Forward

کشمیر میں تحریک مزاحمت

ابتداء، ارتقاء اور امکانات
طاہر امین

پیش لفظ

کشمیر کا مسئلہ، کشمیریوں کی مجاہدانہ جدوجہد آزادی کی بنا پر اس وقت عالمی سطح پر  انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران بیش بہا قربانیوں نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ کشمیر ۲۶ اکتوبر ۱۹۴۷ء سے ہندوستانی افواج کے قبضہ میں رہا ہے، جنھوں نے اسے اپنے چنگل میں جکڑنے کے لیے وحشیانہ طاقت کا بتدریج استعمال کیا ہے۔ ہندوستان کی چھ لاکھ سے زائد افواج وادی کی ۴۰ لاکھ آبادی کو اپنے پنجہ استبداد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ انسانی تاریخ میں اتنی کم آبادی کے لیے مسلح افواج کی اتنی تعداد کبھی استعمال نہیں کی گئی۔ یعنی مردوں، عورتوں اور بچوں سمیت ہر سات افراد کے سر پر ایک سپاہی مسلط ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ۴۰ سے ۵۰ ہزار افراد اس فوج کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور ۶۰ ہزار سے زائد ان کے ظلم وستم کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے ہیں۔ بھارت ریاستی تشدد کے ذریعے ایک قومی تحریک آزادی کو کچلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ کشمیریوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک آزاد اور غیر جانب دار استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق مانگتے ہیں۔

 مسئلہ کشمیر کے تین اہم پہلو ہیں: اول یہ کہ اس سرزمین پر بھارتی افواج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا سلسلہ جاری ہے۔ دوم یہ کہ انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی کے ڈانڈے کشمیریوں کے اس بنیادی مطالبہ سے ملتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے تحت دئیے گئے حق خود اختیاری کو اپنا مقصد قرار دے چکے ہیں۔ اس مسئلہ کا سب سے اہم پہلو تیسرا ہے جو پورے جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کو لاحق خطرے سے متعلق ہے۔ کیونکہ اس تنازعہ کے نتیجے میں ایک ایسی جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں جو ایک بلین افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہ تعداد دنیا کی کل آبادی کا پانچواں حصہ ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں دنیا کے اس گنجان آباد خطے میں ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی خارج از امکان نہیں۔

بھارت خود دسمبر ۱۹۴۷ء میں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا، جس کے نتیجے میں ۲۱ اپریل ۱۹۴۸ء کو سلامتی کونسل نے ایک قرار داد منظور کی۔ جس کے تحت طے پایا کہ کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ ایک استصواب رائے کے ذریعے کریں گے۔ اس قرار داد پر عمل درآمد کے لیے اقوام متحدہ کا کمیشن برائے ہند و پاک تشکیل دیا گیا۔ اس کمیشن نے ۱۳ اگست ۱۹۴۸ء اور ۵ جنوری ۱۹۴۹ء کو دو قراردادیں منظور کیں جنہیں بھارت اور پاکستان نے تسلیم کیا۔ ۱۳ اگست کی قرارداد میں بھارت، پاکستان اور اقوام متحدہ کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنی آزادانہ رائے سے کرنے دیں گے۔ اس قرار داد میں کہا گیا تھا:

بھارت اور پاکستان کی حکومتیں اپنی اس خواہش کی تصدیق کرتی ہیں کہ ریاست
 جموں و کشمیر کا مستقبل اس کے باشندوں کی رائے کے مطابق طے کیا جائے۔

بعد ازاں بھارت نے ایک غیر نمائندہ “دستور ساز اسمبلی ” کے ذریعے یہ قرار داد منظور کرانا چاہی کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو
۲۴ جنوری ۱۹۵۷ء کو سلامتی کونسل نے اس اعلان کو رد کر دیا اور اپنے اس موقف کو دہرایا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں ہونا باقی ہے۔ ۱۰ مئی ۱۹۶۴ء کو سلامتی کونسل کے صدر نے ایک بار پھر اس امر کی تصدیق کی کہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ایک تنازعہ کی صورت میں موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نے اپنی ستمبر ۱۹۹۴ کی رپورٹ میں کشمیر کے مسئلہ کی بنا پر بھارت اور پاکستان کے  در میان روز افزوں کشیدگی کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

 بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات تنازعہ کشمیر کی وجہ سے بدستور کشیدہ ہیں جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر غیر تصفیہ شدہ مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ملٹری ابزرور گروپ برائے بھارت و پاکستان نے جنگ بندی لائن کی نگرانی کا کام جاری رکھا ہے، جو وہ ۱۹۴۹ء سے سر انجام دے رہا ہے۔ بھارت اور پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ وہ جنگ بندی لائن کا احترام کریں گے اور ۱۹۷۲ء کے شملہ معاہدہ کے تحت، مسئلہ کا پرامن حل تلاش کریں گے۔ تاہم حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر کے تنازعہ پر کشیدگی میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔

اس پس منظر میں اصل مسئلہ کو اجاگر کرنا اور دنیا کی رائے عامہ کو اس بات کا شعور دلانا، کہ اس مسئلہ سے علاقے کے امن کو کتنا خطرہ لاحق ہے، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ جبھی ممکن ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہر ادارے میں اس مسئلہ کو اٹھایا جائے اور بھارت پر دباؤ اس حد تک بڑھایا جائے کہ وہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی کھلی اور ظالمانہ خلاف ورزی کا سلسلہ بند کر کے، اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل در آمد کے لیے آمادہ ہو جائے تاکہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا بنیادی حق مل سکے۔

شملہ معاہدہ میں بھی، جو ۱۹۷۱ء کی جنگ کے نتیجے میں ایک سخت دباؤ کے تحت طے پایا تھا، اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالا دستی کو قبول کیا گیا ہے۔ اس میں واضح طور پر درج ہے کہ فریقین کے درمیان کسی معاہدہ” سے فریقین کے “تسلیم شدہ موقف” پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور یہ کہ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل تلاش کرنا باقی ہے۔ اس معاہدہ کے تحت جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ نہ ہی اس کے تحت عوام کی آزادانہ رائے کے ذریعے اس کے حتمی حل سے پہلو تہی کی جا سکتی ہے۔

بھارت کو مسئلہ کے حل پر راضی کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک تو یہ کہ کشمیر کے اندر تحریک مزاحمت کے ذریعے دباؤ بڑھایا جائے۔ دوسرا یہ کہ دنیا سیاسی، ڈپلومیٹک اور معاشی طور پر بھارت پر دباؤ ڈالے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادیں ایک عرصے سے سرد خانے میں پڑی ہیں۔ یہ تو کشمیریوں کی لازوال اور عظیم قربانیاں ہیں جن کی وجہ سے یہ مسئلہ ایک مرتبہ پھر عالم انسانی کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ امریکی اسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے دہلی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے داخلی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ دنیا اس مسئلہ کی موجودگی کا اعتراف کرے۔

کشمیر کی صورت حال نہایت سنجیدہ رخ اختیار کر چکی ہے اور تشویش ناک حد تک خراب ہو رہی ہے۔ اکانومسٹ لندن جیسے موقر جریدہ نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ کشمیر پر بھارت  کی حکومت ختم ہو چکی ہے، صرف قبضہ باقی ہے۔ اور تو اور خود ٹائمز آف انڈیا میں چھ مئی ۱۹۹۲ء کو پی بدوائی کی جو رپورٹ چھپی اس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ بے اندازہ فوج کی موجودگی کے باوجود بھارتی حکومت کے احکامات اور قوانین پر کشمیر میں عمل در آمد نہیں ہو رہا۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے بلند و بالا ایوانوں میں نہیں ہو گا بلکہ خود کشمیری عوام کے ہاتھوں میں ہو گا۔ پاکستان کی حکومت اور عوام پر لازم ہے کہ کشمیری عوام کی تحریک مزاحمت کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں اور اس کی ہر ممکن مدد کریں۔ یہی مسئلہ کا حل ہے اور یہی کشمیری اور پاکستانی عوام کے مفادات اور خواہشات سے ہم آہنگ حکمت عملی ہے۔

اس حکمت عملی کا ایک اہم حصہ بھارت پر سیاسی اور معاشی دباؤ بڑھانا بھی ہے۔ روس اور امریکہ میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد کے دور میں عالمی صورت حال بدل چکی ہے، اور اس کے تناظر میں عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنا ایک چیلنج کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ سنجیدگی سے نئی حکمت عملی طے کی جائے اور مسلسل اور انتھک جدوجہد کی جائے۔ اس سلسلے میں یک دم کوئی نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ بد قسمتی سے پاکستان کی خارجہ پالیسی مناسب منصوبہ بندی اور مقصدیت سے عاری ہے، نہ ہی اسے دانش مندانہ اور ماہرانہ انداز سے چلایا جاتا ہے۔ اسے از سر نو مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مقاصد کا تعین واضح ہو، ترجیحات درست طریقے پر طے کی جائیں اور مقاصد کے حصول کے لیے تفصیلی طریقہ کار وضع کیا جائے۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ کشمیر کا مسئلہ، کشمیری اور پاکستانی عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ کشمیر کا دفاع پاکستان کا دفاع ہے اور اگر خدانخواستہ ہم کشمیر سے ہاتھ دھو بیٹھے تو پاکستان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔ اندریں حالات کشمیر کے بارے میں خوب غور و خوض کے بعد ایک متعین اور واضح پالیسی بنانا  ناگزیر ہے۔ اس پالیسی کی روشنی میں فوری مقاصد کے حصول اور دور رس نتائج کے لیے حکمت عملی طے کرنا ہو گی۔ وقتی طور پر یہاں ہزیمت ہو سکتی ہے لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اصل مسئلہ جنگ جیتنا ہے اور اس کے لیے مسلسل سر گرم عمل رہنا ہے، ہمیں احساس ہونا چاہیے کہ اصل تحریک، کشمیر کی شاہ راہوں اور وادیوں میں برپا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور عوام کو اس تحریک کی، کسی قسم کے تحفظات کے بغیر، ہر ممکن مدد کرنا چاہیے۔ یہ ہماری بقا اور مستقبل کا سوال ہے۔ اگر ہم نے اس سلسلے میں کسی بیرونی طاقت کی خوشنودی کے لیے کوئی ڈھیل دی تو یہ خود ہماری تباہی کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہو گا۔ ہمارے سیاسی گروہوں کی باہمی کشمکش اور انتشار بھی اس مقصد کے لیے نقصان دہ ہے۔ ماضی کی کوتاہیوں کے علی الرغم اس وقت مسئلہ کشمیر پر مکمل ملی یکجہتی اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

 دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی خارجہ حکمت عملی میں اپنی ترجیحات کو نئے سرے سے ترتیب دیں اور ایسے اقدامات کریں کہ زیادہ سے زیادہ قوتوں کو اپنا ہمنوا بنایا جا سکے، نیز مخاصمتوں اور مخالفتوں کا سلسلہ کم سے کم ہو جائے۔

 کشمیر کے مسئلہ پر بین الاقوامی سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہمیں سال کے ۳۶۵ دن جد وجہد کرنا ہو گی۔ یہ کوئی جُز وقتی مہم نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری ڈپلومیٹک اور معاشی پالیسیاں اسی مقصد کو پیش نظر رکھ کر تشکیل دی جائیں۔ ہماری جدوجہد ہمہ جہتی ہونی چاہیے اور بین الاقوامی تعلقات کے تمام پہلووں پر حاوی ہونا چاہیے۔

 ہمیں اس بات کا بھی احساس ہونا چاہیے کہ کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے ہماری کاوشوں کی کامیابی ہمارے اندرونی حالات کے معمول پر آنے پر منحصر ہے۔ ہمیں اندرونی طور پر نظریاتی، معاشی اور سیاسی نظم و ضبط پیدا کرنا ہو گا۔ ہمارے ہاں سیاست میں باہمی کشمکش اور سیاسی آویزش نے نہ صرف اندرون ملک سیاسی اور معاشی حالات پر برا اثر ڈالا ہے، بلکہ اس سے ہماری بین الاقوامی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

 مسئلہ کشمیر کی نوعیت، اہمیت اور مستقبل کے امکانات کے ان پہلوؤں کو مد نظر رکھتے ہوئے، میں ڈاکٹر طاہر امین کی اس کتاب کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ اس کی اشاعت ایک بر وقت قدم ہے اور مجھے یقین ہے کہ اس سے عالمی رائے عامہ کو مسئلہ کشمیر کے بارے میں آگاہ کرنے کی اہم ضرورت بڑی حد تک پوری ہو سکے گی۔ یوں تو کشمیر کے بارے میں بہت سا کام کیا جا چکا ہے اور کئی مطبوعات موجود ہیں، لیکن اس کاوش کی امتیازی صفت یہ ہے کہ اس میں تحریک مزاحمت کو بڑے منضبط انداز میں اور قابل اعتماد طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔

 یہ کتاب، کشمیر کی تحریک آزادی کو نہ صرف اگست ۱۹۴۷ء کی تقسیم برصغیر کے تناظر میں پیش کرتی ہے بلکہ اس سے موجودہ تاریخی پس منظر بھی پوری طرح اجاگر ہوتا ہے۔ اس میں پہلی نصف صدی کے علاقائی حالات کے پس منظر میں بھی مسئلہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ ایک عالمانہ تصنیف ہے اور ڈاکٹر طاہر امین نے موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے مسئلہ کا عمیق مطالعہ کیا ہے اور اس کا بصیرت افروز تجزیہ کر کے وضاحت اور حقیقت پسندی سے مختلف امکانات پر اظہار رائے کیا ہے۔ ان کی تحریر میں مسئلہ کا پورا اور اک جھلکتا ہے اور اگرچہ ان کی مقصد سے وابستگی بھر پور ہے، انھوں نے کہیں بھی اس کو کتاب کے عالمانہ معیار یا معروضیت پر اثر انداز نہیں ہونے دیا۔ انھوں نے خوب چھان پھٹک کر اعداد و شمار پیش کیے ہیں اور ان کا بالکل غیر جانب دارانہ انداز میں تجزیہ کیا ہے۔

غالباً پہلی مرتبہ کشمیر کی تحریک آزادی کے بارے میں اتنے بیش قیمت حقائق، اتنے واضح نقطہ نظر کے ساتھ دنیا کے سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے پالیسی کے بارے میں جو تجاویز بھی پیش کی ہیں، ان کا سر چشمہ ان کی گہری بصیرت ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے کرسی نشین سکالروں، جذباتی طور پر غیر متعلق محققوں، نیز معمول کی کار روائی میں غرق بیوروکریٹس کی آرا کو نظر انداز کیا ہے۔ ان کی تحقیق کی بنیاد افغانستان اور کشمیر کے حالات کے گھرے شعور، بھارت کے موقف کے مختلف پہلوؤں کے محتاط نفسیاتی تجزیے اور تحریک مزاحمت کے جذبوں سے ہمدردانہ ہم آہنگی پر رکھی گئی ہے۔ انھیں ان تاریخی عوامل کا بھی گہرا شعور حاصل ہے، جن کی بنیاد پر یہ تحریک آگے بڑھ رہی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس تخلیق کے نتیجہ میں دنیا مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو بہتر طور پر سمجھ سکے گی اور تحریک مزاحمت کی نوعیت اور اہمیت سے بھی آگاہ ہو سکے گی۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز ادارے بھی اس سے کما حقہ فائدہ اٹھائیں گے۔

خورشید احمد، اسلام آباد

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »