EducationForwardSociety

شرح کتابیات تعلیم از سلیم منصور خالد

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں جن موضوعات پر تجزیہ و تحقیق کا کام انجام دیا جا رہا ہے، ان میں سے ایک اہم موضوع تعلیمی پالیسی اور نظام ِتعلیم کی تشکیل جدید ہے۔ ہم نے جب تعلیم پر کام کا آغاز کیا تو تعلیم کے حوالے سے اُردو اور انگریزی کی کتابیات کی کمی بڑی شدت سے محسوس ہوئی ۔ کسی بھی موضوع پر مطالعہ و تحقیق میں اچھی کتابیات  (Bibliography )کی موجودگی بڑی ممد و معاون ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا میں تحقیق کا آغاز ہی کتابیات کی تیاری سے کیا جاتا ہے۔ اور تیار شدہ کتابیات نئے لکھنے والوں کے لیے مشعل راہ کا کام انجام دیتی ہیں۔ کتابیات بھی بالعموم دو طرح کی مرتّب کی جاتی ہیں۔ ساری فہرست جس میں ایک موضوع پر موجود تمام ضروری لوازمہ کی نشاندہی کر دی جاتی ہے اور ایسی کتابیات جن میں ہر کتاب یا مقالہ کا مختصرتعارف بھی کرایا جاتا ہے۔ اور جسے مشرح کتابیات ( Annotated Bibliography)کہا جاتا ہے ۔ ہمارے خیال میں تعلیم کے مسئلے پر آج کے طالب علم اور محقق کی ایک بڑی ضرورت مشرح کتابیات کی فراہمی ہے ۔

گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں تعلیمی تحقیق کی طرف حکومت اور ماہرین کی توجہ ہوئی ہے۔ ہر صوبے میں ادارہ تعلیم وتحقیق قائم ہے ۔ رواں قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ایک قومی ادارہ برائے تعلیمی تحقیق کا قیام بھی عمل میں آنا ہے۔ ہمارا ملک تعلیم کے دائرہ میں تشکیلِ جدید کے مرحلہ سے گزر رہا ہے اور حکومت کی اعلان شدہ پالیسی کے مطابق یہ عمل اسلامی نظریہ کی رہنمائی میں انجام پاتا ہے ۔ یہ صورت حال دورِ جدید میں نظام تعلیم کی اسلامی تشکیل کے مسائل کو سامنے لاتی ہے جن پر تجزیہ و تحقیق کی ضرورت ہے ۔ مکہ کا المركز العالمی للتعلیم الاسلامی بھی اسلامی نظام تعلیم کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق کے منصوبے مرتب کر رہا ہے۔ گزشتہ عالمی تعلیمی کانفرنس کی سفارشات بھی اسی طرف توجہ دلاتی ہیں۔

 اس پس منظر میں ہمارے بھائی اور رفیق کا رسلیم منصور خالد لیکچرر گورنمنٹ ایف سی کالج لاہور نے انسٹی ٹیوٹ کی دعوت پر یہ مشترح کتابیات مرتب کی ہے جو تعلیمی تحقیق میں مصروف افراد کے لیےراہنمائی کا کام کرے گی ۔ مجھے بڑی خوشی ہے کہ برادرم سلیم منصور خالد نے یہ کام بڑی محنت  اورخوش ذوقی کے ساتھ انجام دیا ہے جس سے یہ امید بندھتی ہے کہ انشاء اللہ وہ آئندہ اس سے بھی مفید خدمات انجام دیں گے۔ میں اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ انسٹی ٹیوٹ ایک نوجوان محقق کے حاصل محنت کو ملک و ملت کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز اسلام آباد کے زیر نگرانی نظام تعلیم کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل نیز سائنسی اجتماعی اور عمرانی علوم کے نصابیات کی نظریاتی تدوین کا رضا کارانہ کام ہورہا ہے۔ اس سلسلے میں اسلامی نظامِ تعلیم اور پاکستان کے نظامِ تعلیم کے حوالے سے اردو میں تفصیلاً اور انگریزی میں اختصاراً ، شائع شدہ کتب کی یہ مشرح کتابیات یا مشرح کتابِ واقفی —— ( Annotated Bibliography) نقشِ اوّل کے طور پر مرتب کی گئی ہے تاکہ یہ ماہرینِ تعلیم اور طالبینِ علم کو اسلامی نظام تعلیم کی تشکیلِ جدید کے کام میں مدد دے سکے۔ بلا شبہ اسلامی نظام ِتعلیم پر کتب اور قلمی نسخوں کی روایت کا آغاز اقرا باسم ربك ہی سے ہو گیا تھا۔ قدیم قلمی نسخے پریس کی آمد سے مستقل کتب کی صورت میں ڈھلتے چلے گئے، مگر یہاں پر ۱۸۸۰ء سے ۱۹۸۱ء تک یعنی چودھویں صدی ہجری میں اسلامی نظام تعلیم پر ہونے والے کام پر نظر ڈالی گئی ہے۔

مرتّب نے اپنے طور پر اس کتابیات کو زیادہ سے زیادہ جامع بنانے کوشش کی ہے، حرفِ آخر کا دعویٰ تو کوئی بھی نہیں کر سکتا، خصوصاً کتابیات کی تدوین کبھی مکمل نہیں کہلا سکتی ۔ اس کاوش میں بھی یقیناً کچھ نہ کچھ کتب درج ہونے سے رہ گئی ہوں گی، جس کی وجہ عدم دستیابی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ اہل علم پہلی فرصت میں ایسی کتابیں انسٹی ٹیوٹ ہذا کو فراہم کریں گے یا کم از کم ان کے نام، مختصر تعارف اور ان کا پتہ دیں گے اور یوں اس اہم کام میں تعاون کر کے اپنی ذمہ داری پوری کریں گے ۔ بہر حال یہ کتابیات موجودہ صورت حال میں بھی اس اعتماد کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی کہ اسلامی نظام ِتعلیم پر کسی نہ کسی شکل میں کام ہوتا رہا ہے۔ جو کتب ہماری نظر سے نہ گزر سکیں لیکن ان کے نام معلوم ہو سکے ان کو بلا تعارف الگ سے شاملِ اشاعت کیا گیا ہے۔ اس کتابیات میں کتاب کے مرکزی خیال اور اہم مباحث کو تعارف میں سمو دیا گیا ہے اور کتاب کی پہچان :

مصنف کا نام – کتاب کا نام – مقامِ اشاعت – سنِ اشاعت – ایڈیشن۔ تعدا د صفحات ۔ جہاں استفادہ ممکن ہے کے نکات کی صورت میں کرائی گئی ہے۔

 اُردو حصّہ میں مرکب ناموں کی وجہ سے انہیں ویسے ہی رہنے دیا گیا ہے، البتہ ناموں سے پہلے القابات، خطابات وغیرہ ،سیّد، شیخ ، ڈاکٹر، مولانا ،علامہ ) کو نام کے بعد درج کیا گیا ہے۔ انگریز کا حصّہ میں انگریزی کے معروف طریقے ہی کو اختیار کیا گیا ہے۔کتابیات کی ترتیب کے سلسلہ میں پنجاب یونیورسٹی لائبریری، پنجاب پبلک لائبریری، محمود حسین لائبریری کراچی یونیورسٹی، اسلامک ریسرچ اکیڈمی لائبریری کراچی ، دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری لاہور ، گورنمنٹ کالج لائبریری لاہور، ٹیچرز سنٹرل کالج لائبریری لاہور، انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز لائبریری اسلام آباد ، انسٹی ٹیوٹ آف ایجو کیشن اینڈ ریسرچ لائبریری لاہور کے علاوہ لاہور اور کراچی کے بیشتر ناشرینِ کتب اور ان کی کتابی فہارس سے بھی استفادہ کیا گیا ہے جس کے لیے ہم ان سب کے ممنون ہیں۔

کتب کے اختتام پر یہ بتانے کے لیے کہ یہ کتاب کس لائبریری سے مل سکتی ہے، نیچے دیئے ہوئے مخفف استعمال کیے گئے ہیں  (مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ کُتب کسی دوسری لائبریری میں نہیں، یہ تو محض ارتکاز کے پیش نظر ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمارے پیشِ نظر ترجیح  حسبِ ذیل ترتیب سے ظاہر ہے)

IPS انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز لائبریری اسلام آباد

IER انسٹی  ٹیوٹ آف ایجو کیشن اینڈ ریسرچ لائبریری پنجاب یونیورسٹی لاہور

PUL پنجاب یونیورسٹی لائبریری لاہور

PPL پنجاب پبلک لائبریری لاہور

اس مجموعہ کی تیاری میں مرتّب،  پروفیسرمسلم سجاد مراد صاحب (کراچی) کی نگرانی ڈاکٹر مشاق الرحمن صدیقی صاحب، پروفیسر منور ابن صادق صاحب (لاہور) کی رہنمائی، بزرگوار آبادشاہ پوری صاحب کی حوصلہ افزائی اور برادرم عبدالملک مجاہد کے قیمتی مشوروں کا شکر گزار ہے۔ اگر اس کاوش سے اسلامی نظام تعلیم کی جانب مثبت اور ٹھوس قدم بڑھتا ہے تو ہم اسے اپنی کامیابی سمجھیں گے۔

وما توفيقي إلا بالله

 مر تّب

اگست ۱۹۸۱ء

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »