رودادِ قفس

سید علی گیلانی کبھی ایک نیک نفس انسان اور صوفی منش مجاہد کا نام تھا، لیکن اس سے بڑھ کر آج وہ کشمیر کی آزادی کی علامت اور وقت کی ایک استبدادی قوت کے خلاف کشمیری مسلمانوں کے جہاد عزیمت کا عنوان بن چکا ہے۔ اس کی کتاب زندگی کا ہر ورق اپنے دامن میں جدوجہد آزادی کی ایک داستان لئے ہوئے ہے اور اس کی ” رودادقفس“ محض آزادی کا ترانہ ہی نہیں، بلکہ جدوجہد آزادی کی مکمل تاریخ بھی ہے۔
ویسے تو برصغیر کی جیلوں نے بڑے بڑے مجاہدوں کے طوق و سلاسل کی گونج سنی ہے، لیکن دور جدید میں جس فرزانے کی ” جیل یا ترا“کو ایک منفرد مقام حاصل ہے، وہ کشمیر کی تحریک اسلامی کا بے باک ترجمان سید علی گیلانی ہے، اس کی داستان حیات کی ورق گردانی کرتے ہوئے دل بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ؏
ایسی چنگاری بھی یا رب اپنے خاکستر میں ” ہے“
مجھے یہ بات کہنے میں ذرا بھی باک نہیں کہ جس خاکستر میں ایسی چنگاری ہو، وہ قفس کی طرح نئی زندگی کو جنم دیتی ہے اور پھر اسی خاکستر سے نئے گلشن جنم لیتے ہیں۔
آج کشمیر جل رہا ہے، لیکن دیکھنے والی آنکھ دیکھ رہی ہے کہ اس آگ کی آغوش سے ان شاء اللہ گلزار ابراہیمؑ نمودار ہوگا اور وادی کشمیر صرف قدرتی حسن اور مناظر فطرت کی نظر آفرینی ہی کے سبب نہیں، بلکہ اسلام کے پرچم تلے فرد اور معاشرہ دونوں کے حسن اخلاق، حسن کردار اور حسن انصاف کی بنا پر جنت نظیر بن کر رہے گی
اگر فردوس، بر روئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است
اس جنت کے باغبانوں میں جو نام بڑا ہی منفرد ہو گا، وہ سید علی گیلانی کا نام ہو گا۔ سیدعلی گیلانی کا نام میں نے پہلی بار اس وقت سنا جب ۱۹۷۲ء میں جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر وہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، اور بہت جلد اپنی جر أ ت اور حق گوئی کی بنا پر اسمبلی میں اور اسمبلی کے باہر بھی کشمیر کے حق خود ارادیت کی پہچان بن گئے۔
۶ ۱ دسمبر ۱۹۷۱ء کو سقوط ڈھاکہ کے سانحے نے اہل پاکستان کے دلوں کو پاش پاش کر دیا۔ دوسری طرف اس واقعے سے آزادی کشمیر کے متوالوں کی امیدوں پر اوس پڑ گئی۔ ان ہاتھوں سے دامن امید چھوٹا جا رہا تھا کہ (جسمانی اعتبار سے) اس نحیف انسان کی گرج دار آواز گونجی :
”پاکستان اگر خدا نخواستہ موجودہ حالات میں اس پوزیشن میں نہیں رہا کہ آزادی اور حق خود ارادیت کے حصول میں ہماری مدد کر سکے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم اپنے حق ہی سے دستبردار ہو جائیں جبکہ ہماری مدد کے لئے خود اللہ تعالی موجود ہے۔ ہم اس کی رضا کے لئے ہی یہ کام کر رہے ہیں۔“
اسی طرح سید علی گیلانی نے ”بہت سا وقت گزر گیا ہے“جیسی مضحکہ خیز دلیل کا بڑا موثر جواب اپنے ایک خط میں دیا ہے :
” جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ۱۹۴۷ء کے بعد سے چونکہ دریائے جہلم کا بہت سا پانی بہہ چکا ہے، اس لئے اب کشمیری عوام کو آزادی اور حق خود ارادیت کی بات نہیں کرنی چاہئے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں، کیا دریائے جہلم کے پانی کے ساتھ لوگوں کے حقوق بھی بہہ چکے ہیں ؟“
اس صاحب نظر اور صاحب ایمان کے یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے، اس کو یہ چشم سر دیکھنے اور اس کی دوسری تقریروں اور تحریروں سے روشنی حاصل کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔ ان کی تقاریر وقتاً فوقتاً پڑھنے کو ملتی رہیں اور محسوس ہوا کہ ان کی ہر تقریر ایمان، معاملہ فہمی،بالغ نظری اور جر أ ت و عزیمت کا شاہ کار ہے۔ جبکہ علامہ محمد اقبال اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کی چھاپ ان کے فکر پر صاف دکھائی دی۔ اور محسوس ہوا کہ کشمیر کی مظلومیت کا درد ان کی جدوجہد میں سمٹ آیا ہے، اور اسلام کی بنیاد پر کشمیریوں کے لئے ایک تاب ناک اسلامی مستقبل کی تعبیر و تعمیر ان کی ساری جدوجہد کا ہدف بن چکی ہے۔ یوں ان سے محبت ہی نہیں، بلکہ روز بروز عقیدت بھی بڑھتی رہی اور بالاخر اللہ تعالٰی نے غیب سے وہ موقع فراہم کردیا جب ان کے ساتھ چند لمحات گزارنے کا شرف حاصل ہوا۔
سید علی گیلانی کی پر آشوب اور ہنگاموں سے بھر پور زندگی پر نگاہ ڈالتا ہوں اور ان کی شخصیت کے جو نقوش دل و دماغ پر قائم ہوئے ہیں، ان کو دیکھتا ہوں تو علامہ اقبال کا مرد مومن میری نگاہوں کے سامنے ابھر آتا ہے
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
سید علی گیلانی کی آپ بیتی بھی ان کی زندگی ہی کی طرح منفرد ہے۔ اگر مجھے معاف رکھا جائے تو عرض کروں گا کہ لوگ آپ بیتی لکھتے ہیں اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کے لئے اور خود نوشت سوانح عمریاں بالعموم ”میں“ہی کے گرد گھومتی ہیں، لیکن سید گیلانی کی آپ بیتی ایک تحریک اور ایک جدوجہد کی کہانی ہے۔ بات آخری گرفتاری اپریل (1990ء) سے شروع ہوئی ہے اور پھر کشمکش سے بھرپور ایک پوری زندگانی پردہ سیمیں پر فلم کی مانند جلوہ فگن ہوتی ہے اور قاری داستان کے مرکزی کردار سے بھی کہیں زیادہ اصل جدوجہد میں اس طرح گم ہو جاتا ہے، جیسے وہ خود بھی اس جہاد کا ایک کردار رہا ہے۔
”روداد قفس“ صرف قفس ،کی تنہائیوں اور صعوبتوں ہی کا تذکرہ نہیں، یہ تو چمن کی بربادی، چمن کے شیدائیوں کی فدا کاری، اور چمن کے ان باغ بانوں کی ان تھک مساعی کی ایک پوری داستان ہے، جو گل چیں کے ہردار کا جواب نئی روش بندی اور نت نئی گل کاری سے دینے میں مصروف ہیں۔ جس چمن کو ایسے باغ باں میسر ہوں وہ کبھی ویران نہیں ہو سکتا
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
اتنا ہی یہ ابھرے گا ، جتنا کہ دبائیں گے
سید علی گیلانی ایک بالغ نظر مفکر اور ایک شعلہ نوا مقرر ہی نہیں، ایک صاحب طرز ادیب بھی ہیں۔ ان کی تقریروں میں ایمان کی دولت، قرآن سے تعلق، رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور فکر کی بالیدگی کے ساتھ ساتھ طوفان کی تیزی ،برق و باراں کی گرج اور نسیم سحر کی ٹھنڈک، کیا کچھ نہیں ہوتا ؟ مگر ”روداد قفس“ایک دوسری نوعیت کی تحریر ہے۔ یہ حسن خیال اور حسن بیان دونوں کا ایک حسین مرقع ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان کی یہ سرگذشت جہاد کشمیر کی ایک معتبر تاریخ ہی نہیں، نئی نسلوں کے ایمان اور عزم کی آبیاری کا بھی ایک موثر ذریعہ ہو گی اور اردو ادب کے لئے تو یہ بلاشبہ ایک روشن چراغ ہے، جس کی لو دلوں کو گرمانے اور ماحول کی تاریکی کو دور کرنے کا ذریعہ بنے گی، ان شاء اللہ۔
میرے لئے یہ امر باعث سعادت ہے کہ ”روداد قفس“پر بطور مقدمہ یہ چند سطریں لکھ رہا ہوں، اور اپنے محترم بھائی اور تحریک آزادی کشمیر کے بےداغ رہنما سید علی گیلانی کی ”روداد قفس“ میں استعار تا ً ہی سہی، شریک بزم ہو رہا ہوں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سید علی گیلانی کو اس جدوجہد کی کامیابی تک پہنچانے کی سعادت بخشے۔ ان کی مساعی جلیلہ کو قبول فرمائے۔ ان کی رہنمائی میں برپا جہاد آزادی کامیاب ہو اور وہ اپنی آنکھوں سے کشمیر کو ظالم غاصبوں کے چنگل سے آزاد ہوتا ہوا دیکھیں، اور ایک بار پھر کشمیر اور اہل کشمیر ملت اسلامیہ کا حصہ بن کر اس فیصلہ کن جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں، جس کا عنوان اسلامی نشاۃ ثانیہ ہے، اور جس کا ہدف اسلامی نظام کا قیام ہے۔
۹ شعبان ۱۴۱۳ھ
۲ فروری ۱۹۹۳ء
اسلام آباد، پاکستان



