BooksFamily and GenderForwardSociety

کامیاب زندگی از خالد رحمٰن

پیش لفظ

اپنے بندوں پر اللہ تعالیٰ کے جو احسانات ہیں اور جن جن نعمتوں سے اس نے انھیں نوازا ہے ان کا شمار قطار ممکن نہیں۔ ان انعام و اکرام میں سب سے عظیم وہ روشنی اور ہدایت ہے جس سے انسانیت کو زمین پر اس کے سفر کے آغاز ہی سے شاد کام کیا گیا اور اس طرح انسان کا یہ سفر تاریکی میں نہیں، روشنی میں شروع ہوا اور اسے اس اختیار اور صلاحیت سے بھی آراستہ کر دیا گیا جس کے صحیح استعمال سے اس کا سفر ہمیشہ روشنیوں ہی میں ہو اور وہ تاریکی کے مہیب سایوں سے بچار ہے۔

اگر یہ کہا جائے تو بے جانہ ہوگا کہ دراصل زندگی نام ہی ہے اس مہلت اور ان مواقع اور امکانات سے فائدہ اٹھانے اور ان میں اپنے کردار کے ادا کرنے کا جو دنیا میں انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے فراہم کیے ہیں اور اس منصوبے اور وعدے کے تحت یہ سہولت دی گئی ہے کہ اگر وہ اپنے اختیار اور اپنی صلاحیتوں اور ان وسائل کو جو زمین و آسمان کے مالک نے اس کائنات میں اس کے لیے ودیعت کر دیے ہیں کو صحیح صحیح استعمال کرتا ہے تو پھر روشنیوں کا یہ سفر صرف اس دنیا کی زندگی ہی کو منو رنہیں کرے گا بلکہ ابدی زندگی بھی روشن اور تابناک ہوگی ۔ لیکن اگر وہ اس اختیار، ارادے اور مہلت کو صحیح صحیح استعمال نہیں کرتا اور وقتی خواہشات اور غیر معتبر مصالح کا شکار ہو جاتا ہے اور مقاصدِ زندگی اور اعلیٰ اقدار سے صرف نظر کر کے خواہشات کی دنیا میں مگن ہو جاتا ہے اور نفع ِعاجلہ کے چکر میں پڑ جاتا ہے تو دنیا و آخرت دونوں میں اس کے نتائج اس کو بھگتنا ہوں گے۔ اقبال نے امکانات کی اسی دنیا کی طرف اشارہ کیا ہے جب اس نے یہ کہا:

عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی

یہ خا کی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

زندگی کا جو مثالیہ (paradigm) روز اول سے انسان کو دیا گیا وہ استخلاف کے تصور سے عبارت ہے یعنی انسان زمین پر بے مقصد نہیں بھیجا گیا ۔ وہ اللہ کا خلیفہ اور اس کا نمائندہ ہے۔ اسے علم واختیار کی قوتوں سے آراستہ کیا گیا ہے اور اسے ہدایت اور رہنمائی سے سرفراز کیا گیا ہے تاکہ زمین پر خدا کی مرضی کو پورا کرے، اپنی زندگی کو بھی اس نور سے منور کرے اور دوسروں کی زندگیوں کو بھی اس کے ذریعے روشن و تابندہ کرے۔ الہامی ہدایت کی روشنی میں انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل اور انسانوں کے درمیان رب کی عبادت ، باہم الفت، محبت اور حقوق کی پاس داری اور معاشرے کے ہر گوشے میں عدل و انصاف کی فراوانی کا حصول اس کا مقصد اور کامیابی کا معیار و میزان ہے۔ اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانوں کے لیے زندگی کا جو مطلوب نقشہ ہمیں تعلیم فرمایا ہے اس کا خلاصہ ہی یہ ہے کہ ایک طرف بندہ اپنے رب کا مطیع اور فرماں بردار ہو اور اس کی رضا کے حصول پر راضی ہو تو پھر اسے دنیا اور آخرت میں سب سے بڑی دولت میسر آتی ہے اور خود مالک اس کا اس طرح استقبال کرنے کی نوید سناتا ہے کہ:

يايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِى إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ، فَادْخُلِي فِي عِبَدِي . وَا دُخُلِي جَنَّتِي ( الفجر ۲۷:۸۹-۳۰)۔

اے نفس مطمئن ! چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو (اپنے نیک انجام سے ) خوش اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ ہے۔ شامل ہو جا میرے (نیک ) بندوں میں اورداخل ہو جا میری جنت میں ۔ تو دوسری طرف اس کی اپنی زندگی حسنات کی جستجو اور اُن کی برکتوں سے مالا مال ہو جاتی ہے اور دوسرے انسانوں کے ساتھ اس کا معاملہ اخوت ، محبت، رواداری ، اصلاح با ہمی اور تکافل اجتماعی کاہوتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے بلیغ انداز میں فرمایا کہ:

’’میں چاہتا ہوں کہ کوئی دن ایسا نہ گزرے جس میں ایسی دانائی میں اضافہ نہ ہو جو مجھے اللہ کے قریب لے آئے‘‘

اور فرمایا کہ:

’’مومن سراسر الفت و محبت ہے اور اس آدمی میں سرے سے کوئی خیر وخوبی ہی نہیں جو نہ دوسروں سے محبت کرے اور نہ دوسرے اس سے محبت کریں‘‘۔

اور پھر ہر شخص کو ایک ایسا پیمانہ بھی دے دیا کہ خود زندگی کی کامیابی اور نا کامی کا حساب کر سکے۔ فرمایا:

’’جس وقت تجھے تیری نیکی خوش کرے اور تیری برائی تجھے نا خوش کرے تو سمجھ لے کہ تومومن ہے‘‘ ۔

آپ نے فرمایا:’’وہ شخص کامیاب ہوا جس نے اپنے دل کو ایمان کے لیے خالص اور اسے درست و پاکیزہ کر لیا اور اپنی زبان کو راست گو بنالیا اور اپنے نفس کو (ایمان پر مطمئن کر لیا اور اپنے اخلاق کو سنوار لیا، اپنے کانوں کو (حق کا ) سننے والا اور اپنی آنکھ کو عبرت کی نگاہ بنالیا۔ جس چیز کو دل نے سمجھ لیا کان اُسے سنتے ہیں اور آنکھ اُس سے ٹھنڈک اور سکون لیتی ہے۔ یقینا وہ شخص کامیاب ہوا جس نے دل کو کھلا اور بیدار رکھا۔“

سوچنے کی بات ہے کہ اس دنیا میں ہم خود اپنی مرضی یا کوشش سے نہیں آئے اور نہ یہاں سے رخصت ہونے میں ہمارے کسی فیصلے کا دخل ہوگا۔ پھر اس کے سوا صحیح راستہ اور کون سا ہوسکتا ہے کہ جس نے زندگی عطا کی ہے اور جس کی مٹھی میں ہماری جان ہے اور جس کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے اُس کے بتائے ہوئے طریقے پر اپنی زندگی گزاریں۔ زندگی کا اس سے بہتر استعمال اور کیا ہو سکتا ہے۔ دیکھیے خود اس نے کس طرح ہمارے لیے اس راستے کو واضح اور روشن کر دیا ہے:

فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مِنَى هُدًى فَمَنْ تَبِعَ هُدَايَ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَاهُمُ يَحْزَنُونَ (البقره ۳۸:۲)

’’پھر میری طرف سے جو کوئی ہدایت تمھارے پاس پہنچے، تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا‘‘۔

اور فرمایا:

إِنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ لِلنَّاسِ بِالْحَقِّ : فَمَنِ اهْتَدَى فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِوَكِيلِه (الزمر ۴۱:۳۹)

’’(اے نبیؐ ) ! ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب بر حق تم پر نازل کر دی ہے۔ اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہوگا، تم اُن کے ذمہ دار نہیں ہو‘‘۔

اطاعتِ رب کے اس راستے کو آسان بنانے کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو ہمارے لیے نمونہ، معیار اور اسوہ قرار دیا تا کہ اس کا اتباع کر کے اللہ کی مرضی کو پایا جا سکے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب ۲۱:۳۳)

’’در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول میں ایک بہترین نمونہ ہے‘‘۔

یہ بھی واضح کر دیا کہ ہر انسان اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور دنیا اور آخرت میں کامیابی یا نا کامی کا انحصار ایمان اور عمل ِصالح پر ہوگا ۔

 فمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يُرَ هُن وَمَنْ يُعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُه

’’پھر جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا‘‘۔ (الزلزال ۹۹: ۷-۸)

ہدایت اور رہنمائی کے اس نظام کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے پہلی ضرورت : خداشناسی ہے۔ یعنی اپنے خالق سے جْڑ جانا اور اس کی ہدایت کو مضبوطی سے تھام لیتا۔ اس کی روشنی میں دوسری ضرورت خودشناسی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں وہ تمام صلاحیتیں ودیعت کر دی ہیں جن کی ترقی اور صحیح استعمال سے وہ خدا کی زمین پر خدا کے خلیفے اور نمائندے کی حیثیت سے اپنا کردار بھر پور انداز میں ادا کر سکتا ہے۔ اس کی تیسری ضرورت خلق شناسی یعنی جس طرح اپنے مقام کو سمجھا ہے اسی طرح دوسروں کے مقام کو سمجھے۔جس میں خدا کی پوری خلق اور مخلوق شامل ہے۔ اللہ سے رشتہ حقوق اللہ کی روشنی میں اور اللہ کے بندوں سے رشتہ حقوق العباد کے مطابق استوار کیا جائے۔ پھر چوتھی ضرورت منزل شناسی کی ہے، یعنی اصل منزل آخرت اور اس ابدی زندگی کی کامیابی سے عبارت ہے اور اسے اگر خلد شناسی کہا جائے تو کامیاب زندگی کے چاروں گوشے چارخ کی شکل میں واضح ہو جاتے ہیں۔

 خداشناسی ، خودشناسی خلق شناسی اور پھر خلد شناسی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی زندگی کی باگ ڈور خود سنبھالیں اور شعور اور استقامت کے ساتھ اللہ کی فراہم کردہ اپنی تمام قوتوں کو ایسی انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل کے لیے وقف کر دیں جو قرآن وسنت کے دیے ہوئے رہنما اصولوں کی آئینہ دار ہو۔ یہ زندگی جد و جہد اور کشمکشِ حیات میں حق پرستی کی راہ اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کامیاب زندگی کا راز دل کی اصلاح، قلب و نظر کی یکسانی ،حق کی جستجو ، عدل و انصاف کے قیام، نیکیوں کی ترویج اور منکرات سے حیات انسانی کو پاک کرنے کی عملی جد و جہد میں ہے۔— یہ عمل اور پیہم عمل سے عبارت ہے جیسا کہ اقبال نے کہا:

برتر از اندیشہ ٔسود وزیاں ہے زندگی

یہ کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

سرِّ آدم ہے ضمیر کْن فکاں ہے زندگی

زندگانی کی حقیقت کو ہکن کے دل سے پوچھ

جوئے شیر و تیشہ و سنگ ِگراں ہے زندگی

آشکارا ہے یہ اپنی قوت ِتسخیر سے

گرچہ اک مٹی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی

ایمان ،عملِ صالح اور منظّم انفرادی اور اجتماعی جد و جہد ہی کامیاب زندگی کے ضامن ہیں۔ اس پورے عمل میں خیر وشر کا علم ، اچھی مثال اور ہم خیال شریکِ سفر سب سے قیمتی سہارا ہیں۔ سچائی کی ایک بات جو دل میں اتر جائے ، معمولی سا واقعہ جو چونکا دے اور سوئے ہوئے دلوں کو جگا دے، خیر وشر کی کشمکش میں استقامت کا ایک نمونہ جو دوسروں کے لیے سہارا بن جائے اور گرنے والوں میں پھر اٹھ کھڑا ہونے کا جذبہ پیدا کردے۔۔ یہ وہ چیزیں ہیں جو کامیاب زندگی کی راہوں کو آسان بناتی ہیں اور دوسروں کے لیے روشنی کا چراغ بن جاتی ہیں۔

برادرِ عزیز خالد رحمٰن صاحب کی مختصر تحریروں اور ریڈیائی تقریروں کا یہ مجموعہ ایسے ہی اقوال، اعمال ، فکر انگیز واقعات، اور چونکا دینے والے حادثات کا مرقع ہے۔ یہ بظاہر ہلکا پھلکا لوازمہ ہے لیکن در حقیقت یہ دعوت اور تعلیم دونوں ہی کے لیے بڑا مؤثر نسخہ ہے۔ خالد بھائی گزشتہ آٹھ سال سے اس اسلوب کو اپنی ریڈیائی تقریروں میں استعمال کرتے اور روشنی کی ان کرنوں سے زندگیوں کو منور کرتے آرہے ہیں۔ اپنی اثر انگیزی کے اعتبار سے ان نشریات کی حیثیت صرف ادب پاروں کی نہیں بلکہ سوتوں کو جگانے والی اذان (wake-up call) کی رہی ہے اور مجھے خوشی ہے کہ اب یہ کتابی شکل میں پیش کی جارہی ہیں۔ زبان کی سلاست، موضوعات کے مجموع اور روز مرہ کے واقعات سے سبق سیکھنے اور دعوت ِفکر وعمل دینے کا جو اہتمام ان میں کیا گیا ہے اس سے ان کی افادیت دوبالا ہوگئی ہے۔ زندگی کے حقیقی مسائل کو ایمان اور اخلاق کی قوت سے حل کرنے اور اس سلسلے میں اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کی مثالوں سے قوت اور روشنی حاصل کرنے کا ان میں بڑا قیمتی سامان موجود ہے۔ یہ مجموعہ اپنے دامن میں دعوت و اصلاح کے حیات بخش کام کی تفہیم اور اس کے فروغ کے لیے بڑا قیمتی ذخیرہ رکھتا ہے جسے انسانوں کو رہنمائی فراہم کرنے والی کہکشاں کہا جائے تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ مجھے توقع ہے کہ خالد بھائی یہ سلسلہ جاری رکھیں گے اور خصوصیت سے ہماری نئی نسلیں ان روشن ستاروں سے نقوش ِراہ کی تلاش میں بھر پور رہنمائی حاصل کریں گی۔

پروفیسر خورشید احمد

اسلام آباد

۴

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Translate »