ArticleMedia Article

ملک میں تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار حکمران طبقہ ہے

27 APR 1998

سیمینار سے پروفیسر خورشید اور دوسرے مقرر ین کا خطاب

اسلام آباد (خبر نگار) جماعت اسلامی کے نائب امیر انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے چیئرمین پروفیسر خورشید احمد نے کہا کہ تعلیمی پسماندگی کا ذمہ دار ملک کا حکمران طبقہ ہے جس نے طبقاتی نظام تعلیم مسلط کر رکھا ہے۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے اور غریب کے بچوں کو ان پڑھ رکھنے کیلئے سازش کی گئی اور اب نج کاری کے نام پر عام  شہریوں کے بچوں پر تعلیم کے دروازے بند کئے جارہے ہیں۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ممتاز ماہر تعلیم رحمت علی فاروق نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی تضادات کا مجموعہ ہے۔ اس میں غلط اعدادو شمار دے کر قوم کو الجھا دیا گیا ہے۔ حکومت نے اس پالیسی میں ایسے وعدے عوام سے کئے ہیں جن پر عملدر آمد ممکن نہیں ہے۔ پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پاکستان سٹڈیز کے پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام نے کہا کہ ہمارے نظام تعلیم کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ اس میں اسلامی اور تہذیبی اقدار کی بجائے سیکولر انداز تعلیم اختیار کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ پہلے ہی بگاڑ کا شکار ہے ۔ دعوۃ اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر انیس احمد نے کہا کہ تعلیمی پالیسی میں ، خواتین کو نظر انداز کر دیا گیا ہے حالانکہ اسلامی معاشرے میں تعلیم کے میدان میں عورتوں اور مردوں کے حقوق میں کوئی امتیاز نہیں روا رکھا گیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان نے کہا کہ تعلیمی پالیسی سے اچھے نتائج صرف اچھے اساتذہ تیار کر کے ہی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے ہر استاد کیلئے کم از کم دو سال کی تربیت کا اہتمام کرنے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اساتذہ کو معاشرے میں بلند مقام دیا جائے۔ انہوں نے تعلیمی اداروں میں طلبہ تنظیموں کی منفی سرگرمیوں پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ اگر ان تنظیموں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف مائل نہ کیا جاسکتا ہمارے تعلیمی ادارے تباہ ہو جائیں گے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »