آٹھویں دستوری ترمیم

ایک تنقیدی جائزہ
پروفیسر خورشید احمد
بِسمِ اللهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ
ملک ایک بار پھر دستوری بحران کا شکار ہے۔ پارلیمنٹ آٹھویں دستوری ترمیم پر بحث کر رہی ہے جس کے ذریعے مارشل لاء کے دور میں کی گئی ترمیمات کو پارلیمانی تائید سے جزوِ دستور بنایا جارہا ہے۔ سرکاری گروپ کے اندر بھی مکمل اتفاقِ رائے مفقود ہے ۔ سرکاری گروپ اور آزاد گروپ میں بھی سرکشی جاری ہے۔ ترمیم کا پہلا مسودہ جو ۸ ستمبر کو پیش کیا گیا تھا، واپس لے لیا گیا ہے اور اب دوسرے مستودے پر غور ہو رہا ہے لیکن یہ بھی کم سے کم مطلوبہ معیار سے فروتر ہے ۔ اب اکثریت کی بنیاد پر ترمیم منظور کرالینے کی باتیں ہورہی ہیں لیکن ماضی میں بھی حکمتِ عملی ناکام رہی ہے اور آج بھی اس کی کامیابی مخدوش ہے ۔ اس امر کی ضرورت ہے کہ پورے مسئلے پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور ہو اور وہ راستہ اختیار کیا جائے جس میں ملک و مِلت کا مفاد ہے۔حکومت کو اور آزاد گروپ کو اسے ناک کا مسئلہ ہرگز نہیں بننے دینا چاہیے۔
ہم دستوری بل کے تجزیے سے پہلے اُن بنیادی امور کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں جو ہماری نگاہ میں دستوری مسائل کے بارے میں صحیح رویے کی صورت گری کرنے والے ہیں۔ ان کی حیثیت اُس فریم ورک کی ہے جس میں دستوری مسائل کو حل ہونا چاہیے ۔
سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ دستور ایک ملک کا اساسی قانون ہوتا ہے۔ اسے افراد کے ذاتی ذوق اور پسند و نا پسند کی روشنی میں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر ہم نے ملک کے دستور کو بھی افراد کے لباس کی حیثیت دی اور آج کے سر بر آوردہ افراد کے ذوق اور اُن کے تن و توش کی مناسبت سے دستوری اداروں کی تراش و خراش کی کوشش کی تو یہ ایک بہت بڑا سانحہ ہوگا۔
مسئلہ صدر ضیاء الحق صاحب اور وزیر اعظم محمد خان جونیجو صاحب کا نہیں اور نہ ہی آج کی حکومت پارٹی اور حزب یا احزابِ اختلاف کا ہے ۔ ہم پاکستان کے دستور پر غور کر رہے ہیں جس سے پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کی قسمت وابستہ ہے۔ افراد کو اداروں کا پابند ہونا چاہیے، اداروں کو افراد کے تابع نہیں کیا جا سکتا ۔ تاریخ میں جب بھی ایسی حماقت ہوئی ہے ، وہ ادارے ان افراد کے مسندِ اقتدار سے ہٹتے کے بعد از کار رفتہ ہو گئے ہیں اور قوم اداراتی استحکام سے محروم رہی ہے۔ پارلیمنٹ اور سیاسی اور فوجی قیادت کو اس احوال کا احترام کرنا چاہیے جبھی مسئلہ کا کوئی دیر پا حل نکل سکتا ہے۔
دوئم ہمیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ کسی ملک کا دستور ایک ایسی مقدس دستاویز ہے کہ اسے مستقل طور پر متنازع فیہ بنادینا سخت خطرناک ہے۔ اختلاف جمہوریت کی روح ہے۔ لیکن اختلاف اس وقت معنی خیز اور مفید ہو سکتا ہے جب ریاست کے بنیادی اداروں اور اُن کے دائرہ کار کے بارے میں مکمل اتفاق ہو، اگر دستور ہی مستقل طور پر متنازع رہے تو کبھی سیاسی استحکام حاصل نہیں ہوسکتا ۔ ۱۹۶۵ ءکے دستور کو اس لیے محترم نہیں سمجھا گیا تھا کہ وہ خامیوں سے پاک تھا، بلکہ اس لیے کہ اس پر قوم متفق ہوگئی تھی۔ اس طرح جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب نے بھی پہلے محض اکثریت کی بنیاد پر ایک نیم اشتراکی دستور ملک پر مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن جلد ہی ان کو احساس ہو گیا کہ اس طرح دستوری مسئلہ حل نہیں ہو سکتا اور بالآخر ۱۹۷۳ء میں ایک متفق علیہ دستور وجود میں آیا ۔ اس کے بعد جو ترامیم انہوں نے محض اکثریت کی بنیاد پر کیں وہ کبھی بھی قوم کی نگاہ میں محترم نہ قرار پائیں اور بالآخر انہیں ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ۔ مارشل لاء کے دور میں لائی گئی کئی ترامیم پر بھی جو بنیادی اعتراض ہے وہ یہی ہے کہ وہ ایک فرد واحد کی لائی ہوئی ترامیم ہیں، خواہ کتنی ہی نیک نیتی سے کی گئی ہوں ، ایسی ترامیم کو کبھی بھی قوم کے ضمیر کی آواز اور رورحِ اجماع کا مظہر قرار نہیں دیا جا سکتا اور اگر بس محض اکثریت کے بل پر کوئی ترامیم کرائی جاتی ہیں اور ماضی کی ترمیم کی توثیق کی جاتی ہے تو وہ محترم اور مقبول نہیں ہو سکتیں ۔ ۱۹۷۳ ء میں تمام اہم سیاسی قوتوں کے اتفاق نے دستور کو محترم بنایا اور آج بھی اگر پوری پارلیمنٹ کے اتفاق رائے سے ترامیم ہوتی ہیں تو وہ بھی مقبول و محترم ہوں گی ورنہ قوم ایک مسلسل تنازع اور بجران کا شکار رہے گی ۔
تیسری چیز یہ ہے کہ گو پارلیمنٹ دستور کے مطابق دستور میں ترمیم کی مجاز ہے لیکن اس وقت ملک خاص صورت حال سے دوچار ہے ۔ مارشل لاء کے دور میں اور خصوصیت سے مارچ ۱۹۸۵ ء میں یک طرفہ طور پر بڑے وسیع پیمانے پر دستوری ترامیم کی گئی ہیں جن کا کوئی جواز نہ تھا ۔ دستوری ترامیم کے لیے پارلیمنٹ کا انتظار کرنا چاہیے تھا ، اِلِّا یہ کہ جو چیزیں اشد ضروری تھیں ۔ لیکن یہ استہ اختیار نہیں کیا گیا اور اس نے ملک کو ایک مصنوعی بحران سے دو چار کر دیا۔ اب ان ترامیم کی پارلیمنٹ سے توثیق حاصل کی جارہی ہے ۔ پارلیمنٹ کے لیے یہ ممکن نہیں کہ آنکھیں بند کر کے ان ترامیم کو قبول کرلے، خواہ یہ مارشل لاء کے اُٹھائے جانے کی قیمت کے طور پر ہی کیوں نہ ہو۔ مارشل لاء کو تو اب اُٹھنا ہی ہے اور پارلیمنٹ کو کوئی بھی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے کوئی نیا بحران جنم لے سکے ۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ پارلیمنٹ صرف ان ترامیم کوقبول کرے جو ازبس ضروری ہیں اور باقی اُمور کو مستقبل میں ٹھنڈے غور و خوض کے لیے اُٹھا رکھا جائے۔ اس لیے اس وقت تو جہ کو صرف ان ترامیم تک محدود رکھنا چاہیے جو مارچ ۱۹۸۵ ء میں چار صدارتی فرامین کے ذریعے کی گئی ہیں اور ان میں ایسی تبدیلیاں کرنی چاہئیں جن سے یہ اسلام اور پارلیمانی نظام سے زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہو جائیں اور ۱۹۷۳ء کے دستور سے ہم آہنگ رہیں ۔ بلاشبہ ۱۹۷۳ ء کا دستور کوئی معیاری دستور نہیں ہے لیکن وہ ایک متفق علیہ دستور ہے اور پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر تمام سیاسی قوتوں کے اتفاق رائے کے بغیر اس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ہونی چاہیے ۔ پارلیمنٹ کے اتفاق رائے سے ضروری حد تک ترمیم پر قناعت کی جائے اور سیاسی عمل کو رو بہ عمل آنے کا موقع دیا جائے تاکہ مارشل لاء رخصت ہو اور سیاسی معاملات سیاسی انداز میں طے ہونے لگیں ۔ اس کا بہترین راستہ تو یہ تھا کہ ۱۹۷۳ء کے دستور کو ان متفق علیہ ترامیم کے ساتھ جو اسلام کے بارے میں کی گئی ہیں اور ان میں فیڈرل شرعی عدالت کا قیام ، جدا گانہ طریق انتخاب کا نفاذ اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینا شامل ہیں ، بحال کر دیا جاتا اور عبوری دستور ۱۹۸۰ء اور ۱۹۷۳ء کے دستور کے احیاء کے فرمان کی غیر ضروری دفعات کو منسوخ کر دیا جاتا لیکن اگر یہ چیز بوجوہ ممکن نہیں تو ۱۹۷۳ء کے دستور سے زیادہ سے زیادہ قریب رہتے ہوئے ان ترامیم کو منسوخ یا تبدیل کرنا از بس ضروری ہے جو دستور میں اسلام کی پوزیشن کو کمزور کرتی ہیں یا جن کی وجہ سے پارلیمانی نظام کا حلیہ بگڑتا گیا ہے اور صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات کے درمیان ایک عدم توازن کی جگہ دوسرا عدم توازن پیدا کر دیا گیا ہے نیز جن جن کی زد صوبائی خود مختاری کے متفق علیہ تصور پر پڑتی ہے ۔ یہ کام پورے احساسِ ذمہ داری اور افہام و تفہیم کے جذبے سے ہونا چاہیے تا کہ جو حقیقی مشکلات ہیں رفع ہو سکیں اور ملک دستوری بحران سے نکل کر مستحکم سیاسی عمل پروان چڑھا سکے ۔ اصل مسئلہ اختیارات کی جنگ نہیں بلکہ مستحکم نظام کے قیام کے لیے اداروں کی صحیح صورت گری ہے۔ اس نازک قومی مسئلے پر محترم صدر صاحب ،محترم وزیر اعظم صاحب اور ارکان پارلیمنٹ ایک نئے سیاسی اجتماع (Consensus) کے ذریعے ملک و ملت کی بہترین خدمت انجام دے سکتے ہیں، ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ان ابتدائی گذارشات کے بعد ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت پانچ بنیادی دستوری مسائل زیر ِبحث ہیں۔ آئیے دستوری ترامیم کی روشنی میں ان کا مطالعہ کریں اور حل کی راہوں کی نشاندہی کریں ۔
شریعیت کی بالادستی
سب سے پہلا اور اہم مسئلہ اسلامی شریعت کی بالادستی کا ہے۔ یہ وہ مقصد ہے جس کے لیے پاکستان وجود میں آیا اور جس کا اظہار قرار داد مقاصد کی شکل میں مارچ ۱۹۴۹ء میں کیا گیا۔ پاکستان میں یہ مسئلہ کبھی بھی متنازع فیہ نہیں رہا ، لیکن ابھی تک دستور میں اس کا خاطر خواہ اظہار نہیں ہوا ہے ۔ اس سلسلے میں مارشل لاء کے دور میں جو اقدامات ہوئے ہیں انہیں محض اس بنا پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ مارشل لاء کے اقدامات ہیں ۔ اسلام پاکستان کا مقصد وجود ہے اور شریعیت کی بالا دستی کا قیام ملتِ اسلامیہ پاکستان کی حقیقی آرزو ہے۔ مارشل لاء کے دور میں ایک قسم کی دوئی (Dualism)کا رواج رہا ہے ۔ ایک طرف شریعت کا نام لیا گیا ہے اور دوسری طرف مارشل لاء کے تمام احکامات اور اعلانات شریعیت کی بالادستی سے مستثنیٰ رہے ہیں۔ نیز فیڈرل شرعی عدالت کے دائرہ کار کو بھی نہایت محدود رکھا گیا ہے جس سے دستور، عائلی قوانین اور عدالتی ضابطے مستقل طور پر مستثنی کرائے گئے تھے اور تمام الیاتی، محصولاتی، چیکنگ اور انشورنس کے قوانین دس سال کے لیے عدالت کی دسترس سے باہر قرار دے دیے گئے ۔ یہ چیز شریعت کی بالادستی کی نفی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ بھی دستوری ترامیم کے ذریعے شریعت کی بالادستی کے قیام کے عمل کو کمزور کر دیا گیا ہے ۔ اس لیے پارلیمنٹ کو آٹھویں دستوری ترمیم کے ذریعے شریعت کی بالا دستی کو قائم کرنا چاہیے اور اس کے لیے کم سے کم ضروری چیزیں مندرجہ ذیل ہیں :
(۱) دستور کی دفعہ ۲ میں ترمیم کر کے ریاست کا مذہب اسلام ہو گا کے بعد یہ اضافہ کیا جائے کہ :
’’شریعت ِاسلامی یعنی (قرآن و سنت) ملک کا بالاتر قانون اور ملک میں تمام قانون سازی اور پالیسی سازی کے لیے اصل اور اولین ماخذ ہوگی‘‘ ۔
اس سلسلے میں یہ تشریح بھی کی جاسکتی ہے کہ قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ وہ طریقہ اختیار کرے گی جو دستور کے باب ۹میں مرقوم ہے اور اس امر کو متعین کرنے کے لیے کہ کیا چیز شریعیت کے مطابق ہے اور کیا اس سے متصادم ، فیڈرل شرعی عدالت کا فیصلہ آخری اور نافذ العمل ہوگا ۔
(۲)دستور کی دفعہ 203 B(c)میں ترمیم کر کے فیڈرل شرعی عدالت کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا اور وہ جملہ قوانین اور رسوم و رواج ، جن کو قانون کا درجہ حاصل ہو گا جائزہ لے سکے گی اور ان کے بارے میں فیصلہ کر سکے گی۔
یہ بات ملحوظ خاطر رہے کہ فیڈرل شرعی عدالت ایک اعلیٰ عدالتی ادارہ ہے جو ہر معاملے کا جائزہ متعلقہ حکومت اور ماہرینِ فن کوسن کر کرے گی اور اگر کسی قانون میں تبدیلی کا فیصلہ کرے گی کہ متعلقہ قوانین کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کو کتنی مہلت دی جائے۔ اس طرح ایک تعمیری اور تدریجی عمل کے ذریعے شریعت کا نفاذ عمل میں آئے گا۔
(۳)فی الحال فیڈرل شرعی عدالت کے کسی بھی جج کی شرائطِ ملازمت میں یک طرفہ طور پر تبدیلی کی جاسکتی ہے یا اس کو کسی دوسرے کام پر مامور کیا جاسکتا ہے۔ جو دفعہ ( 4B ) c 203 اسلامی اور فطری احکامات کے اصولوں کے خلاف ہے اور جس کے ذریعے اس اعلیٰ عدالت کے کام میں انتظامیہ کی مداخلت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس ترمیم کو لاز ماً منسوخ ہونا چاہیے ۔ اسے ایسی شرائط سے مشروط ہونا چاہیے جو اسے اصول ،عدل اور عدلیہ کی آزادی سے ہم آہنگ کر دیں۔
(۴)فیڈرل شرعی عدالت میں کم از کم ۳ علما ء اور سپریم کورٹ کے شرعی پنچ پر کم از کم ۲ علماء کی ضمانت ہونی چاہیے ۔ فی الحال یہ گنجائش’’ زیادہ سے زیادہ‘‘ کی شکل میں ہے ۔
(۵) فیڈرل شرعی عدالت کے دائرہ کار کو وسعت دینے کی ضرورت ہے ۔ فی الحال وہ صرف قوانین کا جائزہ لے سکتی ہے ۔ دستوری دفعہ 203 DD میں مناسب ترمیم کے ذریعے اس معزز عدالت کو مرکزی اور صوبائی حکومتوں اور نیم سرکاری اداروں کے جاری کر دہ احکام اور دوسرے اقدامات کو بھی شریعیت سے تصادم کی بنیاد پر احتساب کا اختیار ہونا چاہیے اور اگر متعلقہ اداروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا موقعہ دینے کے ساتھ ان کے احکام یا اقدامات کو شریعیت کے منافی پائے تو ایسے احکام یا اقدامات کو کالعدم قرار دینے اور مستقبل میں ان کے ارتکاب کو روکنے کے احکام جاری کرنے کا اختیار بھی ہونا چاہیے ۔ یہ وہ کم سے کم چیزیں ہیں جن کے ذریعے دستوری دفعہ ۲اور دفعہ اے تا ایف ۲۰۳ کو شریعت سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے اور اس طرح شریعت کی بالادستی کے قیام کے امکانات بڑھ سکتے ہیں ۔
ایک آخری چیز یہ ہے کہ دستور کے شیڈول ہفتم میں ان اسلامی قوانین کو بھی شامل کیا جائے جو گذشتہ ۸ سالوں میں بنائے گئے ہیں۔ اس سلسلے میں چاروں حدود آرڈی ننس، زکوۃ اور عشر کا قانون ، قادیانیوں کے لیے اسلامی ناموں اور شعائر کے استعمال پر پابندی کا قانون، اقامہ صلواۃ کا آرڈی نس اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کا آرڈی نفس کا اس فہرست میں شامل کیا جانا بہت ضروری ہے۔
پارلیمانی نظام کا تحفظ
دوسرا بڑا مسئلہ دستور کے پارلیمانی مزاج کا تحفظ ہے۔ مارشل لاء اختیارات کے ذریعے کی گئی ترامیم کے نتیجے ہیں دستور کا پارلیمانی نظام بری طرح مجروح ہوا ہے۔ اس سلسلے میں جو چیز یں اصلاح طلب ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں :
(۱)پارلیمانی نظام کی اصل خصوصیت ہی یہ ہے کہ قانون سازی اور انتظامیہ کی تشکیل اور عمل داری میں اصل فیصلہ کن اختیار پارلیمنٹ کو حاصل ہوتا ہے۔ مارشل لاء کی ترامیم کے نتیجے میں وزیر اعظم کا تقرر پارلیمنٹ کے بلا واسطہ فیصلے سے نہیں ہو گا بلکہ پہلے صدر مملکت اس شخص کو اپنے خصوصی اختیار (Discretion) سے وزیر اعظم مقرر کرے گا ۔ جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ وہ قومی اسمبلی کا اعتماد حاصل کر سکے گا اور اس تقرری کے بعد وزیر اعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرے گا ۔
(۲)غیر جماعتی انتخاب کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلی کے لیے بھی ایسے طریق کا رپر عمل ضروری نہیں تھا لیکن جماعتی نظام کے بحال ہو جانے کے بعد تو اس طریق کار سے سیاسی جوڑ توڑ اور حکومتی عدم استحکام کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ صحیح طریقہ وہی ہے جو ۱۹۷۳ء کے دستور ( دفعہ ۹۱) میں مرقوم ہے کہ قومی اسمبلی پہلے قائد ایوان متقرر کر لے اور پھر قائد ایوان کو صدر وزارت بنانے کی دعوت دے ۔ اس کے بغیر پارلیمانی نظام کے پنپنے کا امکان نہیں ۔
اس طرح صوبائی حکومت کے بنانے اور وزیر اعلیٰ مقر رکرنے کا بھی وہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے جو ۱۹۷۳ء کے دستور کی دفعہ ۱۰۵ میں تھا یعنی پہلے اسمبلی اپنا قائد بنالے اور پھر اُسے وزارت اعلیٰ کی ذمّے داری سونپی جائے۔
(۳) مرکزی اسمبلی ( اور اسی طرح صوبائی اسمبلی ) کو توڑنے کے لیے بھی جو طریق کار وضع کیا گیا ہے اُس میں صدر اور گورنر کی ذاتی رائے (جو ایک طرح کا ہی ہو جاتا ہے ) کا بڑا دخل ہے ۔ اسے ناقابل دخل اندازی حقائق پر مبنی ہونا چاہیے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر قومی یا صوبائی اسمبلی اجلاس بلائے جانے کے ۱۵ دن کے اندر اندر کسی شخص کو قائد ایوان نہ بنا سکے تو ایسی اسمبلی کو توڑا جا سکتا ہے اور ۹۰ دن کے اندر اندر نئے انتخابات ہو جانے چاہئیں ۔ ایسے سیاسی بحران کی بھی واضح تعریف ہونی چاہیے جس میں حکومت وقت کا اقتدار مکمل طور پر غیر موثر ہو چکا ہو ( جیسا کہ ۱۹۷۷ء میں مہوا تھا، ورنہ اس دفعہ کو بھی بے جا استعمال کیا جاسکتا ہے۔
(۴) پارلیمنٹ کی بالا دستی کو ایک اور خطرہ صدر کے اس کلی اختیار سے ہے کہ وہ جب چاہے وزیر اعظم کے مشورے کے علی الرّغم ملک میں ریفرنڈم کا اعلان کر اسکتا ہے۔ یہ اختیار پارلیمنٹ کو نظر انداز کرنے یا اسے غلط دباؤ میں لانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے جس کا سدِّ باب بہت ضروری ہے۔ پارلیمنٹ کی بالا دستی کو قائم کرنے کے لیے ان چاروں ترمیمات میں تبدیلی ضروری ہے ۔
صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن
یہ امر نا قابل انکار ہے کہ ۱۹۷۳ ء کے دستور میں اور وزیر اعظم کے اختیارات میں عدم توازن تھا اور صدر کو وزیر اعظم کا بالکل تابع مہمل بنا دیا گیا تھا حتی ٰکہ صدر کے احکام کو معتبر بنانے کے لیے وزیر اعظم کے دستخط ضروری تھے اور اگر صدر سات دن کے اندر اندر پارلیمنٹ کے منظور شدہ مسودہ قانون کی توثیق نہ کرے تو اس کی آپ سے آپ توثیق متصوّر ہوگی ۔ نئی ترامیم میں ان جزوں کی اصلاح کر دی گئی ہے اور ان کے علاوہ صدر کو وزیر اعظم اور کا بینہ کو ان کے مشوروں اور فیصلوں کے سلسلے میں اور پارلیمنٹ کو اس کے منظور کردہ قوانین کے سلسلے میں ۳۰ دن کے اندر اندر مستورہ کو از سر نو غور کرنے کے لیے واپس بھیجنے کا اختیار دیا گی ہے ، جو صدر کے عہدے کے وقار کو نہ صرف بحال کرتا ہے بلکہ پارلیمانی نظام کی حدودمیں رہتے ہوئے اسے اثر انگیزی کا ایک محترم مقام دیتا ہے ۔ اسی طرح غیر معمولی حالات میں بالکل متعین شکل میں پارلیمنٹ کو توڑنے اور ۹۰ دن میں نئے انتخابات کرانے کا بھی اسے اختیار ہے۔ اس سے آگے بڑھ کے صدر کو جو اختیارات بہ شکل discretionدیے گئے ہیں ، ان کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا ۔ مارشل لاء کی اصل ترمیمات میں صدر کو کل ۲۳ مقامات پر مکمل discretion دیا گیا تھا اور اب بھی اس ۱۸ مقامات پر یہ Discretion حاصل ہے ۔ ان اختیارات کو لازما ًمنسوخ یا محدود ہونا چاہیے۔ اس وقت اپنے اختیار سے اسمبلی کو توڑنے کے بعد الیکشن کی تاریخ مقرر کرنا اور عبوری حکومت بنانا ہے ۔ (دفعہ (48(5) (a)(b)وزیر اعظم کی مرضی کے خلاف ریفرنڈم منعقد کر سکتا ہے۔ دفعہ (6) 48چند پابندیوں کے ساتھ اسمبلی توڑ سکتا ہے۔ (دفعہ (2) 58 ) وزیر اعظم کا تقرر اپنی پسند سے کر سکتا ہے۔ (دفعہ 91 (2) ) تمام گورنروں کا تقرر اور ان کی معزولی اپنی پسند سے کرتا ہے۔ (دفعہ (3) – (1) – 101 ) اور گورنروں کے لیے وہ وظائف مقرر کرتا ہے جن کا احاطہ دستور میں نہیں کیا گیا ہے ۔ ( دفعہ (5) 101 ) چونکہ صوبے کا وزیر اعلیٰ گورنر Discretion میں مقرر ہوتا ہے ، اس لیے جزوی طور پر یہاں بھی کا اختیار موجود رہتا ہے جو گورنر کا تقرر کرتا ہے۔ دفعہ 105(1) (a) (b) (c) صدر کو فیڈرل شرعی عدالت کے کسی بھی جج کی شرائط ملازمت بدلنے اور اسے دوسرے کام سونپنے کا مکمل اختیار ہے۔ (دفعہ 203-C(48) a, b & c) نیز چیف الیکشن کمشنر کا تقرر ( دفعہ (1) 213 ) پبلک سروس کمیشن کے صدر کا تقرر ( دفعہ (242(1) (a)چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف اور تینوں افواج کے سربراہوں کا تقرر (دفعہ 243(2) c) بھی صدر کے اپنے(discretion) میں کام کرتا ہے ۔ اتنے وسیع اختیارات فطری طور پر ملک کے سیاسی نظام میں دو مستقل اور متوازی مراکز اقتدار کو جنم دیتے ہیں۔ وزیر اعظم انتظامیہ کا سربراہ ہےمگر فوجی سروسز کے سربراہوں کے تقرر میں اور سول سروس کے اعلیٰ ترین تقرر یعنی پبلک سروس کمیشن کے صدر کے تقرر میں اس کا کوئی دخل نہیں ۔ اگر اتنی اعلیٰ ترین تقرریوں کے لیے سول اور فوجی سروسز براہ راست صدر کی طرف دیکھیں گی تو وزیر اعظم ان سروسز سے کس طرح کام لے گا ؟
ایک پارلیمانی نظام میں یہ تمام تقرریاں کرتا تو صدر ہی ہے مگر وزیراعظم کے مشورے سے ، اور ایسی ہی شکل ہمیں بھی اختیار کرنی چاہیے ورنہ پارلیمانی نظا کے کامیابی سے چلنے کے امکانات مخدوش ہیں ۔
صوبائی خود مختاری کا مسئلہ
صوبائی خود مختاری کا مسئلہ بھی ان نازک مسائل میں سے ہے جنہیں ۱۹۷۳ ء کے دستور میں اتفاقِ رائے کی بنیاد پر طے کر لیا گیا ہے اور اس میں یک طرفہ طور پر کوئی تبدیلی نہایت خطرناک اور دور رس نتائج پر منتج ہوسکتی ہے ۔ ۱۹۸۵ ء کی ترمیمات میں سے چند صوبائی خود مختاری کی اس اسکیم کو مجروح کرتی ہیں جن پر سیاسی اجتماع موجود ہے۔ ان میں سے اہم مندرجہ ذیل ہیں جن کی اصلاح ضروری ہے :
(۱) گورنروں کی نامزدگی اور معزولی اگر صدر مملکت اپنی صوابدید سے کرتا ہے تو یہ پارلیمنٹ اور وزیر اعظم کو جو وفاق سے توازن کی نمائندگی کرتے ہیں، ان اہم فیصلوں کے بارے میں غیر مؤثر کر دیتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسی تقرری اور معزولی وزیر اعظم کے مشورے پر ہو۔
(۲) نامزد گورنر کا صوبے کا وزیر اعلی ٰاپنی صوابدید پر نامزد کرنابھی صوبائی خود مختاری کو متاثر کرتا ہے۔ گورنر کے Discretion کی تجدید ضروری ہے۔
(۳)صوبائی اسمبلیوں کو توڑنے ، نئے انتخاب کی تاریخوں کا تعین اور عبوری حکومت کا قیام بھی گورنر کی صوابدید پر منحصر نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کو بھی اس طرح بالکل متعین کر دینا چاہیے جس طرح مرکز میں تجویز کیا گیا ہے ۔
(۴)دفعہ ۱۶۵ الف میں ایک بظاہر معمولی ترمیم کے ذریعہ صوبائی کا رپوریشنوں پر مرکزی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار دے دیا گیا ہے اور اس سلسلے میں یہ شرط بھی ختم کر دی گئی ہے کہ آمدنی کے استعمال کی آخری منزل کیا ہوگی۔
یہ چیز صوبوں کی مالی خود مختاری کو مجروح کرتی ہے اور ایک صوبے کے وسائل کی دوسرے صوبوں میں منتقلی کا دروازہ کھول دیتی ہے جو متفق علیہ ضابطوں سےتجاوز ہے۔ان چاروں امور کو ۱۹۷۳ء کے دستور کے مطابق کر دینے سے مرکز اور صوبوں میں توازن بحال ہو جائے گا۔
عدلیہ کی بالا دستی
عبوری آئینی فرمان نے عدلیہ کی حیثیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے ختم ہونے سے عدلیہ کے اختیارات بحال ہو جائیں گے ، البتہ چند دوسری ترامیم پر بھی از سرِ نو غور کرنا ہو گا اور ان میں ضروری اصلاحات کرنا ہوں گی ۔
(۱)وفاقی شرعی عدالت کے کسی حج کو صدر اپنی صوابدید پر دوسرے کام تفویض کر سکتا ہے اور ان کی شرائط ملازمت کو بھی بدل سکتا ہے۔ یہ کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے ۔
(۲)صوبوں کی عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس کا تقرر بھی اسی طرح سینیارٹی کی بنیاد پر ہونا چاہیے جس طرح سپریم کورٹ کے لیے دستور میں مقرر کیا گیا ہے ۔ بصورتِ دیگر انتظامیہ کے لیے عدالت ِعظمیٰ میں مداخلت کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ صدر کو یہ اختیار بھی دیا گیا ہے کہ ایک جج کو اس کی مرضی کے بغیر دو سال تک کسی دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے اور اگر کوئی حج اس کے لیے تیار نہ ہو تو اُسے ملازمت سے ریٹائر متصور کیا جائے گا۔ گو یہ چیز ہندوستان کے دستور میں بھی ہے لیکن پاکستان میں یہ پہلی بار لائی گئی ہے جو ہماری روایت کے خلاف ہے ۔ اگر اس قسم کی کوئی شِق ضروری ہے تو اس نوعیت کے تبادلے کو کم از کم چیف جسٹس آف پاکستان کے مشورے سے ہونا چاہیے۔
مارشل لاء کے اقدامات کا تحفظ یا توثیق
آخری اہم معاملہ انڈ یمنٹی کی دفعہ سے متعلق ہے جس کا احاطہ دفعہ اسے ۲۰۷ کی شکل میں کیا گیا ہے ۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ مارشل لاء کے زمانے میں جاری کردہ قوانین و ضوابط اور ان کے تحت کیے گئے اقدامات کو ناگزیر تحفظ دینا ایک دستوری ضرورت ہے۔ یہ کام ماضی میں بھی ہوا ہے اور اب بھی کیا جا سکتا ہے لیکن تحفظ کے عنوان سے ایک منتخب پارلیمنٹ سے ان تمام کاموں کی توثیق و تائید نہیں کرائی جا سکتی جو مارشل لاء حکام نے کیے ہیں اور جن کے کرنے میں اس پارلیمنٹ کی مرضی کا کوئی دخل نہیں تھا۔ یہ ایک قطعاً نا روا مطالبہ ہے جس کے لیے کوئی دستوری ، قانونی ، اخلاقی یا تاریخی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۵۸ ء کے مارشل لاء کے بارے میں : صرف تحفظ ( Indemnity ) کا راستہ اختیار کیا گیا تھا ۔ ۱۹۶۹ء اور ۱۹۷۲ ء کے مارشل لاء کے لیے توثیق کی جو خاص شکل ۱۹۷۳ ء کے دستور میں اختیار کی گئی اس کی جو اسماء جیلانی کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تھا جس کے ذریعے ۱۹۲۹ ء کا مارشل لاء غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اس کے باوجود پارلیمنٹ نے یحییٰ خان کے مارشل لاء کے دوران کئے گئے اقدامات کو دو سال کے لیے تحفظ دیا تھا۔
۸۵ – ۱۹۷۷ ء کے مارشل لاء کو بھی ضروری تحفظ دیا جاسکتا ہے مگر تائید و توثیق کا مطالبہ غلط ہے۔ نیز اس دور کے تمام اقدامات کو نیک نیتی پر مبنی قرار دینے کا ٹیکیٹ بھی نہیں دیا جا سکتا نیز مارشل لاء کے ضابطوں کو مزید جاری رکھنے کا بھی کوئی جواز نہیں ہے۔ اس دور کے قوانین جاری رہیں گے جب تک انہیں تبدیل نہ کرایا جائے۔
نیز اس دور کے اقدامات کو ان نتائج جو جاری ہیں مستقبل میں ایک مدت کے لیے تحفظ دیا جا سکتا ہے ۔ مثلاً ایک سال یا دو سال ۔ اس کے بعد ان کو عدالتی محاسبے کے لیے پیش ہونے کے لیے تیار رہنا چاہیے ؛ البتہ افراد کو مارشل لا ءکے زمانے میں کیے جانے والے اقدامات کے لیے تحفظ دیا جا سکتا ہے ۔ اس لیے ہم تجویز کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا اُصولوں کی روشنی میں اس شِق پر نظرِ ثانی ہونی چاہیے اور آئندہ کے لیے قوانین اور اقدامات دونوں کو قرآن و سنت اور دستور کی میزان پر جانچنے کا دروازہ کھلا رہنا چاہیے ۔ یہ انصاف کا کم سے کم تقاضا ہے ۔
سیاسی جماعتوں کے قانون کو بھی بنیادی حقوق کی دفعہ (۸) کے اثرات سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ قطعاً نا روا ہے اور اسے حذف ہونا چاہیے۔ شیڈول ہفتم میں ان بنیادی اسلامی قوانین کا ذکر ہونا چاہیے جو اوپر بیان کیے گئے ہیں۔
ان تحفظات کے ساتھ مارشل لاء کے دور میں کیے جانے والے اقدامات کو تحفظ دیا جا سکتا ہے لیکن مستقبل میں ملک کو قانون کی حکمرانی کے اصول کے مطابق ہی چلنا چاہیے۔ اس میں سب کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
اگر مندرجہ بالا خطوط پران ترمیمات پر نظر ِثانی کر لی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ پارلیمنٹ میں ایک نیا سیاسی اجماع وجود میں نہ آسکے اور ملک ۱۹۷۳ء کے دستور سے قریب رہ کرنے مسائل کا حل تلاش کر لے ۔ اگر پارلیمنٹ اس میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ ایک تاریخی خدمت انجام دے گی اور اگر خدانخواستہ وہ اس میں ناکام رہتی ہے تو ملک دستوری نزاع اور انتشار کے ایک تاریک دور سے بھی دوچار ہو سکتا ہے جس سے اس کو بچانا ہر محبِّ وطن کا فرض ہے ۔
تاریخِ اشاعت: ۱۵ اکتوبر ۱۹۸۵ء



