EconomicsForwardPakistan Economy

پاکستان میں ٹیکس کا نظام از آیی پی ایس

پیش لفظ

ہر سال قومی بجٹ پیش ہوتے وقت مالیاتی پالیسی اور مالیات عامہ کے مختلف پہلوں پر متعدد افراد اور ادارے سرکاری انتظام کے تحت یا اپنی ہی دلچسپی کی بناء پر اپنے اپنے نقطہ ٔنظر سے اظہار خیال کرتے ہیں اظہار خیال فضا کی اس عمومی میں یہ مشکل ہو جاتاہے کہ مستقبل کے لائحہ عمل کےلیےایک غیر متعصبانہ نقطہ ٔنظر اختیا رکیا جاسکے اور حالات کی ایک معروض تصویر حاصل کی جا سکے ۔

مندرجہ  بالا پس منظر میں انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے یکم اور ۲ – مئی ۱۹۸۶ء کو ماہرین معاشیات کے ایک ورکنگ گروپ کا اجلاس منعقد کیا تاکہ ملک کے ٹیکس کے نظام کا ایک تنقیدی جائزہ لیا جا سکے ۔ اور اس جائزہ کی روشنی میں اصلاحات کے لیے سفارشات تیا رکی جائیں ۔ موجودہ رپورٹ اسی ورکنگ گروپ کی کارروائی پر مشتمل ہے ۔ اس رپورٹ کے چار حصے ہیں ۔ پہلا حصہ تاریخی پس منظر سے بحث کرتا ہے ۔ دوسرے حصہ میں مالیات عامہ کے بارے میں رجحانات کاجائزہ لیا گیا ہے ۔ تیسرے حصہ میں ان منتخب شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ہنگامی بنیادوں پر اصلاح کی ضرورت ہے جبکہ چوتھے اور آخری ورکنگ گروپ کی سفارشات پر مشتمل ہے ۔

سیاسی ترجیحات مختلف ہونے کے باوجود ورکنگ گروپ کے تمام ہی اراکین پاکستان میں جمہوری ذرائع سے اسلامی معاشرے کے قیام کے نصب العین سے وابستہ ہے  اور یہی وہ مقصد اور نصب العین ہے جس نے انہیں ایک جگہ جمع ہونے اور مختلف مسائل پر باہم تبادلہ خیال کےلیے تیار کیا اگرچہ بعض مسائل ایسے بھی ہیں جن پر ورکنگ گروپ کے اراکین کے خیالات میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس فائنل رپورٹ میں وہی امور شامل کیے گئے ہیں جن پر اراکین کے درمیان مکمل اتفاق رائے ہے ۔

انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز

اسلام آباد

۲۶ -مئی ۱۹۸۶ء

خورشید احمد

چیرمین

 

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »