Forward

لکھتے رہے جنوں کی حکایت

الطاف گوہر

جماعت اسلامی کے بزرگوں کے نام

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی مرحوم سے میری عقیدت کے باعث جماعت اسلامی سے بھی ایک رشتہ قائم ہو گیا ہے۔ یہ رشتہ خلوص کا ہے اور اس میں کسی ذاتی خواہش کو دخل نہیں۔ جماعت اسلامی کو جب کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے اور جب جماعت اسلامی کسی نامناسب سیاسی کاروائی میں اُلجھ جاتی ہے تو مجھے دکھ ہوتا ہے۔ جماعت کے بعض بزرگ رہنماؤں سے بھی میرے دوستانہ تعلقات ہیں، جان محمد عباسی صاحب سے تو کراچی جیل میں بھی ساتھ رہا اور اُن کی شرافت اور جرات کے نقش اب بھی میرے ذہن میں محفوظ ہیں۔ پھر جب بھٹو صاحب کے الیکشن میں لاڑکانہ کے ڈپٹی کمشنر خالد احمد کھرل نے انہیں اغواء کرا دیا اور بھٹو صاحب ریڈیو پر یہ نعرے لگاتے رہے ؟ “او، جانو! کدھر غائب ہو گیا ہے” تو مجھے اُن سے دلی لگاؤ ہو گیا، پروفیسر غفور احمد نیک نیت اور صاحب عزم انسان ہیں، منور حسن صاحب سے دوستانہ تعلق ہے جس میں چھیڑ چھاڑ بھی چلتی ہے اور پروفیسر خورشید احمد صاحب سے لندن میں اسلامک کونسل آف یورپ میں ساتھ کام کرنے کا موقع ملا وہ صاحب علم ہیں اور تنظیمی اہلیت رکھتے ہیں۔

پچھلے دنوں کراچی میں جماعت اسلامی کے ایک سیمینار میں حصہ لینے کا موقع ملا، سو دو سو لوگوں کا مجمع تھا اور عدلیہ کے موضوع پر اُن کی دلچسپی سے ظاہر ہو تا تھا کہ وہ ملکی حالات کی وجہ سے بے حد پریشان ہیں۔ ذاتی گفتگو میں بھی ہر شخص یہ پوچھ رہا تھا کہ ” آخر کیا ہو گا، اور یہ صورتِ حال کب تک جاری رہے گی” مجھے مشرقی پاکستان کے فرسٹ مجسٹریٹ نورالحق چوہدری یاد آگئے، ۱۹۵۱ء کی بات ہے میں ٹھاکر گاؤں میں سب ڈویژنل مجسٹریٹ تھا اور نور الحق چوہدری میرے قریبی ساتھی تھے۔ پانچ وقت کے نمازی بڑے سوز سے قرات کرتے تھے اور ہر جمعرات کو سائیکل پر دس کوس کا فاصلہ طے کرتے ہوئے دیناج پور کی ایک محفل سماع میں شرکت کے لئے جاتے تھے۔ ٹھاکر گاؤں جیسی خاموش جگہ میں نے اور کہیں نہیں دیکھی ایک دن بازار میں گولیاں چلنے لگیں، یوں محسوس ہوا جیسے گاؤں کا گاؤں بھڑک اُٹھا ہو،  چپڑاسی نے اطلاع دی کہ نور الحق صاحب چوراہے میں بندوق لئے کھڑے ہیں اور گولیاں چلا رہے ہیں، دو کارتوس ختم ہوتے ہیں تو دو اور بھر لیتے ہیں۔ لوگ گھروں اور دکانوں میں دبک کر بیٹھ گئے مگر نور الحق تھے کہ چلچلاتی دھوپ میں فائر پر فائر کئے جا رہے تھے۔ میں ڈرتے ڈرتے اُن کے پاس پہنچا اور اُن کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔ انہوں نے میری طرف دیکھا آنکھوں میں سرخی دوڑ رہی تھی انہوں نے بندوق میرے ہاتھ میں دیدی، میں اُنہیں اپنے ساتھ اپنی جھونپڑی میں لے آیا، نوکر سے چائے لانے کو کہا نور الحق خاموش بیٹھے رہے، جب چائے پی چکے تو ان کی آنکھوں کی سرخی غائب ہو چکی تھی، میں نے پوچھا ” نورالحق شائب کی ہو لو ” (نور الحق صاحب کیا ہوا؟) دیر تک سر ہلاتے رہے اور پھر بڑی حسرت سے کہنے لگے “شار انیک جکر کورے چھی، کنتو فکر کورے نائی” (سر، میں نے ذکر تو بہت کیا، مگر فکر کرنے کی توفیق نہ ہوئی)

جماعت اسلامی کے بزرگوں کے ساتھ بھی یہی ہوا ہے، انہوں نے ذکر تو بہت کیا ہے مگر فکر کرنے کی توفیق نہیں ہوئی۔ کون سا سیاسی موضوع ہے جس کا ذکر چھڑ جائے تو جماعت اسلامی کے رہنما اُس پر طبع آزمائی نہیں کرنے لگتے، کسی سماجی یا اقتصادی مسئلے کا ذکر کیجئے جماعت کے بزرگ فوراً اُس کا حل بیان کر دیں گے اور حل بھی ایسا جو قطعی اور حتمی ہو مفروضہ یہ ہے کہ اسلام نے ہر انسانی مسئلے کا احسن ترین حل پیش کر دیا ہے اور اس سے سرمو انحراف کی گنجائش نہیں۔ وہ حل کیا ہے؟ جماعت کے بزرگوں سے پوچھئے اور پھر اُس پر دل و جان سے عمل کیجئے، جماعت کی کوئی قرار داد پڑھئے جوش اور عزم کے علاوہ اس میں قطعیت کا ایک ایسا عصر ہوتا ہے کہ اختلاف کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

جماعت کا یہ رویہ دو نظریوں پر استوار کیا گیا ہے (الف) اقتدار کے بغیر قوم کی اصلاح اور فلاح ممکن نہیں (ب) دین کو سیاست سے جدا کرنا کفر ہے۔ یہ دونوں نظریے مسلمانوں سے پہلے عیسائیوں نے بھی اپنا رکھے تھے مگر وقت کے ساتھ انہیں یہ نظریے بدلنے پڑے۔ بدلتے ہوئے حالات کے تقاضوں نے انہیں مجبور کر دیا کہ وہ چرچ اور سٹیٹ کے معاملات کو الگ الگ رکھیں اور رائے عامہ کو اقتدار کا منبع تسلیم کرلیں، جماعت اسلامی نہ وقت کے تقاضوں کو تسلیم کرتی ہے اور نہ رائے عامہ کی حاکمیت کو برداشت کرتی ہے۔ جماعت کے لئے یہ نظریہ بھی قابل قبول نہیں کہ اسلامی مساوات کے اصولوں کے مطابق مملکت کے ہر شہری کو عقیدے، نسل اور جنس کی تفریق کے باوجود ہر لحاظ سے برابر تعلیم کیا جائے۔

جماعت اسلامی ایک نظریاتی جماعت ہے اور جماعت کے رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ اقتدار کی دوڑ میں اپنے اصولوں سے منحرف نہ ہوں، مجھے بڑے دکھ سے یہ بات کہنی پڑتی ہے کہ اقتدار کی خاطر جماعت نے دو تاریخی موقعوں پر اپنے اصولوں کو پس پشت ڈال دیا پہلا موقعہ ۱۹۷۱ء میں آیا جب جنرل یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان پر دھاوا بول دیا اور ہزاروں بے گناہ مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہو گئے ۔ جماعت اسلامی نے اپنے ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی خاطر فوجی کاروائی کی مذمت اور مخالفت کرنے کی بجائے فوجی کاروائی کی حمایت کی جس کا کوئی اصولی یا اخلاقی جواز نہیں تھا۔ میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا اس لئے کہ میرا مقصد تنقید کرنا نہیں حقائق کو ریکارڈ پر لانا ہے۔ اس فوجی کاروائی سے ملک کا ایک حصہ جدا ہو گیا اور جماعت اسلامی ایک جابر حکمران کی سازش کا شکار ہو گئی۔ جماعت کی حمایت کی قیمت بنگلہ دیش کے بہاری آج بھی ادا کر رہے ہیں۔

دوسرا موقع جنرل ضیاء الحق کے دور میں آیا، مارشل لاء لگنے سے کوئی ایک ہفتہ پہلے لندن میں مولانا مودودی مرحوم کا خط ملا جس میں انہوں نے لکھا تھا ”اگر مارشل لاء لگا تو وہ ہمارے ملک کی تاریخ میں تاریک ترین رات ہو گی یہ خط میں نے پروفیسر خورشید احمد کو بھی دکھایا اور جس روز مارشل لاء لگا خورشید احمد صاحب نے اس کے خلاف ایک اخباری بیان بھی دیا، مگر دوسرے روز صورت یکسر بدل گئی انہیں لاہور سے یہ ہدایت ملی کہ مارشل لاء کی حمایت کرنا ضروری ہے، اس کے بعد پروفیسر خورشید احمد، پروفیسر غفور احمد اور اعظم فاروقی صاحب جنرل ضیاء الحق کی کابینہ میں شامل ہو گئے، مجھے یوں لگا جیسے جماعت نے اقتدار کے چھلاوے کی خاطر اپنی ساری علمی اور عملی جدوجہد کو قربان کر دیا ہو، میں لاہور آیا اور مولانا مودودی کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا ”مولانا آپ نے تو کہا تھا کہ مارشل لاء ہمارے ملک کی تاریک ترین رات ہو گی۔ مگر آپ کے ساتھی تو اس اندھیرے میں شمع کرنے لگے ہیں۔”

 مولانا مرحوم نے مجھے تفصیل سے بتایا کہ وہ مارشل لاء کی حکومت میں شرکت کے خلاف تھے مگر اُن کے رفقاء نے بڑا دباؤ ڈالا اور ایسے “شواہد” بھی پیش کئے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اگر جماعت نے جنرل ضیاء الحق کی حمایت نہ کی تو فوج کا ایک اشتراکی گروہ اقتدار پر قبضہ کر لے گا۔ اسلام آباد میں پروفیسر غفور احمد، پروفیسر خورشید احمد اور محمود اعظم فاروقی صاحب سے ملاقات ہوئی تینوں اس بات پر نالاں تھے کہ اُن کے ساتھی اور جماعت کے ارکان اُن کی مجبوریوں سے واقف نہیں اور انتظامیہ کے افسران اُن کے احکامات کی تعمیل نہیں کرتے۔ اس ملاقات کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ جنرل ضیاء الحق اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے جماعت اسلامی کے کندھوں پر سوار ہو گئے ہیں اور وہ جماعت کو اپنا پھٹو بنا کر رکھیں گے۔

جماعت اسلامی کے بزرگ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان دو تاریخی واقعات سے جماعت اسلامی کس حد تک اپنی توقیر اور عوامی حمایت سے محروم ہوئی۔ کراچی جماعت اسلامی کا شہر تھا۔ جماعت کی اقتدار پرستی نے اُسے شہر میں بیگانہ بنا دیا، گیارہ برس تک غیر قانونی فوجی حکمرانی کی اطاعت کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں فرقہ پرستی، اوہام پرستی، خانقاہ پرستی، جاگیرداری، نوابی اور وڈیرا گردی کو فروغ ملتا رہا اور ایک اخلاقی اور اصلاحی جماعت اُس کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا سکی۔ وزارتوں سے محروم ہونے کے بعد بھی جماعت اسلامی جنرل ضیاء الحق کی امریکہ پرستی سے فیض یاب ہوتی رہی، جماعت کے بزرگ یہ سوچتے رہے کہ وہ افغانستان میں کمیونزم کے خلاف اسلامی جہاد کی سرپرستی فرما رہے ہیں۔ انہیں ہرگز اس بات کا احساس نہ ہوا کہ پاکستانی فوجی حکومت اور امریکہ انہیں اپنا آلہ کار بنا رہے ہیں۔ جس طرح اس دور کے جرنیل اپنے آپ کو فاتح افغانستان تصور کرتے ہیں جماعت کے بزرگ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اُنہوں نے سوویت یونین کا تختہ الٹ کر رکھ دیا جس طرح وہ مشرقی پاکستان میں فوجی سازشوں میں شریک تھے اُسی طرح وہ افغانستان میں بھی امریکہ کی علاقائی چالبازیوں میں شامل تھے۔ جماعت اسلامی کو نہ مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت سے کچھ حاصل ہوا نہ افغانستان میں امریکی فتح سے کچھ ملا۔

اقتدار ایک چیز ہے اور اقتدار میں شراکت دوسری چیز ہے، جنرل ضیاء الحق نے جماعت اسلامی کے بزرگوں کو اپنی کابینہ میں شامل کر لیا اور اُن سے حلف وفا داری بھی لے لیا، وزارت کی مراعات سے بھی وہ بزرگ فیض یاب ہوتے رہے مگر اقتدار کی رسی پر انہیں ہاتھ رکھنے کی اجازت نہ دی گئی۔ اتنے صاحب علم اور صاحب ایمان حضرات کس طرح اس فریب میں آگئے کہ ایک جابر اور غاصب حکمران کی اطاعت کو اُنہوں نے اقتدار سمجھ کر قبول کر لیا۔ شراکت سے قرب اقتدار تو حاصل ہو جاتا ہے مگر یہ قرب انسان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھتا چلا جاتا ہے۔ آپ جیسے جیسے حاکم کے قریب آتے ہیں ڈورے اور لپٹتے جاتے ہیں یہاں تک کہ آپ کو کچھ نظر نہیں آتا اور حاکم کی آواز کے سوا اور کچھ سنائی نہیں دیتا۔ پھر جب اقتدار سے دوری کا عمل شروع ہوتا ہے تو ڈورے کھلنے لگتے ہیں، با ضمیر لوگ اس ڈوری کو نجات سمجھتے ہیں مگر جنہیں اقتدار کا چسکا پڑ گیا ہو وہ پھر قرب کی راہ نکالنے لگتے ہیں۔

 پچھلے چار پانچ برس میں مجھے جماعت اسلامی کی سیاسی حکمت عملی کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا ہے اس حکمت عملی کا مقصد حصول اقتدار (خواہ وہ کسی شکل میں ہو) کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ گذشتہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی تحریک اس کی تضحیک کا باعث بنی۔ “قاضی آگیا” کے نعروں پر ملک بھر میں جتنے قہقے لگے اتنے ووٹ جماعت کے امیدواروں کو نہیں ملے، یہ بات بھی سننے میں آئی کہ معین قریشی کی نگران حکومت اور جنرل عبدالوحید کاکڑ نے یہ منصوبہ بنایا کہ الطاف حسین اور اُن کی جماعت مہاجر قومی موومنٹ کو انتخابات سے کنارہ کش ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔ جماعت اسلامی نے سوچا کہ اگر ایم کیو ایم میدان سے نکل جاتی ہے تو کراچی کی ساری نشستیں جماعت کے ہاتھ آجائیں گی اس خوش گمانی کا نتیجہ یہ نکلا کہ جماعت کی وجہ سے ووٹ بٹ گئے اور اس بٹوارے کا فائدہ پیپلز پارٹی کو ہوا۔ جماعت کے بزرگ جب موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو لوگ یہ طعنہ دیتے ہیں “خود کردہ را علاجے نیست”

 ہو سکتا ہے فوجی حکمرانوں کے اقتدار میں شرکت سے جماعت کے بعض ارکان کو فائدہ پہنچا ہو یہ بھی ممکن ہے کہ جماعت کو اپنی بعض فلاحی سکیموں کے لئے سرمایہ بھی مل گیا ہو۔ جماعت کے کچھ لوگ سینٹ اور اسمبلی کے رکن بھی بن گئے اور ہر طرح کی مراعات بھی اُنہیں عطا کر دی گئیں مگر مجھ ناچیز کی رائے میں جماعت کے لئے یہ سودا گھاٹے کا رہا۔ اس سے جماعت کی ساکھ اور وقار دونوں کو ضعف پہنچا ہے، کارکن مایوس ہیں، جماعت کے سیمینار اور کانفرنسیں بے کار مشغلے تصور کی جانے لگی ہیں۔ اور لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ جماعت داخلی انتشار کا شکار ہو رہی ہے۔

 ایک مخلص ہمدرد اور بے غرض دوست کی حیثیت سے میں جماعت کے بزرگوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ وہ پچھلے پندرہ برس میں اپنی سیاسی منصوبہ بندی اور اُس کے نتائج کا ٹھنڈے دل سے تجزیہ کریں اور پھر اپنے لئے ایک مناسب لائحہ عمل تیار کریں ۔ جماعت کے پاس تین راستے ہیں، پہلا راستہ یہ ہے کہ جماعت موجودہ نظام حکومت سے اپنے آپ کو قطعی طور پر الگ کر لے اور پھر تمام وہ طریقے اختیار کرے جس سے جہاد کے راستے کھل جائیں۔ دوسرا راستہ یہ ہے کہ جماعت موجودہ نظام کو قبول کر لے اور ماضی کی طرح اب بھی شرکت اقتدار کی راہیں نکالتی رہے۔ مگر اُسے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ شرکت اقتدار جماعت کی شرائط پر نہیں صاحب اقتدار کی مرضی کے مطابق ہو سکتی ہے۔ جماعت موجودہ سیاسی نظام میں ایک ثانوی حیثیت تو حاصل کر سکتی ہے مگر اس حیثیت میں وہ عوام کی فلاح کے لئے کچھ نہیں کر سکے گی، اگر ان دونوں میں سے کوئی راستہ قابل قبول نہیں تو پھر جماعت کو ایک تعلیمی اور فکری ادارہ بن جانا چاہئے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہ ہو۔

 مجھے افسوس ہو گا اگر جماعت اسلامی نے انقلابی راستہ اختیار نہ کیا۔ دوسرے ملکوں کی انقلابی جماعتوں کی تقلید میں نہیں، اپنی فہم اور فکر کے مطابق۔ مولانا مودودی مرحوم کی فکر اسی راستے کی نشان دہی کرتی ہے اور اُن کی فکر سے متاثر ہو کر علی شریعتی نے ایران کے انقلاب کی راہ ہموار کی تھی جماعت اسلامی بھی موجودہ جاگیردارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکتی ہے اس عمل کا آغاز کراچی سے ہونا چاہئے۔ جماعت کے کارکنوں کو سرکاری کارندوں بالخصوص پولیس اور رینجرز کے لئے یہ ناممکن بنا دینا چاہئے کہ وہ شہریوں کی سر بازار تذلیل کریں اُنہیں اِن کے حقوق سے محروم کریں۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ کراچی کے کسی شہری کو احساس تحفظ نہیں، جماعت اسلامی اپنے سیاسی جھگڑے بھلا کر شہریوں کی حمایت میں سربکف میدان میں نکل سکتی ہے اور یہ ابتداء ملک بھر میں جہاد کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ “وہاجرو وجاہدو فى سبيل الله”

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »