھتا ہوں کہ سینٹ نے اپنی بجٹ سازی کے اندر اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کوئی اسراف نہ ہونے پائے۔ ہم نے ہمیشہ منصوبے اور پروگرام پہلے بنائے ہیں ان کا تجزیہ کیا ہے اور پھر ان کو مالی لحاظ سے شامل کیا ہے۔ پچھلے چھ سال کا ریکارڈ یہ ظاہر کرتا ہے کہ سینٹ اور اس کی کمیٹیوں نے کس طرح اس بات کی کوشش کی ہے کہ ملک میں جمہوری اقدار پروان چڑھیں اور جمہوری ادارے مضبوط ہو سکیں اور حکومت پر پارلیمانی کنٹرول جس حد تک اس فریم ورک کے اندر ممکن ہو سکے اسے بروئے کار لایا جائے۔

پس منظر یہ ہے کہ مالیاتی کمیٹی نے ایک ایک چیز پر بحث کی اور صرف مالیاتی کمیٹی ہی نے نہیں بلکہ مالیاتی کمیٹی نے ایک سب کمیٹی بنائی اس سب کمیٹی میں وزارت خزانہ کے نمائندے بھی تھے اور اس سب کمیٹی نے ایک ایک آئیٹم کی چھان بین کی۔ اس کے بعد ہم نے جو بجٹ بنایاوہ ۱۴۰۰۰۱، ۴۹ روپے کا تھا۔ لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ اسے من مانی سے کم کر کے ۳۸٬۰۰۶۲۰ تک گھٹا دیا گیا۔ یعنی تقریباً ۲۵ فیصد بجٹ کو کم کر دیا گیا اور کوئی وجہ نہیں دی گئی اور نہ یہ بتایا گیا کہ آپ کا فلاں خرچہ مناسب نہیں ہے۔

ہم ہمیشہ مکالے کے لیے تیار ہیں۔ مالیاتی کمیٹی اور مالیاتی سب کمیٹی دونوں نے وزارت خزانہ کے افراد سے ایک ایک آئیٹم پر بحث کی اور ہم نے خود جائزہ لینے کی کوشش کی کہ کہیں بھی اگر بچت کی جاسکتی ہے تو کی جائے۔ ہم ملک کی معیشت سے صرف نظر نہیں کر سکتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سینٹ کے لیے ریسرچ سٹاف کی ضرورت ہے۔ دنیا میں ترقی یافتہ ممالک کی پارلیمنٹوں میں ممبران پارلیمنٹ کو قانون سازی میں مدد دینے کے لیے ریسرچ سٹاف کتنا ہوتا ہے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یوایس کانگریس میں جہاں ۲۰۰ افراد پارلیمنٹ میں اور سوسینٹ کے اندر ہیں وہاں نو سو افراد پر مشتمل ریسرچ سٹاف ہے۔ جن میں ساڑھے پانچ سو افراد پی ایچ ڈی ہیں۔ ہمارے پاس نہ قانون ساز اسٹنٹ ہیں اور نہ ہی اقتصادی اسٹنٹ، ہم کسی سے کسی قسم کی کوئی ڈرافٹنگ نہیں کروا سکتے۔ اس لیے یہ وہ ضرور تیں تھیں جن کی بناء پر سینٹ کی فنانس کمیٹی نے ٹھوک بجا کر اسامیاں تجویز کیں تا کہ پارلیمنٹ کے اراکین کو ضروری معاونت مل سکے۔

۲۵ فیصد کمی

اسی طرح سینٹ کی کمیٹیوں نے معیشت، سیاست، قانون کے تمام شعبوں کو سمجھنے، ان میں اصلاح کرنے اور موٹر بنانے کی کوشش کی ہے، ان کاموں پر فطری طور پر خرچہ تو ہو گا۔ یہی دو بڑے آئیٹم تھے، جن میں ہمارے اخراجات میں اضافہ ہوا لیکن ان میں سے کسی بھی آئیٹم پر گرفت نہ کرتے ہوئے وزیر صاحب یا کابینہ نے ہمارے بجٹ میں ۲۵ فیصد کمی کر دی جو کہ

)۱ (سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے غلط ہے۔

(۲) ملک کے دستور کے خلاف ہے اور اس نے جو مالیاتی لحاظ سے آزادی کے حوالے سے سینٹ کو مقام دیا ہے، یہ اس کے منافی ہے۔

(۳) مجھے اس میں انتظام کی بو آتی ہے، ہم سے یہ کہا گیا کہ ہم اس سال ۸ فیصد افراط زر کی روشنی میں اضافہ دے رہے ہیں، اس سے ہم زیادہ اضافہ نہیں دے سکتے۔ یہ بات قطعاً غلط ہے۔

آپ کو یہ سوچنا پڑے گا کہ جو ادارہ وسعت اختیار کر رہا ہے، جس کے نئے فرائض سامنے آ رہے ہیں، آپ اس کے بارے میں محض آنکھیں بند کر کے یہ حکم دیں کہ چونکہ افراط رز ۸ فیصد ہوا ہے، اس لیے اس میں بھی آٹھ فیصد اضافہ کر دو، یہ نہ مالی طریقہ کار ہے اور نہ یہ بات ملک کی حقیقی سیاسی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے۔ بجٹ کے سرسری جائزے سے یہ دعویٰ بھی قطعاً غلط ثابت ہوتا ہے کہ صرف ۸ فیصد اضافہ ہی تمام محکموں کا کیا جارہا ہے، اس لیے کہ بجٹ کی دستاویزات سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعظم سیکرٹیریٹ میں اضافہ ۱۲٫۹ فیصد ہے، کابینہ کے اخراجات میں ۳۳٫۴ فیصد ہے، کیبنٹ ڈورمین کے اخراجات میں ۱۲۷۰۶ فیصد، وزارت صنعت میں ۵۰۰۰۱۹ فیصد اور وزارت قانون و انصاف میں اضافہ ۲۶۴۰۷۰ فیصد ہے، ویمن ڈیویلپمنٹ ڈویژن میں اضافہ ۲۰۸۰۷ فیصد ہے۔

ایسی مزید مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ یوں حقیقت کے لحاظ سے اور اصولاً بھی یہ بات غلط ہے، اور یہ دستور، قانون اور اخلاق کے منافی ہے کہ ایک خود مختار ادارے یعنی سینٹ کی مالیاتی کے جو کام تھا کہ کمیٹی نے جو بجٹ منظور کیا، اسے منظور نہیں کیا گیا حالانکہ وزارت خزانہ کا یہ کام تھا کہ وہ صرف اسے شامل کرلے اس کو اس نے ویٹو کیا، اس میں ۲۵ فیصد کمی کی، اور اس طرح سینٹ کی تحقیر کی سینٹ کو جو مقام دیا گیا تھا، جو فیصلہ ساز باڈی تھی، اس کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، اس طرح یہ سینٹ اور اس کی مالیاتی کمیٹی کے استحقاق کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔

میں مالیاتی کمیٹی کا ممبر ہوں، سینٹ کا بھی ایک رکن ہوں، اس لیے اس حیثیت سے میں یہ بات آپ کے سامنے پیش کرنے میں حق بجانب ہوں، کہ اس طرح سابقہ حکومت نے سینٹ کی تغیر کی ہے، اس کے حقوق کو پامال کیا ہے، اس کے پروگرام اور اس کی کار کردگی کو متاثر کیا ہے، اس نے سوچ سمجھ کر اپنے لیے جو مالی مطالبات مرتب کیے تھے، انہیں ماننے سے انکار کیا، یہ صریحاً استحقاق کی خلاف ورزی ہے، اس سلسلے میں حکومت اور سابق وزیر خزانہ پوری طرح جواب دہ ہیں۔

(مختلف آراء کے بعد مزید یہ وضاحت)

افسوس کی بات ہے کہ حکومت نے اپنے اوپر یہ ذمہ داری بھی لے لی ہے کہ سابقہ حکومت نے اپنا منہ کالا کرنے کے لیے جو کام کیسے تھے یہ ان کا بھی دفاع کرے اور بجائے اس کے کہ ان کی اصلاح کا راستہ اختیار کرے، کوشش یہ کرے کہ ان کی جانشین ثابت ہو۔ ہمارے لیے یہ بہت ہی دکھ کی بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وزیر خزانہ صاحب نے جو اعداد وشمار پیش کیے ہیں وہ با اعداد وشمار میرے کیس کو ثابت کرتے ہیں اس لیے کہ اس سے معلوم ہوا کہ سینٹ نے بہت ہی ذمہ داری کے ساتھ اپنے مالی امور کو چلایا ہے اس نے کبھی یہ نہیں کیا کہ مخصوص شدہ رقم کو لذا خرچ کرنا ہے۔ اس نے صرف معقول ضرورت کے تحت ہی بجٹ بڑھایا ہے اور جب جائز ضرورت نہیں تھی تو ایسا نہیں کیا۔ دوسرے الفاظ میں حکومت کا اصل فرض ہے، مالیاتی مرکزیت اور خاص طور سے مالیاتی ڈسپلن ۔ تو سینٹ نے اس کی بہت اعلیٰ مثال قائم کی ہے ہم نے بجٹ صرف اس وقت بڑھایا جب اس کا پوری طرح جواز موجود تھا۔ انہوں نے لفظ سیکرٹیریٹ استعمال کیا اگر وہ اس کو الگ کر دیتے اور الگ سے اس کے جو منصوبے تھے ان کو بھی زیر غور لے آتے تو ان کو معلوم ہوتا کہ سینٹ نے ہار ایسی اسامیاں کھڑی کی تھیں جن کے ذریعے اراکین سینٹ کو تحقیقی معاونت فراہم ہو سکتی۔ یعنی قانون سازی، معیشت، سماجی معاملات وغیرہ میں۔

دوسرا سوال کمیٹی کے اخراجات کا تھا۔ مسئلہ سینٹ کے ارکان کے اللہ نسز کا نہیں تھا ہم نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ہم نے تو دراصل سینٹ کے فرائض کو موثر بنانے کی کوشش کی اور اس کے لیے یہ مطالبہ کیا۔ جو اعداد وشمار انہوں نے دیے ہیں وہ بعینہ اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ سینٹ نے مالیاتی ڈسپلن کا بہترین مظاہرہ کیا اور اس کے بارے میں سابقہ وزیر خزانہ کا رویہ غیر ذمہ دارانہ تھا۔

دوسری بات جو وہ بالکل خوبصورتی سے چھوڑ گئے ہیں یہ ہے کہ دستور نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں بلاشبہ وہ بھی الفاظ ہیں اور میں نے خود ان کو پڑھا ہے اور میں نے انہیں چھپایا نہیں ہے یعنی Within authorized appropriations )منظور شدہ تصرفات کے اندر) لیکن سوال یہ ہے کہ دستوری نظام ان مالیاتی تصرفات کے بارے میں کیا کھتا ہے۔ یہ بات رولز میں سوئے کے بیان میں کھی گئی ہے اور اس میں، میں نے جن الفاظ کا حوالہ دیا تھا وہ فرائض کے تحت دفعہ ہم میں میں کھی اور، نے جن الفاظ کا دیا تھاوہ ہم کھے گئے ہیں۔

“The Committee shall approve the Budget for the Senate for inclusion in the federal budget.

2. The Committee shall advise the Senate in regard to control over the expenditure to be incurred within the authorized appropriations.”

(کمیٹی وفاقی بجٹ میں شامل کرنے کے لیے سینٹ کے بجٹ کے منظوری دے گی۔)

(۲ -کمیٹی منظور شدہ تصرفات کے دائرے میں اخراجات پر کنٹرول کے بارے میں)

کمیٹیوں کے دو فرائض بالکل واضح ہیں اور صاف الفاظ میں کہا گیا ہے۔ یعنی وفاقی بجٹ میں شمولیت کے لیے سینٹ کے بجٹ کو منظور کرنا ۔ اس کے لیے عملی انتظام یہ کیا گیا کہ چیئر مین سینٹ جس کی حیثیت صدر پاکستان کے بعد نمبر ۲ ہے، وزیر خزانہ اور سینٹروں کی ایک تعداد کو اس کمیٹی میں لایا گیا۔ اور قواعد میں یہ بھی مہیا کر دیا گیا کہ اگر سینٹ کا چیئر مین مالیاتی کمیٹی کی صدارت نہیں کر رہا ہو تو پھر وزیر خزانہ اس کی صدارت کرے گا۔ دوسرے الفاظ میں اسے خود مختار بنایا گیا تھا۔ اور اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہونا تھا۔ اور میری تحریک استحقاق کا اصل پوائنٹ ہی یہ ہے۔

استحقاق کی خلاف ورزی

اگر وزیر خزانہ آج کھڑے ہو کر یہ کہیں کہ ہم نے دس ملین میں سے ساڑھے نو ملین تمہیں دے دیا تو میں اس کے باوجود بھی یہ بات کہوں گا کہ یہ مالیاتی کمیٹی اور سینٹ کے استحقاق کی خلاف ورزی ہے۔ اس لیے کہ دستور اور قوانین نے یہی تعین کیا ہے کہ سینٹ کا بجٹ بنایا جائے اور اس کو حکومت کی دراندازی سے محفوظ رکھا جائے، کیونکہ مختلف قسم کی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ سینٹ ایک آزاد ادارہ ہے۔ اور اگر سینٹ کی مالیات آزاد نہ ہوں تو حکومت سینٹ کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اور اسی لیے سینٹ کے کام کو آزاد رکھنے کے لیے یہ بات مہیا کی گئی کہ سینٹ اپنا بجٹ خود بنائے۔ اور اگر سینٹ اس معاملے میں کوئی غلطی کرتا ہے تو وہ خفیہ بجٹ نہیں ہے وہ عوام کے سامنے آتا ہے وہ ایک ایک چیز کے لیے جوابدہ ہے۔

یہ بات تسلیم نہیں کی جاسکتی کہ ہم نے کوئی خیرات ان سے مانگی ہے۔ یہ بات کھنا کہ ٹھیک ہے سپلیمنٹری گرانٹ آجائے گی، یہ کوئی جواب نہیں۔ میں اصول منوانا چاہتا ہوں اور وہ اصول یہ ہے کہ سینٹ کمیٹی جب ایک بجٹ کو بنالیتی ہے تو پھر وزیر خزانہ کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو شامل کرے۔ اس کا کام اسے ویٹو کرنا نہیں۔ اور وزیر خزانہ اور حکومت نے ماضی میں جو رویہ سینٹ کے معاملے میں اختیار کیا تھا ان کی بھٹ کی پالیسی بھی اس کے مطابق تھی۔ اور اسی لیے ہم اپنے اس حق کو چھوڑ نہیں سکتے۔ یہاں معاملہ کسی خاص فرد کا نہیں، معاملہ اس ادارے کو محفوظ رکھنے کا ہے۔

ہمارا ریکارڈ یہ جاتا ہے کہ ماضی میں اگر خرچے کی ہمیں ضرورت نہیں تھی تو ہم نے دودو تین تین پانچ پانچ ملین حکومت کو واپس کیے ہیں لیکن یہ مالیاتی کمیٹی کی صوابدید پر ہے حکومت کی مرضی پر نہیں۔ اس لیے میں اصولاً یہ بات منوانے کے لیے اصرار کروں گا کہ سینٹ اس تحریک استحقاق پر غور کرے۔ اسے منظور کرے اس کا با ضابطہ جائزہ لے، اور آج کے لیے نہیں بلکہ ہر حکومت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اس بات کی پابند ہو کہ جو کانوں اور دستور کے تحت اختیار اور حیثیت مالیاتی کمیٹی کو دی گئی ہے اسے مانا جائے۔ مکالے کے لیے ہم ہمیشہ تیار ہیں لیکن ویٹو کے لیے نہیں۔

(وزیر خزانہ اور دیگر سینٹروں کے اظہار خیال کے بعد)

پہلی بات یہ ہے کہ ضوابط میں کہیں بھی اس بات کی گنجائش نہیں ہے کہ سینٹ یا قومی اسمبلی کی مالیاتی کمیٹی کے بنائے ہوئے بجٹ کی حکومت سے منظوری لی جائے۔ نمبر دو یہ کہ جہاں تک میں نے مطالعہ کیا ہے ۱۹۷۳ء کے دستور کے تحت سینٹ وجود میں آیا ہے۔ اس وقت سے آج تک یہ پہلی مثال ہے کہ جب سینٹ کی مالیاتی کمیٹی کے منظور کردہ بجٹ کو حکومت نے چیلنج کیا ہے۔ اس لیے اسی موقع پر اس کی گرفت کرنا ضروری ہے، اور یہ ایک اصول کا مسئلہ ہے۔ اگر یہ ایک روپے کی بھی کٹوتی کریں گے تو ہم اس کے خلاف لڑیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »