Forward

کشمیری مہاجرینحقائق، مسائل اور لائحہ عمل

خالد رحمٰن
ارشاد محمود

پیش لفظ

مسئلہ کشمیر ایک کثیر جہتی مسئلہ ہے جس کے نظریاتی، اخلاقی، سیاسی، معاشی اور جیو اسٹریٹیجک پہلوؤں پر گو کام ہوا ہے مگر اس کی انسانی cost پر جتنی توجہ دیے جانے کی ضرورت تھی اس کے عشر عشیر پر بھی توجہ نہیں دی جاسکی۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تسلط اور اس کی ظالمانہ پالیسیوں کی کیا قیمت ہے جو وہاں کے لوگ ادا کر رہے ہیں اور گھر سے بے گھر کیے جانے والے لاکھوں انسانوں پر کیا بیت رہی ہے یہ وہ عنوانات ہیں جن پر حقائق جمع کرنے اور مربوط طور پر پیش کرنے کی کوششوں کو کم از کم الفاظ میں ناکافی قرار دیا جا سکتا ہے۔ کشمیری مہاجرین کی ایک تعداد وہ ہے جو مقبوضہ جموں و کشمیر ہی میں مہاجرت کی زندگی گزار رہی ہے۔ ایک اور تعداد وہ ہے جو سر چھپانے اور جان بچانے کے لیے بھارت اور دنیا کے مختلف ملکوں کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئی ہے، اور ایک بہت بڑی تعداد وہ ہے جو پاکستان اور آزاد کشمیر میں منتقل ہوئی ہے اور ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے فیصلہ کی منتظر ہے۔ سیاسی اور معاشی پہلوؤں کے ساتھ اس مسئلہ کے بے شمار انسانی پہلو ہیں جن کے بارے میں صحیح معلومات جمع کرنے ، مہاجرین کے مسائل اور اس سے بڑھ کر ان مسائل کے بارے میں ان کی سوچ اور توقعات و احساسات کا ادراک اور ان سب کی روشنی میں مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی کی تسوید وہ چیلنج ہیں جن کا قرار واقعی جواب تلاش کرنے میں پاکستان کے اہل علم اور اداروں نے بڑی بے توجہی برتی ہے۔

 انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز نے کشمیر کے مسئلہ کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق اور بحث و مباحثہ کا اہتمام کیا ہے اور اس سلسلہ میں کشمیری مہاجرین کے مسئلہ پر بھی ایک مبسوط مطالعہ تیار کیا ہے جو مسئلہ کے تاریخی پہلوؤں سے لے کر تازہ ترین صورت حال اور اس کی پیچیدگیوں اور مشکلات کے ایک مربوط جائزہ پر مبنی ہے۔ نیز اس مہاجرت کے سیاسی، معاشی، اخلاقی ، سماجی اور تہذیبی اثرات کا بھی وقت نظر سے مطالعہ کیا گیا ہے اور آئندہ کے لیے ایک واضح لائحہ عمل کے کلیدی خطوط مرتب کیے گئے ہیں جن پر حکومت اور رفاہی تنظیموں کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ یہ ایک سائنسی بنیاد پر مبنی مطالعہ ہے اور جذباتی انداز کی جگہ ٹھوس حقائق اور قابل عمل اصلاحات کی مثبت تجاویز پر مبنی ہے جس کی تسوید میں قانون، اخباری معلومات، ذاتی انٹرویو سب سے مدد لی گئی ہے۔ اپنی موجودہ شکل میں یہ ایک منفرد کوشش ہے۔ برادران عزیز خالد رحمن اور ارشاد محمود نے یہ کام بڑی محنت سے انجام دیا ہے اور ہمیں توقع ہے کہ حکومت پاکستان، حکومت آزاد کشمیر اور اس سے متعلق مختلف ادارے اس سے بھر پور فائدہ اٹھائیں گے۔ نیز ذرائع ابلاغ اور مسئلہ کشمیر میں دلچسپی رکھنے والے دانش ور اور سیاسی کارکن بھی اسے بے حد مفید پائیں گے۔ میری نگاہ میں اس انسانی پہلو کے مطالعہ کے بغیر کشمیر کے مسئلہ کے جملہ پہلوؤں کا احاطہ ممکن نہیں۔

آزاد کشمیر میں مقیم مہاجرین پر یہ مطالعہ اس موضوع کے حوالہ سے پائے جانے والے خلاء کو پر کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ہمیں اعتراف ہے کہ اس ساری مشق کے باوجود کشمیری مہاجرین کے حوالہ سے متعدد پہلوؤں پر مزید تحقیق کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ بالخصوص ۱۹۴۷ء کے مہاجرین
 (جن کی اس وقت تعداد ۵ء ملین کے لگ بھگ ہے) کی آزاد کشمیر اور پاکستان میں آباد کاری کے تجربات اور مقامی آبادی کے ساتھ ان کے تعلقات مطالعے کا ایک اہم اور دلچسپ موضوع ہے۔ مسئلہ کشمیر اور پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں یہ مہاجرین حکومت پاکستان کی پالیسی اور رائے عامہ پر کس طرح اثر انداز ہوتے رہے ہیں، تحریک مزاحمت کشمیر کے ساتھ ان کی کس نوعیت کی وابستگی ہے، اور وہ کس حد تک اور کس انداز میں تحریک میں حصہ لیتے رہے ہیں، یہ سوالات بھی ایسے کسی مطالعہ کے اہم عنوانات ہوں گے۔

اسی طرح ۱۹۹۰ء میں وادی سے دو لاکھ سے زائد پنڈت کمیونٹی کو ریاست کے اندر ہی گھر بار چھوڑنا پڑا۔ ان کی اکثریت جموں اور دہلی کے مختلف مہاجر کیمپوں میں قیام پذیر ہے۔ ان کے حوالے سے تحقیق اور مطالعہ نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی کوشش ہے کہ نہ صرف موجودہ مطالعہ کو آگے بڑھایا جائے بلکہ مستقبل میں مذکورہ موضوعات پر بھی مطالعات کا اہتمام کیا جائے۔

اسلام آباد                                                                                                                                                  خورشید احمد

۳۰ مئی ۲۰۰۳ء

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »