شریعت بل، اصل مقصد و ضرورت اور اعتراضات کا جائزہ

سینٹر پرفیسر خورشید احمد
بسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
شریعت بل پرسینٹ اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس لیے اس امر کی ضرورت ہے کہ ان تمام مباحث اور اعتراضات کو سامنے رکھ کر جو اس بل کے بارے میں کیے گئے ہیں ایک بار پھر بل کے اصل اہداف و مقاصد اس کی ضرورت اور اس پر کیے جانے والے اعتراضات کا علمی جائزہ لیا جائے اور ان امور کی وضاحت کی جائے جو کچھ ذہنوں میں اضطر اب پیدا کر رہے ہیں ۔
شریعت بل پر اعتراضات
۱۔پارلیمنٹ کو معاشرتی و سیاسی مسائل کے بارے میں قانون سازی کا جو اختیار حاصل ہے شریعت بل اسے بڑی حد تک کم کر دے گا ۔ اس طرح ایک خود مختار قانون ساز ادارے کا مرتبہ گھٹ کر رہ جائے گا۔
۲۔ عدلیہ کے مرتبہ و مقام پر بھی معکوس اثر پڑے گا اور اس پر شرعی کی بالا دستی مسلط ہو جائے گی۔
۳۔چونکہ شرعی عدالت کو ریاست کا سربراہ نامزد کرتا ہے اور یہی صورت اسلامی نظریاتی کونسل کی ہے اس لیے تو ازان اقتدار ریاست کے انتظامی سربراہ کے حق میں بدل جائے گا۔ نتیجہ یہ کہ قانون ساز مجلس اور وفاق وجود میں لانے والی وحدتوں کو نقصان پہنچے گا۔
۴ ۔شریعت بل نے قومی وحدت کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔ قوم انتہائی مخالف رائے رکھنے والے دو گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ بالخصوص یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ قوم مذہبی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جائے۔
۵۔شریعت بل کی منظوری سے چونکہ دستور ملک کا اعلیٰ و بر تر قانون نہیں رہے گا اس لیے ڈریہ ہے کہ پورے کا پورا سیاسی نظام، دستور، مجلس قانون ساز، ملکی نظم ونسق اور تمام متعلقہ حلیف نظام اور ادارے کلیتاً درہم برہم ہوکر رہ جائیں گے۔
۶ – شریعت بل میں معاملات کو طے کرنے کا جو طریقہ تجویز کیا گیا ہے وہ ریاست کے اس تصور کے قطعی منافی ہے جو قائد اعظم اور علامہ اقبال نے دیا تھا۔ وہ عوام کے آزادانہ منتخب کردہ نمائندوں ہی کو جائز قانون ساز سمجھتے تھے۔
۷۔شریعت بل دستور سے متصادم ہے۔
یہ وہ موٹے موٹے اعتراضات ہیں جو شریعت بل پر محاکمہ کرنے والوں نے کیے ہیں۔ ہم اس مضمون میں پہلے شریعت بل کا تعارف کرائیں گے ۔ اس کی اصل ضرورت کی نشاندہی کریں گے اور پھر ان اعتراضات کا جائزہ لیں گے۔
شریعت بل مرحلہ بہ مرحلہ ارتقاء
اس سے پہلے کہ ہم ان نکات کا جواب دیں ، شریعت بل کے مندرجات کے بار میں ریکارڈ درست کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ معترضین نے خصوصیت سے روزنامہ’’ ڈان ” کراچی کے فاضل اداریہ نویس نے خود اور سپریم کورٹ کے سابق فاضل چیف جسٹس نے جس کا حوالہ انہوں نے اپنے اداریے میں دیا ہے، شریعت بل کا اس کی تاریخی ترتیب کی روشنی میں محتاط جائزہ نہیں لیا ۔ انہوں نے آخری مسودے کو نظر انداز کر دیا ہے اور اپنے بعض خیالات کی بنیاد اس سے پہلے کے مسودوں پر رکھی ہے جن کا اس بحث سے اب کوئی تعلق نہیں رہا۔ شریعت بل ۱۳؍ جولائی ۱۹۸۵ء کو سینیٹ میں دو سینیٹروں قاضی عبد اللطیف اور مولانا سمیع الحق صاحب نے پیش کیا۔ ان دونوں اصحاب کا تعلق جمعیت علمائے اسلام (درخواستی گروپ) سے ہے اور موخرالذکر اس کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ بل سینیٹ کی قانونی اور پارلیمانی امور کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ کمیٹی تین مہینے سے زائد عرصے تک اس بل کو لیے بیٹھی رہی اور اس کے باوجود اس نے سینیٹ کو کوئی رپورٹ پیش نہیں کی۔ حالانکہ سینیٹ کے ضوابط کار کے مطابق اس کے پاس جو بل بھیجا جائے اس کی رپورٹ اسے معمولی ایک مہینے کے اندر اندر پیش کر دینی چاہیے ۔ سینیٹ نے ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۵ کو اپنے اجلاس میں اسٹینڈنگ کمیٹی کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا اور ضوابط کے مطابق ایک سیلیکٹ کمیٹی مقرر کی اور اسے پندرہ دن کے اندر اندر اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ سیلیکٹ کمیٹی نے اپنی رپورٹ متفقہ طور پر معینہ وقت کے اند ر سینیٹ کو پیش کر دی۔ اس پر صرف ایک اختلافی نوٹ تھا جو اس وقت کے وزیر مذہبی امور نے جو سینیٹ کے رکن نہیں تھے ، لکھا تھا ۔ یہ سیلیکٹ کمیٹی سینیٹ میں موجود تمام سیاسی نقطہ ہائے نظر کی نمائندگی کرتی تھی ۔ شریعت بل پیش کرنے والے دو سینیٹروں کے علاوہ کمیٹی کے بارہ ارکان اور تھے۔ تین اپوزیشن کی نمائندگی کرتے تھے جن میں سے ایک جماعت اسلامی سے تعلق رکھتا تھا اور باقی نو کا تعلق سرکاری گروپ سے تھا۔ وزیر مذہبی امور جناب مقبول احمد خان کے سوا کمیٹی کے تمام ارکان نے متفقہ طور پر بل کا نظرثانی شدہ مسودہ پیش کر دیا۔ یہی مسوده سینیٹ میں زیر غور ہے نہ کہ وہ اصلی مسودہ جس کی بنیاد پر بعض اعتراضات کیے گئے ہیں ۔ مثلا ًیہ مبینہ اعتراض کہ اگر کسی قانون کو وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا جاتا ہے تو جب تک شرعی عدالت اپنا فیصلہ نہیں دیتی وہ قانون معطل رہے گا ، اسی طرح یہ اعتراض بھی قطعاً غلط فہمی پر مبنی ہے کہ ایک ماتحت عدالت بھی دستور یا اس کے کسی حصے کو شریعت کے منافی ہونے کا اعلان کر سکتی ہے اور اس طرح اسے کالعدم یا قانونی طور پر غیر موثر قرار دے سکتی ہے نہ تو شریعت بل کے پہلے مسودے میں ماتحت عدالتوں کو یہ اختیار سونپا گیا ہے اور نہ اس نظر ثانی شدہ مسودے میں، جسے سیلیکٹ کمیٹی نے منظور کیا ہے ۔ اس کے برکس بل میں یہ دفعہ خصوصی طور پر رکھی گئی ہے کہ اگر کسی قانون یا فیصلہ کو قرآن و سنت کے منافی سمجھا جائے تو اسے وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا جائے گا اور وہ اس کے بارے میں فیصلہ کرنے کی مختار ہوگی۔ یہ شریعت بل کی تجویز کردہ اختراع نہیں بلکہ یہ وہ اصول ہے جس کا دستور کے باب ۳ اسے میں دفعہ ۲۰۳ بی سے ۲۰۳ ڈی تک اور ۲۰۳ جی جی میں پہلے سے اہتمام کیا جاچکا ہے۔
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل نے جون ۱۹۸۶ء میں شریعت بل کا جائزہ لیا اور اسے مزید بہتر بنانے کے لیے متعدد بنیادی ترامیم پیش کیں۔ متحدہ شریعت محاذ نے علماء اور وکلا پر مشتمل ایک کمیٹی ان تمام ترامیم کو جانچنے پر کھنے اور بل کے مسودے پر مزید نظر ثانی کرنے کے لیے قائم کی۔ اس کمیٹی میں تمام بڑے بڑے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور ماہرین قانون تھے ۔ ان میں دیوبندی بھی تھے اور بریلوی اور اہلحدیث بھی ۔ ۳۰ اگست ۱۹۸۶ء کو کمیٹی نے اپنی ترامیم متفقہ طور پر تیار کیں اور ۲۶ اکتوبر ۱۹۸۶ کو ایک کنونشن نے ان ترامیم کی متفقہ طور پر توثیق کردی ۔ یہ کنونشن جامعہ نعیمیہ لاہور میں منعقد ہوا جس میں دس ہزار سے زائد علماء اور قانونی ماہرین نے شرکت کی ۔ ترامیم سینیٹ میں شریعت بل کے پیش کنندہ مولانا سمیع الحق نے پیش کیں اور قاضی عبد اللطیف نے ان کی تائید کی۔ پھر ان تمام ترامیم کو سیلیکٹ کمیٹی کے پیش کردہ بل میں شامل کرنے کی تحریک سینیٹ میں باضابطہ طور پر پیش کر دی گئی۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ جس کسی کو کوئی اعتراض ہے تو وہ بل کے کسی پہلے مسودے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس آخری مسودے کی بنیاد پر ہونا چاہیے جو اس وقت سینیٹ میں زیر غور ہے۔
شریعت بل ۔ اس کے حقیقی معنی اور اہمیت
شریعت بل ۱۶ دفعات اور ایک تمہید پر مشتمل ہے ۔ دفعہ ا۔ بل کے مختصر عنوان اور دائرہ عمل سے تعلق ہے اس میں کہا گیا ہے کہ اسے پاکستان بھر میں فوراً رائج کیا جائے گا اور یہ کہ اس کا اطلاق غیر مسلموں کے شخصی قانون پر نہیں ہوگا۔ دفعہ ۲ کا تعلق تعریفات سے ہے اس میں شریعت کی تعریف یہ بیان کی گئی ہے کہ اس سے مراد ” قرآن کریم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ اس میں کسی خاص فقہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔ اس دفعہ کی جو تو صحیح کی گئی ہے اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ قرآن اور سنت کے احکام کی تعبیر کے وقت مندرجہ ذیل ماخذ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی ۔
۱۔سنت خلفائے راشدین
۲۔رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت عظام اور صحابہ کرام کا تعامل
۳۔اجماع امت
۴۔مستند فقہائے اسلام کی آراء اور تشریحات۔
اس سے اس وسیع الخیالی اور لچکدار اپروچ کا پتہ چلتا ہے جو متحدہ شریعت محاذ نے اختیار کی۔ شریعت کی تعبیر اپنے اندر جو حساس پہلو رکھتی ہے ان کا متحدہ شریعت محاذ نے فوری طرح لحاظ کیا۔ مجلس قانون ساز اور عدلیہ قرآن و سنت سے مستنبط قانون کی تعبیر کرتے وقت تمام مکاتب فکر کے بیان کر وہ نظریات کو اپنے سامنے رکھیں گے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا عمل یہی رہا ہے جو پچھلے دو عشروں سے کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ یہ بات بھی نظر میں رہے کہ کسی خاص فقہ کو اپنانے کے بجائے اہل بیت عظام اور صحابہ کرام کے تعامل اور فقہا کی آراء سے استنباط کا جو خصوصی حوالہ دیا گیا ہے وہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اس تعریف کی رو سے ہر مکتب فکر کو یہ کھلا موقع ملے گا کہ اس کی بات سُنی جائے اور اس پر غور کیا جائے۔
آخری فیصلہ یاتو متفقہ طور پر ہوگا یا کثریت کی رائے سے جیسا کہ تمام جمہوری معاشروں کا معمول ہے ۔ دفعہ ۳ شریعت کی بالادستی تمام قوانین رسوم اور رواج اور عادات پر قائم کرتی ہے۔ دفعہ ۴اور دفعہ ۵ میں وہ طریق کار متعین کیا گیا ہے جس کے ذریعے سے شریعت کی یہ بالا دستی قائم کی جائے گی۔ قوانین کی تدوین قانون سازی کے عمل کے ذریعے سے جاری رہے گی اور عدلیہ ان قوانین کے نفاذ کو یقینی بنائے گی۔ البتہ دستور کی محافظ ہونے کی حیثیت سے عدلیہ یہ دیکھے گی کہ شریعت رہنمائی کا اعلیٰ ترین ماخذ بنی رہے ، اگر کسی قانون پر اعتراض کیا جاے گا کہ وہ قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتا تو اسے فیصلے کے لیے وفاقی شریعت عدالت کو بھیج دیا جائے گا۔ کوئی دوسری عدالت خواہ وہ اعلیٰ ہو یا ما تخت، کسی قانون کے اسلامی ہونے یا نہ ہونے کا تصفیہ کرنے نہیں بیٹھے گی۔ اسی بناء پر وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے جیسے بل کی دفعہ میں تجویز کیا گیا ہے ۔ دفعہ ۶ میں انتظامیہ کے احکامات پر عدالتی نظر ثانی کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ دفعہ ے میں قرار دیا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں تمام چھوٹے بڑے حکام مساوی درجہ رکھتے ہیں اور اس میں سرسیاہ ملکت بھی شامل ہے۔ باقی ماندہ دفعات ان بنیادی اصولوں کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ عدلیہ اپنے اسلامی کردار کو مؤثر طور پر ادا کرنے کے قابل ہو سکے۔ (دفعات ۱۰ اور۱۱) سرکاری حکام قرآن و سنت کے معیارات (Norms) کا احترام کریں۔ (دفعہ ۱۳) ذرائع ابلاغ اس عمل میں تعاون کریں ۔ (دفعہ ۱۴) معاشی نا انصافیوں اور استحصال کی روک تھام کی جائے (دفعہ۱۵) اور شریعت نے جو بنیادی حقوق دیے ہیں انہیں نافذ کیا جائے۔(دفعہ ۱۶)
شریعت بل کیوں ؟
شریعت بل کی ضرورت تین بڑے اسباب کی بناء پر پیدا ہوئی ہے ۔
اول اس بات کی ضرورت تھی کہ کتاب وسنت کی تعبیر کے اصولوں کو واضح الفاظ میں بیان کر دیا جائے ۔ نیز مجلس قانون ساز اور عدلیہ دونوں کو اسلام کی دی ہوئی ہدایت کی پیروی کرنے کے قابل بنایا جائے ، ان میں کوئی نئی بات نہیں۔ یہ اصول تعبیر و تشریح کے مسلمہ اصول ہیں۔ ان کو شامل کرنے سے نہ صرف انحراف کے وہ خطرات کم ہو جائیں گے جو بے خبری کی وجہ سے پیدا ہو سکتے ہیں بلکہ ان سے اسلامی نظام میں وہ تعمیری لچک عمل میں آجائے گی جس سے وہ معاصر دنیا کے چلینجوں کا سامنا کر سکے گا۔
دوم اگرچہ پاکستان کی سب دساتیر (۶۱۹۶۲۰۶۱۹۵۶، ۱۹۷۳ء) میں صاف طور پر درج ہے کہ کوئی قانون اسلام کے احکام کے منافی وضع نہیں کیا جائے گا اور یہ کہ تمام موجود قوانین کو اسلامی احکام کے مطابق ڈھالا جائے گا ، لیکن کسی دستور میں یہ شرط نہیں لگائی گئی کہ کتاب و سنت ملک کا بالا تر قانون اور قانون سازی اور پالیسی سازی کا اعلیٰ ماخذ ہوں گے ۔ یہ ایک بہت بڑا خلا تھا۔ منفی پہلو کا بے شک بڑا اہتمام کیا گیا لیکن اس کی مثبت جہت کی طرف کبھی پوری طرح توجہ نہیں دی گئی ۔ قراردادِ مقاصد اور مملکت کے رہنما اصولوں کے سوا انہیں کہیں مفصل بیان نہیں کیا گیا اور ان دونوں یعنی قرار داد مقاصد اور ملکت کے رہنما اصولوں کو بھی عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر رکھا گیا ۔ نواں دستوری ترمیمی بل کی شکل میں ہے سینیٹ نے منظور کر لیا ہے اور اب قومی اسمبلی میں زیر غور ہے ۔ اس جانب پہلی بار حرکت ہوتی ہے۔ شریعت بل اس عمل کو مزید وسیع کرتا ہے اور نفاذ شریعت کے لیے مثبت بنیادیں رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
آخری بات یہ کہ اگرچہ قوانین اور معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالنے کا بڑا شور و ہنگامہ ہے لیکن شریعت کو نافذ کرنے کے لیے دستوری ڈھانچے کے اندر سرے سے کوئی مشینری موجود نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے بارے میں دستوری دفعات کم و بیش آرائشی ہیں اور زینت و سنگھار بن کر رہ گئی ہیں ۔ ۱۹۸۰ء میں وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی۔ مقصد یہ تھا کہ ایسی مشنری مہیا کی جائے ، لیکن اس کا دائرہ اختیار محدود اور زیریں ڈھانچہ کمزور اور غیر موثر ہے۔ اسلامی قوانین کی تدوین اور موجودہ قوانین پر نظرثانی کا کام اس سار عرصے میں محض ایک مقدس آرزو بنا رہا ہے حتی ٰکہ اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت اور وفاقی قانون کمیشن نے اب تک جتنا کچھ کام کیا ہے وہ سب انصاف اور مذہبی امور کی وزارتوں کی زیر غور فائلوں میں مدفون پڑا ہے۔ اسلامی قوانین ایک عام آدمی کی روزمرہ زندگی کو کوئی امداد فراہم نہیں کرتے ۔ بنا بریں ضرورت تھی کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کا عمل شروع کرنیکے بعد دستور کے اندر کوئی مشتری وضع کی جاتی اور موجودہ حالات میں ایسی مشتری جس کا تصور کیا جا سکتا ہے، وہ یہی ہوسکتی ہے کہ اس عمل میں عدلیہ کو شامل کیا جائے اس طرح ایک عام آدمی کو اپنے مسائل ہیں امداد حاصل کر کے لیے میری بھی مل جائیگی اور اسلامی تدوین عمل کی تحریک بھی ہوگی جو بڑی حد تک کئی برسوں سے بند پڑا ہے۔ اسلامی قوانین کی تدوین کے ساتھ ساتھ یہ بھی امید ہے کہ اسلامی تناظر سے موجودہ قوانین پر نظر ثانی کا کام بھی تیز ہو جائے گا۔ عدلیہ ملکت کا ایک ذمہ دار ارگن ہے ۔ وفاقی شرعی عدالت کا گذشتہ آٹھ برسوں کا تجربہ اس کے تصور اور ساخت کی کمزوریوں کے باوجود، امید افزا ہے ۔ اس نے بعض تاریخی فیصلے صادر کیے ہیں اور وہ زیر غور مقدمات کے بڑھتے ہوئے انبار کو اٹھانے سے بھی محفوظ رہی ہے ۔ یہ تجربہ جیسے جیسے وسیع اور گہرا ہوتا جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ مستقبل مزید روشن ہوتا جائے گا اور یہی وہ مقصد ہے جو شریعت بل انجام دینا چاہتا ہے۔
پارلیمنٹ کی کم قدری
کیا اس کا مطلب پارلیمنٹ کی معطلی اس کے مرتبے میں تخفیف اور اس سے قانون سازی کا اختیار چھین کر شرعی عدالت کو سونپ دینا ہے ؟ یہ اعتراض بہت سی غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔
اسلامی نظام حکومت اور ایک لادینی ریاست کے درمیان بنیادی فرق ہی یہ ہے کہ اسلام اللہ کی حاکمیت اور قرآن اور سنت کی بالا دستی کا قائل ہے۔ پارلیمنٹ ہی نہیں اسلامی معاشرے کے تمام ادارے اور اسلامی امتہ کے تمام ارکان اس معیارِ عظیم کو اپنانے کے پابند ہیں۔ ان کی آزادی اس برتر قانون کے چوکھٹے کے اندر رہتے ہوئے ہے ۔ یہ وہ بنیاد ہے جس پر پاکستان قائم ہوا ہے ۔ علامہ اقبال زندگی کے لادینی منہاج (Approach) کو چیلنج کرتے ہوئے پیر زور انداز میں کہتے ہیں کہ دوسری جانب ” مسلمان کے پاس وحی پر مبنی بنیادی تصورات میں جو زندگی کی انتہائی داخلی گہرائیوں کو اپنی بین خارجیت میں سمو دیتے ہیں اس تصور کی اہمیت کو وہ اپنے مشہور صدارتی خطبے میں بیان کرتے تھے جس میں انہوں نے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا ، وہ بڑے جامع انداز میں واضح کرتے ہیں ۔
” اس کا فوری نتیجہ ایک ایسے نظام حکومت کے بنیادی اصول اور مسلمہ قانونی تصورات ہیں جن کی سرتی اہمیت کو محض اس لیے گھٹایا نہیں دیا سکتا کہ ان کا اصل ماخذ وحی پر مبنی ہے ۔ بنا بریں اسلام کا مذہبی مثالی تصور خصوصی طور پر اس اجتماعی نظام کے ساتھ مربوط ہے جو اس نے تخلیق کیا ہے۔ ایک کو مسترد کر دینے کا خود بخود مطلب یہ ہے کہ دوسرے کو بھی مسترد کر دیا گیا ہے۔”
یہی وجہ ہے کہ قائد اعظم نے نومبر ۱۹۳۵ء میں اپنی تقریر میں اسے واشگاف الفاظ میں بیان فرمایا :
” مسلمان پاکستان کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنی زندگی کے ضابطے اپنی تہذیبی افزائش اپنی روایات اور اسلامی قوانین کے مطابق حکومت کر سکیں ۔ہمارا مذہب ، ہماری تہذیب اور ہمارے اسلامی تصورات آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں ہماری محرک طاقت ہیں “
قرار داد مقاصد میں اسی فقید المثال اپروچ کی روح کو ڈھال دیا گیا ہے : اسی کائنات پر حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور جو اختیار اس نے عوام کے ذریعے سے ملکت پاکستان کو سونپا ہے تاکہ وہ اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اسے استعمال کرے۔ ایک مقدس امانت ہے اور یہ کہ مسلمانوں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انفرادی اور اجتماعی دائروں میں اپنی زندگیاں اسلام کی تعلیمات اور مقتضیات کے مطابق بسر کریں جنہیں قرآن سنت میں پیش کر دیا گیا ہے ۔
پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے فی الجملہ اس موقف کو برقرار رکھا ہے ۔ مشہور عاصمہ جیلانی کیس میں سپریم کورٹ کے فاضل چیف جسٹس نے لکھا :
’’ کسی واقعہ کی صورت میں اگر معیار عظیم ضروری بھی ہے تو اس کو دریافت کرنے کے لیے پاکستان کو مغرب کے قانونی نظریہ سازوں (Theorists) کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان کا اپنا معیار نظیر اس کے اپنے عقیدے میں محفوظ کر دیا گیا ہے ۔ وہ یہ کہ ساری کائنات پر قانونی حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور اس نے جو حدود متعین کر دی ہیں ان کے اندر رہتے ہوئے عوام کی طرف سے اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے ۔ یہ وہ ناقابل تغیر معیار ہے جسے اس قرار دادِ مقاصد میں صاف اور واضح الفاظ میں پیش کیا ہے جو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے مارچ ۱۹۴۹ء کو منظور کی تھی۔ اس کو اب تک نہ تو کسی نے منسوخ کیا ہے اور نہ کسی فوجی یا سول حکومت نے اس سے انحراف کیا ہے ۔ فی الواقع ایسا کرنا کسی حال میں بھی ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ قرآن کریم میں مندرج بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول ہے ، یہی وہ اصول ہے جس کے تحت حکومت کسی شخص کی نہیں قانون کی حکومت بنتی ہے ، کیونکہ کوئی بھی شخص قانون سے بالا تر نہیں ہے۔“
اسی اصول کی توثیق سپریم کورٹ نے نصرت بھٹو بنام ریاست (۱۹۷۷ء) کے فیصلے ہیں کی۔ یہ امور پاکستان ایسی نظریاتی ریاست میں خصوصی اہمیت اختیار کر لیتے ہیں جو مسلمان ہند و پاکستان کے اس مطالبے کے نتیجے میں وجود میں آئی کہ نہیں ایک ایسا وطن درکا رہے جس میں وہ اپنی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق بسر کر سکیں۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کا وجود نظریہ اور قانون دونوں پیر استوار ہوا ہے ۔ لہٰذا وہ نظریہ قانون جس کا مقصد ان امور کو خارج کرنا ہو، اس ملک کی عدالتوں کو فیصلے کرتے وقت پابند نہیں بنا سکتا۔
یہ ہیں وہ حدود جن کے اندر رہتے ہوئے مملکت کے تمام اداروں کو چلنا ہے، چاہے و ہ مجلس قانون ساز ہو یا انتظامیہ یا عدلیہ ۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے باہر سے مسلط کیا گیا ہو ۔ یہ ہمارے ایمان کا مطالبہ ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ سے عوام کا کیا ہوا عہد و پیمان ہے اور اس عہد و پیمان کو پورا کرنے کی ہر کوشش عوام کی مرضی کی بہترین نمائندگی کرتی ہے اور مستقبل کی طرف ان کا جو سفر جاری ہے اس کا جزو لازم ہے۔
اسلامی نظام میں نہ تو مجلس قانون ساز ہی ان معنوں میں مکمل حاکم ہوتی ہے جو کسی لادینی جمہوریت میں پائے جاتے ہیں اور نہ عدلیہ اتنی مطلق العنان قوت ہوتی ہے کہ وہ قانون کی تعبیر اپنی مرضی کے مطابق کرتی پھرے ۔ اس سلسلے میں مردم آزاد گھسے پٹے لادینی نظام کا حوالہ دینا بالکل غیر متعلق ہے۔ ان معروضات کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جانی چاہیے کہ شریعت بل کی کوئی ایک دفعہ بھی کسی ایسے معاشرے کا تصور نہیں دیتی جس پر ججوں کے بنائے قانون حکومت کرتے ہوں ۔ پارلیمنٹ قانون سازی کا سب سے بڑا ارادہ ہو گا وہ پارلیمنٹ کے منتخب ارکان ہی ہوں گے ہو اسلامی معاشرے میں قانون بنائیں گے ۔ تاہم دو میدان ایسے ہیں جہاں عدلیہ کو مثبت کردار او کرنا ہوگا ۔ اول دستور کے نگران کی حیثیت سے وہ یہ خیال رکھے گی کہ قانون سازی اعلیٰ تر قانون یعنی قرآن و سنت کے مطابق ہو رہی ہے یا نہیں ؟
یہی وہ اصول ہے جس پر دستور اور پاکستان کی اساس قائم ہے ۔ جن میدانوں میں کوئی خاص قانون موجود نہیں ہے اور جہاں اس وقت عدلیہ رسم و رواج، اصول معدلت یا فطری انصاف کی رہنمائی میں فیصلے صادر کرتی ہے، ان میدانوں میں قرآن وسنت اعلی ٰتر ماخذ ہوں گے ۔ رسم ورواج اور اصول معدلت اپنا کردار ادا کر تے رہیں گے لیکن قرآن کی دی ہوئی رہنمائی کی سرپرستی میں اس حد تک کہ وہ قرآن و سنت کے منافی نہ ہوں ۔ آج بھی یہ میدان عدالتوں کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عدالتیں قرآن و سنت کی دی ہوئی رہنمائی کی پابند نہیں ۔ شریعت بل انہیں کوئی نیا اختیار نہیں دے رہا بلکہ وہ انہیں اس بات کا پابند کر رہا ہے کہ جن میدانوں میں آج تک مروجہ قانون یا رسم و رواج کا عمل دخل تھا ان میں بھی وہ قرآن وسنت سے رہنمائی حاصل کریں۔
وفاقی شرعی عدالت کے اس اختیار پر کہ وہ کسی قانون کو قرآن و سنت کے منافی ہونے کی بنیاد پر کالعدم قرار دے سکتی ہے بڑا شور بپا ہے، لیکن اصلاً یہ اختیار بھی شریعت بل کی اختراع نہیں ہے ۔ وفاقی شرعی عدالت پہلے ہی گذشتہ آٹھ برس سے اس اختیار سے کام لے رہی ہے اور اسے کسی روز بھی مجلس قانون ساز کے اختیارات پر دست درازی ترار نہیں دیا گیا ۔
جمہوری معاشرے میں نہ تو مجلس قانون ساز مطلق العنان ہوتی ہے نہ عدلیہ بلکہ دونوں معاشرے کے مثالی تصورات اور عوام کی مرضی پوری کرنے کے لیے باہم مل کے اور ایک دوسرے پر اثر انداز ہو کر چلتے اور عمل کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی مطلق العنان آزادی ایک افسانے سے زیادہ کچھ نہیں ہے حتی ٰکہ برطانوی پارلیمنٹ کی بھی اپنی تحدیدات (Limitations) ہیں۔ امریکہ کا دستور تقسیم اختیارات کے اصول اور رکاوٹوں اور توازن (Checks and Balances) کے نظام پر مبنی ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ دستور کے محافظ کی حیثیت سے کام کرتی ہے ۔ دستور کی بالا دستی ، قانون سازی پر عدالت کی نگرانی کے ذریعے برقرار رکھی جاتی ہے۔ جناب اے کے بروہی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں :
(Fundamental Law of Pakistan) عدالتوں کے ذریعے برقرار رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس اگر کوئی ایسا قانون بناتی ہے جو دستور سے متصادم ہو توعد التیں اس کی تعبیر کرتی ہیں اس پر ملک کے سپریم قانون کو منطبق کرتی ہیں اور اسے کا لعدم ترار دے دیتی ہیں یعنی وہ کسی حالت میں قانونی طور پر موثر نہیں رہتا۔
اس اختیار سے عدالتیں سپر قانون ساز نہیں بن جائیں اور نہ امریکی حکومت ججوں کی حکومت میں تبدیل ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کے برعکس ان کا یہ عمل مجلس قانون ساز پر روک (check) کے طور پر کام کرتا ہے اور معاشرے کے مقاصد کی تکمیل میں مدد دیتا ہے ۔ گذشتہ دو سو برس میں امریکی عدلیہ نے تقریباً ۸۰ قوانین یا ان کی کچھ دفعات کو اس عمل کے ذریعے کالعدم قرار دیا ہے ۔ اس طرح نہ صرف دستور کو بچایا ہے بلکہ کانگریس نے اصلی تر قانون سے جس پر ملک کی پالیسی مبنی ہوتی ہے انحراف کی جو کوششیں کی ہیں ان کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ برنز (Burns) اور پلٹا سن (Paltason) اس کردار پر تبصرہ کرتے(Government of the People) میں لکھتے ہیں :
’’عام طور پر امریکی محض اکثریت پر مکمل اعتماد کرنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوئے ۔ ایک آزاد عدلیہ جسے عدالتی نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے ان کے بے لگام مجلس قانون ساز اور عوامی اکثریت سے خوف کی سب سے بڑی ادارتی علامت ہے ۔“
دوسرے ملکوں نے بھی اس مقصد کے لیے مختلف قسم کے ادارے تشکیل دیے ہیں۔ فرانس کی پانچویں جمہوریہ کے دستور میں جو اکتوبر ۱۹۵۸ء میں نافذ کیا گیا تھا ’’ستوری کونسل” کا ادارہ قائم کیا گیا ہے جسے دستور کی حفاظت اور تعبیر کا کام سونپا گیا ہے ۔ دفعہ۱ ۶ میں کہا گیا ہے ۔ ” تمام قوانین ان کے نفاذ سے پہلے اور پارلیمانی اسمبلیوں کے ضوابط ان کے انطباق سے پہلے دستوری کونسل کو پیش کیے جانے چاہئیں جو ان کے دستوری ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرے گی ، اس طرح صدر جمہوریہ، وزیر اعظم، صدر قومی سمبلی اور سینیٹ وغیرہ ، صدر کی قانون کو نافذ کرنے سے پہلے وہ متعلقہ قانون کو دستوری کونسل کو بھیجیں گے ۔ دفعہ ۶۲ میں کہا گیا ہے کہ کسی قانون کی میں دفعہ کو دستوری کونسل غیر دستوری قرار دے دے گی اسے نافذ نہیں کیا جائے گا۔ دستوری کونسل کے فیصلوں کے خلاف کسی صورت میں بھی کسی عدالت میں اپیل نہیں کی جائے گی ۔ پبلک انتظامیہ اور عدلیہ کے تمام حکام کو یہ فیصلے تسلیم کرنے ہوں گے؟ گویا لا دینی جمہور نیتوں میں بھی یہ ایک مسلمہ معمول ہے ۔ یہ کہنا محض بے جواز ہے کہ اس کے نتیجے میں عوام کے منتخب نمائندوں یا پارلیمینٹ کا مرتبہ و مقام گھٹ جائے گا۔ مسلمان ملکوں میں بھی اس کی مثالیں ملتی ہیں ۔ مصر کے دستور میں بھی ” سپریم دستوری عدالت‘‘ کا اہتمام کیا گیا ہے جسے قوانین اور مضوابط کے مطابق ہر دستور کے بارے میں جائزہ لینے کے خصوصی عدالتی اختیارات دیے گئے ہیں اسے قوانین کی تعبیر کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے ۔ ۱۹۰۶ء کے ایرانی دستور میں بھی مجلس فقہاء (Council of Jurists) کے لیے دفعات موجود تھیں جس کا کام قانون سازی کو فقہ جعفریہ کے مطابق بنانا تھا۔ (دفعہ ۱ اور ۲) اسلامی جمہوریہ ایران کے موجودہ دستور میں شورائی نگهبان (دفعہ (۹) اور ولایت فقیہہ ( باب ۸ دفعات ۱۰۷-۱۱۰) کے ادارے موجود ہیں۔ شریعت بل میں ان اداروں کی طرز پر کوئی چیز تجویز نہیں کی گئی ۔ وہ صرف وفاقی شرعی عدالت کو قوانین کی اسلامیت جانچنے پر کھنے کا اختیار دیتا ہے۔ وفاقی شرعی عدالت ایک مستقل عدالتی ادارہ ہے جو اس وقت آٹھ ججوں پرمشتمل ہے ان میں سے اکثر حج اعلیٰ عدالتوں سے لیے جاتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ تین علماء وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر کیے جا سکتے ہیں۔ یہ عدالت کثرت رائے سے فیصلہ کرتی ہے اور اس کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ کے شریعت بنچ میں اپیل کی جاسکتی ہے۔ اس بینچ میں زیادہ سے زیادہ دو علماء بطور حج بیٹھ سکتے ہیں ۔ وفاقی شرعی عدالت کے دستور میں جو چند کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور جن کی وجہ سے انتظامیہ ان کے کام میں مداخلت کر سکتی ہے انہیں دور کر کے اس ادارے کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ کمزوریاں عدالتی نگرانی کے تصور سے ورثے میں نہیں ملیں۔ شریعت بل ایک مضبوط وفاقی عدالت دیکھنا چاہتا ہے جو انتظامیہ کے کنٹرول یا ساز باز سے آزاد ہو۔
شرعی عدالت اور عدلیہ
یہ اندیشہ بھی کلیتاً بے بنیاد ہے کہ عدلیہ کی حیثیت بھی معکوس طور پر متاثر ہوگی کیونکہ وہ شرعی عدالت کے ہمہ گیر اختیار کے ماتحت ہو جائے گی۔ شرعی عدالت ملک کے عدالتی ڈھانچے کا ایک جزو لازم ہے۔ جج ہائی کورٹوں سے شرعی عدالت اور شرعی عدالت سے سیکورٹیوں کو آتے جاتے رہتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے شرعی بنچ میں سپریم کورٹ کے مستقل بج بیٹھتے میں ان میں سے کسی کا دوسرے کو مسترد (over ride) کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ عدلیہ اسی طرح کام کرتی رہے گی جس طرح آج کر رہی ہے۔ بس فرق یہ ہوگا کہ عدالتی حکام کے اسلامی علم میں اضافہ کرنے کی باقاعدہ کوشش کی جائے گی ۔ جب کسی قانون کے خلاف شریعت ہونے کا سوال اٹھے گا تو اسے وفاقی شرعی عدالت کو بھیج دیا جائے گا جو عدلیہ کے اندر ماہرین کے فورم کی حیثیت رکھتی ہے تاکہ وہ اس مسئلے کا فیصلہ کرے ۔ اس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جس کا فیصلہ آخری اور حتمی ہوگا۔ یہ وہ طریقہ کار ہے جس کے مطابق ساری دنیا میں عدالتی نظام کام کرتا ہے۔ یہ اندیشہ بھی بے سبب ہے کو ان اداروں کے درمیان تصادم یا رقابت پیدا ہو جائے گی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور عدالتی نظام تعلیم و تربیت میں تبدیلی کے نتیجے میں متقبل میں ایسے ججوں کی کثرت ہوگی جن کا علم اسلام کے بارے میں زیادہ ہو گا۔ ایسی صورت میں ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کا کام ملک کی چار اعلیٰ عدالتیں سنبھال لیں۔ اس مرحلے میں شاید الگ سے وفاقی شرعی عدالت کی ضرورت بھی باقی نہ رہے اور ہمارا مثالی تصور یہی ہونا چاہیے ۔
ہم نے اوپر عرض کیا ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے موجودہ ڈھانچے میں کچھ خامیاں ہیں اور ضرورت ہے کہ انہیں حتی الامکان جلد سے جلد دُور کیا جائے۔ وفاقی شرعی عدالت کے ججوں کی تقرری سے تعلق صدر کے اختیارات، ان کا تبادلہ یا انہیں دوسرے فرائض سونپنا وغیرہ سب بے جواز ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر ہی سے نہیں کسی معروف جمہوری نقطہ نظر سے بھی ۔ یہ اختیارات عدلیہ کی آزادی کے مسلمہ اصولوں کے منافی ہیں۔ ان خامیوں کو دُور ہونا چاہیے البتہ انہیں مجوزہ نظام کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ وفاقی شرعی عدالت وفاق کی وحدت اور سالمیت کا ویسا ہی نشان ہے جیسا کہ ملک کی سپریم کورٹ ۔ اس کو بھی باقی عدلیہ کی طرح انتظامیہ کے کنٹرول یا مداخلت سے محفوظ ہونا چاہیے اور دستور کے محافظ اور قرآن و سنت کی بالا دستی قائم کرنے والے ادارے کی حیثیت سے کام کرنا چاہیے۔
مذہبی اور فرقہ وارانہ افتراق
کہا گیا ہے کہ شریعت بل قوم کی وحدت کے لیے خطرہ بن گیا ہے اور مذہبی تفریق اور فرقہ وارانہ نفرت پیدا کر رہا ہے۔ اس سے بڑھ کر سچ سے عاری کوئی بات نہیں کہی جاسکتی۔ مسیر دست ہم یہ سوال نہیں اٹھائیں گے کہ جو سیاسی، اقتصادی اور دوسرے عوامل عوام میں اختلاف پیدا کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں۔ ان کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے ؟ اور محض سیاسی اختلاف کی بناء پر کتنے قوانین کو کتاب قانون کی زینت بنانے سے احتراز کیا گیا ہے ؟ حتیٰ کہ کیا دستور میں بھی تمام ترامیم اتفاق رائے ہی سے کی گئی ہیں ؟ کیا ابھی دستور میں سویس ترمیم اختلاف رائے کے باوجود اکثریت کے بل پر منظور نہیں کی گئی ؟ اس طرح ۱۹۷۳ء کے دستور میں قادیانیوں سے متعلق ترمیم کو چھوڑ کر کیا تمام دستوری ترامیم سیاسی اختلاف کے باوجود نہیں کی گئی تھیں۔ ہم یہ بھی نہیں پوچھیں گے کہ قانون سازی اور پالیسی تشکیل دینے کے مسائل میں اس تقسیم و تفریق اور اس سے پیدا ہونے والے با ہم آویزاں جذبات کو جس طرح ویٹو کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں جناب کا کیا خیال ہے ؟ ہم اپنی گفتگو اصل زیر بحث مسئلہ تک ہی محدود رکھیں گے۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ شریعیت بل میں شریعت کی تعریف قرآن وسنت کی گئی ہے اور شریعت کی تشریح و تعبیر کے اصول پیش کیے گئے ہیں وہ مسلمانوں کو متحد کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہیں۔ اس طرح کی پہلی کوشش ۱۹۵۱ ء میں کی گئی تھی جب تمام مکاتب فکر کے نمائندہ علماء نے اسلامی ریاست کے ۲۲ بنیادی اصول طے کیے تھے۔ شریعت بل کی دفعہ کی بنیاد انہی اصولوں پر رکھی گئی ہے مسلمانوں کو اس حقیقت کا دیانت داری سے سامنا کرنا چاہیے کہ متعدد مسائل پر فقہار اسلام میں واقعی اختلافات پائے جاتے ہیں، لیکن یہ اختلافات مسلمانوں کی طاقت کا منبع بھی رہے ہیں اس لیے کہ ان اختلافات کی وجہ سے مسلمان معاشرے کے سامنے جو متبادل راستے لکن ہیں ان کی حقیقت کھول کر بیان کر دی گئی اور اس طرح ایک لحاظ سے شریعت کے نظام میں لچک کا وائرہ متعین کر دیا گیا ۔ شریعت بل میں کسی نوعیت کی فرقہ واریت سے کام نہیں لیا گیا اور میی غیر معمولی بات لائق توجہ ہے ۔
اس حقیقت کے باوجود کہ پبلک لاءکے معاملات میں تمام دنیا میں اکثریت کی مرضی کا احترام کیا جاتا ہے۔ شریعت بل میں کسی خاص فقہی مکتب فکر کی پیروی نہیں کی گئی۔ اہل بیت عظام کے تعامل اور ان کے آئمہ کی رائے کا حوالہ شیعہ بھائیوں کو ضمانت دیتا ہے کہ ان کے نقطہ نظر کو پاس کیا جائے گا۔ کسی خاص فقہ کے ذکر سے احتراز اور تمام فقہاء کی آراء اور نظریات کی طرف رجوع اہلحدیث کو یقین دلاتا ہے کہ مسائل کے بارے میں تنگ نظرانہ فنی منهاج (Approach) اختیار نہیں کیا جائے گا۔ تعبیر کے ان اصولوں کا حوالہ یہ صاف واضح کیا دیتا ہے کہ بے لگام لبرلزم کی بھی کوئی جگہ نہ ہوگی جس کے لیے مغربی مستشرقین اور ان کے بعض مقامی ہمزاد کام کرتے رہے ہیں اور جو معاشرتی و سیاسی اصلاح کے اسلامی منصوبے کو موڑ توڑ کر تباہ کر دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے مسلمان اس توازن کو جس پر اسلامی نظام قائم ہے چھیٹرے بغیر جدیدیت کے چیلنج کا سامنا کرنا چاہتے ہیں۔ تسلسل اور تبدیلی کے مطالبات کے درمیان خوش آئند اور موزوں تو ازن شریعت بل کا ہدف ہے اور علامہ اقبال اسی کے حامی تھے۔ بعض علما مر نے شریعیت بل پر نکتہ چینی کی ہے کہ اس میں حنفی فقہ کا ذکر نہیں کیا گیا یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شریعت بل کی اپروچ کسی مخصوص مکتب فکر سے مشروط نہیں ہے۔ اس کی اپروچ اپنے اندر تمام مکاتب فکر کے لیے اپیل رکھتی ہے۔ نئے اٹھنے والے مسائل کا حل متفقہ یا زیادہ سے زیادہ اتفاق رائے سے تلاش کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن اگر ایسا نہ ہو سکا تو اکثریت کا نقطہ نظر ماننا پڑے گا اور بحث و تمحیص جاری رہے گی۔ توانائی اور صلاحیتیں قربان کیے بغیر عملی اتحاد کو حاصل کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ اتفاق رائے کی جستجو اور اختلافات کی برداشت ہی وہ سب سے زیادہ موثر راستہ ہے میں پر چل کر ہم زمانے کے چیلینجوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔ کیا یہ المیہ نہ ہوگا کہ مسلمان محض اس لیے طاغوت (اللہ کی ہدایت کے باغیوں) کے بنائے ہوئے قانون پر چلتے رہیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ویلے ہوئے قانون کی کسی ایک یا دوسری قرآن و سنت ہی کو رہنمائی کا بنیادی ماخذ تسلیم کرتا ہے اور انہی تعبیر پر متفق نہیں ہو سکتے ۔ بہر حال ہر مکتب فکر ماخذ سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ مختلف مکاتب فکر کے درمیان پائے جانیوالے اختلافات کفر اور ضلالت والے اختلاف نہیں بلکہ ترجیح سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض مذہبی جماعتوں نے شریعت بل کی مخالفت کی ہے لیکن ان کی یہ مخالفت فی الحقیقت سیاسی بنیا دوں پر ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موجودہ پارلیمنٹ اور سیاسی نظام کو تسلیم نہیں کرتے اور یہ بل اس کی پیداوار ہے۔ اس لیے اس نظام کے تحت شریعیت کے قیام کی کوشش کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ یہ اعتراض بھی ایک مدیر لنگ ہے۔ ہم سب اس نظام کے تحت رہ رہے ہیں ۔ قانون ، معیشت، تعلیم وغیرہ کون سا معاملہ ہے جس کو یہ لوگ تسلیم نہیں کرتے حتی کہ اس نظام کے تحت نئے انتخاب کرانے کے لیے بھی تیا ر ہیں ۔ البتہ جو چیز ان کو ناگوار ہے وہ یہ ہے کہ یہ پارلیمنٹ شریعت کی بالا دستی قائم کرے۔ یہ رویہ اُن حضرات کے رویہ کے مماثل ہے جو ضد اور ہٹ دھرمی میں یہاں تک کہہ گئے تھے کہ اگر شاہ اسماعیل شراب کو حرام کہیں گے تو ان کی مخالفت میں ہم اس کو حلال کہنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
جہاں تک ملک کے بڑے بڑے اسلامی مکاتب فکر کا تعلق ہے۔ شریعت بل انہیں پہلے ہی ایک دوسرے کے قریب لے آیا ہے ۔ جوبل صرف چند لوگوں نے پیش کیا تھا اب وہ تمام مذہبی اور سیاسی آرام رکھنے والے لوگوں کا نقطہ اجتماع بن گیا ہے۔ دیو بندی، بریلوی اہل حدیث اور دوسرے علما اور مسلم عوام ان کی قیادت میں بل کی حمایت میں عوامی تحریک چلا رہے ہیں، جب سینیٹ نے شریعت بل کو رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے مشتہر کیا تو سولہ لاکھ سے زائد لوگوں نے اس کی پُر جوش حمایت کی۔ صرف چند ہزار (ایک فیصد ہی سے بھی کمر) نے بل کے بارے میں محدود و مشروط رائے کا اظہار کیا ۔ کیا پاکستان کی تاریخ میں کسی بل کے لیے اس سے بڑھ کر عوامی تائید کی مثال مل سکتی ہے؟
اداراتی خلفشار کی طرف
یہ بھی کہا گیا ہے کہ شریعت بل دستور کے خاتمے اور اداراتی خلفشار(Institution Chaos) کی طرف لے جائے گا۔ یہ اندیشہ بھی کوئی بنیا د نہیں رکھتا۔ ملک کی عدلیہ اسی طرح کا ایک ذمہ دار ادارہ ہے میں طرح کہ دوسرے ادار ہے۔ عدلیہ کا کردار یہ رہا ہے کہ اس نے ملک میں صحت مند روایات قائم کی ہیں۔ معاشرے کے اداروں کے تحفظ میں دوسرے بہت سے عناصر کے مقابلہ میں جو آج استحکام کے محافظ ہونے کے مدعی ہیں، ان میں سے زیادہ عدلیہ کا کام ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے اندر سیاسی خلفشار پیدا کر نے سیاسی نظام کو تہ و بالا کرنے اور سیاست میں فوج کی مداخلت کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جو اداراتی خلفشار کے خطرات کا ہوا دکھا رہے ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت گذشتہ آٹھ برس سے کام کر رہی ہے اور اس نے اپنا کردار بڑی احتیاط سے انجام دیا ہے ۔ یہ یقین کرنا بلا وجہ ہے کہ شریعت بل منظور ہوتے ہی یہ غیر محتاط ہو جائے گی اور اندھا دھند چلنے لگے گی۔ یہ اندیشے محض خیالی ہیں۔ ان میں حقیقت کا کوئی شائبہ نہیں۔ یہ عدلیہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرنے کے مترادف ہے جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔ عدلیہ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ اس نے ملک کو خلفشار سے بچانے کی کئی مرتبہ کامیاب کوشش کی اور اسے تباہی کے منہ میں جانے نہیں دیا۔ بعض اوقات کچھ مراعات دے کر بھی اس نے اپنا فرض ادا کیا ۔ مولوی تمیز الدین خان کے مقدمے میں جسٹس منیر کے فیصلے پر بعض لوگوں کو حقیقی تحفظات ہوں گے اور راقم سطور کو بھی ہیں، لیکن یہ وفاقی عدالت ہی سختی جس نے ملک کو دستوری خلا میں گرنے سے روکا اور اس کے نتیجے میں ملک کو ۱۹۵۶ء کا دستور ملا ۔ اسی طرح سپریم کورٹ نے مارشل لاء کے نفاذ سے پیدا ہونے والے مسائل کو جس طرح حل کرنے کی کوشش کی اس کی مثالیں دوسا کیس، عاصمہ جیلانی کیس اور نصرت بھٹو کیس میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہاں تک کہ جب عبوری دستور کا حکم (Rivisional Constitutional Order) نافذ ہوا تو اسی وقت سپر یم کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کے متعد د جوں نے استعفے دے دیئے ۔ عدلیہ نے ملک کو قانون کی حکومت کی طرف واپس لانے کے لیے جو کر دار ادا کیا اس کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ عدلیہ نے سیاسی انحرافات سے ملک کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس نے اپنے کردار سے رکاوٹوں اور توازن (Checks and Balances) کے اصول کو قوت بہم پہنچانی ہے ۔
یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ نو آبادیاتی دور کے بعض ادارے اور روایات بدلنے کی ضرورت ہے۔ وہ اب تک اس لیے باقی رہے ہیں کہ معاشرے کو نئی شکل دینے میں شریعت اپنا جو کر دار ادا کر سکتی تھی اس کی اسے اجازت نہیں دی گئی ۔ اگر شریعیت کی بالا دستی فی الواقع ہو گئی تو اس سے معاشرے میں حقیقی صحت مند تبدیلی لانے کا عمل شروع ہو جائے گا۔ به مفاد پرست لوگ ہیں جنہیں اس عمل سے خوف زدہ ہونا چاہیے نہ کہ عام آدمی جو اس تبدیلی کی پر شوق آرزو دل میں قائم کیے ہوئے ہیں ۔ اس سمت میں ہم جس قدر جلد بڑھیں گے اتنا ہی بہتر ہو گا ۔ شریعیت بل ایک تدریجی اور قانونی عمل کے ذریعے اس مطلوبہ تبدیلی کو یقینی بنا سکتا ہے۔
علامہ اقبال اور شریعیت بل
اس سلسلے میں قائد اعظم اور علامہ اقبال کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ ہم اوپر بتا چکے ہیں کہ یہ دونوں عظیم رہنما پاکستان میں ایک حقیقی اسلامی ریاست قائم کرنا چاہتے تھے جس میں اسلامی قوانین نافذ ہوں اور جو مسلمانوں کو قرآن وسنت کے اصولوں پر مبنی معاشرہ قائم کرنے کے قابل بنائے ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ گذشتہ چالیس برس کے عرصے میں ہم علامہ اقبال اور قائد اعظم کے تصور سے دور ہی ہوتے گئے ہیں۔ شریعت بل ہماری ان کوششوں کی نمائندگی کرتا ہے جو پاکستان کو اس کے حقیقی اسلامی تصور کے قریب لانے کے لیے کی جارہی ہیں۔
اسلام کا تصور یہ ہے کہ اقتدار و اختیار ایک امانت ہے جسے عوام کے منتخب نمائندے قرآن و سنت کی مقررہ حدود کے اندر رہتے ہوئے استعمال کر سکتے ہیں۔ شریعت بل اس تصور کو حقیقت میں بدلنا چاہتا ہے۔ پارلیمنٹ قانون ساز ادارہ ہوگی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدات اسے مشورہ دیں گی۔ عوام کی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے پارلیمنٹ ان کے سامنے جوابدہ ہے اور اگر عوام اسلام پر ایمان رکھتے ہیں تو مجلس قانون ساز اور عدلیہ دونوں کو اس کردار کی تکمیل میں ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی۔ یہ ہے وہ صورت جس کا اقبال نے تصور کیا تھا ۔ اقبال منتخبہ اسمبلی چاہتے تھے تاکہ وہ اسلامی قانون بنانے میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکے، لیکن انہیں اکثر قانون سازوں کی نظریاتی اہلیت و استعداد کے بارے میں تشویش تھی ۔ اقبال نے بالکل ٹھیک سمجھا تھا کہ شورائی اجتہاد وقت کی ضرورت ہے لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ اقبال یہ سمجھتے تھے کہ یہ کام لادینی جمہوریت کے طرز پر منتخب ہونے والی اسمبلیاں انجام دے سکتی ہیں ۔ انہوں نے کہا تھا :
’’ہم جدید اسلام میں لبرل تحریک کا دلی خیر مقدم کرتے ہیں، لیکن یہ بات بھی تسلیم کرنا ہوگی کہ اسلام میں لبرل تصورات کا ظہور اسلامی تاریخ کے نازک ترین لمحے کو تشکیل دیتا ہے۔ لبرلزم انتشار و انقراض کی صورت میں عمل کرنے کا رجحان رکھتا ہے۔“
تسلسل اور تبدیلی کے درمیان توازن کی ضرورت پر بحث کرتے ہوئے اقبال تشکیل نو (Reconstruction)میں کہتے ہیں :
’’ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ زندگی محض ایک سیدھی سادی تبدیلی نہیں ہے وہ اپنے اندر قدامت پسندی کے عناصر بھی رکھتی ہے ۔ زندگی اپنی پشت پر خود اپنے ماضی کا بوجھ لیے سفر کرتی ہے اور یہ کہ اجتماعی تبدیلی کے پیش نظر قدامت پسند طاقتوں کی قدروں اور کام کو نگاہوں سے اوجھل نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن کی بنیادی تعلیمات نامیاتی بصیرت ہے جس کو ساتھ لے کر جدید عقلیت پرستی کو ہمارے موجو د اداروں کے نزدیک جانا چاہیے۔ کوئی قوم بھی اپنے ماضی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا یارا نہیں رکھتی ۔ یہ اس کا ماضی بھی ہے جس نے اسے انفرادی شخص دیا ہے۔ اسلام ایسے معاشرے میں پرانے اداروں پر نظر ثانی کا مسئلہ اور بھی نازک ہو جاتا ہے اور مصلح کی ذمہ داری کہیں زیادہ سنگین پہلو رکھتی ہے ۔اس قسم کے معاشرے کے ارتقا میں کھانے پینے اور طہارت و نجاست کے بے ضرر آداب بھی اپنے اندر بجائے خود زندگی کی قدر رکھتے ہیں ۔ یہ قدر ایسے معاشرے کو ایک مخصوص داخلیت سے نوازتی ہے اور اس داخلی اور خارجی یکسانیت کی حفاظت کرتی ہے جو ایسے ملے جلے معاشرے میں ہمیشہ سے پنہاں مختلف العناصر قوتوں کا توڑ کرتی ہے۔ بنا بریں ان اداروں کے نقادوں کو انہیں ہاتھ میں لینے کا بیڑا اٹھانے سے پہلے اپنے اندر اسلام میں جو معاشرتی تجربہ مجسم ہے اس کے بارے میں واضح بصیرت پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے ۔”
اقبال جہاں قانون ساز اسمبلیوں کے کردار پر زور دیتے ہیں وہاں یہ بھی صاف طور پر کہتے ہیں :
علماء کو مسلم قانون ساز اسمبلی کا موثر حصہ ہونا چاہیے جو قانون کے مسائل میں اعانت اور آزادانہ بحث مباحثے میں رہنمائی کریں غلط تعبیرات کے امکانات کا واحد موثر علاج یہ ہے کہ مسلمان ملکوں میں موجودہ قانونی تعلیم کے نظام کی اصلاح کی جائے اس کا دائرہ وسیع کیا جائے اور اسے اصولِ قانون کے معقول مطالعہ کے ساتھ مربوط کیا جائے ۔
بعد ازاں انہوں نے ۱۹۳۲ء میں اپنے صدارتی خطبے میں فرمایا : ” میری تجویز یہ ہے کہ علماء کی اسمبلی تشکیل دی جائے جس میں وہ مسلمان قانون دان بھی شامل کیے جائیں جنہوں نے جدید اصول قانون کی تعلیم حاصل کی ہے مقصد یہ ہے کہ جدید حالات کی روشنی میں اسلامی قانون کا تحفظ کیا جائے، اسے وسعت دی جائے اور اگر ضروری ہو تو اس کی دوبارہ توضیح و تعبیر کی جائے اور اس ضمن میں اس کے بنیادی اصولوں میں جو روح مضمر ہے اس کے قریب رہتے ہوئے اس اسمبلی کو دستوری طور پر تسلیم کیا جائے تاکہ مسلمانوں کے شخصی قانون کو متاثر کرنے والا کوئی بل اس اسمبلی کٹھالی سے گزرنے سے پہلے قا نون سازی پر نہ رکھا جائے “
علامہ اقبال نے ۱۹۳۲ء میں مسلمانوں کے شخصی قانون کے بارے میں سوچا تھا۔ کیا یہ دیکھنا مشکل ہے کہ پاکستان کے دستور میں جو اسکیم پیش کی گئی ہے اور شریعت بل نے ہو تبدیلیاں تجویز کی ہیں ان سے معاملات اقبال کے حقیقی تصور کے قریب تر آ جاتے ہیں۔ البتہ ضرورت ہے کہ ہم پورے اقبال میں دلچسپی لیں نہ کہ اپنے پہلے سے ملے کہ وہ موقف کو سہارا دینے کے لیے اس کے افکار کچھ ادھر سے اچکتے پھریں۔
شریعت بل اور دستور
کچھ افراد اس بات کو بھی بہت اچھال رہے ہیں کہ شریعت بل اور دستور کی چند دفعات میں تصادم ہے۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ ہم شریعت کی بالادستی کے قائل ہیں لیکن شریعت بل کے نہیں ۔ ہم ان سے صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر دستور کی چند دفعات فی الحقیقت شریعت کی بالا دستی کی راہ میں حائل ہیں تو ان دفعات کو جلد از جلد تبدیل ہونا چاہیے۔ ایک مسلمان کے لیے ایسی دفعات کو ایک دن کے لیے بھی گوارا کرنا جائز نہیں جو اسے شریعت پر عمل کرنےسے روکتی ہوں یا جن کی وجہ سے خدا کی زمین پر خدا کا قانون نافذ نہ ہو یا رہا ہو۔ غیر ملکی سامراج اور اکھنڈ بھارت میں ہندو کی بالا دستی کے خلاف مسلمانوں کی ساری جنگ اس بنیاد پر تھی کہ ان نظاموں کے تحت مسلمان شریعت کے مطابق زندگی نہیں گزار سکتے ، اگر آج بھی محض دستور کا نام لے کر شریعت کی بالا دستی کے قیام کو موخر کیا جائے تو اس سے زیادہ باعث شرم کیا ہو سکتا ہے۔
جہاں تک ہم نے جائزہ لیا ہے، نیز اسلامی نظریاتی کونسل اور متحدہ شریعت محاذ کے ماہرین قانون نے اس بارے میں جو کچھ کہا ہے اس کا حاصل یہی ہے کہ دستور کی دفعہ میں شریعت کی بالادستی کو زیادہ واضح الفاظ میں لکھنا ہوگا ۔ دفعہ ۲۵ میں صدر ملکت کو معافی کے جو عام اختیارات دیے گئے ہیں ان سے حدود و قصاص کو مستثنیٰ کرنا ہوگا۔ دستور میں عدلیہ میں ججوں کے تقرر کے لیے جو شرائط دی گئی ہیں ان میں علوم اسلامی کے ماہرین کے حج مقرر کرنے کی گنجائش پیدا کرنا ہوگی۔ صدر ملکت اور اعلیٰ انتظامیہ کو عدالت کے سامنے جواب دہی سے جو شفٹی رکھا گیا ہے اسے تبدیل کرنا ہوگا اور وفاقی شرعی عدالت کے دائرہ اختیار کو وسیع کرنا ہو گا ۔ یہ وہ تمام چیزیں ہیں جو عین مطلوب ہیں اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم شریعت کی بالا دستی چاہتے ہیں ان کو شریعت بل کو منظور کرنے کے ساتھ ساتھ دستور میں مندرجہ بالا ترامیم کا اہتمام بھی کرنا چاہئے اور اس کی سفارش اسلامی نظریاتی کونسل نے کی ہے۔ اسے شریعت بل کو مؤخر کرنے کے لیے بہانے بنانے کا کیا جواز ہو سکتا ہے۔
عوام : اپیل کی آخری عدالت
جمہوری معاشرے میں عوام اپیل کی آخری عدالت ہوتے ہیں۔ اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ وہ شریعت کی فی الواقع بالا دستی قائم کرنا چاہتے ہیں جس کی ضمانت دستور دے ۔ رائے عامہ کو منظم کرنے کی کوشش کو پارلیمنٹ کو دھونس کے تحت کام کرنے پر مجبور کرنے کا نام نہیں دینا چا ہیے، اگر رائے عامہ کی طرف سے آواز بلند کرنے کا مطلب جبر اور بلیک میل کرنا ہے تو پھر ملک میں جمہوریت کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ اپنے نظریات کو آگے بڑھانے کیلئے تشدد کا استعمال جمہوریت کے منافی ہے نہ کہ رائے عامہ کو منظم و متحرک کرنا اور پر امن دستوری ذرائع سے آواز بلند کرنا۔ یہ رائے عامہ کی قوت ہی معنی جس کے نتیجے میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ قائد نے دستوری خطوط پر تحریک کی منصوبہ بندی کی اور میں جمہوریت کی روح اور زندگی ہے ۔ اگر لوگ نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کرنے کے لیے عوامی اجتماعات منعقد کرنے کا حق رکھتے ہیں اور یہ بلیک میل کرنا یا دھونس جمانا نہیں تو پھر نفاذ شریعیت کے حق میں رائے عامہ منظم کرنے کا فضل دھونس کیوں کر بن جاتا ہے ۔ ۱۹۷۷ ء کی عوامی تحریک پاکستان میں بھٹو کے زوال کا باعث ہوئی بالکل اسی طریقے سے جس طرح ایران میں ۱۹۷۹ ء – ۱۹۷۸ء میں عوامی تحریک کے نتیجے میں شاہ کو تخت و تاج چھوڑنا پڑا۔ امریکی عوام کی عوامی تحریک نے امریکی حکومت کو ویٹ نام کے بارے میں اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کر دیا۔ کیا وہ دھونس تھی ؟ اگر عوام حاکم ہیں تو پھر ان کی رائے کو معلوم کرنا اور اس کا احترام کرنا ہو گا ۔ عام اجتماعات ، عوامی جلسے، قرار دادیں اور محضر نامے بھی ایک طریقہ ہیں جس کے ذریعے عوام کسی مسئلے کے بارے میں اپنا فیصلہ دیتے ہیں ۔ خوام کی رائے کا اندازہ کرنے کے اور طریقے بھی ہیں۔ سوئٹزر لینڈ اور فرانس کے نظاموں میں ریفرنڈم اسی قسم کا ایک طریقہ ہے۔ برطانیہ نے بھی یورپی مشترکہ منڈی میں شرکت کے سلسلے میں عوام کی رائے کا پتہ چلانے کے لیے اسی طریقے کو اختیار کیا تھا۔ کسی خاص مسئلے پر عوام کا فیصلہ معلوم کرنے کا ایک اور مسلمہ طریقہ انتخابات ہیں، اگر حکومت کو اس مسئلے پر عوام کی مرضی کے بارے میں کوئی شک ہے تو وہ ڈان نے واقعی بڑی مفید تجویز پیش کی ہے کہ اس کو پاکستان کے عوام کے حوالے کیا جائے جو حقیقی حاکم ہیں ۔ اس مقصد کے لیے دو دستوری طریقے ہو سکتے ہیں اور ان دونوں میں سے کوئی بھی طریقہ شریعت بل کے حامیوں کے لیے قابل قبول ہو گا، اگر پارلیمنٹ جس میں مسلم لیگ کو مطلق اکثریت حاصل ہے ، شریعت بل کو منظور کرنے پر راضی نہیں تو پھر اس مسئلے پر نئے انتخابات ہو جانے چاہتیں۔ دستور کی دفعہ ۵۸ کے تحت وزیر اعظم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ نئے انتخابات کرانے کے لیے قومی اسمبلی توڑنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔
اگر حکومت کوئی الواقع اس بل کے متعلق عوام کے فیصلے میں شک ہے تو پھر انہیں انتخاب کا تازہ موقع دینا چاہیے۔ نئے انتخابات کے ذریعے عوام سے نیا حکم حاصل کرنے کے لیے شریعیت بل کو بنیاد بنایا جائے جو لوگ شریعیت بل کے حامی ہیں اور جو اس کے مخالف ہیں۔ ان کے درمیان کھلا مقابلہ ہو جانا چاہیے۔ نظریاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ اپنے اندر تعلیمی وتربیتی قدر بھی رکھتا ہے۔ عوام کی مرضی کے اظہار کا ایک طریقہ اور بھی موجود ہے۔ دستور میں قومی اہمیت رکھنے والے کسی بھی مسئلے پر ریفرنڈم کروانے کا اہتمام کیا گیا ہے ۔ صدر دفعہ اہم (۶) کے تحت اپنی سوا پدید یا وزیر اعظم کے مشورے پر ریفرنڈم کروا سکتا ہے، اگر وزیر اعظم انتخاب کر دانا نہیں چاہتے تو حرام کا فیصلہ حاصل کرنے کے لیے اس مسئلے پر یہ دوسرا طریقہ اختیار کر کے ریفرنڈم کروانا چاہیے ۔ عوام کو بل کے بارے میں ہاں یا نہیں کہنے کا موقع دیجئے۔ کیا وزیر اعظم عوام کا سامنا کرنے اور ان کا فیصلہ قبول کرنے پر تیار ہیں ؟ یہ طریقہ سب کے لیے قابل قبول ہو گا، ان کے لیے بھی جو بل کے حامی ہیں اور ان کے لیے بھی جو اس کے حامی نہی ہیں۔


