نئی حکومت کے لیے : قومی ترجیحات کا چیلنج

منشورات
فروری 1997
فیسر خورشید احمد
بسم الله الرحمن الرحیم
افراد کی طرح قوموں کی زندگی میں بھی کچھ بڑے ہی نازک لحات آتے ہیں جن کے بارے میں صحیح اور بروقت فیصلہ تاریخ کے رخ کو تبدیل کر سکتا ہے اور غفلت یا غلط فیصلہ سارے امکانات کو خاک میں ملا دیتا ہے اور برسوں کے لیے راہ کھوٹی ہو جاتی ہے!
فروری ۱۹۹۷ کے انتخابات کے بعد پاکستانی قوم اس کی سیاسی اور معاشی قیادت اور خود تحریک اسلامی کا سابقہ بھی ایک ایسے ہی تاریخی لمحے سے ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ ملکی اور بین الاقوامی تناظر میں یہ انتخابی نتائج عالم الغیب والشہود کی طرف سے جہاں بیدار کرنے والا ایک تازیانہ ہیں وہاں اب بھی سنبھل جانے اور صحیح خطوط پر مستقبل کی تعمیر کے لیے ایک اور موقع بھی۔ یہ اس کی رحمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے پچاس سال پہلے ۲۷ رمضان المبارک کو وجود میں آنے والے پاکستان کو اس کی ساری کوتاہیوں اور ناکامیوں کے باوجود اس سال رمضان المبارک کے آخری عشرے میں منعقد ہونے والے انتخابات اور اس کے نتائج کی شکل میں غور و تدبر اور عزم و انصرام کا ایک نادر موقع فراہم کر دیا ہے، جسے سطحی انداز میں ضائع بھی کیا جا سکتا ہے اور گہرے غورو فکر اور تجزیہ و تحلیل کے ذریعے اس سے مناسب عبرت بھی لی جا سکتی ہے اور آئیندہ کے لیے صحیح اہداف اور ترجیحات کا تعین اور ایک حکمت عملی کی ترتیب کا کام بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ماضی پر تدبر کی نگاہ ڈالنا مفید ہو سکتا ہے۔ اکیاون سال پہلے ۱۹۴۶ کے تاریخی انتخابات میں دونوں کے ذریعے قائد اعظم اور مسلم لیگ کو ایک ایسا ہی موقع دیا گیا تھا جسے قائد اعظم نے اپنی فراست سے قیام پاکستان کے لیے بڑی دانش مندی سے استعمال کیا لیکن ان کی وفات کے بعد مسلم لیگ کی قیادت نے اللّٰہ تعالیٰ اور مسلمان قوم سے کیے ہوئے وعدوں اور وقت کے تقاضوں کو نظر انداز کر دیا جس کے نتیجے میں دستور ساز اسمبلی کی تحلیل اور ۱۹۵۴ میں مشرقی پاکستان، پھر ۱۹۷۰ میں دونوں صوبوں میں مسلم لیگ کو ایسی ہی شکست سے دوچار ہونا پڑا جیسی شکست 199۷ میں پی پی پی کا مقدر بنی! بر صغیر میں ایسی اور بھی مثالیں ہیں جہاں تاریخی مواقع کو نشانات عبرت بننے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔ شیخ مجیب الرحمن ، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی انتخابی فتح و شکست میں بھی ایسی ہی نشانیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس لیے ہماری نگاہ میں یہ وقت نہ کچھ کے لیے صرف سر پیٹنے اور مایوسی کا شکار ہونے کا ہے اور نہ کچھ دوسروں کے لیے محض فتح کے شادیانے بجانے اور تحیات اور خوش آمدانہ تبریکات کے تبادلے کا ہے، بلکہ سب کے لیے غورو فکر، تحلیل و تجزیہ اور احتساب اور نئے چیلنجوں کا سنجیدگی سے جواب تلاش کرنے کا ہے تاکہ آنے والی صدی، جس کی دہلیز پر آج ہم کھڑے ہیں گزرے ہوئے برسوں سے مختلف ہو سکے اور ماضی کی غلطیوں سے بچتے ہوئے ایک روشن مستقبل کی تعمیر ممکن ہو سکے:
اس کی تقدیر میں محکومی و مظلومی ہے
قوم جو کر نہ سکی اپنی خودی سےانصاف
فطرت افراد سےاغماض بھی کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کومعاف
۳ فروری کے انتخابات کی ایک منفرد حیثیت ہے۔ یہ انتخابات عام حالات میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی مدت کی تکمیل کی بنا پر منعقد نہیں ہوئے۔ ان کی تو ایک خاص شان نزول ہے جو ایک طرف سابقہ حکومت کی بدعنوانیوں، بے قاعد گیوں، ظلم کاریوں اور دستور اور قانون کی بے محابا خلاف ورزیوں کے باعث صدارتی احکام کے تحت برطرفی سے عبارت ہے تو دوسری طرف صدر محترم اور عبوری حکومت کے بے لاگ احتساب اور شفاف انتخابات کے وعدوں اور ان کی بنا پر رونما ہونے والی توقعات سے۔ انتخابی نتائج کا انھی دونوں پہلوؤں کے پس منظر میں جائزہ لینے کی ضرورت ہے نیز جن پر نئی ذمہ داری پڑی ہے ان کی کار کردگی بھی انھی چیلنجوں کی کسوٹی پر پرکھی جائے گی۔
حالات کے معروضی جائزے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک کا عام شہری مفاد پرستانہ اجتماعی نظام، بد عنوان سیاسی قیادت مفلوج نظام احتساب اور تباہ کن معاشی صورت حال کا ستم زدہ ہے جو ان حالات سے سخت بے زار ہے۔ تقریباً ستر فی صد ووٹروں کا حق رائے دہی استعمال نہ کرنا جو ماضی کے کم سے کم تر رائے دہی turn up سے بھی اوسطاًپانچ فی صد کم اور 1993 میں ووٹ کا حق استعمال کرنے والوں سے اوسطاً تیرہ فیصدی کم ہے۔ بلاشبہ انتخابی نتائج کو جیسے بھی وہ ہیں، تسلیم کرنا چاہیے اور جیتنے والوں کو اپنے وعدوں کے مطابق کام کرنے کا مناسب موقع ملنا چاہیے لیکن کسی کی طرف سے بھی زمینی حقائق کو نظر انداز کرنا بے حد خطرناک اور صحیح اور حقیقت پسندانہ پالیسی سازی کے لیے تم چل ثابت ہو سکتا ہے۔ ہم اس بات کو اولین حقیقت کے طور پر اس لیے بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ کچھ سیاست دان اور ان کے ہم نوا کالم نگار ان حقائق سے توجہ ہٹانے اور ایک مصنوعی ذہنی فضا (make believe world) بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو نئی پارلیمنٹ کے ارکان اور سیاسی قیادت کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ ان کو اس طرح کے جھوٹے طلسم کے زیر اثر لانے کا باعث ہو گا جو آج تک کی قیادتوں کو گمراہ کرتا رہا ہے۔
انتخابات کا دوسرا قابل غور پہلو پیپلز پارٹی اور بے نظیر صاحبہ کی قیادت پر عوام کے تاریخی عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ قوم نے اس پارٹی کو تین بار موقع دیا اور تینوں بار اس نے اسے مایوس کیا اور نہ صرف یہ کہ ان وعدوں سے بے وفائی کی جو عوام سے کیے گئے تھے بلکہ محض اپنے ذاتی اقتدار اور ذاتی منفحوں کی خاطر قوم و ملت کے ہر مفاد کو قربان کیا اور ملک کو تباہی کے سرے پر پہنچا دیا۔ عوام نے تو اپنی مایوسی اور بے زاری کا اظہار اس تحریک احتساب ہی میں کر دیا تھا جس کے نتیجے میں صدر مملکت کو ۵ نومبر ۱۹۹۶ کو پی پی پی کی حکومت کو برطرف کرنا پڑا۔ پھر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے ان وجوہ کی توثیق ۲۹ جنوری ۹۷ کے اپنے عبوری فیصلے میں کر دی جن پر حکومت کو بر طرف کیا گیا تھا اور بالاخر ۳ فروری کے انتخابات، رائے عامہ کی طرف سے اس پارٹی اور اس کے انداز حکمرانی کے خلاف ایک ملک گیر استصواب بن گئے۔ یہ فیصلہ صرف عام شہریوں ہی کا نہیں بلکہ ان دوٹروں کا بھی ہے جنھوں نے اس سے پہلے ۱۹۷۰ ۱۹۸۸ ۱۹۹۰ اور ۱۹۹۳ میں پی پی پی کو پارلیمنٹ اور اقتدار تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔ اس انتخاب کے موقع پر عوام نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ کسی بھی جماعت کو ووٹروں کو اپنے مزارع اور تابع مہمل نہیں سمجھنا چاہیے۔
ان انتخابات کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ ووٹروں نے نظام حکمرانی اور قیادت کے بارے میں اپنی تمام مایوسی اور بے زاری کے باوجود مسلم لیگ اور خصوصیت سے اس کی مرکزی قیادت کو ایک نادر موقع دیا ہے۔ ۱۹۵۴ کے بعد مسلم لیگ کو پہلی بار ملک کے تمام صوبوں میں ایک فیصلہ کن پوزیشن حاصل ہوئی ہے۔ اب اگر وہ جرات اور بالغ نظری سے معاملہ کرے تو اپنے وعدوں کے مطابق ضروری دستوری ترامیم، متعلقہ قانون سازی، بجٹ سازی اور سیاسی اور اجتماعی فیصلے کر سکتی ہے۔ یہ پوزیشن ایک تاریخی موقع اور ایک فیصلہ کن آزمایش ہے۔ اگر مسلم لیگ کی قیادت خلوص اور ایمانداری کے ساتھ صحیح مقاصد اور اہداف کا تعین کرتی ہے اور مفاد پرستی اور اقربانوازی کی سیاست کو چھوڑ کر ملک و ملت کی خدمت کرتی ہے تو وہ نئی صدی میں پاکستان کے استحکام اور ترقی کے باب میں گراں قدر خدمات انجام دے سکتی ہے اور اگر وہ اس نادر موقع کو حسب سابق ضائع کر دیتی ہے تو اس کا حشر بھی پی پی پی کے انجام سے مختلف نہیں ہو گا۔
ہمیں توقع ہے کہ نئی پارلیمنٹ اور نئی حکومت کے اولین چند ماہ ہی میں ہوا کا رخ پوری طرح معلوم ہو جائے گا اور قوم یہ جان سکے گی کہ ماضی سے کوئی سبق سیکھا گیا ہے یا نہیں۔ چونکہ پاکستان اس وقت بڑے ہی ۔ سخت حالات سے دوچار ہے اور اس کے دشمن ملک میں بھی اور ملک کے باہر بھی اسے خاکم بدہن ایک ناکام ریاست“ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں، اس لیے ہم ان حالات میں اپنے سارے اختلافات اور خدشات کے باوجود اللّٰہ تعالیٰ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ وہ ارباب سیاست کو صحیح فیصلے کرنے اور ملک عزیز کی بقا و استحکام کے لیے درست پالیسیاں اختیار کرنے کی توفیق بخشے اور یہ مظلوم قوم ذہنی انتشار ، اخلاقی بگاڑ سماجی بحران اور معاشی بد حالی کی اس دلدل سے نکل کر شاہ راہ ترقی پر گامزن ہو کر اپنی اصل منزل کی طرف پیش رفت کر سکے۔ ہمارے پاس مہلت کی گھڑیاں بڑی کم ہیں اور قومی وسائل کا جو محدود سرمایہ باقی رہ گیا ہے وہ مزید بہ تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ پوری دیانت اور صاف گوئی کے ساتھ ان مسائل اور چیلنجوں کی نشاندہی کریں جو اس وقت ملک و ملت کو درپیش ہیں اور جن کے بارے میں صحیح منصوبہ بندی اور موثر اقدام ہی پر مستقبل کا سارا انحصار ہے۔
جن امور کی اوپر نشاندہی کی گئی ہے وہ تو بدیہی حقائق کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ ان انتخابات کو ایک وارننگ تصور کیا جائے اور ان کے اصل پیغام کو ٹھیک ٹھیک سمجھا جائے۔ یہ بڑی کو تاہ نظری ہو گی کہ اس آئینہ میں محض ایک پارٹی کی شکست اور ایک پارٹی کی فتح کی تصویر دیکھی جائے اور نتائج کے خطوط خم دار سے جو اصل پیغام سامنے آتا ہے اور جو ووٹ دینے والوں اور ووٹ نہ دینے والوں دونوں کی مشترک خواہش کا عکاس ہے، اسے پس پشت ڈال دیا جائے۔ ہماری نگاہ میں یہ پیغام اولاً احتساب کی ناقابل انکار ضرورت اور ثانیا قومی زندگی اور کاروبار سیاست و معیشت میں بنیادی تبدیلی کی زبردست خواہش سے عبارت ہے۔ چونکہ مستقبل کا فیصلہ انھی دو امور کے بارے میں صحیح اقدامات پر منحصر ہے، اس لیے ہم ان دونوں کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرتے ہیں۔
تاریخ کے گہرے مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ کامیاب قومیں وہ ہیں جو صحیح مقاصد اور وسائل کے مناسب استعمال کے ساتھ ساتھ انفرادی اور اجتماعی ہر دو سطح پر موثر احتساب کا نظام قائم کرتی ہیں، اسے ہر لحہ جاری و ساری رکھتی ہیں اور اس بارے میں کسی رو رعایت سے کام نہیں لیتیں۔ اسلام نے عبادت سے . لے کر اجتماعی معاملات تک ایمان اور احتساب کو مرکزی اہمیت دی ہے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ایک ایسا نظام قائم کیا ہے جس کے نتیجے میں ایک طرف افراد امت کے لیے آزادی اور اصلاحی کوششوں کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں تو دوسری طرف سربراہ مملکت سے لے کر ایک عام شہری تک ہر ایک کے لیے احتساب کا کھلا نظام قائم کیا ہے۔ بلکہ صحیح تر بات یہ ہوگی کہ جو ذہن اس امت کے افراد میں پیدا کیا گیا ہے اس کی ایک نمایاں ترین خصوصیت حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے الفاظ میں حاسبوا قبل ان تحاسبوا (اپنا احتساب کرو قبل اس کے کہ تمھارا احتساب کیا جائے) ہی ہے۔ گویا اس نظام کے بنیادی ستون خود احتسابی اور اجتماعی احتساب ہیں۔ احتساب کا یہ عمل اس دنیا میں شروع ہوتا ہے لیکن اس کی تکمیل آخرت کی زندگی میں ہوتی ہے جس سے کوئی بچ نہیں سکتا اقبال نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے جب وہ کہتا ہے کہ :
صورت شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
اور “ابلیس کی مجلس شوری” میں شیطان اس امت کی جس صلاحیت سے سب سے زیادہ خوف زدہ نظر آتا ہے، وہ اس کی احتساب ہی کی صلاحیت ہے:
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتساب کائنات
پاکستان کی تاریخ کا ایک ایک دن گواہ ہے کہ ہمارے زوال اور انتشار کی بنیادی وجہ احتساب سے اغماض اور فرار ہے۔ پہلے وزیر اعظم کا قتل ہو یا دوسرے وزیر اعظم کی برطرفی اور دستور ساز اسمبلی کی تحلیل دستور کی تنسیخ ہو یا کشمیر پالیسی کا دیوالیہ پن انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار ہو یا اپنے ہی عوام کے خلاف فوج کشی ، نصف ملک کا کھو دینا ہو یا علاقائی اور فرقہ وارانہ منافرتوں کی ترویج، صنعتی اور تجارتی لائسنسوں کی تقسیم ہو یا قومی اراضی کی بندر بانٹ کو آپریٹوز کا اسیکنڈل ہو یا بنکوں کو لوٹنا کمیشنوں کا کاروبار ہو یا رشوت کی فراوانی اور اختیارات کا غلط استعمال۔۔۔ ہر مجرم اور لٹیرا احتساب سے بچا رہا اور قوم کی حالت خراب سے خراب تر ہوتی گئی۔ ایک طرف چند ہزار خاندان امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور ان کے لیے ملک اور ملک سے باہر عیش و عشرت کا ہر سامان ارزاں ہو گیا اور دوسری طرف غریب غریب تر ہوتے گئے اور آبادی کا تقریباً چالیس فی صد صد زندگی کی بنیادی ضروریات تک سے سے محروم ہو گیا، صنعتیں بند ہونے لگیں، بنک دیوالیہ ہو گئے ، ملک کی بین الاقوامی ساکھ خاک میں مل گئی اور اس کے ماتھے پر دنیا کے دوسرے بد عنوان ترین ملک کا داغ لگ گیا۔ نیز قوم اور اس کی آنے والی نسلیں ملکی اور بیرونی قرضے کے بوجھ تلے اس طرح دب گئیں کہ ہر مرد و زن اور بوڑھا اور بچہ پندرہ ہزار روپے کا مقروض ہے اور قوم پر اس وقت ۹۰۰ ارب روپے سے زیادہ کا ملکی قرض اور تقریباً چالیس ارب ڈالر کے بیرونی قرض کا پہاڑ مسلط ہے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق صرف گذشتہ تین سالوں میں سالانہ قومی دولت کا ۲۰ سے ۲۵ فی صد کرپشن کی نذر ہوا ہے جو چار ساڑھے چار سو ارب روپے سے متجاوز ہے۔ یہ ہے وہ پس منظر جس میں ملک کا بچہ بچہ پکار رہا ہے کہ وقت کی سب سے اہم ضرورت احتساب ہے تاکہ ہر سیاسی وفاداری سے بلند ہو کر ہر اس شخص کی گرفت ہو سکے جس نے قومی دولت کو لوٹا ہے اور ان سے یہ لوٹی ہوئی دولت واپس لے کر اس کے اصل حق داروں یعنی اس ملک کے عوام کی خدمت کے لیے استعمال کی جائے۔
عبوری حکومت کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ وہ احتساب کے لیے موثر مشینری قائم نہیں کر سکی اور جو بری بھلی مشینری بنی اس کی طرف سے بھی کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہوئی۔ نیز اب قوم کو ایک دوسرے مغالطے میں مبتلا کرنے کی کوشش بڑی چابک دستی سے کی جا رہی ہے کہ انتخاب ہی دراصل احتساب کا ذریعہ ہیں اور گویا عوام نے ۳ فروری کو وہ احتساب کر لیا۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ انتخاب بھی عوامی احتساب کا ایک حصہ ہیں بشرطیکہ دستور کی تمام دفعات پر عمل ہو اور انتخابی قوانین اور انتخابی عمل اپنے صحیح اصولوں کے مطابق انجام پائے لیکن ان دونوں کی عدم موجودگی میں جس حد تک انتخابات احتساب کا ذریعہ بن سکتے ہیں وہ بھی نہیں بن سکتے چہ جائیکہ ان کو وسیع تر احتسابی عمل کا متبادل سمجھ لیا جائے۔ عوام نے ۳ فروری کے انتخابات میں پی پی پی کی حکومت کو عبرتناک انداز میں رد کر کے اس سے اپنے عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ہے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ احتساب پورا ہو گیا اور اب سارے لوٹنے والے معتبر بن گئے ہیں۔ یہ انتخابات تو صرف احتساب کا پیش خیمہ ہیں، اصل احتساب تو ابھی ہونا باقی ہے اور یہ ان کا بھی ہونا چاہیے جو پچھلے تین سال بر سر اقتدار تھے اور ان کا بھی ہونا چاہیے جو اس سے پہلے ملک کے سیاہ و سپید کے مالک تھے اور اس کے وسائل کو بڑی بے دردی اور دلیری سے لوٹ رہے تھے۔ اس میں وقت کی کسی قید کا کوئی سوال نہیں۔ جو شخص بھی کسی پبلک آفس پر رہا ہے خواہ سرکاری ملازم کی حیثیت سے یا منتخب نمائندے کی حیثیت سے اس کا مکمل اور بے لاگ احتساب ہونا چاہیے۔ یہی اسلام کا تقاضا ہے اور یہی جمہوریت کا اصل الاصول۔ اگر محض انتخاب ہی احتساب ہے تو پھر صدر نکسن اور ان کے نائب صدر ایک نیو کا تو بال بھی بیکا نہیں ہونا چاہیے تھا کہ وہ عظیم اکثریت سے دوسری بار بلاواسطہ انتخاب میں صدر اور نائب صدر منتخب ہوئے تھے لیکن انھیں احتساب کا مقابلہ کرنا پڑا اور اپنے عہدے چھوڑنے پڑے۔ جاپان اور اٹلی میں منتخب وزرائے اعظم کا احتساب ہوا اور ان کو نہ صرف اپنے عہدے سے معزول کیا گیا بلکہ سزا بھی بھگتنا پڑی۔ اس وقت بھی امریکہ میں کانگرس کے اسپیکر نیوٹ گنگریک کو جس احتساب سے سابقہ در پیش ہوا اس کے بارے میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ وہ ابھی دو ماہ قبل ہی دوبارہ منتخب ہو کر آئے ہیں اس لیے احتساب تو ہو گیا؟ خود ہندستان میں منتخب وزیر اعظم اور ۴۷ سے زیادہ منتخب وزرا احتساب کی گرفت میں ہیں اور ان میں کئی جیل میں ہیں یا ضمانت پر ۔ اس لیے قانونی، سیاسی اور اخلاقی ہر اعتبار سے احتساب کا عمل ایک مستقل بالذات عمل ہے اور اسے انتخاب سے کنفیوژ کرنے کی کسی کوشش کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے اس وقت قوم کے ایجنڈے پر پہلا اور سب سے اہم مسئلہ احتساب ہی کا ہے جسے پوری دیانت داری، پورے انصاف اور قطعی بے لاگ انداز میں انجام پانا چاہیے۔ اس کے لیے سرکاری سطح پر تین امور کا اہتمام ضروری ہے۔
پہلی چیز اس کام کو ترجیح اول کے طور پر تسلیم کرنا اور تمام سیاسی پارٹیوں اور تمام شعبہ ہائے حکومت سے تعلق رکھنے والے افراد پر اسے لاگو کرنا ہے۔ اس سلسلے میں نئے وزیر اعظم اور خود صدر مملکت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سب سے پہلے خود اپنے کو احتساب کے لیے پیش کریں۔ اسی طرح پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام ارکان کا احتساب ہونا چاہیے نیز ماضی کی تمام حکومتوں کے ذمہ دار افراد کا بے لاگ احتساب ہو۔ نہ اس میں کسی سے رو رعایت برتنی چاہیے اور نہ اسے سیاسی انتقام کا ذریعہ بنانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ عبوری حکومت نے اس سلسلے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جس نے اس کی ساکھ اور جواز دونوں کو بری طرح متاثر کیا۔ اب یہی مرحلہ نئی حکومت کو در پیش ہے۔ اس سلسلے میں قوم کسی کو تاہی کو برداشت نہیں کرے گی۔ دوسری فوری ضرورت احتساب کے قانون اور نظام میں ضروری تبدیلیاں ہیں جن کے نتیجے میں احتسابی نظام حقیقی طور پر غیر جانب دار اور با اختیار بن سکے۔ نیز اعتصابی نظام کے لیے جو طریق کار اختیار کیا جائے اسے جہاں انصاف کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے وہاں اسے ان تمام خامیوں سے پاک ہونا چاہیے جن کی وجہ سے ہمارا نظام قانون ظالموں کے باب میں بے بس بن کر رہ گیا ہے اور قانونی موشگافیوں اور دولت کی کرشمہ سامانیوں کا دور دورہ ہے۔ ہمیں محض برطانیہ اور امریکہ کے adversorial طریقے کا اسیر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسلامی روایات کی روشنی میں inquisitional طریقے کو بھی استعمال کرنا چاہیے (یورپ میں فرانس اور اٹلی میں بھی یہ طریقہ رائج ہے) تاکہ احتسابی ادارہ محض قانون کے الفاظ کے آگے مفلوج نہ ہو جائے بلکہ حقیقت کی تلاش اور انصاف کا قیام اس کا اصل ہدف ہو۔ نیز تمام صوابدیدی اختیارات (powers discretionary) کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جو کرپشن کا بہت بڑا سبب ہیں۔ اس کے ساتھ کھلی حکمرانی (open governance) کی روایت قائم کرنے کی ضرورت ہے جو کرپشن کے سدباب کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
اس سلسلے میں اسلامی نظائر بڑے واضح ہیں۔ اگر صحابہ کرام نے حضرت عمر سے کہا تھا کہ پہلے ثابت کرو کہ تمھارے جسم پر جو لباس ہے اس میں کسی خیانت کا دخل نہیں ہے اور حضرت عمرہ جیسے سخت مزاج اور با اقتدار امیر المومنین نے سب کچھ چھوڑ کر اپنے بیٹے کی شہادت سے ثابت کیا کہ لباس ان دو چادروں سے بنایا گیا ہے جن میں سے ایک ان کی اور ایک ان کے صاحبزادے کی تھی تو آج آخر سیاسی قائدین اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں سے یہ کیوں نہیں پوچھا جا سکتا کہ تم ثابت کرو کہ تمھارا معیار زندگی تمھاری جائیدادیں اور تمھارے شاہی اخراجات کہاں تک تمھاری جائز آمدنی پر مبنی ہیں ؟ اسمبلیوں کے ارکان نے جو گوشوارے اپنی دولت کے بارے میں داخل کیے ہیں، سب سے پہلے انھی کا احتساب ہونا چاہیے کہ وہ کہاں تک حقائق پر مبنی ہیں اور کہاں دولت کو چھپایا گیا ہے اور غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔ اسی طرح انتخابی اخراجات کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ احتسابی ادارہ اگر چوٹی کے چند سو افراد کی دولت کا جائزہ لے اور ان سے جواب طلبی کرے تو آپ دیکھیں گے کہ ہر سطح پر حالات بدلنے شروع ہو جائیں گے۔ اگر یہ کام انجام نہیں دیا جاتا اور لوٹی ہوئی قومی دولت واپس نہیں لائی جاتی اور آیندہ کے لیے لوٹ کھسوٹ کا دروازہ بند نہیں ہوتا تو قوم محض نمایشی ملمع سازی سے ہرگز دھوکہ نہیں کھائے گی۔۔۔ ان شاء اللّٰہ ! اس کے لیے احتسابی قانون، احتسابی مشینری اور اس کے طریق کار کی فوری اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ عوام احتسابی نظام پر اعتماد کر سکیں اور قرار واقعی نتائج بر آمد ہوں۔
ان دونوں امور کے ساتھ ہماری نگاہ میں ایک چیز اور بھی ضروری ہے اور وہ عوامی سطح پر احتسابی عمل کے لیے رائے عامہ کو برابر متحرک رکھنا اور ان تمام لوگوں کو جو کسی طرح بھی بد عنوانیوں اور ظالمانہ کارروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں، بلاخوف انصاف قائم کرنے والے اداروں اور احتسابی نظام سے داد رسی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے اور قانون کو انھیں مکمل تحفظ فراہم کرنا چاہیے۔ اس کے لیے جہاں دستور میں مرقوم حقوق کے حصول کو آسان بنانے کی ضرورت ہے وہیں اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتیں، سماجی ادارے، بار ایسوسی ایشنیں اور باضمیر عوامی کارکن مظلوموں کے حقوق کی حفاظت اور قومی دولت کے لوٹنے والوں کے محا سے کے لیے سرگرم عمل ہو جائیں۔ اس کے لیے عوامی کمیٹیاں بنائی جائیں، وکلا اور سماجی کارکنوں کی تنظیمیں متحرک ہوں۔ کاروباری افراد جن کو لوٹا گیا ہے، آگے بڑھ کر لوٹنے والوں کا پردہ چاک کریں اور اس طرح اجتماعی زندگی میں احتساب کے عمل کو ایک حقیقت بنا دیں۔ حکومت پارلیمینٹ ، عدالتیں، سیاسی جماعتیں اور سماجی کارکن سب ہی کو اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے پر کمربستہ ہو جانا چاہیے۔ یہ وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ جہاں ہر ایک کو اس عمل کا آغاز خود احتسابی سے کرنا چاہیے وہیں اس کے ساتھ اجتماعی احتساب کے نظام کو موثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ احتساب مالی اور سیاسی بد عنوانی اور کرپشن کے ذمہ دار افراد کا بھی ہونا چاہیے اور حکومتوں کی پالیسیوں اور پاکستان کی قسمت اور اس کے حقیقی مفادات سے کھیلنے والوں کا بھی۔ یہ احتساب عوامی سطح پر ہونا چاہیے، پارلیمینٹ اور اسمبلیوں کے فورم پر ہونا چاہیے۔ اور قانون اور انصاف قائم کرنے والی عدالتوں اور احتسابی کورٹس کے ذریعے ہونا چاہیے۔ اس کے لیے کھلی حکومت، آزاد صحافت اور عوامی مباحثہ بھی ضروری ہیں۔
وقت کا دوسرا تقاضا انداز حکمرانی کی تبدیلی ہے۔ اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ پاکستان اپنی زندگی کے پہلے پچاس سال میں اس تصور اور اس مقصد سے بہت دور چلا گیا ہے جس کے لیے برصغیر کے مسلمانوں نے اس ملک کے قیام کے لیے جدوجہد کی تھی اور بیش بہا قربانیاں پیش کی تھیں۔ آج عالم یہ ہے کہ پوری قوم ایک ایسے استحصالی نظام کی گرفت میں ہے جس میں چند ہزار طاقتور اور زور آور افراد ملک کے وسائل پر قابض ہیں اور دستور قانون اور انتخابی سیاست کے علی الرغم انھوں نے ملک کے عوام کو اپنا مزارع اور اس کے وسائل کو اپنی ذاتی جاگیر بنا ڈالا ہے۔ اس استحصالی نظام کا دوسرا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اب اس استحصالی طبقہ اور مغربی اقوام اور اداروں کے گٹھ جوڑ نے پاکستان اور اہل پاکستان کی سیاسی، معاشی اور تہذیبی آزادی کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ ملک کا بجٹ اور معاشی پالیسیاں ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی ہدایات کے مطابق اور اب تو اس کے اپنے فرستادہ ماہرین کے ہاتھوں بن رہی ہیں۔ سیاسی امور میں بھی فیصلہ کن حیثیت واشنگٹن کو حاصل ہو گئی ہے! مسئلہ خواہ کشمیر کا ہو یا افغانستان کا ایران سے تعلقات ہوں یا ہندستان سے ، نیو کلیر پالیسی ہو یا فوجی مشقوں کا معاملہ —- سب کے سلسلے میں واشنگٹن کے اشاره چشم و ابرو کو دیکھا جاتا ہے اور ارباب اقتدار لرزہ براندام رہتے ہیں کہ کہیں انھیں بنیاد پرستوں اور دہشت گردوں کا سر پرست نہ قرار دے دیا جائے!
نظریاتی اعتبار سے بھی صورت حال بڑی تشویش ناک ہے۔ نہ صرف یہ کہ اسلامی نظام کے قیام کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی اور ملک میں فرقہ وارانہ اور علاقائی عصبیتوں کو ہوا دی جا رہی ہے بلکہ اب تو بر صغیر کے مسلمانوں کی تاریخ ہی کو مسخ کر کے یہ تصور پیش کیا جا رہا ہے کہ تحریک پاکستان کا اصل مقصد ایک نظریاتی ریاست کا قیام نہیں ہے بلکہ بس معاشی ترقی تھا اس لیے یہی وقت کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔ اسلام معاشی، سماجی اور سائنسی ترقی کو اس کا صحیح مقام دیتا ہے لیکن یہ مقام اس کے نظریاتی اور اخلاقی فریم ورک کے ایک حصہ کے طور پر ہے۔ مسلمان کی اصل شناخت اخلاقی بلندی، انسان دوستی اور قیام انصاف سے ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کے ضامن ہیں۔
نظریہ پاکستان کا تحفظ اور اس کی روشنی میں پوری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل جدید سیاسی، معاشی اور معاشرتی آزادی کی حفاظت اور اس کا فروغ اور استحصالی طبقات کی گرفت سے قوم کو نجات دلانا اور ایک ایسا منصفانہ اور صاف شفاف نظام قائم کرنا جس میں اقتدار فی الحقیقت عوام کی طرف منتقل ہو ، فیصلے ان کی مرضی اور تمناؤں کے مطابق ہوں اور تمام شہریوں کو بلا امتیاز جان، مال، عزت و آبرو کا تحفظ حاصل ہو، زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل ہوں اور تعمیر و ترقی کی دوڑ میں سب کو جدوجہد کے مساوی مواقع حاصل ہوں تاکہ انسانوں پر انسانوں کی خدائی کا نظام ختم ہو اور سب صرف اللّٰہ کے بندے بن کر خدا کی زمین پر اپنے لیے عزت کا مقام حاصل کر سکیں۔
نظام کی تبدیلی اس وقت واقع ہو گی جب ملک اور اس کے عوام مندرجہ بالا ہدف کی طرف قابل ذکر پیش قدمی کریں گے۔ آج قوم اس فیصلہ کن موڑ پر کھڑی ہے جہاں اگر ملک کا سیاسی عمل اس منزل کی طرف پیش قدمی کا ذریعہ نہیں بنتا تو پھر نظام حکمرانی سے مایوسی، جیسا کہ تاریخ شاہد ہے، مجبور انسانوں کو ان انقلابی راستوں کی طرف لے جاتی ہے جو پھر ہر مزاحم قوت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتے ہیں۔
کیا موجودہ قیادت قوم کی اس خواہش اور وقت کے اس تقاضے کا شعور رکھتی ہے اور اس ہدف کے حصول کے لیے خلوص اور محنت سے سرگرم عمل ہونے کو تیار ہے؟ اب معاملہ محض وعدوں اور خوش کن اعلانات کا نہیں وقت کی ضرورت عملی اقدام ہیں اور وہ بھی بلا تاخیر۔ احتساب اور انداز حکمرانی کی تبدیلی۔۔۔ یہ ہے وہ کسوئی جس پر نئی پارلیمینٹ اور اسمبلیوں اور مرکزی اور صوبائی قیادت کی کار کردگی کو جانچا جائے گا اور قوم دیکھے گی کہ :
- ذمہ دارانہ مناصب کے لیے کس اخلاق کسی صلاحیت اور کس کردار کے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہے؟ انتظامیہ اور عدلیہ کے دائروں کو کس رفتار سے دستوری تقاضے کے مطابق الگ کیا جاتا ہے اور عدلیہ کو کتنا مضبوط کتنا آزاد اور اس کی عددی قوت کو کتنا بڑھایا جاتا ہے کہ لوگوں کو فوری انصاف حاصل ہو سکے؟
- انتظامیہ میں تقرری، تبادلوں اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے سلسلے میں صلاحیت اور ملک کی معروضی ضروریات کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہوتی ہے یا ماضی کی طرح منظور نظر اور سفارشی لوگوں کو نوازا جاتا ہے؟ نیز انتظامیہ اور پولیس کو کہاں تک سیاسی مقاصد اور سیاسی پارٹی کے اثرات سے محفوظ رکھ کر خالص انتظامی اور پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے؟
- قانون سازی اور پالیسی سازی میں پارلیمنٹ اور پارلیمانی اداروں کو کیا مقام دیا جاتا ہے۔ کتنے وقت یہ ادارے اپنے فرائض منصبی ادا کرتے ہیں اور کہاں تک ملک کے جمهوری نظام کو آرڈینینس، انتظامی احکام اور ذیلی قانون سازی کی لعنت سے پاک کیا جاتا ہے جن کے ذریعے ماضی میں پارلیمنٹ اور اسمبلیوں کا وجود اور عدم وجود مساوی ہو کر رہ گئے تھے؟
- یہ بھی دیکھا جائے گا کہ قرآن و سنت کو ملک کا بالاتر قانون بنانے کا جو وعدہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ۱۹۹۱ کے رمضان المبارک میں خود میاں نواز شریف صاحب نے کیا تھا اور بعد میں مختلف عذرات کا سہارا لے کر اسے پس پشت ڈال دیا گیا تھا اب پارلیمنٹ میں دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل ہونے کے بعد وہ اسے کہاں تک پورا کرتے ہیں؟ اسی طرح قرآن پاک کی تعلیم کو ابتدائی اور ثانوی سطح پر لازم کرنے اور سود کی لعنت سے معیشت کو پاک کر کے اللّٰہ اور اس کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے جنگ کو کہاں تک ختم کرتے ہیں؟
- دوسری دستوری ترامیم کا مسئلہ بھی اہم ہے جن کے ذریعے اختیارات میں توازن پیدا ہو، بنیادی حقوق کے تحفظ کو مزید موثر بنایا جا سکے عدلیہ کی آزادی اور خصوصیت سے فیڈرل شریعت کورٹ کے ججوں کو مستقل حیثیت اور مکمل عدالتی تحفظ فراہم کیا جا سکے، متناسب نمایندگی کا نظام رائج ہو سکے اور ارکان پارلیمنٹ کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو اور عورتوں کی نمایندگی کا کوئی معقول انتظام ہو سکے جس کے ذریعے ملک کی خواتین کی حقیقی نمایندہ خواتین مجلس قانون ساز میں آسکیں نہ کہ بلاواسطہ انتخاب کے ذریعے مردوں کی نمائندہ خواتین!
- صوبائی خود اختیاری کے دستوری تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اختیارات اور وسائل کی صوبوں اور لوکل باڈیز کی طرف منتقلی، مردم شماری کا مسئلہ اور قومی زبان کو عملا ہر سطح پر سرکاری زبان کے طور پر جاری کرنا بھی دستور کے ان واضح مطالبات میں سے ہے جن کو ماضی کی ہر حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔ اسی طرح ان دستوری اداروں کو متحرک کرنا اور موثر بنانا ضروری ہے جو معطل پڑے ہوئے ہیں یعنی اسلامی نظریاتی کونسل، فیڈرل شریعت کورٹ ، سپریم کورٹ کا شریعت او بیلیٹ بیچ کونسل آف کومن انٹرسٹس اور نیشنل ایکونومک کونسل۔ نیز شریعت ایکٹ کے تحت قائم ہونے والے معاشی کمیشن اور تعلیمی کمیشن اور دستور کے رہنما اصولوں کے مطابق قانون سازی اور پالیسی سازی کا بروقت جائزہ لینے اور اس پر اسلامی نظریاتی کونسل، مرکزی زکوۃ کونسل اور ایسے ہی دوسرے ! اداروں کی رپورٹوں پر پارلیمنٹ میں بحث اور اس کی روشنی میں نئی قانون سازی اور پالیسی سازی۔
- معاشی ترقی کا حصول دولت کی منصفانہ تقسیم، غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ اور بیرونی قرضوں سے نجات اور حقیقی خود انحصاری کا حصول بھی وہ چیلنج ہیں جن کے بارے میں فوری اقدام ضروری ہوں گے۔ انتخابی مہم کے دوران کشکول گدائی توڑنے کا بڑا چرچا تھا لیکن اب اس وعدے پر عمل کا وقت ہے اور نئی قیادت کا اصل امتحان ہی ہے کہ وہ کہاں تک اس منزل کی طرف پیش قدمی کرتی ہے جہاں تک 1990-93کے تجربے کا تعلق ہے تو وہ اس دعوئی کے اعتبار سے بڑا مایوس کن تھا جس کا اندازہ ان اعداد و شمار سے ہو سکتا ہے۔
اس پس منظر میں نئی حکومت کو بڑا سخت امتحان در پیش ہے اور معاشی نظام میں اور معاشی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کے بغیر وہ حقیقی خود انحصاری کے حصول اور ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کی ڈکٹیٹر شپ سے نجات حاصل نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے اسے جلد از جلد خود سود کے بارے میں ایک جرات مندانہ فیصلہ کرنا ہو گا۔ یہ ہمارے ایمان اور دستور کا تقاضا بھی ہے اور صحیح معاشی حکمت عملی کا بھی۔
لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے، جس پر عام افراد کے جان، مال اور آبرو کی حفاظت کا انحصار ہے اور ملک کی معاشی ترقی اور سیاسی ساکھ بھی اس پر منحصر ہے۔
- کشمیر کا کا مسئلہ پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور جس مجرمانہ طور پر اس سے پچھلی حکومتوں نے اغماض برتا ہے اس کا تحریک جہاد کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ اب تحریک جہاد کی تائید اور پوری یکسوئی کے ساتھ کشمیر کے مسئلے کے باعزت اور یو این او کی قرار دادوں کی روشنی میں مستقل حل کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کی ضرورت ہے اور اس کے لیے پوری قوم کو تیار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ ہندستان سے سیاسی اور تجارتی تعلقات دونوں کا انحصار کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ اور عالمی عہد و پیمان کے مطابق حل پر ہے۔ اس طرف پیش رفت کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کی باتیں قومی عزائم اور مجاہدین کی قربانیوں سے ناقابل معافی بے وفائی کے مترادف ہوں گی۔
- چین، افغانستان، ایران اور وسط ایشیا کی مسلمان ریاستوں سے سیاسی تعلقات میں استحکام اور معاشی روابط میں وسعت اور گہرائی بھی وقت کا اہم تقاضا ہے۔ پی پی پی کی حکومت کی خارجہ پالیسی پاکستان کی ناکام ترین پالیسی تھی جس نے ملک کو اپنے دوستوں سے کاٹ دیا اور غیروں پر انحصار اور محتاجگی میں اضافہ کر دیا۔ آج پاکستان کو ایک واضح اور پر عزم ، موثر اور متحرک خارجہ پالیسی کی ضرورت ہے۔
- تعلیم کا فروغ اور صحت عامہ کی سہولتوں کی فراہمی بھی وہ اہم ترین میدان ہیں جن کے لیے ضرورت کے مطابق سرکاری اور نجی وسائل کی فراہمی کی ضرورت ہے تا کہ معاشرے کے مجبوروں کو سہارا دیا جا سکے اور کم از کم نئی نسل کو اپنے دین و ایمان کے مطابق پاکستانی معاشرے کی ہمہ ضروریات کو پورا کرنے کے لائق بنایا جا سکے۔
تبدیلی کا یہ وہ ایجنڈا ہے جس پر عمل وقت کی ضرورت ہے اور یہی وہ کسوٹی ہے جس پر نئی حکومت نئی پارلیمنٹ اور نئی اسمبلیوں کی کار کردگی کو جانچا اور پرکھا جائے گا اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا ہے کہ اس سلسلے میں پہلے چند مہینے بڑے اہم اور فیصلہ کن ہیں۔ اگر حکومت صحیح راستے کو اختیار کرتی ہے تو ہر جماعتی اور گروہی تعصب سے بالا ہو کر سب کو اس کام میں تعاون کرنا چاہیے۔ تحریک اسلامی کی یہی مستقل پالیسی ہے جو اس کے ہر منشور میں بیان کی جاتی رہی ہے یعنی نیکی بھلائی، صلاح اور فلاح کے ہر اقدام کی تائید ، خواہ اس کا سہرا کسی کے سر ہو، مقصد سے ہماری وفاداری کا تقاضا ہے۔ لیکن اگر حکومت اپنا قبلہ درست نہیں کرتی اور پاکستان کے مقصد وجود اور قوم کے واضح مطالبات کو نظر انداز کر کے محض چند نمایشی حربے استعمال کر کے ماضی کی ڈگر پر چلتی ہے تو عوام اور ساری اسلامی قوتوں کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا کہ فساد اور بگاڑ کی ہر قوت کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور اس قوم کی اس کی اصل منزل کی طرف پیش قدمی کے لیے فیصلہ کن جدوجہد کریں۔
آخر میں ہم تحریک اسلامی اور اس کے کارکنوں کو بھی چند امور کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔ تحریک اسلامی کا اصل ہدف اللّٰہ کی رضا کا حصول اور اللّٰہ کی زمین پر اللّٰہ ہی کے دین کے قیام کی جدوجہد ہے۔ ہماری بنیادی حیثیت داعی اور طالب خیر کی ہے اور اللّٰہ کے تمام بندوں سے ہمارا رشتہ دعوت الی الخیر کی خاطر ہمدردی، محبت اور اخوت کا ہے۔ جس طرح اللّٰہ کے برگزیدہ انبیا نے صاف الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ ان کا اجر صرف ان کے رب کے پاس ہے اور وہ انسانوں کی اصلاح ان کی خدمت اور ان کو دنیا اور آخرت میں کامیابی کے راستہ سے روشناس کرانے نیکیوں کو قائم کرنے اور برائیوں کو روکنے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، اسی طرح ہمیں بھی سمجھنا چاہیے اور اس کا اعلان کرنا چاہیے کہ ہم انھی کے نقش قدم پر چلنے اور انھی کی دعوت اور جدوجہد کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ ہمارا پیغام بھی دعوت الی الخیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے اور ہمارا مسلک بھی اشداء علی الکفار اور رحماء بینھم سے عبارت ہے۔ ہماری دوستی اور ہماری مخالفت اسی مقصد اور اسی دعوت کی بنیاد پر ہے۔ تحریک اسلامی قوم کا اجتماعی ضمیر ہے اور اسے اس اخلاقی اور اجتماعی انقلاب کے لیے تیار کرنے میں مصروف ہے جس کے نتیجے میں زمین پر خدا کی مرضی پوری ہو، اس کے قانون کی حکمرانی قائم ہو، تمام انسان اس کے بندے بن کر ایک دوسرے کے لیے قوت کا ذریعہ بنیں اور یہ امت ظلم و عدوان کے خلاف جہاد میں مصروف ہو تاکہ تمام مظلوم انسانوں کو اللّٰہ کے دین کے سایہ میں امن و انصاف مل سکے۔
تحریک اسلامی کے کارکنوں اور اس کی قیادت کے لیے خود احتسابی اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہے جتنی عام انسانوں اور بحیثیت مجموعی پوری قوم کے لیے۔ اس لیے ہمیں ہر لمحہ اپنے مقصد کی تذکیر اپنے عہد کی تجدید اپنی کوتاہیوں پر استغفار اپنے ساتھیوں کے درمیان نصیحت و تلقین اور میدان عمل میں اپنی دعوت کے تقاضوں کو پورا کرنے میں مکمل انہماک کا اہتمام کرنا چاہیے۔ خود احتسابی اور اجتماعی احتساب کو زندہ رکھنا اور موثر تر بنانا وقت کا تقاضا اور ہماری اولین ذمہ داری ہے۔ اللّٰہ سے تعلق اور اللّٰہ کے بندوں کو اپنے رب اور انسانوں کے حقوق ادا کرنے کی دعوت و تلقین ہمارے کرنے کا اصل کام ہے۔ معاشرے سے ظلم کو مٹانا اور انصاف کو عام کرنا ہمارا ہدف اور ذمہ داری ہے۔ خیر اور شر میں تمیز اور خیر کے حصول کی کوشش اور شرے بچنے اور انسانوں کو بچانے کی جدوجہد ہی سے اصلاح کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔ اس کے لیے صرف انفرادی جد وجهد کافی نہیں۔ اجتماعی جدوجہد اور منتظم کوشش کے بغیر یہ بازی سر نہیں کی جا سکتی۔ تحریک اسلامی کے کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ عوام سے گہرا اور قریبی ربط رکھیں۔ یہ وقت گھروں میں بیٹھنے کا نہیں عوام میں نکلنے اور شہر شہر گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ پہنچنے، عوام کو بیدار کرنے اور صحیح خطوط پر جدوجہد میں شریک کرانے کا ہے۔ اللّٰہ پر بھروسے کے بعد ہمارا سرمایہ کار ہمارے عوام ہیں اور انھیں بیدار اور منتظم کرنا بھی ہمارا اصل کام ہے۔ تعلیم، خدمت خلق، دعوت اسلامی اخلاقی اصلاح نوجوانوں اور تمام طبقات کی ایسی صف بندی جس کے نتیجے میں عوامی سیاسی بیداری، حقوق و فرائض کی ادائیگی کے لیے اجتماعی جدوجہد اور ایک ایسی نئی قیادت کو قوم میں ابھارنے کی سعی جو اللّٰہ کی وفادار دین کی مخلص اور امت مسلمہ کی فلاح و بہبود کے لیے جان اور مال کی بازی لگانے والی ہو، جس کا مقصود دنیا میں اپنے ذاتی مفادات کا حصول نہیں بلکہ ان مقاصد کا حصول ہو جن کے لیے اللّٰہ تعالٰی نے امت مسلمہ کو برپا کیا ہے اور جو اس کا نصب العین اور فرض منصبی ہے یعنی:
كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ(آل عمران ۳ :۱۱۰)
“اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔ تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہو۔”
اور اس مقصد کے حصول کی جدوجہد، حکمت بالغ نظری اور انصاف کے ساتھ انجام دینی ہے جیسا کہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ۖ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ(النحل ۱۲۵:۱۶ )
“اے نبی اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔”
نیز ہمارا کام برائی کو بھی نیکی سے بدلنا اور اس طریقے سے تبدیل کرنا ہے جو احسن ہو۔
وَ لَا تَسۡتَوِی الۡحَسَنَۃُ وَ لَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدۡفَعۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَ بَیۡنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ
(حم السجده ۳۴:۴۱)
“اور اے نبی ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمھارے ساتھ جس کی عداوت بڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔”
اس پوری جدوجہد کو ہر قسم کے نفسانی جذبات سے پاک رکھنا بھی ہماری کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ کسی لمحہ بھی انصاف کا دامن ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔
وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ اَنۡ صَدُّوۡکُمۡ عَنِ الۡمَسۡجِدِ الۡحَرَامِ اَنۡ تَعۡتَدُوۡا (المائده ۲:۵)
“اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمھارے لیے مسجد حرام کا راستہ بند کر دیا ہے تو اس پر تمھارا غصہ تمھیں اتنا مشتعل نہ کر دے کہ تم بھی ان کے مقابلے میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔”
اِعۡدِلُوۡا ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی وَ اتَّقُوا اللّٰہَ(المائده ۵: ۸)
“عدل کرو یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللّٰہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔”
وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَى (الانعام ۶: ۱۵۲)
“اور جب بات کہو انصاف کی کھو خواہ معاملہ اپنے رشتے دار ہی کا کیوں نہ ہو۔”
وَإِذَا حَكَمْتُم بَينَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النساء ۵۸:۴)
“اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو۔”
ذکر الہی، دعوت الى الخير جهاد بالمال والنفس، موعظة الحسنہ ، حکمت اور عدل و احسان ہمارے اصل ہتھیار اور ہماری کامیابی کے ضامن ہیں۔ یہ تحریک انسانوں کی زندگی کو فساد سے پاک کرنے اور خیر و صلاح سے بھر دینے کے لیے اٹھی ہے، یہ منفی نہیں اور ایک مثبت پیغام کی داعی اور اصلاحی انقلاب کی راہ پر گامزن ہے۔ یہ زمانہ کا رخ بدلنے اور تاریخ کے دھارے کو موڑنے کے لیے سرگرم عمل ہے اور یہی زندگی اور ترقی کا اصل راستہ ہے۔
حدیثبے خبراں ہے تو بازمانہ بساز!
زمانه با تو نہسازد تو بازمانہ ستیز!



