ArticleInternational RelationsMedia ArticleUnited States

افغانستان پر امریکی حملہ

اگر استمبر ۲۰۰۱ ء ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹاگون میں دہشت گردی کے سبب اکیسویں صدی کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا تو ۷ اکتوبر ۲۰۰۱ء افغانستان جیسے غریب تباہ حال اور مظلوم ملک پر امریکہ اور برطانیہ کی جارحانہ فوج کشی کے باعث ایک سیاہ تر دن بن گیا۔

المیہ اور مفادات

۱۱ ستمبر کے واقعے کے بعد دنیا کی ہمدردیاں امریکہ اور ان معصوم انسانوں کے ساتھ تھیں جو دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے اور افغانستان کی طالبان حکومت سمیت دنیا بھر کے مسلمان اہل امریکہ کے اس غم میں شریک ہوئے اور دہشت گردی کی مذمت بھی کی۔ غم و اور اندوہ کے ان لمحات میں امریکی قیادت اور اس کی عسکری اور مالیاتی در اندازیوں کے ستائے ہوئے مشرق و مغرب اور پس ماندہ دو ترقی یافتہ سب ہی ممالک کے عوام اپنے رستے ہوئے زخموں کی کسک کو بھی بھول گئے۔ لیکن امریکہ کی قیادت پر رعونت انتقام اور مخصوص مفادات کا غلبہ رہا۔ اس نے بے لاگ منصفانہ اور قانون کے نظام کے تحت ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پنٹاگون کی تباہی کے ذمہ داروں کے تعین اور اس دہشت گردی کے محرکات اور اسباب کے معروضی جائزے کے بجائے اس حکمت عملی کے تحت جس کی کھچڑی برسوں سے پکائی جا رہی تھی افغانستان کے عوام کو کھلی جارحیت کا نشانہ بنایا۔ محض طاقت کے بل پر اپنی بالا دستی قائم رکھنے اور وسط ایشیا کے وسائل سے مالا مال علاقے پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ریاستی دہشت گردی کے بدترین اور ظالمانہ منصوبے پر عمل شروع کر دیا۔

فسطائیت کا راستہ

اس کے لیے دوسرے ممالک کو ترغیب اور ترہیب، رشوت اور دھونس اور دھمکی کے ہتھکنڈے استعمال کر کے ایک نام نہاد “عالمی اتحاد” (World Coalition)  کا ڈھونگ رچایا۔ برطانیہ تو پہلے دن ہی سے امریکہ کی جھولی میں گر گیا تھا۔ یہ ملک جسے کئی صدیوں تک ایک عالمی طاقت کی حیثیت حاصل رہی اب امریکہ کا باج گزار بن چکا ہے۔ امریکی صدر بش اور برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر اس عالمی دھونس کے سرخیل ہیں۔ نیٹو (NATO) کے ۱۸ ممالک کو بھی خواہی نہ خواہی اس آپریشن میں شامل کر کے نیٹو کی دفعہ ۵ کو بھی متحرک کر دیا گیا کہ نیٹو کے کسی ایک ملک پر حملہ تمام ملکوں پر حملہ تصور کیا جائے گا بلالحاظ اس کے کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں اسے متعین کیا جائے کہ “جنگ” اور حملے کا حقیقی مفہوم کیا ہے۔ استمبر کے واقعات کو مبینہ ملزموں کی طرف سے “اعلان جنگ” قرار دے کر “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا طبل بجا دیا گیا۔ باقی دنیا پر سیاسی دباؤ اور بلیک میل کا ہر حربہ استعمال کیا گیا۔

یہ فسطائی فلسفہ بڑی ڈھٹائی سے پیش کیا گیا کہ: دنیا دو کیمپوں میں منقسم ہے۔ ایک مہذب دنیا اور دوسری دہشت پسند اقوام۔ اور دنیا کی تمام اقوام کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ (option) نہیں کہ وہ یا امریکہ کے ساتھ ہوں یا اس کے مخالف— یا اتحادی ہوں اور یا دہشت پسندوں کی حلیف شمار کی جائیں۔ جس طرح سرد جنگ کے زمانے میں دنیا کو سرخ اور سفید میں تقسیم کیا گیا تھا، اسی طرح اب دنیا کو سفید اور سیاہ میں تقسیم کر دیا گیا۔ کمزور ملکوں پر بندوق تان کر ان سے پوچھا گیا کہ “کس کے ساتھ ہو؟”

اگر چہ دہشت گردی کی کوئی متفق علیہ تعریف موجود نہیں ہے (جیسا کہ خود اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے استمبر کے بعد کے اجلاس کی بحث سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کسی تعریف پر متفق نہیں ہو سکی۔ اس کی بڑی وجہ قوت کے جائز اور نا جائز استعمال اور متعلقہ اقدام کے پیچھے کارفرما محرکات اور مقاصد کا اختلاف اور ان کا معتبر اور غیر معتبر ہوتا ہے۔ مگر کم از کم اس حصے کے بارے میں سب متفق ہیں کہ دہشت گردی (terrorism) کی روح سیاسی مقاصد کے لیے تشدد یا قوت کے استعمال کی دھمکی ہے:

دہشت گردی کا مطلب خصوصاً سیاسی مقاصد کی خاطر پر تشدد اور دھمکی آمیز طریقے اختیار کرتا ہے۔ (آکسفورڈ ریفرنس ڈکشنری)

امریکہ نے اس اتحاد میں کمزور ممالک کی ایک خاص تعداد کو جس طرح شامل کیا ہے۔ اس تعریف کی روشنی میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ وہ بذات خود دہشت گردی کی ایک قبیح مثال ہے۔ پاکستان سمیت بہت سے ممالک اس دھمکی کا نشانہ بنے ہیں اور جرات اور بہادری کے بہت سے دعوے دار صدر بش کی ایک ہی بھیکی پر سرنگوں ہو گئے، بقول غالب ؎

دھمکی سے مر گیا، جو نہ باب نبرد تھا

عشق نبرد پیشه طلب گار مرد تھا

امریکہ اور صدر پاکستان کا موقف

افغانستان پر امریکہ کی جارحانہ فوج کشی ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے جس کا استمبر کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ اقدام سیاسی اخلاقیات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی کھلی خلاف ورزی ہے۔ یہ طاقت کی حکمرانی اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی سیاست کی ایک مکروہ مثال ہے۔

اس سے بھی زیادہ خطر ناک پہلو یہ ہے کہ یہ ایک نئے سامراجی دور کی تمہید ہے۔ بہ ظاہر دعوی یہ کیا گیا کہ:

۱ ـ ۱۱ ستمبر کی دہشت گردی کا ذمہ دار اسامہ اور ان کی تنظیم القاعدہ ہے- افغانستان کی طالبان حکومت نے ان کو اور ان کے گروہ کو پناہ دی ہوئی ہے۔ اس لیے طالبان ان کو بے چون و چرا امریکہ کے حوالے کر دیں ورنہ امریکہ

۲ -طالبان کو طاقت کے بل پر تباہ و برباد کر دے گا-

۳ – دہشت گردی کے ان مراکز کو ختم کر کے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ ہوگی۔

۴ – یہ امریکہ ہی نہیں پوری “مہذب دنیا” کے اہداف ہیں اور ان کے حصول کے لیے ان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی تائید حاصل ہے-

۵ – یہ دہشت گردی اور دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کے خلاف جنگ ہے، اسلام یا مسلمانوں کے خلاف نہیں، بلکہ افغانستان کے عوام کے بھی خلاف جنگ نہیں ہے۔

پاکستان کے فوجی حکمران جنرل مشرف نے ۹ ستمبر (۲۰۰۱ء) کی تقریر میں اور اس کے بعد اپنے بیانات اور انٹرویوز میں امریکہ کا ساتھ دینے کے ذاتی فیصلے کے دفاع میں جو باتیں کہی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ:

  • فیصلے میں حق کی بالا دستی ہونی چاہیے۔
  • ملک کے مفاد کو اولیت حاصل ہو یعنی اس کی سالمیت معاشی ترقی اور عزت و وقار کی بلندی۔
  • پاکستان دنیا میں تنہا نہ ہو بلکہ عالمی برادری کے ساتھ رہے۔
  • اسلام کے عین مطابق ہونی چاہیے۔

یہ تقریر ۱۹ ستمبر کو ہوئی، لیکن صدر پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دینے کا فیصلہ تو ۱۵ ستمبر ہی کو کر لیا تھا۔ صدر بش نے ۱۳ ستمبر ۲۰۰۱ ء کو “اکیسویں صدی کی پہلی جنگ” کا اعلان کیا، ۴ استمبر کو امریکی سینٹ نے دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام کا اختیار بش صاحب کو دیا۔ ان کے پہلے ہی ٹیلی فون پر صدر مشرف نے امریکہ کی تائید اور اس جنگ میں امریکی جنگ باز قیادت کے حلیف بننے کے “جرات مندانہ” اور “دانش مندانہ” فیصلے کا اعلان کر دیا۔ فیصلہ ایک فرد واحد کا تھا جس کی یہ ظاہر تائید ان کی اپنی نامزد کردہ کا بینہ، سلامتی کونسل اور کور کمانڈروں نے کیا )اسے بھول جائیے کہ خود فوج میں اس کے ساتھ کیا اکھاڑ پچھاڑ کرنا پڑی اور اس کی کیا کیا داستانیں ملکی ہی نہیں ساری دنیا کی اخبارات میں شائع ہوئی ہیں( ۔ پھر صدر صاحب کے بقول انھوں نے: “قومی زندگی کے مختلف رہنماؤں سے مشورہ کیا اور اس طرح ان کے اس فیصلے کو اکثریت کی تائید حاصل ہو گئی”۔

اس بات کی ضرورت ہے کہ دلیل و برہان کی کسوٹی پر ان تمام دعوں اور خود امریکہ کے اہداف کا جائزہ لیا جائے اور حقائق اور صرف حقائق کی روشنی میں صحیح قومی اور ملی موقف کا تعین کیا جائے۔ ہمیں جنرل مشرف صاحب کی اس بات سے اتفاق ہے کہ قومی امور کا فیصلہ جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں کرنا چاہیے بلکہ عقل و دانش، حکمت دین اور ملک و ملت کے مفاد کو ہر چیز پر بالادستی ہونی چاہیے ۔ البتہ ہم اس میں یہ اضافہ کریں گے کہ بیرونی دباؤ اور خود اپنے سابقہ تجربات کو بھی فیصلہ کن مقام حاصل ہونا چاہیے۔ حضور پاک کا ارشاد ہے کہ مومن فراست سے کام لیتا ہے اور ایک ہی سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا۔

تفتیش سے گریز کیوں؟

استمبر کے واقعات سے امریکہ کی انا پر جو بھی چوٹ پڑی ہو لیکن دنیا کے ۸۰ سے زیادہ ممالک کے ۶ ہزار سے زائد بے قصور انسانوں کی اس پیانے پر ہلاکت ہمارے نزدیک ایک غیر معمولی واقعہ ہی نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف بھی ایک جرم ہے۔

جس طرح یہ اقدام امریکہ کے دستور اور بین الاقوامی قانون اور معاہدات کے تحت جرم ہے اسی طرح خود اسلامی قانون کے تحت بھی ایک جرم ہے۔ عالم اسلام کی تمام حکومتوں، تحریکوں اور علمائے کرام نے اس کی شدید مذمت کی۔ طالبان حکومت نے بھی ایک کی اسی وقت مذمت کی اور خود اسامہ بن لادن نے اس سے لا تعلقی کا برملا اظہار کیا۔

اس کے باوجود اس حادثہ فاجعہ کے آدھ گھنٹے کے اندر امریکی ٹیلی ویژن سی این این نے اسامہ بن لا دن کو ملوث کرنے کی کوشش کی اور ایک گھنٹے کے بعد اسرائیل کے سابق وزیر اعظم باراک نے لندن میں بسی بسی سی کے ایک پروگرام میں ایک لکھی ہوئی تقریر میں اسامہ بن لادن اور عربوں کو ذمہ دار ٹھیرا دیا۔ اس کے بعد سے کسی تحقیق، سائنسی تفتیش، قومی انکوائری یا عدالتی کمیشن اور اس کی عدالتی کارروائی کے بغیر اوپر سے نیچے تک سب نے ایک ہی راگ الاپنا شروع کر دیا کہ: “اس اقدام کی ذمہ داری اسامہ بن لادن اور القاعدہ پر ہے اور افغانستان کی طالبان حکومت انھیں فی الفور غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کر دئے”۔

اس ایک دعوے کے سوا تحقیق و تفتیش کا کوئی دوسرا اقدام سامنے نہیں آیا حالانکہ امریکی صدر جان ایف کینیڈی [۶۳-۱۹۶۱ء [کی ہلاکت اودکلا ماما کی تباہی اور اسکول تک میں بچوں کے ہلاک کیے جانے کے واقعات کی باقاعدہ تفتیش ہوئی، کئی کئی کمیشن بنے کھلی عدالتی کارروائی ہوئی سینٹ اور کانگرس کی کمیٹیوں نے اپنی اپنی تحقیقات کر کے ان کے نتائج پیش کیے۔ لیکن ایک اتنے بڑے تباہ کن اور عالمی معیشت و سیاست کو متاثر کرنے والے واقعے کے اصل حقائق، اسباب و محرکات اور نتائج پر پردہ ڈالا گیا اور سارا نزلہ اسامہ بن لادن پر گرا دیا گیا جو اس سے اپنی برات کا اظہار کر چکا ہے۔

اسامہ بن لادن اور اس کے رفقا پر دو مقد مے امریکی عدالتوں میں چل رہے تھے۔ ۵ سال سے اس کے خلاف وہ امریکی سراغ رساں ایجنسیاں سرگرم عمل ہیں جن پر ۵۰ ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ سرکاری خزانے سے خرچ کیا جا رہا ہے۔ یہ دعوئی بھی کیا گیا ہے کہ ستمبر کے واقعے کی تیاری کم از کم دو سال سے ہو رہی تھی اور جہاز اغوا کرنے والوں (جواب دنیا میں نہیں) کے علاوہ کم از کم ۵۰ مزید افراد اس میں شریک ہونے چاہیں، مگر ان کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں۔

حادثے کے بعد جن ۷۰۰ افراد کو حراست میں لیا گیا ان سے بھی کوئی قابل ذکر بات حاصل نہیں ہوئی۔ جس مہارت العظم و ضبط اور ملک کے مختلف شہروں میں باہمی رابطے کے ذریعے یہ کام ہوا وہ کسی باہر کے ادارے کے لیے کیسے ممکن ہے؟ خصوصیت سے ایسے ادارے کے لیے جو پندرہ ہزار کلو میٹر دور ہو جس کے لوگوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر ہو اور جس کی جڑیں اس ملک کے حساس اداروں میں نہ ہوں جہاں سے یہ کام ہوا ہے۔

انتر اکس کا الزام؟

جراثیم پھیلانے والے پاؤڈر سے پیدا شدہ بیماری انتھراکس (Anthrax) کے معاملے میں بھی یہی ہوا کہ اسے پہلے اسامہ بن لا دن کے کھاتے میں ڈالنے کی کوشش کی گئی اور اب خود برطانوی حکومت کے وزارتی دفتر سے حاصل کردہ ۱۲۰ صفحات کی ایک رپورٹ Deliberate Release of Chemical and Biological Agents سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ القاعدہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔

اسی طرح امریکی حکومت میں داخلی سلامتی کے نئے ڈائر کٹر تھا اس ایج کا کہنا ہے: ایف بی آئی نے یہ معلوم کر لیا ہے کہ خطوط کہاں سے ڈاک میں ڈالے گئے تھے۔ چونکہ انتھر اس کے لفافے ڈالنے کی کارروائی ۱۱ ستمبر کے قریب تھی اس لیے شروع میں حکام نے یہ سمجھا کہ ان کا انتہا پسند مسلم بنیاد پرستوں غالباً اسامہ بن لا دن اور اُن کی القاعدہ تعظیم سے تعلق جوڑا جا سکتا ہے۔ لیکن گذشتہ چند دنوں میں رائے تبدیل ہو چکی ہے۔ تفتیش کار اس کے زیادہ قائل ہوتے جارہے ہیں کہ کوئی ایک فرد یا گروہ جو امریکہ میں رہائش پذیر ہے سفید پوڈر کا ذمہ دار ہے جس نے ایک برطانوی ایڈیٹر کی جان لے لی اور امریکی میڈیا کی سیاست اور معیشت کی سرگرمیوں کو جامد کردیا-

دہشت گردوں کی شناخت؟

سوال یہ ہے کہ استمبر کے واقعے کی تحقیق کیوں نہیں کی گئی؟ جتنے بھی امکانات ہیں ان سب کا جائزہ کیوں نہیں لیا گیا؟ سارا ملبہ صرف ایک شخص پر کیوں گرا دیا گیا؟ حالانکہ جو بھی شواہد سامنے آچکے ہیں انھوں نے اصل واقعے کو اور بھی پڑ اسرار بنا دیا ہے۔ اسامہ اور اس کے ساتھیوں کے پاس نہ وہ مہارت اور ٹکنالوجی تھی نہ ملک میں ان کے اثرات اور ایسے اصحاب و اعوان تھے جو یہ کام انجام دے سکیں۔ خود امریکہ سے کوئی واضح رابطے (linkages) سامنے نہیں آئے اور تازہ ترین رپورٹوں کی روشنی میں خود یورپ کے رابطے بھی غیر ثابت شدہ ہیں۔ برطانیہ کے بارے میں تو ۱۲۳ اکتوبر کے گارڈین نے واضح الفاظ میں رپورٹ دی کہ اس ملک میں القاعدہ کا کوئی باضابطہ حلقہ یا گروہ موجود ہی نہیں۔

پھر جو سوالات مبینہ اغوا کنندگان کے بارے میں سامنے آئے ہیں اور جس طرح ان کی شناخت کو خود سعودی عرب کے سرکاری حلقوں نے چیلنج کیا ہے نیز ان کے طرز بودوباش اور عیاشیوں اور بدکاریوں کے بارے میں جو شہادتیں سامنے آئی ہیں، وہ القاعدہ سے ان کے تعلق کے لیے کوئی جواز فراہم نہیں کرتیں۔ اسی طرح ایک نہیں کئی ماہرین نے جو سب امریکی ہیں، انھوں نے چیلنج کیا ہے کہ چھوٹے سویلین جہازوں پر تربیت لینے والے شوقیہ پائلٹ ۷۵۷ جہازوں کو ہوا میں اڑتے ہوئے اصل ہوا بازوں کو مار کر یا ہٹا کر قابو نہیں کر سکتے اور نہ اتنے ٹھیک ٹھیک نشانے سے نیو یارک جیسے شہر میں اتنے چھوٹے متعین اور ہزاروں فلک بوس عمارتوں کے جنگل میں گھری ہوئی بلڈنگ سے ٹکرا سکتے ہیں۔ وہ انجینیر جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تعمیر میں شریک تھے ان کے بیانات انٹرنیٹ پر آئے ہیں کہ صرف جہاز سے ٹکراؤ اور جہاز کے تیل کی آگ سے ان عمارتوں کی تباہی ممکن نہیں۔

اس پورے معاملے کے پیچھے کچھ اور ہے جس کی پردہ کشائی کی کوئی کوشش نہیں ہو رہی۔ تمام متعلقہ ہوائی اڈوں کے واچ ٹاور سے اغوا شدہ جہازوں کی مانٹیر جنگ اور پائلٹ سے کی جانے والی گفتگو بھی ایک معما ہے۔ بیش تر معلومات غائب ہیں۔ چار میں ۔ صرف ایک جہاز کا بلیک باکس ملا ہے باقی کے بلیک بکس غائب ہیں۔ ۶ ہزار افراد کے مرنے کی اطلاع ہے مگر لاشیں صرف ۶۰ کے قریب نکلی ہیں۔ بلڈنگ جس طرح تباہ ہوئی ہے یعنی اوپر سے نیچے اور ادھر ادھر نہیں گری یہ بھی ایک معما بنا ہوا ہے مگر ان معاملات کی کوئی تحقیق و تفیش نہیں کی جا رہی اور محض مفروضوں پر اسامہ بن لادن کو ملزم ٹھہرا دیا گیا۔ صدر بش پوری رعونت سے کہتے ہیں: “ہمیں کسی تفتیش کسی عدالتی عمل کسی شہادت اور مقدمہ چلانے کی ضرورت نہیں۔ اسامہ مجرم ہے۔ ہم جانتے ہیں وہ guilty ہے۔ اسے ہمارے حوالے کرو ورنہ ہم تم کو نہیں نہیں کر دیں گے”۔

اسامہ: ثبوت کی حقیقت

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیر نے جو “شواہد نامہ” (evidence) برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیا ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔ ۲۳ صفحات کی اس رپورٹ میں جو ہے نکات پر مشتمل ہے پہلے ہی پیراگراف میں اعتراف ہے:

یہ دستاویز اسامہ بن لادن کے خلاف مقدمے کو کسی قانونی عدالت میں پیش کرنے کے لائق بناتی نظر نہیں آتی۔

معروف تجزیہ نگار رابرٹ فسک نے اس تناظر میں لکھا ہے:

امریکیوں کو اسے شرق اوسط میں منوانے میں سخت وقت پیش آ رہی ہے۔ اس کا امکان نہیں ہے کہ برطانوی حکومت کی دستاویز جس میں استمبر کی ہلاکتوں کی ذمہ داری اسامہ بن لادن پر “ثابت” کی گئی ہے عرب دنیا کو مغرب کی دہشت گردی کے خلاف جنگ پر مجتمع کر سکے۔ مذکورہ دستاویز میں میں سے صرف ۹ نکات عالمی تجارتی مرکز اور پنٹاگون پر حملوں سے متعلق ہیں اور اس میں بھی “قیاس” پر انحصار کیا گیا ہے نہ کہ شواہد پر رہے۔

روز نامہ گارڈین ان شواہد کے بارے میں بجا طور پر سوال اٹھایا ہے:

۱۱ استمبر کی دہشت گردی کے بارے میں اسامہ بن لادن کے باقاعدہ مقدمے کا سامنا کرنے کا بعید از امکان واقعہ اگر پیش آ بھی جائے تو اس کے خلاف جو مقدمہ برطانوی حکومت نے گذشتہ دنوں شائع کیا ہے، قانونی نقطہ نظر سے اس میں کوئی جان نہیں ہے۔ بش حکومت کے اس اعلان پر کہ وہ بن لادن کے خلاف ’شواہد ‘ پیش کرے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ مسٹر بلیر کا مقدمہ دو لفظوں پر ختم ہو جاتا ہے: “صرف مجھ پر اعتماد کرو”ـ

اور لطف کی بات یہ ہے کہ اب بش حکومت اپنے دعوے سے اعلانیہ پھر گئی ہے۔ اب اس کا موقف ہے کہ کسی شہادت یا ثبوت کی ضرورت نہیں، حالانکہ خود امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے وعدہ کیا تھا: “شہادتیں عوام کو دکھا ئیں گئے”۔ اخبارات صاف لکھ رہے ہیں کہ کوئی شہادت موجود ہی نہیں دکھائیں گے کیا؟

انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون نے نیویارک ٹائمز کا اداریہ نقل کیا ہے کہ گواہی

تو موجود نہیں مگر پھر بھی یہ کیسی قابل یقین ہے، عنوان ہے “A Believable Case” :لیکن اداریے میں جن حقائق کو تسلیم کیا گیا ہے وہ یہ ہیں:

 یہ رپورٹ کوئی ۱۰۰ فی صد یقینی ثبوت فراہم نہیں کرتی۔ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا کوئی ایسا ریکارڈ موجود نہیں ہے جس میں بن لادن نے حکم دیا ہو کہ امریکی جہاز اغوا کر لیے جائیں….. مسٹر بلیر نے ساری دنیا کو دعوت دی: “میری بات پر یقین کر لیں اور خفیہ اداروں سے حاصل کردہ رپورٹیں قابل اعتماد ہیں …..”یہ برطانوی رپورٹ امریکی برطانوی خفیہ ایجنسیوں کے فراہم کردہ شواہد مسٹرین لادن کے پبلک اعلانات اور القاعدہ کے ارکان کے خلاف ماضی کی عدالتی کارروائیوں سے مرتب کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ استغاثہ دائر کرنے کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں-

امریکی مفت روزہ ٹائم کا مضمون نگار The Case Against Evidence کے عنوان سے ایک جائزہ پیش کرتے ہوئے بین السطور میں اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ “فی الحقیقت کوئی ثبوت موجود نہیں:”

برطانیہ کے انڈی پنڈنٹ کے مدیر اس امر کی فیصلہ کن شہادت کے منتظر ہیں کہ اسامہ بن لادن، نیویارک اور واشنگٹن پر ہولناک حملوں کے ذمہ دار ہیں۔ آبزرور لکھتا ہے: ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے معمولی ساشیہہ جسے کوئی وزن دیا جا سکتا ہے اسامہ بن لادن کی طرف اشارہ کر رہا ہے لیکن پھر فورا ہی یہ لکھا ہے کہ “شہہ اور ثبوت کی ذمہ داری بہت مشکل مسئلے ہیں” ۔ ایڈورڈ سعید نے ]فرانسیسی اخبار[ الی سانڈے میں لکھا ہے: “آج کے دن تک کوئی ثبوت موجود نہیں ہے” ۔ واشنگٹن میں جرمنی کے سفیر نے گذشتہ ہفتے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ اپنے اتحادیوں کے سامنے بن لادن کے خلاف ثبوت پیش کرے۔ انھوں نے کہا: “تھوڑے سے ثبوت کی فراہمی بھی بہت زیادہ مفید ہوگی”۔

جو “حقائق اور شواہد” برطانیہ کے وزیراعظم نے امریکہ کی سی آئی اے اور برطانیہ کی ایم آئی ۵ کی چار ہفتے کی تحقیق کے بعد پیش کیے ہیں اس کو گارڈین کے کالم نگار جارج مون بیوٹ اور انڈی پنڈنٹ کے سینئر مضمون نگار را برٹ فسک نے تار تار کر دیا ہے۔ جارج مون بیوٹ تو یہاں تک لکھتا ہے:

میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ خفیہ ایجنسیوں کے کارندوں نے بن لادن کے خلاف پہلے ایک تھیوری جوڑ جاڑ کر بنائی اور پھر ادھر اُدھر سے ان حقائق کو تلاش کیا جو اس میں مددگار ہونے کے لیے مطلوب ہیں۔۔۔ میرا خیال ہے کہ بن لادن کے خلاف کچھ شہہ پیدا کرنے والے نئے ثبوت طلب کرنے کا خاصا جواز ہے۔

مون بیوٹ نے صدر جارج بش کے عزائم کو صاف لفظوں میں یوں بے نقاب کیا ہے: صدر بش نے عظیم الشان موت کا دستہ تیار کر کے [افغانستان] روانہ کیا ہے تا کہ وہ ماورائے عدالت سزائے موت نافذ کر دے۔

ایک طرف تو یہ صورت حال ہے اور دوسری طرف دیکھیے، کیا منظر نامہ ہے؟

جنرل مشرف صاحب ایک فرد یا ایک جماعت نہیں، ایک پوری قوم کے سفاکانہ قتل میں نہ صرف شریک ہو گئے۔ بلکہ یہ سرٹیفکیٹ بھی عنایت فرما دیا کہ وہی نام نہاد ثبوت جنھیں ساری دنیا کے غیر جانب دار قانون دان اور سیاسی مفکر اور مبصر رڈ کر رہے ہیں اور ثبوت کی جگہ محض شبہات قرار دے رہے ہیں، بقول مشرف صاحب وہ اسامہ بن لادن ہی نہیں طالبان کا جرم ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔ انٹرنیشنل ہیرالڈ ٹربیون اپنے هير اداریے میں جنرل مشرف صاحب کے اس طرز عمل پر تعجب بھری خوشی کا اظہار کیے بغیرنہیں رہ سکا جو ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے:

مسلم دنیا کے لیے یہ مسئلہ خصوصی طور پر بہت حساس ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کی پر زور کھلے عام توثیق بہت اہمیت رکھتی ہے۔ جمعرات کو مشرف حکومت برطانیہ سے بھی ایک قدم آگے بڑھ گئی اور اعلان کیا کہ جو ثبوت واشنگٹن نے دکھائے ہیں وہ کسی عدالت میں بن لادن کے خلاف مقدمہ چلانے کے جواز کے لیے کافی ہیں-

۱۰ اکتوبر کو اسلامی وزرائے خارجہ کی کانفرنس میں قطر کے امیر شیخ محمد الثانی تو بڑے ادب اور عجز سے کہتے ہیں کہ: “اسامہ بن لادن کے استمبر سے تعلق کو ثابت کرنے کے لیے مزید ٹھوس ثبوت (concrete evidence)   کی ضرورت ہے” ۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے فوجی صدر محترم فرماتے ہیں کہ بس یہی “ثبوت” ایک قوم کو سولی پر چڑھانے کے لیے کافی ہیں۔ اکانومسٹ کا یہ تبصرہ پاکستان کی قیادت کے لیے تازیانے سے کم نہیں:

اب تک ۱۹ مردہ ہائی جیکروں سے ملنے والے سراغوں پر ۵۴۰ تفتیشی انٹرویو کیے گئے ہیں ۳۸۷— ۴ ہزار ۴ سو عدالتی سمن جاری ہوئے ہیں اور ۵۰۰ سے زیادہ افراد کوگرفتار کیا گیا ہے۔ اور یہ وہ ہے جو امریکہ کی حدود کے اندر ہوا ہے۔ دیگر ۲۵ ملکوں میں مزید ۱۵۰ افراد گرفتار کیے گئے ہیں تاہم تہائی جیکروں اور اسامہ بن لادن کے درمیان کوئی ٹھوس رابطہ ابھی عوام کے سامنے آنا باقی ہے-

اب تک کی ساری گواہیوں اور قرائنی شہادتوں کا نتیجہ اکانومسٹ یہ بتاتا ہے:

ان میں سے کوئی چیز بھی اسامہ بن لادن کو یقینی طور پر سب سے بڑا ولن نہیں بنا سکتی۔ ابھی تک کسی نے بھی کسی بات کا اعتراف نہیں کیا ہے۔

بھارت تو اسامہ بن لادن اور طالبان کے خلاف پیش پیش ہے۔ اس کے اخبارات اور رسائل بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں اور امریکی ایف بی آئی کی چالیس ہزار تفتیشی سراغوں اور ایف بی آئی کے چار ہزار ایجنٹوں کی دن رات کی سرتوڑ کوشش کے باوجود کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوسکا ہے،:still does not reveal much

اسامہ کے ملوث ہونے کے بارے میں الزامات تو بہ کثرت ہیں، لیکن شواہد نا قابل ذکر حد تک موجود نہیں-

اسی اشکال کا اظہار بھارت کے مجلے فرنٹ لائن کے مضمون نگار نے کیا ہے۔ بلکه پروین سوامی نے لی مانڈے کے حوالے سے مشہور فرانسیسی محقق اور افغانستان کے اُمور پر چوٹی کے ماہر اور کئی کتابوں کے مصنف کی یہ رائے نقل کی ہے:

اسامہ بن لادن ساری دنیا کی انقلابی اسلامی تحریکوں کا شہ دماغ نہیں ہے۔ اس کو ایسے جنگجوؤں کو ٹریننگ دینے والا سمجھنا چاہیے جو بعد میں خود اپنے عمل کا میدان منتخب کرتے ہیں ۔

اور یہی تجزیہ ہے مشہور مصری سیاسی مبصر اور سابق وزیر محمد ہیکل کا جو روزنامہ گارڈین میں اسٹیفن موس نے انٹرویو کی شکل میں شائع کیا ہے:

اس نے یہ سوال بھی کیا کہ آیا اسامہ بن لادن اور اس کا القاعدہ نیٹ ورک ۱۱ ستمبر کے حملوں کے واحد ذمہ دار قرار دیے جا سکتے ہیں، جب کہ جو کچھ ثبوت پیش کیے گئے ہیں وہ کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں۔ “بن لادن اس پائے کی کارروائی کے لیے صلاحیت نہیں رکھتا۔ جب میں صدر بش کو القاعدہ کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنتا ہوں کہ جیسے یہ نازی جرمنی جیسی طاقت ہے یا سوویت یونین کی کمیونسٹ پارٹی ہے تو مجھے ہنسی آتی ہے اس لیے کہ میں جانتا ہوں کہ حقیقت کیا ہے۔ “بن لا دن کئی برس سے زیر نگرانی ہے۔ اس کی ہر ٹیلی فون کال مانٹیر کی جاتی ہے۔ القاعدہ کے نیٹ ورک میں امریکی پاکستانی سعودی اور مصری خفیہ ایجنسیاں گھسی ہوئی ہیں۔ جس کارروائی میں اس درجے کے نظم اور بار یک بینی کی ضرورت ہو وہ اس کو راز نہیں رکھ سکتے تھے”۔ ہیکل ان باتوں کو بہت کم وزن دیتا ہے کہ منصوبہ بندی میں زیادہ مرکزی کردار بن لادن کے نائب مصری اسلامی جہاد کے قائد ایمن الزہراوی نے انجام دیا ہو۔ “وہ خطرناک آدمی ہے اور مصر کے صدر انوار سادات کے قتل [اکتوبر ۱۹۸۱ء میں شریک تھا، لیکن وہ کوئی بڑا سوچنے والا یا منصوبہ ساز نہیں ہے۔ سادات کے قتل میں بھی اس نے مرکزی کردار ادا نہیں کیا۔ اس منصوبے میں بھی سطحی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور یہ صرف خوش قسمتی کی وجہ سے کامیاب ہوا تھا۔ الجزیرہ سیٹلائٹ سے ان کے انٹرویو سے ظاہر ہوتا ہے کہ بن لادن اور الزہراوی صرف اپنے وجدان پر انحصار کرتے ہیں”۔ ہیکل کو یقین ہے کہ استمبر کے سانحے کے بارے میں ابھی تک کئی وضاحتیں سامنے نہیں آئی ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ حقیقت کچھ بھی ہو اب تک جو اسباب بیان کیے گئے ہیں وہ جلد بازی اور غیر معمولی سہل پسندی کا مظہر ہیں اورغیر فیصلہ کن ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ امریکی انتظامیہ کو امریکی عوام کے غیظ و غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے فورا ہی کوئی دشمن مطلوب تھا جس کو ہدف بنایا جا سکتا۔ مگر میری خواہش ہے کہ وہ واقعی کچھ حقیقی ثبوت لاتے۔ مسٹر بلیر نے پارلیمنٹ میں جو کچھ کہا میں نے اسے بڑے غور سے پڑھا ہے۔ انھوں نے ایسی فضا بنائی جس سے یہ محسوس ما ہو کہ وہ کوئی ثبوت پیش کرنے والے ہیں۔ لیکن یہ کوئی ثبوت نہیں ہے کوئی نہیں ۔ یہ سب اخذ کردہ نتائج ہیں۔ کولن پاول نے سب سے زیادہ دیانت داری کا مظاہرہ کیا۔ اس نے کہا کہ: اگر ثبوت نہیں تو کوئی بات نہیں۔ بن لادن نے دوسرے بہت سے ایسے جرائم کیے ہیں جن کی وجہ سے اس کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہے۔۔۔ لیکن یہ اس چینی ضرب المثل کی طرح ہے: “اپنی بیوی کو ہر روز مارو اگرتم وجہ نہیں جانتے وہ تو جانتی ہی ہوگی”۔ آپ اس طرح نہیں کر سکتے-

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے پاس کوئی حقیقی شہادت موجود ہی نہیں ہے۔ جو کچھ شہادت کے نام پر ہے اور اس کی جو مجموعی تصویر پیش کیا جا رہا ہے وہ صرف شبہات کا مجموعہ اُبھرتی ہے وہ پراگندہ خام تشنہ مفروضوں پرمبنی غیر مربوط تضادات سے پڑ نا قابل اعتماد اور ثبوت سے محروم ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ “ہم ساری معلومات ظاہر نہیں کر سکتے” لیکن یہ اصول انصاف، بنیادی حقوق اور نظام عدل کے خلاف ہے۔ کسی کو یہ اختیار نہیں کہ مخدوش اور نا قابل چینج معلومات کی بنیاد پر دفاع اور جرح و تعدیل کے حق کے بغیر کسی بھی شخص یا گروہ کو ملزم ہی نہیں مجرم قرار دے اور پھر خود ہی اسے سزا سنا کر اس سزا پر عمل بھی کر ڈالے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ یہ ظالمانہ دعوی بھی کرے کہ: “جو ممالک بھی اس کی نگاہ میں اس کے مطلوبہ افراد کو پناہ دیں گے۔ وہ ملک بھی گردن زدنی ہیں اور ان کے عوام بھی وسیع تباہی (mass destruction) کے ہتھیاروں کا نشانہ بنائے جائیں گے”۔

سچی بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ جو کچھ معلومات باہر لائی گئی ہیں اس کے علاوہ کوئی پیش کیے جانے کے لائق معلومات یا شہادتیں ہیں ہی نہیں۔ محض اپنی انا اور جذبہ انتقام کی تسکین اپنے سلامتی اور خفیہ معلومات کے نظام کی ناکامی اور اپنے عوام کے جذبات کو غلط رخ پر ڈالنے کے لیے کشت و خون کا یہ بازار گرم کیا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے کچھ دوسرے مقاصد ہیں جن کو حاصل کرنے کے لیے زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ ورنہ معقول راستہ صرف ایک تھا اور وہ یہ کہ اگر اسامہ بن لادن اور ان کے القاعدہ کے بارے میں کوئی مسکت معلومات اور شواہد تھے تو فوری طور پر ایک پارلیمانی یا عدالتی کمیشن بنایا جاتا۔ جو آزاد تحقیق و تفتیش اور کھلی سماعت کے ذریعے کیس کا جائزہ لیتا۔ اگر کوئی ٹھوس شہادت سامنے و اور کا اگر کوئی آتی تو عدالتی عمل کے ذریعے ملزموں کو امریکہ کی کسی اعلیٰ عدالت میں مقدمے کے لیے تحویل ملزمان کے معروف بین الاقوامی ضابطے کے تحت حاصل کیا جاتا یا متعلقہ حکومتوں کے ذریعے کسی عالمی عدالت اور غیر جانب دار عدالتی کمیشن کے سامنے مقدمہ چلایا جاتا۔

طالبان نے بار بار شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور یہاں تک کہا کہ: “ہم غیر جانب دار مسلمان ممالک کی اعلیٰ عدالت یا اعلی عدالتی کمیشن کے آگے اسامہ کو پیش کرنے کو تیار ہیں”۔ لیکن صدر بش کی ہٹ دھرمی رعونت اور سامراجی عزائم نے انھیں کسی معقول راستے کی طرف آنے ہی نہیں دیا بلکہ ان کا ایک ہی جواب تھا:

جب میں کہتا ہوں: کوئی مذاکرات نہیں میرا مطلب یہی ہوتا ہے کوئی مذاکرات نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ مجرم ہے۔ اسے حوالے کر دو۔ جرم یا بے گناہی پر گفتگو کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔”

حالانکہ خود برطانوی پارلیمنٹ کے سینیر ارکان میں ٹیم ڈی لیل (جو پارلیمنٹ کے سب سے معمر نمبر ہیں اور دارالعوام کے فادر کہلاتے ہیں) کہہ رہے ہیں:

 ۱۱ ستمبر کو نیویارک میں دہشت گرد حملوں کا برطانیہ میں ٹھیک وہی ردعمل ہوا جو اسامہ بن لادن چاہتا تھا ۔۔ دہشت گردی کے خلاف اینگلو امریکی پیش قدمی ساری دنیا میں برطانوی امریکی شہریوں پر حملوں کی صورت میں منتج ہوسکتی ہے۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ جتنی جلد ممکن ہوا اقوام متحدہ کو سامنے لایا جائے اور اسے ایک طرف نہ رکھا جائے۔ اب بھی کوشش ہونا چاہیے کہ طالبان کو پیش کش کی جائے کہ اسامہ بن لادن کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام کسی عدالت میں پیش کر دیں جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں طرح کے بیج ہوں ۔

 بھارتی رسالے فرنٹ لائن نے بھی ادارتی کالموں میں اسے امریکہ کی غیر منصفانہ جنگ (American’s unjust War) قرار دیتے ہوئے لکھا:

اس خوف ناک جرم کا صحیح رد عمل یہ ہو سکتا تھا کہ ارتکاب جرم کرنے والوں کو سخت انصاف کے حوالے کرنے لیے ہر طرح کی کوشش کی جاتی۔ دنیا کو قائل کرنے کے لیے سب ثبوت تلاش کیے جاتے قانون کی حکمرانی کے تحت اور قانونی عدالتوں کے ذریعے سامنے لائے جائے پھر اقوام متحدہ کے اجتماعی ادارے کے ذریعے کارروائی کی جاتی ۔ مگر اس طرح کے منصفانہ رد عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہو رہا۔ امریکہ جو کچھ ہے جو کچھ وہ کرنے کا عادی ہے واحد سوپر طاقت ہونے کا اسے جو نشہ ہے اور اس کی وجہ سے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہو رہا۔

دسیوں اخبارات و رسائل اور ان کے سیاسی مبصر اس رائے کا اظہار کر رہے ہیں لیکن صدر بش، وزیراعظم بلیر اور ان کے شریک کار افغانستان پر آگ اور خون کی بارش برسانے کے علاوہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچے۔ ایک ایسے ملک کو جس میں نہ سڑکیں ہیں اور نہ ریلوے لائن جہاں بجلی، پانی اور خوراک کی سہولتیں بھی میسر نہیں، جن کی کوئی فضائیہ نہیں، ان پر اپنی فضائی برتری قائم کر کے فتح کے شادیانے بجائے جا رہے ہیں۔ محدود و متعین نشانوں پر حملے (targeted bombing) کے نام پر شہر اور دیہات ہی نہیں، مساجد، مدرسے شفا خانے اور یو این او اور ریڈ کر اس کے ڈپو تباہ کر دیے گئے۔ بمباری سے ہزاروں بے بس انسان شہید کر دیے گئے لیکن آتش انتقام ہے کہ سرد ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

پاکستان کے جرنیل صدر اس خون ریزی میں برابر کے شریک ہیں۔ اس لیے کہ جس حملے کو وہ مختصر اور بہ ہدف (short and targeted) کہہ رہے تھے اور جس کی ضمانتوں کے وہ مدعی تھے اس کا پول پہلے ہی دن کھل گیا جب بش صاحب نے غضب ناک ہو کر کہا: “صدر مشرف کو کس نے یہ ضمانت دی ہے؟ ہم جب تک چاہیں گے حملے کریں گے جو سردی فری بلکہ کئی برسوں تک بھی پھیل سکتے ہیں”۔ اس شاہی اعلان کے بعد ہمارے پہ سالار صدر صاحب دہک کر بیٹھ گئے اور بش صاحب کی ہاں میں ہاں ملانے لگے۔

مغرب کا دوہرا معیار اور افغانستان

دنیا کے ہر آزاد ملک کا حق ہے کہ اپنے کسی شہری کو یا جسے پناہ دے اسے مناسب عدالتی کارروائی کے بغیر کسی دوسرے ملک کے حوالے نہ کرے۔ اگر کوئی مجرم کسی دوسرے ملک کو مطلوب ہے تو اس کا ایک ہی جائز طریقہ ہے کہ اخلاق، بین الاقوامی قانون اور ضابطے کے مطابق با قاعدہ عدالتی عمل کے ذریعے اسے طلب کیا جائے۔ اس صورت میں بھی جس ملک کے شہری کو طلب کیا جا رہا ہے اس کی عدالت فراہم کردہ شہادتوں کی بنیاد پر اپنا اطمینان کرنے کے بعد ہی اسے منتقل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنے کی مجاز ہوتی ہے۔

برطانیہ جو اس مہم میں امریکہ کا شریک ہے خود اپنے قانون اور روایات کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ چلی کے سابق سربراہ جنرل پنوشے برطانیہ علاج کے لیے آئے تھے کہ اچین نے ان کو انسانیت کے خلاف جرائم کی پاداش میں حوالے کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ دو بار مقدمہ اعلیٰ عدالتوں سے گزر کر ہاؤس آف لارڈز (دارالامراء) میں گیا اور بالآخر لارڈز نے طے کیا کہ ان کو چکی واپس بھیج دیا جائے اسپین کے حوالے نہ کیا جائے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ بن لادن کے لیے تو برطانیہ نے بھی امریکہ کے ساتھ اپنی فوج بھیج دی اور پہلے ہی دن سے ہوائی حملوں میں شریک ہو گیا۔ جب کہ اپنے ملک میں آج بھی یہ کیفیت ہے کہ حقوق انسانی کے یورپین کنونشن کے تقاضوں کے پیش نظرا استمبر ہی کے ایک ملزم کو جو جہاز کے اغوا کے سلسلے میں مطلوب ہے اس لیے حوالے نہیں کر رہا کہ امریکہ میں موت کی سزا ہے۔ پھر یورپی قانون کا تقاضا ہے کہ جس ملک میں موت کی سزا ہو وہاں کسی ملزم کو تحویل میں نہ دیا جائے۔ یورپ کے ایک نمائندے کا کہنا ہے کہ:

ہم اس لڑائی میں مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ ہیں لیکن ہم سزاے موت کے مخالف ہیں اور اس میں کوئی استثنا نہیں ہے۔

یورپ کے ممالک “مہذب” ہیں اس لیے ان کو حق ہے کہ اپنے قانون کی بالا دستی قائم رکھیں مگر افغانستان، پاکستان اور دوسرے مشرقی ممالک “غیر مہذب” ہیں، ان کے ملکی قانون مذہب اور روایات کی کوئی حقیقت نہیں۔ امریکہ کو حق ہے کہ پاکستان ہو یا فلپائن اپنے مطلوبہ افراد کو زور و زبردستی کے ذریعے حاصل کر لیں، بلکہ پانامہ کے صدر کو ۲۵ ہزار فوج بھیج کر اغوا کر لے اور پھر اپنے ملک میں مقدمہ چلائے مگر دوسرے ممالک کسی امریکی پر اپنے ملک میں کسی جرم کی پاداش میں بھی مقدمہ نہ چلا سکیں۔

اگر اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت قائم ہونے والی عدالت کے ہر فیصلے کے احترام کو چارٹر کے ذریعے ارکان ممالک پر لازم کیا جائے تو امریکہ جب چاہے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دے کہ: “ہم اس معاملے میں کورٹ کے دائرہ اختیار کو تسلیم نہیں کرتے” جیسا کہ ۱۹۹۶ میں امریکہ نے نکاراگوا میں امریکی فوجی مداخلت کے سلسلے میں عدالت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ کھلی بین الاقوامی غنڈا گردی ہے۔ اسے کسی مہذب ملک کا طریقہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

افغانستان اپنے اقتدار اعلی (ساورنٹی) کے اس حق کے لیے سینہ سپر ہوا ہے کہ جس شخص کو اس نے پناہ دی ہے اسے کسی واضح ثبوت اور عدالتی عمل کے بغیر محض امریکہ کے مطالبے پر امریکہ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔

افغانستان کے خلاف امریکہ کی یہ جنگ ایک جارحانہ کارروائی ہے، جس میں صرف طاقت کے بل پر وہ اقوام متحدہ کے چارٹر جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی ضابطے اور اخلاقی اقدار کو پامال کرتا رہا۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ امریکہ بن لادن اور القاعدہ کے خلاف کوئی قابل قبول اور معتبر شہادت پیش نہیں کر سکا۔ صرف دھونس اور تشدد کے ذریعے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا جسے کسی صورت میں بھی قبول نہیں کیا جا سکتا۔

بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی

امریکہ نے افغانستان پر جو فوج کشی کی وہ صریح طور پر ریاستی دہشت گردی اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

قانون کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کسی دوسرے فرد یا ریاست کو کسی اور کے جرم کی پاداش میں سزا نہیں دی جا سکتی خواہ وہ جرم ثابت بھی ہو چکا ہو۔ جرم میں اعانت (abetment) اور کسی کو پناہ دینا دو بالکل مختلف امور ہیں، خصوصیت سے جب کہ جرم ثابت بھی نہ ہوا ہو اور نہ کوئی فیصلہ کن شہادت موجود ہو ۔ محض ایک ایسے شخص کا کسی ملک میں ہونا جو کسی دوسرے ملک کو مطلوب ہے کسی کو یہ حق نہیں دیتا کہ ایک دوسرے ملک پر حملہ آور ہو جائے۔ انٹر نیشنل لا کمیشن نے اس سلسلے میں واضح قوانین وضع کیے ہوئے ہیں جو دنیا کے تمام ممالک بشمول امریکہ اور برطانیہ قبول کر چکے ہیں۔ اس قانون کی دفعہ ۱۱ کہتی ہے:

ایک فرد یا گروہ کا ایسا طرز عمل، جو کسی ریاست کی جانب سے نہ ہو بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست کا اقدام نہیں سمجھا جائے گا۔

اسی طرح اس کی دفعہ ۱۴ میں کہا گیا ہے:

کسی ایسی باغی تحریک کے کسی حصے کا عمل، جو کسی ریاست کی حدود میں یا اس کے زیر انتظام کسی دوسرے خطے میں ہو بین الاقوامی قانون کے تحت ریاست پر الزام نہیں سمجھا جائے گا۔

ہم نے نکاراگوا کی حکومت کے امریکہ کے خلاف جس مقدمے کا ذکر اوپر کیا ہے اس میں چند اقدامات کے بارے میں امریکہ کو مورد الزام اور ذمہ دار قرار دیا گیا تھا مگر کچھ دوسرے معاملات میں عدالت نے امریکہ کو ذمہ دار نہیں ٹھیرایا تھا اور وہ اسی اصول کے تحت دار تھا اور وہ اسی تھا۔ اس فیصلے میں کہا گیا ہے:

عدالت کی رائے ہے کہ امریکہ نے نکاراگوا کی کی کنٹرا (Contra) افواج میں ایک ہدایت نامہ تیار کر کے تقسیم کر کے ایسے اقدامات کی حوصلہ افزائی کی ہے جو انسان دوستی کے عمومی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن عدالت کوئی ایسی بنیاد نہیں پاتی کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ان اقدامات کو امریکہ کے اقدامات قرار دے سکے۔

ان اصولوں کی روشنی میں صاف ظاہر ہے کہ اگر افغانستان میں مقیم کسی فرد نے کوئی ایسا اقدام کیا ہے یا کوئی ایسا اقدام اس سے منسوب کیا جا رہا ہے جو انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے تب بھی اس کی ذمہ داری افغانستان کی حکومت پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ واضح رہے کہ بین الاقوامی قانون کے ان اصولوں کو اس لیے مرتب کیا گیا ہے کہ کوئی بھی حکومت، خصوصیت سے جن کے پاس طاقت ہے ایسے اقدامات کا سہارا لے کر افراد کے جرائم کے لیے ریاست کو طاقت کے من مانے استعمال (arbitrary use) کا نشانہ نہ بنا ڈالیں۔ اس راستے کو روکنے کے لیے یہ قوانین بنائے گئے ہیں، لیکن امریکہ نے ان کو صریحاً نظر انداز کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کے تقاضے

اقوام متحدہ کے قیام کا مقصد ہی ریاستوں کی طرف سے یک طرفہ اور من مانی فوجی کارروائیوں کو روکنا تھا۔ چارٹر کی دفعہ الہ میں خود حفاظتی (self defence) کا حق دیا گیا ہے لیکن اسے کسی بھی دلیل کے ذریعے دوسرے ممالک پر فوج کشی کے حق میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اقوام متحدہ کا چارٹر حسب ذیل بنیادوں پر قائم ہے:

۱ ـ آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے تحفظ دینے کے لیے-

۲ ـ مرد و زن اور بڑی یا چھوٹی اقوام کے مساوی حقوق۔

۳ ـ بین الاقوامی قانون کے تحت معاہدات کے تفویض کردہ فرائض کا احترام) مقدمه)

چارٹر کی دفعہ ۲۰ کی شق ۳۱ اور ۴ بہت واضح ہیں:

۱ ـ ممبر ممالک کی خود مختار مساوات کا حصول (۲۰۱)

۲ ـ تمام ممبران اپنے بین الاقوامی تنازعے پر امن ذرائع سے اس طرح طے کریں گے کہ بین الاقوامی امن اور سلامتی کو خطرہ نہ ہو ۔)۲۰۳)

۳ ـ تمام ممبران بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ریاست کی جغرافیائی وحدت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی سے یا کسی بھی ایسے طریقے کو اختیار کرنے سے احتراز کریں گے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد کے مطابق نہ ہو۔

پھر دفعہ ۳۳ میں یہ ضابطہ بہت صاف لفظوں میں بیان کیا گیا ہے:

کسی تنازعے کے فریق جس کے جاری رہنے سے عالمی امن واستحکام کے برقرار رہنے کو خطرہ ہو حل تلاش کرنے کے لیے سب سے پہلے مذاکرات مصالحت، ثالثی عدالتی تصفیے علاقائی تنظیموں سے اپیل، یہ سب یا اپنی پسند کے دوسرے پر امن ذرائع کا راستہ اختیار کریں گے۔

نیز دفعہ ۳۶ کے تحت یہ سلامتی کونسل کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے کہ دفعہ ۳۳ کے تحت جو معاملہ بھی اس کے سامنے آئے اس میں تنازع کے حل کے لیے ضروری اقدامات تجویز کرے۔ دفعہ ۳۷ کے تحت اگر ممبر ملک مذاکرات اور دوسرے پر امن ذرائع سے تازع طے نہ کر سکیں تو ان کے لیے ضروری ہوگا کہ سلامتی کونسل کی طرف رجوع کریں جو دفعہ ۳۶ کے تحت ضروری کارروائی کرے گی۔

کسی ایک ملک کے خلاف کوئی دوسرا ملک از خود کوئی کارروائی نہیں کر سکتا۔ دفعہ ۳۳ دقعہ ۳۶ اور دفعہ ۳۷ کے تحت اقدامات کی ناکامی کی صورت میں سلامتی کونسل دفعہ ام کے تحت معاشی پابندیاں اور دفعہ ۴۲ کے تحت فوجی کارروائی کا فیصلہ کر سکتی ہے مگر ایسی فوجی کارروائی کوئی ملک خود نہیں کر سکتا اور نہ اقوام متحدہ کو نظر انداز کر کے کسی اتحاد (کولیشن) کے ذریعے کر سکتا ہے بلکہ یہ اقدام اقوام متحدہ کے ممبر ممالک کی فوجوں کے ذریعے دفعہ ۴۶ اور ۴۷ کے تحت اقوام متحدہ کی ملٹری اسٹاف کمیٹی کے تحت ہی ہو سکتے ہیں اور یہ کمیٹی سلامتی کونسل کے مشورے اور اجازت سے کوئی اقدام کر سکتی ہے۔

یہ ضابطہ کار اقوام متحدہ کے چارٹر میں مرقوم ہے۔امریکہ اور برطانیہ نے اس کی ہر ایک دفعہ کی کھلی خلاف ورزی کی ہے اور اپنی من مانی کر رہے ہیں۔ امریکہ نے دفعہ اہ کا سہارا لیا ہے لیکن اس کا جواز صرف ایک صورت میں ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ جب کسی ملک پر کسی متعین ملک کی فوجوں نے عملاً حملہ (armed attack) کر دیا ہو اور اس صورت میں نبھی جو ملک اپنے دفاع کے اس حق کو استعمال کرنے اس کا فرض ہے کہ فوری طور پر اس کی اطلاع سلامتی کونسل کو دے۔ پھر وہ سلامتی کونسل کے اس حق میں کوئی مداخلت کرنے کا مجاز نہیں ہوگا جو امن کی بحالی کے لیے سلامتی کونسل کرے۔ چارٹر کی دفعہ ۹۴ کے تحت یہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا فرض ہے کہ اگر کوئی ملک چارٹر کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا از خود نوٹس لے اور سلامتی کونسل میں معاملے کو پیش کرے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں امریکہ اور برطانیہ کا رویہ مینی برحق نہیں بلکہ صریحاً جارحانہ ظالمانہ یک طرفہ من مانا اور امن عالم کے لیے تباہ کن ہے۔ پاکستان کی حکومت نے اس بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے اپنی زمینی اور اپنے فضائی راستے فراہم کر کے جرم میں شرکت اور شر و فساد میں تعاون کے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔  اس معاملے میں امریکہ کے جرائم متعین طور پر یہ ہیں:

۱ ـ کسی حتمی ثبوت اور شہادت کے بغیر اور کسی مبنی بر انصاف عدالتی عمل کے بغیر ایک فرڈ ایک گروہ اور ایک ملک کو مجرم قرار دیا۔ اس کے خلاف رائے عامہ تیار اور ملکوں کا فوجی اتحاد قائم کیا۔

۲ ـ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی عدالتوں کے واضح فیصلوں کے علی الرغم اس ملک اس جماعت اور ان گروہوں کے خلاف اعلان جنگ کیا جن کا قانون کے تحت کسی جرم میں کوئی ہاتھ نہ تھا۔ اگر ان ممالک میں کچھ لوگ ایسے پناہ گزین تھے جن کا جرم عدالتی طریقے سے ثابت ہو تب قانون کے مطابق ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ تو ہو سکتا ہے مگر کسی فوجی اقدام یا اغوا کی کوشش کا کوئی قانونی جواز نہیں اور جن افراد کا جرم ثابت نہ ہوا ہو ان کے بارے میں تو لبے کا بھی کسی کو اختیار نہیں۔

۳ ـ اگر کوئی تنازع فی الحقیقت تھا بھی اور کوئی دوسرا ملک ایک جائز مطالبے کو پورا کرنے میں مزاحم ہو تو مذاکرات (negotiations) کا راستہ اختیار کرنا اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۳۳ کے تحت لازمی ہے۔ امریکی صدر نے مذاکرات سے انکار کیا اور معاملات کے تصفیے کے پر امن راستے کو درخور اعتنا ہی نہیں سمجھا اور اس طرح چارٹر کی خلاف ورزی کی اور عالمی امن کو تہ و بالا کیا۔

۴ ـ فوجی کارروائی کے سلسلے میں بھی چارٹر میں طے کردہ راستے کو اختیار نہیں کیا گیا۔ سلامتی کونسل نے ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا جس میں بن لادن یا افغانستان کو مجرم قرار دیا گیا ہو یا ان کے خلاف کسی کارروائی کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہو۔ ۲۸ ستمبر۲۰۰۱ء کو جو قرارداد سلامتی کونسل نے منظور کی ہے اس میں اول تو دہشت گردی کی کوئی تعریف نہیں کی گئی اور نہ اس کا مخاطب کوئی ایک ملک ہے۔ اس میں تمام ممبر ممالک سے ۷ نکات کا مطالبہ کیا گیا ہے جن میں دہشت گردی کے مالیاتی وسائل کی روک تھام، دہشت گرد تنظیموں کے اثاثوں کی ضبطی کسی فرد یا تنظیم کو دہشت گردوں کی مالی اعانت سے روکنا ایسی تنظیموں میں نئے حامیوں کی بھرتی یا ان کو اسلحہ کی فراہمی ، دہشت گردی کے مرتکب افراد یا تنظیموں کو پناہ دینے والوں سے تعاون پر پابندی سرحدوں پر کنٹرول اور دہشت گردی کے سلسلے کے جرائم کی تحقیق و تفتیش میں تعاون اور معلومات کا تبادلہ شامل ہے۔ اس میں نہ کوئی ملک متعین کیا گیا ہے اور نہ کسی کے خلاف فوجی کارروائی کرنے اور اس کارروائی میں مدد دینے کی کوئی بات ہے۔

صاف ظاہر ہے کہ جہاں تک کسی فوجی کارروائی کا تعلق ہے اسے اقوام متحدہ کی بلا واسطہ یا بالواسطہ تائید حاصل نہیں اور ایسا ہر قدم عالمی چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ فوج کشی کے دو ہفتے بعد بھی سلامتی کونسل کو باضابطہ اطلاع نہ دینا اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان کا متحرک نہ ہونا بھی چارٹر کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے صاف معنیٰ یہ ہیں کہ جو فوجی کارروائی عالمی برادری کے نام پر کی گئی اسے نہ عالمی برادری کی تائید حاصل ہوئی اور نہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز ٹھیری۔ اس کی حیثیت محض ایک سوپر پاور کی ریاستی دہشت گردی کی ہے۔ جس نے اس میں جس قدر تعاون کیا وہ اس حد تک دہشت گردی میں شریک ہوا اور ایک مظلوم ملک کے خلاف جارحیت کا مرتکب ہوا۔

دنیا کے ۱۹۸ ملکوں میں سے بمشکل ۴۰ امریکی دباؤ یا دوستی کے سبب اس میں شریک ہوئے۔ اور جو بظاہر شریک ہوئے ان میں بھی اختلاف، اضطراب، تحفظات اور بے زاری کے آثار تھے۔ افسوس اور شرم کا مقام ہے کہ چند مسلمان ملک جن میں پاکستان ترکی اور ازبکستان قابل ذکر ہیں، جنھوں نے اس جارحیت کے لیے نہ صرف اپنا کندھا پیش کیا، بلکہ حق و انصاف کا خون بھی کیا، اور اُمت مسلمہ کے مظلوم انسانوں کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگ لیے ۔ یہ وہ جرم ہے جسے نہ خدا معاف کرے گا اور نہ ملت ظلم کا مرتکب ہے اسے ان شاء اللہ ایک دن اس کا پورا پورا حساب دینا ہوگا ۔ (ترجمان القرآن، نومبر ۲۰۰۱ء)

] اضافہ: مرتب [ لندن کے اخبار مسنڈے مرد نے افغانستان میں امریکی سفا کی کو بے نقاب کرتے ہوئے بتاتا ہے کہ ایک برطانوی ٹیلی ویژن پروڈیوسر جیمی ڈوران نے مزار شریف میں قتل و غارت گری کے موضوع پر ایک دستاویزی فلم تیار کی ہے۔ جس میں امریکی فوجیوں کے وحشیانہ سلوک کو دیکھ کر امریکہ کے اتحادی شمالی اتحاد کے جوان بھی اکثر اپنے آنسوؤں کو روک نہیں پاتے۔ اس تحقیقاتی رپورٹ میں شمالی اتحاد کے ایک فوجی کو رقت انگیز لہجہ میں یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے: “امریکی فوجیوں کو کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ انھیں کھلی چھٹی تھی۔ طالبان پر ظلم و تشدد کے مناظر سے ہمارا دل روتا تھا، لیکن ہم بے بس تھے۔ میری آنکھوں کے سامنے ایک امریکی فوجی نے اپنے ہاتھوں سے ایک قیدی (طالبان) کی گردن مروڑ کر اسے مار ڈالا تھا۔ اس سنگدل امریکی نے چار طالبان قیدیوں پر تیزاب پھینک دیا جس کی وجہ سے وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے۔ ان کے جلے ہوئے چہرے ہم سے دیکھے نہیں جاتے تھے۔ جب وہ درد سے چیخ و پکار کر رہے تھے تو یہ بے رحم امریکی فوجی خوشی سے قہقہے لگا رہا تھا” ۔ شمالی اتحاد کے فوجی نے بتایا: “امریکی فوجیوں نے چار طالبان قیدیوں کو ایک کوٹھڑی سے باہر نکالا ان کے بال تیز دھار آلے سے اس قدر رگڑ کر کاٹے کہ قیدیوں کے سروں سے جگہ جگہ خون بہنے لگا۔ بعد ازاں ان کے سروں پر تیزاب انڈیل دیا گیا جس کی انتہائی اذیت سے انھوں نے دلدوز انداز میں تڑپنا شروع کر دیا ۔ وہ فریاد کر رہے تھے کہ ہمیں جان سے مار ڈالو”۔ چنانچہ امریکی فوجیوں نے انھیں اپنے مخصوص ڈنڈوں سے مار مار کر انھیں موت کی نیند سلا دیا۔ سنڈے مرر لکھتا ہے کہ امریکہ تردید کرتا ہے کہ اس کی فوجوں نے مزار شریف کے قلعہ جنگی میں قید طالبان یا القاعدہ کے اراکین کا قتل عام کیا تھا، لیکن ہماری تحقیقات کے نتیجہ میں یہ حقیقت سامنے آئی کیا ہے کہ امریکی حکومت کی یہ تردید حقائق کے منافی ہے۔ سنڈے مرر کے مطابق جیمی ڈوران نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے طالبان پر غیر انسانی مظالم کے بارے میں جو دستاویزی فلم بنائی ہے اسے گذشتہ ہفتہ جرمن کی پارلیمنٹ میں دکھایا گیا تھا، جس کو دیکھ کر کئی لوگ بے اختیار رو پڑے تھے۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۷ جون ۲۰۰۲ء)

لندن (بی بی سی) بی بی سی اردو آن لائن سے انٹرویو میں مذکورہ بالا آئرش فلم ساز جیمی ڈوران نے بتایا: “جس شخص نے قندوز میں طالبان کی طرف سے ہتھیار ڈالنے کا معاہدہ طے کر وایا تھا، اس کا کہنا ہے کہ ہتھیار ڈالنے والے طالبان کی تعداد آٹھ ہزار تھی، مگر بعد میں سے صرف تین ہزار پندرہ قیدی بچے ۔ ان آٹھ ہزار میں سے قریباً چار سوستر قیدیوں کو قلعہ جنگی لے جایا گیا جہاں پر بہت سے قیدی مار دیے گئے۔ وہاں مبینہ “بغاوت” کے دوران امریکی طالب جان واکر نے پچاسی دوسرے طالبان کے ساتھ مل کر قلعے کے نیچے سرنگوں میں چھپ کر جان بچائی۔ چونکہ دنیا کی توجہ اس وقت قلعہ جنگی پر تھی اس لیے لوگوں کے ذہن میں یہ نہیں آیا کہ باقی ساڑھے سات ہزار قیدیوں کے ساتھ کیا ہو رہا تھا؟ ان قیدیوں کو مزار شریف سے شہر نان کے راستے پر واقع قلعہ زینی منتقل کرنے سے پہلے قلعہ جنگی کے احاطے میں بٹھایا گیا اور بعد میں انھیں مال برادری کے لیے استعمال ہونے والے کنٹینروں کے ذریعے قلعہ زینی کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ ہر کنٹینر میں دو سے تین سو تک افراد کو بٹھایا گیا اور جب دم گھٹنے کی وجہ سے ان قیدیوں نے مدد کے لیے پکارا تو سپاہیوں نے کنٹینروں پر گولیاں برسا دیں، جس سے بہت لوگ ہلاک ہو گئے-“

فلم میں گواہ کے طور پر بیان ریکارڈ کروانے والے ایک شخص نے اعتراف کیا وہ خود بھی فائرنگ کرنے والوں میں شامل تھا۔ قتل عام کے ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ شہر خان پہنچنے پر ایک امریکی افسر نے شمالی اتحاد کے لوگوں سے کہا کہ ان کنٹینروں کو دشت لیلیٰ لے جائیں جو شہر خان سے چار کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ صحرا میں پہنچنے تک بہت سے قیدی زندہ تھے اور ان کو پناہ دینے کے باوجود فوری طور پر مار کر لاشوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ ان میں سے ایک ڈرائیور کے مطابق ان قیدیوں کو صحرا میں لے جاتے وقت کم از کم ایک موقع پرتمیں سے چالیس امریکی فوجی بھی ساتھ گئے تھے۔ شہرغان کے علاقے میں قریباً ڈیڑھ سو فوجی تعینات تھے۔ اس کے علاوہ سی آئی اے کے اہلکار بھی پوچھ کچھ کے لیے وہاں موجود تھے۔ فلم پر بین الاقوامی ردعمل کے بارے میں جیمی نے بتایا کہ حال ہی میں اس فلم کو یورپی پارلیمنٹ میں قریباً ڈھائی سو افراد نے دیکھا۔ اس فلم میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر افغان جنگ میں حصہ لینے والے امریکی فوجیوں کے خلاف نہ صرف بین الاقوامی بلکہ امریکی قانون کے تحت بھی مقدمہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت، لاہور، ۲۸ جون ۲۰۰۲ء)

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »