قرآن حکیم او رہماری عملی زندگی

علامہ ڈاکٹر یوسیف القرضاوی
پیش لفظ
قدرت کا قانون ہے کہ جب تاریکی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو روشنی اس کا سینہ چیرتی ہوئی رونما ہو جاتی ہے ظلمتیں چھٹ جاتی ہیں اور فضا نور سے بھر جاتی ہے۔ تاریخ انسانی میں روشنی اور نور کا سب سے بڑا سیلاب ۲۷ رمضان المبارک ۱۳ قبل ہجرت میں رونما ہوا۔ خشکی ، تری اور بحرو بر تاریکی کا غلبہ تھا۔ ظهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ ( الروم ۴۱:۳) کی حقیقی تصویر بن کر ظلم اور فساد سے خدا کی زمین بھر گئی تھی ۔ انسان اپنے حقیقی معبود کو چھوڑ کر جھوٹے خداؤں کی بندگی کر رہے تھے۔ ارض و سما کے مالک نے اپنے انبیاء علیہم السلام کے ذریعے جو ہدایت اور رہنمائی بھیجی تھی ، انسان نے اس کو گم کر دیا تھا۔ نتیجہ کے طور پر گمراہی اور ظلمت کا دور دورہ تھا ۔ انسان آگ ، درخت ، پتھر ، پانی اور جانوروں تک کی پوجا کر رہے تھے ۔ زندگی کے اجتماعی معاملات میں کچھ انسان دوسرے انسانوں کے خدا اور رب بن بیٹھے تھے، اور اپنی من مانی کر رہے تھے۔ نیکیاں معدوم ہو رہی تھیں اور برائیاں پر افشاں تھیں۔ نسل، قوم اور قبیلہ کے بتوں کی پوجا ہورہی تھی ۔ حق ، انصاف، آزادی ، مساوات اور بندگی رب کو انسانیت ترس رہی تھی۔
یہ تھی وہ دنیا ، جس میں خدا کے ایک برگزیدہ بندے انسانیت کے گل سرسبد اور دنیا کے سب سے نیک انسان محمد بن عبد اللہﷺ نے آنکھیں کھولیں۔ وہ ظلم کے اس راج اور بدی کے اس غلبے پر حیران و سرگردان تھا (وَوَجَدَكَ ضَآلّٗا فَهَدَىٰ( )الضحیٰ ۹۳:۷ ) وہ جھوٹے خداؤں کا باغی اور ایک حقیقی خدا کی بندگی کا جو یا تھا۔ دست فطرت نے چالیس سال اس کی تربیت فرمائی۔ پھر زمین و آسمان کے مالک نے ایک شب اس با کمال بستی کو انسانیت کی رہنمائی کے لیے اپنے آخری نبیﷺ کی حیثیت سے مامور فرما دیا ۔ وہ غار حرا میں عبادت میں مشغول تھا کہ خدا کا فرشتہ ، اس کا امین ، اور پیامبر رونما ہوا۔ بندگی میں مشغول بندے کو سینے سے لگایا ، اسے خوب بھینچا اور رب السموت والارض کی طرف سے پہلی وحی اس پر نازل کی اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ (العلق ۱:۹- ۵) پڑھو (اے نبیﷺ ) اپنے رب کے نام سے جس نے ( ساری چیزوں) کو پیدا کیا۔ اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے بنایا ۔ پڑھو اور تمہارا رب بڑا کریم ہے، جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا ، اس نے انسان کو وہ باتیں سکھائیں جو اس کو معلوم نہ تھیں۔
تاریکیوں کے لیے موت کا پیغام آ گیا۔ طاغوت کے غلبے کا دور ختم ہو گیا۔ رب کی آخری ہدایت کا دور شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ ۲۳ سال تک چلتا رہا حتی کہ ہدایت مکمل ہو گئی اور انسایت کو نور کا وہ خزانہ مل گیا ، جس کی روشنی تا قیامت قائم رہے گی جس کے ذریعے وہ ہمیشہ رہنمائی اور ہدایت حاصل کرتی رہے گی: ٱلۡيَوۡمَ أَكۡمَلۡتُ لَكُمۡ دِينَكُمۡ وَأَتۡمَمۡتُ عَلَيۡكُمۡ نِعۡمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلۡإِسۡلَٰمَ دِينٗ(المائده ۵:۳) آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔
خدا کی اس زمین پر انسان کی ضرورتیں دو قسم کی ہیں: ایک وہ جن کا تعلق اس کی جسمانی اور مادی زندگی سے ہے، اور دوسری وہ جو اس کی روحانی، اخلاقی اور سماجی زندگی سے متعلق ہیں۔ خدا کی ربوبیت کا ملہ کا تقاضا تھا کہ انسان کی یہ دونوں ضرورتیں پوری کی جائیں ، تاکہ وہ زندگی کی آسائشیں بھی حاصل کر سکے اور ان کو طریقوں سے استعمال بھی کر سکے۔
اللہ تعالٰی نے انسان کی ان دونوں ضرورتوں کو بہ حسن و کمال پورا کیا ہے۔ مادی اور جسمانی ضروریات کی تسکین کے لیے زمین و آسمان میں بے شمار قو تیں ودیعت کر دی ہیں، جن کی دریافت اور ان کے مناسب استعمال سے انسان کی تمام ضرورتیں پوری ہو سکتی ہیں۔ اسی طرح انسان کی روحانی ، اخلاقی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی ہدایت نازل فرمائی اور اپنے انبیا علیہم السلام کے ذریعے نہ صرف یہ کہ اس ہدایت کو انسانوں تک پہنچایا بلکہ ان کی زندگیوں میں اسے متشکل کر کے بھی دکھا دیا۔ اس طرح انسانیت نے اپنا سفر تاریکی میں نہیں، روشنی میں شروع کیا، اور ہر دور میں خدا کی ہدایت اس کے لیے مشعل راہ بنی رہی۔ اس دنیا میں پہلا انسان [ آدم علیہ السلام ] پہلا نبی بھی تھا۔ خدا کی یہ ہدایت اپنی آخری اور مکمل ترین شکل میں حضرت محمدﷺ پر نازل کی گئی ۔ یہی ہدایت قرآن کی شکل میں موجود ہے اور قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔ قرآن جس تصور زندگی کو پیش کرتا ہے ، وہ مختصر یہ ہے:
ا۔ یہ دنیا بے خدا نہیں ہے۔ اس کا ایک پیدا کرنے والا ہے جو اس کا مالک ، آقا ، رب اور حاکم ہے۔ ہر شے پر اس کی حکومت ہے اور وہی اس کا حقیقی فرماں روا ہے ۔ ساری نعمتیں اس کا عطیہ ہیں ۔ اس کا اختیار کلی اور ہمہ گیر ہے۔ جس طرح وہ دنیا کی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے، اسی طرح وہ انسان کا بھی خالق، مالک اور حاکم ہے۔ اس مالک حقیقی نے انسان کو ایک خاص حد تک اختیار اور آزادی دے کر ، اس زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ بنایا ہے اور باقی تمام مخلوقات کو اس کے تابع فرمان کیا ہے۔
۲۔ انسان کو خلافت کی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے کے لائق بنانے کے لیے مالک حقیقی نے اسے اپنی ہدایت سے نوازا ہے اور اسکی رہنمائی صراط مستقیم کی طرف کی ہے۔ اسے بتایا گیا ہے کہ پورا جہاں اس کے لیے ہے اس کے تابع ہے۔ لیکن وہ خود خدا کے لیے ہے۔ اس کا کام یہ ہے کہ خدا کی بندگی اختیار کرے اور اپنی پوری زندگی کو رب کی اطاعت میں دے دے ۔ اس زندگی کی حیثیت ایک امتحان اور آزمائش کی سی ہے ۔ اس میں انسان کے لیے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ اپنے ارادے کو مالک کی مرضی کے تابع کر دے اور اس کی رضا اور خوشنودی کے حصول کے لیے اپنا سب کچھ لگا دے ۔ جس نے اس راہ سے انحراف کیا ، وہ ناکام و نامراد ہے اور آنے والی ابدی زندگی میں جہنم اس کا ٹھکانہ ہو گا۔
۳۔ یہ باتیں انسان کو ازل میں سمجھا دی گئیں۔ ان کا شعور اور احساس اس کی فطرت میں ودیعت کر دیا گیا۔ ان کی تذکیر اور بندگی رب کے راستے کی تشریح و توضیح کے لیے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر محمدﷺ ، اللہ تعالیٰ ابنیاءعلیہم السلام کو مبعوث کرتا رہا۔ ایک طرف انسان کو عقل اور سمجھ دی گئی کہ وہ حق کو پہچانے اور اس کے مطابق زندگی کے معاملات کی صورت گری کرے اور دوسری طرف خدا کے ان برگزیدہ بندوں ( انبیا علیہم السلام) نے بڑی سے بڑی قربانی دے کر انسانیت کو سیدھی راہ پر لگانے کا کام انجام دیا۔ ہر ملک اور ہر قوم میں انبیا مبعوث ہوئے اس سنہری سلسلے کی آخری کڑی محمد عربی ﷺ ہیں۔ آپ ساری دنیا کے لیے بھیجے گئے اور سارے زمانوں کے لیے مبعوث ہوئے ۔ آپ نے اللہ کا وہی دین یعنی اسلام لوگوں کے سامنے پیش کیا جو اس سے پہلے پیش ہوتا رہا تھا۔ جن لوگوں نے آپ کی دعوت قبول کر لی اور اسلام کو بہ حیثیت زندگی کے دین اور راستہ اختیار کر لیا ، وہ ایک امت بن گئے۔ اب یہ امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود اپنی زندگی کا نظام اس ہدایت کے مطابق تشکیل دے جو اللہ کی طرف سے حضرت محمدﷺ لائے اور جس کا نمونہ آپ نے اپنی مبارک زندگی میں پیش فرمایا اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں ۔
قرآن وہ کتاب ہے جس میں پوری دعوت موجود ہے، جس میں اللہ کا دین اپنی مکمل اور آخری شکل میں ملتا ہے، جس میں وہ ہدایت ہے جو خالق کا ئنات نے اتاری ہے اور جو تمام انسانوں کی دائی خیر وفلاح کی ضامن ہے۔ قرآن اپنی حیثیت اور اپنے مقصد کو اس طرح واضح کرتا ہے:
(الف ) ذَٰلِكَ ٱلْكِتَـٰبُ لَا رَيْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًۭى لِّلْمُتَّقِينَ (البقرة:۲:۲) یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں پر ہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔
(ب) إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ (بنی اسرائیل۱۷:۹ )او نشدن آسان حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے
(ج) یہ رہنمائی تمام انسانوں کے لیے ہے:
الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ (البقره ۲:۱۸۵)
قرآن انسانوں کے لیے ہدایت ہے۔
(د) یہ ہدایت کا ایسا مرقع ہے جسم میں ازل سے نازل ہونے والی ہدایت جمع کر دی گئی ہے اور یہ پورے خیر کا مجموعہ ہے:
وَأَنزَلْنَآ إِلَيْكَ ٱلْكِتَـٰبَ بِٱلْحَقِّ مُصَدِّقًۭا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ ٱلْكِتَـٰبِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ ۖ (المائدة ۵:۴۸)
پھر اے نبیﷺ ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے، اس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے۔
(ھ) یہ ہدایت ہر لحاظ سے محفوظ بھی ہے اور تا قیامت محفوظ رہے گی :
لَقَالُوٓا۟ إِنَّمَا سُكِّرَتْ أَبْصَـٰرُنَا بَلْ نَحْنُ قَوْمٌۭ مَّسْحُورُونَ ( الحجر ٩:١۵)
بلا شبہ ہم نے اس کو نازل کیا ہے اور ہم خود ہی اس کو محفوظ رکھنے والے ہیں۔
(د) انسانیت کے دکھوں کا واحد علاج یہ ہدایت ہے:
يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُم مَّوْعِظَةٌۭ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌۭ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ وَهُدًۭى وَرَحْمَةٌۭ لِّلْمُؤْمِنِينَ (يونس۱۰:۵۷)
لوگو! تمہارے پروردگار کی جانب سے تمہارے پاس ایک نصیحت آگئی ہے جو دل کے تمام امراض کے لیے شفا ہے۔ اور ہدایت اور رحمت ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو اسے مانیں ۔ اور یہی ہدایت ہے جو حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی اور حق کا حقیقی معیار ہے۔ اس لیے اس کو مهیمن کہا گیا ہے اور اسی لیے اس کا نام فرقان ( حق و باطل میں تمیز کرنے والی ) رکھا گیا ہے۔ قرآن کی اس نوعیت کو سمجھ لینے کے بعد اس کی حقیقت اور اس کے مقصد کی وضاحت آسان ہو جاتی ہے۔ اسے ہم مختصر اً یوں بیان کر سکتے ہیں:
٭ قرآن کا موضوع انسان ہے کہ حقیقت کے اعتبار سے اس کی فلاح اور خسران کس چیزمیں ہے۔
٭قرآن کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ظاہر بینی یا قیاس آرائی یا خواہش کی غلامی کے باعث انسان نے خدا، نظام کائنات، اپنی ہستی اور اپنی دنیوی زندگی کے متعلق جو نظریات قائم کیے ہیں، اور ان نظریات کی بنا پر جو رویے اختیار کر لیے ہیں، وہ سب حقیقت کے لحاظ سے غلط اور نتیجے کے اعتبار سے خود انسان ہی کے لیے تباہ کن ہیں۔ حقیقت وہ ہے جسے انسان کو خلیفہ بناتے وقت خدا نے خود بیان فرما دیا ہے۔ اس حقیقت کے لحاظ سے وہی رویہ درست اور خوش انجام ہے جو خدا کو اپنا واحد حاکم اورمعبود تسلیم کر کے اس دنیا میں اسکی ہدایت کے مطابق اپنی پوری زندگی کو گزارا جائے ۔
٭ یہ قرآن کا مدعا انسان کو اس صحیح رویے کی طرف دعوت دینا اور اللہ کی اس ہدایت کو واضح طور پر پیش کرنا ہے، جسے انسان اپنی غفلت سے گم اور شرارت سے مسخ کرتا رہا ہے ۔
نزول قرآن کا اصل مقصد انسانوں کی تہذیب اور ان کے باطل عقائد اور گم کردہ اعمال کی اصلاح اور درستگی ہے ۔
قرآن تمام انسانوں کو ابدی سعادت کی طرف بلاتا ہے، اور انسان کے ظاہر و باطن کی ایسی تعمیر کرتا ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو ، دنیا اور آخرت کی زندگیوں میں حقیقی چین اور راحت نصیب ہو ۔ یہی راستہ رب کی بندگی کا راستہ ہے:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات۵۱:۵۶)
“میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے ، کہ وہ میری بندگی کریں” یہ بندگی انسان کی پوری زندگی پر پھیلی ہوئی ہے ۔ اس کا ہر سانس احساس عبدیت سے معمور ہونا چاہیے اور اس کا ہر عمل مالک کی اطاعت کا مظہر ہونا چاہیے۔
یہ مقام ہے جہاں سے قرآن کا انقلابی تصور حیات ہمارے سامنے آتا ہے۔ قرآن انسانی زندگی کو مختلف گوشوں اور شعبوں میں تقسیم نہیں کرتا ۔ وہ پوری زندگی کو بندگی رب میں لانا چاہتا ہے۔ انسان کے فکر و خیال اور عقید ہ ور جان سے لے کر اس کی اجتماعی زندگی کے ہر پہلو پر اللہ تعالی کی حکمرانی قائم کرنا چاہتا ہے اس کا مطالبہ خود مسلمانوں سے یہ ہے کہ :
ٱدْخُلُوا۟ فِى ٱلسِّلْمِ كَآفَّةً (البقرة ۲۰۸:۲)
“داخل ہو جاؤ خدا کے دین میں پورے کے پورے”
یعنی اسلام کے راستے کو اختیار کرنے کے بعد زندگی کے کسی شعبے کو خدا کی ہدایت سے آزاد رکھنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ پھر انسان کی انفرادی زندگی اور اس کی اجتماعی زندگی ، خدا کے قانون کی پابندی اور اس کی رضا کو تلاش کرنے والی ہو گی۔ پھر تمدن کے پورے نظام یعنی معاشرت ، سیاست، معیشیت ، قانون و عدالت ، انتظام و انصرام ،ملکی اور بین الاقوامی تعلقات ، سب پر خدا کی حکمرانی قائم ہونی چاہیے۔ صرف اپنے اوپر ہی اس قانون کو جاری و ساری نہیں کرنا ، بلکہ پوری انسانیت کو اپنے قول اور عمل سے اس راستہ کی طرف دعوت دینی ہے۔ انسانیت کو حق کی طرف بلانا ہے ، اور ہر اس رکاوٹ کو ہٹانے کی جدو جہد کرنی ہے، جو بندے اور اس کے رب کے درمیان اس تعلق کے قیام کی راہ میں مزاحم ہے۔ اس کا نام دعوت حق ہے۔ جو اسلام میں جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے، یہی وہ دعوت ہے جس کی طرف یہ کتاب بلاتی ہے۔
علامہ اقبالؒ مشہور صوفی بزرگ شیخ عبدالقدوس گنگوہیؒ کے حوالے سے قرآن کے اس مخصوص مزاج کی وضاحت اس طرح کرتے ہیں:
” محمد عربیﷺ بر فلک الافلاک رفت و باز آید واللہ اگر من رفتمے ہر گز باز نیامدے” محمد عربی ﷺ(معراج کے موقع پر ) آسمانوں پر گئے اور واپس آگئے ۔ اللہ کی قسم اگر میں جا تا تو ہرگز واپس نہ آتا۔ یہ مشہور صوفی بزرگ حضرت شیخ عبد القدوس گنگوہی ؒکے الفاظ ہیں جن کی نظیر تصوف کے سارے ذخیرہ ادب میں مشکل ہی سے ملے گی۔ شیخ موصوف کے اس ایک جملے سے ہم اس فرق کا ادراک نہایت خوبی سے کر لیتے ہیں جو شعور ولایت اور شعور نبوت میں پایا جاتا ہے۔ صوفی نہیں چاہتا کہ وارداتِ اتحاد سے جو لذت اور سکون حاصل ہوتا ہے اسے چھوڑ کر واپس آئے لیکن اگر آئے بھی ، جیسا کہ اس کا آنا ضروری ہے، تو اس سے نوع انسانی کے لیے کوئی خاص نتیجہ مرتب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس ، نبی کی باز آمد تخلیقی ہوتی ہے وہ ان واردات سے واپس آتا ہے تو اس لیے کہ زمانے کی رو میں داخل ہو جائے اور پھر ان قوتوں کے غلبہ و تصرف سے، جو عالم تاریخ کی صورت گر ہیں، مقاصد کی ایک نئی دنیا پیدا کرے۔صوفی کے لیے تو لذت اتحاد ہی آخری چیز ہے، لیکن انبیا علیہم السلام کے لیے اس کا مطلب ہے ان کی اپنی ذات کے اندر کچھ اس قسم کی نفسیاتی قوتوں کی بیداری ، جو دنیا کو زیروز برکر سکتی ہیں، اور جن سے کام لیا جائے تو جہان انسانی دگر گوں ہو جاتا ہے لہذا انبیا کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ ان واردات کو ایک زندہ اور عالم گیر قوت میں بدل دیں لہذا انبیا کے مذہبی مشاہدات اور واردات کی قدر و قیمت کا فیصلہ ہم یہ دیکھ کر بھی کر سکتے ہیں کہ ان کے زیر اثر کس قسم کے انسان پیدا ہوئے”۔
مطلب یہ کہ بزرگ صوفی کا یہ قول زندگی کے محدود تصور کا غماز ہے۔ اس تصور میں اصل اہمیت عرفان ذات کی ہے اور وہ اس سے اونچے کسی مقام کا تصوّر نہیں کر سکتی ہے کہ بندے کے قدم وہاں پہنچ جائیں جہاں فرشتوں کے پر جلتے ہیں۔ پھر اس دنیا کی طرف واپس آنے کا کیا سوال ؟ لیکن محمد ﷺ جس دین کے علمبردار ہیں وہ دین جس کا نبی اس بلندی پر پہنچ کر پھر اس دنیائے رنگ و بو میں لوٹتا ہے، تاریخ کے منجدھار میں قدم رکھتا ہے اور اس نور سے جو اسے حاصل ہوا ہے تنگ و تاریک دنیا کو منور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ صرف اپنے اس سینے کو گنجینہ ، انوار نہیں بناتا بلکہ پورے عالم کو روشن کرنے کی جدو جہد کرتا ہے۔ ایک نیا انسان بنانے ، ایک نیا معاشرہ تعمیر کرنے ، ایک نئی ریاست قائم کرنے اور تاریخ کو ایک نئے دور سے ہم کنار کرنے میں مصروفِ جہاد ہو جاتا ہے۔
قرآن اسی دعوت انقلاب کو پیش کرتا ہے، وہ زمانے کے چلن کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، وہ ایک نیا نظام قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد ایک انقلاب برپا کرنا ہے دلوں کی دنیا میں بھی انقلاب اور انسانی معاشرے میں بھی انقلاب وہ صالح انقلاب جس کے نتیجہ میں خدا سے بغاوت کی روش ختم ہو اور اس کی بندگی کا دور دورہ ہو جائے ۔ برائیاں سرنگوں اور نیکیوں کو غلبہ حاصل ہو ۔ خدا کے منکر اور اس سے غافل قیادت کی مسند سے ہٹا دیے جائیں اور اس کے مطیع اور فرماں بردار بندے زمانے کی باگ ڈور سنبھال لیں ۔ یہ ہے نزول قرآن کا مقصد اور یہی ہے انسانیت کی نجات کا راستہ ۔
مجھے بے حد مسرت ہے کہ ہماری محترم بہن ڈاکٹر عطیہ خلیل عرب نے علامہ ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی کتاب کیف تعامل مع القرآن کا ترجمہ پوری معنوی صحت کے ساتھ بڑی آسان، دلکش اور ادبی حسن سے آراستہ اردو زبان میں قرآن حکیم اور ہماری عملی زندگی کی شکل میں کیا ہے۔ یہ اردو خوان طبقے کے لیے ایک بڑا قیمتی علمی تحفہ ہی نہیں زندگی کو قرآن کے سائے تلے گزارنے کے لیے نسخہ عمل بھی ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی نے قرآن کے پیغام کو بڑے موثر انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ پوری زندگی کا نقشہ کا ر قاری کے سامنے آجاتا ہے اور محترمہ عطیہ بہن نے اسے اردو کے قالب میں اس طرح ڈھالا ہے کہ ترجمہ کا کہیں گمان تک نہیں ہوتا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ مصنف نے یہ کتاب اردو ہی میں لکھی ہے اور عربی اشعار کے ساتھ اردو سے ترجمہ کو اس طرح مزین کیا ہے کہ مصنف اگر اردو سے آشنا ہوتے تو ضرور غالب کے ہمنوا ہو کر یہ کہہ دیتے کہ :
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
اللہ تعالی فاضل مصنف اور محترمہ عطیہ کی اس علمی اور دعوتی کاوش کو قبول فرمائے اور یہ کتاب خصوصیت سے نئی نسلوں کے لیے خود کو قرآن کے رنگ میں رنگنے اور قرآن کا انسان مطلوب بننے اور اپنی اور انسانیت کی زندگی کو اس نور سے منور کرنے کا ذریعہ بنے۔
۱۸ رمضان المبارک ۱۴۳۰ھ
۹و ستمبر۲۰۰۹ء
خورشید احمد اسلام آباد



