سود کی لعنت سے نجات: اصل رکاوٹ

وزیر اعظم صاحب نے اپنی 31 مارچ کی تقریر میں ایک اور کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے جیسے اب تک اس سلسلے میں کوئی کام ہوا ہی نہیں اور اب ایک نیا ورق پلٹا جا رہا ہے۔ ہمارے پاس دو نہایت قابل احترام افراد ملک اللّٰہ یار خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ اور ڈاکٹر سید الیاس علی عباسی کا سوال نامہ آیا ہے جس میں وزیر اعلیٰ پنجاب سے گفتگو کی روشنی میں متبادل بینک کاری نظام کے بارے میں کچھ سوال کئے گئے ہیں۔ ان کا ارشاد ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ آپ ہمیں سودی نظام کا متبادل اسلامی نظام معیشت جاری کرنے کے لئے ورکنگ پیپر دیں ہم فوری طور پر عمل در آمد کے لئے تیار ہیں۔ محترم ڈاکٹر اسرار احمد صاحب نے بھی ایک پریس کانفرنس میں یہ خوش خبری دی ہے کہ میاں محمد شریف، میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف ان سے ملے ہیں اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے تو تین سال کی مہلت مانگی ہے مگر میاں محمد شریف نے کہا ہے کہ ایک سال میں کم از کم ملک کی داخلی معیشت سے سود کو ختم کر دینا چاہیئے۔ یہ ساری باتیں اس طرح کی جارہی ہیں جیسے کسی نئے کام کا آغاز کیا جا رہا ہو اور سادہ کاغذ پر کسی نئی تحریر کا مرحلہ در پیش ہو۔ بلا شبہ یہ کام بہت اہم ہے اور گمبھیربھی لیکن یہ تاثر کہ کوئی متبادل موجود نہیں ہے اور اسلامی نظام معیشت کے قیام کا مطالبہ کسی خلا میں کیا جا رہا ہے یا جہالت پر مبنی ہے یا، صریح دھوکا ہے۔ آج بلا سود متبادل محض کوئی خیالی شے نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچاس برسوں میں اس سلسلے میں اتنا کام ہوا ہے کہ اگر کوئی مخلص اور اہل قیادت نئے نظام کے قیام کا عزم اور ارادہ رکھتی ہو تو ایک دن کی تاخیر کئے بغیر موثر اقدام کا آغاز ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ نیا نظام قائم کرنے میں وقت لگے گا اور تبدیلی کا عمل بتدریج اور مناسب حکمت عملی ہی سے انجام دیا جائے گا مگر آج اصل رکاوٹ فکری کام کی کمی یا متبادل نقشہ کار کی عدم موجودگی نہیں، قیادت میں ایمان اور سیاسی عزم و ارادہ کی کمی ہے۔ ہم یہ بات کسی تعصب کی بناء پر نہیں کہہ رہے اللّٰہ تعالٰی ہمیں ہر تعصب اور جانب داری سے محفوظ رکھے۔ راقم الحروف پچھلے پچیس برسوں سے ذاتی طور پر ان کوششوں سے وابستہ رہا ہے جو اس سلسلے میں ہوئی ہیں اور اپنے ذاتی علم اور تجربے کی بنا پر یہ بات کہہ رہا ہے کہ اصل رکاوٹ کسی متبادل ماڈل کی کمی نہیں ہے۔ راستہ بہت صاف ہے اور اب تو دوسروں کے عملی نقوش بھی موجود ہیں۔ اصل ضرورت منزل کے شعور اور چلنے کے ارادے اور ہمت کی ہے اور ہماری قیادتوں کا اصل مرض بھی یہی ہے کہ نہ فکر و نظر کے اسلامی اسلوب کو انہوں نے شعوری طور پر اپنایا ہے اور نہ ان میں وہ جرات اور عزم ہے جس کی بناء پر انسان دنیا و مافیہا سے بے نیاز ہو کر اپنے اصل اہداف کے حصول کے لئے سرگرم عمل ہو جاتا ہے۔ ایک طرف ذہنوں پر مغرب کے افکار کا غلبہ ہے تو دوسری طرف مفاد پرست عناصر اور عالمی ساہوکاری نظام کے کارپردازوں کا گھیراؤ ہے جو ذہنوں کو مسموم کرنے اور کمزور ارادہ لوگوں کے قدموں کو متزلزل کرنے میں مصروف ہے اور ہمارے ارباب اقتدار کا حال یہ ہے کہ
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے، کلیسا مرے آگے
ضرورت اس امر کی ہے کہ دماغ میں جو بت خانے آباد ہیں ان کو توڑا جائے اور دل و نگاہ کی مسلمانی کا راستہ اختیار کیا جائے۔ اقبال نے صحیح تشخیص کی تھی
دیکھے تو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
افلاک منور ہوں ترے نور بھر سے
اغیار کے افکار و تخیل کی گدائی
کیا تجھ کو نہیں اپنی خودی تک بھی رسائی؟
ایک مغالطہٰ جو مختلف انداز میں بار بار دیا جاتا ہے وہ سود کے تصویر کے بارے میں ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے سامنے بھی سرکاری وکیلوں نے اس مسئلے کو اٹھایا اور سپریم کورٹ میں جو اپیل دائر کی ہے اس میں بھی اس بات کو شامل کیا گیا ہے۔ یعنی یہ کہ کیا بینک کا سود ربوٰ کی تعریف میں آتاہے؟
ہم اس بات کو بالکل دو ٹوک انداز میں واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں عرب دنیا، بر عظیم اور جنوب مشرقی ایشیا میں دور غلامی میں جو بحثیں اٹھائی گئی تھیں آج وہ قصہ پارینہ ہیں۔ الحمدللّٰہ گزشتہ پچاس برسوں میں اس موضوع پر ایسی سیر حاصل بحث ہوئی ہے کہ براہین قاطع کی بنیاد پر یہ بحث ایک اجتماع پر منتج ہو چکی ہے اور وہ یہ ہے کہ قرض کے مالی معاملات پر اصل سرمائے پر جو بھی متعین اضافہ پہلے سے طے ہو اور شرط معاہدہ کا حصہ ہو وہ سود ہے۔ خواہ یہ قرض صرفی ضروریات کے لئے ہو یا پیداواری مقاصد کے لئے فرد لے رہا ہو یا ادارہ نجی ہو یا سرکاری مہاجن ہو یا بینک اور انشورنس کمپنیوں کے ذریعے۔ اس پر پاکستان میں بھی اور عالم اسلام میں بھی مکمل اتفاق رائے ہے اور علماء اور ماہرین معاشیات دونوں اس پر متفق ہیں، اس لئے اس بحث کو از سرنو شروع کرنا علم اور خلوص پر مبنی نہیں بلکہ مسئلے کو الجھانے، تعویق میں ڈالنے یا دھوکا دینے کے مترادف ہے اور انسان اپنے کو تو دھوکا دے سکتا ہے لیکن اللّٰہ کو دھوکا نہیں دے سکتا (یخادعون الله والذين امنوا وما يخدعون الا انفسهم وما يشعرون البقره 9:2)
اسلامی مشاورتی کونسل نے اپنے 3 دسمبر 1969ء کے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ
“اسلامی مشاورتی کونسل اس امر پر متفق ہے کہ ربوٰ اپنی ہر صورت میں حرام ہے اور شرح سود کی بیشی اور کمی سود کی حرمت پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ افراد اور اداروں کے لین دین کی مندرجہ ذیل صورتوں پر مکمل غور و فکر کرنے کے بعد کو نسل اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ:
(الف) موجودہ بینک کاری نظام کے تحت افراد، اداروں اور حکومتوں کے درمیان کاروباری لین دین اور قرضہ جات میں اصل رقم پر جو بڑھوتری لی یا دی جاتی ہے وہ داخلِ ربوٰ ہے۔
(ب) خزانے کی طرف سے مقداری مدت کے قرضے پر جو چھوٹ دی جاتی ہے وہ بھی داخلِ ربوٰ ہے۔
(ج) سیونگ سرٹیفکیٹ پر جو سود دیا جاتا ہے وہ ربوٰ میں شامل ہے۔
(د) انعامی بانڈ پر جو انعام دیا جاتا ہے وہ ربوٰ میں شامل ہے۔
(ھ) پراویڈنٹ فنڈ اور پوسٹل بیمہ زندگی وغیرہ میں جو سود دیا جاتا ہے وہ بھی ربوٰ میں شامل ہے۔
(و) صوبوں، مقامی اداروں اور سرکاری ملازمین کو دیئے جانے والے قرضوں پر بڑھوتری ربوٰ میں شامل ہے۔”
بعینہ یہی وہ پوزیشن ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل اور اس کے ماہرین معاشیات اور بینک کاروں نے اپنی آخری رپورٹ میں اختیار کی ہے۔ اسی طرح اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر کی صدارت میں جس بینک کاروں کی کمیٹی نے کام کیا اور 1980ء میں اپنی رپورٹ ‘دی اس’ نے بھی یہی پوزیشن اختیار کی ہے۔ اس طرح ملک کے علماء اور معاشی ماہرین اور بینک کار اس پر متفق ہیں۔ نیز وفاقی شرعی عدالت نے اپنے دسمبر 1981ء کے تاریخی فیصلے میں اس پوزیشن پر مہر تصدیق ثبت کی ہے جو حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے۔ یہی پوزیشن عالمی اداروں کی ہے۔ بھارت کے مجمع الفقہ الاسلامی نے دسمبر 1989ء میں وہاں کے چوٹی کے علماء کے سیمینار میں جس آخری متفقہ رائے کا اظہار کیا، وہ یہ ہے: “سود خواہ ذاتی مصارف کے قرضوں پر لیا جائے یا تجارتی و کاروباری قرضوں پر شریعت اسلامیہ کی نظر میں بسر حال حرام ہے۔ قرآن و سنت، اجماع و قیاس اور امت محمدیہ کا عمل متوارث سب میں بتاتے ہیں کہ حرمت رنو کے بارے میں اس کا کوئی اعتبار نہیں کیا جا سکتا کہ قرض لینے کا مقصد اور محرک کیا ہے۔ سود کی حرمت پر اس کا بھی کوئی اثر نہیں پڑتا کہ شرح سود کم ہے یا زیادہ مناسب حد تک کم ہے یا نا مناسب حد تک زیادہ دونوں صورتوں میں کوئی فرق نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں صورتیں بہر حال حرام ہیں۔ “
سرکاری سطح پر وزرائے خارجہ کی تنظیم کی قائم کردہ اسلامی فقہ اکیڈمی نے بھی اس مسئلے پر دسمبر 1985ء میں غور کیا اور وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچی۔ فقہ اکیڈمی کی قرارداد نمبر 3 میں طے کیا گیا کہ
“بینکوں اور نظام بینکاری میں اسلامی اصولوں کے نفاذ کے بارے میں:
- ان تمام قرضوں پر جنہیں ایک مدت کے بعد ادا کیا جاتا ہے، (کوئی اضافہ خواہ اس کا نام نفع ہی کیوں نہ ہو) اگر قرض دارا سے وقت پر ادا نہ کر سکے یا کسی بھی قرض پر اضافہ یا نفع جسے قرض دینے کے وقت معاہدے کے حصے کے طور پر رکھا گیا ہو، دونوں ربا کی تعریف میں آتے ہیں اور شریعت میں حرام ہیں۔
- سود کے بغیر متبادل بنیادوں پر بینک قائم ہونے چاہئیں جو اسلامی احکام کے مطابق کام کریں اور معاشی سہولتیں فراہم کریں۔”
(جاری ہے)



