علامہ اقبال اور فقہ کی جدید تشکیل

چراغ راه
خورشید احمد، ایم اے
علامہ اقبال تحریر فرماتے ہیں کہ:
” موجودہ دور میں اسلام کی سب سے بڑی ضرورت فقہ کی تدوین جدید ہے تا کہ زندگی کے ان سیکڑوں ہزاروں مسائل کا صحیح اسلامی حل پیش کیا جائے جن کو دنیا کے موجودہ قومی اور بین الاقو امی ،سیاسی، معاشی، اور سماجی ارتقا پیدا کر دیا ہے ۔”
علامہ سید سلیمان ندوی مرحوم کے نام وہ ایک خط میں لکھتے ہیں:
” یہ میرا عقیدہ ہے کہ یہ شخص اس وقت قرآنی نقطہ نگاہ سے زمانہ حال کے اصول قانون Jurisprudence پر ایک تنقیدی نگاہ ڈال کر احکام قرانیہ کی ابدیت کو ثابت کرے گا وہ ہی اسلام کا مجدد ہو گا اور بنی نوع انسان کا سب سے بڑا خادم وہی شخص ہو گا۔ یہ وقت عملی کام کا ہے کیونکہ میری رائے ناقص میں مذہب اسلام گویا زمانے کی کسوٹی پر کسا جا رہا ہے۔ اور شاید تاریخ اسلام میں ایسا وقت اس سے پہلے کبھی نہیں آیا ۔”
ان سطور سے یہ صاف واضع ہوتا ہے کہ علامہ اقبال اسلامی قوانین کی تجدید کے ل انتہائی فکر مند تھے۔ وہ عالم اسلام میں خیالات کے نئے دھاروں کا بڑی پیچیدگی سے مطالعہ کر رہے تھے اور یہاں پر بڑھتے ہوئے مغربی اثرات پرانکو بہت تشویش تھی وہ چاہتے تھے کہ ذہین طبقہ کو اس خطرے کا اندھا دھند شکار ہو جانے سے روکا جائے ۔
قانون تہذیب کی آخری جائے پناہ ہے یہ زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق ہے۔ ہر علم اس کے احاطے میں اور ہر میدان اس کی عملداری میں ہے۔ یہ زندگی کے ہر دائرہ میں انسان کی رہنمائی اور حیات اجتماعی کی تنظیم کرتا ہے۔ اور اس لحاظ سے یہ زبر دست اہمیت کا حامل ہے۔ علامہ اقبال قانون کی اس اساسی اہمیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے اور اس بنا پر عالم اسلام میں اس بڑھتے ہوئے انتشار پر بڑی تکلیف اور پریشانی محسوس کر رہے تھے جو قانون اور روایات میں رونما ہو گیا تھا۔
اسلام اور مغرب کا تصادم
اسلام اور جدید مغربی تہذیب کا تصادم اگرچہ سترویں صدی سے شروع ہو گیا تھا لیکن فیصلہ کن دور کا آغاز انیسویں اور بیسویں صدی میں ہوا۔ اس آخری دور میں مسلمانوں کی سیاسی قوت میں اضمحلال رونما ہو چکا تھا۔ عالم اسلام مغرب کی سامراجی چیرہ دستیوں کا تیزی سے شکار ہو رہا تھا ۔استعماریت کے پردے میں مغربی علوم و فنون کا زہر عالم اسلام کی حیات اجتمائی کے ہر گوشے میں سرایت کر رہا تھا۔ اس تبدیلی نے سابقہ نظام کو بری طرح متاثر کیا۔ اور عالم اسلام میں تغیر کی ایک لہر دوڑ گئی ۔
اس صورت حال کا تو عمل دو شکلوں میں ظاہر ہوا۔ ایک تو انتہائی قدامت پرستانہ اور دوسرا انتہائی جدت پسندانہ۔ قدامت پسند حضرات قطب از جانمی جنبد کے مصداق ہو گئے اور اپنے پرانے نظریات سے اور زیادہ شدت کے ساتھ چمٹ گئے۔ ان کا خیال تھا کہ ہر تبدیلی حالات کو بد سے بہتر بنا دے گی۔ لہذا اس انتشار اور افراتفری کے عالم میں اسلامی قانون کی حفاظت کا واحد طریقہ یہ سمجھا کہ ماضی سے مضبوطی کے ساتھ چمٹے رہا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے ۔
دوسری طرف جدت پسند حضرات زمانے کی روکے ساتھ بہہ گئے انہوں نے یہ سمجھا کہ عظمت کا راز تقلید فرنگ میں ہی پوشیدہ ہے اور مسلمانوں کا احیا صرف مغربی فنون، مغربی افکارو تعلیمات کو اپنانے ہی میں ممکن ہے انہیں اسلام اور مغرب میں چونکہ کوئی اختلاف نظر نہ آیا اس لئے ان حضرات نے مغربی تہذیب کو اپنانے کی حمایت کی تاکہ مسلمان بھی ایک ‘ترقی یافتہ ‘قوم کی حیثیت سے ابھر سکیں ۔
ان دونوں اثرات کا مظاہرہ یوں تو زندگی کے ہر شعبہ میں ہوا لیکن قانون کے معاملہ میں وہ بہت زیادہ نمایاں ہے۔ اس لئے کہ جیسا اوپر کہا گیا ، قدامت پسند علمائے فقہ کو دانتوں سے پکڑے رہنا چاہتے تھے، اور ترقی پسند حضرات پورے قانون کو جدید فکر اور عمل کے مطابق بدل ڈالنے کی کوشش کر رہے تھے۔
تاریخ کا یہی وہ مرحلہ تھا جب علامہ اقبال افق ملی پر نمودار ہوئے۔ آپ نے اس صورت حال کا بڑی دل سوزی سے جائزہ لیا اور ان دونوں تاثرات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا جو فکر کی گہرائی اور حقیقت پسندی سے خالی تھے۔ آپ کی ساری کوششیں اس امر پر مرکوز تھیں کہ اعتدال کی روش کو مد نظر رکھا جائے ۔ تھوڑے سے غور و فکر سے یہ بات واضع ہو جاتی ہے کہ قدامت پرستی اور تجدد پسندی دونوں کوتاہ نظری کا نتیجہ ہیں۔ قدامت پرستانہ نقطہ نظر غیر حقیقت پسندا نہ ہے ۔یہ اس لئے کہ زندگی ہمہ تغیر ہے اور تاریخ ہمہ ارتقا ! وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں نت نئے تغیرات جنم لے رہے ہیں، اور ان کے نتیجے کے طور پر نئے حالات اور نئے مسائل سامنے آ رہے ہیں جو اپنے حل کا تقاضا کرتے ہیں۔
یہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ اس تبدیلی کو پیش نظر رکھا جائے اور یہ دیکھا جائے کہ اسلام کے اصول ان بدلتے ہوئے حالات پر کس طرح منطبق ہو سکتے ہیں ۔ تغیرات کو روکنا حماقت ہے کیونکہ اس سے ترقی رک جائے گی ۔ اور تغیرات سے صرف نظر کرنا اس سے زیادہ بڑی حماقت کیونکہ آنکھیں بند کر لینے سے تبدیلیاں رک نہیں سکتیں۔ اگر نئے مسائل اور نئے حالات کو نظر انداز کر کے ان چیزوں کو سینے سے لگائے رکھا جائے جو موجودہ حالات میں نامو زوں ہیں ۔ تو اس کا نتیجہ اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ مذہب اجتماعی زندگی سے دور ہوتا چلا جائے۔ انسانی زندگی اور قانون میں بیگانگی پیدا ہو جائے اور قانون کا ارتقا رک جائے۔ اور جب قانون کا ارتقا رک جائے گا تو تمدن میں فرسودگی پیدا ہو جائے گی۔ کیونکہ قانون کی فرسودگی در اصل پورے نظام تمدن کی فرسودگی ہوتی ہے۔
لیکن دوسری طرف تجدد پرست حضرات کا طرز فکر سرتا سرائی ،غیر حقیقت پسندانہ اور ہمارے حالات کے نامو افق ہے۔ ان نام نہاد آزاد خیالوں کی تجدد پسندی کوئی اصلاحی تحریک نہیں ہے بلکہ یہ سرے سے اسلام ہی کو مسترد کرنے کے مترادف ہے ۔جس چیز کو یہ حضرات اجتہاد کہتے ہیں وہ اجتہاد نہیں اسلام سے انحراف ہے ۔ یہ حضرات اسلام کی اصطلاحات کو تو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ان کو ایسے نت نئے معنی پہناتے ہیں جو اسلامی نظام سے کبھی میل نہیں کھا سکتے ۔ حد یہ ہے کہ خود مغرب کے ایک ممتاز مستشرق پروفیسر جوزف شافٹ تک کو اعتراف کرنا پڑا کہ جس راستے پر یہ ترقی پسند حضرات جا رہے ہیں وہ اسلام نہیں بلکہ اس کی ضد ہے ۔ حال ہی میں اپنے ایک مضمون میں موصوف تحریر کرتے ہیں:
“جدید مقننین جو غیر محدود انتخاب اور آزادی کے حامی ہیں ۔’ آزاد تعقل’ کا استعمال کرتے ہوئے ان حدود سے کہیں آگے نکل جاتے ہیں جو قانون سازی کے زیر تشکیل دور میں رائج تھا۔۔۔ یہ لوگ پچھلے زمانے کے کسی خیال کو اس کے سیاق و سباق سے نکال کر دلیل کے طور پر پیش کر دیتے ہیں۔ یہ جدید مقننین ایک طرف تو قانون مقدس کے مرکزی ابواب کی مذہبی حیثیت کے انکار کی طرف مائل ہیں اور دوسری طرف اپنا مقصد نکالنے کے لئے قرآن اور سنت کی آزاد نہ اور دور از کار تاویل کرنے سے بھی نہیں چوکتے ۔ در حقیقت یہ وہ پر جوش متجددین ہیں جو کسی قیمت پر بھی جدیدیت سے اپنا دامن نہیں چھڑانا چاہتے۔،لیکن رسمی طور پر وہ قانون مقدس کے اہم احکامات سے روگرداں نظر نہیں آنا چاہتے۔ ان کے دلائل اور نظریات یورپ سے بر آمد ہوتے ہیں لیکن وہ ترکی کی طرح قانون مقدس کو کھلم کھلا رد نہیں کرنا چاہتے۔”
یہ ہے تجدد پسند حضرات کی پوزیشن ! در حقیقت وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ اسلامی قانون موجودہ مغربی قانون سے بنیادی اختلاف رکھتا ہے۔ دونوں نظام کے قوانین مختلف حالات میں پیدا ہوتے ہیں ان، کے ماخذ مختلف ہیں۔ ان کی تاریخی اور روایات میں کوئی میل نہیں ہے ان کا مزاج ایک دوسرے کی ضد ہے۔ اسلامی قانون میں مغربی قوانین کا پیوند نہیں لگ سکتا۔ اور اگر مسلم سوسائٹی پر مغربی قانون کو مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تودہ انتشار اور افراتفری کا موجب ہو گا۔
یہ حضرات یہ بھی محسوس نہیں کرتے کہ آج عالم اسلام کے حالات ان حالات سے بالکل مختلف ہیں جو یورپ میں نشاۃ جدیدہRenaissance)) اور مذہبی اصلاح (Reformation) کے وقت پائے جاتے تھے، اور یہ اختلاف تاریخ ، روایات اور تہذ یبی پس منظر ہر ایک میں موجود ہے۔ ان حالات میں مسلم ممالک میں مغربی قوانین کس طرح کام کر سکتے ہیں ؟ ۔
پھر قانون محض کسی قوم یا گروہ کی قدروں کی ترجمانی کا نام ہے اگر عوام نے اپنی اصل روایات اور اقدار کو مسترد نہیں کیا ہے تو کوئی ایسا قانون کس طرح چل سکتا ہے جو کچھ دوسری اقدار پر مبنی ہو۔ اس صورت حال کے دو ہی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
۱۔ ایسا قانون نہایت خودسری اور آمریت کے ساتھ مسلط کیا جائے ۔ کیونکہ اس کو مسلمانوں کا اجتماعی ضمیر قبول نہیں کرے گا اور اسے ان کے سماج میں جمہوری طور سے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بات کی تائید ڈاکٹر نارتھر اپ نے بھی کی ہے۔ آپ کہتے ہیں “مجھے یقین ہے کہ ایک یہ سبب بھی ہے جس کی بنا پر ایسا قانون کسی ڈکٹیٹر کو ہی مسلط کرنا پڑتا ہے۔ یہ عوامی تحریک کی حیثیت سے پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عوام پرانی روایات کے قائل ہیں ۔
۲۔ اور اگر اس طرح اسے مسلط کر بھی دیا گیا تو اس سے سماجی تصادم پیدا ہونا یقینی امر ہے۔ ایسے قانون کا کبھی احترام قائم نہیں ہو سکتا۔ اس سے بغاوت ایک عام روشن ہو گئی، اور ہے ملک اور نظام قانون دونوں کے لئے تباہ کن ہوگا۔
تجدد پسند حضرات اس حقیقت کو بھی اکثر فراموش کر جاتے ہیں کہ مغرب نے خود قانون کو مذہب سے منقطع کر کے فائدے سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ علامہ اقبال نے خاص طور پر اس کی طرف توجہ دلائی اور آپ نے فرمایا” یقین کیجئے کہ آج مغرب خود انسان کے اخلاقی ارتقا کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے” ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یورپ خود اپنی اس غلطی کو دن بدن محسوس کرتا جا رہا ہے۔ موجودہ دور کا ایک عالم قانون ڈبلیو فیلڈ مین اعتراف کرتا ہے کہ :۔
” فطری قانون کی ہنسی اڑانا آسان ہے بالکل اسی طرح جیسے انسان کی عمومی سیاسی اور معاشرتی زندگی کا مذاق اڑایا جائے اجو ایک عرصے کی غیر مختتم جد و جہد کے باوجود نا پختہ کاری اور نا انصافی کے دلدل سے نہیں نکل سکی، مغربی تہذیب نے سوائے ایک انتہا سے دوسری انتہا تک پلٹنے کے آج تک کوئی حل پیش نہیں کیا ۔”
علامہ اقبال نے اس مطمح نظر کی لغویت اور کھو کھلے پن کو محسوس کر لیا اور ان خطرات کو بصراحت بیان کیا جو اس میں مضحر ہیں ۔ آپ نے ایک معتدل رویہ کی ضرورت کو اجاگر کیا اور امت مسلمہ کو اعتدال کی روش کی طرف بلا با کیونکہ آپ کا خیال تھا کہ :۔
ہمیں صرف یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ زندگی تغیر محض کا نام ہے بلکہ اس میں بقا و دوام کے عناصر بھی موجود ہیں۔ اپنے تخلیقی عمل سے محظوظ ہوتے ہوئے اور اپنی ساری طاقتوں کو زندگی کے نت نئے آفاق کی دریافت پر مرتکز کرتے ہوئے انسان خود اپنے ظہور ذات کے حضور ایک اضطراب محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنی پیش قدمی میں ماضی کی طرف دیکھنے پر مجبور ہے اور خود اپنی اس وسعت کا سامنا کرتے ہوئے وہ سہم جاتا ہے ۔ انسانی روح اپنی پیش قدمی کے دوران مخالف سمت سے عمل پیرا قوتوں کے سامنے اٹک جاتی ہے ۔ یہی بات ایک دوسرے پیرایہ میں یوں کہی جا سکتی ہے کہ زندگی ماضی کا بوجھ اپنی پشت پر اٹھائے حرکت کرتی ہے اور یہ کہ معاشرتی انقلاب کا کوئی بھی نظریہ کیوں نہ ہو اس میں قدامت پسندی کی قوت کی قدرو قیمت اور اس کا عمل نظروں سے اوجھل نہ ہونا چاہیے۔ جدید عقلیت کو چاہیے کہ قرآن کی اصلی تعلیمات کو اسی دور رس اور کلی بصیرت سے دیکھتے ہوئے ہمارے موجودہ اداروں کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ کوئی قوم اپنے ماضی کو پورے طور پر رد نہیں کر سکتی۔ کیونکہ یہ ماضی ہی ہے جس سے اس کی ذات کی شناخت ہوتی ہے ۔ اور اسلام جیسی سوسائٹی میں قدیم اداروں پر نظر ثانی کا مسئلہ اور بھی نازک ہو جاتا ہے۔ اور مصلح کی ذمہ داریاں زیادہ گراں ہو جاتی ہیں۔ اسلام اپنی خصوصیات کے اعتبار سے ‘غیر مقامی’ ہے اس کا مقصد انسانیت کے لئے انجام کار اتحاد کا ایک ایسا نمونہ پیش کرتا ہے جس میں باہم مختلف نسلوں کے لوگ آپس میں ایک دوسرے سے مل گئے ہوں اور پھر ذروں کے اس ڈھیر کو ایک خود شعور ملت میں تبدیل کر دیتا ہے ۔ اس کام کی تکمیل کچھ آسمان نہ تھی ۔ پھر بھی اسلام اپنے عمدگی سے سوچے ہوئے اداروں کے ذریعہ اس رنگا رنگ انبوہ میں سے ایک قسم کے اجتماعی ارادہ اور ضمیر کی تخلیق میں بڑی حد تک کامیاب ہو گیا ہے ۔ایسی سوسائٹی کے ارتقا میں کھانے پینے ، پاکی و ناپاکی جیسے بے ضرر معاشرتی قوانین کی غیر متبدل نوعیت بھی اپنے اندر ایک حیاتی قدر و قیمت رکھتی ہے اور یہ اس لئے کہ اسے قوانین نہ صرف اس قسم کی سوسائٹی کو ایک خاص قسم کی داخلیت بخشتے ہیں بلکہ خارجی اور داخلی ہم آہنگی کی وہ صفت پیدا کر دیتے ہیں جس سے بو قمونیت کی ان قوتوں کا رد عمل ہو سکتا ہے جو ہمیشہ ایک مخلوط سوسائٹی میں پوشیدہ ہوتی ہیں لہذا ان اداروں کے ناقد کے لئے ضروری ہے کہ اس ضمن میں کچھ کہنے سے پیشتر اسلام کے اجتماعی تجربہ کی ماہیت اولیٰ کو سمجھنے کی کوشش کرے اسے ان اداروں کی ہئیت و ساخت پر ضرور نظر ڈالنی چاہیے مگر کسی خاص ملک کی معاشرتی سود مندی کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ اس وسیع تر مقصد کے پیش نظر ساری نسل انسانی کی زندگی میں بتدریج ظہور پذیر ہو رہا ہے۔
علامہ اقبال کا یہ طویل اقتباس تعمیر جدید کے متعلق ان کے نقطہ نظر کی پوری طرح وضاحت کرتا ہے ۔ وہ مسلمانوں کی ترقی کے تو متمنی تھے ۔ مگر آپ حرکت محض کے قائل نہ تھے ۔ بلکہ آپ ایسی تحریک و جد و جہد کے متمنی تھے جو صحیح منزل کی جانب صحیح طریق کار کے مطابق اور صحیح مقصد کے حصول کے لئے ہے۔ اس طرح جو کام اپ نے سر انجام دیا وہ تجدد پسندی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کا اور مسلمانوں کی نئی حرکت و سرگرمی کو اسلامی حدود میں محدود محصور کرنے کا تھا ۔” اسلامی الہٰیات کی تشکیل جدید” میں آپ لکھتے ہیں:
“اور اگر ہم اسلامی فکر میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتے تو کم سے کم صحت مند تنقید سے عالم اسلام میں امنڈتے ہوئے تجدد پسندی کے سیلاب کو ضرور روک سکتے ہیں ہے۔ “
حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے اپنے ذمہ جو کام لیا وہ بڑا “رجعت پسندانہ” تھا اور اپنے اصلاحی کام کو آپ نے بحسن وخوبی انجام دیا ۔ اتنی کامیابی کے ساتھ کہ ایک مغربی مستشرق جو آپ کو آزاد خیالوں کی اگلی صف میں دیکھنے کا متمنی تھا ۔ آپ کی اس رجعت پسندی پر انگشت بدنداں رہ گیا ۔ اور اسے کہنا پڑا کہ :۔
” اسلامی الہٰیات کی تشکیل جدید کا آخری خطبہ (یعنی اسلامی قانون پر۔۔خ۔۔ا) اتنا اچھا نہیں جتنے ان کے دیگر خطبات ہیں ۔ آپ کلّی طور پر اجتہاد (یعنی اسلامی قانون کی از سرنو ترجمانی) کے حق میں ہیں۔ لیکن یہ صرف نظریاتی طور پر ہے۔ جب اصل عملی مسائل کا سوال پیدا ہوتا ہے تو آپ مقام ِنسواں اور کھانے پینے وغیرہ کے مخصوص مسائل پر بھی نظر ثانی سے سخت گھبراتے ہیں۔ آپ کا یہ آخری خطبہ جو در اصل آپ کے اصولوں کے عملی انطباق سے متعلق ہے، کتاب کا وہ واحد حصہ ہے جس سے قدامت پسندی کی بو آتی ہے ۔ یہاں اقبال یہ دعویٰ کرتا ہے کہ تبدیلی کرتے وقت ماضی سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ۔ قدامت بھی اپنی جگہ ایک عظیم قدرو قیمت رکھتی ہے ۔ بلکہ اقبال نے ان تو دراصل ان لوگوں کو اپنی تنقید کا ہدف بنایا جو مذہبی طور پر انقلابی اقدام کرنے پر آمادہ ہوئے ان کی یہ خواہش تھی کہ خود حکومت ایسے لوگوں کو دبائے۔”
ایک موقعہ پر آپ نے کہا کہ :۔
“میں جدید دستور میں ‘مذہبی مصلحین’ سے حفاظت کے لئے قدامت پسند ہندوؤں کے مطالبہ کی قدر کرتا ہوں۔
در اصل یہ مطالبہ سب سے پہلے مسلمانوں کی طرف سے ہونا چاہیے تھا ۔ “
در حقیقت اقبال نہ” آزاد خیال “تھے اور نہ ہی” رجعت پسند”۔۔ ۔ وہ ایک متوازن نظر رکھتے ہوئے افراط و تفریط سے دامن بچا کر آگے بڑھنا چاہتے تھے ۔
یہ تھا اقبال کا مسلک ۔اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ آپ نے اسلامی قانون کی تعمیر نو کا کام کس طرح انجام دیا ۔ اور موجد الوقت
اسلامی افکار میں ان کا کیا اضافہ ہے!
اسلامی قانون کی تعمیر جدید میں اقبال کا حصہ
ایک عرصہ سے بر صغیر ہند و پاک میں اجتہاد کے معاملہ میں خیالات و آرا کی کافی گرما گرمی تھی لیکن کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اجتہاد کی ضرورت کو با دلائل پیش کر سکے اور اسلامی قانون کے ارتقائی عمل پر روشنی ڈال سکے۔ اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہے کہ آپ نے اجتہاد کی حقیقی ضرورت کو واضح کیا اور ہندوستان میں اسلامی فکر کو حیات نو بخشی ۔
اقبال کا تجزیہ یہ تھا کہ مسلمانوں کے اسلام سے رفتہ رفتہ کٹتے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا سابقہ ایک خاص قسم کی قدامت پسندی سے ہے ۔ وہ اپنے چاروں طرف ایک نئی دنیا دیکھتے ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن اُن کی نظر کے سامنے اسلام کی رہنمائی متعین شکل میں نہیں ہے۔ ان کا تعلیم یافتہ طبقہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ اسلام ایک اذکار رفتہ نظام ہے جو ترقی کی تمام صلاحیتوں سے خالی اور زمانے کے مسائل کا حل پیش کرنے سے قاصر ہے۔ یہ غلط فہمی بعض علماء کے متشدّ دانہ رویے سے پیدا ہوئی اور مغربی فکر کی اشاعت نے اسے مزید ہوا دی۔ نتیجتًا مسلمان الجھن، پریشانی اور احساس کمتری کا شکار ہو کر اسلامی فکر سے دور ہونے لگے ۔ علامہ اقبال نے ان حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے ذہین طبقہ کے سامنے یہ سوال رکھا کہ:۔
” اسلامی قانون کی تاریخ اور اس کا نظام اپنے اصولوں میں جدید توجیہہ کے امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں یا نہیں؟ دوسرے الفاظ میں جو سوال میں اُٹھانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آیا اسلامی قانون اپنے اندر ارتقا کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں ؟”
اقبال نے نہ صرف پڑھے لکھے طبقہ کو اس طرف متوجہ کیا بلکہ خود بھی اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں سے بحث کی تشکیل جدید کے
سلسلہ میں ان کی کوششوں کا ایک جائزہ ہم مندرجہ ذیل صفحات میں پیش کریں گے۔
(ا) سب سے پہلے تو آپ نے اس غلط فہمی کا ازالہ کیا کہ زندگی تغیر محض کا نام ہے۔ اقبال نے کہا کہ تاریخ میں ایک غیر منقطع تسلسل ہے ۔ ماضی حال سے اور حال مستقبل سے پیوستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ زندگی دوام اور تغیر کے عناصر پر مشتمل ہے۔ اگر دا ئمی اقدار موجود نہ ہوں تو یہ انتشار کےسوا اور کچھ نہ ہو گا۔ اور اگر ہر جزوی تفصیل نا قابل تغیر قرار دے دی جائے تو نظام کا ڈھانچہ بدلتے ہوئے حالات میں منہدم ہو جائے گا ۔ آپ نے فرمایا :۔
“ساری زندگی کی روحانی بنیاد جیسا کہ اسلام کا نقطہ نظر ہے دائمی ہے جو تنوع و تغیر میں ظاہر ہوتی رہی ہے۔ کسی ایسی سوسائٹی کو حقیقت کے ایسے تصور پر مبنی ہو۔ اپنی حیات میں دوام اور تغیر کا امتزاج پیدا کرنا چاہیے۔ اس کے پاس ایک طرف تو وہ دائی اصول ہونا چا ہیں جو اس کی اجتماعی زندگی میں نظم و توثیق پیدا کر سکیں۔ کیونکہ اس پر لحظ تغیر پذیر دنیا میں ابدی اصول ہی اساس اور بنیاد فراہم کرتے ہیں لیکن جب ایک ابدی نظام کو تغیر کے ہر امکان سے خارج سمجھ لیا جاتا ہے( وہ تغیر جسے قرآن پاک نے خدا کی ایک نشانی کہا ہے) تو وہ جو فطرتًا متحرک ہے جامد ہو جاتا ہے۔ سیاسی اور سماجی اصول میں یورپ کی ناکامی اسی اول الذکر اصول کی عکاسی کرتی ہے۔ اور پچھلے ۵۰۰ سال میں اسلامی تہذیب کا جمود آخر الذکر اصول کی”
اسلام زندگی کے لئے اساسی قدریں اور قانونی معیار مہیا کرتا ہے اور وہ حدود متعین کرتا ہے جن سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ زندگی کے حدود متعین کرنے کے بعد وہ انسان کو اپنا راستہ پیدا کرنے کے لئے اور ان اصولوں کے ہر زمانے اور ہر صورت میں منطبق کرنے لئے ان کو چھوڑ دیتا ہے۔
بنیادی اصول دائمی ہیں ۔ وہ انسان کے ذہن کی پیداوار نہیں اس لئے کہ انسانی ذہن زمان و مکان کی قیود کا پابند ہوتا ہے ۔ یہ وہ حقائق ہیں جو الہام پر مبنی ہیں اور تمام آئندہ زمانوں کے لئے بھی موزوں ہیں۔ لیکن وہ زندگی کی ہر جزئی تفصیل کو اپنی گرفت میں نہیں لیتے بلکہ یہ تفصیلات اصولوں کی روشنی میں ہر دور کے حالات کے مطابق طے کی جاتی ہیں ۔ اور چونکہ زندگی اور تہذیب میں نہ ختم ہونے والا سلسلہ قائم ہے اس لئے ہر نسل کو اپنے اسلاف کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی اجازت ہونا چاہیے کہ وہ اپنے مسائل کو حل کر سکے۔ اس سلسلہ میں افراط و تفریط دونوں ہی مہلک ہیں۔
اسلامی قانون کے ماخذ
(۲) اقبال نے اسلامی قانون کے ماخذ کا تنقیدی مطالعہ کیا اور یہ بتایا کہ فقہ اسلامی میں ارتقا کی صلاحیت اور نئی صورت حال کے مقابلہ کی قوت ہے۔ آپ نے ماخذ قانون کے سلسلہ میں فقہ کی قدیم تقسیم ہی کو قائم و بر قرار رکھا اور بتایا کہ قرآن، سنت ،اجماع اور قیاس کی اصل حیثیت و اہمیت کیا ہے، نیز آپ نے مستقبل کے لئے ان کی صلاحیتوں پر بھی روشنی ڈالی۔ قرآن قانون کا پہلا اور بنیادی ماخذ ہے اور یہ وحی الہٰی ہونے کی وجہ سے انسانی ہدایت کے لئے دائمی اصول عطا کرتا ہے۔ اصول اسلامی قانون کے لئے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کتاب مقدس میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کے لئے بنیادی ہدایت دی گئی ہے۔ اور اُن کے چاروں گوشے متعین کر دیتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ انسان کو ایک نیا انقلابی نظریہ دیتی ہے اور اس کے اندر بصیرت کی روشنی پیدا کرتی ہے تاکہ وہ اسلام کے مطمح نظر کے مطابق زندگی کے پورے ڈھانچہ کی اصلاح اور آرائش کر سکے۔ نبی کریم ﷺ کی سنت قرآن کے بعد اسلامی قانون کا دوسرا بڑا ماخذ ہے۔ علامہ اقبال نے سنت نبوی کو مسلم سوسائٹی کی اصل قوت رابطہ قرار دیا ہے ۔ وہ ثقہ روایات کو قانون کے معاملہ میں ناقابل تنازعہ سند قرار دیتے ہیں۔ ان کی رائے میں محدثین نے مجرد الخیالی (Abstract Thinking) کے مقابلہ حقیقی اور عملی پہلو کو اجاگر کر کے اسلامی قانون کی سب سے بڑی خدمت انجام دی ہے ۔
اجماع جو اسلامی قانون کا تیسرا ماخذ ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک اسلام کا سب سے اہم قانونی تخیل ہے۔ فقہ میں اجماع کے معنی قانون کے کسی مسئلہ یہ مجتہدین کا اتفاق اور اشتراک رائے ہے۔ یہ اجماع اسلامی خاندان کا ایک مستقل ماخذ ہے۔ یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کے ذریعہ اسلام میں نئی اقدار متعین کی اور قائم رکھی جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس کی مدد سے ہمارا قانون ہر دور میں نشو و ترقی کر سکتا ہے ۔
قیاس کا درجہ اسلامی قانون میں سب سے آخری ہے ۔ اس کے سخت قانون سازی میں متوازن استدلال کے ذریعے اسلامی اصولوں کو مقامی مسائل کے بدلتے ہوئے حالات کے تحت منطبق کیا جاتا ہے۔ اسی قیاس کے ذریعہ جو در اصل اجتہاد کا دوسرا نام ہے اسلامی قانون کی تدریج و ترقی ہوتی ہے اور اس کو مخصوص اور متعین حالات پر منطبق کیا جاتا ہے۔
علامہ اقبال نے اسلامی قانون کے ان ماخذ کی وضاحت کی اور یہ ثابت کیا کہ ان کی ہئیت کچھ ایسی ہے کہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نشو و ارتقا کی ضمانت دی جا سکتی ہے ۔ اجماع اور قیاس ارتقا کے دو اہم فکری سلسلے ہیں اور ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ زمانے اور حالات کے تغیر و
تبدل کے تحت بدلتے ہوئے تقاضوں کو پورا کر سکیں۔
علامہ اقبال نے تجدد پسندوں کے قدم با قدم چلنے کے بجائے اسلام کے نظام کا غائر مطالعہ کیا، اس کی حقیقی روح کو اپنے اندر جذب کیا اور پھر بہ دلائل یہ چیز دنیا کے سامنے رکھی کہ یہ ایک ایسا کامل نظام ہے جس میں دوام کے ساتھ تغیر پذیری کی صلاحیت بھی موجود ہے ۔ یہ نظام نہ تو جامد اور غیر مرئی Closed System))ہے اور نہ سر تا سر اضافی اور ہر آن تغیر پذیر۔ اس میں دوام اور تغیر ا کے عناصر کا کامل توازن ہے اور یہ اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ ہر زمانے کی ضروریات پوری کر سکے اور کسی بھی دور کے معاشرے کو اپنے قالب میں ڈھال سکے ۔
کیا اجتہاد کا دروازہ بند ہے؟
(۳) اس کے بعد خودبخود اجتہاد کا دروازہ بند کر دینے کا سوال پیدا ہوتا ہے ۔ کیونکہ اسلام کے ڈھانچے میں خواہ لچک موجود ہو لیکن اگر آئندہ کے لئے ترقی اور تحریک کے دروازے عملاً بند کر دئیے گئے ہوں تو صورت حال چنداں مختلف نہ ہو گی۔ اقبال نے اس موضوع پر کئی جگہ بحث کی ہے۔ مختصراً ان کے افکار کا ماحصل یہ ہے۔
(الف) انہوں نے اس رائے کو مسترد کر دیا کہ اسلامی قانون میں جمود اور اضمحلال ترکوں کے زیر اثر ہونے کے باعث پیدا ہو یہ خیال ان کے نزدیک بالکل سطحی ہے ۔
(ب) ان کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ بند کئے جانے کے تین اسباب تھے ۔ (i) فرقہ معتزلہ کے انتشار اور تفرقہ آرائی کے اثرات کی روک تھام
(ii )مسلم سوسائٹی میں تصوف کا اثر و نفوذ جس کے تحت دین کا سماجی تصور نظروں سے اوجھل ہو گیا اور سوسائٹی ذہین طبقہ سے محروم ہو گئی ۔ اور
(iii) زوال بغداد میں نے پوری اسلامی دنیا کی چولیں ہلا ڈا لیں اور ایک ہمہ گیر انتشار اور افراتفری پیدا کر دی ۔ ان حالات میں علمائے سلف کی رائے پر جمے رہنے میں ہی غیریت سمجھی گئی ۔ عالم اسلام کو مزید انتشار سے بچانے کے لئے یہ تدبیر بہت اہم اور بہت مصلحتوں پر مبنی تھی۔ کیونکہ انتشار کے زمانے میں اجتہاد کے مقابلہ میں تقلید ہی زیادہ مفید ہوتی ہے ۔ رموز بیخودی میں آپ نے اس مسئلہ پر ان الفاظ میں روشنی ڈالی ہے ۔
مضمحل گرد و چو تقویم حیات ملت از تقلید می گیرد ثبات
راه آبا رو کہ ایں جمعیت است معنی تقلید ضبط ملت است
اسی سلسلہ میں آپ دوسری جگہ کہتے ہیں۔
اجتہاد اندر زمان انحطاط قوم را برہم ہمی پیچد بساط
زاجتہادِ عالمانِ کم نظر اقتداء بر رفتگان محفوظ ثر
علامہ اقبال اگر چہ تقلید کی افادیت اور اس کی ایک خاص پہلو سے ضرورت کے قائل تھے لیکن ان کو خیال یہ تھا کہ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ نت نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں جو حل کے متقاضی ہیں اور ایسی صورت میں اجتہاد کا دروازہ بند نہیں رہنا چاہیے۔ یہ دروازہ خدا نے کھولا تھا اور کسی شخص کو اس کا حق نہیں ہے کہ اسے ہمیشہ کے لئے بند کر دے۔ اگر ہمارے فقہا نے اسلاف کے زمانے میں یہ رائے قائم کی تھی تو آج کے مسلمان بہر حال اس “فکری آزادی سے رضاکارانہ دست برداری” کے پابند نہیں ہیں ۔۔ اس کے پیش نظر اقبال نے کہا :۔
میں نے ان اسباب کی وضاحت کی ہے جن کی بنا پر میرے نزدیک علما اس رائے پر پہنچے تھے۔ لیکن اب صورت حال بدل چکی ہے اور عالم اسلام کو انسانی فکر کے ہر گوشے میں غیر معمولی ارتقا کے اثرات سے سابقہ کرنا ہے ۔ چنانچہ میں یہ نہیں سمجھ سکتا کہ اب بھی اسی مسلک پر قائم رہنے کی کیا وجہ ہے ؟ “
علامہ اقبال نے در حقیقت صورت حال کا بالکل صحیح اندازہ لگایا تھا اس لئے کہ حالات میں کئی لحاظ سے تبدیلی واقع ہو چکی ہے اور اس کو بہر حال پیش نظر رکھنا ہے۔
- صحیح معنوں میں دور خلافت اگر چہ پہلی صدی ہجری کے وسط میں ختم ہو گیا لیکن بنو امہ کے پورے زمانے میں اور بنو عباس کے ابتدائی دور میں سلطنت کا قانون پوری طرح اسلامی رہا۔ اور اسلامی تعلیمات میں تصرف نہیں کیا گیا۔ عباسیوں کے زوال کے ساتھ مسلمانوں کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگی ۔ اور اسلامی قانون کی ضرورت کا احساس (جو کسی اسلامی نظم سلطنت ہی میں پیدا ہوتا ہے، کم ہونے لگے۔ اسلامی سلطنت کے اس انتشار نے مسلمانوں کی قوت تخلیق کو مکمل کر کے انہیں قدامت پرستی کی طرف مائل کر دیا۔ آج مسلمان ممالک آزاد ہو رہے ہیں اور نئی نئی مسلم سلطنتیں وجود میں آ رہی ہیں ۔ عالم اسلام میں ان سلطنتوں میں اسلامی قانون نافذ کرنے کی تحریک زور و شور سے چل رہی ہے ۔ ان حالات میں پرانا رویہ تبدیلی کا متقاضی ہے۔
- تاریخی اعتبار سے بھی صورت حال میں تبدیلی ہو چکی ہے۔ عصر جدید کی فلسفیانہ اور نئی فکر نے کافی افراتفری پیدا کر دی ہے۔ اب صورت یہ ہے کہ مادی طور سے طاقتور ہونے کے باوجود یورپ کا روحانی دیوالیہ پن منصہ شہود پر آ چکا ہے ۔ اس کے بر عکس عالم اسلام میں بیداری کروٹیں لے رہی ہے، اور یہ نئی بیداری اسلام کے پیغام حیات کی بصیرت سے ہی صحیح رہنمائی حاصل کر سکتی ہے۔ نشاۃ جدیدہ کے اس دور میں پرانے سبق رٹ لینے اور دہرا دینے سے کام نہیں چل سکتا اس کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا جائے ۔ اور حالات کے تقاضوں کے پیش نظر اسلام کی متعین کردہ حدود میں اجتہاد کیا جائے۔
اقبال اور اجتہاد
(۴) اقبال کے تصور اجتہاد پر بحث کرتے ہوئے ہمیں یہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ وہ بے قید اور بے لگام قسم کی رائے زنی کے قائل نہیں ہیں۔ اجتہاد اسلام کا ایک قانونی تصور ہے۔ اور یہ سوچنا غلط ہے کہ ہر آزاد انہ رائے اجتہاد کے مترادف ہے۔ یہاں در اصل ان لوگوں نے الجھاؤ پیدا کر دیا ہے جنہوں نے اقبال کی پیش کی ہوئی اجتہاد کی تعریف کو نت نئے معنی پہنائے اور ان کے طرز فکر سے ہٹ کر بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ۔ اس لئے ضرورت ہے کہ اس مسئلہ پر کچھ زیادہ روشنی ڈالی جائے۔
علامہ اقبال نے اجتہاد کی تعریف کی ہے۔
“اس لفظ کا لغوی ترجمہ کدو کاوش اور جد و جہد کرنا ہے اور اسلامی قانون کی اصطلاح میں اس کے معنی کسی قانونی سوال پر آزاد ا نہ رائے قائم کرنے کے لئے انتہائی کوشش کرنے کے ہیں ۔”
حیرت کی بات یہ ہے کہ بعض لوگ اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اقبال کے نزدیک ہر آزاد ا نہ خیال آرائی اجتہاد ہے۔ یہ خیال علامہ اقبال پر ایک تہمت سے کم نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر چہ اجتہاد کی مندرجہ بالا تعریف اتنی جامع نہیں ہے جتنی ہونی چاہیے ۔ لیکن یہ سوچنا انتہائی ظلم ہے کہ علامہ اقبال ہر آزاد ا نہ فیصلہ کو اجتہاد قرار دیتے تھے۔ اس لئے کہ اگر اسے صحیح سمجھ لیا جائے تو پھر گو یا دنیا کی ہر قانون ساز اسمبلی، خواہ وہ روس کی ہو یا امریکہ کی ،بھارت کی یا سیلون کی، در اصل اجتہاد کو رہی ہے اس لئے کہ وہ قانونی مسائل پر آزادانہ فیصلے کر رہی ہے ! علامہ اقبال آزادئ رائے کے تو ضرور قاتل تھے ۔ مگر ایسی آزادی کے نہیں جو قرآن اور سنت سے بھی آزاد ہو جائے ! اور اس سلسلے میں ہم اپنے دعوے کی تائید میں مندرجہ ذیل دلائل پیش کریں گے ۔
(ا) اقبال اس آزادی فکر کے خلاف تھے جو انسان کو خدا ئی ہدایت کے رشتہ سے منقطع کر دے۔ آپ عقل کی اہمیت کے تو قال تھے مگر آپ کی نگاہ سے یہ حیثیت اوجھل نہ تھی کہ عقل اگر صحیح حدود کو توڑ دے تو وہ رحمت کی بجائے مصیبت ہو جاتی ہے۔اور ہلاکت کا ایک ذریعہ بن جاتی ہے آپ کا ارشاد ہے:۔
آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ
ایک دوسری جگہ آپ موجودہ زمانے کی اسی آزاد فکری کے متعلق فرماتے ہیں ۔
پختہ افکار کہاں ڈھونڈ نے جائے کوئی اس زمانے کی ہوا رکھتی ہے ہر چیز کو خام
مدرسہ عقل کو آزاد تو کرتا ہے مگر چھوڑ جاتا ہے خیالات کو بے ربط و نظام
مردہ لا دینی افکار سے افرنگ میں عشق عقل بے ربطی افکار سے مشرق میں غلام
اقبال کے الفاظ میں اسلام کے معاملہ میں شیطان کی چال یہ ہے کہ
وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا روح محمؐد اس کے بدن سے نکال دو!
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو!
افغانیوں کی غیرت دین کا ہے یہ علاج ملّا کو ان کے کوہ و دمن سے نکال دو!
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو آہو کو مر غزار ختن سے نکال دو!
اور جب مسلمانوں کے ایک طبقہ نے یہی آزادانہ فیصلے کرتے ہوئے قرآن کو توڑنا مروڑنا شروع کر دیا تو علامہ اقبال نے بھر پور طنز کے ساتھ کہا
ہے کس کی یہ جرات کہ مسلمان کو ٹو کے حریت افکار کی نعمت ہے خدا داد
چاہے تو کرے کعبہ کو آتش کدہ پارس چاہے تو کرے اس میں فرنگی صنم آباد
قرآن کو بازیچہ تاویل بنا کر چاہے تو خود اک تازہ شریعت کرے ایجاد
یہ دلائل اس بات کی وضاحت کے لئے کافی ہیں کہ علامہ اقبال کبھی اس آزاد خیالی کے حق میں نہیں تھے جس میں خدا اور رسول کے مقرر کئے ہوئے حدود سے تجاوز پایا جاتا ہو۔
( ب )اپنے نظریہ اجتہاد کی وضاحت میں علامہ موصوف مشہور حدیث معاذ ؓ کا حوالہ دیتے ہیں جو اسلام کے تصور اجتہاد کی پوری پوری وضاحت کرتی ہے ۔ معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے کہ اگر کسی معاملہ میں براہ راست قرآن اور سنت کے واضح احکام میں کوئی رہنمائی نہ عملی تو میں کوشش کروں گا کہ اپنی رائے متعین کرنے کی پوری کوشش کروں اور اس کوشش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھوں اس سے صاف ظاہر ہے
۱۔ اگر قرآن اور سنت میں کسی معاملہ سے متعلق صریح ہدایت ہے تو اجتہاد کا سوال نہیں پیدا ہوتا ۔
۲۔ اگر ایسا نہیں ہے تو فقیہہ اس کی مخفی ہدایات کی چھان بین کی پوری کوشش کرے گا اور قرآن و سنت کے اشارات سے پوری کاوش وجود جہد (اجتہاد)کر کے حکم شرعی معلوم کرے گا۔
۳۔ اگر اس کے باوجود بھی کوئی ہدایت نہ ملی تو پھر اسلام کی عمومی تعلیمات اور اس کی روح کے مطابق اجتہاد کرے گا۔
یہی وجہ ہے کہ اس طریقہ کو رائے کے بجائے اجتہاد تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی حکم کو معلوم کرنے کی انتہائی کد و کاوش نہ کہ محض رائےزنی ہے۔ اسلامی قانون کے ماخذ پر بحث کرتے ہوئے اقبال اس نکتہ کی مزید وضاحت کرتے ہیں کیونکہ اس جگہ وہ قیاس کو اجتہاد کے ہم معنی قرار دیتے ہیں اور امام شافعی کے حوالے سے کہتے ہیں ،” قیاس جیسا کہ امام شافعی نے بجا طور پر بتایا ہے اجتہاد کا ہی دوسرا نام ہے جو قرآن کے حدود میں رہتے ہوئے بالکل آزادانہ کیا جاتا ہے اور اصولی طور پر اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ بقول قاضی شو کافی خود نبی کریم ﷺ کی حیات طیبہ میں اس کی اجازت دی گئی ہے “۔
اس سے واضح ہوا کہ اجتہاد محض آزادانہ رائے نہیں بلکہ قرآن کی حدود میں رہتے ہوئے صحیح طریقے پر رائے قائم کرنے کا نام ہے ۔
(ج) علامہ اقبال اس آزادی فکر و عمل کے قائل نہیں تھے جو ملت کی روایات سے صرف نظر کرتے ہوئے کی جائے ، انہوں نے بار بار اس سوال کو اٹھایا۔
رموز بیخودی میں آپ نے ایک باب کی یہ سرخی قائم کی۔
کہ حیاتِ ملی کا درجہ کمال یہ ہے کہ افراد کی طرح ملت بھی احساس خودی پیدا کرے اور اس کی پیدائش و تکمیل ملی روایات کے انضباط سے ممکن ہو جائے ۔
“در معنیٰ ایں کہ کمال حیات ملیہ این است کہ ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولیده
تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیہ ممکن گردو.
اسی باب میں آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک قوم اپنے وجود اور اپنی حقیقت کو صرف اپنے ماضی ہی سے جانتی ہے اور کسی قوم کے احیا کے لئے صحیح ترین نسخہ ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ماضی سے ربط قائم کرے اور اپنی روایات کی حفاظت کے ذریعہ قوت حاصل کرے ۔
آپ کا ارشاد ہے :۔
قوم روشن از سواد سرگذشت خودشناس آمد زیاد سرگذشت
سرگذشت اوگرا از یادش رود باز اندر نیستی گم می شود!
نسخہ بود ترا اے ہوشمندی ربط ایام آمده شیرازه بند
ربط ایام است مارا پیر ہن سوزنش حفظ روایات کہن
چیست تاریخ اے زخود بیگا نہ داستانے قصہ و افسانہ
این تر از خویشتن آگہ کند آشنائے کا ر و مرد ره کنند
روح را سرمایہ تاب است ایں جسم ملت را چو اعصاب است ایں
علامہ اقبال مرز یہ کہتے تھے:۔
اے پریشان محفل دیرینہ ار است مرد شمع زندگی در سینہ است
نقش بر دل مغیٔ توحید کن چاره ٔکار خود از تقلید کن
آپ کا ارشا و تو یہ ہے ک:۔
مضمحل گرد و تقویمِ حیات ملت از تقلید می گیرد ثبات
راه آبا رو کہ ایں جمعیت است معنی تقلید ضبط ملت است
یہ تھا اقبال کا طرز فکر ۔ آپ نے اپنے لیکچرز میں بھی بعض جگہ اس پر روشنی ڈالی ہے۔ مثلاً:۔
” زندگی اپنے ماضی کی تاریخ کی قوت سے آگے بڑھتی ہے اور معاشرتی تبدیلی کے پیش نظر قدامت پسندی کی اقدار اور کار کردگی سے صرف نظر نہیں کرنا چاہیے ۔ کوئی قوم مکمل طور سے اپنے ماضی کو مسترد نہیں کر سکتی کیونکہ یہ ماضی ہی ہے جو ان کے قومی تشخص کی صورت گری کرتا ہے …….. … اور مسلمانوں کے معاشرہ میں قوانین پر نظر ثانی اور بھی زیادہ نازک ہے ۔یہاں مصلح کی ذمہ داری کچھ اور بھی نزاکت اختیار کر لیتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ علامہ اقبال اس بے قید آزادی کو روا نہیں رکھ سکتے تھے جس کو لوگوں نے ان سے منسوب کیا ہے۔
(د) اقبال کے نزدیک اجتہاد کا فرض ہر شخص سر انجام نہیں دے سکتا۔ جبکہ یہ کام انہیں کا ہے جو دیں کا علم اور فہم رکھتے ہوں اور جن کے کردار پر اعتبار کیا جا سکتا ہو۔
رموز بے خودی میں اجتہاد اور تقلید کے مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے اقبال نے اس پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ کم نظر علماء کے اجتہاد مقابلہ میں تقلید زیادہ محتاط طریقہ ہے کیونکہ( ؟) اسلاف کی عقل خواہشات کی تابع نہیں تھی ، اور اسلاف صالحین کے عملی کارنامے غرض مندی سے آلودہ نہیں تھے۔ ان کی فکر و نظر میں بار یکی تھی اور کردار میں اسوۂ نبوی ﷺسے قربت آپ فرمتے ہیں۔
راجتہاد عالمان ِکم نظر اقتداء بر رفتگاں محفوظ تر
عقل آبایت ہوس فرسوده نیست کار پاکان از غرض آلوده نیست
فکر شاں آید ہمی باریک تر ورع شان با مصطفےٰ ؐنزدیک تر
“اسلامی الہٰیات کی تشکیل جدید” میں آپ کہتے ہیں :-
” آج عالم اسلام کے پیشوا ؤں کا یہ فرض ہے کہ وہ یورپ کے موجودہ واقعات کو سمجھیں اور پھر سماجی پالیسی میں اسلام کے مقاصد کی طرف صحیح بصیرت کے ساتھ قدم آگے بڑھائیں :۔”
“تجدد پسندی کے خلاف حزم و احتیاط برتنے کے معاملہ میں آپ نے یہاں تک کہا کہ میں نئے دستور میں مذہبی اصلاحات کے تحفظ کے لئے قدامت پرست ہندؤوں کے مطالبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ در اصل یہ مطالبہ سب سے پہلے خود مسلمانوں کی طرف سے ہونا چاہیے تھا ۔”
اس طرح اقبال کے نزدیک مجتہد کے لئے مختصر الفاظ میں مندرجہ ذیل خصوصیات کا ہونا ضروری ہے ۔
۱۔ اسلام کا علم ۔اس کے مقصد حقیقی، اصول و قوانین اور اسلامی نظام حیات کا کامل فہم ۔
۲۔ ان موجودہ مسائل کا فہم جو اس وقت عالم اسلام کو در پیش ہیں ۔
۳۔ اسوۃ نبویﷺ سے قربت اور آپؐ کے مزاج اور طریقہ سے واقفیت
۴۔ قابل اعتماد اور بلند سیرت
آپ نے بار بار تنبیہ کی کہ خطرہ اس امر کا ہے کہ کہیں
“ہمارے دینی اور سیاسی مصلح آزاد خیالی کے جوش میں کسی روک ٹوک کی عدم موجودگی کی وجہ سے اصلاح کے مناسب حدود سے تجاوز نہ کر جائیں۔”
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ رکاوٹ کون سی ہو؟ اس معاملہ میں اقبال نے متعین طور پر کوئی بات نہیں کہی تھی لیکن انھوں نے وقتاً فوقتاً جو تجاویز پیش کی تھیں ان کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسی اکادمی قائم کرنا چاہتے تھے جہاں وہ علما اور دیگر صاحب علم مسلمانوں کے ساتھ کام کر سیکس ۔
اس لئے کہ وہ محسوس کر رہے تھے کہ ہر زمانے میں ضروری نہیں ہے کہ وہ تمام صفات جن کا انھوں نے مجتہد کی خصوصیات میں ذکر کیا تھا کسی فرد واحد میں جمع ہو جائیں۔ اور دور جدید میں تو صلاحیت کے عام فقدان کی وجہ سے یہ مسئلہ اور شدید ہو گیا ہے۔ علامہ اقبال نے اس کا یہ حل نکالا تھا کہ ایک ایسی کونسل تشکیل دی جائے جس میں علمائے دین کے ساتھ موجودہ علوم کے ماہرین بھی شامل ہوں اور ان کی مشترکہ مساعی سے عالم اسلام میں کوئی حقیقی علمی اضافہ کیا جائے ۔ آپ نے علامہ سید سلیمان ندوی مرحوم سے اسلامی قانون کی تشکیل جدید کے سلسلہ میں مل کر کام کرنے کی بھی درخواست کی تھی۔ جب مولانا انور شاہ نے دار العلوم دیوبند سے علیحدگی اختیار کی تو آپ نے اس پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا:۔
” دار العلوم کو تو صدر مدرس اور بھی مل جائیں گے اور یہ جگہ خالی نہ رہے گی لیکن اسلام کے لئے اب جو کام میں شاہ صاحب سے لینا چاہتا ہوں اس کو سوائے شاہ صاحب کے دوسرا کوئی سر انجام نہیں دے سکتا۔ آج اسلام کی سب سے بڑی ضرورت فقہ سلامی کی جدید تدوین ہے جس میں زندگی کے ان سینکڑوں ہزاروں مسائل کا صحیح حل پیش کیا جائے جس کو دنیا کے موجودہ قومی ،بین الا قوامی، سیاسی، معاشی اور سماجی احوال و ظروف نے پیدا کر دیا ہے۔ مجھ کو پورا یقین ہے کہ اس کام کو میں اور شاہ صاحب دونوں مل کر ہی کر سکتے ہیں۔ ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی شخص اس وقت عالم اسلام میں ایسا نظر نہیں آتا جو اس عظیم الشان ذمہ داری کا حامل ہو سکے ۔”
علامہ اقبال اگرچہ اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے لیکن آپ نے ایسے شخص کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر آپ کی نگاہِ انتخاب مولاناسید ابوالاعلی صاحب مودودی مدیر ” ترجمان القران “پر پڑی اور آپ کے ساتھ مل کر کام شروع کر دیا۔ لیکن یہ منصوبہ بھی جامعہ عمل نہ پہن سکا کیونکہ دار السلام کے قیام کے چند ہی روز بعد آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔
یہ مسئلہ اقبال کے نزدیک اتنا اہم تھا کہ ۱۹۳۲ ءکے مشہور صدارتی خطبہ میں آپ نے کہا: ۔
” میرا خیال ہے کہ علماء کی ایک اسمبلی تشکیل دی جائے جن میں وہ مسلم قانون دان بھی شامل ہوں جنھوں نے علم جدید حاصل کیا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کے بنیادی اصولوں کی روح کے عین مطابق موجودہ حالات کی روشنی میں اسلامی قانون کا تحفظ کیا جائے، اس کو وسعت دی جائے اور اگر ضروری محسوس ہو تو نئی تاویل کی جائے تا کہ کوئی بھی قانون جو مسلم پرسنل لا کی تعریف میں آتا ہے اس جماعت کی منظوری سے پہلے قانون سازی کے لئے پیش نہ کیا جا سکے ۔”
اقبال اسی مقصد کے پیش نظر کام کر رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ انفرادی اجتہاد کے خطرات کو شورائی اجتہاد کے ذریعہ دور کیا
جا سکتا ہے۔
مندرجہ بالا بحث سے بخوبی واضح ہو گیا کہ اجتہاد کے متعلق اقبال کا جو جملہ بالعموم پیش کیا جاتا ہے وہ در اصل خود علامہ موصوف کی رائے کی بھی پوری ترجمانی نہیں کرتا۔
واقعہ یہ ہے کہ اس قسم کی تعریف نہ صرف اقبال کے تصور اجتہاد کی صحیح نمائندگی نہیں کرتی ہے بلکہ منفی لحاظ سے بھی ناقص ہے۔ علمائے قانون اتنی مبہم اور وسیع تعریف کو تسلیم نہیں کریں گے ۔ اس سلسلے میں ہم اجتہاد کی مستند ترین تعریفات پیش کرتے ہیں۔
علامہ آمدی اپنی مشہور کتاب الاحکام فی اصول الاحکام میں لکھتے ہیں ۔
” اصولیوں کی اصطلاح میں لفظ اجتہاد مخصوص ہے اس انتہائی کوشش کے لئے جو کسی امر شرعی کے بارے میں یہ گمان حاصل کرنے کے لئے صرف کی جائے کہ یہ شرع کے موافق ہے ۔
امام شاطبی الموافقات میں کہتے ہیں :۔
اجتہاد نام ہے شرعی احکام معلوم کرنے اور ان کو حالات پر منطبق کرنے کے لئے انتہائی کوشش کر نے کا “
ڈاکٹر صبحی محمصانی لکھتے ہیں :۔” اجتہاد کے لغوی معنی انتہائی کوشش صرف کرنے کے ہیں اور اصطلاح شرع میں کوشش صرف کرنے کا نام ہے جو دلائل شرعیہ کے ذریعہ استنباط احکام کے لئے کی جائے۔ بالفاظ دیگر وہ کوشش جو مزکورہ اصول اساسی کی وساطت سے احکام شرع کے استخراج کے لئے کی جائے۔”
یہ تعریفات بلند پایہ مسلم ماہرین قانون اور علماء کی پیش کی ہوئی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ مغربی مستشرقین بھی تعریف نہیں کرتے جو اقبال کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔ ان حضرات نے بھی اجتہاد کی وہی تعریف معتبر مانی ہے جو فقہا(Dictionary of Technical Terms) میں اجتہاد کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے۔
” اجتہاد کے معنی ہیں کسی مقصد کے حصول کے لئے جان کھپا دینا۔ اصطلاحاً اس کے معنی شریعت کے کسی مسئلہ کے بارے میں رائے اور ظن غالب قائم کرنے کے ہیں ۔”
(Hugh’s Dictionary of Islam) میں اس کی یہ تعریف ہے ۔
” اجتہاد یعنی کسی قانونی یا دینی معاملہ میں مجتہد یا کسی عالم یا فاضل کا منطقی استخراج۔”
اس بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے علامہ اقبال کی طرف منسوبہ تعریف نامکمل ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ جس مقام پر اجتہاد کے بارے میں یہ کہا ہے وہاں وہ اس کی جامع و مانع اور فقیہانہ تعریف نہیں کر رہے تھے بلکہ ایک کی طرف اپنے قاری کو متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ یہ تعریف ۔۔ اگر اسے تعریف قرار بھی دیا جائے تو۔ ۔ ناقص اور نامکمل ہے ۔ لیکن محموعی انہوں نے جس طرح اجتہاد کے مباحث کو پیش کیا وہ بڑی بصیرت کو ظاہر کرتا ہے اور سرتاسر تعمیری اور فکر انگیز ہے۔
اقبال اور انقلاب ترکی
لیکن آگے بڑھنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ علامہ اقبال ترکی کی آزاد خیالی کو کیوں پسند کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ علامہ مسلمان ممالک میں ایک نئی حرکت اور اسلامی احیاء کی نئی کوشش دیکھنے کی تمنا رکھتے تھے ۔ وہ ترکی میں سرگرمی کو اس لئے پسند کرتے تھے کہ یہ ایک نئی بیداری کا پتہ دیتی تھی ترکی کے متعلق کافی و شافی اطلاعات میسر نہیں تھیں۔ انہیں گمان تھا کہ مصطفےٰ کمال پاشا ،جمال الدین افغانی اور سعید حلیم پاشا کی روایات کو زندہ کر رہا ہے ۔ حالانکہ یہ ٹھیک نہ تھا۔ اسلام میں اجتہاد نہیں کیا بلکہ یک قلم اسلام کو ہی منسوخ کر دیا۔
علامہ اقبال ترکی کو بہ نظر اتماد نہیں دیکھتے تھے۔ ان کوتذ بذب تھا۔ البتہ انہیں توقع تھی کہ حالات میں بہتر تبدیلی آۓ لیکن ایسا نہیں ہوا اور اپنے آخری ایام میں علامہ اقبال ترکی سے مایوس ہو گئے اور وہاں کے تجدد سے اپنی بیزاری کا انہوں نے اعلان کیا۔
“اسلامی الہٰیات کی تشکیل جدید” ہی میں آپ نے کہا تھا کہ ۔:
“ہم موجودہ مسلم مالک میں آزاد تحریکوں کا پر جوش استقبال کرتے ہیں لیکن تسلیم کرنا پڑے گا کہ سلام کی تاریخ کا خیالی دور ایک نہایت نازک اور تشویش کن مرحلہ ہے۔ آزاد خیالی کا سیلان انتشار اور افتراق کی جانب ہے اور یہ سخت خطر ناک نتائج پر منتج ہو سکتا ہے۔” ترکی کے فلسفی شاعر ضیاء گو کلپ کے متعلق کہتے ہیں ۔” جہاں تک ترک شاعر کے مطالبات کا تعلق ہے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسلام کے عائلی قانون کے بارے میں کافی واقفیت نہیں رکھتے ۔ اور نہ ہی انہیں قرآن کے قانون وراثت کی اصل معاشی اہمیت کا علم ہے۔”
پنڈت نہرو کے ایک بیان کے جواب میں آپ لکھتے ہیں ۔
“ترکی میں سوئٹزرلینڈ کے قانون کو اختیار کرنا ایک فاش غلطی ہے جو اصلاح کے اندھا دھند جوش سے پیدا ہو گئی ہے۔”
اسی طرح قرآن کو ترکی زبان میں پڑھنے کے قانون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
“ذاتی طور پر میں اس اقدام کو ایک بہت بڑی غلطی سمجھتا ہوں ۔”
اسی طرح آپ نے اپنے زندگی کے آخری دور کے کلام میں ترکی کی اس روش پر سخت اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ ترکی کی مغرب پر حزن و ملال کے ساتھ آپ نے کہا تھا۔
سمجھ رہے ہیں وہ یورپ کو ہم جوار اپنا ستارے جن کے نشیمن سے ہیں زیادہ قریب
جاوید نامہ میں علامہ اقبال اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ مصطفےٰ کمال جو تجدید کا آرزو مند تھا اس نے حقیقی تجدید کی بجائے فرنگ کی روش کو اختیار کیا اور پرانے اصنام کو نکال کر مغرب سے آوردہ نئے لات و منات کو ان کی جگہ آویزاں کر دیا۔
یہ تجدید نہیں محض تبدیلی اصنام ہے :
مصطفےٰ کو از تجدد می سرد و گفت نقش کہنہ با یدزدو و
نو نگردو کعبہ را رختِ حیات گرزا فرنگ آیدش لات و منات
ترک را آہنگ نو در چنگ نیست تازهٔ وش جز کہنئہ افرنگ نیست
پیام مشرق میں آپ مصطفےٰ کمال کو خطاب کر کے کہتے ہیں کہ دنیا میں روشنی تو نبی اکرمﷺ کے پیغام سے ہے،۔لیکن آج خود محروم یقیں ہے اور اس حکمت کو چھوڑ کر دوسری جاہلیتوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا :۔
آمده بود کہ ما از اثرِ حکمت او واقف از سرِ نہانخانۂ تقدیر شدیم
اصلِ یک شر ر یا فتہ رنگ بو ست نظرے کرد کہ خورشید جہاں گیر شدیم
نکتہ عشق فروشست زدل پیر حرم در جہان خواہ باندازۂ تقصیر شدیم
اور ضرب کلیم میں آپ نے کھل کر کہدیا ہے۔
مری نو اسے گریبان لالہ چاک ہوا نسیم صبح چمن کی تلاش میں ہے ابھی
نہ مصطفےٰ نہ رضا شاہ میں نمود اس کی کہ روح شرق بدن کی تلاش میں ہے ابھی
یہ تھا اقبال کا نقطہ نظر ترکی کے نئے تجربے کے بارے میں۔ اور اس استسناد کے پیش نظر ہم یہ نتیجہ نکالنے میں حق بجا نب ہے کہ علامہ اقبال ترکی کی اس جدت پسندی کو جو اسلام سے انحراف پر مبنی تھی غلط سمجھے تھے۔
اصول اجماع
۵۔ اسلامی قانون کے باب میں اقبال کا سب سے بڑا حصہ اصول اجماع کی وضاحت ہے۔ اسلامی قانون کی اصطلاح میں اجماع سے مراد قانون کے کسی معاملہ میں علمائے امت کا اتفاق اور اشتراک رائے ہے۔ اجتہاد انفرادی فیصلے ہوا کرتے ہیں اور وہ قانون کی حیثیت اسی وقت اختیار کرتے ہیں جب ان پر اجماع ہو جائے۔
قانون کا ہر طالب علم اس خلیج سے واقف ہے جو ہمیشہ سے اصول انصاف میں اور زندگی کے سماجی تعلقات میں حائل رہی ہے اور واقعہ یہ ہے کہ قانون کی تاریخ ظاہر و باطن ، اور حقیقی اور نظری کے باہم تصادم کی تاریخ ہے ۔ یورپ کا نیچرل لا بدلتی ہوئی ضروریات کو پورا نہ کر سکا ۔ اور اس کو ہر مقصد کے لئے اچھی طرح مسخ کیا گیا برعکس اس کے عمرانیاتی نقطہ نظر نے فطری اور ابدی معیار کے سوال ہی کو مسترد کر دیا۔ اور اس طرح انتشار اور اضافیت (Relativism and Atomism) کے دور کا آغاز ہوا ۔ اقبال کا خیال یہ تھا کہ ایک قانونی نظام میں بگاڑ کے اصل اسباب مندرجہ ذیل ہیں :
(۱)حقائق زندگی کی دوامی قدروں کا نقصان
(۲) آسمانی ہدایت نے مستغنی ہو کر انسانی عقل کی غلط اندیشی کا غیر حقیقت پسندانہ عمل اور
(۳) کسی ایسے ضابطہ کی عدم موجودگی جس کے ذریعہ اصول کو حقائق سے مربوط کیا جائے۔
اسلامی قانون کسی قانونی نظام کی یہ تمام اساسی ضروریات پوری کرتا ہے۔ ایک طرف تو قرآن اور سنت دائمی قدریں اور بنیادی معیار فراہم کرتے ہیں اور دوسری طرف اجماع کے ذریعہ نئے معیار قائم کئے اور بر قرار رکھے جاتے ہیں۔ قرآن اور سنت وحی الہٰی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زندگی کی نہ بدلنے والی حقیقتوں پر مبنی ہیں اور انسانی تمدن کے بنیادی اصول پیش کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایسا نقشہ فراہم کرتے ہیں جس میں اصول اجماع کام کرتا ہیں۔ اس کے ذریعہ ہر زمانے کے سماجی حقائق کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اور چونکہ اجماع اتنا ہی محترم ہے جتنا قانون کے دوسرے حصے اس لئے یہ اصول کو حقائق سے مربوط کرنے کے لئے بے نظیر طریق کار ہے، اقبال نے اصول اجماع کی اس بنیادی حیثیت اور اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ آپ نے یہ بھی ثابت کیا کہ اجماع ایک جمہوری طریق ِعمل ہے اور یہ کہ اسلام’ پادریت ‘سے بنیادی طور پر مختلف ہے۔ آئندہ زمانے کے لوگوں کا اجماع اسلاف کے اجماع کو بدل سکتا ہے لیکن دلائل شرعی کی بنیاد پر ۔
خلافت راشدہ کے بعد اجماع کی جمہوری تنظیم قائم نہ کی جا سکی اور صرف انفرادی اجتہاد پر ہی بھروسہ کر لیا گیا۔ انفرادی اجتہاد کی اہمیت بجاء لیکن اجماع کے ادارہ کا معطل ہو جانا ایک بہت بڑا سانحہ تھا۔ لیکن اب اس ادارے کو پھر سے قائم کیا جا سکتا ہے اور موجودہ دور کی مقننہ اس مقصد کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن علامہ اقبال اس راہ کی عملی دشواریوں سے بھی واقف ہیں مثلاً۔
۱۔ موجودہ دستور ساز اسمبلی میں غیر مسلموں کی موجودگی۔ اور
۲۔ ہمارے موجودہ قانون سازوں میں اسلام کے علم اور فہم دین کا فقدان ۔
اس لئے آپ نے تجویز کیا کہ ایک مسلم قانون ساز اسمبلی ہے جس میں قانونی امور میں مدد اور رہنمائی کے لئے آزادانہ مباحثہ میں علما کا حصہ سب سے زیادہ اہم ہو۔ اسلام کی غلط ترجمانی کے امکانات کا واحد موثر علاج یہ ہے کہ مسلم ممالک میں قانون کی تعلیم کے طریقہ میں اصلاح کی جائے، اس کے دائرے کو وسیع کیا جائے اور اسلامی قوانین کے ساتھ موجودہ طرز قوانین کے غائر مطالعہ کو مربوط کر دیا جائے ۔”
اس طرح اقبال نے نہ صرف اجماع کی اہمیت اور اس کے عمل کو نمایاں کر کے پیش کیا۔ بلکہ وہ طریقے بھی تجویز کئے جس سے موجودہ دنیا میں اصولوں کی ترجمانی حقائق کی زبان میں کی جا سکے ۔ میرے خیال میں اپنے دور کے اسلامی افکار میں ان کا یہ اضافہ بڑی اہم حیثیت رکھتا ہے۔
اقبال اور اسلامی فلسفہ قانون
۶۔ آخر میں میں یہ عرض کرنے کی جرأت کروں گا کہ اقبال کے افکار قانونی میں فلسفہ قانون کی وہ داغ بیل پائی جاتی ہے جو اگر متشکل اور مکمل ہو جاتی تو بلاشبہ فکر حاضر میں انقلاب برپا کر دیتی کیونکہ اس کی بنیاد قرآن اور سنت پر تھی اور یہ اسلام کے فلسفہ قانون کی وضاحت کی حیثیت رکھتی تھی۔
قانون کا اصل مطمح نظر عدل کا قیام ہے۔ حالانکہ قانون موجودہ سماجی حقیقتوں پر عمل کرتا ہے۔ لیکن اس کو جہاں سے زندگی اور طرز فکر حاصل ہوتی ہے وہ ہے لوگوں کا کائنات کے بارے میں نقطہ نظر، اس میں انسان کی حیثیت اور سماجی انصاف کے بارے میں لوگوں کے تصورات، ان دونوں باتوں کا تصور قانون کے معیار کو متعین کرتا ہے۔ اقبال کا بنیادی فلسفہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ زندگی ایک اکائی ہے اور زندگی کی بنیاد وہ غیر مرئی قوت ہے جسے وہ خودی کہتے ہیں۔ ان کا عقیدہ ہے کہ انسانی فلاح اس اعلی و ارفع قارون کے اتباع میں مضمر ہے جو کائنات کی حقیقتوں پر مبنی ہے اور جسے خالق کائنات نے اپنے انبیاءؑ کے ذریعہ سے انسان کی رہنمائی کے لئے نازل کیا ہے ۔ یہ قانون حیاتِ اجتماعی کی اصل بنیادیں فراہم کرتا ہے اور دور حاضر کی قانونی اصطلاح میں معیار اولیں Grandnorm ہے یعنی وہ بنیادی قدر اور معیار جس سے فرد اور معاشرہ کا رویہ ہم آہنگ ہونا چاہیے اور جس کے مطابق زندگی کے تمام شعبوں کی صورت گری ہونا چاہیے ۔ عصر حاضر میں فکری پراگندگی اور عملی انتشار اسی فکری اساس اور بنیادی معیار کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہے۔ علامہ اقبال نے فرمایا :۔
” اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ یورپ نے ایک مثالی اور عظیم الشان سسٹم قائم کر لیا ہے۔ لیکن تجربہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عقل محض وہ روشنی نہیں پیدا کر سکتی جو الہام سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فکر مطلق نے انسان کو کم متاثر کیا ہے جبکہ سب نے اسے ہمیشہ سرفراز کیا ہے ۔ اور معاشرے کے معاشرے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یورپ کی عینیت کبھی اس کی زندگی میں روح پھونک سکی اور نتیجہ کے طور پر ایک مسخ شدہ خودی رونما ہوئی، جو متشدد اور باہم دست وگر بیان جمہوریتوں کی آڑ میں پناہ ڈھونڈنے ہے۔ وہ جمہوریتیں جن کا مقصد امیروں کی خاطر غریبوں کا نا جائز انتفاع ہے۔ یقین جانئے کہ انسان کی اخلاقی ترقی کی راہ میں یورپ وقت کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کے پاس الہام پر مبنی وہ حقیقی نظریات موجود ہیں جو زندگی کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں اور ظاہر سے گذر کر باطن تک کو متاثر کر کے چھوڑتے ہیں ۔”
الہام پر مبنی اعلی و ارفع قانون کا تصور اقبال کے فلسفہ قانون کا سب سے بنیادی عنصر ہے۔ یہ قانون دائمی ہے اور اس نشو و ارتقا ممکن ہے۔ اس تصور کے قانونی تقاضے بڑے انقلابی ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ
۱۔قانون کا اصل جواز اس حقیقی اور ار فع قانون سے حاصل ہوتا ہے۔ جو خارجی اور حقیقت پسندانہ ہے۔ اس طرح سے ہم نظری قانون کے لغو اور لائینی اختلافات کی الجھنوں سے نجات پا سکتے ہیں ۔
۲۔ سوسائٹی اور ریاست صرف قانون ارفع Natural Law (قانون بالا) کے نفاذ کے لئے سیاسی اور قانونی ادارے ہوتے ہیں۔ اور اگر وہی اس مقصد کو ختم کر دیں تو وہ اپنی اطاعت کے جواز کو ختم کر دیتے ہیں۔
۳۔ ایک بین الا قوامی قانون جو قومی ریاستوں کے مختلف قانونی نظاموں کی تنظیم اور رہنمائی کرے عملاً ممکن ہے۔ وہ مشکلات جو آسٹن کے نظریہ قانون سے پیدا ہو گئی ہیں دور ہو جاتی ہیں اور قوموں کے لئے ایک ایسے حقیقی بین الاقومی قانون کے ترقی دیئے جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے جو اس قانون ارفع Grandnorm سے مستخرج ہو۔
۴۔ ہیگل کے کلیت پسندانہ تصورات کا ابطال کیا جا سکتا ہے اور اس کے مفاسد سے معاشرہ کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس قانون میں اسٹیٹ کی اس لئے اطاعت نہیں کی جاتی کہ وہ تقدیس اور حکمرانی کا مقام رکھتی ہے بلکہ اس لئے کہ یہ قانون بالا کے قیام کا ذریعہ ہوتی ہے۔ اور جب تک وہ قانون بالا کی اطاعت کرتی ہے اس کی اطاعت کی جاتی ہے۔
ا قبال کے قانونی افکار کے کچھ پہلو ہیں ۔ افسوس ہے کہ وہ ان میں تکمیل کا رنگ بھرنے تک زندہ نہ رہ سکے۔
اس طرح ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے اپنے دور کی قانونی فکر کی تعمیر نو کے لئے اسلامی قانون کے اصل معنی اور مقصد دریافت کرنے اور نشو و ارتقا کا وہ سلسلہ دریافت کرنے کی کوشش کی جو اس نظام کو ایک زندہ اور متحرک نظام بناتا ہے اور اس کی صداقت اد را بدیت کو ثابت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال نے اسلام کے فلسفہ قانون کے مختلف پہلو بھی نمایاں کرنے کی سعی کی تا کہ دور حاضر کے فلسفہ کے مقابلہ میں اس فلسفہ کو بھی پوری قوت اور استدلال کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔ اور یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ان کی یہ مساعی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے اس دور میں ایک گراں قدر خدمت ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قبیلہ فخروم قریش کی ایک بڑی معز شاخ تھی۔ اس کی ایک عورت نے چوری کی نبی ﷺ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ قریش اس حکم سے بڑے متفکر ہوئے۔ انہوں نے اسامہ بن زیدؓ کو جن سے رسول اللہ ﷺبے حد محبت کرتے تھے، سفارشی بنایا۔ اسامہؓ حضور رسالت مآب ﷺمیں پہنچے اور اس کا ذکر کیا ۔ آپ کا چہرہ غصہ سے تمتما اٹھا۔ فرمایا کیا تم خدا کی حدود میں سفارش کرتے ہو؟ یہ کہہ کر کھڑے ہوگئے ، پھر لوگوں کو جمع کیا اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا، تم سے پہلی امتیں اس لئے ہلاک ہوئی ہیں کہ ان میں سے جب کوئی با اثر اور معزز آدمی چوری کرتا تھا تو اس کو چھوڑ دیتے تھے اور کمزور و بے اثر آدمی اس جرم کا مرتکب ہوتا تھا تو اسے سزا دیتے تھے ۔ بخدا اگر فاطمہؑ بنت محمد ﷺ بھی چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ ڈالوں ۔



